Explained with ayahs 137–140
صحبت بد سے بچو
ارشاد ہو رہا ہے کہ جو ایمان لا کر پھر مرتد ہوجائے پھر وہ مومن ہو کر کافر بن جائے پھر اپنے کفر پر جم جائے اور اسی حالت میں مرجائے تو نہ اس کی توبہ قبول نہ اس کی بخشش کا امکان اس کا چھٹکارا، نہ فلاح، نہ اللہ اسے بخشے، نہ راہ راست پر لائے۔ حضرت علی ؓ اس آیت کی تلاوت فرما کر فرماتے تھے مرتد سے تین بار کہا جائے کہ توبہ کرلے۔ پھر فرمایا یہ منافقوں کا حال ہے کہ آخرش ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے پھر وہ مومنوں کو چھوڑ کافروں سے دوستیاں گانٹھتے ہیں، ادھر بظاہر مومنوں سے ملے جلے رہتے ہیں اور کافروں میں بیٹھ کر ان مومنوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تو انہیں بیوقوف بنا رہے ہیں دراصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
سورة النِّسَآء 168
اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے دین محض ایک غیر سنجیدہ تفریح ہے۔ ایک کھلونا ہے جس سے وہ اپنے تخیلات یا اپنی خواہشات کے مطابق کھیلتے رہتے ہیں۔ جب فضائے دماغی میں ایک لہر اٹھی، مسلمان ہوگئے اور جب دوسری لہر اٹھی، کافر بن گئے۔ یا جب فائدہ مسلمان بن جانے میں نظر آیا، مسلمان بن گئے اور جب معبود منفعت نے دوسری طرف جلوہ دکھایا تو اس کی پوجا کرنے کے لیے بےتکلف اسی طرف چلے گئے۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ کے پاس نہ مغفرت ہے نہ ہدایت۔ اور یہ جو فرمایا کہ ”پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے“ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص محض کافر بن جانے ہی پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس کے بعد دوسرے لوگوں کو بھی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
منافقین کو خوش خبری سنا دیجئے اس امر کی کہ ان کے واسطے (اخرت میں) بڑی درد ناک سزا (تجویز کی گئی) جن کی یہ حالت ہے کہ (عقائد تو اہل ایمان کے نہ رکھتے تھے مگر وضع بھی اہل ایمان کی نہ رکھ سکے چنانچہ) کافروں کو دوست بناتے ہیں مسلمانوں کو چھوڑ کر کیا ان کے پاس (جا کر) عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں سو (خوب سمجھ لو کہ) عزت تو ساری اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے (وہ جس کو چاہیں دیں، پس اگر اللہ تعالیٰ ان کو یا جن سے جاجا کر دوستی کرتے ہیں ان کو عزت نہ دیں تو کہاں سے معزز بن جاویں گے) اور (اے مسلمانودیکھو تم منافقین کی طرح کفار کے ساتھ خصوصیت مت رکھنا خاص کر جس وقت وہ کفریات کا تذکرہ کرتے ہوئے چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
137۔ 138:۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغْفِرَ لَھُمْ وَلَا لِيَهْدِيَھُمْ سَبِيْلًا۔ بَشِّرِ الْمُنٰفِقِيْنَ بِاَنَّ لَھُمْ عَذَابًا اَلِيْـمَۨا۔
اہل کتاب کے اندر سے آئے ہوئے منافقین کا کردار : اہل ایمان کا صحیح موقف و مقام واضح کرنے کے بعد منافقین کی طرف توجہ فرمائی کہ جو لوگ ایمان لائے پھر کفر کیا، پھر ایمان لائے پھر کفر کیا، پھر اپنے کفر ہی بڑھتے گئے، یہ خدا کی مغفرت اور ہدایت کے سزوار نہیں ہیں، ان منافقین کو خدا کے دردناک عذاب کی بشارت پہنچا دو۔ یہ بات کہ یہاں ذکر منافقین ہی کا ہے خود قرآن کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
(2) بعض مفسرین نے اس سے مراد یہود لیے ہیں۔ یہود حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لائے لیکن حضرت عزیر ؑ کا انکار کیا، پھر حضرت عزیر ؑ پر ایمان لائے تو حضرت عیسیٰ کا انکار کیا۔ پھر کفر میں پڑھتے چلے گئے۔ حتی کہ حضرت محمد ﷺ کی نبوت کا بھی انکار کیا اور بعض نے اس سے مراد منافقین لئے ہیں، چونکہ مقصد ان کا مسلمانوں کو نقصان پہنچانا تھا، اس لئے وہ بار بار اپنی مسلمانی کا ڈھونگ رچاتے تھے بالآخر کفر و ضلالت میں اتنے بڑھ گئے کہ ان کی ہدایت کی امید منقطع ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–140
82: اس سے مراد منافق بھی ہوسکتے ہیں جن کا ذکر چل رہا ہے، کیونکہ وہ مسلمانوں کے پاس آکر مسلمان ہونے کا اعلان کرتے تھے، مگر تنہائی میں کفر اختیار کرلیتے تھے، پھر کبھی مسلمانوں کا سامنا ہوتا تو دوبارہ ایمان لانے کا مظاہرہ کرتے، مگر پھر اپنے لوگوں کو اپنے کفر کا یقین دلاتے، اور اپنے عمل سے کفر ہی میں بڑھتے چلے جاتے۔ نیز بعض روایات میں کچھ ایسے لوگوں کا بھی ذکر آیا ہے جو مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہوئے، پھر توبہ کر کے مسلمان ہوئے، مگر بالآخر دوبارہ مرتد ہو کر کفر ہی کی حالت میں مرے۔ آیت کے الفاظ میں دونوں قسم کے لوگوں کی گنجائش ہے۔ اور ان کے بارے میں جو یہ کہا گیا ہے کہ اللہ نہ ان کو بخشے گا، نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–143
(آیت) ” 138 تا 143۔
منافقین پر یہ تنقیدی جملہ اس طنز کے ساتھ شروع ہوتا ہے یہاں ارتداد کے بجائے لفظ بشر سے ان پر تنقید شروع کردی جاتی ہے ۔ انہیں اس عذاب کی خوشخبری دی جا رہی ہے جو ان کے انتظار میں ہے ۔ اس کے بعد سبب عذاب بھی بتا دیا جاتا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہ لوگ اہل ایمان کے ساتھ دوستی کرنے کے بجائے کافروں کو دوست بنا رہے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کو اللہ سے بدظنی ہے ۔ تیسرے یہ کہ ان کو معلوم نہیں ہے کہ عزت اور ذلت دینے والا کون ہے ۔
(آیت) ” بشر المنفقین بان لھم عذابا الیما (138) الذین یتخذون الکفرین اولیاء من دون المومنین ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا “ (139) (4 : 138۔ 139)
(جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
3 یعنی منافق لوگ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور ان کا یہ خیال کہ کافروں کے پاس بیٹھ کر ہم کو دنیا میں عزت ملے گی بالکل غلط ہے۔ سب عزت اللہ تعالیٰ کے واسطے ہے جو اس کی اطاعت کرے گا اس کو عزت ملے گی۔ خلاصہ یہ ہوا کہ ایسے لوگ دنیا اور آخرت دونوں میں ذلیل و خوار رہیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 138 بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا
یعنی واضح طور پر فرما دیا گیا کہ یہ لوگ منافق ہیں اور ان کو عذاب کی بشارت بھی دے دی گئی۔ یہ عذاب کی بشارت دینا طنزیہ انداز ہے۔
یہاں پر قبول حق کے دعویداروں کو یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جو لوگ دائرۂ اسلام میں داخل ہوتے ہیں ‘ اللہ کو اپنا رب مانتے ہیں ‘ ان کے لیے یہاں پھولوں کی سیج نہیں ہے ‘ اس لیے جو شخص اس گروہ میں شامل ہونا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ یکسو ہو کر آئے ‘ دل میں تحفظات reservations رکھ کر نہ آئے۔ یہاں تو قدم قدم پر آزمائشیں آئیں گی ‘ یہ اللہ کا اٹل فیصلہ ہے : وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
184 ایمان اور فکر کی بار بار تبدیلی :۔ ان سے مراد منافقین اور مرتدین کا گروہ ہے جو ہر وقت مذبذب ہی رہتے کہ جس طرف کا پلہ بھاری نظر آئے اس میں شامل ہوجائیں۔ ایسے لوگ ہوا کا رخ دیکھتے، حالات کا جائزہ لے کر اپنی خواہش نفس کے پیروکار ہوتے ہیں اور جتنی دفعہ بھی ہوا کا رخ بدلے اتنی دفعہ ہی ان کا ایمان اور کفر بدلتا رہتا ہے۔ ایسے ایمان کا چونکہ کچھ فائدہ نہیں ہوتا لہذا ان پر کفر ہی کی چھاپ مضبوط ہوتی جاتی ہے۔ اور کفر میں بڑھتے چلے جانے کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ خود تو کافر ہیں ہی دوسروں کو بھی کافر بنانے کے لیے اور اسلام کی راہ روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہتے ہیں ایسے لوگوں کی راہ راست پر آنے کی…
Read the full tafseer →364 ۔ (آیت) ” بشر “ تبشیر کے معنی ہمیشہ خوشخبری ہی کے نہیں ہوتے۔ لغت میں عام ہے ہر ایسی خبر کے لئے جس کا اثر چہرہ سے ظاہر ہونے لگے۔ التبشیر الاخبار بما یظھر اثرہ علی البشرۃ (قرطبی) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بشارت یہاں طنز وزجر کے معنی میں ہو۔ اور عرب ایسے موقع پر ایسا ہی استعمال کرتے ہیں۔ قولہ بشرتھکم بھم والعرب تقول تحیتک الضرب وعتابک السیف (کبیر) ذلک قول الشاعر تحیۃ بینھم ضرب وجیع اردو میں تو طنزیہ موقع پر کہتے ہیں۔ لو، اب اپنا انعام لو۔ اب تو مزہ پایا، اب دیکھواپنا تماشا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
اِن الّذین آمنوا ثم کفروا ثم آمنوا ثم کفروا، بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے یہی رائے علامہ سیوطی کی ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے، سیاق وسباق سے یہی رائے زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →بشر المنافقین بان لہم عذابا الیما . منافقوں کو خوشخبری سنا دو اس امر کی کہ ان کے لئے ہی بڑی دردناک سزا ہے۔ منافقوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو رسول اللہ ﷺ یا خالص ایمان والوں کے سامنے آکر تو ایمان کا اظہار کرتے تھے اور تنہائی میں جب اپنے سرداروں سے ملتے تھے تو کفر ظاہر کرتے تھے پھر اس منافقت پر جم جانے اور ملک میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش پر اصرار کرنے کی وجہ سے کفر میں بڑھتے چلے جاتے تھے۔
عذاب کی وعید (اور تکلیف رساں خبر) کو بطور استہزاء خوشخبری سے تعبیر فرمایا ہے۔ کذا قال الزجاجبعض علماء نے لکھا ہے کہ جس خبر کو سننے سے چہرہ پر تغیر آجائے اس کو بشارت کہتے ہیں خواہ خوشی کی خبر ہو یا نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
(138۔ 139) اس کے بعد والی آیات منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو اور جو قیامت تک ان میں اس حالت پر قائم رہے گا ایسے درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجیے کہ جس کی تکلیف ان کے دلوں تک سرایت کرجائے گی، اب منافقین کی علامات بیان فرماتے ہیں کہ یہ یہودی خالص مومنین کو چھوڑ کر کفار کو مددگار بناتے ہیں کیا یہ ان یہودیوں کے پاس جا کر طاقتور اور باعزت رہنا چاہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
بَشِّرِ الْمُنٰفِقِيْنَ : بشارت خوشی کی خبر کو کہتے ہیں، یہاں بطور طنز کہا ہے کہ منافقوں کو عذاب الیم کی خوش خبری دے دو ، جو مسلمانوں کے بجائے کافروں کو اس لیے دوست بناتے ہیں کہ اس سے انھیں عزت حاصل ہوگی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عزت کافروں کی دوستی میں نہیں بلکہ وہ تو سب کی سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہی بات سورة فاطر (10) میں اور سورة منافقون (8) میں بیان فرمائی، بلکہ سورة منافقون میں فرمایا : ”لیکن منافق نہیں جانتے“ کہ اللہ کے ہاں عزت تو کفر کی وجہ سے گئی اور کفار کے پاس عزت تھی ہی نہیں جو انھیں ملتی، اگر بظاہر کچھ تھی بھی تو ان کے دوغلے پن کی وجہ سے ان کا اعتبار بھی اٹھ گیا۔ [ خَسَرِ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 138۔
التبشیرا “۔ اس خبر کو کہتے ہیں جس کا اثر چہرے پر ظاہر ہو اس کا بیان پہلے سورة بقرہ میں گزر چکا ہے، اور نفاق کا معنی بھی گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–139
(1) عبد بن حمید و ابن جریر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ یہودی اور نصاری مراد ہے یہود تورات پر ایمان لے آئے پھر انکار کردیا اور نصاری انجیل پر ایمان لائے پھر بعد میں اس کا انکار کردیا۔
(2) عبد الرزاق و عبد بن حمید و ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان الذین امنوا ثم کفروا “ سے مراد یہودی ہیں تورات پر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر نصاری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” ان الذین امنوا ثم کفروا “ یعنی انجیل پر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر فرمایا لفظ آیت ” ثم ازدادوا کفرا “ یعنی محمد ﷺ کا انکار کرنے سے کفر میں مزید اضافہ کیا پھر فرمایا لفظ آیت ” ولا لیھدیہم…
Read the full tafseer →[ بَشِّرِ : آپ ﷺ بشارت دیجیے ] [ الْمُنٰفِقِیْنَ : منافقوں کو ] [ بِاَنَّ : اس کی کہ ] [ لَہُمْ : ان کے لیے ] [ عَذَابًا اَلِیْمًا : ایک درد ناک عذاب ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
(وَ لَا لِیَھْدِیَھُمْ سَبِیْلًا) اس کا ایک مطلب تو وہی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں بہشت کا راستہ نہ دکھائے گا۔ کیونکہ وہ کفر پر مرچکے ہوں گے اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ان کے بار بار کفر کی طرف لوٹنے کی وجہ سے قبول حق کی توفیق ہی سلب ہوجائے گی۔ اور آئندہ توبہ کرنے اور ایمان لانے کا موقع ہی نصیب نہ ہوگا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے سورة صف میں بنی اسرائیل کے بارے میں ارشاد فرمایا :
(فَلَمَّا زَاغُوْا اَزَاغ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ ) قال صاحب الروح صفحہ 171: ج 5 فان من تکرر منھم ارتدادو زیاد الکفر والا صرار علیہ صاروا بحیث قد ضربت قلوبھم بالکفر و تمرنت علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
ذمائم منافقین۔
قال تعالی، بشر المنافقین بان لھم عذابا الیما۔۔۔ الی۔۔۔ جمیعا۔
ربط) پہلی آیتوں میں اہل کفر کا بیان تھا اب ان آیات میں منافقین کے ذمائم کو بیان فرماتے ہیں کہ یہ لوگ دنیا کے مقابلہ میں دین کی پروا نہیں خرتے کبھی کر سٹان بنتے ہیں اور کبھی مسلمان اور کفار ومشرکین کے جاہ وچشم کو دیکھ کر ان سے یارانہ جوڑتے ہیں کہ ہم کو عزت و شوکت حاصل ہوگی اور یہ لوگ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں حالانکہ ان کو یہ معلوم ہے کہ جس جگہ احکام الٰہی کا مذاق اڑایا جاتا ہوں وہاں بیٹھنا بھی ناجائز ہے چہ جائیکہ ان سے دوستی کی جائے چناچہ فرمات ہیں منافقین کو خوش خبری سنادیجئے کہ ان کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
92 یہ تمام منافقوں کو زجر ہے اور بار بار ایمان لانے ارور کفر کرنے کی مفسرین نے متعدد توجیہیں کی ہیں لیکن سب سے دل لگتی بات یہ ہے کہ اس سے ان کے تردد اور تذبذب کا بیان مقصود ہے۔ قال القفال (رح) ولیس المراد بیان ھذا العدد بل المراد ترددھم کما قال مذبذبین بین ذالک لا الی ھؤلاء و لا الی ھؤلاء (کبیر ج 3 ص 487) اور اِزْدَادُوْا کُفْرًا سے مراد یہ ہے کہ کفر کے ساتھ ساتھ کافروں سے اندرونی طور پر دوستی بھی رکھتے ہیں پھر بَشِّرِ الْمُنَافِقِیْنَ سے منافقوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
ربط آیات :
گزشتہ درس میں ایمان کی تفصیلات بیان ہوئی تھیں۔ اللہ نے ان اجزائے ایمان کا ذکر کیا جن پر ایمان لانا اور دل سے ان کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مرتدین کا ذکر کیا ، جو ایمان لانے کے بعد پھر کفر اختیار کرلیتے ہیں۔ بعض لوگ بار بار ایمان لاتے اور بار بار پھرجاتے ہیں ، ایسے لوگ اکثر محروم رہتے ہیں ان کی لغزشیں معاف نہیں ہوتیں اور نہ ہی صحیح راستہ ملتا ہے ویسے اسلامی حکومت میں مرتد کے لئے حکم یہ ہے کہ اس پر اسلام پیش کیا جائے ، علماء کو جمع کرکے اگر کوئی غلط فہمی ہے تو اسے دور کیا جائے ، اگر وہ مان جائے تو اس سے توبہ کرا کے دوبارہ اسلام میں داخل کیا جائے اور اگر اس کے…
Read the full tafseer →بَشِّرِ الْمُنٰفِقِيْنَ بِاَنَّ لَھُمْ عَذَابًا اَلِيْـمَۨا 138ۙ
بشر
واستبشر :
إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] . ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ، وقال تعالی: لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] ، وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] ، يا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
ترکیب : بان کا عذابا الیما اسم لہم خبر مجموعہ متعلق ہے بشر سے ‘ الذین صفت ہے المنافقین کی ‘ ان مخففہ ہے اس کا اسم محذوف ای انہ ‘ اذا سمعتم فعل بافاعل آیت اللّٰہ مفعول یکفر بہا جملہ حال ہے آیات اللّٰہ سے یستہزا بہا اس پر معطوف مجموعہ شرط ‘ فلا تقعدوا معہم جواب مجموعہ خبر ان اپنے اسم و خبر سے مل کر مفعول ہو انزل کا اذا بلغا ہے کیونکہ ان کے اسم کم اور خبر مثلہم میں واقع ہے اور اسی لئے اس کے بعد فعل نہیں آیا۔ نستخوذ برخلاف قیاس مستعمل تھا۔ اسی طرح پر آیا اور قیاس نستخذ ہے۔
تفسیر : یہ بھی آیت سابق کا تتمہ ہے کہ ایمان لا کر اس پر ثابت قدم رہنا چاہیے نہ کہ کبھی ایمان لے آیا۔ پھر کسی غرض سے کافر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
بَشِّرِالْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمَانِ لا الَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ط اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَہُمُ الْعِزَّۃَ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا ط وَقَدْ نَزَّلَ عَلَیْکُمْ فِی الْکِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ یُکْفَرُبِہَا وَ یُسْتَہْزَأُ بِہَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَہُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖٓ صلے ز اِنَّکُمْ اِذًا مِّثْلُہُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَالْکٰفِرِیْنَ فِیْ جَہَنَّمَ جَمِیْعَانِ لا الَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِکُمْ ج فَاِنْ کَانَ لَکُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰہِ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منافق کفر اور ایمان کے درمیان رہتا ہے لیکن آخر میں اس کا انجام کفر پر ہوتا ہے۔
پہلے پارے کے دوسرے رکوع کی تفسیر میں واضح کیا جاچکا ہے کہ منافق کا لفظ نفق سے نکلا ہے۔ جس کا معنی ہے چوہے کی ایسی بل جس کے دو منہ ہوں۔ جب تک دونوں طرف سے بل بند نہ کی جائے چوہا قابو نہیں آسکتا۔ یہی حالت منافق کی ہوتی ہے اسے مسلمانوں کی طرف سے فائدہ ہو تو اسلام اسلام کرتا ہے اگر کفار کی طرف سے فائدہ پہنچنے کی امید ہو تو ان کا طرف دار ہوجاتا ہے۔ گویا کہ منافق عقیدے کے اعتبار سے کذّاب، کردار کے لحاظ سے دغا باز اور اخلاق کے حوالے سے مکّار اور مفاد پرست ہوتا ہے۔ اگلی آٹھ آیات میں منافق کی آٹھ بد…
Read the full tafseer →بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ (کہ منافقین کو تم خوشخبری دے دو ) یعنی اطلاع دے دو اور بشر کا صیغہ تھکم اور استہزاء کے لئے لایا گیا۔ بِاَنَّ لَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا (کہ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے)
Read the full tafseer →138۔ (آیت)” بشرالمنافقین “۔ ان کو خبردیں اے محمد ﷺ (آیت)” بان لھم عذاب الیما “۔ بشارت ہر اس خبر کو کہا جاتا ہے جس سے انسان کا چہرہ بدل جائے ، خواہ وہ خبر خوشی کی ہو یا نہ ہو ۔ زجاج (رح) کا قول ہے معنی آیت یہ ہے کہ عذاب کی جگہ بشارت کا لفظ ذکر کرو ۔ جیسا کہ عرب کا قول ہے ” تحیتک وعتابک السیف “ یہاں پر سزا کی جگہ تحیہ کا لفظ ذکر کیا ہے ، پھر منافقین کا وصف بیان کیا اور کہا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–140
(137 ۔ 140) ۔ اوپر کی آیتوں میں یہود کا ذکر تھا ان آیتوں میں یہود اور منافقوں کو ملا کر دونوں کا ذکر فرمایا یہود کا یہ کہ پہلے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے پھر بچھڑے کو پوجا مشرک بنے۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور سے واپس آنے کے بعد ایمان دار بنے پھر عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کا انکار کر کے کافر بنے اس کے بعد قرآن اور نبی آخر الزمان ﷺ کے انکار سے اس کفر میں اور ترقی اور زیادتی کی اور اسی حالت پر مرگئے ایسے اڑیل لوگوں کو نہ دنیا میں توبہ کی توفیق ہے نہ عقبیٰ میں ان کی بخشش کی کوئی صورت ہے کیونکہ مصلحت الٰہی کے موافق آخری زمانہ میں یہ آخری شریعت ایسی شریعت ہے جس میں پچھلی سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
آیت 138
” بشارت “ کا لفظ خیر کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور شر کے معنوں میں اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کسی قید سے مقید ہو جیسا کہ اس آیت کریمہ میں ہے۔ (بشیر المنفقین) ” منافقوں کو بشارت سنا دو ۔ “ یعنی وہ لوگ جو اسلام ظاہر کرتے ہیں اور اپنے دلوں میں کفر کو چھپائے ہوئے ہیں انہیں بدترین بشارت سنا دیجیے اور وہ درد ناک عذاب کی بشارت۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ کفار سے محبت کرتے ہیں، ان سے موالات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اہل ایمان سے ترک موالات کرتے ہیں۔ کسی چیز نے انہیں اس رویے پر آمادہ کیا ؟ کیا یہ ان کے پاس عزت کے متلاشی ہیں ؟
یہ منافقین کے احوالے تھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
قول باری ہے بشر المنافقین بان لھم عذاباً الیماً الذین یتخذون الکافرین اولیاء من دون المومنین۔ منافقین کو خوش خبری سنا دو کہ ان کے لئے ایک دردناک عذاب تیار ہے یہ وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں۔ ایک قول ہے کہ انہوں نے کافروں کو اپنا مددگار اور پشت پناہ بنا لیا تھا کیونکہ اس بات کا وہم ہوگیا تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ عداوت اور دشمنی نیز ان کے ساتھ صف آراء ہونے کی بنا پر کافروں میں زبردست یکجہتی قوت و طاقت پیدا ہوگئی ہے اور ان کا اب بڑا دبدبہ ہے لیکن ان منافقین کو اللہ کے دین کا کچھ علم نہیں تھا اور اگر انہیں اس کا علم ہوتا تو وہ مسلمانوں کو اپنا دوست بناتے۔ آیت میں…
Read the full tafseer →356 منافقوں کیلئے دردناک عذاب کی خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ خوشخبری سنادو منافقوں کو اس بات کی کہ ان کے لیے ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہے۔ کہ انہوں نے ایمان کا لیبل لگا کر اپنے اندر کفر کو چھپائے رکھا، اور توبہ و استغفار کی سیدھی و صحیح راہ اختیار کرنے کی بجائے انہوں نے اپنے کفر و نفاق پر اصرار کے طریقے ہی کو اپنائے رکھا۔ اور ایسے لوگوں کا کفر کھلے کافروں سے بھی زیادہ سخت اور خطرناک ہے۔ اس لیے ایسوں کیلئے بڑا دردناک عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ایسے منافق زیادہ تر اہل کتاب بالخصوص یہود میں سے ہی تھے اور انہی کے زیر اثر بھی۔ سو اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو ان کے ایمان و کفر کا ایک کھیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–139
ایمان کو مذاق بنانے والے لوگ
تشریح : ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کسی ہلکے پھلکے جذبہ کے تحت مسلمان ہوجاتے ہیں جب جذبہ ٹھنڈا ہوا تو پھر کافر ہوگئے یا کوئی فائدہ نظر آیا ایمان لانے میں تو اس فائدہ کے حصول میں ایمان لے آئے جب فائدہ نظر نہ آیا تو کافر ہوگئے یہ انتہائی بچگانہ سوچ اور عمل ہے اور نقصان دہ بھی۔ نقصان دہ اس طرح کہ ایسے لوگوں کو اللہ ہرگز معاف نہ کرے گا جو دین کو سنجیدگی سے قبول نہ کریں، بلکہ ایک کھیل سمجھ لیں یہ تو انتہائی احمقانہ حرکت ہے اس کی سزا ان کو ضرور ملے گی، کیونکہ یہ حرکت اللہ رب العزت کو بالکل پسند نہیں اللہ ان سے اس قدر ناراض ہوتا ہے کہ پھر کوئی بھی ہدایت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–141
رکوع نمبر 20 آیات 135 تا 141: اسرار و معارف
یا ایہا الذین آمنوا۔ ۔۔۔ سبیلا۔۔
قیام امن کی تدبیر اور شہادت کی اہمیت :
جب بات حقوق کی ہے تو ذاتی طور پر ہو یا خانگی طور پر برادری اور قبیلے کی سطح پر ہو یا قوم و ملک کی سطح پر حقدار تک اس کے حقوق پہنچانے کے لیے امن شرط ہے بدا منی میں یہ سب کام ممکن ہی نہیں اور قیام امن کے لیے انصاف ضروری ٹھہرا۔ اگر انصاف نہیں ہوگا تو مظلوم بھی اپنا غبار کسی نہ کسی راستے نکالیں گے جو یقینا درست راستہ نہ ہوگا جس کے نتیجے میں بدامنی بھی ہوگی اور حقوق بھی مارے جائیں گے اب انصاف کی بنیاد شہادت پر ہے کہ گواہ حق اور کھری بات بیان کردے۔ اور یہ قیام امن اور حقوق کی حفاظت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
ف 3 آج کل بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں ،۔ جو اپنے مغربی آقاوں کو خوش کرنے کے لیے اور ان نظروں عزت کا مقام ہے حاصل کرنے کے لیے قرآن و حدیث کے صریح احکام کا مذاق اڑاتے ہیں۔
Read the full tafseer →(4:138) بشر۔ امر واحد مذکر حاضر۔ تو خوشخبری دے۔ تبشیر (تفعیل) بشارت ۔ خوشخبری یہاں بشارت انذار کے معنی میں آیا ہے اور طنز کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ ایسے کلام کو صنعت تعریض کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–139
آیت نمبر 136-139
لغات القرآن : ازدادوا، وہ آگے بڑھ گئے۔ ایبتغون، کیا وہ تلاش کرتے ہیں۔ العزۃ، عزت۔
تشریح : یہاں مومن ، کافر، مرتد اور منافق کا ذکر ہے۔ ایمان وہ ہے جو روح کی گہرائیوں سے ہو، دل کی آوازیں ایک ہی کلمہ پڑھیں، خون کا ہر قطرہ ایک ہی رخ لپکے۔ ایمان وہ ہے جو صرف زبانی اقرار تک محدود نہ ہو بلکہ اعضا وجوارح سے ثابت ہو۔ ایمان صرف زبانی جمع خرچ کا نام نہیں ہے۔ بلکہ ایک چلتی پھرتی تحریکی مشینری کا نام ہے جس کا قبلہ و کعبہ متعین ہے۔
غیر مسلم بھی اللہ کو اور اس کی طاقت اور حکم کو مانتے ہیں جو نظام کائنات چلا رہی ہے ۔ لیکن پیغمبروں کو فرشتوں کو قیامت کو سزا و جزا کو اور اللہ کی کتابوں کو نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–140
شان نزول : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے، پھر بچھڑا پوج کر کافر ہوئے۔ پھر اس کے بعد ایمان لائے، پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کا انکار کر کے کافر ہوگئے پھر آنحضرت ﷺ اور قرآن شریف کا انکار کر کے کفر میں بڑھے اور کفر پر ہی ان کی موت ہوئی۔ کفر بخشا نہیں جاتا ہے جب تک کافر توبہ نہ کرے اور ایمان نہ لائے۔ منافقین کا یہ حال ہے جن کا خیال تھا کہ اسلام غالب نہ ہوگا، اس لئے کفار کی قوت اور شوکت سمجھ کر ان سے دوستی کرتے تھے۔ ان سے ملنے میں عزت جانتے تھے باوجودیکہ کفار مکہ کے ساتھ دوستی ممنوع تھی جس سے قیامت کے دن جہنم نصیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–138
[85] یعنی خلوص دل کے ساتھ ایمان لاؤ اور سچے مومن بنو۔
[86] ان میں سے ہر عقیدے پر فرداً فرداً ایمان لانا ضروری ہے اور ان میں سے کسی ایک عقیدے سے بھی انکار دائرہ اسلام سے خارج کردینے کے لئے کافی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–138
دعوت تجدید :
(ف 2) ایمان کے کئی درجے اور مقام ہیں سرسری ایمان یہ ہے کہ اسلامی نظام عقائد وعمل کو مان لیاجائے ، ایثار و خلوص شرط نہیں ، اس حالت میں اس نوع کے لوگ سیاسی اعتبار سے مسلمان ہی شمار کئے جائیں گے ، مگر حقیقی اور واقعی ایمان یہ ہے کہ دلوں میں یقین وثبات کہر با دوڑ جائے اور مسلمان درد و اضطراب کا مرقع بن جائے ، اس کے ہر بن ومو سے اسلامی شان و شوکت کے فوارے پھوٹیں ، اس آیت کا یہی مقصود ہے کہ مسلمانو ! قشر اور چھلکے کو چھوڑ کر حقیقت ومغز کو پہچانو ! اجمال وابہام سے نکل کر تفصیل وتشریح کی روشنی میں اپنے ایمان کا جائزہ لو اور دیکھو کیا واقعی اللہ کی تمام کتابوں پر تمہارا یمان ہے ؟ اور کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
ف 2 بلاشبہ جو لوگ مسلمان ہوئے پھر مسلمان ہونے کے بعد کافر ہوگئے۔ کافر ہونے کے بعد پھر مسلمان ہوگئے مسلمان ہونے کے بعد پھر کافر ہوگئے پھر اپنے کفر میں بڑھتے اور زیادہ ہوتے چلے گئے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہرگز نہیں بخشے گا اور نہ ان کی مقصود تک پہونچنے میں رہنمائی فرمائے گا۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اگر ارتداد کے بعد تائب ہوجائیں اور نادم ہو کر ایمان لے آئیں تو بہرحال ایمان قبول ہوگا اور اگر ارتداد کے بعد کوئی ایمان نہ لائے اور ارتداد ہی پر مرجائے تو نہ اس کی مغفرت اور نہ اس کی مقصود تک رہنمائی یعنی جنت میں جانے کا راستہ دکھایا جائے گا اگرچہ ایک دفعہ مرتد ہو کر کوئی ارتداد پر قائم رہے تب بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
ف 6۔ یعنی کفر پر دم مرگ تک ثابت اور دائم رہے۔
7۔ کیونکہ مغفرت اور جنت کے لیے موت علی الایمان شرط ہے۔
Read the full tafseer →منافقین کے لئے درد ناک عذاب کی بشارت ہے وہ اچھی طرح سن لیں :
224: منافق منافقت کیوں کرتا ہے ؟ دراصل وہ چاہتا ہے کہ اس فریقین عزت کی نگاہ سے دیکھیں یعنی کفر پر ڈٹے ہوئے لوگ بھی ان کی عزت کریں اور ایمان کی راہ اختیار کرنے والے بھی ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں اور یہ بات وہ بالکل فراموش کر جاتے ہیں کہ دو کشتیوں پر سوار ہونے والا ایک پر کبھی سوار نہیں ہو سکتا اور پھر اس کا نتیجہ بھی وہی نکلتا ہے جیسا اس کا عمل ہوتا ہے۔ جس بات کے وہ متلاشی ہیں ان کو وہ فرموش کر بیٹھے ہیں اور اس کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ وہ ” پیاز بھی کھاتے ہیں اور جوتے بھی “ فرمایا جس عزت کی ان کو تلاش ہے وہ ان کو کبھی نصیب نہیں ہوتی…
Read the full tafseer →Commentary
In the first verse (138), the hypocrites have been given the news of a painful punishment. By articulating a distressing news with the word, 'basharah' (good news), the hint given is that everyone looks forward to some good news to brighten his or her future but, for the hypocrites, there is just no other news except this.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
168. This refers to those for whom religion is no more than an object of casual entertainment, a toy with which they like to play as long as it suits their desires and fancies. One wave carries them to the fold of Islam and the next away to that of disbelief. Whenever Islam appears to suit their interests they become Muslims; and when the glamorous visage of the god of utility leaps up before their eyes they rush off to worship it. To such people God holds out neither the assurance of forgiveness nor of direction to true guidance. The statement that such people 'became even more intense in…
Read the full tafseer →