Explained with ayahs 137–140
صحبت بد سے بچو
ارشاد ہو رہا ہے کہ جو ایمان لا کر پھر مرتد ہوجائے پھر وہ مومن ہو کر کافر بن جائے پھر اپنے کفر پر جم جائے اور اسی حالت میں مرجائے تو نہ اس کی توبہ قبول نہ اس کی بخشش کا امکان اس کا چھٹکارا، نہ فلاح، نہ اللہ اسے بخشے، نہ راہ راست پر لائے۔ حضرت علی ؓ اس آیت کی تلاوت فرما کر فرماتے تھے مرتد سے تین بار کہا جائے کہ توبہ کرلے۔ پھر فرمایا یہ منافقوں کا حال ہے کہ آخرش ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے پھر وہ مومنوں کو چھوڑ کافروں سے دوستیاں گانٹھتے ہیں، ادھر بظاہر مومنوں سے ملے جلے رہتے ہیں اور کافروں میں بیٹھ کر ان مومنوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تو انہیں بیوقوف بنا رہے ہیں دراصل…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 169
“ عزت ”کا مفہوم عربی زبان میں اردو کی بہ نسبت زیادہ وسیع ہے۔ اردو میں عزت محض احترام اور قدر و منزلت کے معنی میں آتا ہے۔ مگر عربی میں عزت کا مفہوم یہ ہے کہ کسی شخص کو ایسی بلند اور محفوظ حیثیت حاصل ہوجائے کہ کوئی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ دوسرے الفاظ میں لفظ عزت“ ناقابل ہتک حرمت ”کا ہم معنی ہے۔
Read the full tafseer →عزت اللہ ہی سے طلب کرنی چاہئے
دوسری آیت میں کافر و مشرکین کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے اور گھل مل کر رہنے کی ممانعت اور ایسا کرنے والوں کے لئے وعید مذکور ہے اور اس کے ساتھ ہی اس مرض میں مبتلا ہونے کی اصل منشاء اور سبب کو بیان کر کے اس کا لغو اور بیہودہ ہونا بھی بتلا دیا ہے ارشاد فرمایا ایبتغون عندھم العزة فان العزة للہ جمیعاً یعنی کفار مشرکین کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے اور ان کے ساتھ ملنے کی غرض عموماً یہ ہوتی ہے کہ ان کی ظاہری عزت و قوت اور جتھے سے متاثر ہو کر یوں خیال کیا جاتا ہے کہ ان سے دوستی رکھی جائے تو ہمیں بھی ان سے عزت و قوت حاصل ہوجائے گی، حق تعالیٰ نے اس لغو خیال کی حقیقت اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–140
139۔ 140:۔ الَّذِيْنَ يَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۭ اَيَبْتَغُوْنَ عِنْدَھُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِيْعًا۔ وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكْفَرُ بِھَا وَيُسْتَهْزَاُ بِھَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَھُمْ حَتّٰي يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِهٖٓ ڮ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُھُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِيْنَ وَالْكٰفِرِيْنَ فِيْ جَهَنَّمَ جَمِيْعَۨا۔
" وقد نزل علیکم فی الکتاب " میں سورة انعام آیت 68 کا حوالہ ہے : " وقد نزل علیکم فی الکتاب " میں حوالہ ہے سورة انعام کی آیت 68 کا۔ وہاں…
Read the full tafseer →139۔ 1 جس طرح سورة بقرہ کے آغاز میں گزر چکا ہے کہ منافقین کافروں کے پاس جا کر یہی کہتے تھے کہ ہم تو حقیقت میں تمہارے ہی ساتھ ہیں، مسلمانوں سے تو ہم یونہی استہزاء کرتے ہیں۔
139۔ 2 یعنی عزت کافروں کے ساتھ موالات و محبت سے نہیں ملے گی، کیونکہ یہ تو اللہ کے اختیار میں ہے اور وہ عزت اپنے ماننے والوں کو ہی عطا فرماتا ہے، دوسرے مقام پر پھر فرمایا، جو عزت کا طالب ہے تو اسے سمجھ لینا چاہئیے کہ عزت سب کی سب اللہ کے لئے ہے اور اس کے رسول ﷺ کے لئے ہے اور مومنین کے لئے ہے، لیکن منافق نہیں جانتے۔ " یعنی وہ نفاق کے ذریعے سے اور کافروں سے دوستی کے ذریعے سے عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ درآنحالیکہ یہ طریقہ ذلت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–140
82: اس سے مراد منافق بھی ہوسکتے ہیں جن کا ذکر چل رہا ہے، کیونکہ وہ مسلمانوں کے پاس آکر مسلمان ہونے کا اعلان کرتے تھے، مگر تنہائی میں کفر اختیار کرلیتے تھے، پھر کبھی مسلمانوں کا سامنا ہوتا تو دوبارہ ایمان لانے کا مظاہرہ کرتے، مگر پھر اپنے لوگوں کو اپنے کفر کا یقین دلاتے، اور اپنے عمل سے کفر ہی میں بڑھتے چلے جاتے۔ نیز بعض روایات میں کچھ ایسے لوگوں کا بھی ذکر آیا ہے جو مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہوئے، پھر توبہ کر کے مسلمان ہوئے، مگر بالآخر دوبارہ مرتد ہو کر کفر ہی کی حالت میں مرے۔ آیت کے الفاظ میں دونوں قسم کے لوگوں کی گنجائش ہے۔ اور ان کے بارے میں جو یہ کہا گیا ہے کہ اللہ نہ ان کو بخشے گا، نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–143
(آیت) ” 138 تا 143۔
منافقین پر یہ تنقیدی جملہ اس طنز کے ساتھ شروع ہوتا ہے یہاں ارتداد کے بجائے لفظ بشر سے ان پر تنقید شروع کردی جاتی ہے ۔ انہیں اس عذاب کی خوشخبری دی جا رہی ہے جو ان کے انتظار میں ہے ۔ اس کے بعد سبب عذاب بھی بتا دیا جاتا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہ لوگ اہل ایمان کے ساتھ دوستی کرنے کے بجائے کافروں کو دوست بنا رہے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کو اللہ سے بدظنی ہے ۔ تیسرے یہ کہ ان کو معلوم نہیں ہے کہ عزت اور ذلت دینے والا کون ہے ۔
(آیت) ” بشر المنفقین بان لھم عذابا الیما (138) الذین یتخذون الکفرین اولیاء من دون المومنین ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا “ (139) (4 : 138۔ 139)
(جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
3 یعنی منافق لوگ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور ان کا یہ خیال کہ کافروں کے پاس بیٹھ کر ہم کو دنیا میں عزت ملے گی بالکل غلط ہے۔ سب عزت اللہ تعالیٰ کے واسطے ہے جو اس کی اطاعت کرے گا اس کو عزت ملے گی۔ خلاصہ یہ ہوا کہ ایسے لوگ دنیا اور آخرت دونوں میں ذلیل و خوار رہیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 139 الَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ط۔
ان منافقین کا وطیرہ یہ بھی تھا کہ وہ کفار کے ساتھ بھی دوستی رکھتے تھے اور اپنی عقل سے اس پالیسی پر عمل پیرا تھے کہ : Dont keep all your eggs in one basket۔ ان کا خیال تھا کہ آج اگر ہم سب تعلق ‘ دوستیاں چھوڑ کر ‘ یکسو ہو کر مسلمانوں کے ساتھ ہوگئے تو کل کا کیا پتا ؟ کیا معلوم کل حالات بدل جائیں ‘ حالات کا پلڑا کفار کی طرف جھک جائے۔ تو ایسے مشکل وقت میں پھر یہی لوگ کام آئیں گے ‘ اس لیے وہ ان سے دوستیاں رکھتے تھے۔
اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَہُمُ الْعِزَّۃَ کیا وہ ان کے قرب سے عزت چاہتے ہیں ؟
کیا یہ لوگ عزت کی طلب…
Read the full tafseer →185 کافروں سے دوستی منافق کی مثال اور کردار :۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بنانا یا سمجھنا منافقت کی واضح علامت ہے۔ یہ لوگ کافروں کے ساتھ میل جول رکھ کر ان کے نزدیک مقبول بننا چاہتے ہیں۔ حالانکہ نتیجہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا والی بات بن جاتی ہے ایسے منافق، مسلمانوں کی نظروں سے بھی گرجاتے ہیں اور کافروں کی نظروں میں بھی ذلیل ہی رہتے ہیں اور ہر جگہ سے اپنا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں اور جو شخص ہر حال میں ایک ہی گروہ سے منسلک رہے وہ دشمن کی نظروں میں بھی کم از کم قابل اعتماد ضرور ہوتا ہے۔ چناچہ مسلم میں اسی مضمون کی ایک حدیث بھی وارد ہے۔ آپ…
Read the full tafseer →365 ۔ یعنی اعزاز تو تمام تر اللہ کی ملک اور قبضہ میں ہے۔ وہ جسے چاہے معزز بنا دے۔ منکرین کے بڑے بڑے امراء و رؤسا تک حقیقی عزت سے خالی ہیں (آیت) ” یتخذون الکفرین “ یعنی یہ مناقین اہل ایمان کے سے دلی عقائد تو کیا رکھتے۔ ظاہری تعلقات بھی ان سے قائم نہ رکھ سکے۔ اور بجائے ان کے الٹے کافروں سے لگے لپٹے ہوئے ہیں، فقہاء نے آیت سے نکالا ہے کہ منکروں اور کافروں سے بلا ضرورت میل جول، خلاملا، ان کی وضع قطع بلاضرورت بنانا، ان کا فیشن اختیار کرنا، ان کے لباس، تمدن ومعاشرت کو فخر وعزت کی چیز سمجھنا یہ سب داخل نفاق ہے۔
Read the full tafseer →عزت اللہ ہی سے طلب کرنی چاہیے : الذین یتخذون الکافرین اولیاء من دون المؤمنین، مطلب یہ ہے کہ یہ منافقین مسلمانوں جیسے عقیدے تو کیا رکھتے یہ تو ظاہری تعلقات بھی مسلمانوں کے ساتھ پسند نہیں کرتے بلکہ مسلمانوں کو چھوڑکر کافروں کو دوست بناتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ کافروں کے پاس بیٹھ کر ہم کو دنیا میں عزت ملے گی، ان کا یہ خیال بالکل غلط ہے عزت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے جو اس کی اطاعت کرے گا اس کو عزت ملے گی، اور ایسے لوگ دنیا و آخرت دونوں میں ذلیل ہوں گے۔
Read the full tafseer →الذین یتخذون الکافرین اولیآء من دون المؤمنین . جن کی حالت یہ ہے کہ کافروں کو دوست بناتے ہیں مؤمنوں کو چھوڑ کر۔ یعنی یہودیوں کو اپنا مددگار اور یار غار بناتے ہیں کیونکہ یہودیوں کے طاقتور ہونے کا ان کو خیال ہوتا ہے۔
ایبتغون عند ہم العزۃ . کیا وہ کافروں کے پاس معزز ہونا (اور معزز رہنا) چاہتے ہیں یعنی کافروں کی مدد اور دوستی سے وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف عزت اور قوت کے طلب گار ہیں۔ جملہ سوالیہ انکاریہ ہے (یعنی ان کو ایسا نہ کرنا چاہئے) یا استہزائیہ یا اظہار تعجب کے لئے ہے۔
فان العزۃ للہ جمیعا . سوا اعزاز تو سارا خدا کے قبضہ میں ہے جس کو اللہ عزت نہ دے وہ عزت نہیں پاسکتا اور عزت اس نے اپنے دوستوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
(138۔ 139) اس کے بعد والی آیات منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو اور جو قیامت تک ان میں اس حالت پر قائم رہے گا ایسے درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجیے کہ جس کی تکلیف ان کے دلوں تک سرایت کرجائے گی، اب منافقین کی علامات بیان فرماتے ہیں کہ یہ یہودی خالص مومنین کو چھوڑ کر کفار کو مددگار بناتے ہیں کیا یہ ان یہودیوں کے پاس جا کر طاقتور اور باعزت رہنا چاہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
بَشِّرِ الْمُنٰفِقِيْنَ : بشارت خوشی کی خبر کو کہتے ہیں، یہاں بطور طنز کہا ہے کہ منافقوں کو عذاب الیم کی خوش خبری دے دو ، جو مسلمانوں کے بجائے کافروں کو اس لیے دوست بناتے ہیں کہ اس سے انھیں عزت حاصل ہوگی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عزت کافروں کی دوستی میں نہیں بلکہ وہ تو سب کی سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہی بات سورة فاطر (10) میں اور سورة منافقون (8) میں بیان فرمائی، بلکہ سورة منافقون میں فرمایا : ”لیکن منافق نہیں جانتے“ کہ اللہ کے ہاں عزت تو کفر کی وجہ سے گئی اور کفار کے پاس عزت تھی ہی نہیں جو انھیں ملتی، اگر بظاہر کچھ تھی بھی تو ان کے دوغلے پن کی وجہ سے ان کا اعتبار بھی اٹھ گیا۔ [ خَسَرِ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 139۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الذین یتخذون الکفرین اولیآء من دون المؤمنین “۔
(آیت) ” الذین، المنافقین کی صفت ہے اس آیت میں دلیل ہے کہ مسلمانوں میں جو معصیت کا ارتکاب کرے وہ منافق نہیں ہے، کیونکہ وہ کفار کو دوست نہیں بناتا۔ اس آیت کے ضمن میں کفار سے دوستی کی ممانعت بھی ہے اور وہ اعمال جو دین سے متعلق ہیں ان پر کافروں سے مدد لینا بھی منع ہے، صحیح میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ مشرکوں میں سے ایک شخص نبی مکرم ﷺ کے پاس آیا کہ وہ آپ کی معیت میں جہاد میں شریک ہوگا۔ تو آپ ﷺ نے اسے فرمایا : ” تو واپس چلا جاہم مشرک سے مدد حاصل نہیں کرتے “ (1) (صحیح مسلم کتاب الجہاد والسیر، جلد 2 صفحہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–139
(1) عبد بن حمید و ابن جریر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ یہودی اور نصاری مراد ہے یہود تورات پر ایمان لے آئے پھر انکار کردیا اور نصاری انجیل پر ایمان لائے پھر بعد میں اس کا انکار کردیا۔
(2) عبد الرزاق و عبد بن حمید و ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان الذین امنوا ثم کفروا “ سے مراد یہودی ہیں تورات پر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر نصاری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” ان الذین امنوا ثم کفروا “ یعنی انجیل پر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر فرمایا لفظ آیت ” ثم ازدادوا کفرا “ یعنی محمد ﷺ کا انکار کرنے سے کفر میں مزید اضافہ کیا پھر فرمایا لفظ آیت ” ولا لیھدیہم…
Read the full tafseer →[ الَّذِیْنَ : (یہ) وہ لوگ (ہیں) جو ] [ یَتَّخِذُوْنَ : بناتے ہیں ] [ الْکٰفِرِیْنَ : کافروں کو ] [ اَوْلِیَـآئَ : کارساز ] [ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ : مؤمنوں کے علاوہ ] [ اَ : کیا ] [ یَبْتَغُوْنَ : یہ لوگ تلاش کرتے ہیں ] [ عِنْدَہُمُ : ان کے پاس ] [ الْعِزَّۃَ : عزت کو ] [ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ : تو یقینا عزت تو ] [ لِلّٰہِ : اللہ ہی کی ملکیت ہے ] [ جَمِیْعًا : کل کی کل ]
نوٹ 1 : آیت 135 میں اللہ تعالیٰ کا حکم بہت واضح ہے۔ اس میں یہ نہیں کہا ہے کہ انصاف کرو بلکہ یہ حکم دیا ہے کہ انصاف کی نگہبانی کرنے والے بنو۔ اس طرز کلام سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ انصاف کرنے کا اختیار تو معاشرے میں…
Read the full tafseer →عزت اللہ ہی کے لیے ہے
اس آیت میں منافقین کی بد حالی کا تذکرہ ہے ارشاد فرمایا ہے کہ ان کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجیے خوشخبری تو اچھی حالت کی دی جاتی لیکن عذاب الیم کی خبر کو بھی خوشخبری سے تعبیر فرمایا کیونکہ وہ لوگ اپنی حرکتوں کے نتیجے میں اچھی حالت کے منتظر ہیں ان کی بےوقوفی ظاہر کرنے کے لیے اس خبر کو بشارت سے تعبیر فرمایا۔ منافقین نے جو نفاق اختیار کیا تھا۔ اس میں انہیں کافروں سے دوستی رکھنی پڑتی تھی۔ مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ہم ایمان لائے اور کافروں سے کہتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ حالانکہ حقیقت میں کسی بھی فریق کے ساتھ نہ تھے۔ جیسا کہ آئندہ رکوع میں ہے (لَآ اِلٰی ھٰٓؤُلَآءِ وَلَآ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
ذمائم منافقین۔
قال تعالی، بشر المنافقین بان لھم عذابا الیما۔۔۔ الی۔۔۔ جمیعا۔
ربط) پہلی آیتوں میں اہل کفر کا بیان تھا اب ان آیات میں منافقین کے ذمائم کو بیان فرماتے ہیں کہ یہ لوگ دنیا کے مقابلہ میں دین کی پروا نہیں خرتے کبھی کر سٹان بنتے ہیں اور کبھی مسلمان اور کفار ومشرکین کے جاہ وچشم کو دیکھ کر ان سے یارانہ جوڑتے ہیں کہ ہم کو عزت و شوکت حاصل ہوگی اور یہ لوگ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں حالانکہ ان کو یہ معلوم ہے کہ جس جگہ احکام الٰہی کا مذاق اڑایا جاتا ہوں وہاں بیٹھنا بھی ناجائز ہے چہ جائیکہ ان سے دوستی کی جائے چناچہ فرمات ہیں منافقین کو خوش خبری سنادیجئے کہ ان کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–143
93 یہ منافقین کی ایک خباثت کا بیان ہے کہ ظاہری طور پر تو وہ ایمان کا اظہار کرتے ہیں لیکن پوشیدہ طور پر ان کی دوستی کافروں سے ہے اور ان کی دلی ہمدردیاں بھی کافروں کے ساتھ ہیں اور جب وہ آپس میں بیٹھتے ہیں تو اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں اس لیے ایمان والو تم ان سے الگ رہو۔ اَلَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِکُمْ ان کے دلوں کے کھوٹ کا یہ حال ہے کہ ہر وقت تم پر مصیبت کے منتظر رہتے ہیں اور ان کی دو رخی پالیسی کا نمونہ بھی دیکھ لو جب اللہ کی طرف سے تم کو کافروں پر فتح حاصل ہوتی ہے تو تم پر اپنا حق جتلاتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ تھے اور جہاد میں تمہارے شریک تھے اور اگر اتفاق سے کافروں کی فتح ہوگئی تو فوراً ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
ربط آیات :
گزشتہ درس میں ایمان کی تفصیلات بیان ہوئی تھیں۔ اللہ نے ان اجزائے ایمان کا ذکر کیا جن پر ایمان لانا اور دل سے ان کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مرتدین کا ذکر کیا ، جو ایمان لانے کے بعد پھر کفر اختیار کرلیتے ہیں۔ بعض لوگ بار بار ایمان لاتے اور بار بار پھرجاتے ہیں ، ایسے لوگ اکثر محروم رہتے ہیں ان کی لغزشیں معاف نہیں ہوتیں اور نہ ہی صحیح راستہ ملتا ہے ویسے اسلامی حکومت میں مرتد کے لئے حکم یہ ہے کہ اس پر اسلام پیش کیا جائے ، علماء کو جمع کرکے اگر کوئی غلط فہمی ہے تو اسے دور کیا جائے ، اگر وہ مان جائے تو اس سے توبہ کرا کے دوبارہ اسلام میں داخل کیا جائے اور اگر اس کے…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ يَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ 0ۭ اَيَبْتَغُوْنَ عِنْدَھُمُ الْعِزَّۃَ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلہِ جَمِيْعًا 139ۭ
أخذ ( افتعال، مفاعله)
والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
ترکیب : بان کا عذابا الیما اسم لہم خبر مجموعہ متعلق ہے بشر سے ‘ الذین صفت ہے المنافقین کی ‘ ان مخففہ ہے اس کا اسم محذوف ای انہ ‘ اذا سمعتم فعل بافاعل آیت اللّٰہ مفعول یکفر بہا جملہ حال ہے آیات اللّٰہ سے یستہزا بہا اس پر معطوف مجموعہ شرط ‘ فلا تقعدوا معہم جواب مجموعہ خبر ان اپنے اسم و خبر سے مل کر مفعول ہو انزل کا اذا بلغا ہے کیونکہ ان کے اسم کم اور خبر مثلہم میں واقع ہے اور اسی لئے اس کے بعد فعل نہیں آیا۔ نستخوذ برخلاف قیاس مستعمل تھا۔ اسی طرح پر آیا اور قیاس نستخذ ہے۔
تفسیر : یہ بھی آیت سابق کا تتمہ ہے کہ ایمان لا کر اس پر ثابت قدم رہنا چاہیے نہ کہ کبھی ایمان لے آیا۔ پھر کسی غرض سے کافر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
بَشِّرِالْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمَانِ لا الَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ط اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَہُمُ الْعِزَّۃَ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا ط وَقَدْ نَزَّلَ عَلَیْکُمْ فِی الْکِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ یُکْفَرُبِہَا وَ یُسْتَہْزَأُ بِہَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَہُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖٓ صلے ز اِنَّکُمْ اِذًا مِّثْلُہُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَالْکٰفِرِیْنَ فِیْ جَہَنَّمَ جَمِیْعَانِ لا الَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِکُمْ ج فَاِنْ کَانَ لَکُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰہِ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ان آیات میں منافقین کے کردار اور ان کے انجام کے متعلق بیان ہو رہا ہے۔
جس طرح اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ومالک ہے اسی طرح وہ عزت و ذلّت کا بھی مالک ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اس کے حسن کردار کی وجہ سے عزت سے نوازتا ہے اور جسے چاہے اس کے گناہوں کی وجہ سے ذلت سے دوچار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بغیر نہ کوئی عزت دے سکتا ہے اور نہ ہی آدمی کو کوئی ذلیل و خوار کرسکتا ہے۔ ہر چیز اس کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ اس عقیدہ کی ترجمانی اور عزت کی طلب، ذلت سے محفوظ رہنے کے لیے آل عمران آیت 26 میں دعا سکھلائی گئی ہے۔
دعا کیجیے کہ اے کائنات کے مالک تو جسے چاہتا ہے حکومت سے سرفراز کرتا ہے اور جس سے چاہتا…
Read the full tafseer →منافقین کا طرز عمل :
آیت 139 : الَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَہُمُ الْعِزَّۃَ (وہ لوگ جو کافروں کو دوست بناتے ہیں ایمان والوں کو چھوڑ کر کیا وہ ان کے ہاں عزت کے طالب ہیں)
نحو : الذین نمبر 1۔ ذم کی وجہ سے منصوب ہے۔ یا نمبر 2۔ مرفوع ہے۔ بمعنی ارید الذین۔ یا نمبر 3۔ ہم الذین۔
منافقین کفار سے دوستی اختیار کرنے والے تھے۔ ان سے مدد و حفاظت کے طالب ہوتے اور کہتے کہ محمد ﷺ کا معاملہ تکمیل پذیر ہوتا نظر نہیں آتا۔ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا (پس بیشک عزت اللہ تعالیٰ کے لئے ہے) مکمل اور جس کو وہ عزت دے جیسے نبی اکرم ﷺ اور…
Read the full tafseer →(تفسیر) 139۔:
(آیت)” الذین یتخذون الکافرین اولیائ “۔ یعنی یہودیوں کو اپنا مددگار اور یار غار بناتے ہیں (آیت)” من دون المؤمنین ، یبتغون عندھم العزۃ “۔ وہ کافروں کی مدد اور دوستی سے، وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف عزت وقوت کے طلبگار ہیں ، بعض نے کہا کیا تم ان کے ساتھ قوت کو طلب کرتے ہو ، (آیت)” فان العزۃ “۔ غلبہ اور قوت وقدرت (آیت)” للہ جمیعا “۔ سب اللہ ہی کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–140
(137 ۔ 140) ۔ اوپر کی آیتوں میں یہود کا ذکر تھا ان آیتوں میں یہود اور منافقوں کو ملا کر دونوں کا ذکر فرمایا یہود کا یہ کہ پہلے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے پھر بچھڑے کو پوجا مشرک بنے۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور سے واپس آنے کے بعد ایمان دار بنے پھر عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کا انکار کر کے کافر بنے اس کے بعد قرآن اور نبی آخر الزمان ﷺ کے انکار سے اس کفر میں اور ترقی اور زیادتی کی اور اسی حالت پر مرگئے ایسے اڑیل لوگوں کو نہ دنیا میں توبہ کی توفیق ہے نہ عقبیٰ میں ان کی بخشش کی کوئی صورت ہے کیونکہ مصلحت الٰہی کے موافق آخری زمانہ میں یہ آخری شریعت ایسی شریعت ہے جس میں پچھلی سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
آیت 138
” بشارت “ کا لفظ خیر کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور شر کے معنوں میں اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کسی قید سے مقید ہو جیسا کہ اس آیت کریمہ میں ہے۔ (بشیر المنفقین) ” منافقوں کو بشارت سنا دو ۔ “ یعنی وہ لوگ جو اسلام ظاہر کرتے ہیں اور اپنے دلوں میں کفر کو چھپائے ہوئے ہیں انہیں بدترین بشارت سنا دیجیے اور وہ درد ناک عذاب کی بشارت۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ کفار سے محبت کرتے ہیں، ان سے موالات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اہل ایمان سے ترک موالات کرتے ہیں۔ کسی چیز نے انہیں اس رویے پر آمادہ کیا ؟ کیا یہ ان کے پاس عزت کے متلاشی ہیں ؟
یہ منافقین کے احوالے تھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
قول باری ہے بشر المنافقین بان لھم عذاباً الیماً الذین یتخذون الکافرین اولیاء من دون المومنین۔ منافقین کو خوش خبری سنا دو کہ ان کے لئے ایک دردناک عذاب تیار ہے یہ وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں۔ ایک قول ہے کہ انہوں نے کافروں کو اپنا مددگار اور پشت پناہ بنا لیا تھا کیونکہ اس بات کا وہم ہوگیا تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ عداوت اور دشمنی نیز ان کے ساتھ صف آراء ہونے کی بنا پر کافروں میں زبردست یکجہتی قوت و طاقت پیدا ہوگئی ہے اور ان کا اب بڑا دبدبہ ہے لیکن ان منافقین کو اللہ کے دین کا کچھ علم نہیں تھا اور اگر انہیں اس کا علم ہوتا تو وہ مسلمانوں کو اپنا دوست بناتے۔ آیت میں…
Read the full tafseer →357 ایمان والوں کو چھوڑ کر کفار و مشرکین کو دوست بنانا منافقون کی نشانی ۔ والعیاذ باللہ : سو ان منافقوں کی خاص صفت کی ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جو کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں ایمان والوں کو چھوڑ کر۔ پس مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار کے ساتھ دل کی دوستی اور تعلق جائز نہیں۔ البتہ ظاہری میل ملاپ اور کاروبار، جو معاشرتی تقاضوں کے مطابق کرنا پڑتا ہے اس کا معاملہ الگ ہے۔ وہ ممنوع نہیں۔ اس کی اجازت ہے۔ مگر ان سے دلی دوستی رکھنا ایمان کے منافی اور کفر و نفاق کی علامت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہاں پر منافقوں کی اس صفت اور خصلت کو بیان فرمایا گیا کہ یہ لوگ اہل ایمان کو چھوڑ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–139
ایمان کو مذاق بنانے والے لوگ
تشریح : ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کسی ہلکے پھلکے جذبہ کے تحت مسلمان ہوجاتے ہیں جب جذبہ ٹھنڈا ہوا تو پھر کافر ہوگئے یا کوئی فائدہ نظر آیا ایمان لانے میں تو اس فائدہ کے حصول میں ایمان لے آئے جب فائدہ نظر نہ آیا تو کافر ہوگئے یہ انتہائی بچگانہ سوچ اور عمل ہے اور نقصان دہ بھی۔ نقصان دہ اس طرح کہ ایسے لوگوں کو اللہ ہرگز معاف نہ کرے گا جو دین کو سنجیدگی سے قبول نہ کریں، بلکہ ایک کھیل سمجھ لیں یہ تو انتہائی احمقانہ حرکت ہے اس کی سزا ان کو ضرور ملے گی، کیونکہ یہ حرکت اللہ رب العزت کو بالکل پسند نہیں اللہ ان سے اس قدر ناراض ہوتا ہے کہ پھر کوئی بھی ہدایت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–141
رکوع نمبر 20 آیات 135 تا 141: اسرار و معارف
یا ایہا الذین آمنوا۔ ۔۔۔ سبیلا۔۔
قیام امن کی تدبیر اور شہادت کی اہمیت :
جب بات حقوق کی ہے تو ذاتی طور پر ہو یا خانگی طور پر برادری اور قبیلے کی سطح پر ہو یا قوم و ملک کی سطح پر حقدار تک اس کے حقوق پہنچانے کے لیے امن شرط ہے بدا منی میں یہ سب کام ممکن ہی نہیں اور قیام امن کے لیے انصاف ضروری ٹھہرا۔ اگر انصاف نہیں ہوگا تو مظلوم بھی اپنا غبار کسی نہ کسی راستے نکالیں گے جو یقینا درست راستہ نہ ہوگا جس کے نتیجے میں بدامنی بھی ہوگی اور حقوق بھی مارے جائیں گے اب انصاف کی بنیاد شہادت پر ہے کہ گواہ حق اور کھری بات بیان کردے۔ اور یہ قیام امن اور حقوق کی حفاظت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
ف 3 آج کل بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں ،۔ جو اپنے مغربی آقاوں کو خوش کرنے کے لیے اور ان نظروں عزت کا مقام ہے حاصل کرنے کے لیے قرآن و حدیث کے صریح احکام کا مذاق اڑاتے ہیں۔
Read the full tafseer →(4:139) ایبتغون۔ ء استفہامیہ (کیا) یبتغون ۔ ابتغاء (افتعال) سے کیا وہ ڈھونڈھتے ہیں۔ تلاش کرتے ہیں۔ چاہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–139
آیت نمبر 136-139
لغات القرآن : ازدادوا، وہ آگے بڑھ گئے۔ ایبتغون، کیا وہ تلاش کرتے ہیں۔ العزۃ، عزت۔
تشریح : یہاں مومن ، کافر، مرتد اور منافق کا ذکر ہے۔ ایمان وہ ہے جو روح کی گہرائیوں سے ہو، دل کی آوازیں ایک ہی کلمہ پڑھیں، خون کا ہر قطرہ ایک ہی رخ لپکے۔ ایمان وہ ہے جو صرف زبانی اقرار تک محدود نہ ہو بلکہ اعضا وجوارح سے ثابت ہو۔ ایمان صرف زبانی جمع خرچ کا نام نہیں ہے۔ بلکہ ایک چلتی پھرتی تحریکی مشینری کا نام ہے جس کا قبلہ و کعبہ متعین ہے۔
غیر مسلم بھی اللہ کو اور اس کی طاقت اور حکم کو مانتے ہیں جو نظام کائنات چلا رہی ہے ۔ لیکن پیغمبروں کو فرشتوں کو قیامت کو سزا و جزا کو اور اللہ کی کتابوں کو نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–140
شان نزول : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے، پھر بچھڑا پوج کر کافر ہوئے۔ پھر اس کے بعد ایمان لائے، پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کا انکار کر کے کافر ہوگئے پھر آنحضرت ﷺ اور قرآن شریف کا انکار کر کے کفر میں بڑھے اور کفر پر ہی ان کی موت ہوئی۔ کفر بخشا نہیں جاتا ہے جب تک کافر توبہ نہ کرے اور ایمان نہ لائے۔ منافقین کا یہ حال ہے جن کا خیال تھا کہ اسلام غالب نہ ہوگا، اس لئے کفار کی قوت اور شوکت سمجھ کر ان سے دوستی کرتے تھے۔ ان سے ملنے میں عزت جانتے تھے باوجودیکہ کفار مکہ کے ساتھ دوستی ممنوع تھی جس سے قیامت کے دن جہنم نصیب…
Read the full tafseer →[87] یعنی اس کے اختیار اور اس کے ہاتھ میں ہے۔ (وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ ۭبِيَدِكَ الْخَيْرُ ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 26) 3 ۔ آل عمران :26)
Read the full tafseer →(ف 1) اس قسم کے لوگ منافق ہیں ، ان کے تعلقات ہمیشہ کفار سے رہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ وہ دو رخی حکمت عملی سے فریقین میں مقبول ومعزز رہیں ۔
ارشاد ہے کہ عزت کے تمام وسائل وذرائع اللہ کے ہاتھ میں ہیں ، وہ جسے چاہے چشم زدن میں عزت ووقار کے عرش بریں سے اتار دے اور جسے چاہے تاج ودہیم کا مالک بنا دے ، اس لئے جھوٹی عزتوں کے لئے منافقت ومداہنت کی کیا ضرورت ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–140
ف 3 اے پیغمبر ! آپ ان منافقین کو اس بات کی خوشخبری دے دیجیے کہ ان کے لئے آخرت میں بڑا اور درد ناک عذاب ہے جن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق اور دوست بناتے ہیں کیا یہ منافق کافروں کے پاس عزت کے جویاں ہیں اور ان کے پاس اعزاز چاہتے ہیں تو یقین جانو ! اور خبو سن لو کہ عزت جتنی بھی ہے سب کی سب اللہ ہی کے قبضے میں ہے اور ہر قسم کا سب اعزاز اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ (تیسیر)
شاید یاد ہوگا ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ مدینہ کاد ور ایک انقلابی دور تھا کفار کا بتدریج زوال ہو رہا تھا اور مسلمانوں کے پاس بتدریج اقتدار آ رہا تھا اس لئے لوگوں کو اطمینان نہیں تھا خالص مسلمان ایک…
Read the full tafseer →ف 1۔ چناچہ اللہ نے جلد ہی مسلمانوں کے ہاتھوں سب کو ذلیل و خوار فرمایا۔
Read the full tafseer →حقیقی عزت تو اللہ ، اس کے رسول اور ایمان والوں ہی کے لئے ہے :
225: معاشرہ اسلامی نہ ہونے کے باعث اگر ان کو اس دنیوی زندگی میں کوئی مقام حاصل ہو بھی گیا تو آخرت جو ان کی برباد ہوگئی تو اس چار دن کی چاندنی میں ان کے حصے کیا آیا ؟ اور کیا ہے جس پر وہ پھولے نہیں سماتے ؟ عبداللہ بن ابی سردار المنافقین نے بھی یہی بات کہی تھی ” مدینہ پہنچ کر جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو نکال دے گا۔ فرمایا اس نے کیا سمجھا ؟ یعنی کچھ بھی نہیں سمجھا۔ عزت تو اللہ اور اس کے رسول اوتر مومنین کے لئے ہے مگر ان منافقوں کو اس بات کا علم نہیں۔ “
اتفاق دیکھئے کہ جب وہ بات کہہ رہا تھا تو اس وقت زید بن ارقم اس مجلس میں موجود تھے…
Read the full tafseer →Seek Honour from Allah alone
Close friendly relations with disbelievers and polytheists have been forbidden in the second verse (139). Warning has been served on those who do so. Right along, after giving the reason why people get involved with this disease, the practice has been declared ineffectual and absurd. The words of the text are: أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّـهِ جَمِيعًا (139) (Are they seeking honour in their company? But, indeed, all honour belongs to Allah). To explain, we can say that the urge to meet and be friendly with disbelievers and polytheists…
Read the full tafseer →169. The term 'jzzah denotes a position which is at once exalted and secure. In other words, the term signifies 'inviolable honour and glory'.
Read the full tafseer →