Explained with ayahs 137–140
صحبت بد سے بچو
ارشاد ہو رہا ہے کہ جو ایمان لا کر پھر مرتد ہوجائے پھر وہ مومن ہو کر کافر بن جائے پھر اپنے کفر پر جم جائے اور اسی حالت میں مرجائے تو نہ اس کی توبہ قبول نہ اس کی بخشش کا امکان اس کا چھٹکارا، نہ فلاح، نہ اللہ اسے بخشے، نہ راہ راست پر لائے۔ حضرت علی ؓ اس آیت کی تلاوت فرما کر فرماتے تھے مرتد سے تین بار کہا جائے کہ توبہ کرلے۔ پھر فرمایا یہ منافقوں کا حال ہے کہ آخرش ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے پھر وہ مومنوں کو چھوڑ کافروں سے دوستیاں گانٹھتے ہیں، ادھر بظاہر مومنوں سے ملے جلے رہتے ہیں اور کافروں میں بیٹھ کر ان مومنوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تو انہیں بیوقوف بنا رہے ہیں دراصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
سورة النِّسَآء 168
اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے دین محض ایک غیر سنجیدہ تفریح ہے۔ ایک کھلونا ہے جس سے وہ اپنے تخیلات یا اپنی خواہشات کے مطابق کھیلتے رہتے ہیں۔ جب فضائے دماغی میں ایک لہر اٹھی، مسلمان ہوگئے اور جب دوسری لہر اٹھی، کافر بن گئے۔ یا جب فائدہ مسلمان بن جانے میں نظر آیا، مسلمان بن گئے اور جب معبود منفعت نے دوسری طرف جلوہ دکھایا تو اس کی پوجا کرنے کے لیے بےتکلف اسی طرف چلے گئے۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ کے پاس نہ مغفرت ہے نہ ہدایت۔ اور یہ جو فرمایا کہ ”پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے“ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص محض کافر بن جانے ہی پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس کے بعد دوسرے لوگوں کو بھی…
Read the full tafseer →معارف و مسائل
فوائد مہمہ
(قولہ تعالی) ان الذین امنوا ثم کفروا الخ اس سے مراد منافقین میں اور بعض فرماتے ہیں کہ یہ آیت یہودیوں کی شان میں ہے کہ اہل ایمان لائے پھر گوسالہ کی عبادت کر کے کافر ہوگئے پھر توبہ کر کے مومن ہوئے، پھر عیسیٰ ؑ سے منکر ہو کر کافر ہوئے، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا انکار کر کے کفر میں ترقی کر گئے (روح المعانی)
(قولہ تعالی) لم یکن اللہ لیغفر لھم ولالیھدیھم سبیلاً ، مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ ان کے بار بار کفر کی طرف لوٹنے سے ان کی توفیق حق ہی سلب ہو جائیگی، اور آئندہ توبہ کرنے اور ایمان لانے کا موقع ہی نصیب نہ ہوگا، ورنہ جو قاعدہ قرآن و سنت کی نصوص قطعیہ سے ثابت ہے وہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
137۔ 138:۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغْفِرَ لَھُمْ وَلَا لِيَهْدِيَھُمْ سَبِيْلًا۔ بَشِّرِ الْمُنٰفِقِيْنَ بِاَنَّ لَھُمْ عَذَابًا اَلِيْـمَۨا۔
اہل کتاب کے اندر سے آئے ہوئے منافقین کا کردار : اہل ایمان کا صحیح موقف و مقام واضح کرنے کے بعد منافقین کی طرف توجہ فرمائی کہ جو لوگ ایمان لائے پھر کفر کیا، پھر ایمان لائے پھر کفر کیا، پھر اپنے کفر ہی بڑھتے گئے، یہ خدا کی مغفرت اور ہدایت کے سزوار نہیں ہیں، ان منافقین کو خدا کے دردناک عذاب کی بشارت پہنچا دو۔ یہ بات کہ یہاں ذکر منافقین ہی کا ہے خود قرآن کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
(2) بعض مفسرین نے اس سے مراد یہود لیے ہیں۔ یہود حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لائے لیکن حضرت عزیر ؑ کا انکار کیا، پھر حضرت عزیر ؑ پر ایمان لائے تو حضرت عیسیٰ کا انکار کیا۔ پھر کفر میں پڑھتے چلے گئے۔ حتی کہ حضرت محمد ﷺ کی نبوت کا بھی انکار کیا اور بعض نے اس سے مراد منافقین لئے ہیں، چونکہ مقصد ان کا مسلمانوں کو نقصان پہنچانا تھا، اس لئے وہ بار بار اپنی مسلمانی کا ڈھونگ رچاتے تھے بالآخر کفر و ضلالت میں اتنے بڑھ گئے کہ ان کی ہدایت کی امید منقطع ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–140
82: اس سے مراد منافق بھی ہوسکتے ہیں جن کا ذکر چل رہا ہے، کیونکہ وہ مسلمانوں کے پاس آکر مسلمان ہونے کا اعلان کرتے تھے، مگر تنہائی میں کفر اختیار کرلیتے تھے، پھر کبھی مسلمانوں کا سامنا ہوتا تو دوبارہ ایمان لانے کا مظاہرہ کرتے، مگر پھر اپنے لوگوں کو اپنے کفر کا یقین دلاتے، اور اپنے عمل سے کفر ہی میں بڑھتے چلے جاتے۔ نیز بعض روایات میں کچھ ایسے لوگوں کا بھی ذکر آیا ہے جو مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہوئے، پھر توبہ کر کے مسلمان ہوئے، مگر بالآخر دوبارہ مرتد ہو کر کفر ہی کی حالت میں مرے۔ آیت کے الفاظ میں دونوں قسم کے لوگوں کی گنجائش ہے۔ اور ان کے بارے میں جو یہ کہا گیا ہے کہ اللہ نہ ان کو بخشے گا، نہ…
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 137۔
وہ کفر جو ایمان سے پہلے ہو ‘ اس کے آثار کو ایمان بالکل مٹا دیتا ہے جس شخص نے کبھی روشنی دیکھی ہی نہ ہو وہ اگر اندھیرے میں رہتا ہے تو وہ معذور ہے ۔ لیکن ایمان کے بعد کفر کا رویہ اختیار کرنا اور بار بار ایسا کرنا کبیرہ گناہ ہے ‘ اس قدر بڑا گناہ کہ اللہ تعالیٰ ہر گز اس کی مغفرت نہ کرے گا اور نہ اس حرکت کا کوئی عذر ہو سکتا ہے ۔ کفر تو ایک حجاب ہے ‘ جب پردہ ہٹ جائے تو فطرت اپنے خالق کے ساتھ مربوط ہوجاتی ہے اور گمراہ شخص پھر سے ساتھ مل جاتا ہے ۔ پودا اپنی نرسری میں آجاتا ہے اور روح ایمان کی مٹھاس کو چکھ لیتی ہے اس لئے جو لوگ ایمان کے بعد بار بار مرتد ہوتے ہیں گویا وہ فطرت سے…
Read the full tafseer →2 یعنی ظاہر میں تو مسلمان ہوئے اور دل میں مذبذب رہے اور آخر کو بےیقین لائے ہی مرگئے ان کو نجات کا راستہ نہیں ملے گا وہ کافر ہیں۔ ظاہر کی مسلمانی کچھ کام نہ آئے گی۔ اس سے مراد منافقین ہیں اور بعض فرماتے ہیں کہ یہ آیت یہودیوں کی شان میں ہے کہ اول ایمان لائے پھر گو سالہ کی عبادت کر کے کافر ہوگئے، پھر توبہ کر کے مومن ہوئے، پھر عیسیٰ (علیہ السلام) سے منکر ہو کر کافر ہوئے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا انکار کر کے کفر میں ترقی کر گئے۔
Read the full tafseer →آیت 137 اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا کُفْرًا
یہاں کفر سے مراد کفر حقیقی ‘ کفر معنوی ‘ کفر باطنی یعنی نفاق ہے ‘ قانونی کفر نہیں۔ کیونکہ منافقین کے ہاں کفر و ایمان کے درمیان جو بھی کشمکش اور کھینچا تانی ہو رہی تھی ‘ وہ اندر ہی اندر ہورہی تھی ‘ لیکن ظاہری طور پر تو ان لوگوں نے اسلام کا انکار نہیں کیا تھا۔
لَّمْ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغْفِرَ لَہُمْ وَلاَ لِیَہْدِیَہُمْ سَبِیْلاً
واضح رہے کہ منافقت کا معاملہ ایسا نہیں ہے کہ ایک ہی دن میں کوئی شخص منافق ہوگیا ہو۔ منافقین میں ایک تو شعوری منافق تھے ‘ جو باقاعدہ ایک فیصلہ کر کے اپنی حکمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
184 ایمان اور فکر کی بار بار تبدیلی :۔ ان سے مراد منافقین اور مرتدین کا گروہ ہے جو ہر وقت مذبذب ہی رہتے کہ جس طرف کا پلہ بھاری نظر آئے اس میں شامل ہوجائیں۔ ایسے لوگ ہوا کا رخ دیکھتے، حالات کا جائزہ لے کر اپنی خواہش نفس کے پیروکار ہوتے ہیں اور جتنی دفعہ بھی ہوا کا رخ بدلے اتنی دفعہ ہی ان کا ایمان اور کفر بدلتا رہتا ہے۔ ایسے ایمان کا چونکہ کچھ فائدہ نہیں ہوتا لہذا ان پر کفر ہی کی چھاپ مضبوط ہوتی جاتی ہے۔ اور کفر میں بڑھتے چلے جانے کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ خود تو کافر ہیں ہی دوسروں کو بھی کافر بنانے کے لیے اور اسلام کی راہ روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہتے ہیں ایسے لوگوں کی راہ راست پر آنے کی…
Read the full tafseer →363 ۔ (جنت وہدایت کی) ذکر ان لوگوں کا ہے جو اسلام پر قائم نہ رہے بلکہ مرتد ہوگئے۔ اور دوبارہ ایمان لاکر پھر بھی ایمان پر قائم نہ رہے۔ اور توبہ نہ کی، بلکہ اسی حالت کفر و ارتداد پر ختم ہوگئے۔ مگر متعین طور پر کون گروہ مراد ہے ؟ ایک قول ہے کہ یہود مراد ہیں۔ پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے۔ پھر انہی کی زندگی میں گوسالہ پرستی کی اور کافر ہوگئے۔ تائب ہوئے اور ان کی ذریت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے انکار کرکے پھر کافر ہوگئی، اور آخر میں رسول اللہ ﷺ سے انکار کرکے اپنا کفر بڑھاتے ہی رہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ مرتدین کا کوئی خاص گروہ مراد ہے۔ جو مکرر مرتد ہوا اور آخر تک مرتد رہا۔ تیسرا قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
اِن الّذین آمنوا ثم کفروا ثم آمنوا ثم کفروا، بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے یہی رائے علامہ سیوطی کی ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے، سیاق وسباق سے یہی رائے زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →ان الذین امنوا ثم کفروا ثم امنوا ثم کفروا ثم ازادادوا کفرا . بیشک جو لوگ مسلمان ہوئے پھر کافر ہوگئے پھر مسلمان ہوئے پھر کافر ہوگئے پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے۔
قتادہ نے کہا آیت میں یہودی مراد ہیں جو موسیٰ ( علیہ السلام) پر ایمان لائے پھر گوسالہ پرستی کی وجہ سے کافر ہوگئے پھر (توبہ کر کے) تورات پر ایمان لائے۔ پھر عیسیٰ ( علیہ السلام) کا انکار کیا پھر محمد ﷺ اور تمام انبیاء کی نبوت کا انکار کر کے کفر میں بڑھتے چلے گئے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک تمام اہل کتاب مراد ہیں جو اپنے پیغمبر پر ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے اور جو کتاب اس پیغمبر پر نازل ہوئی اس کو سچا ماننے کے بعد پھر کفر کرنے لگے یعنی اس کتاب…
Read the full tafseer →(137) اب اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی حالت کو بیان فرماتے ہیں جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان نہیں لائے یعنی جو حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لائے اور پھر حضرت موسیٰ ؑ کے بعد ان کا انکار کیا اور حضرت عزیز ؑ پر ایمان لائے اور پھر عزیر ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کا انکار کیا۔
اب رسول اکرم ؑ اور قرآن کریم کے انکار پر تلے ہوئے ہیں، سو جب تک یہ لوگ اس پر قائم رہیں گے نہ ان کو دین حق کی رہنمائی ہوگی اور نہ صحیح راستہ ملے گا۔
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا۔۔ : ان لوگوں سے مراد منافقین ہیں جو مسلمان تو ہوگئے مگر جب کوئی فائدہ دیکھتے تو ایمان کی طرف بڑھ جاتے اور اگر کوئی تکلیف پہنچتی تو کافر ہوجاتے۔ یہ لوگ مشرکین اوس و خزرج میں سے بھی تھے اور یہود مدینہ سے بھی۔ اب بھی بیشمار مسلمانوں کا یہی حال ہے، فرمایا : (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ ۚ) [ حج : 11 ] ”اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پر کرتا ہے۔“ پھر ”کفر میں بڑھ گئے“ یعنی پھر وہ کفر پر قائم رہے اور اسی پر مرگئے، کیونکہ کفر کا یہی وہ درجہ ہے جس کی بخشش نہیں ہوتی، لیکن اگر کوئی شخص تائب ہوجائے اور ایمان لے آئے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 137۔
بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور حضرت عزیز (علیہ السلام) کا انکار کیا پھر حضرت عزیز (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کیا پھر حضرت محمد ﷺ کے انکار میں بڑھتے گئے۔
بعض علماء نے کہا : وہ لوگ جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان پھر حضرت عزیر (علیہ السلام) پر ایمان لائے پھر حضرت عزیر (علیہ السلام) کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کیا، نصاری نے اس کا انکار کیا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے پھر حضرت محمد ﷺ اور جو آپ لے کر آئے تھے اس کے انکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–139
(1) عبد بن حمید و ابن جریر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ یہودی اور نصاری مراد ہے یہود تورات پر ایمان لے آئے پھر انکار کردیا اور نصاری انجیل پر ایمان لائے پھر بعد میں اس کا انکار کردیا۔
(2) عبد الرزاق و عبد بن حمید و ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان الذین امنوا ثم کفروا “ سے مراد یہودی ہیں تورات پر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر نصاری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” ان الذین امنوا ثم کفروا “ یعنی انجیل پر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر فرمایا لفظ آیت ” ثم ازدادوا کفرا “ یعنی محمد ﷺ کا انکار کرنے سے کفر میں مزید اضافہ کیا پھر فرمایا لفظ آیت ” ولا لیھدیہم…
Read the full tafseer →[ اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک جو لوگ ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ ثُمَّ : پھر ] [ کَفَرُوْا : انہوں نے کفر کیا ] [ ثُمَّ اٰمَنُوْا : پھر ایمان لائے ] [ ثُمَّ کَفَرُوْا : پھر کفر کیا ] [ ثُمَّ : پھر ] [ ازْدَادُوْا : وہ زیادہ ہوئے ] [ کُفْرًا : بلحاظ کفر کے ] [ لَّـمْ یَکُنِ : تو ہرگز نہیں ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ لِیَغْفِرَ : کہ وہ معاف کرے ] [ لَہُمْ : ان کو ] [ وَلاَ لِیَہْدِیَہُمْ : اور نہ (یہ) کہ وہ ہدایت دے ان کو ] [ سَبِیْلاً : راستے کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
(وَ لَا لِیَھْدِیَھُمْ سَبِیْلًا) اس کا ایک مطلب تو وہی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں بہشت کا راستہ نہ دکھائے گا۔ کیونکہ وہ کفر پر مرچکے ہوں گے اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ان کے بار بار کفر کی طرف لوٹنے کی وجہ سے قبول حق کی توفیق ہی سلب ہوجائے گی۔ اور آئندہ توبہ کرنے اور ایمان لانے کا موقع ہی نصیب نہ ہوگا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے سورة صف میں بنی اسرائیل کے بارے میں ارشاد فرمایا :
(فَلَمَّا زَاغُوْا اَزَاغ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ ) قال صاحب الروح صفحہ 171: ج 5 فان من تکرر منھم ارتدادو زیاد الکفر والا صرار علیہ صاروا بحیث قد ضربت قلوبھم بالکفر و تمرنت علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
بیان ارکان خمسہ ایمان وترغیب در ایمانے کہ نزد شرع صحیح ومعتبر باشد وذکر ذمائم منافقین۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنو۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ سبیلا۔
ربط) یہاں تک زیادہ تر احکام فرعیہ کا بیان ہوا اور قریب ہی میں اولین اور آخرین کو تقوی کی وصیت اور کفر سے بچنے کی تاکید اور ثواب آخرت کی ترغیب بیان فرمائی اور گذشتہ آیات میں عدل و انصاف اور شہادت حق وصدق کی تاکید اکید فرمائی اور ظاہر ہے کہ تقوی اور طہارت اور عدالت وشہادت حق اور آخرت کی فکر ورغبت کا تمام تردار و مدار ایمان باللہ والیوم الآخر پر ہے اس لیے کہ اب آئندہ آیات میں ایمان کے ارکان خمسہ کو بیان فرماتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ شریعت میں کون سا ایمان صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
92 یہ تمام منافقوں کو زجر ہے اور بار بار ایمان لانے ارور کفر کرنے کی مفسرین نے متعدد توجیہیں کی ہیں لیکن سب سے دل لگتی بات یہ ہے کہ اس سے ان کے تردد اور تذبذب کا بیان مقصود ہے۔ قال القفال (رح) ولیس المراد بیان ھذا العدد بل المراد ترددھم کما قال مذبذبین بین ذالک لا الی ھؤلاء و لا الی ھؤلاء (کبیر ج 3 ص 487) اور اِزْدَادُوْا کُفْرًا سے مراد یہ ہے کہ کفر کے ساتھ ساتھ کافروں سے اندرونی طور پر دوستی بھی رکھتے ہیں پھر بَشِّرِ الْمُنَافِقِیْنَ سے منافقوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
ربط آیات
گزشتہ درس میں ان صاف پر قائم رہنے کی تلقین کی گئی تھی کیونکہ یہ ایک اہم اصول ہی پھر اللہ نے فرمایا کہ گواہی اللہ کیلئے دو خواہ وہ خود تمہاری ذات کے خلاف ہو یا تمہارے والدین یا اقربا کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ پھر فرمایا کہ اپنی خواہش کی پیروی نہ کرو اور زبان کو توڑ موڑ کر شہادت کو بگاڑنے کی کوشش نہ کرو اور نہ ہی گواہی دینے سے اعراض کرو ، بلکہ ہر حالت میں عدل و انصاف کو قائم رکھو۔ انصاف کے بغیر دنیا میں امن و چین نصیب نہیں ہوسکتا۔ اگر عدل نہیں ہوگا تو ظلم و زیادتی کی حکمرانی ہوگی اور انسان خرابی اور بربادی میں مبتلا رہیں گے۔ انصاف ایک بنیادی اصول ہے جسے اختیار کرنے کا حکم دیا گیا۔ اب آج…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللہُ لِيَغْفِرَ لَھُمْ وَلَا لِيَہْدِيَھُمْ سَبِيْلًا 137ۭ
زاد
الزِّيادَةُ : أن ينضمّ إلى ما عليه الشیء في نفسه شيء آخر، يقال : زِدْتُهُ فَازْدَادَ ، وقوله وَنَزْداد كَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65]
( زی د ) الزیادۃ
اس اضافہ کو کہتے ہیں جو کسی چیز کے پورا کرنے کے بعد بڑھا جائے چناچہ کہاجاتا ہے ۔ زدتہ میں نے اسے بڑھا یا چناچہ وہ بڑھ گیا اور آیت :۔ وَنَزْدادُكَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65] اور ( اس کے حصہ کا ) ایک بار شتر غلہ اور لیں گے ۔
غفر
الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–137
ترکیب : قوامین ای قائمین خبر اول کونوا بالقسط خبر سے متعلق شہداء للّٰہ خبر ثانی ولو علی متعلق ہے فعل محذوف سے ای ولوکانت الشہادۃ علی انفسکم ان یکن اس کا اسم محذوف ہے اے المشہود علیہ غنیا او فقیرا جملہ شرط فاللّٰہ اولی بہما جواب ان تعدلوا مفعول لہ تقدیرہ مخافۃ ان تعدلوا عن الحق اور ممکن ہے کہ فی مقدور ہو ‘ ای فی العدل وان مصدریہ ہو۔
تفسیر : اس آیت سے پیشتر بہت سے احکام شریعت مذکور ہوئے تھے اور درمیان میں ان احکام پر عمل کرنے کی نئی نئی خوبیوں سے تاکید بھی تھی مگر یہاں دو باتیں بعد میں ایسی ذکر کیں جو شریعت پر چلنے والے کے لئے بمنزلہ دو آنکھوں کے ہیں یا بمنزلہ دو پائوں کے ہیں کہ ان کے بغیر…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا کُفْرًا لَّمْ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغْفِرَ لَہُمْ وَلَا لِیَھْدِیَہُمْ سَبِیْلاً ط
” بیشک جو لوگ ایمان لائے پھر کفر کیا پھر ایمان لائے پھر کفر کیا پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے اللہ ان کی مغفرت فرمانے والا ہے اور نہ ان کو راہ دکھانے والا ہے۔ “ (النسآء : 137)
سابقہ آیت کے اصحاب ایمان کے کردار کی تصویر
اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کی تصویر کھینچی گئی ہے جنھیں سابقہ آیت میں ایمان کے دعویٰ کے باوجود حقیقی ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ ان کی تصویر کشی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ان کا حال یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان لائے ‘…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ایمان کے بعد کفر اور پھر کفر پر ڈٹ جانے والا ہدایت اور بخشش کا مستحق نہیں رہتا۔
اس آیت کا مفہوم مفسرین نے دو طرح اخذ کیا ہے۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ اس آیت کے مخاطب یہود ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کے بعد کافر ہوئے اور انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنالیا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) چالیس دن کے اعتکاف کے بعد طور پہاڑ سے نیچے اترے تو ان کے سمجھانے پر یہودی دوبارہ ایمان لائے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے تو انہوں نے ان پر ایمان لانے سے انکار کردیا اور پھر کفر میں یہ آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ نبی آخرالزمان ﷺ کے بھی منکر…
Read the full tafseer →آیت 137 :
اِنَّ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے) یعنی موسٰی ( علیہ السلام) پر۔ ثُمَّ کَفَرُوْا (پھر انہوں نے انکار کردیا) جبکہ بچھڑے کی پوجا شروع کردی۔ ثُمَّ ٰامَنُوْا (پھر دوبارہ موسٰی ( علیہ السلام) پر طور سے واپسی پر ایمان لے آئے) ثُمَّ کَفَرُوْا (پھر انہوں نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کا انکار کردیا ) ۔
ازدیاد کفر خطرناک ہے :
ثُمَّ ازْدَادُوْا کُفْرًا (پھر کفر میں مزید ترقی کر گئے) حضرت محمد ﷺ کا انکار کرنے کی وجہ سے۔ لَّمْ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغْفِرَلَہُمْ وَلَا لِیَہْدِیَہُمْ سَبِیْلاً (اللہ تعالیٰ ان کو بخشنے والے اور ان کی مغفرت فرمانے والے اور ان کو ہدایت کی طرف راستہ دینے…
Read the full tafseer →(تفسیر) 137۔:
(آیت)” ان الذین امنوا ثم کفروا ثم امنوا ثم کفروا ثم ازدادوکفرا “۔ قتادہ (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد یہود ہیں ، جو موسیٰ (علیہ السلام) پر پہلے ایمان لائے ، پھر گوسالہ پرستی کی وجہ سے کافر ہوگئے ، پھر توریت پر ایمان لائے ، پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے منکر ہوگئے پھر محمد ﷺ اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کی نبوت کا انکار کر کے کفر میں بڑھتے چلے گئے ، بعض اہل تفسیر کے نزدیک اس سے تمام اہل کتاب مراد ہیں کہ پہلے وہ اپنے اپنے انبیاء کرام (علیہم السلام) پر ایمان لائے ، پھر ان کا انکار کیا اور ان انبیاء کرام (علیہم السلام) پر جو کتابیں نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–140
(137 ۔ 140) ۔ اوپر کی آیتوں میں یہود کا ذکر تھا ان آیتوں میں یہود اور منافقوں کو ملا کر دونوں کا ذکر فرمایا یہود کا یہ کہ پہلے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے پھر بچھڑے کو پوجا مشرک بنے۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور سے واپس آنے کے بعد ایمان دار بنے پھر عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کا انکار کر کے کافر بنے اس کے بعد قرآن اور نبی آخر الزمان ﷺ کے انکار سے اس کفر میں اور ترقی اور زیادتی کی اور اسی حالت پر مرگئے ایسے اڑیل لوگوں کو نہ دنیا میں توبہ کی توفیق ہے نہ عقبیٰ میں ان کی بخشش کی کوئی صورت ہے کیونکہ مصلحت الٰہی کے موافق آخری زمانہ میں یہ آخری شریعت ایسی شریعت ہے جس میں پچھلی سب…
Read the full tafseer →آیت 137
یعنی جو کوئی ایمان لانے کے بعد بتکرار کفر کرتا رہا، ہدایت کا راستہ اختیار کیا، پھر گمراہ ہو یا پھر ایمان لایا، پھر اندھا ہوگیا، پھر ایمان لے آیا پھر کفر کیا اور اپنے کفر پر قائم رہا بلکہ اپنے کفر میں بڑھتا رہا، تو وہ توفیق اور راہ راست سے بہت دور اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت سے بہت بعید ہے کیونکہ وہ ایسی چیز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا جو مغفرت کے لئے سب سے بڑا مانع ہے۔ اس لئے کہ اس کا کفر اس کے لئے سزا اور اس کی طبیعت بن جاتا ہے جو کبھی زائل نہیں ہوتی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبھم) (الصف :5/61) ” جب وہ کج رو ہوگئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
مومنوں کو ایمان لانے کا حکم دیا گیا
قول باری ہے یایھا الذین امنوا امنوباللہ و رسولہ۔ اے ایمان لانے والو ! ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر) اس کی تفسیر میں ایک قول ہے ” اے وہ لوگو جو محمد ﷺ سے پہلے رسولوں پر ایمان لائے ہو اللہ پر اور محمد ﷺ پر بھی ایمان لائو اور اس شریعت پر بھی جو حضور ﷺ اللہ کی طرف سے لے کر آئے ہیں “۔ اس لئے کہ جب یہ لوگ انبیاء سابقین پر ان نشانیوں کی بنا پر ایمان لائے تھے جو ان انبیاء کے ساتھ آئی تھیں تو اسی علت کی بنا پر حضور ﷺ پر بھی ایمان لانا ان پر لازم ہوگیا ہے۔ ایک اور جہت سے بھی ان کے لئے یہ لازم ہے کہ انبیاء سابقین کی کتابوں میں حضور ﷺ کی بشارت موجود ہے اب…
Read the full tafseer →354 ایمان کے بعد کفر کی شناعت و قباحت : بعض حضرات مفسرین نے اس سے یہود مراد لئے ہیں، اور بعض نے منافقین۔ لیکن حق یہ ہے کہ اس ارشاد وبیان کو الفاظ کے عموم و اطلاق کے مطابق عام رکھا جائے، کہ جو بھی اس شنیع و قبیح طریقے کو اپنائے گا اور اختیار کرے گا اس کا یہی حکم اور یہی حال اور یہی مآل ہوگا۔ خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو ۔ وَ الْعِیَاذ باللّٰہ ۔ سو دولت ایمان سے سرفرازی کے بعد ظلمت کفر کو اپنانا بڑا ہی شنیع و قبیح اور ہلاکت و تباہی میں ڈالنے والا امر ہے جو خساروں کا خسارہ اور ابدی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اہل ایمان کے صحیح موقف کو واضح کرنے کے بعد اب اس ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–139
ایمان کو مذاق بنانے والے لوگ
تشریح : ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کسی ہلکے پھلکے جذبہ کے تحت مسلمان ہوجاتے ہیں جب جذبہ ٹھنڈا ہوا تو پھر کافر ہوگئے یا کوئی فائدہ نظر آیا ایمان لانے میں تو اس فائدہ کے حصول میں ایمان لے آئے جب فائدہ نظر نہ آیا تو کافر ہوگئے یہ انتہائی بچگانہ سوچ اور عمل ہے اور نقصان دہ بھی۔ نقصان دہ اس طرح کہ ایسے لوگوں کو اللہ ہرگز معاف نہ کرے گا جو دین کو سنجیدگی سے قبول نہ کریں، بلکہ ایک کھیل سمجھ لیں یہ تو انتہائی احمقانہ حرکت ہے اس کی سزا ان کو ضرور ملے گی، کیونکہ یہ حرکت اللہ رب العزت کو بالکل پسند نہیں اللہ ان سے اس قدر ناراض ہوتا ہے کہ پھر کوئی بھی ہدایت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–141
رکوع نمبر 20 آیات 135 تا 141: اسرار و معارف
یا ایہا الذین آمنوا۔ ۔۔۔ سبیلا۔۔
قیام امن کی تدبیر اور شہادت کی اہمیت :
جب بات حقوق کی ہے تو ذاتی طور پر ہو یا خانگی طور پر برادری اور قبیلے کی سطح پر ہو یا قوم و ملک کی سطح پر حقدار تک اس کے حقوق پہنچانے کے لیے امن شرط ہے بدا منی میں یہ سب کام ممکن ہی نہیں اور قیام امن کے لیے انصاف ضروری ٹھہرا۔ اگر انصاف نہیں ہوگا تو مظلوم بھی اپنا غبار کسی نہ کسی راستے نکالیں گے جو یقینا درست راستہ نہ ہوگا جس کے نتیجے میں بدامنی بھی ہوگی اور حقوق بھی مارے جائیں گے اب انصاف کی بنیاد شہادت پر ہے کہ گواہ حق اور کھری بات بیان کردے۔ اور یہ قیام امن اور حقوق کی حفاظت…
Read the full tafseer →ف 2 ان لوگوں سے مراد جیسا کہ آیت کے ترجمہ سے ظاہر یہود ہیں اور ان کے زیادہ کفر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کفر پر قائم رہے اور کفر ہی حالت میں مرے کیونکہ کفر کا یہی وہ درجہ ہے جس کی کشش نہیں ہوتی لیکن اگر کوئی شخص تائب ہوجائے اور ایمان لے آئے تو اس کے تمام گناہ بخشے جاتے ہیں۔ بشر طی کہ اس کے اسلام میں احسان ہو یعنی ثابت قدم رہے اور دوبارہ کفر کا ارتکاب نہ کرے، حدیث میں ہے صحابہ کرام ؓ نے آنحضرت ؓ سے سوال کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کی ان اعمال پر مواخذہ ہوگا جو ہم نے جاہلیت میں کئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا جس نے اسلام لانے کے بعد احسان سے کام لیا اس سے تو مواخذہ نہیں ہوگا۔ مگر جس نے دوبارہ کفر کیا۔ تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
(4:136) یایھا الذین امنوا امنوا ۔۔ اے ایمان والو صمیم قلب سے اور ثابت قدمی کے ساتھ ایمان لاؤ ۔۔
امنوا۔ ای اثبتوا علی الایمان وداو مرا علیہ۔ ثابت قدم رہو ایمان پر اور اس پر مدمت و اختیار کرو۔ (کشاف)
الکتب۔ پہلی صورت میں الکتاب سے مراد القرآن ہے اور دوسری صورت میں الکتب اسم جنس ہے اور اس سے مراد وہ ساری کتابیں ہیں جو رسول اکرم ﷺ سے قبل نازم ہوئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–139
آیت نمبر 136-139
لغات القرآن : ازدادوا، وہ آگے بڑھ گئے۔ ایبتغون، کیا وہ تلاش کرتے ہیں۔ العزۃ، عزت۔
تشریح : یہاں مومن ، کافر، مرتد اور منافق کا ذکر ہے۔ ایمان وہ ہے جو روح کی گہرائیوں سے ہو، دل کی آوازیں ایک ہی کلمہ پڑھیں، خون کا ہر قطرہ ایک ہی رخ لپکے۔ ایمان وہ ہے جو صرف زبانی اقرار تک محدود نہ ہو بلکہ اعضا وجوارح سے ثابت ہو۔ ایمان صرف زبانی جمع خرچ کا نام نہیں ہے۔ بلکہ ایک چلتی پھرتی تحریکی مشینری کا نام ہے جس کا قبلہ و کعبہ متعین ہے۔
غیر مسلم بھی اللہ کو اور اس کی طاقت اور حکم کو مانتے ہیں جو نظام کائنات چلا رہی ہے ۔ لیکن پیغمبروں کو فرشتوں کو قیامت کو سزا و جزا کو اور اللہ کی کتابوں کو نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–140
شان نزول : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے، پھر بچھڑا پوج کر کافر ہوئے۔ پھر اس کے بعد ایمان لائے، پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کا انکار کر کے کافر ہوگئے پھر آنحضرت ﷺ اور قرآن شریف کا انکار کر کے کفر میں بڑھے اور کفر پر ہی ان کی موت ہوئی۔ کفر بخشا نہیں جاتا ہے جب تک کافر توبہ نہ کرے اور ایمان نہ لائے۔ منافقین کا یہ حال ہے جن کا خیال تھا کہ اسلام غالب نہ ہوگا، اس لئے کفار کی قوت اور شوکت سمجھ کر ان سے دوستی کرتے تھے۔ ان سے ملنے میں عزت جانتے تھے باوجودیکہ کفار مکہ کے ساتھ دوستی ممنوع تھی جس سے قیامت کے دن جہنم نصیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–138
[85] یعنی خلوص دل کے ساتھ ایمان لاؤ اور سچے مومن بنو۔
[86] ان میں سے ہر عقیدے پر فرداً فرداً ایمان لانا ضروری ہے اور ان میں سے کسی ایک عقیدے سے بھی انکار دائرہ اسلام سے خارج کردینے کے لئے کافی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–138
دعوت تجدید :
(ف 2) ایمان کے کئی درجے اور مقام ہیں سرسری ایمان یہ ہے کہ اسلامی نظام عقائد وعمل کو مان لیاجائے ، ایثار و خلوص شرط نہیں ، اس حالت میں اس نوع کے لوگ سیاسی اعتبار سے مسلمان ہی شمار کئے جائیں گے ، مگر حقیقی اور واقعی ایمان یہ ہے کہ دلوں میں یقین وثبات کہر با دوڑ جائے اور مسلمان درد و اضطراب کا مرقع بن جائے ، اس کے ہر بن ومو سے اسلامی شان و شوکت کے فوارے پھوٹیں ، اس آیت کا یہی مقصود ہے کہ مسلمانو ! قشر اور چھلکے کو چھوڑ کر حقیقت ومغز کو پہچانو ! اجمال وابہام سے نکل کر تفصیل وتشریح کی روشنی میں اپنے ایمان کا جائزہ لو اور دیکھو کیا واقعی اللہ کی تمام کتابوں پر تمہارا یمان ہے ؟ اور کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
ف 2 بلاشبہ جو لوگ مسلمان ہوئے پھر مسلمان ہونے کے بعد کافر ہوگئے۔ کافر ہونے کے بعد پھر مسلمان ہوگئے مسلمان ہونے کے بعد پھر کافر ہوگئے پھر اپنے کفر میں بڑھتے اور زیادہ ہوتے چلے گئے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہرگز نہیں بخشے گا اور نہ ان کی مقصود تک پہونچنے میں رہنمائی فرمائے گا۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اگر ارتداد کے بعد تائب ہوجائیں اور نادم ہو کر ایمان لے آئیں تو بہرحال ایمان قبول ہوگا اور اگر ارتداد کے بعد کوئی ایمان نہ لائے اور ارتداد ہی پر مرجائے تو نہ اس کی مغفرت اور نہ اس کی مقصود تک رہنمائی یعنی جنت میں جانے کا راستہ دکھایا جائے گا اگرچہ ایک دفعہ مرتد ہو کر کوئی ارتداد پر قائم رہے تب بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
ف 6۔ یعنی کفر پر دم مرگ تک ثابت اور دائم رہے۔
7۔ کیونکہ مغفرت اور جنت کے لیے موت علی الایمان شرط ہے۔
Read the full tafseer →بندوں میں جو اپنا اعتبار کھو دیتا ہے اس پر قیاس کرلو جس کا اعتبار اللہ کے ہاں نہ رہا :
223: کیا لوگوں میں جس انسان کا کوئی اعتبار نہ رہے وہ عزت والا کہلاتا ہے ؟ نہیں نہیں وہ تو بےعزت بھی ہوتا ہے اور بےغیرت بھی پھر جس کا اعتبار عنداللہ ہی کچھ نہ رہا اس کا کیا ہوگا ؟ اور منافق کی یہی حالت ہے کہ اس کا اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ اعتبار نہیں ہوتا اور وہ اپنے نفاق کی حالت کو جتنا چھپاتا ہے وہ ظاہر ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔ اگرچہ انہوں نے بظاہر ایمان کی راہ اختیار کی لی تھی مگر فی الحقیقت ایمان سے محروم تھے چناچہ بار بار آئے اور بار بار الٹے پائوں گئے۔ سو ایسا ایمان ایمان نہیں ہے فرمایا ایسے لوگوں کی نہ تو…
Read the full tafseer →Important Notes
1. The first part of the verse 137 which begins with the words: إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا (Surely, those who believed and then disbelieved, believed again and then disbelieved, then went on increasing in their disbelief) refers to the hypocrites. But, some commentators say that this verse is about the Jews for they were the ones who first believed, then, after having taken to the golden calf, became disbelievers. After that, they repented and believed. Then again, they rejected the prophethood of Sayyidna 'Isa علیہ و الصلوٰۃ السلام and fell back into disbelief.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
168. This refers to those for whom religion is no more than an object of casual entertainment, a toy with which they like to play as long as it suits their desires and fancies. One wave carries them to the fold of Islam and the next away to that of disbelief. Whenever Islam appears to suit their interests they become Muslims; and when the glamorous visage of the god of utility leaps up before their eyes they rush off to worship it. To such people God holds out neither the assurance of forgiveness nor of direction to true guidance. The statement that such people 'became even more intense in…
Read the full tafseer →