ایمان کی تکمیل مکمل اطاعت میں مضمر ہے
ایمان والوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ ایمان میں پورے پورے داخل ہوجائیں تمام احکام کو کل شریعت کو ایمان کی تمام جزئیات کو مان لیں، یہ خیال نہ ہو کہ اس میں تحصیل حاصل ہے نہیں بلکہ تکمیل کامل ہے۔ ایمان لائے ہو تو اب اسی پر قائم رہو اللہ جل شانہ کو مانا ہے تو جس طرح وہ منوائے مانتے چلے جاؤ۔ یہی مطلب ہر مسلمان کی اس دعا کا ہے کہ ہمیں صراط مستقیم کی ہدایت کر، یعنی ہماری ہدایت کو ثابت رکھ مدام رکھ اس میں ہمیں مضبوط کر اور دن بدن بڑھاتا رہ، اسی طرح یہاں بھی مومنوں کو اپنی ذات پر اور اپنے رسول ﷺ پر ایمان لانے کو فرمایا ہے اور آیت میں ایمانداروں سے خطاب کر کے فرمایا…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 166
ایمان لانے والوں سے کہنا کہ ایمان لاؤ بظاہر عجیب معلوم ہوتا ہے۔ لیکن دراصل یہاں لفظ ایمان دو الگ معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ایمان لانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ آدمی انکار کے بجائے اقرار کی راہ اختیار کرے، نہ ماننے والوں سے الگ ہو کر ماننے والوں میں شامل ہوجائے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ آدمی جس چیز کو مانے اسے سچے دل سے مانے۔ پوری سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ مانے۔ اپنی فکر کو، اپنے مذاق کو، اپنی پسند کو، اپنے رویے اور چلن کو، اپنی دوستی اور دشمنی کو، اپنی سعی و جہد کے مصرف کو بالکل اس عقیدے کے مطابق بنالے جس پر وہ ایمان لایا ہے۔ آیت میں خطاب ان تمام مسلمانوں سے ہے جو پہلے معنی…
Read the full tafseer →ربط آیات
اوپر زیادہ حصہ احکام فرعیہ کا مذکور اور ایمان و کفر کے مباحث کہیں کہیں معاملات مع المخالفین کے ضمن میں آگئے ہیں، آگے یہ مباحث قدرے تفصیل سے مذکور ہیں اور ختم سورت کے بالکل قریب تک چلے گئے ہیں، ترتیب بیان میں اول اس کا بیان ہے کہ شریعت میں ایمان معتبر کیا ہے، پھر کفار کے مختلف فرقوں کی مذمت عقائد میں بھی اور بعض اعمال میں بھی
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو (یعنی جو مجملاً ایمان لا کر مومنین کے زمرہ میں داخل ہوچکے ہیں) تم (عقائد ضروریہ کی تفصیل سن لو کہ) اعتقاد رکھو اللہ کی (ذات وصفات کے) ساتھ اور اس کے رسول (محمد ﷺ کی رسالت) کے ساتھ اور اس کتاب (کے حق ہونے) کے ساتھ جو اس نے (یعنی اللہ…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِيْ نَزَّلَ عَلٰي رَسُوْلِهٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ ۭ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا۔
زبان کا ایک اسلوب : يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا۔ ہم دوسرے مقام پر زبان کا یہ اسلوب واضح کرچکے ہیں کہ فعل اپنے ابتدائی اور ظاہری معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اپنے حقیقی اور کامل معنی میں بھی۔ یہاں مسلمان من حیث الجماعت مخاطب ہیں جن میں خام و پختہ، ناقص و کامل اور مخلص و منافق ہر قسم کے عناصر شامل…
Read the full tafseer →(1) ایمان والوں کو ایمان لانے کی تاکید، تحصیل حاصل والی بات نہیں بلکہ کمال ایمان اور اس پر استقرار و اثبات کا حکم ہے۔ جیسے (اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ) 1:5 کا مفہوم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–136
81: اس آیت میں یہ عمومی ہدایت دی گئی ہے کہ ایک مسلمان کو صرف دنیوی فائدوں ہی کی فکر میں نہیں پڑا رہنا چاہیے ؛ بلکہ اللہ سے دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگنی چاہیے اور پچھلی آیتوں سے اس کا تعلق بظاہر یہ ہے کہ میاں بیوی کو مصالحت یا علیحدگی کا فیصلہ کرتے وقت صرف دنیا کے فائدوں پر نظر نہیں رکھنی چاہیے ؛ بلکہ آخرت کی بھلائی بھی پیش نظر رکھنی چاہیے ؛ لہذا اگر مرد یا عورت اپنے کچھ دنیوی مفادات کی قربانی دے کر دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے تو آخرت میں بڑے ثواب کی امید ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 136۔
یہ ایک دوسری پکار ہے ‘ جو صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لا چکے ہیں اور یہاں اس صفت اور لقب کے ساتھ ان کو آواز دی گئی ہے جو ان کو ان کے اردگرد پھیلی ہوئی جاہلیت سے ممتاز کرتی ہے ۔ یہ صفت ان کے واجبات وفرائض کا تعین کرتی ہے اور ان کو اس منبع اور ذریعے سے مربوط کرتی ہے جو ان کی قوت اور برتری کا اصل ماخذ (Source) ہے جس ماخذ سے وہ تمام قوتیں اور ہمتیں حاصل کرتے ہیں ۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا امنوا باللہ ورسولہ والکتب الذی نزل علی رسولہ والکتب الذی انزل من قبل (4 : 136) (اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل…
Read the full tafseer →1 یعنی جو اسلام قبول کرے اس کو ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام حکموں پر دل سے یقین لائے۔ اس کے ارشادات میں سے اگر کسی ایک ارشاد پر بھی یقین نہ لائے گا تو وہ مسلمان نہیں۔ صرف ظاہری اور زبانی بات کا اعتبار نہیں ہے۔
Read the full tafseer →آیت 136 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اٰمِنُوْا باللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ ط
ایمان والوں سے یہ کہنا کہ ایمان لاؤ بظاہر عجیب معلوم ہوتا ہے۔ اے ایمان والو ‘ ایمان لاؤ ! چہ معنی دارد ؟ اس کا مطلب ہے کہ اقرار باللّسان والا ایمان تو تمہیں موروثی طور پر حاصل ہوچکا ہے۔ مسلمان ماں باپ کے گھر پیدا ہوگئے تو وراثت میں ایمان بھی مل گیا ‘ یا یہ کہ جب پورا قبیلہ اسلام لے آیا تو اس میں پکے مسلمانوں کے ساتھ کچھ کچے مسلمان بھی شامل ہوگئے۔ انہوں نے بھی کہا : اَشْہَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ…
Read the full tafseer →181 ایمان کے درجات :۔ اس آیت میں ایمان کا لفظ دو معنوں میں یا ایمان کے دو مختلف درجوں میں استعمال ہوا ہے۔ اٰمنوا کا مطلب یہ ہے، لوگو جو تم مومنوں کی جماعت میں شامل ہوچکے ہو۔ اور اٰمنوا کا مطلب یہ ہے کہ خلوص نیت سچے دل اور پختہ عزم اور سنجیدگی کے ساتھ ایمان لاؤ اور اپنی سوچ، اپنے عمل، اپنے رویہ، اپنے نظریات، اپنے مذاق، اپنے کردار، اپنی دوستی اور دشمنی، اپنی اغراض، اپنی جدوجہد غرض ہر چیز کو اس عقیدے کے مطابق بناؤ جس پر تم ایمان لائے ہو۔ تب ہی تم میں انصاف پر قائم رہنے کی صفت پیدا ہو سکے گی۔
182 قرآن سے پہلے کی نازل شدہ کتاب یا کتابوں پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ فی الواقع وہ کتاب بھی اللہ کی…
Read the full tafseer →361 ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا “۔ آیت میں خطاب ان لوگوں سے ہے جو کلمہ اسلام پڑھ کر اجمالا تو ایمان لاچکے ہیں اور اسی لئے لقب مومنین سے مشرف ہیں اور انہی کو تاکید ہورہی ہے کہ تفصیل کے ساتھ ایمانیات کے ایک ایک جزء پر اپنا عقیدہ مضبوط کریں (آیت) ” امنوا باللہ “۔ یعنی اللہ کی ذات وصفات پر، اس کی اور توحید کے تضمنات پر بہ تفصیل ایمان لاؤ (آیت) ” ورسولہ “۔ رسول ﷺ پر ایمان لانے کے معنی ہیں کہ اس کی شریعت کے ہر ہر جزء کو بےچون وچرامان لیاجائے (آیت) ” الکتب الذی انزل من قبل “۔ مراد یہاں جنس کتاب ہے۔ یعنی ان کتابوں پر ایمان لایا جائے جو قرآن سے قبل نازل ہوچکی ہیں۔ المراد بہ جنس ما انزل علی الانبیاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–136
آیت نمبر 135 تا 141
ترجمہ : اے ایمان والو ! انصاف پر خوب قائم رہنے والے اور اللہ کے لئے حق کی گواہی دینے والے رہو چاہے وہ شہادت خود تمہارے خلاف ہی ہو تو اپنے خلاف گواہی دو بایں طور کہ حق کا اقرار کرو اور اس کو چھپاؤ نہیں یا تمہارے والدین کے اور عزیزوں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، مشہور علیہ مالدار ہو یا مفلس اللہ ان دونوں سے تمہاری بہ نسبت قریب ہے اور ان دونوں کی مصلحتوں سے واقف ہے، اپنی شہادت نفس کی پیروی نہ کرو بایں طور کہ مالدار کی اس کی رضا جوئی کے لئے رعایت کرو یا فقیر پر رحم کے طور پر اس کی رعایت کرو بایں طور کہ حق سے ہٹ جاؤ، اور یہ کہ شہادت میں تحریف کرو، اور ایک قراءت میں تخفیفاً اول کے حذف…
Read the full tafseer →یایہا الذین امنوا امنوا باللہ ورسولہ اے ایمان والو تم اعتقاد رکھو اللہ اور اس کے رسول پر۔
ایمان کی حقیقت اور تکمیل یہ ہے کہ مؤمن اپنی بصیرت فکر سے پہچان لے کہ اللہ ہی کا وجود اصلی اور حقیقی ہے وہی ہر چیز کا خالق اور نقصان یا نفع پہنچانے والا ہے اس کے علاوہ کسی میں حقیقی اور اصلی کمال و حسن نہیں جو کچھ ہے اسی کا دیا ہوا ہے۔ اس عارفانہ ایمان کے بعد مؤمن کا علمی فکری اور جذباتی تعلق سوائے اللہ کے کسی سے نہیں رہے گا اور اس سے علاقۂ محبت کی وجہ سے اللہ کے اوامرو نواہی کی پابندی اس کی فطرت میں داخل ہوجائے گی آخری نتیجہ یہ ہوگا کہ آگ میں جھونکے جانے سے بھی زیادہ اس کو ارتکاب گناہ سے نفرت ہوجائے…
Read the full tafseer →(136) ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی یعنی وہ حضرات جو موسیٰ ؑ اور توریت پر ایمان لائے ہیں وہ اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم اور قرآن کریم سے سابقہ انبیاء پر جو کتابیں نازل کی گئی ہیں، ان پر ایمان لے آئیں اور جو اللہ تعالیٰ یا اس کے فرشتوں یا اس کی کتابوں یا اس کے رسولوں یا بعث بعد الموت کا انکار کرے تو وہ شخص گمراہی میں بڑا دور جا پڑا، جب یہ آیت نازل ہوئی تو یہ سب حضرت فی الفور اسلام میں داخل ہوگئے ،
Read the full tafseer →اٰمِنُوْا باللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ۔۔ : یہاں ایمان والوں کو ایمان لانے کا حکم دیا جا رہا ہے، یعنی ایمان پر ثابت قدم رہو، یا اپنے ایمان میں اخلاص پیدا کرو، اس کے مخاطب تمام مومنین ہیں۔ بعض نے لکھا ہے کہ اس کے مخاطب اہل کتاب کے مومن ہیں، لیکن پہلی بات زیادہ صحیح ہے۔ (فتح القدیر) قرطبی لکھتے ہیں، بعض کا خیال ہے کہ یہ خطاب منافقین سے ہے، ان کے بظاہر مسلمان ہونے کی وجہ سے ایمان والے فرما دیا اور معنی یہ ہے کہ جب تک دل میں کامل یقین پیدا نہیں کرو گے اور خالص اللہ کو نہیں مانو گے تو اللہ کے ہاں مسلمان نہیں ہوسکتے۔
2 پہلی کتابوں پر ایمان رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے متعلق یہ عقیدہ رکھا جائے کہ وہ بھی…
Read the full tafseer →آیت نمبر ؛ 136۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یایھا الذین امنوا امنوا “۔ یہ تمام مومنین کے متعلق نازل ہوئی معنی یہ ہے کہ اے تصدیق کرنے والو ! اپنی تصدیق پر قائم رہو اور اس پر ڈٹے رہو۔ (آیت) ’ والکتب الذی نزل علی رسولہ، الکتب “۔ سے مراد قرآن ہے، (آیت) ” والکتب الذی انزل من قبل “۔ اس سے کتاب مراد ہے جو انبیاء کرام پر نازل ہوئی، ابن کثیر، ابو عمرو اور ابن عامر نے نزل اور انزل (ضمہ کے ساتھ) پڑھا ہے باقی قراء نے فتحہ کے ساتھ نزل اور انزل پڑھا ہے، بعض علماء نے فرمایا : یہ ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جو حضرت محمد ﷺ سے پہلے انبیاء پر ایمان لائے تھے، بعض نے فرمایا : یہ منافقین کو خطاب ہے۔ (1)…
Read the full tafseer →(1) ثعلبی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عبد اللہ بن سلام اسد اور اسید کعب کے بیٹے ثعلبہ بن قیس اور سلام عبد اللہ بن سلام کے بھانجے اور سلمہ بھتیجے اور یامین بن یامین رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! ہم آپ پر اور آپ کی کتاب پر موسیٰ پر توراۃ پر اور عزیر پر ایمان لے آئے اور ہم انکار کرتے رہے ان کے علاوہ کتابوں کا اور رسولوں کا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلکہ تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول محمد ﷺ پر اور اس کی کتاب قرآن پر اور ہر کتاب پر جو اس سے پہلے تھی انہوں نے کہا ہم ایسا تو نہیں کرتے اس پر یہ آیت ” یایھا الذین امنوا امنوا باللہ ورسولہ والکتب الذی نزل علی رسولہ والکتب الذی…
Read the full tafseer →[ یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو جو ] [ اٰمَنُوْآ : ایمان لائے ہو ] [ اٰمِنُوْا : تم ایمان لائو ] [ بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَرَسُوْلِہٖ : اور اس کے رسولوں پر ] [ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْ : اور اس کتاب پر جو ] [ نَزَّلَ : اس نے بتدریج اتاری ] [ عَلٰی رَسُوْلِہٖ : اپنے رسول پر ] [ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْٓ : اور اس کتاب پر جو ] [ اَنْزَلَ : اتاری ] [ مِنْ قَـبْلُ : اس سے پہلے ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ یَّـکْفُرْ : انکار کرے گا ] [ بِاللّٰہِ : اللہ کا ] [ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ : اور اس کے فرشتوں کا ] [ وَکُتُبِہٖ : اور اس کی کتابوں کا ] [ وَرُسُلِہٖ : اور اس کے رسولوں کا ] [ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ : اور…
Read the full tafseer →اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اور کتابوں، فرشتوں اور یوم آخرت پر ایمان لانے کا حکم
ان آیات میں اولاً مسلمانوں کو خطاب فرمایا ہے کہ اپنے ایمان پر جمے رہو اور اس کے رسولوں پر اس کی موجودہ کتاب پر اور اس کی ان کا ئبوں پر جو پہلے نازل فرمائی ہیں ان سب پر ایمان لاؤ۔ مزید یہ فرمایا کہ جو شخص اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے پیغمبروں کا اور آخرت کے دن کا انکار کرے وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ اس میں اصول ایمان بتائے ہیں ان چیزوں پر ایمان لانا فرض ہے جو اس آیت میں مذکور ہوئیں۔
حدیث جبرائیل میں تقدیر پر ایمان لانے کو بھی اصول ایمان میں شامل فرمایا ہے۔ جب کوئی شخص ان چیزوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
بیان ارکان خمسہ ایمان وترغیب در ایمانے کہ نزد شرع صحیح ومعتبر باشد وذکر ذمائم منافقین۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنو۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ سبیلا۔
ربط) یہاں تک زیادہ تر احکام فرعیہ کا بیان ہوا اور قریب ہی میں اولین اور آخرین کو تقوی کی وصیت اور کفر سے بچنے کی تاکید اور ثواب آخرت کی ترغیب بیان فرمائی اور گذشتہ آیات میں عدل و انصاف اور شہادت حق وصدق کی تاکید اکید فرمائی اور ظاہر ہے کہ تقوی اور طہارت اور عدالت وشہادت حق اور آخرت کی فکر ورغبت کا تمام تردار و مدار ایمان باللہ والیوم الآخر پر ہے اس لیے کہ اب آئندہ آیات میں ایمان کے ارکان خمسہ کو بیان فرماتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ شریعت میں کون سا ایمان صحیح…
Read the full tafseer →ف 91 : یہاں سے منافقین مدینہ کیلئے زجریں ہیں۔ اٰمِنُوا ماضی سے مراد ایمان باللسان ہے۔ اور اٰمِنُوا سے مراد ایمان بالقلب ہے۔ منافقین جو ظاہری اور زبانی ایمان لائے تھے ان سے فرمایا کہ اخلاص اور دلی اعتقاد کے ساتھ اللہ کی توحید اس کے رسول کی رسالت اور دیگر تمام ضروریات پر ایمان لاؤ الخطاب للمنافقین المومنین ظاھرا فمعنی اٰمنوا اخلصو الایمان (روح ج 5 ص 169) ای یا ایہا الذین امنوا نفاقا اٰمنوا اخلاصا (مدارک ج 1 ص 195) والمعنی یا ایہا الذین آمنوا بالسنتہم ولم تومن قلوبہم اٰمنوا بالکتب السابقۃ والرسل السابقین اور امنوا امر سے مراد امنوا بمحمد ﷺ والقرآن یعنی جو گذشتہ کتابوں اور رسولوں پر لائے ہو آخری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
ربط آیات
گزشتہ درس میں ان صاف پر قائم رہنے کی تلقین کی گئی تھی کیونکہ یہ ایک اہم اصول ہی پھر اللہ نے فرمایا کہ گواہی اللہ کیلئے دو خواہ وہ خود تمہاری ذات کے خلاف ہو یا تمہارے والدین یا اقربا کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ پھر فرمایا کہ اپنی خواہش کی پیروی نہ کرو اور زبان کو توڑ موڑ کر شہادت کو بگاڑنے کی کوشش نہ کرو اور نہ ہی گواہی دینے سے اعراض کرو ، بلکہ ہر حالت میں عدل و انصاف کو قائم رکھو۔ انصاف کے بغیر دنیا میں امن و چین نصیب نہیں ہوسکتا۔ اگر عدل نہیں ہوگا تو ظلم و زیادتی کی حکمرانی ہوگی اور انسان خرابی اور بربادی میں مبتلا رہیں گے۔ انصاف ایک بنیادی اصول ہے جسے اختیار کرنے کا حکم دیا گیا۔ اب آج…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِيْ نَزَّلَ عَلٰي رَسُوْلِہٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ 0ۭ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِاللہِ وَمَلٰۗىِٕكَتِہٖ وَكُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا 136
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–137
ترکیب : قوامین ای قائمین خبر اول کونوا بالقسط خبر سے متعلق شہداء للّٰہ خبر ثانی ولو علی متعلق ہے فعل محذوف سے ای ولوکانت الشہادۃ علی انفسکم ان یکن اس کا اسم محذوف ہے اے المشہود علیہ غنیا او فقیرا جملہ شرط فاللّٰہ اولی بہما جواب ان تعدلوا مفعول لہ تقدیرہ مخافۃ ان تعدلوا عن الحق اور ممکن ہے کہ فی مقدور ہو ‘ ای فی العدل وان مصدریہ ہو۔
تفسیر : اس آیت سے پیشتر بہت سے احکام شریعت مذکور ہوئے تھے اور درمیان میں ان احکام پر عمل کرنے کی نئی نئی خوبیوں سے تاکید بھی تھی مگر یہاں دو باتیں بعد میں ایسی ذکر کیں جو شریعت پر چلنے والے کے لئے بمنزلہ دو آنکھوں کے ہیں یا بمنزلہ دو پائوں کے ہیں کہ ان کے بغیر…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُط وَمَنْ یَّکْفُرْ بِاللّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِفَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلاً م بَعِیْدًا
” اے ایمان والو ! ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور اس کتاب پر جو اس نے پہلے اتاری۔ اور جو اللہ ‘ اس کے فرشتوں ‘ اس کی کتابوں ‘ اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار کرے وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ “ (النسآء : 136)
صاحب ایمان لوگوں کو ایمان لانے کا مفہوم
اس آیت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : شہادتِ حق و عدل پر وہی قائم رہ سکتا ہے جو حقیقی معنوں میں ایمان کے تقاضے پورے کرتا ہو۔ ایمان کے سوا گمراہی کا راستہ ہے۔
قرآن مجید میں یہی آیت مبارکہ ہے جس میں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے دوبارہ ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس کے بارے میں مفسرین نے تین آراء قائم کی ہیں۔ ایک طبقہ کا خیال ہے کہ یہاں ایمان داروں سے مراد صرف دعو ٰی ایمان رکھنے والے منافقین کو خطاب کیا گیا ہے۔ امام رازی (رح) اور ان کے ہمنوا اہل علم کا خیال ہے ” اٰمِنُوْا “ سے مراد یہودی ہیں کیونکہ یہودی علماء کا ایک وفد رسول مکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ ہم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عزیر…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 136 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓ ا ( اے ایمان والو) ۔
ثبات و اخلاص کی دعوت :
امِنُوْا (ایمان کے سلسلہ میں اتباع کرو) اور اس پر مداومت اختیار کرو۔ یہ ایمان والوں کو خطاب ہے یا اہل کتاب کو کیونکہ کتاب کے بعض حصے پر ان کو ایمان تھا اور کچھ رسل پر۔ اور بعض رُسُل کا انکار کرتے تھے۔
یا منافقین کو خطاب فرمایا۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا۔ اے وہ لوگو ! جو منافقت کے طور پر ایمان لائے ہو تم مخلص مسلمان بن جائو۔
بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول) یعنی محمد ﷺ پر۔ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِہٖ (اور اس کتاب (یعنی قرآن) پر جو اس نے اپنے رسول پر اتارا)…
Read the full tafseer →136۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا امنوا باللہ ورسولہ “۔ کلبی (رح) نے ابی صالح (رح) کے حوالے سے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ اس آیت کا نزول عبداللہ بن سلام ، واسد، اسید بن کعب ، ثعلبہ بن قیس ، سلام بن اخت ، عبداللہ بن سلام ، سلمہ بن اخی ، یا مین بن یامین ۔ یہ سب لوگ اہل کتاب کے مؤمنین میں سے تھے ، یہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کرنے لگے کہ ہم آپ پر ایمان لائے اور آپ کی کتاب پر اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اور توریت پر بھی اور عزیز (علیہ السلام) پر بھی ان کے علاوہ ہم کسی پیغمبر اور کتاب کو نہیں مانتے ، اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔
بلکہ تم ایمان لے آؤ اللہ اور اس کے رسول…
Read the full tafseer →اوپر سچی گواہی کے ادا کرنے کی تاکید تھی ان آیتوں میں اہل کتاب کا ذکر اس تنبیہ کے لئے فرمایا کہ یہود کے ذمہ یہ ایک بڑی شہادت تھی کہ تورات کی آیتوں میں جو اوصاف نبی آخر الزمان کے ہیں ان کے موافق وہ لوگوں کے روبرو شہادت ادا کردیں۔ لیکن انہوں نے اس سچی گواہی کو چھپا کر یہ جھوٹی گواہی لوگوں کے روبرو ادا کی کہ یہ نبی وہ آخر الزمان نبی نہیں ہیں اسی پر فرمایا کہ یہ لوگ اگرچہ اپنے آپ کو ایمان دار کہتے ہیں لیکن جب تک تورات کے عہد کے موافق یہ لوگ قرآن اور نبی آخر الزمان پر ایمان نہ لائیں گے تو راہ راست سے بہت دور پڑے رہیں گے۔ کیونکہ ہر ایک شریعت میں دوسری شریعت کی صداقت موجود ہے پھر جو شخص اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →آیت 136
معلوم ہونا چاہیے کہ امر یعنی حکم کا رخ یا تو اس شخص کی طرف ہوتا ہے جو اس شے میں داخل نہیں اور اس سے کچھ بھی متصف نہیں، تب اس کے لئے یہ حکم اس چیز میں داخل ہونے کا ہے۔ مثلاً اس شخص کے لئے ایمان لانے کا حکم جو مومن نہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (یا یھا الذین اوتوا الکتب امنوا بما نزلنا مصدقاً لما معکم) (النساء :78/3) ” اے وہ لوگو جن کو کتاب عطا کی گئی ہے اس کتاب پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کی ہے اور اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو تمہارے ساتھ ہے۔ “ یا اس حکم کا رخ اس شخص کی طرف ہوتا ہے جو اس چیز میں داخل ہوچکا ہے، تب یہ حکم اس لئے ہوتا ہے تاکہ اس چیز کی تصحیح کرلے جسے وہ پا چکا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
مومنوں کو ایمان لانے کا حکم دیا گیا
قول باری ہے یایھا الذین امنوا امنوباللہ و رسولہ۔ اے ایمان لانے والو ! ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر) اس کی تفسیر میں ایک قول ہے ” اے وہ لوگو جو محمد ﷺ سے پہلے رسولوں پر ایمان لائے ہو اللہ پر اور محمد ﷺ پر بھی ایمان لائو اور اس شریعت پر بھی جو حضور ﷺ اللہ کی طرف سے لے کر آئے ہیں “۔ اس لئے کہ جب یہ لوگ انبیاء سابقین پر ان نشانیوں کی بنا پر ایمان لائے تھے جو ان انبیاء کے ساتھ آئی تھیں تو اسی علت کی بنا پر حضور ﷺ پر بھی ایمان لانا ان پر لازم ہوگیا ہے۔ ایک اور جہت سے بھی ان کے لئے یہ لازم ہے کہ انبیاء سابقین کی کتابوں میں حضور ﷺ کی بشارت موجود ہے اب…
Read the full tafseer →351 ایمان پر ثابت قدمی کا حکم وارشاد : سو اس سے ایمان والوں کو ایمان پر ثابت و مستقیم رہنے کی ہدایت کی گئی اور حکم ارشاد فرمایا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایمان والو ایمان لاؤ تم اللہ پر، اس کے رسول پر اور اس کی اس کتاب پر جو اس نے اتاری ہے اپنے رسول پر۔ یعنی قرآن حکیم، جو کہ سب سے کامل اور سب کی جامع اور سب کی ناسخ کتاب ہے۔ اور جس کو اب اس خدائے مہربان نے حضرت امام الانبیا ﷺ پر اتارا ہے۔ (روح، صفوۃ، وغیرہ) ۔ سو سچے دل سے تم لوگ ان سب پر ایمان لاؤ، اور اس ایمان پر ثابت و مستقیم رہو کہ یہی راستہ ہے دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مندی و سرفرازی کا { یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا } کے…
Read the full tafseer →اہل ایمان کو تاکید
تشریح : پچھلی آیات میں اخلاقیات، معاملات اور حسن کردار کے اصول و قوانین بتائے گئے ہیں۔ ان سب باتوں پر عمل کرنا ہرگز ممکن نہیں جب تک زبانی مسلمان ہونے کا دعو ٰی کرتے رہو گے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ دل سے مسلمان بنو، یعنی دل کی گہرائیوں سے اللہ کو وحدہ ٗلاشریک مانو، اسکے رسول ﷺ کو آخری نبی مانو، قرآن پر ایمان لاؤ، اس پر عمل کرو اور جو کتابیں اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں ان کو مانو، فرشتوں کو مانو، پہلے آنے والے تمام رسولوں کو مانو، روز آخرت کو مانو۔ اگر ان تمام باتوں پر کوئی ایمان نہ لائے تو وہ کافر ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے فرمایا کہ وہ سخت گمراہی میں مبتلا ہیں اور ہدایت سے بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–141
رکوع نمبر 20 آیات 135 تا 141: اسرار و معارف
یا ایہا الذین آمنوا۔ ۔۔۔ سبیلا۔۔
قیام امن کی تدبیر اور شہادت کی اہمیت :
جب بات حقوق کی ہے تو ذاتی طور پر ہو یا خانگی طور پر برادری اور قبیلے کی سطح پر ہو یا قوم و ملک کی سطح پر حقدار تک اس کے حقوق پہنچانے کے لیے امن شرط ہے بدا منی میں یہ سب کام ممکن ہی نہیں اور قیام امن کے لیے انصاف ضروری ٹھہرا۔ اگر انصاف نہیں ہوگا تو مظلوم بھی اپنا غبار کسی نہ کسی راستے نکالیں گے جو یقینا درست راستہ نہ ہوگا جس کے نتیجے میں بدامنی بھی ہوگی اور حقوق بھی مارے جائیں گے اب انصاف کی بنیاد شہادت پر ہے کہ گواہ حق اور کھری بات بیان کردے۔ اور یہ قیام امن اور حقوق کی حفاظت…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی ایمان پر ثابت قدم رہو یا اپنے ایمان میں اخلاص پیدا کرو۔ اس کے مخاطب تمام مومنین ہیں بعض نے لکھا ہے ہے کہ اس کے مخاطب مومنین اہل کتاب ہے۔ لکن الصیح ھوالاول (فتح القدیر) علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ بعض کا خیال ہے کہ یہ خطاب منافقین سے ہے، ان کے بظاہر مسلمان ہونے کی وجہ سے ایمان والے۔ فرمادیا اور معنی یہ ہیں کہ جب تک دل میں کامل یقین پیدا نہ کرو گے اور خالص اللہ کو نہ مانو گے تو خدا کے ہاں مسلمان نہیں ہوسکتے۔ (کذافی المو ضح)10 پہلی کتابوں پر ایمان رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے متعلق یہ عقیدہ رکھا جائے کہ وہ بھی قرآن کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں باقی رہا عمل تو وہ ان پر نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
(4:136) یایھا الذین امنوا امنوا ۔۔ اے ایمان والو صمیم قلب سے اور ثابت قدمی کے ساتھ ایمان لاؤ ۔۔
امنوا۔ ای اثبتوا علی الایمان وداو مرا علیہ۔ ثابت قدم رہو ایمان پر اور اس پر مدمت و اختیار کرو۔ (کشاف)
الکتب۔ پہلی صورت میں الکتاب سے مراد القرآن ہے اور دوسری صورت میں الکتب اسم جنس ہے اور اس سے مراد وہ ساری کتابیں ہیں جو رسول اکرم ﷺ سے قبل نازم ہوئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–139
آیت نمبر 136-139
لغات القرآن : ازدادوا، وہ آگے بڑھ گئے۔ ایبتغون، کیا وہ تلاش کرتے ہیں۔ العزۃ، عزت۔
تشریح : یہاں مومن ، کافر، مرتد اور منافق کا ذکر ہے۔ ایمان وہ ہے جو روح کی گہرائیوں سے ہو، دل کی آوازیں ایک ہی کلمہ پڑھیں، خون کا ہر قطرہ ایک ہی رخ لپکے۔ ایمان وہ ہے جو صرف زبانی اقرار تک محدود نہ ہو بلکہ اعضا وجوارح سے ثابت ہو۔ ایمان صرف زبانی جمع خرچ کا نام نہیں ہے۔ بلکہ ایک چلتی پھرتی تحریکی مشینری کا نام ہے جس کا قبلہ و کعبہ متعین ہے۔
غیر مسلم بھی اللہ کو اور اس کی طاقت اور حکم کو مانتے ہیں جو نظام کائنات چلا رہی ہے ۔ لیکن پیغمبروں کو فرشتوں کو قیامت کو سزا و جزا کو اور اللہ کی کتابوں کو نہیں…
Read the full tafseer →منافقوں کا ذکر
اس آیت کا مطلب یہ ہے، ایمان پر ثابت رہو اے ایمان والو ! یہ خطاب مسلمانوں سے ہوا۔ رسول سے مراد آنحضرت ﷺ اور کتاب سے مراد قرآن پاک ہے۔
شان نزول : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ آیت حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ وغیرہ کے حق میں نازل ہوئی یہ لوگ مومنین اہل کتاب میں سے تھے۔ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ہم آپ پر اور آپ کی کتاب پر اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اور توریت پر اور حضرت عزیر (علیہ السلام) پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے سوا باقی کتابوں اور رسولوں پر ایمان نہ لائیں گے۔ حضرت رسول ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم اللہ پر اور اس کے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ پر اور قرآن پر اور اس سے پہلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–138
[85] یعنی خلوص دل کے ساتھ ایمان لاؤ اور سچے مومن بنو۔
[86] ان میں سے ہر عقیدے پر فرداً فرداً ایمان لانا ضروری ہے اور ان میں سے کسی ایک عقیدے سے بھی انکار دائرہ اسلام سے خارج کردینے کے لئے کافی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–138
دعوت تجدید :
(ف 2) ایمان کے کئی درجے اور مقام ہیں سرسری ایمان یہ ہے کہ اسلامی نظام عقائد وعمل کو مان لیاجائے ، ایثار و خلوص شرط نہیں ، اس حالت میں اس نوع کے لوگ سیاسی اعتبار سے مسلمان ہی شمار کئے جائیں گے ، مگر حقیقی اور واقعی ایمان یہ ہے کہ دلوں میں یقین وثبات کہر با دوڑ جائے اور مسلمان درد و اضطراب کا مرقع بن جائے ، اس کے ہر بن ومو سے اسلامی شان و شوکت کے فوارے پھوٹیں ، اس آیت کا یہی مقصود ہے کہ مسلمانو ! قشر اور چھلکے کو چھوڑ کر حقیقت ومغز کو پہچانو ! اجمال وابہام سے نکل کر تفصیل وتشریح کی روشنی میں اپنے ایمان کا جائزہ لو اور دیکھو کیا واقعی اللہ کی تمام کتابوں پر تمہارا یمان ہے ؟ اور کیا…
Read the full tafseer →ف 1 اے ایمان والو ! اور دعوت حق کو قبول کرنے والو ! تم اللہ تعالیٰ پر یقین لائو اور اس کے رسول محمد ﷺ پر ایمان لائو اور اس کتاب پر یقین لائو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمائی ہے اور ان کتب سماویہ کے حق ہونے پر بھی ایمان لائو جو محمد ﷺ سے پہلے اور نبیوں پر نازل فرمائی تھیں اور دیکھو جس شخص نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا اور جس نے اس کے فرشتوں کا انکار کیا اور جس نے اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا انکار کیا اور اس طرح جس شخص نے روز قیامت کا انکار کیا تو ایسا شخص بلاشبہ ایسی گمراہی میں جا پڑا جو راہ راست سے بہت دور ہے۔
ایمان لانے والو ایمان لائو کا مطلب لوگوں نے کئی طرح بیان کیا ہے…
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی جو مجملا ایمان لاکر زمرہ مومنین میں داخل ہوچکے ہیں۔
Read the full tafseer →مسلمانو ! اللہ پر ایمان لائو۔ اللہ کے رسول پر ایمان لائو۔ اور اس کتاب پر ایمان لائو جو اس :
ان ساری آیات کو بیان کرتے وقت چونکہ شان نزول کے طور پر ہم کو یہ بتایا گیا ہے یہ واقعہ اس طرح ہے کہ ایک مخزومیہ نے چوری کی تھی اس لئے ان لوگوں کو بڑی فکر ہوئی انہوں نے سوچنا شروع کردیا کہ کون شخص ایسا ہو سکتا ہے جو رسول ﷺ سے اس کی سفارش کرے ، پھر فلاں کو مقرر کیا گیا ، اس نے سفارش کی تو آپ ﷺ نے سفارشی کی سفارش قبول نہ کی اور ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ تم نے حدود اللہ میں مداخلت کی کوشش کی وغیرہ وغیرہ تو ان واقعات کو پڑھ کر قرآن کریم کی ان آیات کو انہی گزشتہ واقعات کے ساتھ ہی وابستہ کر کے بیٹھ گئے۔ ہمیں…
Read the full tafseer →Sequence
Discussed upto this point were subsidiary injunctions mostly, alongwith issues relating to faith ('Iman) and disbelief (kufr) appearing as a corollary to dealings with antagonists. Onwards from here, these issues appear in some detail continuing almost close to the end of the Surah. In the sequence of statements, first comes a description of 'Iman (faith) as credible in the sight of the Shari’ ah. After that, various groups of disbelievers have been censured for their beliefs and for some of their deeds also which issue forth from their faulty beliefs.
Read the full tafseer →166. To ask believers to believe might at first seem strange. The fact is, however, that belief as used here has two meanings. First, belief denotes that a man has preferred to acknowledge the soundness of true guidance, to distance himself from the fold of those who disbelieve, and to join the camp of the believers. Second, belief denotes faith, a man's believing in the truth with all his heart, with full earnestness and sincerity. It denotes man's sincere determination to mould his way of thinking, his taste and temperament, his likes and dislikes, his conduct and character, his friendship…
Read the full tafseer →