انصاف اور سچی گواہی تقوے کی روح ہے
اللہ تعالیٰ ایمانداری کو حکم دیتا ہے کہ وہ عدل و انصاف پر مضبوطی سے جمے رہیں اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ سرکیں، ایسا نہ ہو کہ ڈر کی وجہ سے یا کسی لالچ کی بنا پر یا کسی خوشامد میں یا کسی پر رحم کھا کر یا کسی سفارش سے عدل و انصاف چھوڑ بیٹھیں۔ سب مل کر عدل کو قائم و جاری کریں ایک دوسری کی اس معاملہ میں مدد کریں اور اللہ کی مخلوق میں عدالت کے سکے جما دیں۔ اللہ کے لئے گواہ بن جائیں جیسے اور جگہ ہے (وَاَقِيْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ) 65۔ الطلاق :2) یعنی گواہیاں اللہ کی رضا جوئی کے لئے دو جو بالکل صحیح صاف سچی اور بےلاگ ہوں۔ انہیں بدبو نہیں، چھپاؤ نہیں، چبا کر نہ…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 164
یہ فرمانے پر اکتفا نہیں کیا کہ انصاف کی روش پر چلو، بلکہ یہ فرمایا کہ انصاف کے علمبردار بنو۔ تمہارا کام صرف انصاف کرنا ہی نہیں ہے بلکہ انصاف کا جھنڈا لے کر اٹھنا ہے۔ تمہیں اس بات پر کمر بستہ ہونا چاہیے کہ ظلم مٹے اور اس کی جگہ عدل و راستی قائم ہو۔ عدل کو اپنے قیام کے لیے جس سہارے کی ضرورت ہے، مومن ہونے کی حیثیت سے تمہارا مقام یہ ہے کہ وہ سہارا تم بنو۔
سورة النِّسَآء 165
یعنی تمہاری گواہی محض خدا کے لیے ہونی چاہیے، کسی کی رو رعایت اس میں نہ ہو، کوئی ذاتی مفاد یا خدا کے سوا کسی کی خوشنودی تمہارے مد نظر نہ ہو۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو (تمام معاملات میں ادائے حق کے وقت بھی اور فیصلہ کے وقت بھی) انصاف پر خوب قائم رہنے والے (اور اقرار یا شہادت کی نوبت آوے تو) اللہ (کی خوشنودی کے لئے (سچی) گواہی (اور اظہار) دینے والے رہو، اگرچہ (وہ گواہی اور اظہار) اپنی ہی ذات کے خلاف ہو، (جس کو اقرار کہتے ہیں) یا کہ والدین اور دوسرے رشتہ داروں کے مقابلہ میں ہو (اور گواہی کے وقت یہ خیال نہ کرو کہ جس کے مقابل ہمیں ہم گواہی دے رہے ہیں یہ امیر ہے اس کو نفع پہنچنا چاہئے تاکہ اس سے بےمروتی نہ ہو، یا یہ کہ یہ غریب ہے، اس کا کیسے نقصان کردیں، تم گواہی دینے میں کسی کی امیری غریبی یا نفع و نقصان کو نہ دیکھو، کیونکہ) وہ شخص (جس…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 135 تا 152:۔ آگے پہلے مسلمانوں کو اس فریضہ منصبی کی یاد دہانی فرمائی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو اہل کتاب کو معزول کرکے، مامور فرمایا ہے، پھر منافقین کے خطرات سے ان کو ہوشیار بھی کیا ہے اور منافقین کو تنبیہ بھی کی ہے۔ نظم کلام بالکل واضح ہے۔ آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے :
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاۗءَ لِلّٰهِ وَلَوْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ ۚ اِنْ يَّكُنْ غَنِيًّا اَوْ فَقِيْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا ۣ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰٓى اَنْ تَعْدِلُوْا ۚ وَاِنْ تَلْوٗٓا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ…
Read the full tafseer →135۔ 1 اس میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو عدل و انصاف قائم کرنے اور حق کے مطابق گواہی دینے کی تاکید فرما رہا ہے چاہے اس کی وجہ سے انہیں یا ان کے والدین اور رشتہ داروں کو نقصان ہی اٹھانا پڑے۔ اس لئے کہ حق سب پر حاکم ہے اور سب پر مقدم ہے۔
135۔ 2 یعنی کسی مالدار کی وجہ سے رعایت نہ کی جائے نہ کسی فقیر کے فقر کا اندیشہ تمہیں سچی بات کہنے سے روکے بلکہ اللہ ان دونوں سے تمہارے زیادہ قریب اور مقدم ہے۔
135۔ 3 یعنی خواہش نفس، عصبیت یا بغض تمہیں انصاف کرنے سے نہ روک دے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا) 5:8 ' تمہیں کسی قوم کی دشمنی اس بات پر آمادہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–136
81: اس آیت میں یہ عمومی ہدایت دی گئی ہے کہ ایک مسلمان کو صرف دنیوی فائدوں ہی کی فکر میں نہیں پڑا رہنا چاہیے ؛ بلکہ اللہ سے دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگنی چاہیے اور پچھلی آیتوں سے اس کا تعلق بظاہر یہ ہے کہ میاں بیوی کو مصالحت یا علیحدگی کا فیصلہ کرتے وقت صرف دنیا کے فائدوں پر نظر نہیں رکھنی چاہیے ؛ بلکہ آخرت کی بھلائی بھی پیش نظر رکھنی چاہیے ؛ لہذا اگر مرد یا عورت اپنے کچھ دنیوی مفادات کی قربانی دے کر دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے تو آخرت میں بڑے ثواب کی امید ہے۔
Read the full tafseer →درس نمبر 24 ایک نظر میں :
یہ سبق بھی امت مسلمہ کے لئے دست قدرت کی تربیت کا ایک نمونہ ہے جس کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ یہ ایک اچھی امت ہے اور جسے لوگوں کے لئے نکالا گیا ہے ۔ یہ سبق بھی اس اسلامی نظام زندگی کی ایک اہم کڑی ہے جو نہایت ہی مستحکم نظام ہے ۔ جس کے مقاصد اور اہداف متعین ہیں اور یہ نظام نفس انسانی کی بہتری کے لئے نازل کیا گیا ہے ۔ اس کے ذریعے نفس انسانی کا اس طرح علاج کیا گیا ہے کہ جس دست قدرت نے ذات انسان کو بنایا ہے ‘ وہی اس کی کمزوریوں کا علاج بھی کر رہا ہے ۔ یہ علاج اس لئے کامیاب ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی اس ممتاز مخلوق اور صنعت کے پرزے پرزے سے واقف ہے ‘ یہ اس کی…
Read the full tafseer →5 یعنی گواہی سچی اور اللہ کے حکم کے موافق دینی چاہیے اگرچہ اس میں تمہارا یا تمہارے کسی عزیز قریب کا نقصان ہوتا ہو جو حق ہو اس کو صاف ظاہر کردینا چاہیے دنیاوی نفع کے لئے آخرت کا نقصان نہ لو۔
6 یعنی سچی گواہی دینے میں اپنی کسی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو کہ مالدار کی رعایت کر کے یا محتاج پر ترس کھا کر سچ کو چھوڑ بیٹھو جو حق ہو سو کہو۔ اللہ تعالیٰ تم سے زیادہ ان کا خیر خواہ اور ان کے مصالح سے واقف ہے اور اس کے یہاں کس چیز کی کمی ہے۔
7 زبان ملنا یہ کہ سچی بات تو کہی مگر زبان داب کر اور پیچ سے کہ سننے والے کو شبہ پڑجائے یعنی صاف صاف سچ نہ بولا اور بچا جانا یہ کہ پوری بات نہ کہی بلکہ کچھ بات کام…
Read the full tafseer →آیت 135 یٰٓایُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بالْقِسْطِ شُہَدَآءَ لِلّٰہِ
یہ آیت قرآن کریم کی عظیم ترین آیات میں سے ہے۔ سورة آل عمران آیت 18 میں ہم پڑھ آئے ہیں : شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ الاَّ ہُوَلا والْمَلآءِکَۃُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَآءِمًا م بالْقِسْطِ ط اللہ گواہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘ اور سارے فرشتے اور اہل علم بھی اس پر گواہ ہیں ‘ وہ عدل کا قائم کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس زمین پر عدل قائم کرنا چاہتا ہے ‘ اس کے لیے وہ اپنے دین کا غلبہ چاہتا ہے ‘ اور اس عظیم کام کے لیے اس کے کارندے اور سپاہی اہل ایمان ہی ہیں۔ انہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اس دنیا میں…
Read the full tafseer →178 انصاف کی گواہی کا تاکیدی حکم :۔ اپنے خلاف گواہی دینے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے جرم کا برملا اعتراف کرلے خواہ اس کا کتنا ہی نقصان برداشت کرنا پڑے اور یہ بڑا حوصلے اور اجر وثواب کا کام ہے۔ اپنے بعد سب سے قریبی والدین ہوتے ہیں پھر اس کے بعد دوسرے قرابت دار۔ اور ظاہر ہے کہ جو شخص اپنے خلاف گواہی دینے کی جرأت کرسکتا ہے وہ والدین اوراقرباء کے خلاف بدرجہ اولیٰ ایسی جرات کرسکے گا۔ اپنے خلاف گواہی دینے اور حق کی بات صاف صاف کہہ دینے سے بسا اوقات مخالف فریق پر بہت خوشگوار اثر پڑتا ہے اور اس کا دل از خود نرمی کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔
179 دولت مند کے حق میں غلط گواہی اس لیے دی جاتی ہے کہ اس طرح گواہی دینے…
Read the full tafseer →355 ۔ (اپنے تمام معاملات میں) احکام کی تعمیل میں اور زندگی کے مختلف معاملات میں بار بار ترغیب راہ حق ودیانت سے ہٹنے کی ہوتی رہتی ہے اور کہیں اپنے ذاتی نقصان کے خیال سے، کہیں بزرگوں، عزیزوں کی مروت اور خاطر سے قدم کو بار بار لغزش ہونے لگتی ہے۔ یہاں تاکید ہے کہ ایسے تمام موقعوں پر حق ودیانت پر قائم رہو۔ (آیت) ” شھدآء للہ “۔ اس کے ایک معنی تو یہی ہیں کہ گواہی سے مقصود اللہ رضاجوئی ہے۔ ای تقیمون الشھادات لوجہ اللہ (بیضاوی) ای لا یراعی فی الشھادۃ الا جھۃ اللہ (بحر) لذات اللہ ولو جھہ ولمرضاتہ وثوابہ (قرطبی) اور دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ” اللہ کے گواہ بن جاؤ “۔ یعنی تمہاری شہادت شہادت الہی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–136
آیت نمبر 135 تا 141
ترجمہ : اے ایمان والو ! انصاف پر خوب قائم رہنے والے اور اللہ کے لئے حق کی گواہی دینے والے رہو چاہے وہ شہادت خود تمہارے خلاف ہی ہو تو اپنے خلاف گواہی دو بایں طور کہ حق کا اقرار کرو اور اس کو چھپاؤ نہیں یا تمہارے والدین کے اور عزیزوں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، مشہور علیہ مالدار ہو یا مفلس اللہ ان دونوں سے تمہاری بہ نسبت قریب ہے اور ان دونوں کی مصلحتوں سے واقف ہے، اپنی شہادت نفس کی پیروی نہ کرو بایں طور کہ مالدار کی اس کی رضا جوئی کے لئے رعایت کرو یا فقیر پر رحم کے طور پر اس کی رعایت کرو بایں طور کہ حق سے ہٹ جاؤ، اور یہ کہ شہادت میں تحریف کرو، اور ایک قراءت میں تخفیفاً اول کے حذف…
Read the full tafseer →یایہا الذین امنوا کونوا قوامین بالقسط . اے ایمان والو ! انصاف پر خوب قائم رہنے والے ہوجاؤ یعنی انصاف قائم کرنے میں انتہائی کوشش کرو اور ہمیشہ انصاف کرنے پر پابند رہو لہٰذا قاضی پر واجب ہے کہ مدعی اور مدعی علیہ دونوں سے مساویانہ سلوک کرے بیٹھنے اور کسی کی طرف متوجہ ہونے میں امتیاز سے کام نہ لے حضرت ام سلمہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص قاضی ہونے کی مصیبت میں مبتلا کردیا جائے تو فریقین کی نشست اشارہ اور نظر میں مساوات رکھے کسی ایک پر دوسرے سے زیادہ نہ چیخے (یعنی لب و لہجہ اور آواز میں بھی دونوں کے ساتھ مساوی سلوک کرے) رواہ اسحاق بن راہویہ فی المسند والدارقطنی۔
شہدآء للہ . اللہ…
Read the full tafseer →(135) گواہی دینے میں عدل و انصاف پر خوب قائم رہو اور تم شہادت میں حق سے مت ہٹنا اور اگر تم کج روی اور حکام کے سامنے گواہی دینے سے احتراز کرو گے تو اللہ تعالیٰ شہادت کے چھپانے کے گناہ اور اس کے اظہار کی نیکی سے باخبر ہے۔ (گواہی کو چھپانا اسلام میں غیر پسندیدہ ہے۔ (آیت) ”ولا تکتموا الشھادۃ ومن یکتمھا فانہ اثم قلبہ“۔ (اور تم گواہی کو مت چھپاؤ جو گواہی چھپاتا ہے اس کا دل گناہگار ہے۔ (البقرۃ) (مترجم)
یہ آیت معتیس بن حبابہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، ان کے پاس ان کے والد کے خلاف گواہی تھی، یعنی جو عہد میثاق میں ایمان لائے تھے اور اس کے بعد کفر اختیار کرلیا آج کے دن ایمان لے آؤ یا یہ کہ ان کے آباء…
Read the full tafseer →كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بالْقِسْطِ۔۔ : یعنی انصاف پر پوری طرح قائم رہ کر اللہ کے لیے گواہی دو ، چاہے وہ تمہارے خلاف ہی پڑے، یا والدین یا قرابت داروں کے اور اس میں تمہارا ذاتی نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ (ابن کثیر)
2 اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اولاد کی شہادت ماں باپ کے خلاف قبول ہوگی اور یہ ان کے ساتھ ”بر“ یعنی احسان کے منافی نہیں ہے۔ والدین اور بھائی کی شہادت بھی سلف کے نزدیک مقبول ہے، مگر یہ اسی صورت میں ہے کہ جب وہ عادل ہوں اور ان پر تہمت نہ ہو۔ اسی تہمت کے پیش نظر بعض ائمہ نے میاں بیوی کی ایک دوسرے کے حق میں شہادت کو جائز رکھا ہے اور بعض نے رد کیا ہے۔ (قرطبی)
اِنْ يَّكُنْ غَنِيًّا اَوْ فَقِيْرًا۔۔ :…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 135۔
اس میں دس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” کونوا قومین “۔ مبالغہ کا صیغہ ذکر فرمایا یعنی تمہاری طرف سے عدل کا قیام بار بار ہو اور وہ تمہاری شہادت میں عدل ہے خواہ وہ تمہارے اپنے خلاف ہو، اور انسان کا اپنے خلاف گواہی دینے کا مطلب ہے اپنے اوپر حقوق کا اقرار کرنا ہے پھر والدین کا ذکر فرمایا، کیونکہ ان کے ساتھ نیکی کرنا واجب ہے اور ان کی قدر بہت عظیم ہے پھر قریبی رشتہ داروں کا ذکر فرمایا : کیونکہ وہ مودت اور تعصب کی جگہ ہیں، اجنبی شخص تو زیادہ اس بات کا لائق ہے کی اس پر انصاف کو قائم کیا جائے اور اس کے خلاف سچی گواہی دی جائے، اسی سورت میں مخلوق کے حقوق…
Read the full tafseer →(1) ابن المنذر و ابن ابی حاتم و البیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا کونوا قومین “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کو حکم فرمایا کہ وہ حق بات کہیں اگرچہ وہ ان کے اپنے آباء یا ان کے اپنے بیٹوں کے خلاف ہو وہ مالدار سے اس کی مالداری کی وجہ سے نہ ڈریں اور نہ ہی مسکین پر اس کی مسکینی کی وجہ سے رحم کریں اور فرمایا لفظ آیت ” فلاتتبعوا الھوی “ یعنی خواہشات کی تابعداری نہ کرو کہ حق کو چھوڑ بیٹھو اور ظلم کرنے لگو اور فرمایا ” وان تلوا “ یعنی اپنی زبانوں کو دہرانہ کرو گواہی دیتے وقت یا اعراض نہ کرو گواہی دینے سے۔
(2) ابن ابی شیبہ و احمد فی الزھد وابن جریر وابن جریر وابن…
Read the full tafseer →[ یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ہو ] [ کُوْنُوْا : تم ہو جائو ] [ قَوّٰمِیْنَ : بہت زیادہ نگرانی کرنے والے ] [ بِالْقِسْطِ : انصاف کی ] [ شُہَدَآئَ : (اور) گواہی دینے والے ] [ لِلّٰہِ : اللہ کے لیے ] [ وَلَــوْ : اور اگرچہ (وہ پڑے) ] [ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ : تمہارے اپنے آپ پر ] [ اَوِالْوَالِدَیْنِ : یا والدین پر ] [ وَالْاَقْرَبِیْنَ : اور قرابت داروں پر ] [ اِنْ یَّــکُنْ : اگر وہ ہوں ] [ غَنِیًّا : مالدار ] [ اَوْ فَقِیْرًا : یا محتاج ] [ فَاللّٰہُ : تو اللہ ] [ اَوْلٰی : زیادہ حمایتی ہے ] [ بِہِمَا : ان دونوں کا ] [ فَلاَ تَتَّبِعُوا : پس تم پیروی مت…
Read the full tafseer →سچی گواہی دینے اور انصاف پر قائم رہنے کا حکم
لباب النقول صفحہ 58 میں اس آیت کا سبب نزول بتاتے ہوئے بحوالہ ابن ابی حاتم مفسر سدی سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ دو شخصوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اپنا مقدمہ پیش کیا ان میں ایک غنی تھا اور ایک فقیر تھا۔ آپ کا رجحان فقیر کی طرف ہوا کیونکہ خیال مبارک میں یہ آیا کہ فقیر غنی پر کیا ظلم کرے گا۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ انصاف کو قائم رکھا جائے۔
اصل چیز انصاف ہے وہی مطلوب ہے کسی کی بھی طرفداری کرنے سے انصاف باقی نہیں رہتا انصاف کرنے کے جو اصول ہیں یعنی گواہی اور قسم اسی کے مطابق فیصلے کیے جائیں البتہ گواہ سچے ہوں اس لیے جہاں یہ…
Read the full tafseer →حکم بست ونہم اقامت عدل واداء شہادت حق۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنو کو نو اقوامین۔۔۔ الی۔۔۔ خبیرا۔
ربط) اتبداء سورت میں اللہ نے عورتوں اور یتیموں کے حقوق کے بارے میں عدل اور انصاف کا حکم دیا پھر انا انزلنا الیک الکتاب بالحق لتحکم بین الناس بما اراک اللہ کی تفسیر میں طعمہ بن ابیرق منافق کا قصہ مذکور ہوا جو جھوٹی شہادت اور اہل خیانت کی حمایت سے متعلق تھا پھر ویستفوتک فی النساء کے ذیل میں وان تقوموا للیتامی بالقسط میں قیام عدل و انصاف کا حکم ہوا اب ان احکام مختلفہ کے بعد آیات ذیل میں حکام کو تو یہ حکم دیا جتا ہے کہ تم مقدمات کا فیصلہ انتہائی عدل و انصاف کے ساتھ کرو فیصلہ میں ذرہ برابر کسی کی…
Read the full tafseer →90 تنویر ثالث یہ نویں حکم سلطانی پر تنویر ہے وَلَوْ عَلیٰ اَنْفُسِکُمْ اصل میں تھا و لو کانت الشھادۃ علی انفسکم (مدارک ج 1 ص 199) یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ کسی غریب آدمی کو فائدہ پہنچانے کے لیے یا ماں باپ کی رعایت کی خاطر یا کسی بڑے آدمی کی اصلاح کی خاطر شاید گواہی میں کمی بیشی جائز ہوگی تو فرمایا کہ یہ ہرگز جائز نہیں بلکہ شہادت میں کسی کی رو رعایت مت کرو اور ہمیشہ گواہی پوری پوری ادا کرو۔ نویں حکم سلطانی سے یہ مفہوم ہوتا تھا کہ گواہی ہمیشہ سچی اور صحیح دینی چاہئے۔ اس پر فرمایا اِنْ یَّکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْراً الخ یعنی اگر کوئی غنی ہے یا فقیر تو تم ان کا معاملہ خدا کے سپرد کردو وہ ان کے حال کو…
Read the full tafseer →ربط آیات
گزشتہ آیات میں میاں بیوی کے درمیان تنازعہ کا ذکر تھا اور اس ضمن میں انصاف کو ملحوظ رکھتے ہوئے صلح کرنے کی ترغیب دی گئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا تھا ، پھر فرمایا کہ اگر زوجین کے درمیان علیحدگی کی نوبت آجائے تو بھی رنجیدہ خاطر نہیں ہونا چاہئے ، اللہ تعالیٰ ان میں سے ہر ایک کی کفایت کریگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تقویٰ اختیار کرنے کا حکم تم سے پہلے لوگوں کو بھی دیا گیا تھا اور تمہیں بھی یہی حکم دیا جو رہا ہے۔ دراصل تقویٰ ہی مدار فلاح ہے۔ اب آج کی آیت میں انصاف ہی سے متعلق شہادت کا مسئلہ بیان فرمایا گیا ہے اور عدل و انصاف کے قیام کے لیے ٹھیک ٹھیک گواہی دینے کی…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَاۗءَ لِلہِ وَلَوْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ 0ۚ اِنْ يَّكُنْ غَنِيًّا اَوْ فَقِيْرًا فَاللہُ اَوْلٰى بِہِمَا 0ۣ فَلَا تَتَّبِعُوا الْہَوٰٓى اَنْ تَعْدِلُوْا 0ۚ وَاِنْ تَلْوٗٓا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللہَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا 135
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–137
ترکیب : قوامین ای قائمین خبر اول کونوا بالقسط خبر سے متعلق شہداء للّٰہ خبر ثانی ولو علی متعلق ہے فعل محذوف سے ای ولوکانت الشہادۃ علی انفسکم ان یکن اس کا اسم محذوف ہے اے المشہود علیہ غنیا او فقیرا جملہ شرط فاللّٰہ اولی بہما جواب ان تعدلوا مفعول لہ تقدیرہ مخافۃ ان تعدلوا عن الحق اور ممکن ہے کہ فی مقدور ہو ‘ ای فی العدل وان مصدریہ ہو۔
تفسیر : اس آیت سے پیشتر بہت سے احکام شریعت مذکور ہوئے تھے اور درمیان میں ان احکام پر عمل کرنے کی نئی نئی خوبیوں سے تاکید بھی تھی مگر یہاں دو باتیں بعد میں ایسی ذکر کیں جو شریعت پر چلنے والے کے لئے بمنزلہ دو آنکھوں کے ہیں یا بمنزلہ دو پائوں کے ہیں کہ ان کے بغیر…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَآئَ لِلّٰہِ وَ لَوْعَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَوِالْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ ج اِنْ یُّـکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰہُ اَوْلٰی بِہِمَا قف فَلَا تَتَّبِعُوا الْہَوٰٓی اَنْ تَعْدِلُوْا ج وَاِنْ تَلْوٗٓااَوْتُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا
” اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے بنو اللہ کے لیے اس کی شہادت دیتے ہوئے اگرچہ یہ شہادت تمہارے اپنے نفسوں کے خلاف ہو یا تمہارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہو۔ کوئی امیر ہو یا غریب اللہ ہی دونوں کا سب سے زیادہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ فرمان سے اس کا تعلق معنوی ہے کہ گھر سے لے کر عدالت تک انصاف پر قائم رہنا چاہیے۔
بنیادی طور پر امت مسلمہ فریضۂ شہادت کی ادائیگی کے لیے منتخب کی گئی ہے تاکہ دنیا میں اپنے قول اور فعل کے ساتھ حق کے ترجمان اور توحید کی گواہی دیتے رہیں۔ آخرت میں پہلی امتوں کے بارے میں انبیاء کی تائید اور ان کی نبوت کی شہادت دیں گے۔ جسے قرآن مجید اور رسول محترم ﷺ نے یوں بیان فرمایا ہے :
(لِتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ ) [ البقرۃ : 143]
” تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجاؤ۔ “
(أَنْتُمْ شُھَدَآءُ لِلّٰہِ فِی الْأَرْضِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب ثناء الناس علی المیت ]
” مسلمانو !…
Read the full tafseer →آیت 135 :
یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا کُوْنُوْا قَوَّا ِمیْنَ بِالْقِسْطِ (اے ایمان والو ! انصاف پر خوب قائم رہنے والے ہوجائو) یعنی اقامت عدل میں خوب کوشش کرو یہاں تک کہ ظلم نہ کرو۔ شُہَدَآئَ لِلّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے لئے گواہی دینے والے) یعنی تم اپنی گواہی خالص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لئے دو ۔
نحو : قوامین خبرا ول اور شہداء خبر ثانی ہے۔
اقرار شہادت علی النفس :
وَلَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ (اگرچہ وہ گواہی اپنے نفسوں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو) شہادت علی نفسہ کا مطلب یہ ہے کہ اپنے نفس کے خلاف اقرار کیونکہ یہ بھی شہادت ہے۔ کیونکہ حق کو اپنے اوپر اس نے لازم کیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دعویٰ ٗ…
Read the full tafseer →135۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا کونوا قوامین بالقسط شھداء للہ “۔ یعنی گواہوں کے ذریعے انصاف والا فیصلہ کرنے والے بن جاؤ ، یعنی اللہ کے لیے عدل کرو۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ تم عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے والے بن جاؤ جس کے بارے میں شہادت دی جا رہی ہے ۔ (آیت)” ولو علی انفسکم او الوالدین والاقربین “۔ یعنی ذی رحم کے لیے بھی انصاف کرو ۔ مطلب یہ ہے کہ حق بات کرو اگرچہ تمہیں اپنے اپنے بارے میں حق کے مطابق فیصلہ کرنا پڑجائے یا اپنے والدین کے بارے میں یا قریبی رشتہ داروں کے بارے میں ان پر بھی اللہ کا فیصلہ قائم کرو کسی غنی کے غناہ سے رعب میں نہ آؤ اور نہ ہی کسی فقیر کے فقر کی وجہ سے اس…
Read the full tafseer →اوپر طعمہ کے قصہ میں گزرا کہ طعمہ کی قوم کے لوگوں نے ہم قومی کی رعایت سے جھوٹی گواہی دی۔ اب ان آیتوں میں سچی گواہی ادا کرنے کی تاکید فرمائی تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر سدی وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیشی میں ایک مال دار شخص اور ایک محتاج شخص کا جھگڑا پیش ہوا۔ آنحضرت ﷺ کے دل میں یہ خیال گزرا کہ مال دار شخص نے محتاج شخص پر زیادوتی کی ہوگی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2۔ اس شان نزول کی بنا پر یہ آیت حاکم اور گواہ دونوں کے حکم کو شامل ہے حاکم کو تو یہ حکم ہے کہ فریقین کا بیان سننے سے پہلے کوئی رائے دل میں نہ قائم کرے اس باب میں صریح حدیث بھی حضرت علی ؓ…
Read the full tafseer →آیت 135
اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ انصاف پر قائم رہیں اور اللہ تعالیٰ کے لئے گواہی دینے والے بن جائیں۔ (القوام) مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی اپنے تمام احوال میں عدل پر قائم رہو (قسط) سے مراد حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں عدل و انصاف ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے حقوق میں انصاف یہ ہے کہ اس کی نعمتوں کو اس کی نافرمانی میں استعمال نہ کیا جائے، بلکہ ان کو اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں صرف کیا جائے اور حقوق العباد میں عدل و انصاف یہ ہے کہ بندوں کے وہ تمام حقوق ادا کئے جائیں جو تجھ پر اسی طرح واجب ہیں جس طرح تیرے حقوق ان پر واجب ہیں اور تو اپنے حقوق کا مطالبہ کرتا ہے پس تو نفقات…
Read the full tafseer →حاکم پر واجب ہے کہ وہ مقدمے کے فریقین کے درمیان انصاف کرے
قول باری ہے یایھا الذین امنواکونواقوامین باقسط شھداء للہ ولوعلی انفسکم والوالدین ولاقربین۔ اے ایمان لانے والو ! انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو) تا آخر آیت۔ قابوس نے ابوظبیان سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ قول باری یایھا الذین امنواکونواقرامین بالقسط شھداء للہ۔ کا یہ مفہومہ ہے کہ دو شخص جو کسی معاملہ میں فریقین ہوں اور قاضی کی عدالت میں موجود ہوں۔ قاضی ایک کے ساتھ نہ…
Read the full tafseer →344 عدل و انصاف کو قائم کرنے کا حکم و ارشاد : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ انصاف قائم کرنے والے بن جاؤ۔ کہ اسی پر تمہاری دارین کی فلاح موقوف ہے اور یہی تمہارے ایمان کا تقاضا ہے کہ مومن کے ایمان کا تقاضا اور حاصل یہی ہے کہ وہ عدل و انصاف کے قائم کرنے والا بنے۔ کہ عدل و انصاف کے قیام ہی پر آسمان اور زمین کا سارا نظام قائم و موقوف ہے اور اب چونکہ عدل و انصاف کی میزان وہ کتاب حکیم ہے جسکو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے اپنی آخری اور کامل کتاب کی صورت میں قیامت تک کی سب دنیا کی ہدایت و راہنمائی کے لیے اتارا ہے۔ اس کے بغیر عدل و انصاف کا قیام ممکن ہی نہیں۔ اس لیے تمہارا ہر قول و…
Read the full tafseer →سچی گواہی
تشریح : اس آیت میں ایک بہت بڑے اور نازک معاملہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ جیسا کہ پہلے حکم دیا گیا کہ صرف اللہ سے ڈرو تو یہاں کہا جارہا ہے کہ اگر کہیں تمہیں گواہی دینی پڑے تو گواہی سچی دو چاہے اس سے خود تمہیں تمہارے ماں باپ، عزیز، رشتہ دار ہی اس گواہی کی لپیٹ میں آجائیں اس بات کی پرواہ نہ کرو اور سچی گواہی دو ۔ اسی طرح جس کے لیے گواہی دینی ہے وہ غریب ہے یا امیر اس کی بھی پرواہ نہ کرو کہ بیچارہ غریب ہے یا امیر سے ڈر کر غلط گواہی دے دو ۔ ہرگز یہ مت سوچو کہ غلط گواہی دے کر تم کسی کو مصیبت سے بچا لو گے مصیبت سے بچانا یا مشکل کو آسان کرنا یہ سب تو اللہ رب کریم کے ہی اختیار میں ہے۔ تم جھوٹی گواہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–141
رکوع نمبر 20 آیات 135 تا 141: اسرار و معارف
یا ایہا الذین آمنوا۔ ۔۔۔ سبیلا۔۔
قیام امن کی تدبیر اور شہادت کی اہمیت :
جب بات حقوق کی ہے تو ذاتی طور پر ہو یا خانگی طور پر برادری اور قبیلے کی سطح پر ہو یا قوم و ملک کی سطح پر حقدار تک اس کے حقوق پہنچانے کے لیے امن شرط ہے بدا منی میں یہ سب کام ممکن ہی نہیں اور قیام امن کے لیے انصاف ضروری ٹھہرا۔ اگر انصاف نہیں ہوگا تو مظلوم بھی اپنا غبار کسی نہ کسی راستے نکالیں گے جو یقینا درست راستہ نہ ہوگا جس کے نتیجے میں بدامنی بھی ہوگی اور حقوق بھی مارے جائیں گے اب انصاف کی بنیاد شہادت پر ہے کہ گواہ حق اور کھری بات بیان کردے۔ اور یہ قیام امن اور حقوق کی حفاظت…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی سچی شہادت دو چا ہے وہ تمہارے خلاف ہی پڑے اور اس میں پڑے اور اس میں تمہارا ذاتی نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ (ابن کثیر)6 اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اولاد کی شہادت ماں باپ کے خلاف قبول ہوگی اور یہ ان کے ساتھ بر یعنی احسان کے منافی نہیں ہے۔ والدیں اوبھائی کی شہادت بھی سلف کے نزدیک مقبول ہے۔ مگر یہ اسی صورت میں ہے جب وہ عدل ہوں اور ان پر تہمت نہ ہو۔ اسی تہمت کے پیش نظر بعض ائمہ نے میاں بیوی کی ایک دوسرے کے حق میں میں شہادت کو جائز رکھا ہے اور بعض نے ود کیا ہے۔ ( قرطبی) یعنی جس کے خلاف تمہاری گواہی پڑرہی ہے وہ دولتمند ہے تب اور غیر یب سے تب کسی حال میں اللہ کی شریعت سے زہادہ تمہاری طرف داری کا…
Read the full tafseer →(4:135) قوامین جمع قوام واحد ۔ اگرچہ مبالغہ کا صیغہ ہے لیکن اسم فاعل کے معنی ہیں۔ انصاف کے لئے کھڑے ہونے والے۔
القسط۔ اسم مصدر۔ انصاف۔ یہ ظلم اور جور کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اگر باب ضرب (قسط یقسط قسطا وقسوطا) سے آئے تو معنی ہوتے ہیں حق سے تجاوز کرنا۔ حق کے خلاف کرنا۔ صفت قاسط سے جس کی جمع قاسطون وقساط ہے اگر باب افعال سے آئے تو بمعنی انصاف کرنا۔ عدل کرنا کے ہیں۔
پہلی مثال : واما القاسطون فکانوا لجھنم حطبا (72:15) اور جو دوسروں کا حق مار دینے والے ہیں۔ وہ دوزخ کا ایندھن بنے۔ یہاں مراد راہ حق سے مڑجانے والے بھی ہیں۔
دوسری مثال واقسطوا ان اللہ یحب المقسطین (49:9) اور انصاف سے کام…
Read the full tafseer →آیت نمبر 135
لغات القرآن : قوامین، قائم رہنے والے، ذمہ دار۔ اولیٰ ، مہربان ، خیر خواہ۔ الھوی، خواہش۔ تلو، تم نے ہیر پھیر کی، زبان کو موڑا۔
تشریح : سورة نساء کی ان آیات کا مقصد یہ ہے کہ پہلے مسلمان تو اس حکم پر عمل کرکے دکھائیں ۔ پھر تمام دنیا کے سامنے اس اصول کو پیش کریں۔ پہلا مطالبہ یہی ہے کہ ہر شخص اپنی اپنی جگہ انصاف سے کام لے، ظلم نہ کرے، کسی کا حق نہ مارے۔ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ ملک میں انصاف کی مشینری قائم کرو۔ اور اس مشینری کی ہر طرح مدد کرو۔ مدد کی خاص شکل یہ ہے کہ جب تم گواہ بنو تو لگی لپٹی مت کہو، چند اہم پہلو چھپا کر چند دیگر پہلو پیش کرکے اجمالی تصویر کا حلیہ میت بگاڑو۔ عدالت کو…
Read the full tafseer →شان نزول : ان آیتوں میں سچی گواہی کرنے کی تاکید فرمائی اور یہ آیت حاکم اور گواہ دونوں کے حکم میں شامل ہے۔ حاکم کو یہ حکم ہے کہ فریقین کا بیان سننے سے پہلے کوئی رائے دل میں قائم نہ کرے۔ گواہوں کو آیت میں یہ حکم ہے کہ ان کا اپنا ذاتی یا ان کے کسی رشتہ دار کا نقصان بھی سچی گواہی کے ادا کرنے میں ہوتا ہے، تو اس میں کچھ پس وپیش نہ کریں اور گواہی صاف لفظوں میں ادا کریں۔ نہ مالدار آدمی کا کچھ پاس کریں نہ محتاج آدمی پر ترس کھاویں۔ کیونکہ مالدار اور محتاج ہر ایک شخص کی مصلحت اللہ کو خوب معلوم ہے، خواہش نفسانی کو دخل دے کر ایسی دوزخی بات دبی زبان سے نہ کہیں جس سے سچی گواہی میں بل پڑ کر حاکم کو شبہ…
Read the full tafseer →[84] یعنی فریق معاملہ اگر امیر ہے تو اس کا دباؤ یا لحاظ اور اگر غریب ہے تو اس کے ساتھ جذبہ ہمدردی سچی گواہی دینے میں مانع نہ ہو۔
Read the full tafseer →(ف 1) ان آیات میں مسلمان کو ہر حالت میں منصف و عادل رہنے کی تلقین کی ہے ۔
یہ بالکل آسان ہے کہ ہم دوسروں کے معاملات میں حکیم بن جائیں اور عدل و انصاف کے تقاضوں سے ان کا ناک میں دم کردیں مشکل یہ ہے کہ جب سچ بولنے سے اپنے نفس پر زد پڑتی ہو اور اپنے اعزا و اقرباء مصائب سے دو چار ہوتے نظر آتے ہوں ‘ اس وقت عادل رہیں اور سچی شہادت دیں ۔
قرآن حکیم نے مسلمان کا جو تخیل پیش کیا ہے ‘ وہ اتنا پاکیزہ اور بلند ہے کہ بےاختیار بلائیں لینے کو جی چاہتا ہے ۔
یعنی قوام بالقسل پیکر عدل و انصاف ، سچائی کے لئے اپنے آپ کو خطرات میں ڈالنے والا ۔
Read the full tafseer →ف 2 اے ایمان والو ! تم تمام معاملات میں پوری مضبوطی کے ساتھ انصاف پر قائم رہنے والے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے سچی گواہی دینے والے رہو یہ سچی گواہی خواہ تمہارے اپنے حق میں یا تمہارے ماں باپ کے حق میں یا تمہارے دوسرے قرابت داروں کے حق میں مضر ہی کیوں نہ ہوتی ہو اور خلاف ہی کیوں نہ ہو یعنی اس گواہی سے خواہ کسی کو بھی نقصان پہنچتا ہو اور گواہی کے وقت اس کا بھی خیال نہ کرو کہ فریق معاملہ کون ہے وہ فریق معاملہ کوئی مالدار ہے تب اور کوئی مفلس و نادار ہے تب بہرحال اللہ تعالیٰ ان دونوں کا تم سے زیادہ خیر خواہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا تعلق ان دونوں کے ساتھ تم سے زیادہ ہے لہٰذاتم گواہی دینے میں…
Read the full tafseer →ف 3۔ اس کو اقرار کہتے ہیں۔
4۔ یعنی گواہی کے وقت یہ خیال نہ کرو کہ جس کے مقابلہ میں ةم گواہی دے رہے ہیں یہ امیر ہے اس کو نفع پہنچانا چاہیے تاکہ اس سے بےمروتی نہ ہو یا کہ یہ غریب ہے اس کا کیسے نقصان کردیں تم کسی کی امیری غریبی کو نہ دیکھو کیونکہ ان سے تمہارا تعلق جس قدر ہے وہ بھی اللہ کا دیا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ کو جو تعلق ہے وہ تمہارا دیا ہوا نہیں پھر جب باوجود تعلق قوی کے اللہ نے ان کی مصلحت اس میں رکھی ہے کہ اظہار حق کیا جائے تو تم تعلق ضعیف پر ان کی ایک عارضی مصلحت کا کیوں خیال کرتے ہو۔
Read the full tafseer →مسلمانوں کو ہدایت کہ انصاف اور سچی گواہی کے لئے تیار رہو ، آزمائش کسی وقت بھی ہو سکتی ہے :
219: اس آیت میں تمام مسلمانوں کو عدل و انصاف پر قائم رہنے اور سچی گواہی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ پوری دنیا کے مقبلے میں دراصل سچی گواہی مسلمانوں ہی کے پاس ہے کہ وہی اس کتاب ہدیٰ کے وارث اور اللہ تعالیٰ کی آخری وحی کے مخاطب ہیں اور یہی وہ سچی گواہی ہے اور اس میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ جو چیزیں قیام عدل یا سچی گواہی میں رکاوٹ ہو سکتی ہیں ان کو نہایت بلیغ انداز میں دور کردیا گیا ہے۔ ” اور انصاف پر پوری مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے “ فرما کر یہ ہدایت دی کہ انصاف کے علمبردار بنو ، تمہارا…
Read the full tafseer →The real purpose of sending prophets and scriptures
In this verse of Surah Al-Nisa', all Muslims have been instructed to uphold justice and be true when appearing as witnesses. Besides, things which can become impediments to the establishment of justice or the availability of true evidence have been removed in a highly eloquent manner. A verse of Surah al-Ma` idah (Volume 3) which will follow immediately after the completion of Surah al-Nis-a' carries the same subject. In fact, their words are nearly common. Then, there is a verse in Surah al-Hadid which tells us that the important purpose of…
Read the full tafseer →164. It is not enough for believers to uphold justice themselves: they are expected to be its standard-bearers. They are supposed not merely to practise justice in their own dealings but to strive for its triumph. They have to do all within their power to ensure that injustice is eradicated and replaced by equity and justice. A true believer is required to be the pillar supporting the establishment of right and justice.
165. The testimony of the believers should be solely for the sake of God. Their testimony should not be biased in favour of any of the parties concerned, they should not use…
Read the full tafseer →