Explained with ayahs 131–134
مانگو تو صرف اللہ اعلیٰ و اکبر سے مانگو
اللہ تعالیٰ مطلع کرتا ہے کہ زمین و آسمان کا مالک اور حاکم وہی ہے فرماتا ہے جو احکام تمہیں دیئے جاتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو اس کی وحدانیت کو مانو اس کی عبادت کرو اور کسی اور کی عبادت نہ کرو یہی احکام تم سے پہلے کے اہل کتاب کو بھی دئے گئے تھے اور اگر تم کفر کرو (تو اللہ کا کیا بگاڑو گے ؟) وہ تو زمین آسمان کا تنہا مالک ہے، جیسے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کفر کرنے لگو تو بھی اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور لائق ستائش ہے اور جگہ فرمایا (فَكَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ ۭ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ) 64۔…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 163
بالعموم قانونی احکام بیان کرنے کے بعد، اور بالخصوص تمدن و معاشرت کے ان پہلووں کی اصلاح پر زور دینے کے بعد جن میں انسان اکثر ظلم کا ارتکاب کرتا رہا ہے، اللہ تعالیٰ اس قسم کے چند پر اثر جملوں میں ایک مختصر وعظ ضرور فرمایا کرتا ہے اور اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ نفوس کو ان احکام کی پابندی پر آمادہ کیا جائے۔ اوپر چونکہ عورتوں اور یتیم بچوں کے ساتھ انصاف اور حسن سلوک کی ہدایت کی گئی ہے لہٰذا اس کے بعد ضروری سمجھا گیا کہ چند باتیں اہل ایمان کے ذہن نشین کردی جائیں
ایک یہ کہ تم کبھی اس بھلاوے میں نہ رہنا کہ کسی کی قسمت کا بنانا اور بگاڑنا تمہارے ہاتھ میں ہے، اگر تم اس سے ہاتھ کھینچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
تیسری آیت میں اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ تم سب کو فنا کر دے اور دنیا سے اٹھا لے اور دوسرے لوگ مطیع و فرمانبردار پیدا کر دے، اس سے بھی حق تعالیٰ کا استغناء اور بےنیازی خوب ظاہر ہوگئی اور نافرمانوں کو پوری طرح تہدید اور تخویف بھی ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
131۔ 134:۔ وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭوَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَاِيَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَ ۭ وَاِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ غَنِيًّا حَمِيْدًا۔ وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا۔ اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا۔ مَنْ كَانَ يُرِيْدُ ثَوَابَ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللّٰهِ ثَوَابُ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا۔
ان…
Read the full tafseer →134۔ 1 جیسے کوئی شخص جہاد صرف مال غنیمت کے حصول کے لئے کرے تو کتنی نادانی کی بات ہے۔ جب اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت دونوں کا ثواب عطا فرمانے پر قادر ہے تو پھر اس سے ایک ہی چیز کیوں طلب کی جائے۔ ؟ انسان دونوں ہی کا طالب کیوں نہ بنے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–136
81: اس آیت میں یہ عمومی ہدایت دی گئی ہے کہ ایک مسلمان کو صرف دنیوی فائدوں ہی کی فکر میں نہیں پڑا رہنا چاہیے ؛ بلکہ اللہ سے دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگنی چاہیے اور پچھلی آیتوں سے اس کا تعلق بظاہر یہ ہے کہ میاں بیوی کو مصالحت یا علیحدگی کا فیصلہ کرتے وقت صرف دنیا کے فائدوں پر نظر نہیں رکھنی چاہیے ؛ بلکہ آخرت کی بھلائی بھی پیش نظر رکھنی چاہیے ؛ لہذا اگر مرد یا عورت اپنے کچھ دنیوی مفادات کی قربانی دے کر دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے تو آخرت میں بڑے ثواب کی امید ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
(آیت) ” 131 تا 134۔
قرآن کریم میں احکام ونواہی کے بیان کے بعد بار بار یہ تعقیب آتی ہے کہ اللہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا مالک ہے ۔ یا یہ لفظ آتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کے لئے ہے ۔ یہ دونوں امور ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں اس لئے کہ جو بادشاہ اور مالک ہوتا ہے ‘ اپنی مملکت میں امر اور نہی بھی اسی کا چلتا ہے ۔ اس کی مملکت میں جو لوگ بستے ہیں وہ اس کے محکوم ہوں گے اور اس کائنات میں چونکہ اللہ وحدہ مالک ہے تو اس وجہ سے اس دنیا میں صرف اس کا حکم چلے گا اور وہی لوگوں کے لئے قانون بنانے کا حقدار ہوگا ۔ دونوں امور دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
جن لوگوں پر کتاب اتاری گئی…
Read the full tafseer →3 یعنی اگر اس کی تابعداری کرو تو تم کو دنیا بھی دے اور آخرت بھی پھر صرف دنیا کے پیچھے پڑنا اور اس کی نافرمانی کر کے آخرت سے محروم رہنا بڑی نادانی ہے۔
4 یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے سب کام دیکھتا ہے اور سب باتیں سنتا ہے جس کے طالب ہو گے وہی ملے گا۔
Read the full tafseer →آیت 134 مَنْ کَانَ یُرِیْدُ ثَوَاب الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰہِ ثَوَاب الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ط
جو شخص اپنی ساری بھاگ دوڑ اور دن رات کی محنت دنیا کمانے ‘ دولت اور جائیداد بڑھانے ‘ عہدوں میں ترقی پانے اور مادی طور پر پھلنے پھولنے میں لگا رہا ہے ‘ دوسری طرف اللہ کے احکام اور حقوق کو نظر انداز کر رہا ہے ‘ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس تو دنیا کے خزانے بھی ہیں اور آخرت کے بھی۔ اور یہ کہ وہ صرف دنیاوی چیزوں کی خواہش کر کے گویا سمندر سے قطرہ حاصل کرنے پر اکتفا کر رہا ہے۔ بقول علامہ اقبالؔ
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گلشن میں علاج تنگئداماں بھی ہے !
لہٰذا اللہ سے دنیا…
Read the full tafseer →177 خدنیا وآخرت دونوں کا مطالبہ کیوں ؟ یعنی اللہ کے ہاں تو سب کچھ موجود ہے۔ اب یہ ہر انسان کا اپنا اپنا ظرف ہے۔ اگر وہ دنیا کے فائدے ہی چاہتا ہے اور دنیا میں ہی مگن ہوگیا ہے تو اسے دنیا کے فائدے حاصل ہوجائیں گے اور جو آخرت کی بھلائی بھی چاہتا ہے اسے یقینا آخرت میں اجر وثواب ملے گا۔ اور اس کے علاوہ دنیا کے فائدوں میں سے بھی جو کچھ اس کے مقدر ہوچکا ہے وہ اسے مل کر رہے گا، لہذا عقلمند اور صاحب ظرف انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی تمام تر توجہ آخرت کے اجر وثواب پر مبذول کرے۔
Read the full tafseer →353 ۔ (سو اس لازوال انعام ولذت کو چھوڑ کر صرف عارضی اور فانی لذتوں پر قناعت کرلینا کس درجہ بےدانشی اور عاقبت نااندیشی ہے)
354 ۔ سو وہ سب کی دعاؤں کو، التجاؤں کو خوب سنتا رہتا ہے۔ خواہ وہ معاوضہ دنیوی کے باب میں ہوں یا اجر اخروی سے متعلق اور سب کی نیتوں کے اخلاص وعدم اخلاص کو دیکھتا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–134
وَلَنْ تسّطیعوا ان تعدلو ابین النساء (الایة) اس آیت میں ایک دوسری صورت کا بیان ہے کہ ایک شخص کی ایک سے زائد بیویاں ہوں تو دلی تعلق اور محبت میں وہ سب کے ساتھ ایک سا سلوک نہیں کرسکتا اسلئے کہ محبت، دلی تعلق کا نام ہے جس پر کسی کو اختیار نہیں ہوتا، خود آنحضرت ﷺ کو بھی اپنی تمام ازواج میں سے حضرت عائشہ ؓ سے زیادہ محبت تھی، اگر یہ قلبی میلان ظاہری حقوق کے مساوات میں مانع نہ بنے تو عند اللہ قابل مواخذہ نہیں۔
حدیث : جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے یہاں دو بیویاں ہوں اور وہ ایک ہی کا خیال رکھتا ہو تو قیامت میں وہ شخص اس حالت میں آئیگا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہوگا۔
Read the full tafseer →من کان یرید ثواب الدنیا . جو دنیوی ثواب کا خواستگار ہے (یعنی صرف دنیوی ترقی چاہتا ہے) جیسے دکھاوٹ کیلئے اچھے اعمال کرنے والے اور اقتدار حکومت یا مال کے لئے جہاد کرنے والے۔
فعند اللہ ثواب الدنیا والاخرۃ . تو (وہ سخت نقصان میں ہے اور طلب میں کوتاہی کر رہا ہے کیونکہ) اللہ ہی کے پاس دنیا اور آخرت کا ثواب ہے۔ لہٰذا دونوں کے لئے دعا کرنی چاہئے اور یوں کہنا چاہئے رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً یا اعلیٰ ثواب کی طلب کرنا چاہئے (اور اعلیٰ ثواب آخرت کا ثواب ہے) کیونکہ جو شخص محض اللہ کے لئے خلوص نیت کے ساتھ جہاد کرتا ہے اس کو دنیا میں مال غنیمت ملتا ہے اور آخرت میں…
Read the full tafseer →(134) جو ان کے اعمال سے جو کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض کیے ہیں، صرف دنیاوی منافع چاہتا ہے تو وہ اپنی نیت کو درست کرکے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کرے کیوں کہ اس کی قدرت میں دنیا و آخرت کے تمام منافع ہیں اور وہ تمہاری باتوں کو سننے والا اور تمہارے اعمال سے آگاہ ہے۔
Read the full tafseer →یعنی جس شخص کا مطلوب و مقصود صرف دنیا ہی ہے اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کے پاس دنیا اور آخرت دونوں کا ثواب موجود ہے تو تم صرف فانی کی طلب میں کیوں بیٹھے ہو، دنیا اور آخرت دونوں کیوں طلب نہیں کرتے۔ اللہ کے احکام پر عمل کرو گے تو دنیا بھی تمہاری اور آخرت بھی۔ صرف دنیا کی طلب تو خسارا ہی خسارا ہے۔ رہا یہ کہ تمہارا عمل دنیا کے لیے ہے یا آخرت کے لیے، تو اسے اللہ تعالیٰ خوب سنتا ہے، دیکھتا ہے۔ (دیکھیے ہود : 15، 16۔ البقرۃ : 200 تا 202۔ بنی إسرائیل : 18 تا 21)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
آیت نمبر : 133۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان یشایذھبکم “۔ اگر چاہے تو لے جائے تمہیں موت کے ساتھ (آیت) ” ایھا الناس “۔ یہ خطاب مشرکین ومنافقین کو ہے (آیت) ” ویات باخرین “۔ اور تمہارے علاوہ دوسرے لوگوں کو لے آئے، جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت سلیمان فارسی کی پیٹھ پر ہاتھ مارا اور فرمایا : ھم قوم ھذا وہ اس کی قوم ہے، بعض نے فرمایا : آیت عام ہے یعنی اگر تم انکار کروگے تو وہ تمہیں لے جائے گا اور ایسی مخلوق لے آئے گا جو تم سے زیادہ اللہ کی اطاعت گزار ہوگی، یہ اس طرح ہے جس طرح دوسری آیت میں فرمایا (آیت) ” وان تتولوا یستبدل قوما غیرکم ثم لا یکونوا امثالکم “۔ (محمد) اس آیت میں ہر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–134
شوہر سے صلح کرنا
(1) الطیالسی و ترمذی (نے اس کو حسن کہا) وابن المنذر و طبرانی و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سودہ ؓ اس بات سے ڈر گئیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کو طلاق دیں گے تو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھ کو طلاق نہ دیں اور میری باری عائشہ کو دے دیجئے آپ نے ایسا ہی کرلیا تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” وان امراۃ خافت من بعلہا نشوزا “ ابن عباس ؓ نے فرمایا دونوں میں کسی چیز پر صلح ہوجائے تو یہ جائز ہے۔
(2) ابن سعد و ابو داؤد اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس ٹھہرنے میں ہمارے بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور آپ ان میں ہر…
Read the full tafseer →[ مَنْ : جو ] [ کَانَ یُرِیْدُ : ارادہ کرے گا ] [ ثَوَابَ الدُّنْیَا : دنیا کے ثواب کا ] [ فَعِنْدَ اللّٰہِ : تو اللہ کے پاس (تو) ] [ ثَوَابُ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ : دنیا اور آخرت (دونوں) کا ثواب ہے ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ سَمِیْعًا : سننے والا ] [ بَصِیْرًا : دیکھنے والا ]
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا (مَنْ کَانَ یُرِیْدُ ثَوَاب الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰہِ ثَوَاب الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ ) اللہ سے آخرت کا ثواب مانگے اور اس کی آرزو بھی رکھے جو شخص دنیا کا طالب ہے اسے بتادو کہ اللہ کے پاس دونوں جہاں کا ثواب ہے۔ اشرف ترین چیز یعنی ثواب آخرت کا طالب ہونا چاہیے۔ (روح المعانی صفحہ 166: ج 5)
حضرت زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کا مقصد آخرت ہی بن جائے اللہ تعالیٰ اس کے منتشر امور کو جمع فرما دے گا اور اس کے دل کو غنی کر دے گا اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آئے گی اور جس کی نیت حصول دنیا ہو اس کے کاموں کو منتشر فرما دے گا اور اس کی آنکھوں کے سامنے تنگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–134
بیان بعض احکام متعلقہ بہ معاشرہ زوجین۔
قال تعالی، وان امرۃ خافت من بعلھا نشوزا۔۔۔ الی۔۔۔ حکیما۔ آیت۔
اوپر آیتوں میں ان احکام کا حوالہ تھا جو سورة نساء کے شروع میں گزر چکے اب یہاں سے عورتوں کے متعلق دوسرے نئے احکام بیان فرماتے ہیں جو میاں اور بیوی کے باہمی معاشرت سے متعلق ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی بدمزاجی یا بےالتفاتی اور بےاعتنائی سے ڈرے مثلا عورت بدشکل ہو یابڑھیا ہوگئی ہو اور اس کو قرائن سے یہ معلوم ہوجائے کہ اس کا شوہر اس کو طلاق دینا چاہتا ہے اور یا دوسری بیوی کرنا چاہتا ہے تو ایسی صورت میں میاں بیوی پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں مثلا یہ کہ عورت اپنا نفقہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
89 یہاں سے وَکَانَ اللہُ سَمِیْعاً بَصِیْراً تک تخویف اخروی ہے سب کچھ اللہ کے قبضہ اور اختیار میں ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے اس کے مواخذہ اور عذاب سے ڈرو فَاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِیْ السَّمٰوٰاتِ الخ اعادہ برائے تاکید مزید۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں ، یتیم بچیوں اور کمزور طبقات کے حقوق کا ذکر فرمایا ، پھر میاں بیوی کے درمیان نزاع کی صورت میں صلح کرنے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا کہ اگر عورت سمجھتی ہے کہ خاوند اعراض کر رہا ہے تو وہ اپنے حقوق میں کمی کر کے خاوند کو صلح پر آمادہ کرسکتی ہے تاکہ ان کے درمیان نباہ کی صورت پیداہ و سکے۔ متعدد بیویوں کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہر طرح سے انصاف قائم رکھنے کی تاکیدفرمائی ، اللہ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کسی ایک عورت کی طرف مکمل جھکاؤ ہو۔ اور دوسری کو لٹکتا ہوا چھوڑ دیاجائے ، فرمایا قانون کے مطابق ہر ایک کے ساتھ عدل قائم کرنا چاہئے۔ اس کے باوجود اگر کوئی خامی…
Read the full tafseer →مَنْ كَانَ يُرِيْدُ ثَوَابَ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللہِ ثَوَابُ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ 0ۭ وَكَانَ اللہُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا 134ۧ
كان
كَانَ «3» : عبارة عمّا مضی من الزمان، وفي كثير من وصف اللہ تعالیٰ تنبئ عن معنی الأزليّة، قال : وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيماً [ الأحزاب/ 40] ، وَكانَ اللَّهُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيراً
[ الأحزاب/ 27] وما استعمل منه في جنس الشیء متعلّقا بوصف له هو موجود فيه فتنبيه علی أن ذلک الوصف لازم له، قلیل الانفکاک منه . نحو قوله في الإنسان : وَكانَ الْإِنْسانُ كَفُوراً [ الإسراء/ 67] وَكانَ الْإِنْسانُ قَتُوراً [ الإسراء/ 100] ، وَكانَ الْإِنْسانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
1 ؎ عربوں میں جب دولت و سلطنت کے سبب وہ بات نہ رہی تو ترکوں کو اسلام کا حامی کھڑا کردیا اور جانے اب کس قوم کو حامی بناتا ہے۔ 12 منہ
سوم۔ ان یشاء یذھبکم ایہا الناس ویات باخرین کے پیشتر وللّٰہ ما فی السموات وما فی الارض کو ذکرکے شریعت سے انحراف کے بد نتیجہ کو مدلل کرتا ہے اور جب کہ ایک دلیل چند مدلولات پر دلالت کرے تو بہ نسبت اس کے اس کو ایک بار ذکر کیا جاوے۔ یہ بہت خوبی رکھتا ہے کہ مکرر لایا جاوے۔ ایک مدلول کے لئے ایک بار وللّٰہ مافی السموات وما فی الارض کو ذکر کیا۔ پھر دوسرے مدلول کے لئے اسی کو ذکر کیا۔ پھر تیسرے مدلول کے لئے اسی کلمہ کا اعادہ فرما کر کلام کو حسن و خوبی میں یکتا کردیا۔ کس لئے…
Read the full tafseer →مَنْ کَانَ یُرِیْدُثَوَابَ الدُّنْیَا فَعِنْدَاللّٰہِ ثَوَابُ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ط وَکَانَ اللّٰہُ سَمِیْعًا م بَصِیْرًا ع
” جو دنیا کے صلے کا طلبگار ہے تو اللہ کے پاس دنیا اور آخرت دونوں کا صلہ موجود ہے۔ اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ “ (النسآء : 134)
اس کی قدرت کا عالم تو یہی ہے کہ وہ جب تک چاہے کسی کو اس دنیا میں زندگی گزارنے دے اور جب چاہے انھیں مٹا کر ان کی جگہ کسی دوسری قوم کو لا بسائے۔ لیکن اس وقت اس نے اپنا رسول بھیج کر تمہارے سامنے دونوں راستے کھول دیے ہیں۔ اگر رسول کی دعوت کو قبول کرتے ہو تو اس میں دنیا بھی ہے اور آخرت بھی۔ اور اگر تم اس کا انکار کر کے صرف دنیا اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
فہم القرآن
ربط کلام : اگر تم اللہ کی بغاوت اور نافرمانی کرو گے تو یاد رکھو تم اس کی قدرت سے باہر نہیں ہو وہ جب چاہے گا تمہاری صف لپیٹ کر کسی اور قوم کو زمین کا وارث بنا دے گا۔ اللہ تعالیٰ کے لیے ایسا کرنا قطعاً دُشوار نہیں ہے وہ کلی طور پر ایسا کرنے پر قادر ہے۔
دنیا کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے حد سے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر معاشرے کے کمزور طبقہ کو غالب کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی کشمکش اس بات پر زندہ ثبوت ہے۔ یہودی اپنی حد سے باہر ہوئے تو ان پر عیسائیوں کو مسلط فرمایا۔ عیسائی حدود پھلانگنے لگے تو کسی دوسری قوم کو غلبہ عطا ہوا۔ مسلمانوں…
Read the full tafseer →فقط طلب دنیا طلب خسیس ہے :
آیت 134 : مَنْ کَانَ یُرِیْدُ ثَوَابَ الدُّنْیَا (جو دنیا کے ثواب کا طالب ہے) جیسے کوئی مجاہد اپنے جہاد سے مال غنیمت کا طالب ہو۔ فَعِنْدَ اللّٰہِ ثَوَابُ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ (پس اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا اور آخرت کا ثواب ہے) پس یہ شخص کیوں صرف ایک کا طالب بنتا اور دوسرے کو چھوڑتا ہے۔ اور جو یہ طلب کرتا ہے وہ تو بہت ہی حقیر و خسیس ہے۔
وَکَانَ اللّٰہُ سَمِیْعًــا (اور اللہ تعالیٰ ہر بات کو سننے والے ہیں) بَصِیْرًا (اور ہر فعل کو دیکھنے والے ہیں) اس حصہ آیت میں وعدہ اور وعید دونوں پائے جاتے ہیں (سبحان اللہ)
Read the full tafseer →(تفسیر) 134۔:
(آیت)” من کان یرید ثواب الدنیا فعند اللہ ثواب الدنیا والاخرۃ “۔ جو شخص اپنے نیک اعمال کے ذریعے دنیا میں فراوانی چاہتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود نہیں ہوتی ، اللہ تعالیٰ اس کو دنیا ہی میں کچھ حصہ دے دیتے ہیں یا اسی نیکی کے بدلے میں اس سے کوئی آزمائش دنیا میں دور کردی جاتی ہے اور اس کے لیے آخرت میں کوئی ثواب نہیں ملتا اور جو کوئی شخص اپنے اعمال کے ذریعے آخرت کا ثواب کا طالب ہے اللہ تعالیٰ اس کو دنیا میں بھی جتنا چاہتا ہے دے دیتا ہے اور آخرت میں بھی اس کو جنت دی جاتی ہے ۔ (آیت)” وکان اللہ سمیعا بصیرا “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
(131 ۔ 134) ۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ جس کو چاہے اپنے فضل سے خوش حال کر دے کیونکہ وہ بڑا صاحب فضل ہے ان آیتوں میں کشائش رزق بےپرواہی کار برابری تین باتوں کا ذکر فرما کر ہر ایک کے ساتھ فرمایا کہ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے تاکہ جو لوگ ایسے بڑے صاحب اختیار مالک کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو پوجتے یا کسی دوسرے سے اپنی حاجت روائی چاہتے ہیں ان کی نادانی معلوم ہوجائے اور جو لوگ دین اور دنیا کی بھلائی اللہ تعالیٰ سے چاہتے ہیں وہ خوب سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں دین اور دنیا کی بھلائی ہے وہ جو چاہے کرسکتا ہے۔ اسی تنبیہ کے لئے یہ بھی فرمایا کہ اللہ سے ڈر کر اسی کی…
Read the full tafseer →آیت 134
یعنی وہ (غنی حمید) ہے اور وہ قدرت کاملہ اور مشیت نافذہ کا مالک ہے۔ (ان یشایذھبکم ایھا الناس ویات باخرین) ” اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کر دے اور (تمہاری جگہ) اور لوگوں کو پیدا کر دے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے علاوہ اور لوگوں کو لے آئے گا وہ تم سے بہتر اور اللہ تعالیٰ کی زیادہ اطاعت کرنے والے ہوں گے۔ یہ آیت کریمہ لوگوں کے لئے ان کے اپنے کفر پر قائم رہنے اور اپنے رب سے روگردانی کرنے پر تہدید ہے۔ اگر وہ اطاعت نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ کو ان کی ذرہ بھر بھی پروا نہیں۔ مگر وہ ان کو مہلت اور ڈھیل دیتا ہے تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔ (یعنی حساب ضرور لے گا۔ )
پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–134
بیویوں میں پورا پورا عدل کرو
قول باری ہے ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النساء ولو حرصتم فلا تمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقۃ۔ بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے تم چاہو بھی تو اس پر قادر نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھک جائو کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو ) ۔ ابوعبیدہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد دلی محبت اور میلان طبعی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ حسن اور قتادہ سے بھی یہی مروی ہے قول باری فلاتمیلواکل المیل۔ میں مراد۔ واللہ اعلم۔ یہ ہے کہ اس میلان کا بالفعل اس طرح اظہار نہ کیا جائے کہ ایک بیوی سے پوری طرح منہ موڑ کر دوسری بیوی کا رخ کرلیا جائے۔ اس پر قول باری فتذروھا…
Read the full tafseer →342 دنیا ہی کو اپنا مقصود بنالینا ہولناک خسارہ ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی دنیا ہی کا بدلہ چاہے گا تو [ وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ ورنہ ] اللہ کے پاس تو دنیا کا بدلہ بھی ہے اور اخرت کا بھی۔ سو متاع دنیا ہی کو مقصد بنانے والے نے اپنا ہی نقصان کیا کہ اس نے آخرت کی اعلیٰ وارفع اور دائمی و ابدی نعمتوں کے مقابلے میں دنیا کی ادنیٰ و حقیر اور فانی و زائل نعمتوں کو پیش نظر رکھا، جنکی آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں کوئی حقیقت اور حیثیت ہی نہیں۔ سو ایسی فانی اور بےحقیقت چیز کو آخرت کی بےمثال اور دائمی نعمتوں کے مقابلے میں مقصد حیات بنالینا ایک بڑا ہی ہولناک خسارہ و نقصان ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
اللہ سب سے بےنیاز ہے
تشریح : پچھلی آیات میں کیونکہ عورتوں اور یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کا سبق دیا گیا ہے۔ لہٰذا اس کے بعد یہ ضروری ہوگیا کہ مسلمانوں کو چند حقائق سمجھا دیئے جائیں تو اس سلسلے میں اچھی طرح واضح کردیا گیا کہ روزی دینے والا، نصیب بنانے والا اور جزا و سزا دینے والا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے جو بھی کرو اس کے ڈر خوف کو سامنے رکھ کر کرو۔ اس کے بعد وضاحت فرمائی کہ جس نیت سے کوئی عمل کرے گا اسے اس کے مطابق اجر ملے گا۔ دنیا کے غرض مند کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ نیز فرمایا کہ : میرا خزانہ بڑا وسیع اور بھرا ہوا ہے، اس لیے مجھ سے مانگتے وقت تمام جہانوں کی بھلائیاں مانگو جو صرف دنیا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–134
رکوع نمبر 19 ۔ آیات 127 تا 134 ۔
ویستفتونک ۔۔۔۔۔ سمیعا بصیرا۔
اسرار و معارف :
پھر بات اپنے اصل موضوع کو پلٹتی ہے کہ قبل اسلام عورت کو انسان سمجھا ہی نہ جاتا تھا۔ اسلام نے اسے میراث میں حقوق دلوا دئیے اور وراثت تک میں حصہ دار بنا دیا کہاں سے اٹھایا کہاں پہنچا دیا ؟ جبکہ اہل عرب تو عورتوں کو خود میراث سمجھ کر بانٹ لیا کرتے تھے۔ سو بعض طبقوں نے ان امور کی تصدیق چاہی کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام عورت کو مرد کی طرح وراثت میں حصہ قرار دے شاید وقتی طور پر ایسا کیا گیا ہوگا ممکن ہے کچھ خاص لوگوں کے لیے ہو ورنہ وہاں تو یہ سوچنا بھی ممکن نظر نہ آتا تھا سو ارشاد ہوا کہ ابھی تک آپ کی بارگاہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
ف 4 یعنی شریعت کے احکام پر عمل کرنے میں دنیا اور آخرت دونوں کا فائدہ ہے۔ لہذا دنیا کے لالچ میں آکر اللہ تعالیٰ کے احکام سے اعراض نہ کرو۔ (م۔ ع)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–134
(4:132) وکیلا۔ صفت مشبہ۔ کار ساز۔ مددگار۔ نگہبان۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–134
آیت نمبر 129-134
لغات القرآن : لن تستطیعوا، ہرگز تم طاقت نہیں رکھتے۔ ان تعدلوا، یہ کہ تم (پورا پورا) انصاف کرو۔ لو حرصتم، اگرچہ تم خواہش مند ہو۔ لاتمیلوا، مائل نہ ہوجاؤ، جھک نہ پڑو۔ تذروھا، تم چھوڑ دو اس کو۔ کالمعلقۃ، جیسے بیچ میں لٹکی ہوئی۔ یتفرقا، دونوں جدا جدا ہوجائیں۔ یغن اللہ، اللہ بےنیاز کر دے گا۔ کل، ہر ایک کو۔
تشریح : انسان فطرتاً کمزور ہے، اس کے لئے چند بیویوں کے درمیان برابر عدل و انصاف رکھنا بہت مشکل کام ہے۔ کوئی زیادہ حسین زیادہ جوان، زیادہ دولت والی یا علم و عقل والی یا سلیقہ مند ہوسکتی ہے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا ہے کہ بےاختیاری باتوں میں تو کسی قدر چھوٹ دی جاسکتی ہے لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
ان آیتوں میں کشائش رزق، بےپروائی، کاربرآری تین باتوں کا ذکر فرما کر ہر ایک کے ساتھ فرمایا کہ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ اس کی فرمانبرداری کرو اور اس کے حکم کے خلاف نہ کرو، توحید اور شریعت پر قائم رہو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ تقویٰ اور پرہیزگاری کا حکم قدیم ہے تمام امتوں کو اس کی تاکید ہوتی رہی ہے۔ تمام جہان اس کی فرمانبرداری سے بھرا ہے۔ تمہارے کفر سے اس کا کیا نقصان ہوتا ہے، تمام خلق کو ان کی عبادت سے معدوم کردے۔ معنی یہ ہیں کہ جس کو اپنے عمل سے دنیا مقصود ہو اور اس کی مراد اتنی ہی ہو اللہ اس کو دے دیتا ہے اور ثواب سے وہ محروم رہتا ہے اور جس نے عمل رضاء الٰہی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–134
[83] شروع سورت (آیت نمبر 3) میں تعداد ازواج کی اجازت عدل کے ساتھ مشروط کی گئی تھی اور فرمایا گیا تھا کہ اگر عدل نہ کرسکو تو ایک بیوی پر قناعت رکھنا۔ اس موقع پر عدل سے مراد تھی معاملات میں عدل (ملاحظہ ہو حاشیہ 4) ۔ اس آیت میں عدل سے مراد مساوات امور غیر اختیاری ہے، مثلاً محبت ورغبت میں اور ایسی مساوات کامل تو والدین بھی اپنی ساری اولاد کے درمیان نہیں رکھ سکتے۔ لفظ عدل دونوں جگہ مشترک ہے۔ لیکن مفہوم الگ الگ ہے اور اس اسلوب بیان کی مثالیں قرآن میں بکثرت ملتی ہیں۔
علاوہ ازیں اگر عدل کو ناممکن قرار دے کر قرآن تعدد ازواج کی اجازت کو منسوخ کردیتا ہے جیسا کہ بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ نتیجہ نکالا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–134
(ف 2) مقصد یہ ہے کہ خدا کے خزانوں میں دین وعقبی کی نعمتوں سے بہرہ کثیر ہے ، مبارک ہیں وہ لوگ جو اپنے نصب العین کو بلند رکھتے ہیں اور جن کی نظریں زمین کی بستی سے گزر کر آسمانوں کی بلندیوں کا جائزہ لیتی ہیں یعنی وہ جو دنیا کی سعادتوں اور مسرتوں کو اپنا مقصود نظر نہیں بناتے بلکہ اخری کی روحانی کیفیتیں ان کا حاصل ہیں ۔
حل لغات :
قومین بالقسط : تابحد مبالغہ ۔ انصاف کا حامی ۔
Read the full tafseer →ف 1 اگر وہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو ایک ہی دفعہ معدوم کر دے اور تم سب کو فنا کر دے اور تمہاری جگہ دوسروں کو لا موجود کرے اور کسی دوسری مخلوق کو تمہاری جگہ لے آئے اور یہ تمہارا فنا کردینا اور دوسروں کو تمہاری جگہ لے آنا اس پر اللہ تعالیٰ کو پوری قدرت حاصل ہے اور اللہ تعالیٰ ایسا کرنے پر قادر ہے اور دیکھو جو شخص صرف دنیا کا معاوضہ اور دنیا کا انعام چاہتا ہے تو وہ غلطی کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے پاس تو دنیا اور آخرت دونوں کا معاوضہ اور انعام موجود ہے تو ایسی حالت میں اعلیٰ کو چھوڑ کر ادنیٰ پر کیوں قناعت کرے اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
ف 4۔ تو ایسے مالک کے احکام ماننا بہت ہی ضروری ہے۔
5۔ اس کو تقوی کہتے ہیں جس میں تمام احکام کی موافقت داخل ہے۔
1۔ یعنی مخالفت احکام کی کرو گے۔
Read the full tafseer →اللہ کے پاس دنیا و آخرت کا ثواب موجود ہے ہو وہ دیکھتا ہے کہ تمہاری چاہت کیا ہے ؟
218: دینے واے کا کام تو دینا ہی ہے لینے والے کے اپنے ظرف پر بھی اس کا انحصار ہوتا ہے۔ اگر کوئی کچیگھڑے میں پانی ڈال لے تو آخر اس کا نتیجہ کیا ہوگا کہ نہ گھڑا رہے گا اور نہ پانی ؟ آخر دینے والے کا اس میں کوئی قصور ؟ یہ مثال ہے ان لوگوں کی جو صرف دنیا ہی کے طلبگار ہوں اس لئے کہ جب دنیا ہی نہ رہی تو دنیا کا سرو سامان کب رہا ؟ قرآن کریم کا انداز حزف بھی بڑا عجیب ہے کہ جو جملے مزکور ہوتے ہیں وہ پکار پکار کر کہتے ہیں کہ یہاں ایک جملہ محذوف بھی ہے پھر جب اس حزف کو کھول دیا جاتا ہے تو یہ بات بالکل صاف ہوجاتی ہے۔ یی کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
The third mention of these words embodies a statement of Allah's mercy which makes things work for people. It means: Should one fear Allah and be obedient to Him, Allah will fulfill all his needs, because He is the owner of everything in this universe.
Read the full tafseer →163. In the Qur'an God often rounds off His enunciation of laws by urging people to reform those aspects of family life and social order in which they are generally liable to commit injustice with admonitions designed to create in people the urge to follow those legal injunctions. Since in the preceding verse the believers were asked to treat women and orphans with justice and kindness it was deemed necessary to bring home to them the following points:
First, that people should not entertain the illusion that they have the power to make or mar the destinies of others, that if they were to…
Read the full tafseer →