An-Nisaa 4:133

An-Nisaa · from ayah 133

4:133

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ اَیُّهَا النَّاسُ وَیَاْتِ بِاٰخَرِیْنَ ؕ— وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰی ذٰلِكَ قَدِیْرًا ۟اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ اَيُّهَا النَّاسُ وَيَاۡتِ بِاٰخَرِيۡنَ‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى ذٰلِكَ قَدِيۡرًا‏

لوگو! اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور (تمہاری جگہ) اور لوگوں کو پیدا کردے۔اور خدا اس بات پر قادر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

If He wills, He can do away with you, O people, and bring others [in your place]. And ever is Allah competent to do that.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 19 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:133

اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو ہٹا کر تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے، اور وہ اِس کی پوری قدرت رکھتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

لوگو! اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور (تمہاری جگہ) اور لوگوں کو پیدا کردے۔اور خدا اس بات پر قادر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر اسے منظور ہو تو اے لوگو! وه تم سب کو لے جائے اور دوسروں کو لے آئے، اللہ تعالیٰ اس پرپوری قدرت رکھنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اگر وہ چاہے تو اے لوگو ! تم سب کو (دنیا سے) لے جائے اور دوسروں کو (تمہاری جگہ یہاں) لے آئے، اللہ اس بات کی پوری قدرت رکھتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے لوگوں وہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور اوروں کو لے آئے اور اللہ کو اس کی قدرت ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے لوگو! اگر وہ چاہے تو تمہیں نابود کر دے اور (تمہاری جگہ) دوسروں کو لے آئے، اور اللہ اس پر بڑی قدرت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے اے لوگو ! اور کچھ دوسروں کو لے آئے اور اللہ ہمیشہ سے اس پر پوری طرح قادر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لوگو ! اگر اللہ چاہے تو تمہیں ہٹا کر تمہاری جگہ دوسرے لوگ لا سکتا ہے اور اللہ اس بات پر پوری قدرت رکھتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کردے، اے لوگو، اور دوسروں کو لائے، اللہ اس چیز پر قادر ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ اگر چاہے تولیجائے تم سب کو اے لوگو، اور (تمہاری جگہ) لے آئے دوسروں کو، اور اللہ ہی پوری قدرت رکھتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

وہ اگر چاہے تو اے لوگو تم (سب) کو لے جائے اور دوسروں کو لے آئے۔ اور اللہ اس پر قادر ہی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے لوگو ! وہ چاہے تو تم سب کو لے جائے اور دوسرے لوگوں کو لے آئے اور یقیناً اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو ہٹا کر تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے اور وہ اس کی پوری قدرت رکھتا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

If He wills, He has the full power to remove you, O mankind, and bring in others in your place.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If He so wills, He can remove you, O men, and bring others (in your place). Allah has the power to do that.

— Muhammad Taqi Usmani

If He so wills, He can remove you, O men, and bring others (in your place). Allah has the power to do that.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

If He wills, He can take you away, O people, and bring others. And Allah is Ever All-Potent over that.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

If He will, He can remove you, O people, and produce others (in your stead). Allah is Able to do that.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

If He wills, He can do away with you, O people, and bring others [in your place]. And ever is Allah competent to do that.

— Saheeh International

Had God wanted He could have destroyed you all and replaced you by another people; He has the power to do so.

— Muhammad Sarwar

If He please, He can make you pass away, O people! and bring others; and Allah has the power to do this.

— Muhammad Habib Shakir

If He will, He will take you away, O mankind! and bring forward others; and over that Allah is ever Potent.

— Abdul Majid Daryabadi

If it were His will, He could destroy you, o mankind, and create another race; for He hath power this to do.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:133

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 131–134

مانگو تو صرف اللہ اعلیٰ و اکبر سے مانگو اللہ تعالیٰ مطلع کرتا ہے کہ زمین و آسمان کا مالک اور حاکم وہی ہے فرماتا ہے جو احکام تمہیں دیئے جاتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو اس کی وحدانیت کو مانو اس کی عبادت کرو اور کسی اور کی عبادت نہ کرو یہی احکام تم سے پہلے کے اہل کتاب کو بھی دئے گئے تھے اور اگر تم کفر کرو (تو اللہ کا کیا بگاڑو گے ؟) وہ تو زمین آسمان کا تنہا مالک ہے، جیسے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کفر کرنے لگو تو بھی اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور لائق ستائش ہے اور جگہ فرمایا (فَكَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ ۭ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ) 64۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 129–133

سورة النِّسَآء 161 مطلب یہ ہے کہ آدمی تمام حالات میں تمام حیثیتوں سے دو یا زائد بیویوں کے درمیان مساوات نہیں برت سکتا۔ ایک خوبصورت ہے اور دوسری بدصورت، ایک جوان ہے اور دوسری سن رسیدہ، ایک دائم المرض ہے اور دوسری تندرست، ایک بدمزاج ہے اور دوسری خوش مزاج اور اسی طرح کے دوسرے تفاوت بھی ممکن ہیں جن کی وجہ سے ایک بیوی کی طرف طبعًا آدمی کی رغبت کم اور دوسری کی طرف زیادہ ہو سکتی ہے۔ ایسی حالتوں میں قانون یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ محبت ورغبت اور جسمانی تعلق میں ضرور ہی دونوں کے درمیان مساوات رکھی جائے۔ بلکہ صرف یہ مطالبہ کرتا ہے کہ جب تم بےرغبتی کے باوجود ایک عورت کو طلاق نہیں دیتے اور اس کی اپنی خواہش…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 133–134

تیسری آیت میں اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ تم سب کو فنا کر دے اور دنیا سے اٹھا لے اور دوسرے لوگ مطیع و فرمانبردار پیدا کر دے، اس سے بھی حق تعالیٰ کا استغناء اور بےنیازی خوب ظاہر ہوگئی اور نافرمانوں کو پوری طرح تہدید اور تخویف بھی ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 131–134

131۔ 134:۔ وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭوَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَاِيَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَ ۭ وَاِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ غَنِيًّا حَمِيْدًا۔ وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا۔ اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا۔ مَنْ كَانَ يُرِيْدُ ثَوَابَ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللّٰهِ ثَوَابُ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا۔ ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

133۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ و کاملہ کا اظہار ہے جب کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا (وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۙ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ) 47:38 اگر تم پھرو گے تو وہ تمہاری جگہ اوروں کو لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح کے نہیں ہونگے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 132–133

80: یہ جملہ کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے، ان آیتوں میں تین بار دہرایا گیا ہے، پہلی مرتبہ اس کا مقصد میاں بیوی کو یہ اطمینان دلانا ہے کہ اللہ کی رحمت کے خزانے بڑے وسیع ہیں وہ دونوں کے لئے کوئی مناسب ذریعہ پیدا کرسکتا ہے، دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کی بےنیازی بیان کرنا مقصود ہے کہ کسی کے کفر سے اس کا کوئی نقصان نہیں ہے ؛ کیونکہ ساری کائنات اس کے تابع فرمان ہے، اسے کسی کی حاجت نہیں ہے، اور تیسری جگہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور کارسازی کا بیان ہے کہ اگر تم تقوی اور اطاعت کا راستہ اختیار کرو تو وہ تمہارے سارے کام بنادے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 131–134

(آیت) ” 131 تا 134۔ قرآن کریم میں احکام ونواہی کے بیان کے بعد بار بار یہ تعقیب آتی ہے کہ اللہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا مالک ہے ۔ یا یہ لفظ آتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کے لئے ہے ۔ یہ دونوں امور ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں اس لئے کہ جو بادشاہ اور مالک ہوتا ہے ‘ اپنی مملکت میں امر اور نہی بھی اسی کا چلتا ہے ۔ اس کی مملکت میں جو لوگ بستے ہیں وہ اس کے محکوم ہوں گے اور اس کائنات میں چونکہ اللہ وحدہ مالک ہے تو اس وجہ سے اس دنیا میں صرف اس کا حکم چلے گا اور وہی لوگوں کے لئے قانون بنانے کا حقدار ہوگا ۔ دونوں امور دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جن لوگوں پر کتاب اتاری گئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ تم سب کو فنا کردے اور دنیا سے اٹھالے اور دوسرے لوگ مطیع و فرمانبردار پیدا کر دے۔ اس سے بھی حق تعالیٰ کا استغنا اور بےنیازی خوب ظاہر ہوگئی اور نافرمانوں کو پوری تہدید اور تخویف بھی ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 133 اِنْ یَّشَاْ یُذْہِبْکُمْ اَیُّہَا النَّاسُ وَیَاْتِ بِاٰخَرِیْنَ ط۔ اللہ کے مقابلے میں تمہاری کوئی حیثیت نہیں۔ اس کے سامنے تم سب نفس واحد کی طرح ہو ‘ جب چاہے اللہ تعالیٰ سب کو نسیاً منسیاً کر دے اور نئے لوگوں کو پیدا کر دے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

176 اور جو تیسری بار اس جملہ کو دہرایا تو اس کا مدلول مسلمانوں کے مستقبل کے حالات ہیں یعنی اے مسلمانو ! اگر تم اللہ کی نافرمانی کرو گے تو اس کے کاموں کا انحصار تمہیں پر نہیں وہ ایسا کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے کہ اس صورت میں کوئی اور قوم آگے لے آئے اور اس کے ہاتھ سے تمہیں پٹوا کر پیچھے دھکیل دے جیسا کہ یہود اللہ کی نافرمانیوں اور بدکرداریوں میں مبتلا ہوئے تو انہیں عیسائیوں کے ہاتھوں پٹوا کر پیچھے دھکیل دیا تھا۔ اور اب تمہارے ہاتھوں ان دونوں کو پٹوا رہا ہے۔ اللہ کو تو اپنے دین کو سربلند کرنا ہے لہذا جو لوگ بھی اللہ کے اس مشن کو جاری رکھنے کے قابل ہوں گے وہ انہی کو آگے لے آئے گا لہذا تمہارا مفاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

351 ۔ (اور جو کام اسے لینے ہیں، وہ اسی نئی مخلوق سے لے) یہ بیان اس کے کمال قدرت کا ہے (آیت) ” اخرین “۔ یعنی نوع انسان کے علاوہ کوئی اور ہی نئی مخلوق۔ ای خلقا اخرین مکان الانس (بیضاوی) جوز الزمخشری وابن عطیۃ ومقلد وھما ان یکون المرادجنسا غیر جنس الناس (روح) 352 ۔ (سو اس قدرت کے باوجود وہ اگر ایسا نہیں کرتا اور تمہارے بجائے کسی جدید مخلوق کو وجود میں نہیں لارہا ہے تو اس کا تمہارے ہی اوپر کمال احسان ہے کہ وہ اس طرح حصول اجر کا موقع دیے جارہا ہے) کان لانے سے مفہوم ماضی مقصود نہیں۔ بلکہ صفت قدرت کی ازلیت اور غیر متناہیت کا اثبات مقصود ہے۔ القدرۃ صفۃ ازلیۃ لاتتناھی معلوماتہ والماضی والمستقبل فی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 129–134

وَلَنْ تسّطیعوا ان تعدلو ابین النساء (الایة) اس آیت میں ایک دوسری صورت کا بیان ہے کہ ایک شخص کی ایک سے زائد بیویاں ہوں تو دلی تعلق اور محبت میں وہ سب کے ساتھ ایک سا سلوک نہیں کرسکتا اسلئے کہ محبت، دلی تعلق کا نام ہے جس پر کسی کو اختیار نہیں ہوتا، خود آنحضرت ﷺ کو بھی اپنی تمام ازواج میں سے حضرت عائشہ ؓ سے زیادہ محبت تھی، اگر یہ قلبی میلان ظاہری حقوق کے مساوات میں مانع نہ بنے تو عند اللہ قابل مواخذہ نہیں۔ حدیث : جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے یہاں دو بیویاں ہوں اور وہ ایک ہی کا خیال رکھتا ہو تو قیامت میں وہ شخص اس حالت میں آئیگا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان یشایذھبکم . اور اگر وہ (تم کو فنا کرنا) چاہے تو تم کو فنا کر دے۔ ایہا الناس . اے لوگو ! کیونکہ اس کی مشیت تم کو فنا کرنے کے لئے کافی ہے۔ ویات باخرین . اور دوسری قوم کو (تمہاری جگہ) لے آئے جو تم سے زیادہ اللہ کی اطاعت گزار ہو یا یہ مراد ہے کہ اگر اللہ چاہے تو اے بنی آدم تم کو فنا کر دے اور تمہاری جگہ دوسری مخلوق کو لے آئے۔ وکان اللہ علی ذلک قدیرا . اور اللہ اس (فنا کرنے اور پیدا کرنے) پر پوری قدرت رکھتا ہے اس کو کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی۔ اس آیت میں اللہ کے غنی اور قادر ہونے کی تاکید ہے اور جو لوگ کفر اور نافرمانی کرتے ہیں ان کے لئے دھمکی ہے۔ سعید بن منصور اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(133) اے لوگو اگر وہ چاہے تو تمہیں ختم کرکے تم سے بہترین جو تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبردار ہو دوسری مخلوق کو پیدا کردے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یعنی اگر تم تقویٰ اختیار نہ کرو تو مت بھولو کہ وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ تم سب کو فنا کر دے اور تمہاری جگہ اور لوگوں کو یہاں بسا دے، جیسا کہ فرمایا : (وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۙ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا) [ محمد : 38 ] ”اور اگر تم پھر جاؤ گے تو وہ تمہاری جگہ تمہارے سوا اور لوگوں کو لے آئے گا، پھر وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 133–134

آیت نمبر : 133۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان یشایذھبکم “۔ اگر چاہے تو لے جائے تمہیں موت کے ساتھ (آیت) ” ایھا الناس “۔ یہ خطاب مشرکین ومنافقین کو ہے (آیت) ” ویات باخرین “۔ اور تمہارے علاوہ دوسرے لوگوں کو لے آئے، جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت سلیمان فارسی کی پیٹھ پر ہاتھ مارا اور فرمایا : ھم قوم ھذا وہ اس کی قوم ہے، بعض نے فرمایا : آیت عام ہے یعنی اگر تم انکار کروگے تو وہ تمہیں لے جائے گا اور ایسی مخلوق لے آئے گا جو تم سے زیادہ اللہ کی اطاعت گزار ہوگی، یہ اس طرح ہے جس طرح دوسری آیت میں فرمایا (آیت) ” وان تتولوا یستبدل قوما غیرکم ثم لا یکونوا امثالکم “۔ (محمد) اس آیت میں ہر اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 128–134

شوہر سے صلح کرنا (1) الطیالسی و ترمذی (نے اس کو حسن کہا) وابن المنذر و طبرانی و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سودہ ؓ اس بات سے ڈر گئیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کو طلاق دیں گے تو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھ کو طلاق نہ دیں اور میری باری عائشہ کو دے دیجئے آپ نے ایسا ہی کرلیا تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” وان امراۃ خافت من بعلہا نشوزا “ ابن عباس ؓ نے فرمایا دونوں میں کسی چیز پر صلح ہوجائے تو یہ جائز ہے۔ (2) ابن سعد و ابو داؤد اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس ٹھہرنے میں ہمارے بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور آپ ان میں ہر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اِنْ : اگر ] [ یَّشَاْ : وہ چاہے ] [ یُذْہِبْـکُمْ : تو وہ لے جائے گا تم کو ] [ اَیُّـہَا النَّاسُ : اے لوگو ] [ وَیَاْتِ : اور وہ لے آئے گا ] [ بِاٰخَرِیْنَ : دوسروں کو ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ عَلٰی ذٰلِکَ : اس پر ] [ قَدِیْرًا : قدرت رکھنے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (اِنْ یَّشَاْیُذْھِبْکُمْ اَیُّھَا النَّاسُ وَ یَاْتِ بِاٰخَرِیْنَ ) اے لوگو ! اللہ چاہے تو تم سب کو ختم کر دے اور تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے (وَ کَان اللّٰہُ عَلٰی ذٰلِکَ قَدِیْراً ) اور اللہ تعالیٰ کو اس پر پوری پوری قدرت ہے باوجود قدرت ہونے کے اس نے تم کو باقی رکھا ہے تم اس کی اطاعت و عبادت کو غنیمت جانو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 128–134

بیان بعض احکام متعلقہ بہ معاشرہ زوجین۔ قال تعالی، وان امرۃ خافت من بعلھا نشوزا۔۔۔ الی۔۔۔ حکیما۔ آیت۔ اوپر آیتوں میں ان احکام کا حوالہ تھا جو سورة نساء کے شروع میں گزر چکے اب یہاں سے عورتوں کے متعلق دوسرے نئے احکام بیان فرماتے ہیں جو میاں اور بیوی کے باہمی معاشرت سے متعلق ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی بدمزاجی یا بےالتفاتی اور بےاعتنائی سے ڈرے مثلا عورت بدشکل ہو یابڑھیا ہوگئی ہو اور اس کو قرائن سے یہ معلوم ہوجائے کہ اس کا شوہر اس کو طلاق دینا چاہتا ہے اور یا دوسری بیوی کرنا چاہتا ہے تو ایسی صورت میں میاں بیوی پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں مثلا یہ کہ عورت اپنا نفقہ اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 131–134

89 یہاں سے وَکَانَ اللہُ سَمِیْعاً بَصِیْراً تک تخویف اخروی ہے سب کچھ اللہ کے قبضہ اور اختیار میں ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے اس کے مواخذہ اور عذاب سے ڈرو فَاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِیْ السَّمٰوٰاتِ الخ اعادہ برائے تاکید مزید۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 131–134

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں ، یتیم بچیوں اور کمزور طبقات کے حقوق کا ذکر فرمایا ، پھر میاں بیوی کے درمیان نزاع کی صورت میں صلح کرنے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا کہ اگر عورت سمجھتی ہے کہ خاوند اعراض کر رہا ہے تو وہ اپنے حقوق میں کمی کر کے خاوند کو صلح پر آمادہ کرسکتی ہے تاکہ ان کے درمیان نباہ کی صورت پیداہ و سکے۔ متعدد بیویوں کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہر طرح سے انصاف قائم رکھنے کی تاکیدفرمائی ، اللہ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کسی ایک عورت کی طرف مکمل جھکاؤ ہو۔ اور دوسری کو لٹکتا ہوا چھوڑ دیاجائے ، فرمایا قانون کے مطابق ہر ایک کے ساتھ عدل قائم کرنا چاہئے۔ اس کے باوجود اگر کوئی خامی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنْ يَّشَاْ يُذْہِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ۝ 0ۭ وَكَانَ اللہُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا۝ 133 شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 133–134

1 ؎ عربوں میں جب دولت و سلطنت کے سبب وہ بات نہ رہی تو ترکوں کو اسلام کا حامی کھڑا کردیا اور جانے اب کس قوم کو حامی بناتا ہے۔ 12 منہ سوم۔ ان یشاء یذھبکم ایہا الناس ویات باخرین کے پیشتر وللّٰہ ما فی السموات وما فی الارض کو ذکرکے شریعت سے انحراف کے بد نتیجہ کو مدلل کرتا ہے اور جب کہ ایک دلیل چند مدلولات پر دلالت کرے تو بہ نسبت اس کے اس کو ایک بار ذکر کیا جاوے۔ یہ بہت خوبی رکھتا ہے کہ مکرر لایا جاوے۔ ایک مدلول کے لئے ایک بار وللّٰہ مافی السموات وما فی الارض کو ذکر کیا۔ پھر دوسرے مدلول کے لئے اسی کو ذکر کیا۔ پھر تیسرے مدلول کے لئے اسی کلمہ کا اعادہ فرما کر کلام کو حسن و خوبی میں یکتا کردیا۔ کس لئے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 132–133

وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلًا اِنْ یَّشَاْ یُذْہِبْکُمْ اَیُّہَا النَّاسُ وَیَاْتِ بِاٰخَرِیْنَ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی ذٰلِکَ قَدِیْرًا ” اور اللہ ہی مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور کارسازی کے لیے بس وہی کافی ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو ہٹا کر تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے۔ اور وہ اس کی پوری قدرت رکھتا ہے۔ “ (النسآء : 132 تا 133) اس آیت کریمہ میں جو حقیقت سابقہ آیت میں بیان فرمائی تھی اسے تیسری دفعہ دہرایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان نے جب بھی خود سری دکھائی ہے اور اپنی طاقت و قوت کے زعم میں کمزور انسانوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 133–134

فہم القرآن ربط کلام : اگر تم اللہ کی بغاوت اور نافرمانی کرو گے تو یاد رکھو تم اس کی قدرت سے باہر نہیں ہو وہ جب چاہے گا تمہاری صف لپیٹ کر کسی اور قوم کو زمین کا وارث بنا دے گا۔ اللہ تعالیٰ کے لیے ایسا کرنا قطعاً دُشوار نہیں ہے وہ کلی طور پر ایسا کرنے پر قادر ہے۔ دنیا کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے حد سے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر معاشرے کے کمزور طبقہ کو غالب کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی کشمکش اس بات پر زندہ ثبوت ہے۔ یہودی اپنی حد سے باہر ہوئے تو ان پر عیسائیوں کو مسلط فرمایا۔ عیسائی حدود پھلانگنے لگے تو کسی دوسری قوم کو غلبہ عطا ہوا۔ مسلمانوں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

عظمت قدرت : آیت 133 : اس آیت میں بندوں کو ڈرایا اور اپنی قدرت کو بیان فرمایا : اِنْ یَّشَاْ یُذْہِبْکُمْ (اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کر دے) اَیُّہَا النَّاسُ وَیَاْتِ بِاٰخَرِیْنَ (اے لوگو ! اور دوسروں کو لے آئے یا انسانوں کے علاوہ دوسری مخلوق لے آئے) وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی ذٰلِکَ قَدِیْرًا (اور اللہ تعالیٰ کو اس بات پر قدرت حاصل ہے) اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کو بلیغ انداز میں بیان فرمایا۔ (اور کفار کو دھمکی دی) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

133۔ (آیت)” ان یشاء یذھبکم “ تمہیں وہ ہلاک کر دے ۔ (آیت)” ایھا الناس “ اس سے مراد کفار ہیں ، (آیت)” ویات باخرین “۔ تمہارے علاوہ دوسری قوم لے آئے جو تم سے بہتر اور اطاعت گزار ہو ۔ (آیت)” وکان اللہ علی ذلک قدیرا “۔ قدیرا بمعنی قادر کے ہے ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 131–134

(131 ۔ 134) ۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ جس کو چاہے اپنے فضل سے خوش حال کر دے کیونکہ وہ بڑا صاحب فضل ہے ان آیتوں میں کشائش رزق بےپرواہی کار برابری تین باتوں کا ذکر فرما کر ہر ایک کے ساتھ فرمایا کہ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے تاکہ جو لوگ ایسے بڑے صاحب اختیار مالک کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو پوجتے یا کسی دوسرے سے اپنی حاجت روائی چاہتے ہیں ان کی نادانی معلوم ہوجائے اور جو لوگ دین اور دنیا کی بھلائی اللہ تعالیٰ سے چاہتے ہیں وہ خوب سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں دین اور دنیا کی بھلائی ہے وہ جو چاہے کرسکتا ہے۔ اسی تنبیہ کے لئے یہ بھی فرمایا کہ اللہ سے ڈر کر اسی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 133 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے وسیع اور عظیم اقتدار کے عموم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ شرعاً اور قدراً مختلف طریقوں سے کائنات کی تدبیر کرے اور گوناگوں تصرفات کے ذریعے سے اس کا بندوبست کرے۔ اس کا تصرف شرعی یہ ہے کہ اس نے اولین و آخرین، اور کتب سابقہ اور بعد میں نازل ہونے والی کتابوں کے ماننے والوں کو تقویٰ کی وصیت کی ہے جو امرو نہی، تشریح احکام اور اس شخص کے لئے ثواب کو متضمن ہے جو اس وصیت پر عمل کرتا ہے اور اس شخص کے لئے درد ناک عذاب کی وعید کو متضمن ہے جو اس وصیت کو ضائع کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وان تکفروا) ” اور اگر کفر کرو گے۔ “ یعنی اگر تم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 129–134

بیویوں میں پورا پورا عدل کرو قول باری ہے ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النساء ولو حرصتم فلا تمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقۃ۔ بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے تم چاہو بھی تو اس پر قادر نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھک جائو کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو ) ۔ ابوعبیدہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد دلی محبت اور میلان طبعی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ حسن اور قتادہ سے بھی یہی مروی ہے قول باری فلاتمیلواکل المیل۔ میں مراد۔ واللہ اعلم۔ یہ ہے کہ اس میلان کا بالفعل اس طرح اظہار نہ کیا جائے کہ ایک بیوی سے پوری طرح منہ موڑ کر دوسری بیوی کا رخ کرلیا جائے۔ اس پر قول باری فتذروھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 132–133

340 کائنات میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ آسمان و زمین میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے کہ اس سب کا خالق بھی وہی ہے، مالک بھی وہی۔ اور اس میں حکم و تصرف بھی اسی کا چلتا ہے۔ اس میں کوئی بھی اس کا شریک وسہیم نہیں۔ پس اسی پر اعتماد و یقین رکھنا عقل و نقل اور مومن کے ایمان کا تقاضا ہے۔ پس بڑے بہکے بھٹکے اور سخت گمراہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے طرح طرح کی دوسری ہستیوں کو اس کا شریک وسہیم ٹھہرا رکھا ہے ۔ تبارک و تعالیٰ ۔ اور وہ بھی جو اس کی اس خدائی اور کائنات میں اس کے حکم و قانون کے خلاف اپنی مرضی کے مطابق حکم و قانون چلاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس جب یہ ساری…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 133–134

اللہ سب سے بےنیاز ہے تشریح : پچھلی آیات میں کیونکہ عورتوں اور یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کا سبق دیا گیا ہے۔ لہٰذا اس کے بعد یہ ضروری ہوگیا کہ مسلمانوں کو چند حقائق سمجھا دیئے جائیں تو اس سلسلے میں اچھی طرح واضح کردیا گیا کہ روزی دینے والا، نصیب بنانے والا اور جزا و سزا دینے والا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے جو بھی کرو اس کے ڈر خوف کو سامنے رکھ کر کرو۔ اس کے بعد وضاحت فرمائی کہ جس نیت سے کوئی عمل کرے گا اسے اس کے مطابق اجر ملے گا۔ دنیا کے غرض مند کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ نیز فرمایا کہ : میرا خزانہ بڑا وسیع اور بھرا ہوا ہے، اس لیے مجھ سے مانگتے وقت تمام جہانوں کی بھلائیاں مانگو جو صرف دنیا کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 127–134

رکوع نمبر 19 ۔ آیات 127 تا 134 ۔ ویستفتونک ۔۔۔۔۔ سمیعا بصیرا۔ اسرار و معارف : پھر بات اپنے اصل موضوع کو پلٹتی ہے کہ قبل اسلام عورت کو انسان سمجھا ہی نہ جاتا تھا۔ اسلام نے اسے میراث میں حقوق دلوا دئیے اور وراثت تک میں حصہ دار بنا دیا کہاں سے اٹھایا کہاں پہنچا دیا ؟ جبکہ اہل عرب تو عورتوں کو خود میراث سمجھ کر بانٹ لیا کرتے تھے۔ سو بعض طبقوں نے ان امور کی تصدیق چاہی کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام عورت کو مرد کی طرح وراثت میں حصہ قرار دے شاید وقتی طور پر ایسا کیا گیا ہوگا ممکن ہے کچھ خاص لوگوں کے لیے ہو ورنہ وہاں تو یہ سوچنا بھی ممکن نظر نہ آتا تھا سو ارشاد ہوا کہ ابھی تک آپ کی بارگاہ میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 133–134

ف 4 یعنی شریعت کے احکام پر عمل کرنے میں دنیا اور آخرت دونوں کا فائدہ ہے۔ لہذا دنیا کے لالچ میں آکر اللہ تعالیٰ کے احکام سے اعراض نہ کرو۔ (م۔ ع)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 129–134

آیت نمبر 129-134 لغات القرآن : لن تستطیعوا، ہرگز تم طاقت نہیں رکھتے۔ ان تعدلوا، یہ کہ تم (پورا پورا) انصاف کرو۔ لو حرصتم، اگرچہ تم خواہش مند ہو۔ لاتمیلوا، مائل نہ ہوجاؤ، جھک نہ پڑو۔ تذروھا، تم چھوڑ دو اس کو۔ کالمعلقۃ، جیسے بیچ میں لٹکی ہوئی۔ یتفرقا، دونوں جدا جدا ہوجائیں۔ یغن اللہ، اللہ بےنیاز کر دے گا۔ کل، ہر ایک کو۔ تشریح : انسان فطرتاً کمزور ہے، اس کے لئے چند بیویوں کے درمیان برابر عدل و انصاف رکھنا بہت مشکل کام ہے۔ کوئی زیادہ حسین زیادہ جوان، زیادہ دولت والی یا علم و عقل والی یا سلیقہ مند ہوسکتی ہے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا ہے کہ بےاختیاری باتوں میں تو کسی قدر چھوٹ دی جاسکتی ہے لیکن…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 131–134

ان آیتوں میں کشائش رزق، بےپروائی، کاربرآری تین باتوں کا ذکر فرما کر ہر ایک کے ساتھ فرمایا کہ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ اس کی فرمانبرداری کرو اور اس کے حکم کے خلاف نہ کرو، توحید اور شریعت پر قائم رہو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ تقویٰ اور پرہیزگاری کا حکم قدیم ہے تمام امتوں کو اس کی تاکید ہوتی رہی ہے۔ تمام جہان اس کی فرمانبرداری سے بھرا ہے۔ تمہارے کفر سے اس کا کیا نقصان ہوتا ہے، تمام خلق کو ان کی عبادت سے معدوم کردے۔ معنی یہ ہیں کہ جس کو اپنے عمل سے دنیا مقصود ہو اور اس کی مراد اتنی ہی ہو اللہ اس کو دے دیتا ہے اور ثواب سے وہ محروم رہتا ہے اور جس نے عمل رضاء الٰہی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 129–134

[83] شروع سورت (آیت نمبر 3) میں تعداد ازواج کی اجازت عدل کے ساتھ مشروط کی گئی تھی اور فرمایا گیا تھا کہ اگر عدل نہ کرسکو تو ایک بیوی پر قناعت رکھنا۔ اس موقع پر عدل سے مراد تھی معاملات میں عدل (ملاحظہ ہو حاشیہ 4) ۔ اس آیت میں عدل سے مراد مساوات امور غیر اختیاری ہے، مثلاً محبت ورغبت میں اور ایسی مساوات کامل تو والدین بھی اپنی ساری اولاد کے درمیان نہیں رکھ سکتے۔ لفظ عدل دونوں جگہ مشترک ہے۔ لیکن مفہوم الگ الگ ہے اور اس اسلوب بیان کی مثالیں قرآن میں بکثرت ملتی ہیں۔ علاوہ ازیں اگر عدل کو ناممکن قرار دے کر قرآن تعدد ازواج کی اجازت کو منسوخ کردیتا ہے جیسا کہ بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ نتیجہ نکالا ہے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 132–134

(ف 2) مقصد یہ ہے کہ خدا کے خزانوں میں دین وعقبی کی نعمتوں سے بہرہ کثیر ہے ، مبارک ہیں وہ لوگ جو اپنے نصب العین کو بلند رکھتے ہیں اور جن کی نظریں زمین کی بستی سے گزر کر آسمانوں کی بلندیوں کا جائزہ لیتی ہیں یعنی وہ جو دنیا کی سعادتوں اور مسرتوں کو اپنا مقصود نظر نہیں بناتے بلکہ اخری کی روحانی کیفیتیں ان کا حاصل ہیں ۔ حل لغات : قومین بالقسط : تابحد مبالغہ ۔ انصاف کا حامی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 132–133

ف 3 اور اگر دونوں میاں بیوی میں اتفاق اور صلح کی کوئی شکل نہ نکلے اور وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہی ہوجائیں یعنی چھوٹ چھٹائو ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اپنی کشائش اور وسعت قدرت کی برکت سے ہر ایک کو دوسرے سے بےنیاز اور مستغنی کر دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا صاحب وسعت اور بڑی حکمت والا ہے اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو چیزیں زمین میں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی ملک اور اسی کی مملوک ہیں اور یقینا جن لوگوں کو ہم نے تم سے پہلے کتاب دی تھی ان کو بھی یہ حکم دیا تھا اور تم کو بھی یہی حکم دیا ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور نیز یہ کہ اگر تم کفر کی روش اختیار کرو گے اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 131–134

ف 4۔ تو ایسے مالک کے احکام ماننا بہت ہی ضروری ہے۔ 5۔ اس کو تقوی کہتے ہیں جس میں تمام احکام کی موافقت داخل ہے۔ 1۔ یعنی مخالفت احکام کی کرو گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

لوگو ! غافل نہ ہو تم کو لے جا کر دوسروں کو لا بسانے کا قانون بھی اس کے ہاں موجود ہے : 217: غور کرو گے تو اپنے گھر ہی سے تم کو اس کی شہادت میسر آجائے گی دور جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس گھر میں جس میں آج تم بس رہے ہو اگر تم کو یہ ورثہ میں ملا ہے تو آخر کیو نکر ملا ہے۔ یہ وہی گھر ہے جو تمہارے باپ دادا نے بنایا تھا لیکن آج ان کا نام و نشان بھی نہیں ملتا اور آج تم اس کے مالک ہو۔ تم کو یقین نہیں آتا کہ کل تم نہیں ہو گے تو یہ گھر یہیں رہے گا لیکن اس کے مکین بدل چکے ہوں گے۔ یہی حال قوم زندگی کا ہے۔ انسان اپنی تاریخ کو غور سے دیکھے تو اسے معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں ہے جس کا سارا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 133–134

The third mention of these words embodies a statement of Allah's mercy which makes things work for people. It means: Should one fear Allah and be obedient to Him, Allah will fulfill all his needs, because He is the owner of everything in this universe.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 129–133

161. This means that it is not possible for a man to accord complete equality of treatment to two or more wives under all circumstances and in all respects. It is possible that one is ugly, the other beautiful; one is old, the other young; one is permanently sick, the other healthy; one is irritable, the other good-tempered. These and other differences are likely to make a person less attracted to one and more to the other. In such circumstances, the Law does not demand that one should necessarily maintain absolute equality between the wives in respect of love, emotional attachment and sexual…

Read the full tafseer →