Explained with ayahs 131–134
مانگو تو صرف اللہ اعلیٰ و اکبر سے مانگو
اللہ تعالیٰ مطلع کرتا ہے کہ زمین و آسمان کا مالک اور حاکم وہی ہے فرماتا ہے جو احکام تمہیں دیئے جاتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو اس کی وحدانیت کو مانو اس کی عبادت کرو اور کسی اور کی عبادت نہ کرو یہی احکام تم سے پہلے کے اہل کتاب کو بھی دئے گئے تھے اور اگر تم کفر کرو (تو اللہ کا کیا بگاڑو گے ؟) وہ تو زمین آسمان کا تنہا مالک ہے، جیسے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کفر کرنے لگو تو بھی اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور لائق ستائش ہے اور جگہ فرمایا (فَكَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ ۭ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ) 64۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–133
سورة النِّسَآء 161
مطلب یہ ہے کہ آدمی تمام حالات میں تمام حیثیتوں سے دو یا زائد بیویوں کے درمیان مساوات نہیں برت سکتا۔ ایک خوبصورت ہے اور دوسری بدصورت، ایک جوان ہے اور دوسری سن رسیدہ، ایک دائم المرض ہے اور دوسری تندرست، ایک بدمزاج ہے اور دوسری خوش مزاج اور اسی طرح کے دوسرے تفاوت بھی ممکن ہیں جن کی وجہ سے ایک بیوی کی طرف طبعًا آدمی کی رغبت کم اور دوسری کی طرف زیادہ ہو سکتی ہے۔ ایسی حالتوں میں قانون یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ محبت ورغبت اور جسمانی تعلق میں ضرور ہی دونوں کے درمیان مساوات رکھی جائے۔ بلکہ صرف یہ مطالبہ کرتا ہے کہ جب تم بےرغبتی کے باوجود ایک عورت کو طلاق نہیں دیتے اور اس کی اپنی خواہش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
ربط آیات
عورتوں اور یتیموں کے احکام بیان کرنے کے بعد قرآنی اسلوب کے مطابق پھر ترغیب و ترہیب کا مضمون ارشاد فرمایا گیا۔
خلاصہ تفسیر
اور اللہ تعالیٰ کی ملک ہیں جو چیزیں کہ آسمان میں ہیں اور جو چیزیں کہ زمین میں ہیں (تو ایسے مالک کے احکام کا ماننا بہت ہی ضرری ہے) اور (بجا آوری احکام کا خطاب خاص تم ہی کو نہیں ہوا بلکہ) واقعی ہم نے ان لوگوں کو بھی حکم دیا تھا جن کو تم سے پہلے کتاب (آسمانی یعنی توراة و انجیل) ملی تھی اور تم کو بھی (حکم دیا ہے) کہ اللہ تعالیٰ سے ڈر (جس کو تقوی کہتے ہیں، جس میں تمام احکام کی موافقت داخل ہے، اسی لئے اس سورة کو تقوی سے شروع کر کے اس کی تفصیل میں مختلف احکام لائے ہیں)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
131۔ 134:۔ وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭوَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَاِيَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَ ۭ وَاِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ غَنِيًّا حَمِيْدًا۔ وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا۔ اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا۔ مَنْ كَانَ يُرِيْدُ ثَوَابَ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللّٰهِ ثَوَابُ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا۔
ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–132
130۔ 1 یہ تیسری صورت ہے کہ کوشش کے باوجود اگر نباہ کی صورت نہ بنے پھر طلاق کے ذریعے علیحدگی اختیار کرلی جائے۔ ممکن ہے علیحدگی کے بعد مرد کو مطلوبہ صفات والی بیوی اور عورت کو مطلوبہ صفات والا مرد مل جائے۔ اسلام میں طلاق کو اگرچہ سخت ناپسند کیا گیا ہے، طلاق حلال تو ہے لیکن یہ ایسا حلال ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہے " اس کے باوجود اللہ نے اس کی اجازت دی ہے اس لئے کہ بعض دفعہ حالات ایسے موڑ پر پہنچ جاتے ہیں کہ اس کے بغیر چارہ نہیں ہوتا اور فریقین کی بہتری اسی میں ہوتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرلیں۔ مزکورہ حدیث میں صحت اسناد کے اعتبار سے اگرچہ ضعف ہے تاہم قرآن وسنت کی نصوص سے یہ واضح ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–133
80: یہ جملہ کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے، ان آیتوں میں تین بار دہرایا گیا ہے، پہلی مرتبہ اس کا مقصد میاں بیوی کو یہ اطمینان دلانا ہے کہ اللہ کی رحمت کے خزانے بڑے وسیع ہیں وہ دونوں کے لئے کوئی مناسب ذریعہ پیدا کرسکتا ہے، دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کی بےنیازی بیان کرنا مقصود ہے کہ کسی کے کفر سے اس کا کوئی نقصان نہیں ہے ؛ کیونکہ ساری کائنات اس کے تابع فرمان ہے، اسے کسی کی حاجت نہیں ہے، اور تیسری جگہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور کارسازی کا بیان ہے کہ اگر تم تقوی اور اطاعت کا راستہ اختیار کرو تو وہ تمہارے سارے کام بنادے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
(آیت) ” 131 تا 134۔
قرآن کریم میں احکام ونواہی کے بیان کے بعد بار بار یہ تعقیب آتی ہے کہ اللہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا مالک ہے ۔ یا یہ لفظ آتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کے لئے ہے ۔ یہ دونوں امور ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں اس لئے کہ جو بادشاہ اور مالک ہوتا ہے ‘ اپنی مملکت میں امر اور نہی بھی اسی کا چلتا ہے ۔ اس کی مملکت میں جو لوگ بستے ہیں وہ اس کے محکوم ہوں گے اور اس کائنات میں چونکہ اللہ وحدہ مالک ہے تو اس وجہ سے اس دنیا میں صرف اس کا حکم چلے گا اور وہی لوگوں کے لئے قانون بنانے کا حقدار ہوگا ۔ دونوں امور دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
جن لوگوں پر کتاب اتاری گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
1 اوپر سے ترغیب و ترہیب کا ذکر چلا آتا تھا یعنی حکم خداوندی کی اطاعت کرنا اور اس کی مخالفت سے بچنا سب کو ضرور ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی کی بات کی طرف کان رکھنا ہرگز جائز نہیں۔ بیچ میں چند حکم یتیموں اور عورتوں کے متعلق جن میں لوگ مبتلا تھے بیان فرما کر پھر اس ترغیب و ترہیب کا بیان ہے۔ ان دونوں آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ تم کو اور تم سے پہلوں کو سب کو یہ حکم سنا دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس کی نافرمانی نہ کرو تو اب اگر کوئی اس کے حکم کو نہ مانے تو وہ سب چیزوں کا مالک ہے اس کو کسی کی پروا نہیں یعنی اپنا ہی کچھ بگاڑے گا اس کا کچھ نقصان نہیں اور فرمانبرداری کرو گے تو سمجھ لو کہ وہ تمام…
Read the full tafseer →آیت 132 وَلِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَکَفٰی باللّٰہِ وَکِیْلاً ۔
اگر میاں بیوی میں واقعی نباہ نہیں ہورہا تو بیشک وہ علیحدگی اختیارکر لیں ‘ دونوں کا کارساز اللہ ہے۔ عورت بھی یہ سمجھے کہ میرا شوہر مجھ پر جو ظلم کر رہا ہے اور میرے ساتھ انصاف نہیں کر رہا ہے ‘ اس صورت میں اگر میں اس سے تعلق منقطع کرلوں گی تو اللہ کار ساز ہے ‘ وہ میرے لیے کوئی راستہ پیدا کر دے گا۔ اور اسی طرح کی سوچ مرد کی بھی ہونی چاہیے۔ اس کے برعکس یہ سوچ انتہائی احمقانہ اور خلاف شریعت ہے کہ ہر صورت میں عورت سے نباہ کرنا ہے ‘ چاہے اللہ سے بغاوت ہی کیوں نہ ہوجائے۔ لہٰذا ہرچیز کو اس کے مقام پر رکھنا چاہیے۔
Read the full tafseer →175 شرعی احکام انسانوں کی مصالح پر مبنی ہیں :۔ ان آیات 130 تا 132 میں تین بار یہ جملہ دہرایا گیا ہے ( وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ وَكَفٰى باللّٰهِ وَكِيْلًا 132۔ ) 4 ۔ النسآء :132) اور تینوں دفعہ اس کا استعمال الگ الگ مقصد کے لیے ہوا ہے۔ پہلی بار سے کشائش اور وسعت مقصود ہے یعنی اس کے یہاں کسی چیز کی کمی نہیں۔ کیونکہ آسمانوں اور زمین کی ایک ایک چیز اسی کی ملکیت ہے، اگر کسی جوڑے میں حالات کی ناسازگاری کی بنا پر جدائی ہوگئی ہے تو اللہ ان دونوں کے لیے بہتر حالات پیدا کرسکتا ہے کیونکہ ہر طرح کے اسباب و وسائل پر اس کا پورا پورا کنٹرول ہے۔ دوسری بار یہ جملہ ایک دوسرے مدلول کی…
Read the full tafseer →350 ۔ اس کی کارسازی عالم کو ناکافی سمجھ کر کسی مخلوق کی طرف التفات کرنا اور اس سے کارسازی کی توقع رکھنا کیسی خرافت ہے) خلقت کائنات دتدبیر کائنات سب اس کے لئے آسان ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–134
وَلَنْ تسّطیعوا ان تعدلو ابین النساء (الایة) اس آیت میں ایک دوسری صورت کا بیان ہے کہ ایک شخص کی ایک سے زائد بیویاں ہوں تو دلی تعلق اور محبت میں وہ سب کے ساتھ ایک سا سلوک نہیں کرسکتا اسلئے کہ محبت، دلی تعلق کا نام ہے جس پر کسی کو اختیار نہیں ہوتا، خود آنحضرت ﷺ کو بھی اپنی تمام ازواج میں سے حضرت عائشہ ؓ سے زیادہ محبت تھی، اگر یہ قلبی میلان ظاہری حقوق کے مساوات میں مانع نہ بنے تو عند اللہ قابل مواخذہ نہیں۔
حدیث : جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے یہاں دو بیویاں ہوں اور وہ ایک ہی کا خیال رکھتا ہو تو قیامت میں وہ شخص اس حالت میں آئیگا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہوگا۔
Read the full tafseer →وللہ ما فی السموات وما فی الارض . یہ جملہ آئندہ جملہ کے مضمون کی تمہید ہے تیسری مرتبہ ذکر کرنے سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ وہ اس امر کے قابل اور مستحق ہے کہ اس پر بھروسہ کیا جائے۔
وکفی باللہ وکیلا ممکن ہے کہ اس جملہ کا تعلق آیت یعنی اللّٰہ کُلاًّ مِّنْ سَعَتِہٖسے ہو کیونکہ یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ مرد اور عورت دونوں کی کارسازی کا اللہ ذمہ داری ہے اور اس جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کی ذمہ داری کافی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
(131۔ 132) تمام آسمانوں اور زمینوں کے خزانے اور ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں داخل ہے۔
اور ہم نے اہل توریت کو توریت میں اور اہل انجیل کو انجیل میں اور ہر ایک کتاب والے کو اس کی کتاب میں اور امت محمدیہ ﷺ کو ان کی کتاب میں اطاعت خداوندی کا حکم دیا تھا اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرو تو تمام فرشتے اور جن و انس سب اسکی غلامی میں داخل ہیں، اور وہ تمہارے ایمان سے بےنیاز ہے وہ تمہارا محتاج نہیں لیکن اس کی بندہ نوازی ہے کہ ہو تمہاری معمولی سی نیکی قبول کرتا ہے اور بہت زیادہ ثواب دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ : گزشتہ آیات میں عورتوں اور یتیم بچوں سے متعلق احکام بیان کیے گئے تھے، اب جو یہ فرمایا کہ زمین و آسمان کی ہر شے اللہ کی ہے، تو اس سے لوگوں کو یہ بتانا مقصود ہے کہ ان احکام پر عمل کرنے میں تمہارا ہی فائدہ ہے، اللہ تعالیٰ کسی کے فائدے اور نقصان سے بےنیاز ہے۔
وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ۔۔ : یعنی تم سے پہلے لوگوں کو اور تم سب کو اس بات کا تاکیداً حکم دیا گیا کہ اللہ سے ڈرو، یعنی اس کے دیے گئے احکام پر عمل کرو۔ یہ جملہ ”اتَّقُوا اللّٰهَ“ قرآن کی تمام آیات کے لیے بمنزلہ رحی (چکی) کے ہے کہ اسی کی لٹھ پر تمام آیات گھومتی ہیں۔ ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–132
آیت نمبر : 130 تا 132۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وان یتفرقا یغن اللہ کلا من سعتہ “۔ یعنی اگر صلح نہ کریں بلکہ جدا ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ کے متعلق اچھا گمان کریں، اللہ تعالیٰ مرد کو ایسی بیوی دے گا جس سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی اور عورت کو ایسا مرد عطا فرمائے گا جو اس پر کشادگی کرے گا۔ جعفر بن محمد سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ان سے غربت کی شکایت کی تو انہوں نے اسے نکاح کرنے کا حکم دیا، وہ شخص گیا اس نے نکاح کرلیا پھر وہ آیا اور غربت کی شکایت کی، انہوں نے اسے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیا پھر ان سے اس آیت کے متعلق کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : میں نے اسے نکاح کا حکم دیا کہ شاید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–134
شوہر سے صلح کرنا
(1) الطیالسی و ترمذی (نے اس کو حسن کہا) وابن المنذر و طبرانی و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سودہ ؓ اس بات سے ڈر گئیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کو طلاق دیں گے تو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھ کو طلاق نہ دیں اور میری باری عائشہ کو دے دیجئے آپ نے ایسا ہی کرلیا تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” وان امراۃ خافت من بعلہا نشوزا “ ابن عباس ؓ نے فرمایا دونوں میں کسی چیز پر صلح ہوجائے تو یہ جائز ہے۔
(2) ابن سعد و ابو داؤد اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس ٹھہرنے میں ہمارے بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور آپ ان میں ہر…
Read the full tafseer →[ وَلِلّٰہِ : اور اللہ ہی کے لیے ہے ] [ مَا : وہ ‘ جو ] [ فِی السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [ وَمَا : اور وہ ‘ جو ] [ فِی الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [ وَکَفٰی : اور کافی ہے ] [ بِاللّٰہِ : اللہ ] [ وَکِیْلاً : بطور کام نکالنے والے کے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے وہ غنی اور حمید ہے سمیع اور بصیر ہے
ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے سب اسی کی مخلوق ہیں مملوک ہیں اور اس کے بندے ہیں۔ اسے سب اختیار ہے تکوینی طور پر جس حال میں رکھے۔ اور تشریعی طور پر جو چاہے حکم دے۔ کسی کو کچھ ذرا بھی اعتراض کا حق نہیں، اور فرمایا کہ جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان کو اور تم کو اللہ نے یہ وصیت فرمائی ہے یعنی تاکیدی طور پر حکم دیا ہے کہ اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرنے ہی میں سارے دین پر عمل کرنے کا حکم آجاتا ہے، فرائض و واجبات کی پابندی اور گناہوں کا چھوڑنا یہ سب تقویٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–134
بیان بعض احکام متعلقہ بہ معاشرہ زوجین۔
قال تعالی، وان امرۃ خافت من بعلھا نشوزا۔۔۔ الی۔۔۔ حکیما۔ آیت۔
اوپر آیتوں میں ان احکام کا حوالہ تھا جو سورة نساء کے شروع میں گزر چکے اب یہاں سے عورتوں کے متعلق دوسرے نئے احکام بیان فرماتے ہیں جو میاں اور بیوی کے باہمی معاشرت سے متعلق ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی بدمزاجی یا بےالتفاتی اور بےاعتنائی سے ڈرے مثلا عورت بدشکل ہو یابڑھیا ہوگئی ہو اور اس کو قرائن سے یہ معلوم ہوجائے کہ اس کا شوہر اس کو طلاق دینا چاہتا ہے اور یا دوسری بیوی کرنا چاہتا ہے تو ایسی صورت میں میاں بیوی پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں مثلا یہ کہ عورت اپنا نفقہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
89 یہاں سے وَکَانَ اللہُ سَمِیْعاً بَصِیْراً تک تخویف اخروی ہے سب کچھ اللہ کے قبضہ اور اختیار میں ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے اس کے مواخذہ اور عذاب سے ڈرو فَاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِیْ السَّمٰوٰاتِ الخ اعادہ برائے تاکید مزید۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں ، یتیم بچیوں اور کمزور طبقات کے حقوق کا ذکر فرمایا ، پھر میاں بیوی کے درمیان نزاع کی صورت میں صلح کرنے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا کہ اگر عورت سمجھتی ہے کہ خاوند اعراض کر رہا ہے تو وہ اپنے حقوق میں کمی کر کے خاوند کو صلح پر آمادہ کرسکتی ہے تاکہ ان کے درمیان نباہ کی صورت پیداہ و سکے۔ متعدد بیویوں کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہر طرح سے انصاف قائم رکھنے کی تاکیدفرمائی ، اللہ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کسی ایک عورت کی طرف مکمل جھکاؤ ہو۔ اور دوسری کو لٹکتا ہوا چھوڑ دیاجائے ، فرمایا قانون کے مطابق ہر ایک کے ساتھ عدل قائم کرنا چاہئے۔ اس کے باوجود اگر کوئی خامی…
Read the full tafseer →وَلِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ 0ۭ وَكَفٰى بِاللہِ وَكِيْلًا 132
كفى
الكِفَايَةُ : ما فيه سدّ الخلّة وبلوغ المراد في الأمر . قال تعالی: وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتالَ
[ الأحزاب/ 25] ، إِنَّا كَفَيْناكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ [ الحجر/ 95] . وقوله : وَكَفى بِاللَّهِ شَهِيداً [ النساء/ 79] قيل : معناه : كفى اللہ شهيدا، والباء زائدة . وقیل : معناه : اكْتَفِ بالله شهيدا «1» ، والکُفْيَةُ من القوت : ما فيه كِفَايَةٌ ، والجمع : كُفًى، ويقال : كَافِيكَ فلان من رجل، کقولک : حسبک من رجل .
( کی ) الکفایۃ
وہ چیز جس سے ضرورت پوری اور مراد حاصل ہوجائے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَكَفَى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
ترکیب : وایاکم معطوف ہے الذین پر۔ ان اتقوا اللّٰہ بیان ہے وصیت کا اور ب محذوف ہے۔ ان شرطیہ یشاء کا مفعول محذوف ہے یذھبکم جواب اور یات اس پر معطوف ہے۔
تفسیر : یہاں واسع ہونے کی دلیل اور کلمہ سابق کا تتمہ ہے وللّٰہ مافی السموات والارض کہ جو کچھ زمین و آسمان میں ہے سب اسی کا ہے۔ اس کو کس چیز کی کمی ہے اور اسی جملہ کو ولقد وصینا الآیہ کے لئے تمہید اور دلیل بنا کر اور اپنی عظمت وکبریائی بتا کر یہ بات بتلاتا ہے کہ کچھ تمہیں کو شریعت اور احکامِ الٰہی پر چلنے کا حکم نہیں ہوا ہے بلکہ تم کو اور جو تم سے پہلے اہل کتاب ہیں ان کو بھی خدا سے ڈرنے کا (جو تمام شریعت اور احکامِ الٰہی پر چلنے کے لئے محرک ہے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–133
وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلًا اِنْ یَّشَاْ یُذْہِبْکُمْ اَیُّہَا النَّاسُ وَیَاْتِ بِاٰخَرِیْنَ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی ذٰلِکَ قَدِیْرًا
” اور اللہ ہی مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور کارسازی کے لیے بس وہی کافی ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو ہٹا کر تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے۔ اور وہ اس کی پوری قدرت رکھتا ہے۔ “ (النسآء : 132 تا 133)
اس آیت کریمہ میں جو حقیقت سابقہ آیت میں بیان فرمائی تھی اسے تیسری دفعہ دہرایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان نے جب بھی خود سری دکھائی ہے اور اپنی طاقت و قوت کے زعم میں کمزور انسانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
فہم القرآن
ربط کلام : پچھلی آیت میں دونوں کو تسلی دی تھی۔ یہاں فرمایا کہ میاں بیوی اور زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں ہے۔ وہ سب کا رازق اور وارث ہے۔ البتہ اس کا تمہیں اور سب لوگوں کو یہی حکم تھا اور ہے کہ ظلم و زیادتی اور اللہ کی نافرمانی سے بچ کر رہنا۔
یہاں مزید تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ایک گھر آباد نہیں رہا تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمان کا مالک ہے وہ تمہارے لیے کسی اور گھر کا انتظام کر دے گا۔ یہی ہدایات ان لوگوں کو دی گئیں جنہیں تم سے پہلے تورات، انجیل، زبور اور آسمانی کتابیں دی گئیں تھیں۔ تمہیں بھی یہی نصیحت کی جاتی ہے کہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو…
Read the full tafseer →کار ساز وہی ہے :
آیت 132 : وَلِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلًا (اور اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت میں ہے جو آسمانوں اور جو زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ کا کارساز ہونا کافی ہے) پس اسی کو کار ساز بنائو۔ غیروں پر بھروسہ نہ کرو۔
Read the full tafseer →132۔ (آیت)” وللہ ما فی السموت وما فی الارض وکفی باللہ وکیلا “۔ عکرمہ (رح) ابن عباس ؓ کے حوالے سے لکھتے ہیں یعنی وہ گواہ ہیں جو اس میں غلام رہتے ہیں اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد اجیر ہیں ۔ (آیت)” وللہ ما فی السموت وما فی الارض “ ۔ میں تکرار لانے کا کیا فائدہ ہے ، بعض نے کہا کہ ان کو جدا جدا ذکر کرنے میں مختلف وجوہات ہیں ۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ (آیت)” للہ ما فی السموت وما فی الارض “ ۔ میں تمہیں تقوی کی وصیت کرتے ہیں ، لہذا اس کی وصیت قبول کرو اور دوسری وجہ یہ ہے کہ (آیت)” فان للہ ما فی السموت وما فی الارض وکان اللہ غنیا “۔ وہ غنی ہے اور اسی کے لیے بادشاہت ہے ۔ لہذا جو چیز تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
(131 ۔ 134) ۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ جس کو چاہے اپنے فضل سے خوش حال کر دے کیونکہ وہ بڑا صاحب فضل ہے ان آیتوں میں کشائش رزق بےپرواہی کار برابری تین باتوں کا ذکر فرما کر ہر ایک کے ساتھ فرمایا کہ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے تاکہ جو لوگ ایسے بڑے صاحب اختیار مالک کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو پوجتے یا کسی دوسرے سے اپنی حاجت روائی چاہتے ہیں ان کی نادانی معلوم ہوجائے اور جو لوگ دین اور دنیا کی بھلائی اللہ تعالیٰ سے چاہتے ہیں وہ خوب سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں دین اور دنیا کی بھلائی ہے وہ جو چاہے کرسکتا ہے۔ اسی تنبیہ کے لئے یہ بھی فرمایا کہ اللہ سے ڈر کر اسی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–132
آیت 130
میاں بیوی کے درمیان تیسری حالت یہ ہے کہ جب اتفاق کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو دونوں کے درمیان علیحدگی میں کوئی حرج نہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وان یتفرقا) ” اور اگر وہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں۔ “ یعنی اگر دونوں طلاق، فسخ یا خلع کے ذریعے سے ایک دوسرے سے علیحدہ ہوجائیں (یغن اللہ کلا من سعتہ) ” اللہ تعالیٰ دونوں میاں بیوی کو اپنے فضل و کرم اور لامحدود احسان کے ذریعے سے ایک دوسرے سے بےنیاز کر دے گا “ شوہر کو کسی دوسری بیوی کے ذریعے سے پہلی بیوی اور بیوی کو اپنے فضل و کرم سے مستغنی کر دے گا۔ اگر بیوی کا اپنے شوہر کے رزق میں سے حصہ ختم ہوگیا ہے تو اس کا رزق اس ہستی کے ذمے ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–134
بیویوں میں پورا پورا عدل کرو
قول باری ہے ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النساء ولو حرصتم فلا تمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقۃ۔ بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے تم چاہو بھی تو اس پر قادر نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھک جائو کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو ) ۔ ابوعبیدہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد دلی محبت اور میلان طبعی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ حسن اور قتادہ سے بھی یہی مروی ہے قول باری فلاتمیلواکل المیل۔ میں مراد۔ واللہ اعلم۔ یہ ہے کہ اس میلان کا بالفعل اس طرح اظہار نہ کیا جائے کہ ایک بیوی سے پوری طرح منہ موڑ کر دوسری بیوی کا رخ کرلیا جائے۔ اس پر قول باری فتذروھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–133
340 کائنات میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ آسمان و زمین میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے کہ اس سب کا خالق بھی وہی ہے، مالک بھی وہی۔ اور اس میں حکم و تصرف بھی اسی کا چلتا ہے۔ اس میں کوئی بھی اس کا شریک وسہیم نہیں۔ پس اسی پر اعتماد و یقین رکھنا عقل و نقل اور مومن کے ایمان کا تقاضا ہے۔ پس بڑے بہکے بھٹکے اور سخت گمراہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے طرح طرح کی دوسری ہستیوں کو اس کا شریک وسہیم ٹھہرا رکھا ہے ۔ تبارک و تعالیٰ ۔ اور وہ بھی جو اس کی اس خدائی اور کائنات میں اس کے حکم و قانون کے خلاف اپنی مرضی کے مطابق حکم و قانون چلاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس جب یہ ساری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
اللہ کا خوف
تشریح : اللہ رب العزت کی عظمت اور حاکمیت کا ذکر ان آیات میں تین مرتبہ کیا گیا ہے یہ کہہ کر کہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب کچھ اللہ کا ہے وہ اللہ جو اپنی اس تمام بادشاہت میں بالکل اکیلا ہے، وہ خود ہی تمام انتظامات کرتا ہے اس کو ان تمام انتظامات کو سنبھالنے میں ذرا بھی مشکل پیش نہیں آتی۔ آیۃ الکرسی میں اس موضوع پر بڑی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں حکم دیا جارہا ہے کہ توحید کا سبق تم سے پہلی قوموں کو بھی دیا جاچکا ہے اور یہ کہ ایمان پختہ رکھو کہ اللہ سے ضرور ملنا ہے موت کے بعد۔ تاکہ جو بھی کام کرو تو یہ سوچ کر کرو کہ اللہ رب العزت دیکھ رہا ہے، اعمال لکھے جارہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–134
رکوع نمبر 19 ۔ آیات 127 تا 134 ۔
ویستفتونک ۔۔۔۔۔ سمیعا بصیرا۔
اسرار و معارف :
پھر بات اپنے اصل موضوع کو پلٹتی ہے کہ قبل اسلام عورت کو انسان سمجھا ہی نہ جاتا تھا۔ اسلام نے اسے میراث میں حقوق دلوا دئیے اور وراثت تک میں حصہ دار بنا دیا کہاں سے اٹھایا کہاں پہنچا دیا ؟ جبکہ اہل عرب تو عورتوں کو خود میراث سمجھ کر بانٹ لیا کرتے تھے۔ سو بعض طبقوں نے ان امور کی تصدیق چاہی کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام عورت کو مرد کی طرح وراثت میں حصہ قرار دے شاید وقتی طور پر ایسا کیا گیا ہوگا ممکن ہے کچھ خاص لوگوں کے لیے ہو ورنہ وہاں تو یہ سوچنا بھی ممکن نظر نہ آتا تھا سو ارشاد ہوا کہ ابھی تک آپ کی بارگاہ میں…
Read the full tafseer →ف 2 شاہ صاحب لکھتے ہیں : تین بار فرمایا کہ اللہ کا ہے جو کچھ آسمان و زمین میں ہے پہلی بار کشانش کا بیان ہے دوسری بار بےپروائی کا اگر تم منکر ہو اور تیسری بار کارسازی کا اگر تم تقوی ٰ پکڑو۔ (موضح) جب یہ آّیت نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے سلمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : ھم فوم ھذ کہ یہاں آخرین سے مراد یہ لوگ ہیں (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–134
(4:132) وکیلا۔ صفت مشبہ۔ کار ساز۔ مددگار۔ نگہبان۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–134
آیت نمبر 129-134
لغات القرآن : لن تستطیعوا، ہرگز تم طاقت نہیں رکھتے۔ ان تعدلوا، یہ کہ تم (پورا پورا) انصاف کرو۔ لو حرصتم، اگرچہ تم خواہش مند ہو۔ لاتمیلوا، مائل نہ ہوجاؤ، جھک نہ پڑو۔ تذروھا، تم چھوڑ دو اس کو۔ کالمعلقۃ، جیسے بیچ میں لٹکی ہوئی۔ یتفرقا، دونوں جدا جدا ہوجائیں۔ یغن اللہ، اللہ بےنیاز کر دے گا۔ کل، ہر ایک کو۔
تشریح : انسان فطرتاً کمزور ہے، اس کے لئے چند بیویوں کے درمیان برابر عدل و انصاف رکھنا بہت مشکل کام ہے۔ کوئی زیادہ حسین زیادہ جوان، زیادہ دولت والی یا علم و عقل والی یا سلیقہ مند ہوسکتی ہے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا ہے کہ بےاختیاری باتوں میں تو کسی قدر چھوٹ دی جاسکتی ہے لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
ان آیتوں میں کشائش رزق، بےپروائی، کاربرآری تین باتوں کا ذکر فرما کر ہر ایک کے ساتھ فرمایا کہ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ اس کی فرمانبرداری کرو اور اس کے حکم کے خلاف نہ کرو، توحید اور شریعت پر قائم رہو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ تقویٰ اور پرہیزگاری کا حکم قدیم ہے تمام امتوں کو اس کی تاکید ہوتی رہی ہے۔ تمام جہان اس کی فرمانبرداری سے بھرا ہے۔ تمہارے کفر سے اس کا کیا نقصان ہوتا ہے، تمام خلق کو ان کی عبادت سے معدوم کردے۔ معنی یہ ہیں کہ جس کو اپنے عمل سے دنیا مقصود ہو اور اس کی مراد اتنی ہی ہو اللہ اس کو دے دیتا ہے اور ثواب سے وہ محروم رہتا ہے اور جس نے عمل رضاء الٰہی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–134
[83] شروع سورت (آیت نمبر 3) میں تعداد ازواج کی اجازت عدل کے ساتھ مشروط کی گئی تھی اور فرمایا گیا تھا کہ اگر عدل نہ کرسکو تو ایک بیوی پر قناعت رکھنا۔ اس موقع پر عدل سے مراد تھی معاملات میں عدل (ملاحظہ ہو حاشیہ 4) ۔ اس آیت میں عدل سے مراد مساوات امور غیر اختیاری ہے، مثلاً محبت ورغبت میں اور ایسی مساوات کامل تو والدین بھی اپنی ساری اولاد کے درمیان نہیں رکھ سکتے۔ لفظ عدل دونوں جگہ مشترک ہے۔ لیکن مفہوم الگ الگ ہے اور اس اسلوب بیان کی مثالیں قرآن میں بکثرت ملتی ہیں۔
علاوہ ازیں اگر عدل کو ناممکن قرار دے کر قرآن تعدد ازواج کی اجازت کو منسوخ کردیتا ہے جیسا کہ بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ نتیجہ نکالا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–134
(ف 2) مقصد یہ ہے کہ خدا کے خزانوں میں دین وعقبی کی نعمتوں سے بہرہ کثیر ہے ، مبارک ہیں وہ لوگ جو اپنے نصب العین کو بلند رکھتے ہیں اور جن کی نظریں زمین کی بستی سے گزر کر آسمانوں کی بلندیوں کا جائزہ لیتی ہیں یعنی وہ جو دنیا کی سعادتوں اور مسرتوں کو اپنا مقصود نظر نہیں بناتے بلکہ اخری کی روحانی کیفیتیں ان کا حاصل ہیں ۔
حل لغات :
قومین بالقسط : تابحد مبالغہ ۔ انصاف کا حامی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–133
ف 3 اور اگر دونوں میاں بیوی میں اتفاق اور صلح کی کوئی شکل نہ نکلے اور وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہی ہوجائیں یعنی چھوٹ چھٹائو ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اپنی کشائش اور وسعت قدرت کی برکت سے ہر ایک کو دوسرے سے بےنیاز اور مستغنی کر دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا صاحب وسعت اور بڑی حکمت والا ہے اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو چیزیں زمین میں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی ملک اور اسی کی مملوک ہیں اور یقینا جن لوگوں کو ہم نے تم سے پہلے کتاب دی تھی ان کو بھی یہ حکم دیا تھا اور تم کو بھی یہی حکم دیا ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور نیز یہ کہ اگر تم کفر کی روش اختیار کرو گے اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
ف 4۔ تو ایسے مالک کے احکام ماننا بہت ہی ضروری ہے۔
5۔ اس کو تقوی کہتے ہیں جس میں تمام احکام کی موافقت داخل ہے۔
1۔ یعنی مخالفت احکام کی کرو گے۔
Read the full tafseer →کار ساز حقیقی وہی اور آسمانوں اور زمین کی حکومت اس کی ہے یہ بات ایک مثال سے سمجھو لو :
216: ابھی بات سمجھ میں نہیں آئی ایک اور طریقیسیغور کریں۔ آپ کا مال چور لے بھاگے اور آپ کو زدو کو ب بھی کیا اور بےعزت بھی اور مال بھی لوٹ لیا۔ حکومت کا فرض کیا ہے ؟ چوروں کو تلاش کرے۔ آپ کا مال جو وہ لے گئے تھے وہ واپس کرائے اور آپ کو سامنے کھڑا کر کے ان کو اذیت اور تکلیف بھی پہنچائے جیسا کہ وہ آپ کو پہنچاچکے تھے۔ حکومت نے زور لگایا چور معلوم کر لئے آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ کا حق ادا ہوگیا ؟ آپ کا دل ٹھنڈا کیسے ہوتا ہے ؟ ان کو کچھ نہ کہنے سے۔ ان کو چھوڑ دینے سے ظاہر ہے کہ آپ بھی کہیں گے کہ نہیں اور ہر صاحب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
Sequence
After having stated the rules of behaviour as related to women and orphans, the text now reminds the promise of rewards for those abiding by these rules, and the warning for those contravening them, which is the usual style of the Holy Qur'an.
Significant Inferences
Readily noticeable here is the repetition of لِّلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ which means that everything created in the heavens and the earth belongs to Allah. Repeated thrice, these words signify three shades of meaning. In the first place, the aim is to point out to the limitless scope of Allah's…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–133
161. This means that it is not possible for a man to accord complete equality of treatment to two or more wives under all circumstances and in all respects. It is possible that one is ugly, the other beautiful; one is old, the other young; one is permanently sick, the other healthy; one is irritable, the other good-tempered. These and other differences are likely to make a person less attracted to one and more to the other. In such circumstances, the Law does not demand that one should necessarily maintain absolute equality between the wives in respect of love, emotional attachment and sexual…
Read the full tafseer →