An-Nisaa 4:131

An-Nisaa · from ayah 131

4:131

وَلِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ؕ— وَلَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَاِیَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَ ؕ— وَاِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ؕ— وَكَانَ اللّٰهُ غَنِیًّا حَمِیْدًا ۟وَلِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ ‌ؕ وَلَـقَدۡ وَصَّيۡنَا الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ وَاِيَّاكُمۡ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَ‌ ؕ وَاِنۡ تَكۡفُرُوۡا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَنِيًّا حَمِيۡدًا‏

اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان کو بھی اور (اے محمدﷺ) تم کو بھی ہم نے حکم تاکیدی کیا ہے کہ خدا سے ڈرتے رہو اور اگر کفر کرو گے تو (سمجھ رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا بے پروا اور سزاوار حمدوثنا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And to Allah belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. And We have instructed those who were given the Scripture before you and yourselves to fear Allah. But if you disbelieve - then to Allah belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. And ever is Allah Free of need and Praiseworthy.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 19 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:131

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب تم کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو لیکن اگر تم نہیں مانتے تو نہ مانو، آسمان و زمین کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہی ہے اور وہ بے نیاز ہے، ہر تعریف کا مستحق

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان کو بھی اور (اے محمدﷺ) تم کو بھی ہم نے حکم تاکیدی کیا ہے کہ خدا سے ڈرتے رہو اور اگر کفر کرو گے تو (سمجھ رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا بے پروا اور سزاوار حمدوثنا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

زمین اور آسمانوں کی ہر ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت میں ہے اور واقعی ہم نے ان لوگوں کو جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے تھے اور تم کو بھی یہی حکم کیا ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور اگر تم کفر کرو تو یاد رکھو کہ اللہ کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ بہت بے نیاز اور تعریف کیا گیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ ہم نے تم سے پہلے اہل کتاب کو بھی اور تمہیں بھی یہی تاکید کی ہے کہ اللہ سے ڈرو اور اگر تم کفر اپناؤ گے تو (اللہ کا کیا نقصان ہے ؟ کیونکہ) آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے، اور اللہ ہر ایک سے بےنیاز اور بذات خود لائق تعریف ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، اور بیشک تاکید فرمادی ہے ہم نے ان سے جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور تم کو کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور اگر کفر کرو تو بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور اللہ بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اورجو کچھ زمین میں ہے۔ اور بیشک ہم نے ان لوگوں کو (بھی) جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی حکم دیا ہے اور تمہیں (بھی) کہ اللہ سے ڈرتے رہا کرو۔ اور اگر تم نافرمانی کرو گے تو بیشک (سب کچھ) اللہ ہی کا ہے جو آسمانوں میں اورجو زمین میں ہے اوراللہ بے نیاز، ستودہ صفات ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بلاشبہ یقینا ہم نے ان لوگوں کو جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور تمہیں بھی تاکیدی حکم دیا ہے کہ اللہ سے ڈرو اور اگر تم کفر کرو گے تو بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہمیشہ سے ہر طرح بےپروا، ہر تعریف کا حق دار ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ تم سے پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی انہیں ہم نے تاکیدی حکم دیا تھا۔ اور تمہارے لیے بھی یہی حکم ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور اگر تم کفر کرو گے تو (سمجھ لو کہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ تو اللہ ہی کا ہے اور وہ بڑا بےنیاز اور حمد کے لائق ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور تم سے پہلے جن کو کتاب دی گئی ہم نے انہیں بھی ہدایت کی اور تم کو بھی کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور اگر تم کفر کروگے تو یاد رکھو کہ اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ بےنیاز، ستودہ صفات ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اللہ ہی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ جو کہ زمین میں ہے، اور بلاشبہ ہم نے تاکید کردی تھی ان لوگوں کو جن کو کتاب دی گئی تھی تم سے پہلے اور (یہی تاکید ہے) تم کو بھی کہ تم لوگ ڈرتے رہا کرو اللہ سے (ہرحال میں) اور اگر (اسکے باوجود) تم لوگوں نے کفر ہی کیا تو (یقینا اس سے تم اللہ کا کچھ بھی نہیں بگاڑو گے کہ) بیشک اللہ ہی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ جو کہ زمین میں ہے اور اللہ بڑا ہی بےنیاز اور تعریف کا حقدار ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے (سب) اللہ ہی کی ملک ہے۔ اور ہم نے ان لوگوں کو جنہیں تم سے قبل کتاب مل چکی ہے اور خود تمہیں بھی حکم دیا ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور اگر ناشکری کرو گے تو (یاد رہے کہ) جو کچھ بھی آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ ہی کی ملک ہے۔ اور اللہ بڑا بےنیاز ہے ستودہ صفات ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور (دیکھو مسلمانو !) تم سے پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی انہیں بھی ہم نے وصیت کی تھی اور اب تمہیں بھی یہی وصیّت ہے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اگر تم نہ مانو گے تو (یاد رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اللہ ہی کا ہے اور اللہ تعالیٰ تو خود غنی ہے اپنی ذات میں خودستودہ صفات ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب تم کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ لیکن اگر تم کفر کرو گے آسمان و زمین کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہی ہے اور وہ بےنیاز، ہر تعریف کا مستحق ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

All that is in the heavens and all that is in the earth belongs to Allah. We enjoined upon those who were given the Book before you, and also yourselves, to have fear of Allah. But if you disbelieve, then bear in mind that all that is in the heavens and all that is in the earth belongs to Allah. Allah is Self-Sufficient, Most Praiseworthy.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

To Allah belongs what is in the heavens and what is in the earth. We have ordered those who were given the Book before you, and (ordered) you yourselves to fear Allah. If you disbelieve, then, surely to Allah belongs what is in the heavens and what is in the earth. Allah is All-Independent, Ever-Praised.

— Muhammad Taqi Usmani

To Allah belongs what is in the heavens and what is in the earth. We have ordered those who were given the Book before you, and (ordered) you yourselves to fear Allah. If you disbelieve, then, surely to Allah belongs what is in the heavens and what is in the earth. Allah is All-Independent, Ever-Praised.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And to Allah belongs all that is in the heavens and all that is in the earth. And verily, We have recommended to the People of the Scripture before you, and to you that you have Taqwa of Allah. But if you disbelieve, then unto Allah belongs all that is in the heavens and all that is in the earth, and Allah is Ever Rich (free of any needs), Worthy of all praise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Unto Allah belongeth whatsoever is in the heavens and whatsoever is in the earth. And We charged those who received the Scripture before you, and (We charge) you, that ye keep your duty toward Allah. And if ye disbelieve, lo! unto Allah belongeth whatsoever is in the heavens and whatsoever is in the earth, and Allah is ever Absolute, Owner of Praise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And to Allah belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. And We have instructed those who were given the Scripture before you and yourselves to fear Allah. But if you disbelieve - then to Allah belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. And ever is Allah Free of need and Praiseworthy.

— Saheeh International

To God belongs all that is in the heavens and the earth. We have told you and the People of the Book to have fear of God. If you all refuse to believe in Him, know that to God belongs all that is in the heavens and the earth. God is Self-sufficient and Praiseworthy.

— Muhammad Sarwar

And whatever is in the heavens and whatever is in the earth is Allah's and certainly We enjoined those who were given the Book before you and (We enjoin) you too that you should be careful of (your duty to) Allah; and if you disbelieve, then surely whatever is in the heavens and whatever is in the earth is Allah's and Allah is Self-sufficient, Praise-worthy.

— Muhammad Habib Shakir

Allah's is whatsoever is in the heavens and whatsoever is in the earth. And assuredly We enjoined those who were vouchsafed the Book before you and yourselves: fear Allah, and if ye disbelieve then Allah's is whatsoever is in the heavens and whatsoever is in the earth; and Allah is ever Self-Sufficient, Praiseworthy.

— Abdul Majid Daryabadi

To Allah belong all things in the heavens and on earth. Verily we have directed the People of the Book before you, and you (o Muslims) to fear Allah. But if ye deny Him, lo! unto Allah belong all things in the heavens and on earth, and Allah is free of all wants, worthy of all praise.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:131

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 131–134

مانگو تو صرف اللہ اعلیٰ و اکبر سے مانگو اللہ تعالیٰ مطلع کرتا ہے کہ زمین و آسمان کا مالک اور حاکم وہی ہے فرماتا ہے جو احکام تمہیں دیئے جاتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو اس کی وحدانیت کو مانو اس کی عبادت کرو اور کسی اور کی عبادت نہ کرو یہی احکام تم سے پہلے کے اہل کتاب کو بھی دئے گئے تھے اور اگر تم کفر کرو (تو اللہ کا کیا بگاڑو گے ؟) وہ تو زمین آسمان کا تنہا مالک ہے، جیسے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کفر کرنے لگو تو بھی اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور لائق ستائش ہے اور جگہ فرمایا (فَكَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ ۭ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ) 64۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 129–133

سورة النِّسَآء 161 مطلب یہ ہے کہ آدمی تمام حالات میں تمام حیثیتوں سے دو یا زائد بیویوں کے درمیان مساوات نہیں برت سکتا۔ ایک خوبصورت ہے اور دوسری بدصورت، ایک جوان ہے اور دوسری سن رسیدہ، ایک دائم المرض ہے اور دوسری تندرست، ایک بدمزاج ہے اور دوسری خوش مزاج اور اسی طرح کے دوسرے تفاوت بھی ممکن ہیں جن کی وجہ سے ایک بیوی کی طرف طبعًا آدمی کی رغبت کم اور دوسری کی طرف زیادہ ہو سکتی ہے۔ ایسی حالتوں میں قانون یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ محبت ورغبت اور جسمانی تعلق میں ضرور ہی دونوں کے درمیان مساوات رکھی جائے۔ بلکہ صرف یہ مطالبہ کرتا ہے کہ جب تم بےرغبتی کے باوجود ایک عورت کو طلاق نہیں دیتے اور اس کی اپنی خواہش…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 131–132

ربط آیات عورتوں اور یتیموں کے احکام بیان کرنے کے بعد قرآنی اسلوب کے مطابق پھر ترغیب و ترہیب کا مضمون ارشاد فرمایا گیا۔ خلاصہ تفسیر اور اللہ تعالیٰ کی ملک ہیں جو چیزیں کہ آسمان میں ہیں اور جو چیزیں کہ زمین میں ہیں (تو ایسے مالک کے احکام کا ماننا بہت ہی ضرری ہے) اور (بجا آوری احکام کا خطاب خاص تم ہی کو نہیں ہوا بلکہ) واقعی ہم نے ان لوگوں کو بھی حکم دیا تھا جن کو تم سے پہلے کتاب (آسمانی یعنی توراة و انجیل) ملی تھی اور تم کو بھی (حکم دیا ہے) کہ اللہ تعالیٰ سے ڈر (جس کو تقوی کہتے ہیں، جس میں تمام احکام کی موافقت داخل ہے، اسی لئے اس سورة کو تقوی سے شروع کر کے اس کی تفصیل میں مختلف احکام لائے ہیں)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 131–134

131۔ 134:۔ وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭوَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَاِيَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَ ۭ وَاِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ غَنِيًّا حَمِيْدًا۔ وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا۔ اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا۔ مَنْ كَانَ يُرِيْدُ ثَوَابَ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللّٰهِ ثَوَابُ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا۔ ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 130–132

130۔ 1 یہ تیسری صورت ہے کہ کوشش کے باوجود اگر نباہ کی صورت نہ بنے پھر طلاق کے ذریعے علیحدگی اختیار کرلی جائے۔ ممکن ہے علیحدگی کے بعد مرد کو مطلوبہ صفات والی بیوی اور عورت کو مطلوبہ صفات والا مرد مل جائے۔ اسلام میں طلاق کو اگرچہ سخت ناپسند کیا گیا ہے، طلاق حلال تو ہے لیکن یہ ایسا حلال ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہے " اس کے باوجود اللہ نے اس کی اجازت دی ہے اس لئے کہ بعض دفعہ حالات ایسے موڑ پر پہنچ جاتے ہیں کہ اس کے بغیر چارہ نہیں ہوتا اور فریقین کی بہتری اسی میں ہوتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرلیں۔ مزکورہ حدیث میں صحت اسناد کے اعتبار سے اگرچہ ضعف ہے تاہم قرآن وسنت کی نصوص سے یہ واضح ہے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 130–131

79: مصالحت کی تمام کوششوں کے باوجود ایک مرحلہ ایسا آسکتا ہے کہ اس کے بعد نکاح کا رشتہ میاں بیوی پر تھوپے رکھنا دونوں کی زندگی کو اجیرن بناسکتا ہے، ایسی صورت میں طلاق اور علیحدگی کا راستہ اختیار کرنا بھی جائز ہے، اور یہ آیت اطمینان دلارہی ہے کہ جب خوش اسلوبی سے جدائی عمل میں آجائے تو اللہ تعالیٰ دونوں کے لئے ایسے راستے پیدا کردیتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی ضرورت سے بےنیاز ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 131–134

(آیت) ” 131 تا 134۔ قرآن کریم میں احکام ونواہی کے بیان کے بعد بار بار یہ تعقیب آتی ہے کہ اللہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا مالک ہے ۔ یا یہ لفظ آتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کے لئے ہے ۔ یہ دونوں امور ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں اس لئے کہ جو بادشاہ اور مالک ہوتا ہے ‘ اپنی مملکت میں امر اور نہی بھی اسی کا چلتا ہے ۔ اس کی مملکت میں جو لوگ بستے ہیں وہ اس کے محکوم ہوں گے اور اس کائنات میں چونکہ اللہ وحدہ مالک ہے تو اس وجہ سے اس دنیا میں صرف اس کا حکم چلے گا اور وہی لوگوں کے لئے قانون بنانے کا حقدار ہوگا ۔ دونوں امور دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جن لوگوں پر کتاب اتاری گئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 131–132

1 اوپر سے ترغیب و ترہیب کا ذکر چلا آتا تھا یعنی حکم خداوندی کی اطاعت کرنا اور اس کی مخالفت سے بچنا سب کو ضرور ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی کی بات کی طرف کان رکھنا ہرگز جائز نہیں۔ بیچ میں چند حکم یتیموں اور عورتوں کے متعلق جن میں لوگ مبتلا تھے بیان فرما کر پھر اس ترغیب و ترہیب کا بیان ہے۔ ان دونوں آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ تم کو اور تم سے پہلوں کو سب کو یہ حکم سنا دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس کی نافرمانی نہ کرو تو اب اگر کوئی اس کے حکم کو نہ مانے تو وہ سب چیزوں کا مالک ہے اس کو کسی کی پروا نہیں یعنی اپنا ہی کچھ بگاڑے گا اس کا کچھ نقصان نہیں اور فرمانبرداری کرو گے تو سمجھ لو کہ وہ تمام…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 131 وَلِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَلَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَاِیَّاکُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰہَ ط احکام شریعت کی تعمیل کے سلسلے میں اصل جذبۂ محرکہ تقویٰ ہے۔ تقویٰ کے بغیر شریعت بھی مذاق بن جائے گی۔ رسول اللہ ﷺ کے ایک خطبہ کے یہ الفاظ بہت مشہور ہیں اور خطبات جمعہ میں بھی اکثر انہیں شامل کیا جاتا ہے : اُوْصِیْکُمْ وَنَفْسِیْ بِتَقْوَی اللّٰہِ 1 مسلمانو ! میں تمہیں بھی اور اپنے نفس کو بھی اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیّت کرتا ہوں۔ قرآن حکیم میں جابجا اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سورة التحریم میں ارشاد ہے :…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

174 اللہ کی بےنیازی :۔ اس کائنات اور اس عالم دنیا سے اللہ کی بےنیازی کا یہ عالم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو ! اگر تمہارے اگلے پچھلے، انسان اور جن ّسب کے سب، سب سے زیادہ متقی آدمی کے دل کی طرح ہوجائیں تو اس سے میری سلطنت میں کچھ اضافہ نہ ہوگا۔ اور اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان اور جن سب کے سب، سب سے فاجر آدمی کے دل کی طرح ہوجائیں تو اس سے میری سلطنت میں کچھ بھی کمی واقع نہ ہوگی۔ اور اے میرے بندو ! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے انسان اور جن سب کے سب ایک میدان میں کھڑے ہو کر مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کو اس کی مطلوبہ چیز دے دوں تو جو کچھ میرے پاس ہے اس میں کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

346 ۔ (سو اس مالک الملک اور ملک الملوک کی رضا جوئی کے بجائے کسی اور کی رضا طلبی کیسی شدید حماقت ہے وہ زمین و آسمان کے سارے خزائن کا مالک ہے۔ اسے دوسروں کو غنی بنادیتے کیا دیر لگ سکتی ہے۔ 347 ۔ (کہ یہی خوف خدا اور تقوی الہی بنیاد ہی تمام احکام الہی کی تعمیل کی ہے اور اسے آسان اور خوش گوار بنادینے والی بھی) انسان کی ساری زندگی کا سنگ بنیاد یہی تقوی ہے اور اس لئے یہ عین متقضائے حکمت ہے کہ قرآن مجید اس کی تاکید سے لبریز ہے۔ مسیحیوں کا دعوی ہے کہ ان کے مذہب کی بناء خوف خدا پر نہیں، بلکہ محبت الہی پر ہے اور ان کے پادری اسے بہت فخر سے پیش کرتے رہتے ہیں حالانکہ ان کی انجیل ان تاکیدوں سے خالی نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 129–134

وَلَنْ تسّطیعوا ان تعدلو ابین النساء (الایة) اس آیت میں ایک دوسری صورت کا بیان ہے کہ ایک شخص کی ایک سے زائد بیویاں ہوں تو دلی تعلق اور محبت میں وہ سب کے ساتھ ایک سا سلوک نہیں کرسکتا اسلئے کہ محبت، دلی تعلق کا نام ہے جس پر کسی کو اختیار نہیں ہوتا، خود آنحضرت ﷺ کو بھی اپنی تمام ازواج میں سے حضرت عائشہ ؓ سے زیادہ محبت تھی، اگر یہ قلبی میلان ظاہری حقوق کے مساوات میں مانع نہ بنے تو عند اللہ قابل مواخذہ نہیں۔ حدیث : جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے یہاں دو بیویاں ہوں اور وہ ایک ہی کا خیال رکھتا ہو تو قیامت میں وہ شخص اس حالت میں آئیگا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وللہ ما فی السموات وما فی الارض . اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے یعنی سب اسی کی مخلوق ہے اور وہی سب کا مالک ہے۔ اس جملہ میں اللہ کی وسعت وقدرت پر تنبیہ ہے۔ ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم . تم سے پہلے جن کو کتاب دی گئی اور تم کو ہم نے ہدایت کردی ہے۔ الکتب سے جنس کتاب مراد ہے (کوئی آسمانی کتاب ہو یا صحیفہ ہو) اور اہل کتاب سے مراد ہیں یہودی اور عیسائی اور ان سے پہلے انبیاء کی امتیں۔ ان اتقوا اللہ . کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ تقویٰ سے مراد ہے شرک سے پرہیز رکھنا کیونکہ آگے آیا ہے۔ وان تکفروا . اور اگر تم کفر کرو گے (اللہ کی توحید کا انکار کرو گے) یہ بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 131–132

(131۔ 132) تمام آسمانوں اور زمینوں کے خزانے اور ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں داخل ہے۔ اور ہم نے اہل توریت کو توریت میں اور اہل انجیل کو انجیل میں اور ہر ایک کتاب والے کو اس کی کتاب میں اور امت محمدیہ ﷺ کو ان کی کتاب میں اطاعت خداوندی کا حکم دیا تھا اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرو تو تمام فرشتے اور جن و انس سب اسکی غلامی میں داخل ہیں، اور وہ تمہارے ایمان سے بےنیاز ہے وہ تمہارا محتاج نہیں لیکن اس کی بندہ نوازی ہے کہ ہو تمہاری معمولی سی نیکی قبول کرتا ہے اور بہت زیادہ ثواب دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 131–132

وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ : گزشتہ آیات میں عورتوں اور یتیم بچوں سے متعلق احکام بیان کیے گئے تھے، اب جو یہ فرمایا کہ زمین و آسمان کی ہر شے اللہ کی ہے، تو اس سے لوگوں کو یہ بتانا مقصود ہے کہ ان احکام پر عمل کرنے میں تمہارا ہی فائدہ ہے، اللہ تعالیٰ کسی کے فائدے اور نقصان سے بےنیاز ہے۔ وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ۔۔ : یعنی تم سے پہلے لوگوں کو اور تم سب کو اس بات کا تاکیداً حکم دیا گیا کہ اللہ سے ڈرو، یعنی اس کے دیے گئے احکام پر عمل کرو۔ یہ جملہ ”اتَّقُوا اللّٰهَ“ قرآن کی تمام آیات کے لیے بمنزلہ رحی (چکی) کے ہے کہ اسی کی لٹھ پر تمام آیات گھومتی ہیں۔ ابن…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 130–132

آیت نمبر : 130 تا 132۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وان یتفرقا یغن اللہ کلا من سعتہ “۔ یعنی اگر صلح نہ کریں بلکہ جدا ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ کے متعلق اچھا گمان کریں، اللہ تعالیٰ مرد کو ایسی بیوی دے گا جس سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی اور عورت کو ایسا مرد عطا فرمائے گا جو اس پر کشادگی کرے گا۔ جعفر بن محمد سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ان سے غربت کی شکایت کی تو انہوں نے اسے نکاح کرنے کا حکم دیا، وہ شخص گیا اس نے نکاح کرلیا پھر وہ آیا اور غربت کی شکایت کی، انہوں نے اسے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیا پھر ان سے اس آیت کے متعلق کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : میں نے اسے نکاح کا حکم دیا کہ شاید…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 128–134

شوہر سے صلح کرنا (1) الطیالسی و ترمذی (نے اس کو حسن کہا) وابن المنذر و طبرانی و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سودہ ؓ اس بات سے ڈر گئیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کو طلاق دیں گے تو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھ کو طلاق نہ دیں اور میری باری عائشہ کو دے دیجئے آپ نے ایسا ہی کرلیا تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” وان امراۃ خافت من بعلہا نشوزا “ ابن عباس ؓ نے فرمایا دونوں میں کسی چیز پر صلح ہوجائے تو یہ جائز ہے۔ (2) ابن سعد و ابو داؤد اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس ٹھہرنے میں ہمارے بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور آپ ان میں ہر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَلِلّٰہِ : اور اللہ ہی کے لیے ہے ] [ مَا : وہ ‘ جو ] [ فِی السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [ وَمَا : اور وہ ‘ جو ] [ فِی الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [ وَلَقَدْ وَصَّیْنَا : اور بیشک ہم تاکید کرچکے ہیں ] [ الَّذِیْنَ : ان لوگوں کو جن کو ] [ اُوْتُوا الْـکِتٰبَ : دی گئی کتاب ] [ مِنْ قَـبْلِکُمْ : تم سے پہلے ] [ وَاِیَّاکُمْ : اور تم کو بھی ] [ اَنِ : کہ ] [ اتَّقُوا : تقویٰ کرو ] [ اللّٰہَ : اللہ کا ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ تَـکْفُرُوْا : تم انکار کرو گے ] [ فَاِنَّ : تو یقینا ] [ لِلّٰہِ : اللہ ہی کے لیے ہے ] [ مَا : وہ ‘ جو ] [ فِی السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [ وَمَا : اور وہ ‘ جو ] [ فِی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 131–132

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے وہ غنی اور حمید ہے سمیع اور بصیر ہے ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے سب اسی کی مخلوق ہیں مملوک ہیں اور اس کے بندے ہیں۔ اسے سب اختیار ہے تکوینی طور پر جس حال میں رکھے۔ اور تشریعی طور پر جو چاہے حکم دے۔ کسی کو کچھ ذرا بھی اعتراض کا حق نہیں، اور فرمایا کہ جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان کو اور تم کو اللہ نے یہ وصیت فرمائی ہے یعنی تاکیدی طور پر حکم دیا ہے کہ اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرنے ہی میں سارے دین پر عمل کرنے کا حکم آجاتا ہے، فرائض و واجبات کی پابندی اور گناہوں کا چھوڑنا یہ سب تقویٰ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 128–134

بیان بعض احکام متعلقہ بہ معاشرہ زوجین۔ قال تعالی، وان امرۃ خافت من بعلھا نشوزا۔۔۔ الی۔۔۔ حکیما۔ آیت۔ اوپر آیتوں میں ان احکام کا حوالہ تھا جو سورة نساء کے شروع میں گزر چکے اب یہاں سے عورتوں کے متعلق دوسرے نئے احکام بیان فرماتے ہیں جو میاں اور بیوی کے باہمی معاشرت سے متعلق ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی بدمزاجی یا بےالتفاتی اور بےاعتنائی سے ڈرے مثلا عورت بدشکل ہو یابڑھیا ہوگئی ہو اور اس کو قرائن سے یہ معلوم ہوجائے کہ اس کا شوہر اس کو طلاق دینا چاہتا ہے اور یا دوسری بیوی کرنا چاہتا ہے تو ایسی صورت میں میاں بیوی پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں مثلا یہ کہ عورت اپنا نفقہ اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 131–134

89 یہاں سے وَکَانَ اللہُ سَمِیْعاً بَصِیْراً تک تخویف اخروی ہے سب کچھ اللہ کے قبضہ اور اختیار میں ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے اس کے مواخذہ اور عذاب سے ڈرو فَاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِیْ السَّمٰوٰاتِ الخ اعادہ برائے تاکید مزید۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 131–134

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں ، یتیم بچیوں اور کمزور طبقات کے حقوق کا ذکر فرمایا ، پھر میاں بیوی کے درمیان نزاع کی صورت میں صلح کرنے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا کہ اگر عورت سمجھتی ہے کہ خاوند اعراض کر رہا ہے تو وہ اپنے حقوق میں کمی کر کے خاوند کو صلح پر آمادہ کرسکتی ہے تاکہ ان کے درمیان نباہ کی صورت پیداہ و سکے۔ متعدد بیویوں کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہر طرح سے انصاف قائم رکھنے کی تاکیدفرمائی ، اللہ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کسی ایک عورت کی طرف مکمل جھکاؤ ہو۔ اور دوسری کو لٹکتا ہوا چھوڑ دیاجائے ، فرمایا قانون کے مطابق ہر ایک کے ساتھ عدل قائم کرنا چاہئے۔ اس کے باوجود اگر کوئی خامی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ۝ 0ۭ وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَاِيَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللہَ۝ 0ۭ وَاِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ۝ 0ۭ وَكَانَ اللہُ غَنِيًّا حَمِيْدًا۝ 131 ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 131–132

ترکیب : وایاکم معطوف ہے الذین پر۔ ان اتقوا اللّٰہ بیان ہے وصیت کا اور ب محذوف ہے۔ ان شرطیہ یشاء کا مفعول محذوف ہے یذھبکم جواب اور یات اس پر معطوف ہے۔ تفسیر : یہاں واسع ہونے کی دلیل اور کلمہ سابق کا تتمہ ہے وللّٰہ مافی السموات والارض کہ جو کچھ زمین و آسمان میں ہے سب اسی کا ہے۔ اس کو کس چیز کی کمی ہے اور اسی جملہ کو ولقد وصینا الآیہ کے لئے تمہید اور دلیل بنا کر اور اپنی عظمت وکبریائی بتا کر یہ بات بتلاتا ہے کہ کچھ تمہیں کو شریعت اور احکامِ الٰہی پر چلنے کا حکم نہیں ہوا ہے بلکہ تم کو اور جو تم سے پہلے اہل کتاب ہیں ان کو بھی خدا سے ڈرنے کا (جو تمام شریعت اور احکامِ الٰہی پر چلنے کے لئے محرک ہے)…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَلَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ اِیَّاکُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰہَ ط وَ اِنْ تَکْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَنِیًّا حَمِیْدًا ” اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ بیشک ہم نے حکم دیا تھا ان لوگوں کو جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی۔ اور تمہیں بھی کہ اللہ سے ڈرو۔ اور اگر تم انکار کرتے ہو تو بیشک اللہ کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے ہر تعریف کا مستحق ہے۔ “ (النسآء : 131) انسان میں اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 131–132

فہم القرآن ربط کلام : پچھلی آیت میں دونوں کو تسلی دی تھی۔ یہاں فرمایا کہ میاں بیوی اور زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں ہے۔ وہ سب کا رازق اور وارث ہے۔ البتہ اس کا تمہیں اور سب لوگوں کو یہی حکم تھا اور ہے کہ ظلم و زیادتی اور اللہ کی نافرمانی سے بچ کر رہنا۔ یہاں مزید تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ایک گھر آباد نہیں رہا تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمان کا مالک ہے وہ تمہارے لیے کسی اور گھر کا انتظام کر دے گا۔ یہی ہدایات ان لوگوں کو دی گئیں جنہیں تم سے پہلے تورات، انجیل، زبور اور آسمانی کتابیں دی گئیں تھیں۔ تمہیں بھی یہی نصیحت کی جاتی ہے کہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 131 : اس آیت میں اپنا غنی اور قادر ہونا بتلایا۔ وَلِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ (اور اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت میں وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور جو زمین میں ہے) پیدا کرنے کے اعتبار سے، اور وہ اپنے غلاموں کو بطور غلام مالک بنانے والا ہے۔ وَلَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ (تحقیق ہم نے وصیت کی ان لوگوں کو جن کو کتاب دی گئی) الکتاب میں الف لام جنس کا ہے اور تمام آسمانی کتابیں مراد ہیں۔ مِنْ قَبْلِکُمْ (تم سے پہلے) گزشتہ امتیں۔ اصل سعادت تقویٰ ہے : نحو : یہ وصینا یا اوتوا سے متعلق ہے۔ وَاِیَّاکُمْ (اور تمہیں) یہ الذین اوتوا کا معطوف ہے۔ اَنِ اتَّقُوا اللّٰہَ (کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 131۔: (آیت)” وللہ ما فی السموت وما فی الارض “ ۔ سب کچھ اسی کی ملکیت ہے خواہ غلام ہوں یا کچھ اور (آیت)” ولقد وصینا الذین اوتوا الکتاب من قبلکم “۔ اس سے مراد اہل التورات اور انجیل ہے اور تمام امتیں جو ماقبل میں گزر چکی ہیں کتابوں میں ۔ ” وایاکم “ اے اہل قرآن جو قرآن میں ہے (آیت)” ان اتقوا اللہ “ ۔ اللہ کی توحید بیان کرو اور اس کی اطاعت کرو ۔ (آیت)” وان تکفروا “۔ جس کی اللہ نے تمہیں وصیت کی ہے (آیت)” فاللہ ما فی السموت وما فی الارض “ ۔ جو فرشتوں خواہ زمین میں ہیں یا آسمان وہ سب اسی کی اطاعت کرتے ہیں ۔ (آیت)” وکان اللہ غنیا “۔ ساری مخلوق اور اس کی اطاعت کی اس کو ضرورت نہیں ۔ ” حمیدا “…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 131–134

(131 ۔ 134) ۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ جس کو چاہے اپنے فضل سے خوش حال کر دے کیونکہ وہ بڑا صاحب فضل ہے ان آیتوں میں کشائش رزق بےپرواہی کار برابری تین باتوں کا ذکر فرما کر ہر ایک کے ساتھ فرمایا کہ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے تاکہ جو لوگ ایسے بڑے صاحب اختیار مالک کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو پوجتے یا کسی دوسرے سے اپنی حاجت روائی چاہتے ہیں ان کی نادانی معلوم ہوجائے اور جو لوگ دین اور دنیا کی بھلائی اللہ تعالیٰ سے چاہتے ہیں وہ خوب سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں دین اور دنیا کی بھلائی ہے وہ جو چاہے کرسکتا ہے۔ اسی تنبیہ کے لئے یہ بھی فرمایا کہ اللہ سے ڈر کر اسی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 130–132

آیت 130 میاں بیوی کے درمیان تیسری حالت یہ ہے کہ جب اتفاق کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو دونوں کے درمیان علیحدگی میں کوئی حرج نہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وان یتفرقا) ” اور اگر وہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں۔ “ یعنی اگر دونوں طلاق، فسخ یا خلع کے ذریعے سے ایک دوسرے سے علیحدہ ہوجائیں (یغن اللہ کلا من سعتہ) ” اللہ تعالیٰ دونوں میاں بیوی کو اپنے فضل و کرم اور لامحدود احسان کے ذریعے سے ایک دوسرے سے بےنیاز کر دے گا “ شوہر کو کسی دوسری بیوی کے ذریعے سے پہلی بیوی اور بیوی کو اپنے فضل و کرم سے مستغنی کر دے گا۔ اگر بیوی کا اپنے شوہر کے رزق میں سے حصہ ختم ہوگیا ہے تو اس کا رزق اس ہستی کے ذمے ہے جو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 129–134

بیویوں میں پورا پورا عدل کرو قول باری ہے ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النساء ولو حرصتم فلا تمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقۃ۔ بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے تم چاہو بھی تو اس پر قادر نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھک جائو کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو ) ۔ ابوعبیدہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد دلی محبت اور میلان طبعی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ حسن اور قتادہ سے بھی یہی مروی ہے قول باری فلاتمیلواکل المیل۔ میں مراد۔ واللہ اعلم۔ یہ ہے کہ اس میلان کا بالفعل اس طرح اظہار نہ کیا جائے کہ ایک بیوی سے پوری طرح منہ موڑ کر دوسری بیوی کا رخ کرلیا جائے۔ اس پر قول باری فتذروھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

335 کائنات میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور اسلوب حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے کہ اس سب کا خالق بھی وہی ہے اور مالک بھی وہی۔ اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی وحدہ لا شریک ہے۔ دیکھا کہ کس طرح اس حقیقت کا باربار اعادہ کیا جا رہا ہے اور تاکید فرمائی جا رہی ہے کہ زمین و آسمان کی اس سب کائنات کا خالق ومالک وہی وحدہ لاشریک ہی ہے مگر اس کے باوجود دوسرے کھلے مشرکوں کے علاوہ کلمہ گو مشرکوں نے بھی اس کی اس زمین کو از خود مختلف حصوں اور نگریوں میں تقسیم کر کے مافوق الاسباب طور پر ان کے مختلف مالک تجویز کر رکھے ہیں،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 131–132

اللہ کا خوف تشریح : اللہ رب العزت کی عظمت اور حاکمیت کا ذکر ان آیات میں تین مرتبہ کیا گیا ہے یہ کہہ کر کہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب کچھ اللہ کا ہے وہ اللہ جو اپنی اس تمام بادشاہت میں بالکل اکیلا ہے، وہ خود ہی تمام انتظامات کرتا ہے اس کو ان تمام انتظامات کو سنبھالنے میں ذرا بھی مشکل پیش نہیں آتی۔ آیۃ الکرسی میں اس موضوع پر بڑی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں حکم دیا جارہا ہے کہ توحید کا سبق تم سے پہلی قوموں کو بھی دیا جاچکا ہے اور یہ کہ ایمان پختہ رکھو کہ اللہ سے ضرور ملنا ہے موت کے بعد۔ تاکہ جو بھی کام کرو تو یہ سوچ کر کرو کہ اللہ رب العزت دیکھ رہا ہے، اعمال لکھے جارہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 127–134

رکوع نمبر 19 ۔ آیات 127 تا 134 ۔ ویستفتونک ۔۔۔۔۔ سمیعا بصیرا۔ اسرار و معارف : پھر بات اپنے اصل موضوع کو پلٹتی ہے کہ قبل اسلام عورت کو انسان سمجھا ہی نہ جاتا تھا۔ اسلام نے اسے میراث میں حقوق دلوا دئیے اور وراثت تک میں حصہ دار بنا دیا کہاں سے اٹھایا کہاں پہنچا دیا ؟ جبکہ اہل عرب تو عورتوں کو خود میراث سمجھ کر بانٹ لیا کرتے تھے۔ سو بعض طبقوں نے ان امور کی تصدیق چاہی کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام عورت کو مرد کی طرح وراثت میں حصہ قرار دے شاید وقتی طور پر ایسا کیا گیا ہوگا ممکن ہے کچھ خاص لوگوں کے لیے ہو ورنہ وہاں تو یہ سوچنا بھی ممکن نظر نہ آتا تھا سو ارشاد ہوا کہ ابھی تک آپ کی بارگاہ میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 13 گذشتہ آیات میں عورتوں اور یتیم بچوں سے متعلق بچوں سے متعلق احکام بیان کئے گئے تھے، اب جو یہ فرمایا کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کی ہے تو اس سو لوگوں کو یہ بتانا مقصود ہے کہ ان احکام پر عمل کرنے عمل کرنے میں تمہارا ہی فائدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی کے فائدہ و نقصان سے بےنیاز ہے۔ 1 یعنی اس کے دیے گئے احکام پر عمل کرو۔ یہ جملہ تمام آیات قرآن کے لیے بمنزلہ (رخی) چکی کے ہے کہ اس کی لٹھ پر ہی تمام آیات گھومتی رہتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 129–134

آیت نمبر 129-134 لغات القرآن : لن تستطیعوا، ہرگز تم طاقت نہیں رکھتے۔ ان تعدلوا، یہ کہ تم (پورا پورا) انصاف کرو۔ لو حرصتم، اگرچہ تم خواہش مند ہو۔ لاتمیلوا، مائل نہ ہوجاؤ، جھک نہ پڑو۔ تذروھا، تم چھوڑ دو اس کو۔ کالمعلقۃ، جیسے بیچ میں لٹکی ہوئی۔ یتفرقا، دونوں جدا جدا ہوجائیں۔ یغن اللہ، اللہ بےنیاز کر دے گا۔ کل، ہر ایک کو۔ تشریح : انسان فطرتاً کمزور ہے، اس کے لئے چند بیویوں کے درمیان برابر عدل و انصاف رکھنا بہت مشکل کام ہے۔ کوئی زیادہ حسین زیادہ جوان، زیادہ دولت والی یا علم و عقل والی یا سلیقہ مند ہوسکتی ہے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا ہے کہ بےاختیاری باتوں میں تو کسی قدر چھوٹ دی جاسکتی ہے لیکن…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 131–134

ان آیتوں میں کشائش رزق، بےپروائی، کاربرآری تین باتوں کا ذکر فرما کر ہر ایک کے ساتھ فرمایا کہ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ اس کی فرمانبرداری کرو اور اس کے حکم کے خلاف نہ کرو، توحید اور شریعت پر قائم رہو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ تقویٰ اور پرہیزگاری کا حکم قدیم ہے تمام امتوں کو اس کی تاکید ہوتی رہی ہے۔ تمام جہان اس کی فرمانبرداری سے بھرا ہے۔ تمہارے کفر سے اس کا کیا نقصان ہوتا ہے، تمام خلق کو ان کی عبادت سے معدوم کردے۔ معنی یہ ہیں کہ جس کو اپنے عمل سے دنیا مقصود ہو اور اس کی مراد اتنی ہی ہو اللہ اس کو دے دیتا ہے اور ثواب سے وہ محروم رہتا ہے اور جس نے عمل رضاء الٰہی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 129–134

[83] شروع سورت (آیت نمبر 3) میں تعداد ازواج کی اجازت عدل کے ساتھ مشروط کی گئی تھی اور فرمایا گیا تھا کہ اگر عدل نہ کرسکو تو ایک بیوی پر قناعت رکھنا۔ اس موقع پر عدل سے مراد تھی معاملات میں عدل (ملاحظہ ہو حاشیہ 4) ۔ اس آیت میں عدل سے مراد مساوات امور غیر اختیاری ہے، مثلاً محبت ورغبت میں اور ایسی مساوات کامل تو والدین بھی اپنی ساری اولاد کے درمیان نہیں رکھ سکتے۔ لفظ عدل دونوں جگہ مشترک ہے۔ لیکن مفہوم الگ الگ ہے اور اس اسلوب بیان کی مثالیں قرآن میں بکثرت ملتی ہیں۔ علاوہ ازیں اگر عدل کو ناممکن قرار دے کر قرآن تعدد ازواج کی اجازت کو منسوخ کردیتا ہے جیسا کہ بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ نتیجہ نکالا ہے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

وصیت کبری : (ف 1) قرآن حکیم اور دوسری مذہبی کتابوں میں سب سے بڑا پیغام تقوی وصلاح کا پیغام ہے یعنی قلب و باطن کی تنویر وتطہیر ۔ ان آیات میں اسی وصیت کبری کی طرف توجہ مبذول کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اللہ سے عشق و خشیت کے تعلقات استوار کرلو ۔ ورنہ جان لو کہ اس کی شان بےنیازی تمہارے کفر وفسق کو زیادہ دیر گوارار نہ کرے گی ۔ وہ چشم زدن میں بڑے بڑے فرعونوں کو قلزم میں بہا دیتا ہے اس کی ادنی جنبش عقاب بستیوں کی بستیاں الٹ دیتی ہے ، عادوثمود کے شہر اور بابل ونینوا کے خوش سواد دیہات آج کہاں ہیں ؟ اس کا کوئی کنبہ نہیں اس کی ذات لم لید کسی قوم وملت سے تعلق خاص نہیں رکھتی ، وہ رب العالمین ہے ، اس کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 129–131

ف 2 اور یہ تو تم سے کبھی نہ ہو سکے گا کہ تم اپنی سب بیویوں کے مابین ہر اعتبار سے مساوات اور برابری رکھو یعنی تمہارے قلب میں محبت بھی سب کی یکساں ہو خواہ تم اس مساوات اور برابری رکھنے کے کتنے ہی خواہشمند ہو لہٰذا تم ایاس نہ کرنا کہ ایک طرف تو بالکل مائل ہو جائو اور ایک کو ایسا ڈال رکھو جیسے ادہر میں لکٹی ہوئی چیز یعنی نہ نان و نفقہ دو اور نہ اس کو طلاق دو اور اگر تم اپنا طرز عمل درست کرلو اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو تو وہ معاف کر دیگا۔ یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا اور بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ (تیسیر) اوپر کی آیت میں جو کچھ فرمایا تھا اس کا ماحصل یہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 131–134

ف 4۔ تو ایسے مالک کے احکام ماننا بہت ہی ضروری ہے۔ 5۔ اس کو تقوی کہتے ہیں جس میں تمام احکام کی موافقت داخل ہے۔ 1۔ یعنی مخالفت احکام کی کرو گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تم کو اور تم سے پہلوں کو تقویٰ کی وصیت کی اور کہا کہ اگر کفر کرو گے تو نقصان تمہارا ہی ہوگا : 215: باربار اس بات کا اعلان کہ ” اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمان و زمین میں ہے “ جیسا کہ آیت 126 میں پھر اس آیت 131 میں دوبارہ اور پھر یہی بات آیت 132 میں آکر کیوں ؟ قبل ازیں کئی بار یہ بات بیان کی گئی کہ قرآن کریم کا نزول عین اس زبان اور اس کے تقاضوں کے مطابق ہے جو انسان روزہ مرہ بولتے ہیں۔ یہ فطرۃ انسانی کا مسئلہ ہے کہ جب ساری نصیحتیں کر چکتا ہے اور ایک بات کو بار بار بیان کر کے گویا تھک جاتا ہے اور دیکھتا ہے کہ جو کچھ میں نے کہا اس کا اثر اتنا نہیں ہوا جتنا کہ ہونا چاہئے تھا تو وہ اپنے تنبیہ کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 131–132

Sequence After having stated the rules of behaviour as related to women and orphans, the text now reminds the promise of rewards for those abiding by these rules, and the warning for those contravening them, which is the usual style of the Holy Qur'an. Significant Inferences Readily noticeable here is the repetition of لِّلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ which means that everything created in the heavens and the earth belongs to Allah. Repeated thrice, these words signify three shades of meaning. In the first place, the aim is to point out to the limitless scope of Allah's…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 129–133

161. This means that it is not possible for a man to accord complete equality of treatment to two or more wives under all circumstances and in all respects. It is possible that one is ugly, the other beautiful; one is old, the other young; one is permanently sick, the other healthy; one is irritable, the other good-tempered. These and other differences are likely to make a person less attracted to one and more to the other. In such circumstances, the Law does not demand that one should necessarily maintain absolute equality between the wives in respect of love, emotional attachment and sexual…

Read the full tafseer →