An-Nisaa 4:130

An-Nisaa · from ayah 130

4:130

وَاِنْ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖ ؕ— وَكَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِیْمًا ۟وَاِنۡ يَّتَفَرَّقَا يُغۡنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنۡ سَعَتِهٖ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِيۡمًا

اور اگر میاں بیوی (میں موافقت نہ ہوسکے اور) ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں تو خدا ہر ایک کو اپنی دولت سے غنی کردے گا اور خدا بڑی کشائش والا اور حکمت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But if they separate [by divorce], Allah will enrich each [of them] from His abundance. And ever is Allah Encompassing and Wise.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 19 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:130

لیکن اگر زوجین ایک دوسرے سے الگ ہی ہو جائیں تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرے کی محتاجی سے بے نیاز کر دے گا اللہ کا دامن بہت کشادہ ہے اور وہ دانا و بینا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر میاں بیوی (میں موافقت نہ ہوسکے اور) ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں تو خدا ہر ایک کو اپنی دولت سے غنی کردے گا اور خدا بڑی کشائش والا اور حکمت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اگر میاں بیوی جدا ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی وسعت سے ہر ایک کو بے نیاز کر دے گا، اللہ تعالیٰ وسعت واﻻ حکمت واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر دونوں جدا ہو ہی جائیں تو اللہ اپنی (قدرت اور حمت کی) وسعت سے دونوں کو (ایک دوسرے کی حاجت سے) بےنیاز کردے گا۔ اللہ بڑی وسعتوں والا، بڑی حکمت والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر وہ دونوں جدا ہوجائیں تو اللہ اپنی کشائش سے تم میں ہر ایک کو دوسرے سے بے نیاز کردے گا اور اللہ کشائش والا حکمت والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر دونوں (میاں بیوی) جدا ہو جائیں تواللہ ہر ایک کو اپنی کشائش سے (ایک دوسرے سے) بے نیاز کر دے گا اور اللہ بڑی وسعت والا بڑی حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں تو اللہ ہر ایک کو اپنی وسعت سے غنی کر دے گا اور اللہ ہمیشہ سے وسعت والا، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر دونوں میاں بیوی (میں صلح نہ ہوسکے اور وہ) ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں تو اللہ اپنی مہربانی سے ہر ایک کو (دوسرے کی محتاجی سے) بےنیاز کردے گا اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا اور حکمت والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر وہ دونوں جدا ہوجائیں گے تو اللہ ان میں سے ہر ایک کو اپنی وسعت سے بےنیاز کردے گا۔ اللہ بڑی سمائی رکھنے والا اور حکیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اگر وہ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں، تو اللہ ان میں سے ہر ایک کو بےنیاز کردے گا (دوسرے سے) اپنی وسعت سے اور اللہ بڑا ہی وسعت والا، نہایت ہی حکمت والا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر دونوں جدا ہی ہوجائیں تو اللہ ہر ایک کو اپنے (فضل کی) وسعت سے بےنیاز کردے گا۔ اور اللہ ہے ہی بڑا وسعت والا بڑا حکمت والا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر وہ (میاں بیوی) دونوں علیحدہ ہوجائیں گے تو اللہ ان کو اپنی کشادگی سے غنی کر دے گا اور اللہ بڑی وسعت رکھنے والا حکمت والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

لیکن اگر میاں بیوی ایک دوسرے سے الگ ہی ہوجائیں تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرے کی محتاجی سے بےنیاز کرے گا۔ اللہ کا دامن بہت کشادہ ہے اور اللہ بڑی وسعت والا اور دانا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

But if the two separate, out of His plenty Allah will make each dispense with the other. Indeed Allah is All-Bounteous, All-Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If they separate, Allah shall, through His capacity, make each of them need-free (of the other). Allah is All-Embracing, All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

If they separate, Allah shall, through His capacity, make each of them need-free (of the other). Allah is All-Embracing, All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But if they separate (by divorce), Allah will provide abundance for everyone of them from His bounty. And Allah is Ever All-Sufficient for His creatures' needs, All-Wise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But if they separate, Allah will compensate each out of His abundance. Allah is ever All-Embracing, All-Knowing.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But if they separate [by divorce], Allah will enrich each [of them] from His abundance. And ever is Allah Encompassing and Wise.

— Saheeh International

If the marriage is terminated, God will make each one of them financially independent. God is Munificent and Wise.

— Muhammad Sarwar

And if they separate, Allah will render them both free from want out of His ampleness, and Allah is Ample-giving, Wise.

— Muhammad Habib Shakir

And if the twain must sunder, Allah shall render the twain independent out of His bounty, and Allah is ever Bountiful, Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

But if they disagree (and must part), Allah will provide abundance for all from His all-reaching bounty: for Allah is He that careth for all and is Wise.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:130

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 128–130

میاں بیوی میں صلح وخیر کا اصول اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے حالات اور ان کے احکام بیان فرما رہا ہے کبھی مرد اس سے ناخوش ہوجاتا ہے کبھی چاہنے لگتا ہے اور کبھی الگ کردیتا ہے۔ پس پہلی حالت میں جبکہ عورت کو اپنے شوہر کی ناراضگی کا خیال ہے اور اسے خوش کرنے کے لئے اپنے تمام حقوق سے یا کسی خاص حق سے وہ دست برداری کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔ مثلاً اپنا کھانا کپڑا چھوڑ دے یا شب باشی کا حق معاف کر دے تو دونوں کے لئے جائز ہے۔ پھر اسی کی رغبت دلاتا ہے کہ صلح ہی بہتر ہے۔ حضرت سودہ بنت زمعہ جب بہت بڑی عمر کی ہوجاتی ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے اسے قبول فرما لیا۔ ابو داؤد میں ہے کہ اسی پر یہ آیت اتری۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 129–133

سورة النِّسَآء 161 مطلب یہ ہے کہ آدمی تمام حالات میں تمام حیثیتوں سے دو یا زائد بیویوں کے درمیان مساوات نہیں برت سکتا۔ ایک خوبصورت ہے اور دوسری بدصورت، ایک جوان ہے اور دوسری سن رسیدہ، ایک دائم المرض ہے اور دوسری تندرست، ایک بدمزاج ہے اور دوسری خوش مزاج اور اسی طرح کے دوسرے تفاوت بھی ممکن ہیں جن کی وجہ سے ایک بیوی کی طرف طبعًا آدمی کی رغبت کم اور دوسری کی طرف زیادہ ہو سکتی ہے۔ ایسی حالتوں میں قانون یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ محبت ورغبت اور جسمانی تعلق میں ضرور ہی دونوں کے درمیان مساوات رکھی جائے۔ بلکہ صرف یہ مطالبہ کرتا ہے کہ جب تم بےرغبتی کے باوجود ایک عورت کو طلاق نہیں دیتے اور اس کی اپنی خواہش…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 129–130

امور غیر اختیاریہ پر مواخذہ نہیں ازدواجی زندگی کو خوشگوار اور پائیدار بنانے کے لئے قرآن عظیم نے مذکورہ آیات میں جو ہدایتیں فریقین کو دی ہیں ان آیات میں ایک آیت یہ ہےولن تستطعیوا ان تعدلو ابین النسآء جس میں فریقین کو ایک خاص ہدایت فرمائی وہ یہ کہ ایک مرد کے نکاح میں ایک سے زائد عورتیں ہوں تو قرآن کریم نے سورة نساء کے شروع میں اس کو یہ ہدایت دی کہ سب بیویوں میں عدل و مساوات قائم رکھنا اس کے ذمہ فرض ہے اور جو خیال کرے کہ اس فرض کو میں ادا نہ کرسکوں گا تو اس کو چاہئے کہ ایک سے زائد بیبیاں نہ کرے، ارشاد ہے فان خفتم الا تعدلوا افواحدة ”یعنی اگر تم کو یہ خطرہ ہو کہ دو بییوں میں مساوات نہ کرسکو گے تو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 129–130

129 تا 130:۔ وَلَنْ تَسْتَطِيْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَيْنَ النِّسَاۗءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيْلُوْا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوْھَا كَالْمُعَلَّقَةِ ۭ وَاِنْ تُصْلِحُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۔ وَاِنْ يَّتَفَرَّقَا يُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِيْمًا۔ بیویوں کے معاملے میں عدل کا معیار : اب یہ عدل کا مفہوم واضح فرمادیا کہ جس عدل کو تم ننامکن بتا رہے ہو وہ تمہارا اپنا ذہنی عدل ہے۔ تم یہ سمجھ رہے ہو کہ دل کا لگاؤ اور ظاہر کا سلوک دونوں بالکل برابر مطلوب ہیں۔ اس وجہ سے یہ بات ناممکن نظر آرہی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 130–132

130۔ 1 یہ تیسری صورت ہے کہ کوشش کے باوجود اگر نباہ کی صورت نہ بنے پھر طلاق کے ذریعے علیحدگی اختیار کرلی جائے۔ ممکن ہے علیحدگی کے بعد مرد کو مطلوبہ صفات والی بیوی اور عورت کو مطلوبہ صفات والا مرد مل جائے۔ اسلام میں طلاق کو اگرچہ سخت ناپسند کیا گیا ہے، طلاق حلال تو ہے لیکن یہ ایسا حلال ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہے " اس کے باوجود اللہ نے اس کی اجازت دی ہے اس لئے کہ بعض دفعہ حالات ایسے موڑ پر پہنچ جاتے ہیں کہ اس کے بغیر چارہ نہیں ہوتا اور فریقین کی بہتری اسی میں ہوتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرلیں۔ مزکورہ حدیث میں صحت اسناد کے اعتبار سے اگرچہ ضعف ہے تاہم قرآن وسنت کی نصوص سے یہ واضح ہے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 130–131

79: مصالحت کی تمام کوششوں کے باوجود ایک مرحلہ ایسا آسکتا ہے کہ اس کے بعد نکاح کا رشتہ میاں بیوی پر تھوپے رکھنا دونوں کی زندگی کو اجیرن بناسکتا ہے، ایسی صورت میں طلاق اور علیحدگی کا راستہ اختیار کرنا بھی جائز ہے، اور یہ آیت اطمینان دلارہی ہے کہ جب خوش اسلوبی سے جدائی عمل میں آجائے تو اللہ تعالیٰ دونوں کے لئے ایسے راستے پیدا کردیتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی ضرورت سے بےنیاز ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” وان یتفرقا یغن اللہ کلا من سعتہ وکان اللہ واسعا حکیما (3 : 130) (اگر زوجین ایک دوسرے سے الگ ہی ہوجائیں تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرے کی محتاج سے بےنیاز کر دے گا ۔ اللہ کا دامن بہت کشادہ ہے اور وہ دانا وبینا ہے ۔ ) اللہ تعالیٰ دونوں سے وعدہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنے فضل اور رحمت سے دونوں کو غنی بنا دے گا ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت ہی وسعت کرنے والے ہیں اور اپنے حدود و حکمت کے اندر اور بندوں کی مصحت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے لئے کشادگی کی حد مقرر فرماتے ہیں ہر شخص کے حالات کے مطابق ۔ اسلام انسانی شعور اور نفس کے پوشیدہ میلانات کے ساتھ جس طرح برتاؤ کرتا ہے اور جس طرح زندگی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی اگر زوجین جدائی ہی کو پسند کریں اور طلاق کی نوبت آئے تو کچھ حرج نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کا کار ساز ہے اور سب کی حاجات کا پورا کرنے والا ہے۔ اس میں اشارہ ہے اس طرف کہ زوجہ کو راحت سے رکھے اور ایذا نہ دے اور اس پر قادرنہ ہو تو پھر طلاق دے دینا مناسب ہے واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 130 وَاِنْ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰہُ کُلاًّ مِّنْ سَعَتِہٖ ط۔ ہو سکتا ہے کہ اس عورت کو بھی کوئی بہتر رشتہ مل جائے جو اس کے ساتھ مزاجی موافقت رکھنے والاہو اور اس شوہر کو بھی اللہ تعالیٰ کوئی بہتر بیوی دے دے۔ میاں بیوی کا ہر وقت لڑتے رہنا ‘ دنگا فساد کرنا اور عدم موافقت کے باوجود طلاق کا اختیار option استعمال نہ کرنا ‘ یہ سوچ ہمارے ہاں ہندو معاشرت اور عیسائیت کے اثرات کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ ہندومت کی طرح عیسائیت میں بھی طلاق حرام ہے۔ در اصل انجیل میں تو شریعت اور قانون ہے ہی نہیں ‘ صرف اخلاقی تعلیمات ہیں۔ چناچہ جس طرح نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَی اللّٰہِ الطَّلَاقُ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

173 اور اگر ان میں نباہ اور حسن معاشرت کی کوئی صورت نظر نہ آرہی ہو تو اسلام اس بات پر مجبور نہیں کرتا کہ ایک گھرانہ میں ہر وقت کشیدگی کی فضا قائم رہے اور جہنم زار بنا رہے۔ اس سے بہتر ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں۔ خواہ مرد طلاق دے دے یا عورت خلع لے لے۔ پھر دونوں کا اللہ مالک ہے وہ ان کے لیے بہت سامان پیدا فرما دے گا۔ اور یہ بات کئی بار تجربہ میں آچکی ہے کہ جن دو میاں بیوی کا آپس میں نباہ ہونا ناممکن نظر آ رہا تھا اور وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے نالاں اور ایک دوسرے پر الزام دھرتے تھے جب دونوں الگ ہوگئے تو ان دونوں کو اللہ نے اپنے اپنے گھروں میں سکھ چین سے آباد کردیا اور پھر زندگی بھر ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

344 ۔ (ایک دوسرے سے) یعنی اگر صلح وموافقت کی ہر تدبیر ناکام رہے اور نوبت بالآخر علیحدگی ہی کی آجائے تو زیادتی (نشوز) اور بےالتفاتی (اعراض) کرنے والا فریق یہ سمجھے رہے کہ اللہ کسی کے کام کو کسی سے اٹکائے نہیں رکھتا۔ وہ بغیر کسی بندہ کی شرکت اور مدد کے ہر ایک کا کام چلا دینے کے لئے کافی ہے۔ 345 ۔ (اسے ہر ایک لئے مناسب سبیل نکال لینا کیا مشکل ہے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 129–134

وَلَنْ تسّطیعوا ان تعدلو ابین النساء (الایة) اس آیت میں ایک دوسری صورت کا بیان ہے کہ ایک شخص کی ایک سے زائد بیویاں ہوں تو دلی تعلق اور محبت میں وہ سب کے ساتھ ایک سا سلوک نہیں کرسکتا اسلئے کہ محبت، دلی تعلق کا نام ہے جس پر کسی کو اختیار نہیں ہوتا، خود آنحضرت ﷺ کو بھی اپنی تمام ازواج میں سے حضرت عائشہ ؓ سے زیادہ محبت تھی، اگر یہ قلبی میلان ظاہری حقوق کے مساوات میں مانع نہ بنے تو عند اللہ قابل مواخذہ نہیں۔ حدیث : جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے یہاں دو بیویاں ہوں اور وہ ایک ہی کا خیال رکھتا ہو تو قیامت میں وہ شخص اس حالت میں آئیگا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان یتفرقا اور اگر دونوں (میاں بی بی طلاق کی وجہ سے) الگ الگ ہوجائیں گے۔ یغن اللہ کلا من سعتہ تو اللہ اپنی قدرت سے دونوں میں سے کسی کو دوسرے کا محتاج نہ رکھے گا۔ عورت کو دوسرا شوہر دے دے گا اور مرد کو دوسری بی بی۔ سَعَۃٌ کا معنی ہے وسعت اور قدرت۔ وکان اللہ واسعا . اور اللہ وسعت والا ہے یعنی اس کی رحمت میں بڑی سمائی ہے وہ سب کچھ کرسکتا ہے یا وسعت والا ہے مگر اس کی وسعت بےکیف ہے۔ ہر خیر اور ہر وجود اس کی خیر اور اس کے وجود کا پر تو ہے۔ حکیما . حکمت والا ہے یعنی اس کے افعال و احکام پُر حکمت ہیں۔ مسئلہ : سنت رسول اللہ اور اس آیت کا اقتضا ہے کہ تمام بی بیوں کی باری (اور مصارف) کی تقسیم میں برابری…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(130) اور اگر دونوں میاں بیوی طلاق وغیرہ کی بنا پر علیحدہ ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ خاوند کو دوسری بیوی دے کر اور بیوی کو دوسرا خاوند عطا کر کے غنی کر دے گا اور اللہ تعالیٰ نے دنوں کے لیے عدل و انصاف والا راستہ نکال دیا ہے، اسعد بن ربیع ؓ کی ایک بیوی جوان تھیں وہ ان کی طرف زیادہ مائل تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے منع فرمایا اور جوان اور بوڑھی کے درمیان برابری کرنے کا حکم دیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنْ يَّتَفَرَّقَا يُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖ ۭ : یہ دوسری صورت ہے کہ میاں بیوی کے درمیان صلح کی کوئی صورت باقی ہی نہیں رہی تو اچھے طریقے سے علیحدگی اختیار کرلیں۔ اللہ تعالیٰ دونوں کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ مرد کو دوسری بیوی مل جائے گی، جو اسے پسند ہو اور عورت کو دوسرا شوہر مل جائے گا جو اس سے محبت کرے اور اس کی ضرورتوں کا خیال رکھے۔ (قرطبی) اس سے اسلام کے احکام کی حکمت، وسعت اور رحمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ بعض مذاہب میں طلاق کو حرام قرار دیا گیا ہے، ایک دفعہ جب نکاح ہوگیا اب وہ خواہ ایک دوسرے سے کتنے متنفر ہوجائیں، خواہ ان کی زندگی جہنم کا نمونہ بن جائے، طلاق نہیں دے سکتے۔ نہیں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 130–132

آیت نمبر : 130 تا 132۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وان یتفرقا یغن اللہ کلا من سعتہ “۔ یعنی اگر صلح نہ کریں بلکہ جدا ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ کے متعلق اچھا گمان کریں، اللہ تعالیٰ مرد کو ایسی بیوی دے گا جس سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی اور عورت کو ایسا مرد عطا فرمائے گا جو اس پر کشادگی کرے گا۔ جعفر بن محمد سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ان سے غربت کی شکایت کی تو انہوں نے اسے نکاح کرنے کا حکم دیا، وہ شخص گیا اس نے نکاح کرلیا پھر وہ آیا اور غربت کی شکایت کی، انہوں نے اسے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیا پھر ان سے اس آیت کے متعلق کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : میں نے اسے نکاح کا حکم دیا کہ شاید…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 128–134

شوہر سے صلح کرنا (1) الطیالسی و ترمذی (نے اس کو حسن کہا) وابن المنذر و طبرانی و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سودہ ؓ اس بات سے ڈر گئیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کو طلاق دیں گے تو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھ کو طلاق نہ دیں اور میری باری عائشہ کو دے دیجئے آپ نے ایسا ہی کرلیا تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” وان امراۃ خافت من بعلہا نشوزا “ ابن عباس ؓ نے فرمایا دونوں میں کسی چیز پر صلح ہوجائے تو یہ جائز ہے۔ (2) ابن سعد و ابو داؤد اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس ٹھہرنے میں ہمارے بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور آپ ان میں ہر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاِنْ : اور اگر ] [ یَّـتَفَرَّقَا : وہ دونوں الگ ہوجائیں ] [ یُغْنِ : تو بےنیاز کر دے گا ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ کُلاًّ : سب کو ] [ مِّنْ سَعَتِہٖ : اپنی وسعت سے ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ وَاسِعًا : وسعت دینے والا ] [ حَکِیْمًا : حکمت والا ] نوٹ : بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سورة کی آیت 3 میں عدل کی شرط کے ساتھ چار تک کی شادیاں کرنے کی اجازت دی گئی تھی ‘ لیکن اب آیت 129 میں عدل کو ناممکن قرار دے کر اس اجازت کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ اس آیت میں اگر صرف اتنا ہی کہا ہوتا کہ تم عورتوں کے درمیان عدل نہیں کرسکتے ‘ تو پھر اس استدلال کو قبول کرنا ممکن تھا ‘ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَ اِنْ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰہُ کُلًّا مِّنْ سَعَتِہٖ ) یعنی اگر دونوں میاں بیوی میں کسی طرح موافقت نہ ہو پائے اور خلع یا طلاق کے ذریعہ آپس میں جدائی ہو ہی جائے تو اللہ اپنی وسعت سے ہر ایک کو ایک دوسرے سے بےنیاز فرما دے گا۔ کوئی فریق یہ نہ سمجھے کہ میرے بغیر اس کا کام چلے گا ہی نہیں اللہ تعالیٰ سب کا کار ساز ہے ہر ایک کے لیے جو مقدر فرمایا ہے وہ اس کے لیے میسر فرمائے گا اس میں فریقین کو تسلی دی ہے کہ آپس میں صلح نہ کرسکیں اور جدا ہی ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ دونوں کے لیے خیر فرمائے گا۔ مرد کو کوئی دوسری بیوی مل جائے گی اور عورت کا بھی کوئی ٹھکانہ ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی بڑی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 128–134

بیان بعض احکام متعلقہ بہ معاشرہ زوجین۔ قال تعالی، وان امرۃ خافت من بعلھا نشوزا۔۔۔ الی۔۔۔ حکیما۔ آیت۔ اوپر آیتوں میں ان احکام کا حوالہ تھا جو سورة نساء کے شروع میں گزر چکے اب یہاں سے عورتوں کے متعلق دوسرے نئے احکام بیان فرماتے ہیں جو میاں اور بیوی کے باہمی معاشرت سے متعلق ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی بدمزاجی یا بےالتفاتی اور بےاعتنائی سے ڈرے مثلا عورت بدشکل ہو یابڑھیا ہوگئی ہو اور اس کو قرائن سے یہ معلوم ہوجائے کہ اس کا شوہر اس کو طلاق دینا چاہتا ہے اور یا دوسری بیوی کرنا چاہتا ہے تو ایسی صورت میں میاں بیوی پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں مثلا یہ کہ عورت اپنا نفقہ اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 128–130

88 تنویر ثانی۔ یہ چودھویں حکم رعیت پر تنویر ہے۔ وَاِنْ خَفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا الخ (رکوع 6) سے شبہ ہوتا تھا کہ اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ ہر ایک کو اسکا پورا حق ملے یہاں اس کا ازالہ کردیا کہ اصلاح سے مراد عام ہے دونوں میں سے خواہ کسی ایک کو اپنے حق سے دستبردار ہونا پڑے جیسا کہ وَاِنْ تُحْسِنُوْا وَتَتَّقُوْا سے اس طرف اشارہ ہے یعنی ہر ایک اپنے حقوق پر حریص ہوتا ہے اور کسی طرح اپنا حق چھوڑنا نہیں چاہتا لیکن اگر تم تقاضائے نفس کے خلاف اپنا حق چھوڑ دو اور اس سے درگذر کرو تو یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے تمہارا یہ عمل ضائع نہیں جائیگا بلکہ تمہیں اس کا پورا پورا اجر ملیگا۔ وَلَنْ تَسْتَطِیعُوْا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 128–130

ربط آیات گزشتہ دروس میں بعض معاشرتی مسائل کا تذکرہ تھا ، عورتوں ، یتیم بچیوں اور دیگر کمزور طبقات کے متعلق حکم دیا گیا تھا کہ ان کے حقوق ادا کرو اور اس ضمن میں اس سورة کی ابتداء میں اسی موضوع پر نازل ہونے والی آیات کی طرف توجہ دلائی گئی تھی۔ کہ ان طبقات پر وہی احکام لاگو ہیں اور انہی سے راہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ عورتوں کے نکاح اور مہر کا خصوصی ذکر تھا کہ ان کے مقرر مہر ادا کرو۔ یتیم بچیوں کے متعلق سرپرستوں کو تنبیہ تھی کہ اگر ان سے خود نکاح کرنا چاہو ، تو ان کا مہر پورا ادا کرو ، اور باقی حقوق بھی بطریق احسن پورے کرو اور اگر خود نکاح نہ کرنا چاہو ، تو انہیں دوسری جگہ نکاح کرنے سے نہ روکو اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنْ يَّتَفَرَّقَا يُغْنِ اللہُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِہٖ۝ 0ۭ وَكَانَ اللہُ وَاسِعًا حَكِيْمًا۝ 130 تفریق والتَّفْرِيقُ أصله للتّكثير، ويقال ذلک في تشتیت الشّمل والکلمة . نحو : يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ [ البقرة/ 102] ، (ر ق ) الفرق التفریق اصل میں تکثیر کے لئے ہے اور کسی چیز کے شیر ازہ اور اتحاد کو زائل کردینے پر بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ [ البقرة/ 102] جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں ، غنی الغِنَى يقال علی ضروب : أحدها : عدم الحاجات، ولیس ذلک إلا لله تعالی، وهو المذکور في قوله : إِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 128–130

ترکیب : وان شرطیہ امراۃ مبتداء خافت خبر اور صحیح یہ ہے کہ امراۃ خافت محذوف کا فاعل ہے اور یہ خافت اس کی تفسیر ہے۔ فلا جناح جواب۔ احضرت کا مفعول اول الانفس ہے جو فاعل بنایا گیا اور الشح مفعول ثانی۔ تفسیر : عورتوں کے حقوق کا ذکر پہلی آیات میں آچکا ہے اس لئے یہاں بھی ان کے بعض معاملات میں حکم دیا جاتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مرد بدمزاج سخت گیر ہوتا ہے اور غالباً یہ سخت گیری اور بدمزگی اس سے پیدا ہوتی ہے کہ عورت اپنے حقوق اور مہروغیرہ کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس کی بابت ارشاد ہوتا ہے کہ اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی بدمزاجی اور بےاعتنائی کا خوف ہو تو اس میں بھی کچھ مضائقہ نہیں کہ باہم کچھ حقوق چھوڑ کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَ اِنْ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰہُ کُلًّا مِّنْ سَعَتِہٖ ط وَ کَانَ اللّٰہُ وَاسِعًا حَکِیْمًا ” اور اگر دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سے الگ ہی ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اپنی وسیع قدرت سے دوسرے کی محتاجی سے بےنیاز کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ وسیع بخشش والا حکمت والا ہے۔ “ (النسآء : 130) بیوی کی طرف سے تمام تر ایثار و قربانی یا شوہر کی طرف سے احسان و مروت کے باوجود دونوں میں علیحدگی ناگزیر ہوجائے اور نبھا کی ہر صورت ناکام ہوجائے تو پھر دونوں کو سوچ سمجھ کر علیحدگی کا فیصلہ کرلینا چاہیے۔ اسلام نے جو طریق معاشرت رائج کیا ہے اور مسلمانوں کو جن آداب معاشرت سے مہذب بنایا ہے اس میں اس بات پر بہت زور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اکٹھا رہنے کی کوئی شکل باقی نہ رہے تو جدائی کی صورت میں دونوں کو تسلی دی گئی ہے۔ گھر کی چار دیواری اور میاں بیوی کے تعلقات معاشرے کی اکائی اور بنیادی یونٹ کی حیثیت رکھتے ہیں یہ یونٹ جس قدر خوشحال اور اس کا ماحول جتنا خوشگوار ہوگا۔ اتنا ہی معاشرہ مضبوط اور اچھے خطوط پر استوار ہوگا۔ اس یونٹ کو توڑ پھوڑ سے بچانے کے لیے قرآن مجید نے متعدد ہدایات جاری فرمائی ہیں۔ لیکن بسا اوقات معاملات اس حد تک آگے بڑھ جاتے ہیں کہ ان پر قابو پانا کسی کے اختیار میں نہیں رہتا۔ ایسی صورت میں مرد کو طلاق دینے اور عورت کو خلع لینے کا اختیار دیا ہے۔ یہ انقطاع طلاق کی صورت میں ہو یا خلع کی شکل میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 130 : وَاِنْ یَّتَفَرَّقَا (اور اگر وہ دونوں الگ الگ ہوجائیں) اور کسی چیز پر صلح نہ کریں اور خلع یا طلاق سے علیحدگی اختیار کرلیں۔ اور اس کا حق مہر اور نفقہ عدت پورا پورا دے دیں۔ یُغْنِ اللّٰہُ کُلاًّ (تو اللہ تعالیٰ ہر ایک کو دوسرے کا محتاج نہ رکھے گا) مِّنْ سَعَتِہٖ (اپنی وسعت (قدرت اور غناء) کے ساتھ) یعنی عورت کو بہتر خاوند دے دے گا اور اچھی گزران پہلی گزران سے۔ وَکَانَ اللّٰہُ وَاسِعًا (اور اللہ تعالیٰ وسعت والے ہیں) کہ اس نے نکاح کو حلال کردیا۔ حَکِیْمًا (اور حکمت والے ہیں) کہ رخصت کرنے کی اجازت دے دی۔ السعت : قدرت و غناء کو کہتے ہیں۔ الواسعالغنی، المقتدر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

130۔ (آیت)” وان یتفرقا “۔ عورت اور مرد دونوں طلاق کی وجہ سے الگ الگ ہوجائیں ، (آیت)” یغن اللہ کلا من سعۃ “۔ وسعت کا معنی یہاں رزق سے کیا ہے یعنی عورت کو دوسرا شوہر دے دے گا اور مرد کو دوسری بیوی (آیت)” وکان اللہ واسعا حکیما “۔ (ازواج کے درمیان مساوات کے مسائل) واسعا کا معنی ہے فضل اور رحمت اور حکیما سے مراد جن امور میں حکم دیا گیا اور اس سے روکا گیا ، من جملہ اس آیت کا حکم یہ ہے کہ جب ایک مرد کے پاس دو بیویاں ہوں یا اس سے زائد ہوں تو اس پر برابری لازمی ہے تقسیم میں اور اگر اپنی بیویوں میں تقسیم میں کمی برتے گا تو اللہ کے ہاں نافرمان لکھا جائے گا اور اسی پر فیصلہ ہے کہ وہ ان کے ساتھ رات گزارنے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 128–130

(128 ۔ 130) ۔ ابو داؤد، ترمذی، اور مسند امام احمد بن حنبل میں جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے جس کو مستدرک حاکم میں روایت کیا جاکر صحیح کہا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ام المومنین سودہ ؓ حضرت ﷺ کی بی بی جب ضعیف ہوگئیں تو ان کو یہ اندیشہ ہوا کہ شاید آنحضرت ﷺ ان کو چھوڑدیں گے۔ اس لئے انہوں نے اپنی باری کی رات حضرت عائشہ ؓ کو ہبہ کردی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 سو اس شان نزول کے مفسروں نے اور شان نزول جو اس آیت کی بیان کی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قصہ پر بھی اس آیت کا مضمون صادق آتا ہے ورنہ اصل شان نزول وہی ہے جو صحیح روایتوں کے حوالہ سے اوپر بیان کی ہوئی ہے حاصل معنی آیت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 130–132

آیت 130 میاں بیوی کے درمیان تیسری حالت یہ ہے کہ جب اتفاق کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو دونوں کے درمیان علیحدگی میں کوئی حرج نہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وان یتفرقا) ” اور اگر وہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں۔ “ یعنی اگر دونوں طلاق، فسخ یا خلع کے ذریعے سے ایک دوسرے سے علیحدہ ہوجائیں (یغن اللہ کلا من سعتہ) ” اللہ تعالیٰ دونوں میاں بیوی کو اپنے فضل و کرم اور لامحدود احسان کے ذریعے سے ایک دوسرے سے بےنیاز کر دے گا “ شوہر کو کسی دوسری بیوی کے ذریعے سے پہلی بیوی اور بیوی کو اپنے فضل و کرم سے مستغنی کر دے گا۔ اگر بیوی کا اپنے شوہر کے رزق میں سے حصہ ختم ہوگیا ہے تو اس کا رزق اس ہستی کے ذمے ہے جو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 129–134

بیویوں میں پورا پورا عدل کرو قول باری ہے ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النساء ولو حرصتم فلا تمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقۃ۔ بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے تم چاہو بھی تو اس پر قادر نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھک جائو کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو ) ۔ ابوعبیدہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد دلی محبت اور میلان طبعی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ حسن اور قتادہ سے بھی یہی مروی ہے قول باری فلاتمیلواکل المیل۔ میں مراد۔ واللہ اعلم۔ یہ ہے کہ اس میلان کا بالفعل اس طرح اظہار نہ کیا جائے کہ ایک بیوی سے پوری طرح منہ موڑ کر دوسری بیوی کا رخ کرلیا جائے۔ اس پر قول باری فتذروھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 129–130

331 عورت کو معلقہ بنا کر رکھنے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم ایک طرف اس قدر نہ جھکو جاؤ کہ دوسری کو معلقہ بنا کر رکھ دو کہ نہ وہ ادھر کی رہے نہ ادھر کی۔ نہ خاوند والی، نہ طلاق والی، کہ نہ تو اس کو زن و شوہر کے حقوق حاصل ہوں، اور نہ طلاق کی آزادی، کہ کہیں اور جاسکے۔ سو ایسا مت کرو کہ یہ ظلم ہے جس کی اجازت اسلام نہیں دے سکتا۔ اور اس کی صاف وصریح تعلیم ہے کہ ظلم حرام ہے۔ پس تم کسی پر ظلم نہیں کرنا اور یہ کہ ظلم قیامت کے روز ہولناک اندھیروں کی شکل میں سامنے آئے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے عدل مطلوب کی تصریح فرما دی گئی کہ جو عدل قلبی لگاؤ اور طبعی میلان کے اعتبار سے ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 128–130

بیویوں سے حسن سلوک اور انصاف تشریح : جیسا کہ اس سورت کے شروع میں بھی ازدواجی زندگی کے بارے میں کچھ اصول و قوانین بتائے جا چکے ہیں ان آیات میں مزید قوانین بتائے جارہے ہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ گھر کا شعبہ انسانی زندگی کی بقاء، کامیابی اور سکون کا بہت بڑا اور سب سے پہلا شعبہ ہے۔ اس میں امن، سکون، محبت، آرام و آسائش اور نظم و ضبط بےحد ضروری ہے۔ اسی لیے اللہ رب العزت نے زندگی کے باقی معاملات کے ساتھ ساتھ میاں بیوی کے لیے بھی ضابطے اور طریقے بیان کردیئے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ بتایا کہ اگر کسی وجہ سے بیوی محسوس کرے کہ میاں اس سے کچھ زیادہ خوش نہیں تو بیوی کو چاہیے اس کو خوش کرنے اور محبت بڑھانے کے لیے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 127–134

رکوع نمبر 19 ۔ آیات 127 تا 134 ۔ ویستفتونک ۔۔۔۔۔ سمیعا بصیرا۔ اسرار و معارف : پھر بات اپنے اصل موضوع کو پلٹتی ہے کہ قبل اسلام عورت کو انسان سمجھا ہی نہ جاتا تھا۔ اسلام نے اسے میراث میں حقوق دلوا دئیے اور وراثت تک میں حصہ دار بنا دیا کہاں سے اٹھایا کہاں پہنچا دیا ؟ جبکہ اہل عرب تو عورتوں کو خود میراث سمجھ کر بانٹ لیا کرتے تھے۔ سو بعض طبقوں نے ان امور کی تصدیق چاہی کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام عورت کو مرد کی طرح وراثت میں حصہ قرار دے شاید وقتی طور پر ایسا کیا گیا ہوگا ممکن ہے کچھ خاص لوگوں کے لیے ہو ورنہ وہاں تو یہ سوچنا بھی ممکن نظر نہ آتا تھا سو ارشاد ہوا کہ ابھی تک آپ کی بارگاہ میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 مردکو دوسری بیوی مل جائے گی جائے گی جو اسے پسند ہو اور عورت کو دوسرا شوہر مل جائے گا۔ جو اس سے پسند ہو اور عورت کو دوسرا زشوہر مل جائے گا جو اسے محبت کرے اور اس کی تمام ضرورتوں کا خیال رکھے (قرطبی)12 یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ کسی کا رزق میرے ہاتھ میں ہے۔ اگر میں نہ دوں گا تو وہ بھو کا مرجائے گا۔ اللہ تعالیٰ رازق مطلق ہے اور اور اس کے انتظامات انسانی سمجھ کر بالا تر ہیں۔ اس نے جس طرملاپ میں حکمت رکھی ہے جدائی میں بھی رکھی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:130) یتفرقا۔ وہ دونوں الگ ہوجائیں۔ یغن اللہ۔ یغن اصل میں یغنی تھا۔ جواب شرط کی وجہ سے ی گرگئی۔ اغنی یغنی اغناء (افعال) اللہ اس کو بےاحتیاض بنا دے گا۔ محتاج نہ رکھے گا۔ بےنیاز کردیگا۔ من سعتہ۔ وسعت بخشش سے۔ یعنی اللہ خود ان کی ضروریات کو پورا کردے گا۔ سعۃ۔ وسعت۔ گنجائش۔ کشائش۔ فراخی۔ وسع یسع (سمع) کا مصدر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 129–134

آیت نمبر 129-134 لغات القرآن : لن تستطیعوا، ہرگز تم طاقت نہیں رکھتے۔ ان تعدلوا، یہ کہ تم (پورا پورا) انصاف کرو۔ لو حرصتم، اگرچہ تم خواہش مند ہو۔ لاتمیلوا، مائل نہ ہوجاؤ، جھک نہ پڑو۔ تذروھا، تم چھوڑ دو اس کو۔ کالمعلقۃ، جیسے بیچ میں لٹکی ہوئی۔ یتفرقا، دونوں جدا جدا ہوجائیں۔ یغن اللہ، اللہ بےنیاز کر دے گا۔ کل، ہر ایک کو۔ تشریح : انسان فطرتاً کمزور ہے، اس کے لئے چند بیویوں کے درمیان برابر عدل و انصاف رکھنا بہت مشکل کام ہے۔ کوئی زیادہ حسین زیادہ جوان، زیادہ دولت والی یا علم و عقل والی یا سلیقہ مند ہوسکتی ہے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا ہے کہ بےاختیاری باتوں میں تو کسی قدر چھوٹ دی جاسکتی ہے لیکن…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 128–130

حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ عورت اپنے شوہر کی بےدلی اور بےتوجہی دیکھ کر اس کے خوش کرنے کو اپنے مہر یا نان و نفقہ میں سے کچھ دیوے تو مرد ضرور راضی ہوجاوے گا۔ اسی طرح شب باشی کی نوبت میں سے اگر عورت کچھ چھوڑ دے تو اس پر بھی صلح ہوسکتی ہے۔ اور جدائی پر صلح اللہ کے نزدیک بہتر ہے اس لئے جو میان بی بی خدا کا خوف کر کے حسن سلوک کی رغبت کا ذکر ہی ان آیات میں ہے اس کی تفسیر جناب ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ کسی شخص کا اپنے اہل و عیال کے ساتھ حسن سلوک سے گزران کرنا اس شخص کی ایمان داری کی نشانی ہے۔ روٹی کپڑے میں برابری کا برتنا یہ آدمی کے اختیار میں ہے اور دلی الفت کا برتنا یہ آدمی کے اختیار سے باہر ہے۔ اس لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 129–134

[83] شروع سورت (آیت نمبر 3) میں تعداد ازواج کی اجازت عدل کے ساتھ مشروط کی گئی تھی اور فرمایا گیا تھا کہ اگر عدل نہ کرسکو تو ایک بیوی پر قناعت رکھنا۔ اس موقع پر عدل سے مراد تھی معاملات میں عدل (ملاحظہ ہو حاشیہ 4) ۔ اس آیت میں عدل سے مراد مساوات امور غیر اختیاری ہے، مثلاً محبت ورغبت میں اور ایسی مساوات کامل تو والدین بھی اپنی ساری اولاد کے درمیان نہیں رکھ سکتے۔ لفظ عدل دونوں جگہ مشترک ہے۔ لیکن مفہوم الگ الگ ہے اور اس اسلوب بیان کی مثالیں قرآن میں بکثرت ملتی ہیں۔ علاوہ ازیں اگر عدل کو ناممکن قرار دے کر قرآن تعدد ازواج کی اجازت کو منسوخ کردیتا ہے جیسا کہ بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ نتیجہ نکالا ہے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) اختلاف جب حد سے بڑھ جائے تو مناسب یہی ہے کہ دونوں ہوجائیں اور پوری بےنیازی سے اپنے اپنے مصالح کے ماتحت زندگی بسرکریں ۔ اس آیت میں اسی حکیمانہ اصول کی وضاحت ہے ۔ حل لغات : وصینا : مادہ وصیۃ ، تاکید اکید ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 129–131

ف 2 اور یہ تو تم سے کبھی نہ ہو سکے گا کہ تم اپنی سب بیویوں کے مابین ہر اعتبار سے مساوات اور برابری رکھو یعنی تمہارے قلب میں محبت بھی سب کی یکساں ہو خواہ تم اس مساوات اور برابری رکھنے کے کتنے ہی خواہشمند ہو لہٰذا تم ایاس نہ کرنا کہ ایک طرف تو بالکل مائل ہو جائو اور ایک کو ایسا ڈال رکھو جیسے ادہر میں لکٹی ہوئی چیز یعنی نہ نان و نفقہ دو اور نہ اس کو طلاق دو اور اگر تم اپنا طرز عمل درست کرلو اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو تو وہ معاف کر دیگا۔ یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا اور بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ (تیسیر) اوپر کی آیت میں جو کچھ فرمایا تھا اس کا ماحصل یہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 129–130

ف 3۔ یعنی نہ توا سکے حقوق ادا کیے جائیں کہ خاوند والی سمجھی جائے اور نہ اس کو طلاق دی جائے کہ بےخاوند والی کہی جائے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر اصلاح کی کوئی صورت پیدا نہ ہو تو انجا م کیا ہوگا ؟ جدائی ہوجائے گی : 214: اصلاح کا مطلب کیا تھا ؟ یہی کہ جدائی نہ ہو لیکن اصلاح ممکن نہ رہی تو کیا ہوگا ؟ جدائی فریقین نے اپنی طرف سے کوشش کی لیکن اس کے باوجود جدائی ہوگئی تو اب یہی ہو سکتا ہے کہ دونوں اپنے اندر کسی قسم کا کینہ و بغض کو جگہ نہ دیں اور اپنا گناہ دوسرے پر تھو پنے کی کوشش نہ کریں۔ اللہ سے دعا کریں کہ اللہ دونوں کے حالات کو علیحدگی اختیار کرلینے کے بعد درست فرمادے اور فریقین کو جو تکلیف پہنچ گئی اس ک ازالہ ہوجائے۔ اگر میاں کی طرف سے اصلاح ممکن نہیں ہوئی تو ظاہر ہے کہ نتیجہ طلاق کی صورت میں ظاہر ہوگا اگر عورت کی طرف سے وقت نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 129–130

No one is responsible for something beyond his control In order to make married life pleasant and stable, the Holy Qur'an has given important instructions to both parties in these verses. Out of these, there is the verse: وَلَن تَسْتَطِيعُوا أَن تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ (And you shall never be able to maintain real equality between wives ... -129) which carries a special instruction for both. At this point it will be recalled that the Holy Qur'an has already established in the beginning of Surah al-Nis-a' that a man who holds more than one wife in the bond of marriage is duty-bond to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 129–133

161. This means that it is not possible for a man to accord complete equality of treatment to two or more wives under all circumstances and in all respects. It is possible that one is ugly, the other beautiful; one is old, the other young; one is permanently sick, the other healthy; one is irritable, the other good-tempered. These and other differences are likely to make a person less attracted to one and more to the other. In such circumstances, the Law does not demand that one should necessarily maintain absolute equality between the wives in respect of love, emotional attachment and sexual…

Read the full tafseer →