Explained with ayahs 128–130
میاں بیوی میں صلح وخیر کا اصول
اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے حالات اور ان کے احکام بیان فرما رہا ہے کبھی مرد اس سے ناخوش ہوجاتا ہے کبھی چاہنے لگتا ہے اور کبھی الگ کردیتا ہے۔ پس پہلی حالت میں جبکہ عورت کو اپنے شوہر کی ناراضگی کا خیال ہے اور اسے خوش کرنے کے لئے اپنے تمام حقوق سے یا کسی خاص حق سے وہ دست برداری کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔ مثلاً اپنا کھانا کپڑا چھوڑ دے یا شب باشی کا حق معاف کر دے تو دونوں کے لئے جائز ہے۔ پھر اسی کی رغبت دلاتا ہے کہ صلح ہی بہتر ہے۔ حضرت سودہ بنت زمعہ جب بہت بڑی عمر کی ہوجاتی ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے اسے قبول فرما لیا۔ ابو داؤد میں ہے کہ اسی پر یہ آیت اتری۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–133
سورة النِّسَآء 161
مطلب یہ ہے کہ آدمی تمام حالات میں تمام حیثیتوں سے دو یا زائد بیویوں کے درمیان مساوات نہیں برت سکتا۔ ایک خوبصورت ہے اور دوسری بدصورت، ایک جوان ہے اور دوسری سن رسیدہ، ایک دائم المرض ہے اور دوسری تندرست، ایک بدمزاج ہے اور دوسری خوش مزاج اور اسی طرح کے دوسرے تفاوت بھی ممکن ہیں جن کی وجہ سے ایک بیوی کی طرف طبعًا آدمی کی رغبت کم اور دوسری کی طرف زیادہ ہو سکتی ہے۔ ایسی حالتوں میں قانون یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ محبت ورغبت اور جسمانی تعلق میں ضرور ہی دونوں کے درمیان مساوات رکھی جائے۔ بلکہ صرف یہ مطالبہ کرتا ہے کہ جب تم بےرغبتی کے باوجود ایک عورت کو طلاق نہیں دیتے اور اس کی اپنی خواہش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–130
امور غیر اختیاریہ پر مواخذہ نہیں
ازدواجی زندگی کو خوشگوار اور پائیدار بنانے کے لئے قرآن عظیم نے مذکورہ آیات میں جو ہدایتیں فریقین کو دی ہیں ان آیات میں ایک آیت یہ ہےولن تستطعیوا ان تعدلو ابین النسآء جس میں فریقین کو ایک خاص ہدایت فرمائی وہ یہ کہ ایک مرد کے نکاح میں ایک سے زائد عورتیں ہوں تو قرآن کریم نے سورة نساء کے شروع میں اس کو یہ ہدایت دی کہ سب بیویوں میں عدل و مساوات قائم رکھنا اس کے ذمہ فرض ہے اور جو خیال کرے کہ اس فرض کو میں ادا نہ کرسکوں گا تو اس کو چاہئے کہ ایک سے زائد بیبیاں نہ کرے، ارشاد ہے فان خفتم الا تعدلوا افواحدة ”یعنی اگر تم کو یہ خطرہ ہو کہ دو بییوں میں مساوات نہ کرسکو گے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–130
129 تا 130:۔ وَلَنْ تَسْتَطِيْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَيْنَ النِّسَاۗءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيْلُوْا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوْھَا كَالْمُعَلَّقَةِ ۭ وَاِنْ تُصْلِحُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۔ وَاِنْ يَّتَفَرَّقَا يُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِيْمًا۔
بیویوں کے معاملے میں عدل کا معیار : اب یہ عدل کا مفہوم واضح فرمادیا کہ جس عدل کو تم ننامکن بتا رہے ہو وہ تمہارا اپنا ذہنی عدل ہے۔ تم یہ سمجھ رہے ہو کہ دل کا لگاؤ اور ظاہر کا سلوک دونوں بالکل برابر مطلوب ہیں۔ اس وجہ سے یہ بات ناممکن نظر آرہی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس…
Read the full tafseer →129۔ 1 یہ ایک دوسری صورت ہے کہ ایک شخص کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو دلی تعلق اور محبت میں وہ سب کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کرسکتا۔ کیونکہ محبت، فعل قلب ہے جس پر کسی کو اختیار نہیں خود نبی ﷺ کو بھی اپنی بیویوں میں سے زیادہ محبت حضرت عائشہ سے تھی۔ خواہش کے باوجود انصاف نہ کرنے سے مطلب یہی قلبی میلان اور محبت میں عدم مساوات ہے اگر یہ قلبی محبت ظاہری حقوق کی مساوات میں مانع نہ بنے تو عند اللہ قابل مؤاخذہ نہیں۔ جس طرح کہ نبی ﷺ نے اس کا نہایت عمدہ نمونہ پیش فرمایا۔ لیکن اکثر لوگ اس قلبی محبت کی وجہ سے دوسری بیویوں کے حقوق کی ادائیگی میں بہت کوتاہی کرتے ہیں اور ظاہری طور پر بھی محبوب بیوی کی طرح دوسری…
Read the full tafseer →78: یعنی یہ بات انسان کے اختیار سے باہر ہے کہ وہ قلبی محبت اور لگاؤ میں بیویوں کے درمیان پوری پوری برابری کرے ؛ کیونکہ دل کا جھکاؤ انسان کے بس میں نہیں ہوتا ؛ لہذا اگر ایک بیوی سے دلی محبت دوسری کے مقابلے میں زیادہ ہو تو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پکڑ نہیں ہے ؛ البتہ عملی سلوک میں برابری کرنا ضروری ہے، یعنی جتنی راتیں ایک کہ پاس گزارے اتنی ہی دوسری کے پاس گزارے، جتنا خرچ ایک کو دے اتنا ہی دوسری کو دے، نیز ظاہری توجہ میں بھی ایسا نہ کرے جس سے کسی بیوی کی دل شکنی ہو اور وہ یہ محسوس کرنے لگے کہ وہ بیچ میں لٹکی ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النسآء ولو حرصتم فلا تمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقۃ وان تصلحوا وتتقوا افان اللہ کان غفورا رحیما (129) وان یتفرقا یغن اللہ کلا من سعتہ وکان اللہ واسعا حکیما “۔ (130)
بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے ۔ تم چاہو بھی تو اس پر قادر نہیں ہو سکتے ۔ لہذا (قانون الہی کا منشا پورا کرنیکے لئے یہ کافی ہے کہ) ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو ‘ اگر تم اپنا طرز عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ چشم پوشی کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ لیکن اگر زوجین ایک دوسرے سے الگ ہی ہوجائیں تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے…
Read the full tafseer →6 یعنی اگر کئی عورتیں نکاح میں ہوں تو یہ تو تم سے ہو سکے گا کہ محبت قلبی اور ہر ہر امر میں بالکل مساوات اور برابری رکھو مگر ایسا ظلم بھی نہ کرو کہ ایک طرف تو بالکل جھک جاؤ اور دوسری کو درمیان میں لٹکتی رکھو نہ خود ہی آرام سے رکھو نہ بالکل علیحدہ ہی کرو جو دوسرے سے نکاح کرسکے۔
7 یعنی اگر اصلاح اور مصالحت کا معاملہ کرو گے اور تعدی اور حق تلفی سے تابمقدور بچتے رہو گے تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 129 وَلَنْ تَسْتَطِیْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ
سورۃ کے آغاز آیت 3 میں فرمایا گیا تھا : فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً یعنی اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم اپنی بیویوں میں اگر ایک سے زائد ہیں عدل نہیں کرسکو گے تو پھر ایک پر ہی اکتفا کرو ‘ دوسری شادی مت کرو۔ اگر تمہیں کلی طور پر اطمینان ہے ‘ اپنے اوپر اعتماد ہے کہ تم عدل کرسکتے ہو تب دوسری شادی کرو ‘ ورنہ نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ چیزیں تو گنتی اور ناپ تول کی ہوتی ہیں ‘ ان میں تو عدل کرنا ممکن ہے ‘ لیکن جو قلبی میلان ہے یہ تو انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے اپنی تمام ازواج کے لیے ہرچیز…
Read the full tafseer →171 کسی ایک بیوی کی طرف میلان طبع کی وجوہ :۔ وہ اس لیے کہ مثلاً ایک بیوی جوان ہے، دوسری بوڑھی ہے، ایک خوبصورت ہے دوسری قبول صورت یا بدصورت ہے، ایک کنواری ہے دوسری شوہر دیدہ ہے، ایک خوش مزاج ہے دوسری تلخ مزاج ہے ایک ذہین و فطین ہے تو دوسری غبی اور کند ذہن ہے۔ اب ظاہر ہے کہ یہ ایسی صفات ہیں جن میں اگرچہ عورت کا اپنا کچھ عمل دخل نہیں تاہم یہ خاوند کے لیے میلان یا عدم میلان طبع کا باعث ضرور بن جاتی ہیں اور یہ فطری امر ہے۔ اس قسم کے میلان و عدم میلان پر انسان کا چونکہ اپنا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا لہذا ایسے امور پر اللہ کی طرف سے گرفت اور مواخذہ نہیں۔ مواخذہ تو صرف ان باتوں پر ہوگا جو انسان کے اپنے…
Read the full tafseer →340 ۔ (سو یہ حد تمہارے اختیار سے باہر ہے۔ اس لئے تم اس حد کے مکلف بھی نہیں) (آیت) ” ان تعدلوا بین النسآء “۔ برابری ہر چیز میں، یہاں تک کہ رغبت قلب اور امور غیر اختیاری میں بھی، شروع سورت میں جہاں چار تک کی تعداد ازواج کی اجازت صراحت کے ساتھ مرحمت ہوئی تھی، (آیت) ” فانکحوا ماطاب لکم من النسآء مثنی وثلث وربع “۔ وہاں معنی یہ بھی ارشاد ہوا تھا کہ ان کے درمیان عدل رکھنا اور اگر عدل نہ کرسکو تو ایک ہی پر قناعت رکھنا۔ (آیت) ” وان خفتم الا تعدلوا فواحدۃ۔ اس موقع پر عدل سے مراد تھی عدل معاملات میں، عدل امور اختیاری میں، یعنی ہر بیوی کی ضروریات کا، مزاح و مذاق کا لحاظ رکھنا، بہ خلاف اس کے یہاں جس عدل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–134
وَلَنْ تسّطیعوا ان تعدلو ابین النساء (الایة) اس آیت میں ایک دوسری صورت کا بیان ہے کہ ایک شخص کی ایک سے زائد بیویاں ہوں تو دلی تعلق اور محبت میں وہ سب کے ساتھ ایک سا سلوک نہیں کرسکتا اسلئے کہ محبت، دلی تعلق کا نام ہے جس پر کسی کو اختیار نہیں ہوتا، خود آنحضرت ﷺ کو بھی اپنی تمام ازواج میں سے حضرت عائشہ ؓ سے زیادہ محبت تھی، اگر یہ قلبی میلان ظاہری حقوق کے مساوات میں مانع نہ بنے تو عند اللہ قابل مواخذہ نہیں۔
حدیث : جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے یہاں دو بیویاں ہوں اور وہ ایک ہی کا خیال رکھتا ہو تو قیامت میں وہ شخص اس حالت میں آئیگا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہوگا۔
Read the full tafseer →ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النسآء . اور (لوگو) تم عورتوں میں (ہر طرح کی) برابری نہیں کرسکتے۔
یعنی جس بیوی سے قلبی محبت ہے اس کی طرف دل کا جھکاؤ نہ ہونا ناممکن ہے۔ کامل برابری تو یہ ہے کہ مصارف ذمہ داری۔ التفات نظر ‘ معاملات ‘ گفتگو ‘ دل لگی ‘ طبیعت کے جھکاؤ (اور صنفی قربت) وغیرہ میں برابری ہو (اور یہ ناممکن ہے اسی لئے) رسول اللہ ﷺ تقسیم میں تو سب عورتوں کے ساتھ برابری کرتے تھے اور پھر دعا کرتے تھے اے اللہ میرے بس میں جو کچھ ہے اس میں میری طرف سے یہ (برابری کی) تقسیم ہے لیکن جو بات میرے قبضہ میں نہیں صرف تیرے اختیار میں ہے اس میں (برابری نہ ہونے پر) تو میری پکڑ نہ کرنا۔ یعنی محبت میں (برابری…
Read the full tafseer →(129) اور تم دلی محبت میں اگرچہ پوری کوشش کرو کبھی بھی اپنی سب بیبیوں میں برابری نہیں کرسکتے لہٰذا تم بالکل جوان کی طرف مت جھک جاؤ (بلکہ ظاہرا عدل کی پوری کوشش کرتے رہو)۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
اور دوسری بوڑھی کو قیدی کی طرح مت کردو کہ نہ اس کا خاوند والیوں میں شمار ہو اور نہ وہ بیوہ ہی سمجھی جائے، اسے یہ اذیت مت دو اور اگر تم سب میں برابری کرو اور ایک طرف بالکل جھک جانے سے ڈرو اور تقاضائے عدل کی تکمیل میں جو کمی رہ جائے اس پر توبہ کرو اور ایسی توبہ پر تمہیں موت آجائے تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے اور رحم فرمانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →وَلَنْ تَسْتَطِيْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا۔۔ : یعنی دو یا دو سے زیادہ بیویوں کے درمیان ہر لحاظ سے پوری پوری مساوات برتنا انسانی طاقت سے باہر ہے، کیونکہ عورتوں میں اپنی طبیعتوں، اخلاق و عادات، حسن صورت اور عمر وغیرہ میں ایک دوسری سے فرق ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر مرد کا میلان ایک کی طرف زیادہ اور دوسری کی طرف کم ہو تو یہ ایک فطری امر ہے، جس پر وہ چاہے بھی تو قابو نہیں پاسکتا۔ لہٰذا قرآن نے اس بات پر زور دیا کہ ایک سے زیادہ بیویاں ہونے کی صورت میں ایک کی طرف اس طرح جھک جانا کہ دوسری معلق (لٹکی ہوئی) ہو کر رہ جائے، گویا اس کا کوئی شوہر ہی نہیں اور نہ وہ غیر شادی شدہ ہے کہ کہیں اور نکاح کرلے، تو یہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 129۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النسآء ولو حرصتم فلا تمیلوا کل المیل “۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ تم عورتوں کے درمیان عدل و مساوات کی طاقت نہیں رکھتے اور یہ طبعی محبت، جماعت اور قلبی لگاؤ سے ہے پس اللہ تعالیٰ نے بشری حالت کو بیان فرمایا اور یہاں فرمایا کہ خلقت کے اعتبار سے وہ کسی ایک کی طرف میلان قلب پر قابو نہیں رکھتے اسی وجہ سے نبی مکرم ﷺ نے عرض کی تھی : اللہم ان ھذہ قسمتی فیما املک فلاتلمنی فیما تملک ولا املک (1) (سنن ابی داؤد، کتاب النکاح، جلد 1، صفحہ 290)
اے اللہ یہ میری تقسیم ہے جس کا میں مالک ہوں اور مجھے اس میں ملامت نہ کرنا جس کا تو مالک ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–134
شوہر سے صلح کرنا
(1) الطیالسی و ترمذی (نے اس کو حسن کہا) وابن المنذر و طبرانی و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سودہ ؓ اس بات سے ڈر گئیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کو طلاق دیں گے تو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھ کو طلاق نہ دیں اور میری باری عائشہ کو دے دیجئے آپ نے ایسا ہی کرلیا تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” وان امراۃ خافت من بعلہا نشوزا “ ابن عباس ؓ نے فرمایا دونوں میں کسی چیز پر صلح ہوجائے تو یہ جائز ہے۔
(2) ابن سعد و ابو داؤد اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس ٹھہرنے میں ہمارے بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور آپ ان میں ہر…
Read the full tafseer →[ وَلَنْ تَسْتَطِیْعُوْٓا : اور تم ہرگز استطاعت نہیں رکھتے ] [ اَنْ : کہ ] [ تَعْدِلُوْا : عدل کرو ] [ بَیْنَ النِّسَآئِ : عورتوں ] [ بیویوں) کے مابین ] [ وَلَوْ : اور اگر (یعنی خواہ) ] [ حَرَصْتُمْ : تم خواہش کرو ] [ فَلاَ تَمِیْلُوْا : تو پھر تم ایک (ہی) کے مت ہو رہو ] [ کُلَّ الْمَیْلِ : بالکل ایک طرف کا ہونا ] [ فَتَذَرُوْہَا : کہ چھوڑدو اس کو (یعنی دوسری بیوی کو) ] [ کَالْمُعَلَّقَۃِ : لٹکائی ہوئی کی مانند ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ تُصْلِحُوْا : تم اصلاح کرو ] [ وَتَـتَّـقُوْا : اور تقویٰ کرو ] [ فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ غَفُوْرًا : بےانتہا بخشنے والا ] […
Read the full tafseer →صلح کا ذکر فرمانے کے بعد ایک بہت اہم بات کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا (وَ لَنْ تَسْتَطِیْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ ) کہ تم سے ہرگز یہ نہ ہو سکے گا کہ سب بیویوں میں ہر طرح کی برابری کرو کیونکہ رغبت قلبی غیر اختیاری چیز ہے اس لیے اس میں برابری نہ کرسکو گے۔ پس اگر کسی بیوی کی طرف قلبی میلان زیادہ ہو تو اس کی وجہ سے کسی دوسری بیوی کے حقوق تلف نہ کریں جس سے وہ دوسری بیوی مظلوم ہوجائے اور وہ درمیان میں لٹک کر رہ جائے نہ اس کے حقوق ادا ہوں تاکہ وہ خاوند والی سمجھی جائے اور نہ اس کو طلاق دی جائے تاکہ وہ بےخاوند والی ہو کر کسی اور جگہ اپنا نکاح کرسکے۔ اسے رکھنا ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–134
بیان بعض احکام متعلقہ بہ معاشرہ زوجین۔
قال تعالی، وان امرۃ خافت من بعلھا نشوزا۔۔۔ الی۔۔۔ حکیما۔ آیت۔
اوپر آیتوں میں ان احکام کا حوالہ تھا جو سورة نساء کے شروع میں گزر چکے اب یہاں سے عورتوں کے متعلق دوسرے نئے احکام بیان فرماتے ہیں جو میاں اور بیوی کے باہمی معاشرت سے متعلق ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی بدمزاجی یا بےالتفاتی اور بےاعتنائی سے ڈرے مثلا عورت بدشکل ہو یابڑھیا ہوگئی ہو اور اس کو قرائن سے یہ معلوم ہوجائے کہ اس کا شوہر اس کو طلاق دینا چاہتا ہے اور یا دوسری بیوی کرنا چاہتا ہے تو ایسی صورت میں میاں بیوی پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں مثلا یہ کہ عورت اپنا نفقہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–130
88 تنویر ثانی۔ یہ چودھویں حکم رعیت پر تنویر ہے۔ وَاِنْ خَفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا الخ (رکوع 6) سے شبہ ہوتا تھا کہ اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ ہر ایک کو اسکا پورا حق ملے یہاں اس کا ازالہ کردیا کہ اصلاح سے مراد عام ہے دونوں میں سے خواہ کسی ایک کو اپنے حق سے دستبردار ہونا پڑے جیسا کہ وَاِنْ تُحْسِنُوْا وَتَتَّقُوْا سے اس طرف اشارہ ہے یعنی ہر ایک اپنے حقوق پر حریص ہوتا ہے اور کسی طرح اپنا حق چھوڑنا نہیں چاہتا لیکن اگر تم تقاضائے نفس کے خلاف اپنا حق چھوڑ دو اور اس سے درگذر کرو تو یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے تمہارا یہ عمل ضائع نہیں جائیگا بلکہ تمہیں اس کا پورا پورا اجر ملیگا۔ وَلَنْ تَسْتَطِیعُوْا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–130
ربط آیات
گزشتہ دروس میں بعض معاشرتی مسائل کا تذکرہ تھا ، عورتوں ، یتیم بچیوں اور دیگر کمزور طبقات کے متعلق حکم دیا گیا تھا کہ ان کے حقوق ادا کرو اور اس ضمن میں اس سورة کی ابتداء میں اسی موضوع پر نازل ہونے والی آیات کی طرف توجہ دلائی گئی تھی۔ کہ ان طبقات پر وہی احکام لاگو ہیں اور انہی سے راہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ عورتوں کے نکاح اور مہر کا خصوصی ذکر تھا کہ ان کے مقرر مہر ادا کرو۔ یتیم بچیوں کے متعلق سرپرستوں کو تنبیہ تھی کہ اگر ان سے خود نکاح کرنا چاہو ، تو ان کا مہر پورا ادا کرو ، اور باقی حقوق بھی بطریق احسن پورے کرو اور اگر خود نکاح نہ کرنا چاہو ، تو انہیں دوسری جگہ نکاح کرنے سے نہ روکو اور…
Read the full tafseer →وَلَنْ تَسْتَطِيْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَيْنَ النِّسَاۗءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيْلُوْا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوْھَا كَالْمُعَلَّقَۃِ 0ۭ وَاِنْ تُصْلِحُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللہَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا 129
الاستطاعۃ
. وَالاسْتِطَاعَةُ : استفالة من الطَّوْعِ ، وذلک وجود ما يصير به الفعل متأتّيا، الاسْتِطَاعَةُ أخصّ من القدرة . قال تعالی: لا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 43]
( ط و ع ) الطوع
الاستطاعۃ ( استفعال )
یہ طوع سے استفعال کے وزن پر ہے اور اس کے معنی ہیں کسی کام کو سر انجام دینے کے لئے جن اسباب کی ضرورت ہوتی ہے ان سب کا موجہ ہونا ۔ اور استطاعت قدرت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–130
ترکیب : وان شرطیہ امراۃ مبتداء خافت خبر اور صحیح یہ ہے کہ امراۃ خافت محذوف کا فاعل ہے اور یہ خافت اس کی تفسیر ہے۔ فلا جناح جواب۔ احضرت کا مفعول اول الانفس ہے جو فاعل بنایا گیا اور الشح مفعول ثانی۔
تفسیر : عورتوں کے حقوق کا ذکر پہلی آیات میں آچکا ہے اس لئے یہاں بھی ان کے بعض معاملات میں حکم دیا جاتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مرد بدمزاج سخت گیر ہوتا ہے اور غالباً یہ سخت گیری اور بدمزگی اس سے پیدا ہوتی ہے کہ عورت اپنے حقوق اور مہروغیرہ کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس کی بابت ارشاد ہوتا ہے کہ اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی بدمزاجی اور بےاعتنائی کا خوف ہو تو اس میں بھی کچھ مضائقہ نہیں کہ باہم کچھ حقوق چھوڑ کے…
Read the full tafseer →وَ لَنْ تَسْتَطِیْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآئِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِیْلُوْا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْہَا کَالْمُعَلَّقَۃِ ط وَ اِنْ تُصْلِحُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا
” اور تم ہرگز طاقت نہیں رکھتے کہ پورا پورا عدل کرو بیویوں کے درمیان اگرچہ تم اس کی بہت خواہش بھی کرو۔ تو یہ نہ کرو کہ جھک جاؤ پوری طرح جھک جانا ایک ہی بیوی کی طرف اور چھوڑ دو دوسری کو جیسے وہ درمیان میں لٹک رہی ہو۔ اگر تم اپنا طرز عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ “ (النسآء : 129)
قرآن کریم نے بیویوں میں جو عدل اور مساویانہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس سورت کی تیسری آیت میں عدل و انصاف کی شرط کے ساتھ بیک وقت چار تک عورتیں نکاح میں رکھنے کی اجازت دی تھی۔ اب ایک سوال کے جواب میں اس کے متعلقات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ پہلے حکم میں عدل کا مفہوم مالی اور اخلاقی معاملات کے ساتھ ہے۔ اب اخلاقی معاملے میں حکم ہے۔
جہاں تک قلبی میلان کا تعلق ہے اس میں تم بیویوں کے درمیان مساوات اور انصاف کرنا چاہو بھی تو پوری طرح انصاف نہیں کرسکتے کیونکہ دل کے رجحانات اور جذبات پر قابو پانا انسان کے بس کا روگ نہیں۔ اگر کسی بیوی کا حسن و جمال اور اس کے اخلاق کی وجہ سے تمہارا دل اس کی طرف زیادہ مائل ہے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ لیکن کوشش…
Read the full tafseer →عدل کی تعریف :
آیت 129 : وَلَنْ تَسْتَطِیْعُوْااَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآئِ (تم ہرگز طاقت نہیں رکھتے کہ تم عورتوں کے درمیان عدل کرو) یعنی ایسی برابری اور عدل کہ بالکل جھکائو نہ ہو۔ پس عدل کی تکمیل اسی میں ہے کہ ان کے مابین تقسیم ٗ نفقہ ٗ خیال رکھنے ‘ التفات نظر ٗ متوجہ ہونا ٗ دل لگی کی گفتگو ٗ خوش طبعی وغیرہ میں برابری کی جائے۔
ایک قول یہ بھی کہ العدل کا مطلب محبت میں برابری ہے۔ رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں میں تقسیم کے سلسلہ میں برابری فرماتے اور فرماتے اے اللہ یہ میری تقسیم اس سلسلہ میں ہے جو میرے قبضہ میں ہے۔ لیکن جو بات میرے قبضہ میں نہیں صرف تیرے اختیار میں ہے۔ اس میں تو میری پکڑ نہ کر۔…
Read the full tafseer →(تفسیر) 129۔:
(آیت)” ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النسائ “۔ تم اس بات پر قدرت نہیں رکھتے کہ تم عورتوں کے ساتھ محبت اور میلان قلب میں مساوات کرسکو (آیت)” ولوحرصتم “ اگرچہ تم کتنا ہی ان کے درمیان عدل رکھنے کی خواہش کرو ۔ (آیت)” فلا تمیلوا “ جن بیویوں کی طرف تمہارا میلان ہے ۔ (آیت)” کل المیل “ مکمل طور پر جھک جاؤ یعنی تقسیم باری اور خرچ وغیرہ میں ، یعنی تم اپنے افعال اور خواہش کی پیروی نہ کرو ۔ (آیت)” فتذروھا کالمعلقۃ “۔ اور دوسری بیوی کو معلقہ چھوڑ دو نہ تو تم اس کو چھوڑو کہ وہ کسی دوسرے کے ساتھ شادی کرے اور نہ ہی تم اس کے حقوق کو ادا کرو۔ قتادہ (رح) نے اس کا معنی کیا ہے کہ اس کو قید نہ رکھو ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–130
(128 ۔ 130) ۔ ابو داؤد، ترمذی، اور مسند امام احمد بن حنبل میں جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے جس کو مستدرک حاکم میں روایت کیا جاکر صحیح کہا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ام المومنین سودہ ؓ حضرت ﷺ کی بی بی جب ضعیف ہوگئیں تو ان کو یہ اندیشہ ہوا کہ شاید آنحضرت ﷺ ان کو چھوڑدیں گے۔ اس لئے انہوں نے اپنی باری کی رات حضرت عائشہ ؓ کو ہبہ کردی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 سو اس شان نزول کے مفسروں نے اور شان نزول جو اس آیت کی بیان کی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قصہ پر بھی اس آیت کا مضمون صادق آتا ہے ورنہ اصل شان نزول وہی ہے جو صحیح روایتوں کے حوالہ سے اوپر بیان کی ہوئی ہے حاصل معنی آیت کے…
Read the full tafseer →آیت 129
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ شوہر اپنی بیویوں کے درمیان انصاف نہیں کرسکتے اور پورا پورا عدل و انصاف کرنا ان کے بس میں بھی نہیں کیونکہ عدل اس بات کو مستلزم ہے کہ تمام بیویوں کے ساتھ یکساں محبت ہو، محبت کا داعیہ سب کے لئے برابر ہو اور دل کا میلان ان کے لئے مساوی ہو۔ پھر اس کے تقاضے کے مطابق عمل ہو۔ چونکہ یہ ناقابل عمل اور ناممکن ہے اس لئے جو چیز انسان کے بس میں نہیں اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کردیا ہے اور اس چیز سے منع کردیا جو انسان کے بس میں ہے، چناچہ فرمایا : (فلا تمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقۃ) ” ایک ہی کی طرف مائل نہ ہوجانا کہ دوسروں کو ایسی حالت میں چھوڑ دو کہ گویا وہ لٹک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–134
بیویوں میں پورا پورا عدل کرو
قول باری ہے ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النساء ولو حرصتم فلا تمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقۃ۔ بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے تم چاہو بھی تو اس پر قادر نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھک جائو کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو ) ۔ ابوعبیدہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد دلی محبت اور میلان طبعی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ حسن اور قتادہ سے بھی یہی مروی ہے قول باری فلاتمیلواکل المیل۔ میں مراد۔ واللہ اعلم۔ یہ ہے کہ اس میلان کا بالفعل اس طرح اظہار نہ کیا جائے کہ ایک بیوی سے پوری طرح منہ موڑ کر دوسری بیوی کا رخ کرلیا جائے۔ اس پر قول باری فتذروھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–130
331 عورت کو معلقہ بنا کر رکھنے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم ایک طرف اس قدر نہ جھکو جاؤ کہ دوسری کو معلقہ بنا کر رکھ دو کہ نہ وہ ادھر کی رہے نہ ادھر کی۔ نہ خاوند والی، نہ طلاق والی، کہ نہ تو اس کو زن و شوہر کے حقوق حاصل ہوں، اور نہ طلاق کی آزادی، کہ کہیں اور جاسکے۔ سو ایسا مت کرو کہ یہ ظلم ہے جس کی اجازت اسلام نہیں دے سکتا۔ اور اس کی صاف وصریح تعلیم ہے کہ ظلم حرام ہے۔ پس تم کسی پر ظلم نہیں کرنا اور یہ کہ ظلم قیامت کے روز ہولناک اندھیروں کی شکل میں سامنے آئے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے عدل مطلوب کی تصریح فرما دی گئی کہ جو عدل قلبی لگاؤ اور طبعی میلان کے اعتبار سے ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–130
بیویوں سے حسن سلوک اور انصاف
تشریح : جیسا کہ اس سورت کے شروع میں بھی ازدواجی زندگی کے بارے میں کچھ اصول و قوانین بتائے جا چکے ہیں ان آیات میں مزید قوانین بتائے جارہے ہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ گھر کا شعبہ انسانی زندگی کی بقاء، کامیابی اور سکون کا بہت بڑا اور سب سے پہلا شعبہ ہے۔ اس میں امن، سکون، محبت، آرام و آسائش اور نظم و ضبط بےحد ضروری ہے۔ اسی لیے اللہ رب العزت نے زندگی کے باقی معاملات کے ساتھ ساتھ میاں بیوی کے لیے بھی ضابطے اور طریقے بیان کردیئے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ بتایا کہ اگر کسی وجہ سے بیوی محسوس کرے کہ میاں اس سے کچھ زیادہ خوش نہیں تو بیوی کو چاہیے اس کو خوش کرنے اور محبت بڑھانے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–134
رکوع نمبر 19 ۔ آیات 127 تا 134 ۔
ویستفتونک ۔۔۔۔۔ سمیعا بصیرا۔
اسرار و معارف :
پھر بات اپنے اصل موضوع کو پلٹتی ہے کہ قبل اسلام عورت کو انسان سمجھا ہی نہ جاتا تھا۔ اسلام نے اسے میراث میں حقوق دلوا دئیے اور وراثت تک میں حصہ دار بنا دیا کہاں سے اٹھایا کہاں پہنچا دیا ؟ جبکہ اہل عرب تو عورتوں کو خود میراث سمجھ کر بانٹ لیا کرتے تھے۔ سو بعض طبقوں نے ان امور کی تصدیق چاہی کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام عورت کو مرد کی طرح وراثت میں حصہ قرار دے شاید وقتی طور پر ایسا کیا گیا ہوگا ممکن ہے کچھ خاص لوگوں کے لیے ہو ورنہ وہاں تو یہ سوچنا بھی ممکن نظر نہ آتا تھا سو ارشاد ہوا کہ ابھی تک آپ کی بارگاہ میں…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی طلاق اگرچہ جائز ہے مگر وہ پسند یدیہ فعل نہیں ہے جیسا کہ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے ابغض الحلال الی اللہ الطلاق کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسند یدہ چیز طلاق ہے۔ ( ابو داود)7 یعنی اللہ انسان کا بخل اور لالچ تو فطری امر ہے۔ مرد کا شح (بخل) یہ ہے کہ عورت سے استمتاع کرے مگر اس کے پورے حقوق ادا نہ کرے اور عورت کا شح یہ ہے کہ مہر اور نان ونفقہ تو پورا وصول کرے مگر حقوق ادا کرنے میں کوتاہی برتے۔8 یعنی اس لالچ کے جذبہ کے باوجود اگر میاں بیوی ایک دو سرے سے احسام اور فیاضی کا سلوک کریں تو اس کا اجر اللہ کے ہاں ضرور پائینگے9 یعنی دو یادو سے زیادہ بیویوں کے درمیان ہر لحاظ سے پوری پوری…
Read the full tafseer →(4:129) ولن تستطیعوا۔ تم ہرگز نہیں کرسکتے۔ تم ہرگز کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ طوع مادہ۔ لایستطیعون نصر انفسھم (21:43) وہ نہ تو آپ اپنی مدد کرسکتے ہیں۔
ان تعدلوا۔ کہ تم عدل و انصاف کرسکو۔ پورا پورا انصاف کرسکو۔
فلا تمیلوا کل المیل۔ مال یمیل میلا ۔ مال علی۔ مخالفت کی طرف مائل ہونا یعنی مکمل بےتعلقی اختیار مت کرو۔ مال الیٰ کسی سے رغبت کی خاطر اس کی طرف مائل ہونا۔ مال عن۔ روگردانی کرنا۔
یہاں صلہ چھوڑ دیا گیا ہے جس سے معانی میں وسعت پیدا ہوگئی ہے۔ اس کا مطلب ہوسکتا ہے کہ تم بالکل ایک بیوی کی طرف ازراہ محبت مائل مہ ہوجاؤ۔ یا یہ کہ تم بالکل ایک بیوی کے خلاف بوجہ نفرت نہ ہوجاؤ۔ دونوں بیک وقت بھی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–134
آیت نمبر 129-134
لغات القرآن : لن تستطیعوا، ہرگز تم طاقت نہیں رکھتے۔ ان تعدلوا، یہ کہ تم (پورا پورا) انصاف کرو۔ لو حرصتم، اگرچہ تم خواہش مند ہو۔ لاتمیلوا، مائل نہ ہوجاؤ، جھک نہ پڑو۔ تذروھا، تم چھوڑ دو اس کو۔ کالمعلقۃ، جیسے بیچ میں لٹکی ہوئی۔ یتفرقا، دونوں جدا جدا ہوجائیں۔ یغن اللہ، اللہ بےنیاز کر دے گا۔ کل، ہر ایک کو۔
تشریح : انسان فطرتاً کمزور ہے، اس کے لئے چند بیویوں کے درمیان برابر عدل و انصاف رکھنا بہت مشکل کام ہے۔ کوئی زیادہ حسین زیادہ جوان، زیادہ دولت والی یا علم و عقل والی یا سلیقہ مند ہوسکتی ہے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا ہے کہ بےاختیاری باتوں میں تو کسی قدر چھوٹ دی جاسکتی ہے لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–130
حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ عورت اپنے شوہر کی بےدلی اور بےتوجہی دیکھ کر اس کے خوش کرنے کو اپنے مہر یا نان و نفقہ میں سے کچھ دیوے تو مرد ضرور راضی ہوجاوے گا۔ اسی طرح شب باشی کی نوبت میں سے اگر عورت کچھ چھوڑ دے تو اس پر بھی صلح ہوسکتی ہے۔ اور جدائی پر صلح اللہ کے نزدیک بہتر ہے اس لئے جو میان بی بی خدا کا خوف کر کے حسن سلوک کی رغبت کا ذکر ہی ان آیات میں ہے اس کی تفسیر جناب ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ کسی شخص کا اپنے اہل و عیال کے ساتھ حسن سلوک سے گزران کرنا اس شخص کی ایمان داری کی نشانی ہے۔ روٹی کپڑے میں برابری کا برتنا یہ آدمی کے اختیار میں ہے اور دلی الفت کا برتنا یہ آدمی کے اختیار سے باہر ہے۔ اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–134
[83] شروع سورت (آیت نمبر 3) میں تعداد ازواج کی اجازت عدل کے ساتھ مشروط کی گئی تھی اور فرمایا گیا تھا کہ اگر عدل نہ کرسکو تو ایک بیوی پر قناعت رکھنا۔ اس موقع پر عدل سے مراد تھی معاملات میں عدل (ملاحظہ ہو حاشیہ 4) ۔ اس آیت میں عدل سے مراد مساوات امور غیر اختیاری ہے، مثلاً محبت ورغبت میں اور ایسی مساوات کامل تو والدین بھی اپنی ساری اولاد کے درمیان نہیں رکھ سکتے۔ لفظ عدل دونوں جگہ مشترک ہے۔ لیکن مفہوم الگ الگ ہے اور اس اسلوب بیان کی مثالیں قرآن میں بکثرت ملتی ہیں۔
علاوہ ازیں اگر عدل کو ناممکن قرار دے کر قرآن تعدد ازواج کی اجازت کو منسوخ کردیتا ہے جیسا کہ بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ نتیجہ نکالا ہے…
Read the full tafseer →ممکن عدل :
(ف 1) آیت نشوز کے بعد تعدد ازدواج کا ذکر اس بات کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ یہ بجائے خود اختلاف اور عداوت کا باعث ہے ، اس لئے بجز مخصوص حالات کے کسی معمولی قوت ونفوذ کے آدمی کو تعدد وازدواج کی جرات نہ ہونی چاہئے ۔
(آیت) ” ولن تستطیعوا “۔ کے معنی یہ ہیں کہ حقیقی عدل ممکن نہیں جس کا تعلق جذبات سے ہجے ، اس لئے کہ دنای کا سب سے بڑا انسان جو اسوہ جمیل کے ساتھ نوازا گیا ہے ، ان الفاظ میں معذرت خواہ ہے ” ھذا قسمی فبما املک والت اعلم بما لا املک “۔ یعنی اے خدا جہاں میرے امکان میں ہے میں انصاف وعدل کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتا مگر بعض منزلیں ایسی بھی ہیں جہاں مساوات قطعا ناممکن ہے ۔ (آیت) ” فلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–131
ف 2 اور یہ تو تم سے کبھی نہ ہو سکے گا کہ تم اپنی سب بیویوں کے مابین ہر اعتبار سے مساوات اور برابری رکھو یعنی تمہارے قلب میں محبت بھی سب کی یکساں ہو خواہ تم اس مساوات اور برابری رکھنے کے کتنے ہی خواہشمند ہو لہٰذا تم ایاس نہ کرنا کہ ایک طرف تو بالکل مائل ہو جائو اور ایک کو ایسا ڈال رکھو جیسے ادہر میں لکٹی ہوئی چیز یعنی نہ نان و نفقہ دو اور نہ اس کو طلاق دو اور اگر تم اپنا طرز عمل درست کرلو اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو تو وہ معاف کر دیگا۔ یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا اور بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ (تیسیر)
اوپر کی آیت میں جو کچھ فرمایا تھا اس کا ماحصل یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–130
ف 3۔ یعنی نہ توا سکے حقوق ادا کیے جائیں کہ خاوند والی سمجھی جائے اور نہ اس کو طلاق دی جائے کہ بےخاوند والی کہی جائے۔
Read the full tafseer →دو یا زیادہ بیویوں کے درمیان عدل اتنا آسان بھی نہیں کہ تم اس کو معمولی بات سمجھ لو :
212: وہ عدل جو استطاعت انسانی سے باہر ہے اس کے متعلق کہنا کہ عدل کرو یہ قرین قیاس بھی نہیں۔ ظاہر ہے کہ عدل جس کے متعلق اتنا زور دیا گیا ہے ظاہری حالات میں ممکن کہ ایک سے زائد بیویاں ہونے کی سورت مین ان کے مکان ، لباس اور خوراک میں اور معاشرت کے طور طریقوں میں انصاف سے کام لیا جائے۔ دلی لگائو اور اس طرح کی بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن میں کوئی انسان بھی عدل نہیں کرسکتا۔ ایک بیوی کے ہاں اولاد زیادہ ہے ، دوسری کے ہاں کم۔ ایک بیمار ہے اور دوسری صحت مند اور اس طرح کی اور بہت سی چیزیں ایسی ممکن ہیں کی اگر ہو معاملہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–130
No one is responsible for something beyond his control
In order to make married life pleasant and stable, the Holy Qur'an has given important instructions to both parties in these verses. Out of these, there is the verse: وَلَن تَسْتَطِيعُوا أَن تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ (And you shall never be able to maintain real equality between wives ... -129) which carries a special instruction for both. At this point it will be recalled that the Holy Qur'an has already established in the beginning of Surah al-Nis-a' that a man who holds more than one wife in the bond of marriage is duty-bond to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–133
161. This means that it is not possible for a man to accord complete equality of treatment to two or more wives under all circumstances and in all respects. It is possible that one is ugly, the other beautiful; one is old, the other young; one is permanently sick, the other healthy; one is irritable, the other good-tempered. These and other differences are likely to make a person less attracted to one and more to the other. In such circumstances, the Law does not demand that one should necessarily maintain absolute equality between the wives in respect of love, emotional attachment and sexual…
Read the full tafseer →