An-Nisaa 4:128

An-Nisaa · from ayah 128

4:128

وَاِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَهُمَا صُلْحًا ؕ— وَالصُّلْحُ خَیْرٌ ؕ— وَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ؕ— وَاِنْ تُحْسِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا ۟وَاِنِ امۡرَاَةٌ خَافَتۡ مِنۡۢ بَعۡلِهَا نُشُوۡزًا اَوۡ اِعۡرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَاۤ اَنۡ يُّصۡلِحَا بَيۡنَهُمَا صُلۡحًا‌ ؕ وَالصُّلۡحُ خَيۡرٌ‌ ؕ وَاُحۡضِرَتِ الۡاَنۡفُسُ الشُّحَّ‌ ؕ وَاِنۡ تُحۡسِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرًا

اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ ہو تم میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی قرارداد پر صلح کرلیں۔ اور صلح خوب (چیز) ہے اور طبیعتیں تو بخل کی طرف مائل ہوتی ہیں اور اگر تم نیکوکاری اور پرہیزگاری کرو گے تو خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if a woman fears from her husband contempt or evasion, there is no sin upon them if they make terms of settlement between them - and settlement is best. And present in [human] souls is stinginess. But if you do good and fear Allah - then indeed Allah is ever, with what you do, Acquainted.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 19 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:128

جب کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بے رخی کا خطر ہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر میاں اور بیوی (کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کر لیں صلح بہر حال بہتر ہے نفس تنگ دلی کے طرف جلدی مائل ہو جاتے ہیں، لیکن اگر تم لوگ احسان سے پیش آؤ اور خدا ترسی سے کام لو تو یقین رکھو کہ اللہ تمہارے اس طرز عمل سے بے خبر نہ ہوگا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ ہو تم میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی قرارداد پر صلح کرلیں۔ اور صلح خوب (چیز) ہے اور طبیعتیں تو بخل کی طرف مائل ہوتی ہیں اور اگر تم نیکوکاری اور پرہیزگاری کرو گے تو خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی بد دماغی اور بے پرواہی کا خوف ہو تو دونوں آپس میں جو صلح کر لیں اس میں کسی پر کوئی گناه نہیں۔ صلح بہت بہتر چیز ہے، طمع ہر ہر نفس میں شامل کر دی گئی ہے۔ اگر تم اچھا سلوک کرو اور پرہیزگاری کرو تو تم جو کر رہے ہو اس پر اللہ تعالیٰ پوری طرح خبردار ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بیزوری کا اندیشہ ہو تو ان میاں بیوی کے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ وہ آپس کے اتفاق سے کسی قسم کی صلح کرلیں۔ اور صلح کرلینا بہتر ہے اور انسانوں کے دل میں (کچھ نہ کچھ) لالچ کا مادہ تو رکھ ہی دیا گیا ہے۔ اور اگر احسان اور تقوی سے کام لو تو جو کچھ تم کرو گے اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ کرے تو ان پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں اور صلح خوب ہے اور دل لالچ کے پھندے میں ہیں اور اگر تم نیکی اور پرہیزگاری کرو تو اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی جانب سے زیادتی یا بے رغبتی کا خوف رکھتی ہو تو دونوں (میاں بیوی) پر کوئی حرج نہیں کہ وہ آپس میں کسی مناسب بات پر صلح کر لیں، اور صلح (حقیقت میں) اچھی چیز ہے اور طبیعتوں میں (تھوڑا بہت) بخل (ضرور) رکھ دیا گیا ہے، اور اگر تم احسان کرو اور پرہیزگاری اختیار کرو تو بیشک اللہ ان کاموں سے جو تم کر رہے ہو (اچھی طرح) خبردار ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے کسی قسم کی زیادتی یا بےرخی سے ڈرے تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں کسی طرح کی صلح کرلیں اور صلح بہتر ہے، اور تمام طبیعتوں میں حرص (حاضر) رکھی گئی ہے اور اگر تم نیکی کرو اور ڈرتے رہو تو بیشک اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے پورا باخبر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند سے بدسلوکی یا بےرخی کا اندیشہ ہو تو اگر میاں بیوی آپس میں (کچھ کمی بیشی کرکے) سمجھوتہ کرلیں تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں اور صلح بہرحال بہتر ہے۔ اور لالچ تو ہر نفس کو لگا ہوا ہے لیکن اگر تم احسان کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو جو کچھ تم کرو گے اللہ یقینا اس سے خوب واقف ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے بیزاری یا بےپروائی کا اندیشہ ہو تو اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ دونوں آپس میں کوئی سمجھوتا کرلیں اور سمجھوتا ہی بہتر ہے۔ طبیعتوں میں حرص رچی بسی ہوئی ہے۔ اور اگر تم حسن سلوک کروگے اور تقوی اختیار کروگے تو جو کچھ کروگے اللہ اس سے باخبر ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر کسی عورت کو (خدشہ و) اندیشہ ہو، اپنے خاوند سے کسی بدسلوکی، یا بےرخی کا تو ان دونوں پر اس میں کوئی گناہ نہیں، کہ وہ آپس میں کوئی صلح کرلیں، اور صلح بہر حال بہتر ہے اور حرص وآز کو تو عام طبعیتوں کی سرشت میں رکھ دیا گیا ہے، اور اگر تم لوگ اچھا برتاؤ کرو اور پرہیزگار رہو تو (اس کا بدلہ ضرور پاؤ گے کہ) یقینا اللہ پوری طرح باخبر ہے ان سب کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بےالتفاتی کا اندیشہ ہو تو اس میں ان کیلئے کوئی مضائقہ نہیں کہ دونوں آپس میں ایک خاص طریق پر صلح کرلیں۔ اور صلح (بہرحال) بہتر ہے۔ اور طبیعتوں میں تو بخل ہوتا ہی ہے۔ اور اگر تم حسن سلوک رکھو اور تقوی اختیار کئے رہو تو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ بیشک اس کی پوری خبر رکھتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر کسی عورت کو اندیشہ ہو اپنے شوہر سے زیادتی یا بےرخی کا تو ان دونوں پر کوئی الزام نہیں ہوگا کہ وہ آپس میں صلح کرلیں اور صلح بہرحال بہتر ہے۔ البتہ انسانی نفس پر لالچ مسلط رہتا ہے اور اگر تم احسان کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو جان لو کہ اللہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب کسی عورت کو اپنے خاوند سے بدسلوکی یا بےرخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر میاں اور بیوی آپس میں صلح کرلیں۔ نفس تنگ دلی کی طرف جلدی مائل ہوجاتے ہیں لیکن اگر تم لوگ احسان سے پیش آؤ اور تقو ٰی سے کام لو تو یقین رکھو تم جو عمل کرو اللہ اس سے باخبر ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

If a woman fears either ill-treatment or aversion from her husband it is not wrong for the husband and wife to bring about reconciliation among themselves (by compromising on their rights), for settlement is better. Man's soul is always prone to selfishness, but if you do good and are God-fearing, then surely Allah is aware of the things you do.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If a woman fears ill treatment or aversion from her husband, then, there is no sin on them in entering into a compromise between them. Compromise is better. Avarice is made to be present in human souls. If you do good and fear Allah, then, Allah is All-Aware of what you do.

— Muhammad Taqi Usmani

If a woman fears ill treatment or aversion from her husband, then, there is no sin on them in entering into a compromise between them. Compromise is better. Avarice is made to be present in human souls. If you do good and fear Allah, then, Allah is All-Aware of what you do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And if a woman fears cruelty or desertion on her husband's part, there is no sin on them both if they make terms of peace between themselves; and making peace is better. And human souls are swayed by greed. But if you do good and have Taqwa, verily, Allah is Ever Well-Acquainted with what you do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

If a woman feareth ill treatment from her husband, or desertion, it is no sin for them twain if they make terms of peace between themselves. Peace is better. But greed hath been made present in the minds (of men). If ye do good and keep from evil, lo! Allah is ever Informed of what ye do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if a woman fears from her husband contempt or evasion, there is no sin upon them if they make terms of settlement between them - and settlement is best. And present in [human] souls is stinginess. But if you do good and fear Allah - then indeed Allah is ever, with what you do, Acquainted.

— Saheeh International

If a woman is afraid of her husband's ill treatment and desertion, it will be no sin for both of them to reach a reconciliation. Reconciliation is good even though men's souls are swayed by greed. If you act righteously and be pious, God is Well Aware of what you do.

— Muhammad Sarwar

And if a woman fears ill usage or desertion on the part of her husband, there is no blame on them, if they effect a reconciliation between them, and reconciliation is better, and avarice has been made to be present in the (people's) minds; and if you do good (to others) and guard (against evil), then surely Allah is aware of what you do.

— Muhammad Habib Shakir

And if a woman feareth from her husband refractoriness or estrangement, it shall be no blame on the twain if they effect between them a reconciliation; and reconciliation is better. And souls are engrained with greed. And if ye act kindly and fear Him, then verily Allah is ever of that which ye work Aware.

— Abdul Majid Daryabadi

If a wife fears cruelty or desertion on her husband's part, there is no blame on them if they arrange an amicable settlement between themselves; and such settlement is best; even though men's souls are swayed by greed. But if ye do good and practise self-restraint, Allah is well-acquainted with all that ye do.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:128

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 128–130

میاں بیوی میں صلح وخیر کا اصول اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے حالات اور ان کے احکام بیان فرما رہا ہے کبھی مرد اس سے ناخوش ہوجاتا ہے کبھی چاہنے لگتا ہے اور کبھی الگ کردیتا ہے۔ پس پہلی حالت میں جبکہ عورت کو اپنے شوہر کی ناراضگی کا خیال ہے اور اسے خوش کرنے کے لئے اپنے تمام حقوق سے یا کسی خاص حق سے وہ دست برداری کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔ مثلاً اپنا کھانا کپڑا چھوڑ دے یا شب باشی کا حق معاف کر دے تو دونوں کے لئے جائز ہے۔ پھر اسی کی رغبت دلاتا ہے کہ صلح ہی بہتر ہے۔ حضرت سودہ بنت زمعہ جب بہت بڑی عمر کی ہوجاتی ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے اسے قبول فرما لیا۔ ابو داؤد میں ہے کہ اسی پر یہ آیت اتری۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النِّسَآء 157 یہاں سے اصل استفتاء کا جواب شروع ہوتا ہے۔ اس جواب کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے سوال کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیا جائے۔ زمانہ جاہلیت میں ایک شخص غیر محدود تعداد تک بیویاں کرنے کے لیے آزاد تھا اور ان کثیر التعداد بیویوں کے لیے کچھ بھی حقوق مقرر نہ تھے۔ سورة نساء کی ابتدائی آیات جب نازل ہوئیں تو اس آزادی پر دو قسم کی پابندیاں عائد ہوگئیں۔ ایک یہ کہ بیویوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ چار تک محدود کردی گئی۔ دوسرے یہ کہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کے لیے عدل (یعنی مساویانہ برتاؤ) کو شرط قرار دیا گیا۔ اب یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر کسی شخص کی بیوی بانجھ ہے، یا دائم المرض ہے، یا تعلق زن و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل ازدواجی زندگی سے متعلق چند قرآنی ہدایات وان امراة خافت من بعلھا (انی قولہ) واسعاً حکیماً ان تینوں آیتوں میں حق تعالیٰ شانہ نے ازدواجی زندگی کے اس تلخ اور کٹھن پہلو کے متعلق ہدایات دی ہیں جو اس طویل زندگی کے مختلف ادوار میں ہر جوڑے کو کبھی نہ کبھی پیش آ ہی جاتا ہے، وہ ہے باہمی رنجش اور کشیدگی اور یہ ایسی چیز ہے کہ اس پر صحیح اصول کے ماتحت قابو پانے کی کشش نہ کی جائے تو نہ صرف زوجین کے لئے دنیا جہنم بن جاتی ہے، بلکہ بسا اوقات یہ گھریلو رنجش خاندانوں اور قبیلوں کی باہمی جنگ اور قتل و قتال تک نوبت پہنچا دیتی ہے قرآن عزیز مرد عورت دونوں کے تمام جذبات اور احساسات کو سامنے رکھ کر ہر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَاِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِھَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ اَنْ يُّصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ۭ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ۭوَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ۭوَاِنْ تُحْسِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا۔ " نشوز " کے لفظ پر پیچھے بحث گزر چکی ہے۔ نشوز عورت کی طرف سے ہو تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ وہ شوہر کی قوامیت کو تسلیم نہ کرے۔ مرد کی طرف سے ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ بیوی کے حقوق تسلیم کرنے سے انکار کرے اور اس سے پیچھا چھڑانے پر آمادہ ہوجائے۔ وَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ، شح کے معنی بخل کے بھی ہیں اور حرص کے بھی۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

128۔ 1 خاوند اگر کسی وجہ سے اپنی بیوی کو ناپسند کرے اور اس سے دور رہنا اور اعراض کرنا معمول بنا لے یا ایک سے زیادہ بیویاں ہونے کی صورت میں کسی کو کم ترخوب صورت بیوی سے اعراض کرے تو عورت اپنا کچھ حق چھوڑ کر (مہر سے یا نان و نفقہ سے یا باری سے) خاوند سے مصالحت کرلے تو اس مصالحت میں خاوند یا بیوی پر کوئی گناہ نہیں کیونکہ صلح بہرحال بہتر ہے۔ حضرت ام المومنیں سودۃ ؓ نے بھی بڑھاپے میں اپنی باری حضرت عائشہ ؓ کے لئے ہبہ کردی تھی جسے نبی ﷺ نے قبول فرما لیا۔ (صحیح بخاری) 128۔ 2 شُحّ بخل اور طمع کو کہتے ہیں۔ یہاں مراد اپنا اپنا مفاد ہے جو ہر نفس کو عزیز ہوتا ہے یعنی ہر نفس اپنے مفاد میں بخل اور طمع سے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

76: تشریح : بعض اوقات کسی شوہر کا اپنی بیوی سے دل نہیں ملتا اور وہ اس سے بےرخی اختیار کرکے اسے طلاق دینا چاہتا ہے، اس صورت میں اگر بیوی طلاق پر راضی نہ ہو تو وہ اپنے بعض حقوق سے دستبردار ہو کر شوہر سے صلح کرسکتی ہے، یعنی یہ کہہ سکتی ہے کہ میں اپنے فلاں حق کا مطالبہ نہیں کروں گی، مگر مجھے اپنے نکاح میں رہنے دو ، ایسی صورت میں شوہر کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صلح پر آمادہ ہوجائے اور طلاق پر اصرار نہ کرے ؛ کیونکہ مصالحت کا رویہ ہی بہتر ہے، نیز اگلے جملے میں احسان کی نصیحت فرما کر شوہر کو اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ وہ دل نہ ملنے کی باوجود بیوی سے نباہ کرنے کی کوشش کرے اور اللہ سے ڈرتے ہوئے اس…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” نمبر 128 تا 130۔ اسلامی نظام نے اس سے قبل عورت کی طرف سے بدسلوکی اور نافرمانی کے بارے میں قانون سازی کردی تھی ۔ اور وہ تمام انتظامات کردیئے تھے کہ اس پہلو میں نقصان پیدا ہونے کے خلاف تدابیر اختیار کی جائیں گی ۔ (ملاحظہ ہو اس پارہ کی ابتدائی آیات) ۔ یہاں سے بےرخی اور نافرمانی کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ جو خاوند کی طرف سے ہو ‘ اور جس کی وجہ سے عورت کے احترام اور عزت نفس کو خطرہ ہو اور اس کے نتیجے میں خاندان کے تباہ ہونے کا خدشہ ہو اس لئے کہ دل بدل سکتے ہیں اور میلانات اور رجحانات کے اندر تبدیلی آسکتی ہے ۔ اسلام ایک ایسا نظام ہے جو معاشرتی معاملات کے اندر زندگی کے تمام اجزاء کا احاطہ کرتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی اگر کوئی عورت خاوند کا دل اپنے سے پھرا دیکھے اور اس کو خوش اور متوجہ کرنے کو اپنے مہر یا نفقہ وغیرہ میں سے کچھ چھوڑ کر اس کو راضی کرلے تو اس مصالحت میں کسی کے ذمہ کچھ گناہ نہیں زوجین میں مصالحت اور موافقت بہت ہی اچھی بات ہے۔ البتہ بےوجہ عورت کو تنگ کرنا اور بلا رضا اس کے مال میں تصرف کرنا گناہ ہے۔ 4 یعنی اپنے نفع اور مال کی حرص اور بخیلی ہر ایک کے جی میں گھسی ہوئی ہے۔ سو نظر بر مصلحت اگر عورت مرد کو کچھ نفع پہنچائے گی تو مرد خوش ہوجائے گا۔ 5 یعنی اگر عورتوں کے ساتھ سلوک نیک کرو گے اور بد سلوکی اور لڑائی سے پرہیز رکھو گے تو اللہ تعالیٰ تو تمہاری سب باتوں سے خبردار ہے اس نیکی کا ثواب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 128 وَاِنِ امْرَاَۃٌ خَافَتْ مِنْم بَعْلِھَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا ایک نشوز تو وہ تھا جس کا تذکرہ اسی سورة کی آیت 34 میں عورت کے لیے ہوا تھا : وَالّٰتِی تَخَافُوْنَ نَشُوْزَھُنَّ اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو۔ یعنی وہ عورتیں ‘ وہ بیویاں جو خاوندوں سے سر کشی کرتی ہیں ‘ ان کے احکام نہیں مانتیں ‘ ان کی اطاعت نہیں کرتیں ‘ اپنی ضد پر اڑی رہتی ہیں ‘ ان کے بارے میں حکم تھا کہ ان کے ساتھ کیسا معاملہ کیا جائے۔ اب یہاں ذکر ہے اس نشوزکا جس کا اظہار خاوند کی طرف سے ہوسکتا ہے۔ یعنی یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ خاوند اپنی بیوی پر ظلم کر رہا ہو ‘ اس کے حقوق ادا کرنے میں پہلو تہی کر رہا ہو ‘…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

167 اس آیت کی تفسیر میں درج ذیل دو احادیث ملاحظہ فرمائیے : 1۔ زوجین کا باہمی سمجھوتہ :۔ سیدہ عائشہ ؓ اس آیت کا مطلب یہ بیان فرماتی ہیں کہ مثلاً ایک شخص کے پاس عورت ہو جس سے وہ کوئی میل جول نہ رکھتا ہو اور اسے چھوڑ دینا چاہے اور عورت کہے کہ اچھا میں تجھے اپنی باری یا نان و نفقہ معاف کردیتی ہوں (مگر مجھے طلاق نہ دے) یہ آیت اس باب میں اتری (بخاری، کتاب التفسیر) 2۔ سیدنا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سیدہ سودہ کو اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ انہیں طلاق نہ دے دیں، تو انہوں نے آپ سے کہا مجھے طلاق نہ دیجیے اپنے پاس ہی رکھیے اور میں اپنی باری عائشہ ؓ کو دے دیتی ہوں چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی کیا اس وقت یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

336 ۔ (بہ شرطی کہ شرائط صلح اصلاجائز ہوں، حرام وممنوع نہ ہوں) فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ صلح اگر کسی حرام شرط کے ساتھ مشروط ہوگی تو باطل ہوگی، مثلا شوہر نے صلح کی یہ شرط لگا دی کہ وہ بیوی کے ساتھ اس کی بہن کو بھی زوجیت میں رکھے گا اور بیوی نے اسے منظور کرلیا، جب بھی چونکہ یہ ایک امر حرام ہے۔ ، اس لئے یہ مصالحت باطل رہے گی، (آیت) ” صلحا “۔ کی تنوین تنویع کے لئے ہے۔ یعنی ایک خاص قسم کی صلح، پوری صلح اگر طیب خاطر کے ساتھ ہوجائے تو پھر تو کسی شرط وغیرہ کا سوال ہی نہیں رہ جاتا۔ (آیت) ” ان یصلحا بینھما صلحا “ مثلا اس طور پر کہ بیوی اپنے شوہر کو رضا مند رکھنے کے لئے اپنے حقوق میں سے کچھ چھوڑ دے۔ اپنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

وَاِنْ اِمْراً ة خافت الخ اس آیت میں ان غیر اختیاری حالات کا حل پیش کیا گیا ہے جو ایسی رنجش کا سبب بن جاتے ہیں، اور ہر فریق خود کو معذور سمجھتا ہے جس کی وجہ سے حقوق واجبہ میں کوتاہی کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے مثلاً ایک شوہر کا اپنی بیوی سے بدصورتی کے دل نہیں ملتا یا بیوی کا شوہر کی بد صورتی کی وجہ سے دل نہیں ملتا اور ان اسباب کو رفع کرنا نہ بیوی کے ساتھ میں ہے اور نہ شوہر کے۔ چناچہ اس صورت حال میں مرد کء لئے تو قرآن کریم نے ایک عام قانون یہ بتلایا ہے کہ '' فاِساک بمعروف او تسریح با حسان '' یعنی اگر عورت کو عقد نکاح میں رکھنا ہے تو اس سے پورے حقوق کی رعایت کے ساتھ رکھے، اور اگر اس پر قدرت نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان امراۃ خافت من بعلہا نشوزا . اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے بد دماغی کا غالب احتمال ہو یعنی علامات و قرائن سے معلوم ہو کہ شوہر اس کو طلاق دے دے گا۔ او اعراضا . یا رخ پھیر لینے کا اندیشہ ہو کہ شوہر اس کے ساتھ نشست برخاست اور گفتگو میں کمی کر دے اور اس کے حقوق ادا نہ کرے اور عورت طلاق نہ چاہتی ہو۔ فلا جناح علیہما ان یصلحا بینہما . تو کوئی جرم نہیں کہ وہ آپس میں (کسی جائز شرط پر) صلح کرلیں۔ مثلاً عورت اپنے کل مہر یا جزء مہر یا لازمی نفقہ یا مقررہ باری سے دست بردار ہوجائے یا شوہر کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے کچھ ہبہ کر دے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اگر شوہر اپنی بی بی سے کہے تیری عمر زیادہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(128) عمیرہ کو اپنے خاوند اسعد بن ربیع کے بارے میں یہ خوف ہوا کہ وہ ان سے ہمبستری اور گفتگو اور ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑ دیں گے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ایسی صورت میں میاں بیوی کو باہم اس طریقہ پر صلح کرلینی چاہیے کہ جس سے عورت راضی ہوجائے اور ظلم و زیادتی سے باز آکر عورت کی خوشنودی کو ملحوظ رکھتے ہوئے صلح کرلینا بہتر ہے ، کیونکہ نفس میں طبعا بخل وحرص ہوتا ہے، عورت خاوند کے حقوق کی ادائیگی میں بخل کرتی ہے اور یا یہ کہ بعض عورت کی حرص وطمع اس وقت تک رہتی ہے جب تک کہ وہ راضی نہ ہوجائے۔ اور اگر تم جوان اور بوڑھی کے درمیان تقسیم اور خرچہ میں برابر کرو اور غلط برتاؤ اور بےرخی سے احتیاط رکھو تو یہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ۔۔ : ”نشوزا“ کا مطلب ہے زیادتی، لڑائی جھگڑا، اعراض، بےرخی۔ نشوز یا اعراض یہ ہے کہ اس سے بدسلوکی کرے، اس کو حقیر سمجھے، اس کے پاس سونا بیٹھنا چھوڑ دے، اسے نان و نفقہ نہ دے، مارنے کے لیے بہانے تراشے، یا اس کے پاس اور بیوی ہے جسے وہ زیادہ چاہتا ہے، اس لیے اس کی طرف توجہ کم ہے، تو اس صورت میں دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں، ایک تو یہ کہ عورت سمجھے کہ میں اسی شخص کے نکاح میں رہوں تو میرے حق میں بہتر ہے، خواہ مجھے اپنے کچھ حقوق چھوڑنے پڑیں۔ دوسری یہ کہ وہ اس سے علیحدہ ہوجائے آیت (128) میں پہلی صورت کا ذکر ہے اور آیت (130) میں دوسری صورت کا ذکر ہے۔ اَنْ يُّصْلِحَا بَيْنَهُمَا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 128۔ اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وان امراۃ “ فعل مضمر کی وجہ سے مرفوع ہے، مابعد فعل اس کی تفسیر کر رہا ہے۔ خافت بمعنی توقعت یعنی اسے توقع ہو اور جنہوں نے خافت بمعنی تیقنت کہا ہے وہ غلط ہے، زجاج نے کہا : وان امراۃ خافت من بعلھا دوام النشور۔ یعنی عورت کو اگر اپنے خاوند سے ہمیشہ زیادتی کا خوف ہے، نحاس نے کہا : نشوز اور اعراض کے درمیان فرق نہیں۔ یہ نشوز کا مطلب دور ہونا اور اعراض کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس سے بات نہ کرے اور نہ اس سے محبت کرے، یہ آیت حضرت سودہ بنت زمعہ ؓ کے سبب نازل ہوئی۔ ترمذی (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ روایت کیا ہے فرمایا : حضرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 128–134

شوہر سے صلح کرنا (1) الطیالسی و ترمذی (نے اس کو حسن کہا) وابن المنذر و طبرانی و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سودہ ؓ اس بات سے ڈر گئیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کو طلاق دیں گے تو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھ کو طلاق نہ دیں اور میری باری عائشہ کو دے دیجئے آپ نے ایسا ہی کرلیا تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” وان امراۃ خافت من بعلہا نشوزا “ ابن عباس ؓ نے فرمایا دونوں میں کسی چیز پر صلح ہوجائے تو یہ جائز ہے۔ (2) ابن سعد و ابو داؤد اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس ٹھہرنے میں ہمارے بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور آپ ان میں ہر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاِنِ : اور اگر ] [ امْرَاَۃٌ : کوئی عورت ] [ خَافَتْ : خوف رکھتی ہے ] [ مِنْم بَعْلِہَا : اپنے شوہر سے ] [ نُشُوْزًا : بدمزاجی کا ] [ اَوْ : یا ] [ اِعْرَاضًا : بےتوجہی کا ] [ فَلاَ جُنَاحَ : تو کوئی گناہ نہیں ہے ] [ عَلَیْہِمَـآ : ان دونوں پر ] [ اَنْ : کہ ] [ یُّصْلِحَا : وہ دونوں سمجھوتہ کرلیں ] [ بَیْنَہُمَا : آپس میں ] [ صُلْحًا : صلح کا ] [ وَالصُّلْحُ : اور صلح ] [ خَیْـرٌ: بہتر ہے ] [ وَاُحْضِرَتِ : اور حاضر کی گئی (یعنی رچابسا دی گئی ) ] [ الْاَنْفُسُ : طبیعتوں میں ] [ الشُّحَّ : لالچ ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ تُحْسِنُوْا : تم احسان کرو ] [ وَتَـتَّـقُوْا : اور تقویٰ کرو ] […

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

میاں بیوی کا آپس میں صلح کرلینا اور بیویوں میں انصاف کرنا سنن ابو داؤد میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ ام المؤمنین حضرت سودہ ؓ کو یہ ڈر ہوا کہ کہیں رسول اللہ ﷺ مجھ سے جدائی اختیار نہ فرما لیں یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ بوڑھی ہوگئی تھیں انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اپنی باری کا دن عائشہ ؓ کو دیتی ہوں اس پر آیت (وَ اِنِ امْرَاَۃٌخَافَتْ ) نازل ہوئی۔ مستدرک حاکم میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ آیت (وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ) ایک ایسے شخص کے بارے میں نازل ہوئی جس کی ایک بیوی تھی جس سے کئی بچے پیدا ہوچکے تھے اس مرد کی خواہش ہوئی کہ اس کو چھوڑ کر دوسری کسی عورت سے نکاح کرے لہٰذا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 128–134

بیان بعض احکام متعلقہ بہ معاشرہ زوجین۔ قال تعالی، وان امرۃ خافت من بعلھا نشوزا۔۔۔ الی۔۔۔ حکیما۔ آیت۔ اوپر آیتوں میں ان احکام کا حوالہ تھا جو سورة نساء کے شروع میں گزر چکے اب یہاں سے عورتوں کے متعلق دوسرے نئے احکام بیان فرماتے ہیں جو میاں اور بیوی کے باہمی معاشرت سے متعلق ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی بدمزاجی یا بےالتفاتی اور بےاعتنائی سے ڈرے مثلا عورت بدشکل ہو یابڑھیا ہوگئی ہو اور اس کو قرائن سے یہ معلوم ہوجائے کہ اس کا شوہر اس کو طلاق دینا چاہتا ہے اور یا دوسری بیوی کرنا چاہتا ہے تو ایسی صورت میں میاں بیوی پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں مثلا یہ کہ عورت اپنا نفقہ اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 128–130

88 تنویر ثانی۔ یہ چودھویں حکم رعیت پر تنویر ہے۔ وَاِنْ خَفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا الخ (رکوع 6) سے شبہ ہوتا تھا کہ اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ ہر ایک کو اسکا پورا حق ملے یہاں اس کا ازالہ کردیا کہ اصلاح سے مراد عام ہے دونوں میں سے خواہ کسی ایک کو اپنے حق سے دستبردار ہونا پڑے جیسا کہ وَاِنْ تُحْسِنُوْا وَتَتَّقُوْا سے اس طرف اشارہ ہے یعنی ہر ایک اپنے حقوق پر حریص ہوتا ہے اور کسی طرح اپنا حق چھوڑنا نہیں چاہتا لیکن اگر تم تقاضائے نفس کے خلاف اپنا حق چھوڑ دو اور اس سے درگذر کرو تو یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے تمہارا یہ عمل ضائع نہیں جائیگا بلکہ تمہیں اس کا پورا پورا اجر ملیگا۔ وَلَنْ تَسْتَطِیعُوْا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 128–130

ربط آیات گزشتہ دروس میں بعض معاشرتی مسائل کا تذکرہ تھا ، عورتوں ، یتیم بچیوں اور دیگر کمزور طبقات کے متعلق حکم دیا گیا تھا کہ ان کے حقوق ادا کرو اور اس ضمن میں اس سورة کی ابتداء میں اسی موضوع پر نازل ہونے والی آیات کی طرف توجہ دلائی گئی تھی۔ کہ ان طبقات پر وہی احکام لاگو ہیں اور انہی سے راہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ عورتوں کے نکاح اور مہر کا خصوصی ذکر تھا کہ ان کے مقرر مہر ادا کرو۔ یتیم بچیوں کے متعلق سرپرستوں کو تنبیہ تھی کہ اگر ان سے خود نکاح کرنا چاہو ، تو ان کا مہر پورا ادا کرو ، اور باقی حقوق بھی بطریق احسن پورے کرو اور اگر خود نکاح نہ کرنا چاہو ، تو انہیں دوسری جگہ نکاح کرنے سے نہ روکو اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنِ امْرَاَۃٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِھَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْہِمَآ اَنْ يُّصْلِحَا بَيْنَہُمَا صُلْحًا۝ 0ۭ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ۝ 0ۭ وَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ۝ 0ۭ وَاِنْ تُحْسِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللہَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا۝ 128 خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 128–130

ترکیب : وان شرطیہ امراۃ مبتداء خافت خبر اور صحیح یہ ہے کہ امراۃ خافت محذوف کا فاعل ہے اور یہ خافت اس کی تفسیر ہے۔ فلا جناح جواب۔ احضرت کا مفعول اول الانفس ہے جو فاعل بنایا گیا اور الشح مفعول ثانی۔ تفسیر : عورتوں کے حقوق کا ذکر پہلی آیات میں آچکا ہے اس لئے یہاں بھی ان کے بعض معاملات میں حکم دیا جاتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مرد بدمزاج سخت گیر ہوتا ہے اور غالباً یہ سخت گیری اور بدمزگی اس سے پیدا ہوتی ہے کہ عورت اپنے حقوق اور مہروغیرہ کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس کی بابت ارشاد ہوتا ہے کہ اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی بدمزاجی اور بےاعتنائی کا خوف ہو تو اس میں بھی کچھ مضائقہ نہیں کہ باہم کچھ حقوق چھوڑ کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَ اِنِ امْرَاَۃٌ خَافَتْ مِنْ م بَعْلِہَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْراضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَآ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَہُمَا صُلْحًاط وَالصُّلْحُ خَیْرٌ ط وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ط وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا ” اور اگر کوئی عورت اندیشہ کرے اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بےرخی کا تو کوئی مضائقہ نہیں ان دونوں پر کہ آپس میں صلح کرلیں۔ صلح بہرحال بہتر ہے۔ طبیعتوں میں حرص رچی بسی ہوئی ہے۔ اور اگر تم احسان کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے اچھی طرح واقف ہے۔ “ (النسآء : 128) سابقہ آیت کریمہ کی وضاحت میں ہم عرض کرچکے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : تسلسل جاری ہے یتامیٰ اور عورتوں کے حقوق کا تعین کیا گیا ہے۔ قرآن مجید نے بار بار مردوں کو حکم دیا ہے کہ عورتوں کے حق مہر خندہ پیشانی اور دل کی رغبت کے ساتھ دیا کرو۔ اگر وہ اپنی خوشی سے حق مہر معاف کریں تو بھی اس انداز سے کھاؤ اور استعمال کرو کہ انہیں تمہارے بارے میں ہلکے پن اور حریص ہونے کا گمان پیدا نہ ہو۔ یہاں عورتوں کو تلقین فرمائی جا رہی ہے کہ اگر کسی عورت کو ایسے خاوند کے ساتھ واسطہ پڑا ہے جو حریص اور لالچی ہے یا کسی وجہ سے مجبور ہو کر چاہتا ہے کہ اسے حق مہر معاف کردیا جائے ‘ بصورت دیگر خاوند کی طرف سے اعراض اور اختلاف کا خطرہ ہے تو تنازعہ کھڑا کرنے کی بجائے بہتر ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

شرط پر صلح میں حرج نہیں : آیت 128: وَاِنِ امْرَاَۃٌ خَافَتْ مِنْم بَعْلِہَا نُشُوْزًا (اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے بد دماغی کا خطرہ ہو) یعنی علامات و قرائن سے احتمال ہو۔ النشوز خاوند بیوی سے خشکی دکھائے اور اس کا حق اور خرچہ روک دے۔ اور گالی گلوچ اور ضرب سے تنگ کرے۔ اَوْ اِعْرَاضًا یا رخ پھیر لینے کا خطرہ ہو۔ کہ وہ اس سے میل جول میں کمی کرتا اور انس و محبت میں کمی کرتا ہو خواہ اس کے بڑھاپے یا بدصورتی کی وجہ سے یا اس کے اخلاق یا خلقت یا رنج یا دوسری سے آنکھ لگ جانے کی وجہ سے یا اور اسی طرح کی صورت ہو۔ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَآ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَہُمَا صُلْحًا تو کوئی حرج نہیں کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(وان امراۃ خافت کا شان نزول) (تفسیر) 128۔: (آیت)” وان امراۃ خافت من بعلھا نشوزا اواعراضا “ یہ عمرہ کے بارے میں نازل ہوئی جو خولہ بنت محمد بن مسلمہ کہا جاتا اور ان کے شوہر سعد بن ربیع کے بارے میں نازل ہوئی یا حضرت رافع بن خدیج کے حق میں نازل ہوا جنہوں نے بنت محمد ؓ سے نکاح کیا تھا ، اس وقت خولہ جوان تھیں جب پیری آگئی تو رافع نے کسی دوسری بیوی کو ان پر ترجیح دی اور ان سے الگ ہوگئے ، محمد بن مسلمہ نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر اس بات کی شکایت کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ سعید بن جبیر ؓ کا قول ہے کہ ایک شخص تھا جس کی بیوی بوڑھی ہوگئی تھی ، اس شخص کی اس بیوی سے بچے بھی تھے ، مرد نے اس کو طلاق دے کر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 128–130

(128 ۔ 130) ۔ ابو داؤد، ترمذی، اور مسند امام احمد بن حنبل میں جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے جس کو مستدرک حاکم میں روایت کیا جاکر صحیح کہا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ام المومنین سودہ ؓ حضرت ﷺ کی بی بی جب ضعیف ہوگئیں تو ان کو یہ اندیشہ ہوا کہ شاید آنحضرت ﷺ ان کو چھوڑدیں گے۔ اس لئے انہوں نے اپنی باری کی رات حضرت عائشہ ؓ کو ہبہ کردی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 سو اس شان نزول کے مفسروں نے اور شان نزول جو اس آیت کی بیان کی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قصہ پر بھی اس آیت کا مضمون صادق آتا ہے ورنہ اصل شان نزول وہی ہے جو صحیح روایتوں کے حوالہ سے اوپر بیان کی ہوئی ہے حاصل معنی آیت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 128 یعنی جب عورت اپنے شوہر کے سخت رویے اور ظلم سے ڈرے یعنی خاوند اپنے آپ کو اس سے برتر سمجھے اور اس میں عدم رغبت کی وجہ سے اعراض کرے تو اس حالت میں بہتر صورت یہ ہے کہ وہ دونوں آپس میں مصالحت کرلیں اور وہ اس طرح کہ بیوی اپنے بعض ان حقوق کو، جو شوہر پر لازم ہیں اس طرح نظر انداز کر دے کہ وہ شوہر کے ساتھ رہ سکے، یا تو وہ نان و نفقہ لباس، مکان وغیرہ میں سے قلیل ترین واجب پر راضی ہوجائے۔ یا اپنی باری میں سے اپنا حق ساقط کر دے، یا اپنی باری کے شب و روز اپنی سوکن کو ہبہ کر دے اگر میاں بیوی اس صورتحال پر راضی ہوجائیں تو اس میں دونوں کے لئے کوئی حرج نہیں، اس میں میاں بیوی دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

بیوی اور اس کے شوہر کے درمیان مصالحت قول باری ہے وان امراۃ حافت من بعلھا نشوراً اوامراضا فلاجناح علیھا ان یصلحا بینھما صلحا۔ جب کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بےرخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر میاں اور بیوی (کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کرلیں) نشوز کے معنی میں ایک قول مروی ہے کہ اس سے مراد بیوی سے نفرت اور بغض کی بنا پر شوہر کا ہر دم اس پر سوار رہنا ہے یعنی شوہر ہر گھڑی ڈانٹ ڈپٹ اور مار پیٹ سے کام لے یہ لفظ نشز الارض، سے ماخوذ ہے جس کے معنی ابھری ہوئی اور بلند زمین کے ہیں۔ قول باری اواعراضاً کا مفہوم یہ ہے کہ شوہر کسی ناراضگی کی بنا پر کسی اور بیوی کو اس پر ترجیح دے کر اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

326 زوجین میں باہم صلح و صفائی کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے کسی بد سلوکی یا بےرخی کا کوئی خدشہ و اندیشہ ہو تو ان دونوں پر اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ وہ آپس میں کوئی صلح کرلیں۔ یعنی کسی بھی طرح کی صلح جس سے رشتہ زوجیت قائم اور برقرار رہے۔ مثلاٰ یہ کہ عورت اپنے نان و نفقہ اور قسمت و شب باشی کے حقوق میں سے کچھ یا سب چھوڑ دے۔ تاکہ خاوند کے حبالہ عقد میں رہنے کی عزت بھی برقرار رہے اور فرقت و علیحدگی کے دکھ بھی نہ برداشت کرنے پڑیں۔ یا خاوند اپنی بیوی کو اس کے حق واجب سے زیادہ دے دے تاکہ اس طرح عورت کی دلجوئی ہوتی رہے اور ان کا رشتہ ازدواج باقی و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 128–130

بیویوں سے حسن سلوک اور انصاف تشریح : جیسا کہ اس سورت کے شروع میں بھی ازدواجی زندگی کے بارے میں کچھ اصول و قوانین بتائے جا چکے ہیں ان آیات میں مزید قوانین بتائے جارہے ہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ گھر کا شعبہ انسانی زندگی کی بقاء، کامیابی اور سکون کا بہت بڑا اور سب سے پہلا شعبہ ہے۔ اس میں امن، سکون، محبت، آرام و آسائش اور نظم و ضبط بےحد ضروری ہے۔ اسی لیے اللہ رب العزت نے زندگی کے باقی معاملات کے ساتھ ساتھ میاں بیوی کے لیے بھی ضابطے اور طریقے بیان کردیئے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ بتایا کہ اگر کسی وجہ سے بیوی محسوس کرے کہ میاں اس سے کچھ زیادہ خوش نہیں تو بیوی کو چاہیے اس کو خوش کرنے اور محبت بڑھانے کے لیے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 127–134

رکوع نمبر 19 ۔ آیات 127 تا 134 ۔ ویستفتونک ۔۔۔۔۔ سمیعا بصیرا۔ اسرار و معارف : پھر بات اپنے اصل موضوع کو پلٹتی ہے کہ قبل اسلام عورت کو انسان سمجھا ہی نہ جاتا تھا۔ اسلام نے اسے میراث میں حقوق دلوا دئیے اور وراثت تک میں حصہ دار بنا دیا کہاں سے اٹھایا کہاں پہنچا دیا ؟ جبکہ اہل عرب تو عورتوں کو خود میراث سمجھ کر بانٹ لیا کرتے تھے۔ سو بعض طبقوں نے ان امور کی تصدیق چاہی کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام عورت کو مرد کی طرح وراثت میں حصہ قرار دے شاید وقتی طور پر ایسا کیا گیا ہوگا ممکن ہے کچھ خاص لوگوں کے لیے ہو ورنہ وہاں تو یہ سوچنا بھی ممکن نظر نہ آتا تھا سو ارشاد ہوا کہ ابھی تک آپ کی بارگاہ میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

شرارتے یہ ہے کہ اس سے بدسلوکی کرے اس کو حقیر سمجھے اس کے پاس سونا بیٹھنا چھوڑدے اسے نان ونفقہ نہ دے مانے پیٹنے کے لیے بہانے تراشے وغیرہ5 مطلب یہ ہے کہ آپس میں مصالحت کرلیں اور شرارت یا بےپروای کیفیت کو ختم کردیں اس سلسسلہئہ میں مصالحت کی جو صورت میں اختیار کرلیں وہ جائز ہے مثلا یہ کہ عورت اپنی باری چھوڑدے مہر کم کردے یا تھوڑے سے نان ونفقہ پر راضی ہوجائے حضرت عائشہ ؓ اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت سودہ ؓ ضعیف ہوگئیں اور انہیں ی اندیشہ ہوا کہ آنحضرت ﷺ ان کو طلاق نہ دے دیں تو انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہ ؓ کو ہبہ کردی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ( ابو دود۔ ترمذی) بعض نے اس شان نزول میں رافع…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:128) یہاں سے اصل استفتاء کا جواب شروع ہوتا ہے۔ بعلہا۔ اس عورت کا خاوند۔ نشوزو۔ مصدر۔ منصوب نکرہ۔ (نصر۔ ضرب) زیادتی۔ ناموافقت۔ شوہر کی طرف سے نشوز سے مراد ہے کہ عورت کو ذلیل سمجھ کر ہمبستری ترک کردینا۔ یا مصارف کم کردینا۔ لاپرواہی۔ بدسلوکی۔ اعراضا۔ بےرخی۔ کنارہ کشی۔ روگردانی۔ جناح۔ گناہ۔ جنوح سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی ایک طرف مائل ہونے کے ہیں۔ اس لئے وہ گناہ جو انسان کو حق سے دوسری طرف مائل کر دے۔ یعنی جھکا دے وہ جناح سے موسوم ہوا پھر ہر گناہ کے لئے اس کا ستعمال ہونے لگا۔ کنایۃ حرج اور مضائقہ بھی مراد لیا جاتا ہے۔ فلا جناح علیہما۔ ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کوئی مضائقہ نہیں۔ کوئی حرج…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

آیت نمبر 128 لغات القرآن : خافت، ڈرتی ہے۔ ڈری۔ بعل، شوہر۔ ان یصلحا، یہ کہ وہ دونوں صلح کرلیں۔ احضرت، حاضر کی گئی۔ الشح، بخل، کنجوسی۔ تشریح : ازدواجی زندگی میں بہت سے موڑ ایسے آتے ہیں جہاں ایک کو دوسرے سے جائز یا ناجائز شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ بعض طرز عمل اختیاری ہے، مثلاً غصہ، ظلم، بےوفائی ، لڑنا، تنگ کرنا، نفرت، فضول خرچی، تذلیل، نان نفقہ سے محروم کردینا، نافرمانی، بےعصمتی وغیرہ۔ چند باتیں غیر اختیاری ہیں۔ مثلاً مسلسل بیماری، بےاولادی، بد صورتی، بڑھاپا، دماغی خرابی، بدمزاجی وغیرہ اس صورت میں الگ ہوجانا آسان ہے مگر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ صلح، میل ملاپ اور سمجھوتہ بہرحال بہتر بات ہے۔ اگر کسی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 128–130

حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ عورت اپنے شوہر کی بےدلی اور بےتوجہی دیکھ کر اس کے خوش کرنے کو اپنے مہر یا نان و نفقہ میں سے کچھ دیوے تو مرد ضرور راضی ہوجاوے گا۔ اسی طرح شب باشی کی نوبت میں سے اگر عورت کچھ چھوڑ دے تو اس پر بھی صلح ہوسکتی ہے۔ اور جدائی پر صلح اللہ کے نزدیک بہتر ہے اس لئے جو میان بی بی خدا کا خوف کر کے حسن سلوک کی رغبت کا ذکر ہی ان آیات میں ہے اس کی تفسیر جناب ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ کسی شخص کا اپنے اہل و عیال کے ساتھ حسن سلوک سے گزران کرنا اس شخص کی ایمان داری کی نشانی ہے۔ روٹی کپڑے میں برابری کا برتنا یہ آدمی کے اختیار میں ہے اور دلی الفت کا برتنا یہ آدمی کے اختیار سے باہر ہے۔ اس لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[82] یعنی عورت اپنے شوہر کو خوش کرنے کے لئے اپنے حق میں سے کچھ چھوڑ دے اور میاں بیوی اس پر میل ملاپ کرلیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) مرد و عورت میں بعض اوقات شکر رنجی ہوجاتی ہے اور عدم التفات کے باعث وہ خوف ناک نتائج پر منتج ہوتی ہے ، قرآن حکیم جو فلسفہ تدبیر منزل کو بالخصوص اہمیت ووضاحت سے بیان کرتا ہے اس باب میں یہ ہدایت دیتا ہے (آیت) ” ان یصلحا بینھما “۔ کہ دونوں صلح و محبت کی فضا پیدا کرنے میں ایک دوسرے کے ممد ومعاون ہوں ۔ قرآن کے پیش نظریہ حقیقت نفسی بھی ہے کہ بالطبع لوگ ذات وبخل میں زیادہ رغبت رکھتے ہیں یعنی اپنے حقوق سے دست بردار ہونے کے لئے قطعا تیار نہیں ، اس لئے اس کا ارشاد یہ ہے کہ احسان واقعتا اختیار کریں اور دونوں ایثار و خلوص سے کام لیں ۔ یہ واقعہ ہے کہ میاں بیوی دونوں اگر اپنے حقوق سے زیادہ فرائض کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے لڑنے جھگڑنے اور زیادتی کرنے کا یا بےرغبتی اور بےپروائی کا خوف ہو تو ایسی حالت میں دونوں میاں بیوی کو اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ دونوں آپس میں کسی خاص طور پر صلح کرلیں اور باہم کسی بات پر خودہی صلح کرلیں اور یہ آپس میں صلح کرلینا بہر حال بہتر ہے اور ہر انسان کے سامنے طبعاً حرص رکھی ہوئی ہے اور ہر جی میں حرص و بخل کی خواہش ودیعت کی گئی ہے اور اگر تم عورتوں کے ساتھ نیکی کرو اور ان کے ساتھ اچھا برتائو کرو اور احتیاط سے کام لو تو اجر کے مستحق ہو گے کیونکہ بلاشبہ تم جو کام کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان سب کاموں سے باخبر ہے۔ (تیسیر) نشوز کے معنی ہم عرض کرچکے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 127–128

ف 2۔ خلاصہ مطلب یہ ہوا کہ جو آیتیں اس بارے میں پہلے آچکی ہیں جن کو تم وقتا فوقتا سنتے رہتے ہو وہ ان احکام کے باب میں اب بھی واجب العمل ہیں کوئی حکم جدید نہیں دیا جاتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

میاں بیوی میں ایک دوسرے سے کنارہ کشی کا اندیشہ ہو تو اس میں اصلاح کا پہلو تلاش کرو : 210: نشوز کیا ہے ؟ زیادتی ہے یا بےرغبتی کو کہا جاتا ہے اور یہ میاں کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے اور بیوی کی طرف سے بھی۔ اگر خاوند کی طرف سے وہ تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ طلاق دینا چاہتا ہے اور بیوی کی طرف سے ہو تو اس کا مطلب یہ کہ وہ خاوند کی قوامیت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں یا وہ جدائی کی خا اہش مند ہے۔ اس کی پوری تفصیل اس سورة النساء کی آیت 48 میں جا چکی ہے وہاں سے ملاحظہ فرمالیں۔ اس جگہ اس صورت کا ذکر ہے جب عورت کو خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا خوف وہ تو ظاہر ہے کہ یہ تعداد ازدواج کا کسی مالی صورت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Some Qur'anic Instructions about Married Life Verses 128-130 which begin with the words: وَإِنِ امْرَ‌أَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا (And if a woman fears ill treatment or aversion from her husband ...) and end at وَاسِعًا حَكِيمًا (... All-Embracing, All-Wise) carry instructions about the painful and hard part of married life which is faced by every married couple during one or the other stage of their long association. This is mutual displeasure and tension which, if allowed to prevail without being checked through proper control, does not only result in severe problems for the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

157.The actual response to the query begins here. In order to appreciate the response fully one would do well to consider the query itself. In the days of Ignorance a man was free to marry an unlimited number of women, who had virtually no rights. When the preliminary verses of the present surah were revealed (see especially verse 3) this freedom was circumscribed in two ways. First, the maximum number of wives was fixed at four. Second, justice (that is, equal treatment of wives) was laid down as a necessary condition for marrying more than one. This gives rise to the question whether a…

Read the full tafseer →