یتیموں کے مربیوں کی گوشمالی اور منصفانہ احکام
صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت عائشہ فرماتی ہے اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی پرورش میں کوئی یتیم بچی ہو جس کا ولی وارث بھی وہی مال میں شریک ہوگیا ہو اب چاہتا یہ ہو کہ اس یتیم سے میں نکاح کرلوں اس بنا پر اور جگہ اس کی شادی روکتا ہو ایسے شخص کے بارے میں یہ آیت اتری ہے، ایک روایت میں ہے کہ اس آیت کے اترنے کے بعد جب پھر لوگوں نے حضور ﷺ سے ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے (يَسْتَـفْتُوْنَكَ ۭ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِي الْكَلٰلَةِ) 4۔ النسآء :176) نازل فرمائی۔ فرماتی ہیں کہ اس آیت میں جو یہ فرمایا گیا ہے (ۙ وَمَا يُتْلٰي عَلَيْكُمْ…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 152
اس کی تصریح نہیں فرمائی گئی کہ عورتوں کے معاملہ میں لوگ کیا پوچھتے تھے۔ مگر آگے چل کر جو فتویٰ دیا گیا ہے اس سے سوال کی نوعیت خود واضح ہوجاتی ہے۔
سورة النِّسَآء 153
یہ اصل استفتاء کا جواب نہیں ہے بلکہ لوگوں کے سوال کی طرف توجہ فرمانے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ان احکام کی پابندی پر پھر ایک مرتبہ زور دیا ہے جو اسی سورة کے آغاز میں یتیم لڑکیوں کے متعلق بالخصوص اور یتیم بچوں کے متعلق بالعموم ارشاد فرمائے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی نگاہ میں یتیموں کے حقوق کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ ابتدائی دو رکوعوں میں ان کے حقوق کے تحفظ کی تاکید بڑی شدت کے ساتھ کی جا چکی تھی۔ مگر اس پر…
Read the full tafseer →ربط آیات
شروع سورت میں یتیموں اور عورتوں کے خاص احکام اور ان کے حقوق ادا کرنے کا وجوب مذکور تھا، کیونکہ جاہلیت میں بعضے ان کو میراث ہی نہ دیتے تھے، بعضے جو مال میراث میں یا اور کسی طور سے ان کو ملتا اس کو ناجائز طور پر کھا جاتے بعضے ان سے نکاح کر کے ان کو مہر پورا نہ دیتے اوپر ان سب کی ممانعت کی گئی تھی، اس پر مختلف واقعات پیش آئے، بعض کو تو یہ خیال ہوا کہ عورتیں اور بچے فی نفسہ قابل میراث کے نہیں، کسی وقتی مصلحت سے یہ حکم چند لوگوں کے لئے ہوگیا ہے، امید ہے کہ منسوخ ہوجائے گا اور بعض اس کے منتظر رہے جب نسخ نہ ہوا تو یہ مشورہ ٹھہرا کہ خود حضور ﷺ سے پوچھنا چاہئے اور حاضر ہو کر پوچھا، ابن جریر…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 127 تا 134:۔ اسلامی معاشرہ کی تاسیس، نتظیم اور تطہیر سے متعلق جو باتیں اصولی تھیں وہ اوپر کی آیات پر تمام ہوئیں۔ اب آگے کا حصہ، سورة کے آخر تک، خاتمہ سورة کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں پہلے بعض سوالات کے جواب دیے ہیں جو اسی سورة کی آیات 2۔ 4 میں بیان کردہ احکام سے متعلق بعد میں پیدا ہوئے، اس کے بعد آخر سورة تک مسلمانوں کو، منافقین کو اور اہل کتاب کو خطاب کر آخری تنبیہ کی نوعیت کی نصیحتیں فرمائی ہیں۔ یہ سوالات بعد میں پیدا ہوئے اس وجہ سے ان کے جواب سورة کے آخری باب کے ساتھ رکھے گئے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ یہ بعد میں نازل ہوئے ہیں۔ اس سے احکام کی حکمت سمجھنے میں رہنمائی ملتی…
Read the full tafseer →127۔ 1 عورتوں کے بارے میں جو سوالات ہوتے رہتے ہیں، یہاں سے ان کے جوابات دیئے جا رہے ہیں۔
127۔ 2 وَمَا یُتلَیٰ عَلَیْکُمْ اس کا عطف اللہ یفتیکُمْ پر ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان کی بابت وضاحت فرماتا ہے اور کتاب اللہ کی وہ آیات وضاحت کرتی ہیں جو اس سے قبل یتیم لڑکیوں کے بارے میں نازل ہوچکی ہیں۔ مراد سورة نساء کی آیت 3 جس میں ان لوگوں کو اس بےانصافی سے روکا گیا کہ یتیم لڑکی سے ان کے حسن و جمال کی وجہ سے شادی تو کرلیتے تھے لیکن مہر دینے سے گریز کرتے تھے۔
127۔ 2 اس کے دو ترجمے کئے گئے ہیں، ایک تو یہی جو مرحوم مترجم نے کیا ہے اس میں فی کا لفظ محذوف ہے اس کا دوسرا ترجمہ عن کا لفظ محذوف مان کر کیا گیا ہے…
Read the full tafseer →74: تشریح : اسلام سے پہلے عورتوں کو معاشرے میں ایک کمتر مخلوق سمجھا جاتا تھا اور ان کے معاشرتی اور معاشی حقوق نہ ہونے کے برابر تھے، جب اسلام نے عورتوں کے حقوق ادا کرنے کی تاکید کی اور عورتوں کو بھی میراث میں حصہ دار قرار دیا تو یہ بات عربوں کے معاشرے میں اتنی اچن بھی تھی کہ بعض لوگ یہ سمجھتے رہے کہ عورتوں کو جو حقوق دئے گئے ہیں وہ شاید عارضی نوعیت کے ہیں اور کسی وقت منسوخ ہوجائیں گے، جب ان کی منسوخی کا حکم نہیں آیا تو ایسے حضرات نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں یہ واضح کردیا گیا کہ یہ احکام عارضی نہیں ہمیشہ کے لئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کا حکم دیا ہے اور قرآن کریم کی جو…
Read the full tafseer →درس نمبر 41 ایک نظر میں :
اس سورة کے آغاز میں اسلام نے جاہلی معاشرے کی اصلاح کے جس کام کا آغاز کیا تھا یہ سبق اسی کا ایک حصہ ہے ۔ اس اصلاح کا تعلق عورتوں کے حقوق اور خاندانی نظام کے ساتھ ہے ۔ ایک خاندان کے نتیجے میں جو بچے پیدا ہوتے ہیں ان میں سے بعض یتیم رہ جاتے ہیں ۔ ان کے مسائل اس میں لے گئے ہیں ۔ اسلامی معاشرے کو تنبیہ کی گئی ہے کہ ان مسائل کے اندر جاہلیت کے دور کی جو ناہمواریاں رہ گئی ہیں انہیں دور کیا جائے اور ایک گھرانے کو اس اساس پر اٹھایا جائے کہ اس کے اندر مرد اور عورت دونوں کا احترام ہو ‘ دونوں کی مصلحتوں کا خیال رکھا جائے ۔ خاندان کے اندر جو اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں ان کی اصلاح کی…
Read the full tafseer →1 اس سورت کے اول میں تاکید فرمائی تھی یتیموں کے حق ادا کرنے کی اور فرمایا تھا کہ یتیم لڑکی جس کا والی مثلاً چچا کا بیٹا ہو اگر جانے کہ میں اس کا حق پورا ادا نہ کرسکوں گا تو خود اس لڑکی سے نکاح نہ کرے بلکہ کسی اور سے اس کا نکاح کر دے اور آپ اس کا حمایتی بنا رہے۔ اس پر مسلمانوں نے ایسی عورتوں سے نکاح کرنا موقوف کردیا تھا مگر تجربہ سے معلوم ہوا کہ بعضی جگہ لڑکی کے حق میں یہی بہتر ہے کہ اس کا ولی ہی اپنے نکاح میں لائے جیسی رعایت وہ کرے گا غیر نہ کرے گا۔ تب مسلمانوں نے حضرت محمد ﷺ سے نکاح کی اجازت مانگی اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور رخصت مل گئی اور فرمایا کہ وہ جو پہلی ممانعت سنائی گئی تھی وہ خاص اس…
Read the full tafseer →اب جو آیات آرہی ہیں ان میں خطاب مسلمانوں ہی سے ہے لیکن ان کی حیثیت استدراک کی ہے اور ان کا تعلق اس سورة کی ابتدائی آیات کے ساتھ ہے۔ سورة النساء کے آغاز میں خواتین کے مسائل کے بارے میں کچھ احکام نازل ہوئے تھے ‘ جن میں یتیم بچیوں سے نکاح کے بارے میں بھی معاملات زیر بحث آئے تھے اور کچھ طلاق وغیرہ کے مسائل تھے۔ اس میں کچھ نکات لوگوں کے لیے وضاحت طلب تھے ‘ لہٰذا ایسے نکات کے بارے میں مسلمانوں کی طرف سے کچھ سوالات کیے گئے اور حضور ﷺ سے کچھ وضاحتیں طلب کی گئیں۔ جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحتیں نازل کی ہیں اور اس سوال کا حوالہ دے کر بات شروع کی گئی ہے جس کا جواب دیا جانا مقصود ہے۔
آیت 127…
Read the full tafseer →166 یتیم لڑکیوں سے ناانصافی :۔ یتیم لڑکیوں کے بارے میں جو احکام پہلے سنائے جا چکے ہیں وہ اسی سورة نساء کی آیت نمبر 3 میں مذکور ہیں اور اس آیت کا اس آیت سے گہرا تعلق ہے۔ ہوتا یہ تھا کہ یتیم لڑکیوں کے سرپرست ان سے نکاح کرنے کے سلسلہ میں کئی طرح کی بےانصافیوں کا ارتکاب کرتے تھے جن کی تفصیل اسی سورة کی آیت نمبر 3 کے تحت بیان کی جا چکی ہے۔ ان بےانصافیوں سے بچنے کی خاطر ایسی یتیم لڑکیوں کے سرپرستوں نے یہ محتاط رویہ اختیار کیا کہ ان سے نکاح کرنا ہی چھوڑ دیا تھا تاکہ ان سے ان یتیم لڑکیوں کے حق میں کوئی بےانصافی کی بات سرزد نہ ہوجائے۔ لیکن اس طرح بھی بعض دفعہ نقصان کی صورت پیش آجاتی تھی اور وہ یہ تھی…
Read the full tafseer →330 ۔ یعنی ان کے مہر، میراث وغیرہ کے باب میں، ان کے حقوق وفرائض کے بارہ میں۔ ای یطلبون منک تیبین المشکل من الاحکام فی النسآء ومما یجب لھن وعلیھن (روح) یہ سوال کرنے والے صحابی حضرات تھے۔ نزلت بسبب سوال قوم من الصحابۃ امر النساء واحکامھن فی المیراث وغیرذلک (قرطبی) آیت کے مضمون کا ربط سورت کی ابتدائی آیتوں سے ہے۔ ھذہ الایۃ مرجوع الی ما افتتحت بہ السورۃ من امر امرالنساء (قرطبی)
331 ۔ (جو پہلے مل چکا ہے) مثلا یہ کہ عورتوں کہ ترکہ سے محروم نہ رکھو۔ ایک بندھا ہوا حصہ انہیں دو جو یتیم عورتیں تمہاری پرورش میں ہیں ان کا نکاح کہیں اچھی جگہ دیکھ کر کردو، اگر اپنے ہی سے کرتے ہو تو ان کا مہر پورا ادا کرو،…
Read the full tafseer →آیت نمبر 127 تا 134
ترجمہ : (لوگ) آپ سے عورتوں اور میراث کے بارے میں فتوی پوچھتے ہیں آپ ان سے کہئے اللہ تم کو ان کے بارے میں فتوی دیتا ہے، اور وہ وہی ہے جو تم کو قرآن میں آیت میراث میں پڑھکر سنایا جاتا ہے اور تم کو یتیم عورتوں کے بارے میں فتوی دیتا ہے کہ جن کو تم ان کا میراث کا مقرر حصہ نہیں دیتے ہو اور اے اولیاء تم ان کی بدصورتی کی وجہ سے ان سے نکاح کرنے سے گریز کرتے ہو اور تم ان کی میراث کی لالچ کی وجہ سے ان کو نکاح کرنے سے بھی روکتے ہو، وہ تم کو فتوی دیتا ہے کہ ایسا نہ کرو، (اور تم کو) کمزور بچوں کے بارے میں (فتوی دیتا ہے) کہ تم ان کے حقوق ادا کرو اور تم کو (اس کا بھی) حکم کرتا ہے کہ تم…
Read the full tafseer →ویستفتونک فی النسآء . لوگ آپ ﷺ سے عورتوں (کی میراث) کے متعلق دریافت کرتے ہیں۔ استفتاء کا معنی ہے خبر طلب کرنا صحاح میں ہے فتویٰ کا معنی ہے مشکل مسائل کا جواب۔
ابن المنذر نے سعید بن جبیر ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ بالغ مرد بچہ کو وراثت کا مال نہیں دیتا تھا نہ عورت کو کچھ دیتا تھا۔ جب سورة نساء میں میراث کے تفصیلی احکام نازل ہوئے تو لوگوں پر یہ بات سخت شاق گزری اور کہنے لگے کیا بالغ مرد کی طرح بچہ اور عورت بھی وارث ہوگی اور حضور ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن جریر اور عبد بن حمید نے مجاہد کی روایت سے بھی ایسا ہی بیان کیا ہے۔ کلبی نے بروایت ابو صالح حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل…
Read the full tafseer →(127) آپ سے عورتوں کی میراث کے بارے میں دریافت کرتے ہیں یہ سوال حینہ نے کیا تھا، اللہ تعالیٰ اسے بیان فرماتے ہیں اور ام کمتہ کی لڑکیوں کے بارے میں جو لوگ ان کی میراث کا واجب حصہ نہیں دیتے تھے، وہ بھی اس سورت کے ابتدا میں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے، (تاکہ تم آئندہ اس طرح کی بےاعتدالیوں سے رک جاؤ)
چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم اس سورت کے شروع میں بیان فرمادیا ہے اور تم ان یتیموں کی عورتوں سے ان کی غربت کی وجہ سے نکاح کرنے سے نفرت کرتے ہو، لہٰذا ان عورتوں کو ان کا مال دے دو ، تاکہ ان کے مال کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو ان سے شادی کرنے کی ترغیب ہو اور اللہ تعالیٰ بچوں کی میراث کا بھی حکم بیان کرتے ہیں…
Read the full tafseer →وَيَسْتَفْتُوْنَكَ فِي النِّسَاۗءِ ۭ۔۔ : گو یہاں یہ صراحت نہیں ہے کہ عورتوں کے بارے میں کیا سوال کر رہے تھے، لیکن اگلی چار آیات میں جو فتویٰ دیا گیا ہے اس سے اس سوال کا خود بخود پتا چل جاتا ہے۔
قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِيْهِنَّ ۙ وَمَا يُتْلٰي عَلَيْكُمْ۔۔ : یہاں دراصل کچھ سوالوں کے جواب کے لیے پچھلی آیات کا حوالہ دیا ہے کہ کتاب کی اسی سورت میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے وہ اسی سے متعلق ہے، مثلاً آیت (3) اور اس کے بعد کی آیات یتیم لڑکیوں کے نکاح سے متعلق ہیں، پھر عورتوں کے حقوق اور نابالغ بچوں کی نگہداشت اور ان کا مال کھانے سے اجتناب اور ان کا ورثہ دینا یہ سب اسی کے بارے میں ہے۔
وَتَرْغَبُوْنَ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 127۔
یہ آیت کریمہ صحابہ کرام کے عورتوں کے متعلق سوال اور میراث میں کے احکام وغیرہ کے سبب سے نازل ہوئی، پس اللہ تعالیٰ نے نبی مکرم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ انہیں فرمائیں کہ اللہ تمہیں ان کے متعلق فتوی دیتا ہے یعنی جس کے متعلق تم نے پوچھا اس کا تمہارے لیے حکم بیان کرتا ہے، یہ آیت ان احکام کی طرف راجع ہے جو اس سورت کے آغاز میں عورتوں کے امر کے متعلق گزر چکے ہیں اور ان کے لیے کچھ احکام باقی تھے جن کو ابھی تک لوگوں نے سمجھا نہیں تھا تو انہوں نے سوال کیا انہیں کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے متعلق فتوی دیتا ہے۔ اشہب نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے فرمایا : نبی مکرم ﷺ سے سوال کیا جاتا تھا تو…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر و ابن المنذر اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” ویستفتونک فی النساء “ کے بارے میں روایت کیا کہ جاہلیت والے چھوٹے بچوں کو میراث نہیں دیتے تھے یہاں تک کہ بڑا نہ ہوجائے اور نہ عورت کو میراث دیتے ہیں جب اسلام آیا تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ویستفتونک فی النساء، قل اللہ یفتیکم فیہن، وما یتلی علیکم فی الکتب “ یعنی شروع میں فرائض کے بارے میں۔
نابالغ کو میراث سے محروم کرنا بڑا گناہ ہے
(2) عبد بن حمید و ابن جریر و ابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں کوئی مرد وارث نہیں ہوتا تھا مگر جو بالغ ہوجائے اور اپنے مال کی حفاظت کرسکے اور اس کی…
Read the full tafseer →[ وَیَسْتَفْتُوْنَکَ : اور یہ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ] [ فِی النِّسَآئِ : عورتوں کے بارے میں ] [ قُلِ : آپ ﷺ کہیے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ یُـفْتِیْـکُمْ : بتاتا ہے تم کو ] [ فِیْہِنَّ : ان عورتوں کے بارے میں ] [ وَمَا : اور جو ] [ یُـتْلٰی عَلَـیْـکُمْ : پڑھ کر سنایا گیا تم کو ] [ فِی الْْـکِتٰبِ : اس کتاب میں ] [ فِیْ یَتٰمَی النِّسَآئِ الّٰتِیْ : ایسی عورتوں کے یتیموں کے بارے میں ] [ لاَ تُـؤْتُوْنَہُنَّ : تم نہیں دیتے جن کو ] [ مَا : وہ ‘ جو ] [ کُتِبَ : فرض کیا گیا ] [ لَـہُنَّ : ان کے لیے ] [ وَ : اور (یعنی پھر بھی) ] [ َتَرْغَبُوْنَ : رغبت رکھتے ہو ] [ اَنْ : کہ ] [ تَنْکِحُوْہُنَّ : تم…
Read the full tafseer →یتیم بچوں اور بچیوں کے حقوق کی نگہداشت کرنے کا حکم
صحیح بخاری صفحہ 661: ج 2 میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان فرمایا کہ کسی کے پاس کوئی یتیم بچی ہوتی تھی وہ اس کا ولی بھی ہوتا تھا۔ (اور شریک میراث بھی کیونکہ اس یتیم بچی کو اور اس کے ولی کو کسی وفات پانے والے سے میراث ملی) اب یہ ولی نہ تو اسے اپنے نکاح میں لیتا تھا اور نہ کسی دوسرے مرد سے اس کا نکاح کرتا تھا کیونکہ یہ ڈر تھا کہ دوسرے سے نکاح کر دوں گا تو وہ بحق زوجیت اس کا مال لے جائے گا۔ لہٰذا یتیم بچی کو تنگ کرتا تھا اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔ صاحب فتح الباری صفحہ 265: ج 8 نے ابن ابی حاتم سے روایت نقل کی ہے کہ جابر ؓ کی ایک چچا زاد…
Read the full tafseer →رجوع بسوی احکام نساء ووالدان۔
قال تعالی، ویستفتونک فی النساء۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ بصیرا۔ آیت۔
ربط) حق جل شانہ نے اس سورت کو تقوی اور پرہیزگاری کے حکم سے شروع فرمایا اور عورتوں اور یتیموں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا اور مہر اور میراث کے بارے میں زمانہ جاہلیت سے رسم چلی آرہی تھی کہ عورتوں اور بچوں کو میراث نہیں دیتے تھے اس ظالمانہ رسم کو باطل کیا اور فرمایا کہ یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے ہرگز تعدی نہ کرنا دور تک سلسلہ کلام اسی طرح چلا گیا کہ عورتوں اور یتیموں اور نکاح ومہر وغیرہ کے متعلق احکام بیان فرمائے اور پھر اللہ کی عبادت اور اہل قرابت اور فقراء اور مساکین کے ساتھ سلوک اور احسان کا حکم دیا یہاں تک…
Read the full tafseer →87 تنویر اوّل یہ احکام رعیت میں سے دوسرے حکم پر تنویر ہے۔ وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِیْ الْیَتٰمیٰ الخ (رکوع 1) سے شبہ ہوسکتا تھا کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کرنا جائز نہیں یہاں اس شبہ کا ازالہ کردیا گیا۔ یعنی یہاں اس حکم کا منشا یہ نہیں کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کرنا جائز نہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان سے انصاف کا برتاؤ کرو اور ان کے حقوق ادا کرو اور اگر عدل نہ کرسکو تو پھر کسی دوسری عورت سے نکاح کرلو وَمَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ کا عطف لفظ اللہ پر ہے اور اس سے مراد وہی آیت ہے جو رکوع 1 میں گذر چکی ہے یعنی وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِیْ الْیَتٰمٰی الخ اور الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مجرور ہے اور…
Read the full tafseer →ربط آیات
گزشتہ رکوعات میں جہاد کا ذکر اور منافقین کی مذمت بیان ہوتی رہی ہے ۔ اب آج کی آیت میں عورتوں اور یتیم بچوں کے حقوق کا تذکرہ ہے ۔ سورة ہذا کی ابتدا بھی انہی موضوعات سے ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے مال میں ناجائز تصرف سے منع فرمایا تھا۔ اور یتیم لڑکیوں کے متعلق حکم تھا کہ اگر تمہیں ان کے ساتھ ناانصافی کا خدشہ ہو ، تو پھر ان کے ساتھ نکاح نہ کرو ، اور جن عورتوں سے نکاح کرو ، ان کے مہر خوشی خاطر سے ادا کرو ، ہاں اگر وہ ازخود مہر کا کچھ حصہ واپس کردیں یا معاف کردیں تو تمہارے لیے مباح ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے یتیموں کے مال کی حفاظت کے بھی مفصل احکام نازل فرمائے۔ وراثت کے احکام تفصیل…
Read the full tafseer →وَيَسْتَفْتُوْنَكَ فِي النِّسَاۗءِ 0ۭ قُلِ اللہُ يُفْتِيْكُمْ فِيْہِنَّ 0ۙ وَمَا يُتْلٰي عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ فِيْ يَـتٰمَي النِّسَاۗءِ الّٰتِيْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا كُتِبَ لَھُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْھُنَّ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ 0ۙ وَاَنْ تَقُوْمُوْا لِلْيَتٰمٰي بِالْقِسْطِ 0ۭ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللہَ كَانَ بِہٖ عَلِــيْمًا 127
استفتا
الجواب عمّا يشكل من الأحكام، ويقال : اسْتَفْتَيْتُهُ فَأَفْتَانِي بکذا . قال : وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّساءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ [ النساء/ 127] ، فَاسْتَفْتِهِمْ [ الصافات/…
Read the full tafseer →ترکیب : ومایتلی معطوف ہے فیہن کی ضمیر 1 ؎ پر اے ویفتی فی ما یتلی علیکم فی الکتاب میں فی یتلی سے متعلق ہے اور فی یتمی النساء اے فی حکم یتمی النساء بھی یتلیٰ سے متعلق ہے کس لئے کہ دونوں کے معنی مختلف ہیں اول ظرفیہ ثانی بمعنی الباء یتیمی النساء میں صفت کو موصوف کی طرف مضاف کردیا ہے وترغبون حال ہے والمستضعفین معطوف ہے ضمیر مجرور پر جو فیھن میں ہے وان بھی اسی پر معطوف ہے بغیر اعادۃ الجار وذلک جائز عندالکوفیین۔
تفسیر : قرآن مجید میں یہ ایک پر اثر بات ملحوظ رکھی گئی ہے کہ کچھ احکام بیان فرما کر اس کے بعد ترغیب و ترہیب ‘ وعدہ وعید اور جلال کبریائی کی آیتیں نازل ہوتی ہیں تاکہ مخاطب کو ان کے احکام کا…
Read the full tafseer →وَیَسْتَفْتُوْنَـکَ فِی النِّسَآئِ ط قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِیْہِنَّ لا وَمَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتٰبِ فِیْ یَتٰمَی النِّسَآئِ الّٰتِیْ لَا تُؤْتُوْنَہُنَّ مَاکُتِبَ لَہُنَّ وَتَرْغَبُونَ اَنْ تَنْکِحُوْہُنَّ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ لا وَاَنْ تَقُوْمُوْا لِلْیَتٰمٰی بِالْقِسْطِ ط وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍفَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِہٖ عَلِیْمًا
” اور لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ اللہ تمہیں فتویٰ دیتا ہے ان کے بارے میں (اور یاد دلاتا ہے) وہ احکام جو پڑھے جاتے ہیں تم پر ان یتیم بچیوں کے متعلق جنھیں تم نہیں دیتے ہو وہ حق جو ان کے لیے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نیا خطاب شروع ہوا۔
قرآن مجید میں یتیموں کے حقوق کی ادائیگی اور ان کی ترغیب و فضیلت کے بارے میں تیئس مقامات پر ذکر ہوا ہے۔ جن میں یتیم بچیوں کے متعلق اس سورت کی آیت 4 میں حکم دیا تھا کہ یتیم بچیاں نکاح کے قابل ہوجائیں تو ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ ان کا حق مہر خوشی کے ساتھ ادا کیا جائے۔ یہ لوگ پھر آپ سے یتیم لڑکیوں کے بارے میں فتویٰ چاہتے ہیں انہیں فرمائیں فتویٰ تو اللہ تعالیٰ پہلے ہی دے چکے ہیں لہٰذا اس پر عمل کرو۔ جن کے دلوں میں چور ہے وہ چاہتے ہیں کہ یتیموں کے حقوق سے جان چھوٹ جائے حالانکہ ان کا حال یہ ہے کہ یتیم بچیوں کے مال اور جمال کی وجہ سے ان کے ساتھ نکاح کرنا اور ان…
Read the full tafseer →فتویٰ ‘ مبہم کی وضاحت کا نام :
آیت 127 : وَیَسْتَفْتُوْنَکَ فِی النِّسَآئِ (وہ عورتوں (کی میراث) کے متعلق آپ سے دریافت کرتے ہیں) یعنی وہ آپ سے عورتوں کے متعلق فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ اور افتاء مبہم کو واضح کرنے کو کہتے ہیں : قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِیْہِنَّ وَمَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتٰبِ فِیْ یَتٰمَی النِّسَآئِ ۔ (اے محمد) کہہ دیں کہ اللہ عورتوں کے متعلق تم کو اپنا حکم کھول کر بتاتا ہے۔ اور جو تم پر پڑھا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں یتیم عورتوں کے متعلق) یعنی اللہ تعالیٰ اپنا حکم بتا رہے ہیں۔
الکتاب سے مراد قرآن مجید اور فی یتامٰی سے مراد یہ آیت ہے : وان خفتم الا تقسطوا فی یتامٰی…
Read the full tafseer →(ویستفتونک کی تفسیر اور شان نزول)
(تفسیر) 127۔:
(آیت)” ویستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیھن “۔ کلبی (رح) نے ابی صالح (رح) کے حوالے سے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول ام کحۃ کی لڑکیوں کی اس میراث کے متعلق ہوا تھا جو ان کو باپ کی طرف سے پہنچی تھی ، اس کا قصہ سورة کے شروع میں گزر چکا ہے اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں ، کہ اس یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی جو ایک شخص کی نگرانی (پرورش) میں تھی اور وہ اس کا ولی تھا اور اس کے ساتھ نکاح کرنے کی رغبت رکھتا تھا ، عرب میں یہ رواج تھا کہ اگر یتیم بچی خوبصورت اور مال و دولت والی ہوتی تو اس کے ساتھ کم مال کے عوض نکاح…
Read the full tafseer →صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ اور صحابہ ؓ سے جو روایات ہیں 2 ان کا حاصل یہ ہے کہ لوگوں کی پرورش میں جب کوئی یتیمہ لڑکی ایسی ہوتی جس کا کچھ مال بھی ہوتا۔ اور خوبصورت بھی ہوتی تو اس کے متولیوں میں ایسا شخص جس سے اس لڑکی کا نکاح جائز ہوتا وہ شخص اس لڑکی سے نکاح کرلیا کرتا تھا۔ اور جو لڑکی بد صورت ہوتی تو نہ خود اس سے نکاح کرتا نہ کسی دوسرے شخص سے اس کا نکاح کرنے دیتا یہاں تک کہ وہ مرجاتی تو اس کے مال پر قبضہ کرلیتا۔ اسی طرح جب کوئی متولی لڑکی یتیمہ سے نکاح کرلیتا تو نہ اس کا مہر پورا ادا کرتا نہ اس کے اور حقوق ادا کرتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے وان خفتم ان لا تقسطوا فی الیتمی (3/4) فرما…
Read the full tafseer →آیت 127
(استفتاء) سے مراد ہے سائل کا مسؤل (مفتی یا عالم) سے اپنے مسئلہ کے بارے میں شرعی حکم کا بیان طلب کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمن کے بارے میں خبر دی ہے کہ انہوں نے عورتوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے استفتاء کیا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خود اس استفتاء کا جواب دیا : (قل اللہ یفتیکم فیھن) ” کہہ دیجیے کہ خود اللہ ان کے بارے میں تمہیں حکم دے رہا ہے۔ “ پس عورتوں کے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ نے جو فتویٰ دیا ہے اس پر عمل کرو۔ عام طور پر اور خاص طور پر ان کے حقوق کو ادا کرو اور ان پر ظلم کرنا چھوڑ دو ۔
یہ حکم عام ہے اور عورتوں کے حقوق کے بارے میں خواہ وہ بیویاں ہوں یا کوئی اور، چھوٹی ہوں یا…
Read the full tafseer →قول باری ویستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیھن۔ لوگ تم سے عورتوں کے معاملہ میں فتوی پوچھتے ہیں، کہو اللہ تمہیں ان کے معاملہ میں فتوی دیتا ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ روایت کے مطابق آیت کا نزول اس یتیم لڑکی کے بارے میں ہوا ہے جو اپنے ولی کے زیر پرورش ہوتی ہے۔ ولی کو اس کے مال اور جمال میں رغبت ہوتی ہے۔ وہ اس سے نکاح کرلیتا ہے لیکن مہر کے تعین میں انصاف سے کام نہیں لیتا۔ آپ کے ذریعے لوگوں کو ایسی یتیم لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرنے سے منع کردیا گیا یا پھر نکاح کی صورت میں مہر کی وہ رقم ادا کریں جو ان لڑکیوں کے مرتبے اور حیثیت کے مطابق ہو۔ قول باری ہے ومایتلیٰ علیکم فی الکتاب فی یت می النساء اور…
Read the full tafseer →323 یتیم و بےسہارا عورتوں کے بارے میں حکم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں سے کہو کہ اللہ تم کو اجازت دیتا ہے ان عورتوں کے بارے میں اور وہ جو تم لوگوں پر پڑھا جاتا ہے اس کتاب میں ان یتیم عورتوں کے بارے میں جن کو تم لوگ ان کا مقرر کردہ حق نہیں دیتے اور ان سے نکاح کی خواہش بھی رکھتے ہو۔ اور اس طرح وہ مظلوم اور بےسہارا عورتیں ظلم اور زیادتی کا شکار ہوتی ہیں، جیسا کہ ام المومنین حضرت عائشہ ۔ ؓ ۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جب کسی کی سرپرستی میں کوئی یتیم بچی رہ جاتی تو وہ اس پر کپڑا ڈال دیتا۔ جس کے بعد اس کو اور کوئی نہیں لے سکتا تھا۔ اب اگر وہ خوبصورت ہوتی تو وہ سرپرست اس…
Read the full tafseer →یتیم لڑکیوں سے انصاف
تشریح : اس سورت کے شروع کی آیات میں یتیموں کا مسئلہ بڑی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں دوبارہ اس موضوع پر ہدایات دی جارہی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگوں کو کچھ غلط فہمی ہوگئی اور یتیم لڑکیوں کے ولی اور قریبی رشتہ داروں نے ان سے شادیاں کرنی چھوڑ دیں اور جب انہوں نے دیکھا کہ غیر لوگوں نے ان سے شادیاں تو کرلیں، لیکن ان پر ظلم و ستم ڈھائے اور ان کے ساتھ بالکل انصاف نہ کیا۔ اس پر لوگوں کو خیال ہوا کہ اگر اپنوں میں شادیاں ہوتیں تو بہتر ہوتا تو لوگوں نے اس بارے میں آنحضرت ﷺ سے پوچھا تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ حکم تم کو پہلے بھی دیا جا چکا ہے کہ اگر تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–134
رکوع نمبر 19 ۔ آیات 127 تا 134 ۔
ویستفتونک ۔۔۔۔۔ سمیعا بصیرا۔
اسرار و معارف :
پھر بات اپنے اصل موضوع کو پلٹتی ہے کہ قبل اسلام عورت کو انسان سمجھا ہی نہ جاتا تھا۔ اسلام نے اسے میراث میں حقوق دلوا دئیے اور وراثت تک میں حصہ دار بنا دیا کہاں سے اٹھایا کہاں پہنچا دیا ؟ جبکہ اہل عرب تو عورتوں کو خود میراث سمجھ کر بانٹ لیا کرتے تھے۔ سو بعض طبقوں نے ان امور کی تصدیق چاہی کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام عورت کو مرد کی طرح وراثت میں حصہ قرار دے شاید وقتی طور پر ایسا کیا گیا ہوگا ممکن ہے کچھ خاص لوگوں کے لیے ہو ورنہ وہاں تو یہ سوچنا بھی ممکن نظر نہ آتا تھا سو ارشاد ہوا کہ ابھی تک آپ کی بارگاہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–127
ف 7 گویہاں یہ صراحت نہیں ہے کہ عورتوں کے بارے میں کیا سوال کررہے تھے۔ لیکن اگلی چار آیات جو فتویٰ دیا گیا ہے اس سے اس سوال کا خود بخود پتا چل جاتا ہے۔ تفاسیر میں ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے عورتوں کو وارثت اور ان کے متعلقہ چند احکام کے بارے میں استفسار کیا تو یہ آیت نازل ہوئیں۔ (قرطبی)
1 یعنی قرآن تم کو حکم دیتا ہے شروع سورت میں یتیم لڑکیوں کے بیان کردو حقوق کی طرف اشارہ ہے۔ (دیکھئے۔ آیت ب 3)2 یہ تر جمہ اس صورت میں ہے جب توغبون کا صلا فی مخذوف مانا جائے اور اگر اس کا صلہ عب مخذ وف
ماان جائے تو ترجمہ یوں ہوگا تم ان سے نکاح کرنا پسند نہیں کرتے۔ حضرت عائشہ ؓ کی حدیث سے اس دوسرے ترجمہ کی تا ئید ہوتی ہے…
Read the full tafseer →(4:127) یستفتونک۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ استفتائ۔ استفعال مصدر۔ ک ضمیر مفعول۔ واحد مذکر حاضر۔ آپ سے فتوی لیتے ہیں۔ آپ سے مسئلہ معلوم کرتے ہیں۔ استفتاء کسی مشکل بات کا حل دریافت کرنا۔ افتائ۔ کسی مشکل مسئلہ کو حل کرنا۔ت ی حروف مادہ۔ یفتیکم۔ وہ تم کو حکم دیتا ہے۔ تم کو مشکل بات کا حل بتاتا ہے۔ افتاء افعال سے واحد مذکر غائب ۔
ترغبون۔ تم چاہتے ہو۔ تم رغبت کرتے ہو۔ رغبۃ مصدر مضارع جمع مذکر حاضر۔ رغب الیہ طلبہ یعنی خواہش کرنا۔ ورغب عنہ ترکہ متعدا۔ کسی چیز کو عمداً چھوڑ دینا۔ اس کی طرف رغبت نہ رکھنا۔
اس آیت کی ترکیب میں حسب ذیل ملحوظ رہیں۔ یفتیکم (وہ تمہیں فتوی دیتا ہے۔ مشکل بات کا حل بتاتا ہے) ان…
Read the full tafseer →آیت نمبر 127
لغات القرآن : یستفتونک، وہ آپ سے پوچھتے ہیں۔ یفتی، وہ بتاتا ہے۔ یتلی، تلاوت کیا گیا۔ لاتؤتون، تم نہیں دیتے ترغبون، رغبت کرتے ہو، چاہتے ہو۔
تشریح : قرآن کریم میں بار بار یتیموں کے حقوق اور خصوصاً یتیم لڑکیوں کے حقوق کی نگہداشت پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اسی سورة نساء کی آیت نمبر 3 میں یتیم لڑکیوں سے نکاح کے متعلق احکامات سنا دئیے گئے ہیں۔ اب مزید وضاحت فرمائی جا رہی ہے۔ خطاب ان لوھوں کی طرف ہے جن کا یہ حال ہے کہ یہ یتیم لڑکیاں جو مال و جمال والی ہوتیں ان لڑکیوں سے تو خود نکاح کرلیتے تھے اگر وہ صرف مال والی ہو تین تو ان کا نکاح ہونے نہیں دیتے تھے کہ ان کے مال پر سے تصرف ختم نہ ہوجائے۔…
Read the full tafseer →شان نزول : زمانہ جاہلیت میں عرب کے لوگ عورت اور چھوٹے بچوں کو میت کے مال کا وارث نہیں قرار دیتے تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا عورت اور چھوٹے بچے وارث ہوں گے۔ آپ نے ان کو اس آیت سے جواب دیا۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ یتیموں کے اولیاء کا دستو یہ تھا کہ اگر یتیم لڑکی صاحب مال و جمال ہوتی تو اس سے تھوڑے مہر پر نکاح کرلیتے تھے، اور اگر حسن و مال نہ رکھتی تو اسے چھوڑ دیتے تھے، اور اگر حسن صورت نہ رکھتی اور ہوتی مالدار تو نہ خود نکاح کرتے اور اس کے مال کا حصہ دار ہوجانے کے اندیشہ سے نہ دوسرے کسی کے نکاح میں دیتے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر…
Read the full tafseer →[79] روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سورت کی ابتدا میں جو احکام نازل ہوئے ان کی نسبت بعض لوگوں نے مزید سوالات کئے تھے۔ اس پر اگلی آیات نازل ہوئیں۔
[80] اشارہ ہے اس سورت کی آیت نمبر 3 صفحہ 172 کی طرف۔
[81] اشارہ ہے ان احکام کی طرف جو اس سورت کے ابتدائی دو رکوع میں یتیموں کے حقوق کے متعلق ہیں۔
Read the full tafseer →(ف 2) مقصد یہ ہے کہ عورتوں اور یتیم بچوں کے ساتھ برا سلوک اس بات کا متقاضی ہے کہ خاص ہدایات نازل کی جائیں جس میں مسلمانوں کو حسن معاشرت کا درس دیا جائے ۔
یہ ضروری نہیں کہ جہاں قرآن حکیم میں استفتاء یا سوال کا ذکر ہے وہاں درحقیقت سائلین کی ایک جماعت بھی موجود ہے یہ قرآن حکیم کا طرز بیان ہے کہ وہ سوال طلب حالات کو استفتاء سے تعبیر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ طبیعتوں میں چونکہ تشویش استفسار کی بین علامتیں موجود ہیں اس لئے اس کا جواب یہ ہے ۔
(آیت) ” یستفتونک “۔ سے مراد یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) بجائے خود حجت وسند ہوتے ہیں اور ان کی یہ حیثیت اس قدر واضح ہے کہ غیر مسلم تک معترف ہیں ۔
(ف 1) عرب…
Read the full tafseer →ف 3 اور اے پیغمبر ! ﷺ یہ لوگ آپ سے عورتوں کی میراث اور مہر وغیرہ کے بارے میں حکم دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ تم کو ان عورتوں کے بارے میں حکم دیتا ہے اور اس بارے میں وہ آیات بھی تم کو حکم دیتی ہیں جو قرآن کریم میں تم کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور ان کی تم پر تلاوت کی جاتی رہتی ہے۔ یعنی سورة نساء کی گزشتہ آیات وہ آیات ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہیں جن کو تم ان کا وہ حق ہو شرعاً ان کے لئے مقرر ہے نہیں دیتے یعنی میراث اور مہر وغیرہ اور تم ان کے خوبصورت اور مالدار ہونے کی وجہ سے یہ چاہتے ہو کہ ان سے نکاح کرلو اور وہ آیات جو کمزور بچوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور وہ آیات جن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
ف 2۔ خلاصہ مطلب یہ ہوا کہ جو آیتیں اس بارے میں پہلے آچکی ہیں جن کو تم وقتا فوقتا سنتے رہتے ہو وہ ان احکام کے باب میں اب بھی واجب العمل ہیں کوئی حکم جدید نہیں دیا جاتا۔
Read the full tafseer →لوگ آپ ﷺ سے عورتوں کے متعلق پوچھتے ہیں تو آپ ﷺ ان کو جواب دے دیں
207: اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ سے عورتوں متعلق پوچھتے ہیں۔ کیا پوچھتے ہیں ؟ ان کے لئے کیا حصہ مقرر ہو ا ہے۔ کیوں پوچھتے ہیں ؟ اس لئے کہ عربوں میں یتیم بچوں اور عورتوں کو میراث میں سے کوئی حصہ نہیں دیا جاتا تھا جیسا کہ اس سورت کی آیت 7 ‘ 8 میں آپ پڑھ چکے ہیں اس لئے جب قرآن کریم میں عورتوں اور بچوں کے ورثہ پانے کے متعلق حکم آیا تو بعض لوگوں کو یقینا ناگوار ہوگا ، کیوں ؟ اس لئے کہ لوگ ہمیشہ رواج کے خلاف جب کوئی بات پاتے ہیں تو اس پر ناک بھول چڑھاتے ہیں اور کبھی اس پر ٹھنڈے دل سے غورو فکر نہیں کرتے ہاں ! آہستہ آہستہ اگر وہی بات رواج…
Read the full tafseer →1. The Qur'anic words وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ admit two possible translations: First, and tend to marry them," which refers to the people who, attracted to the beauty of the orphan girls, used to marry them without giving them the due rights- of a wife. The second possible translation is: and you avoid marrying them". It refers to the people who did not marry the orphan girls because of their unattractive features, but at the same time did not let them marry others, because they wanted that their wealth should remain in their hands.
At the beginning of this Surah, particular…
Read the full tafseer →152. The actual query about women is not spelled out directly. The judgement pronounced a little later on in response to that query, however, makes it abundantly clear what the query was.
153. This is not a response to the query itself. Before attending to this, God once again emphasizes that people should implement His directives regarding orphans in general, and orphan girls in particular, as mentioned at the beginning of this surah (see verses 2 ff. above). This shows the importance of the rights of orphans in the sight of God. The protection of their rights, as we have pointed out, had…
Read the full tafseer →