An-Nisaa 4:126

An-Nisaa · from ayah 126

4:126

وَلِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ؕ— وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطًا ۟۠وَلِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ مُّحِيۡـطًا

اور آسمان وزمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا ہر چیز پر احاطے کئے ہوئے ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And to Allah belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. And ever is Allah, of all things, encompassing.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 18 of surah · Ruku 15 of juzع

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:126

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے اور اللہ ہر چیز پر محیط ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور آسمان وزمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا ہر چیز پر احاطے کئے ہوئے ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو گھیرنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے، اور اللہ نے ہر چیز کو (اپنی قدرت کے) احاطے میں لیا ہوا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، اور ہر چیز پر اللہ کا قابو ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (سب) اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز کا احاطہ فرمائے ہوئے ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے اور اللہ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (بندگی اللہ ہی کی کرو کہ) اللہ ہی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے، اور وہ سب کچھ جو کہ زمین میں ہمیں ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کر پوری طرح گھیرے میں لئے ہوئے ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اللہ ہی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اللہ ہر چیزکا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ ہر شے کا احاطہ کیے ہوئے ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے اور اللہ ہر چیز پر محیط ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Whatever is in the heavens and in the earth belongs to Allah; Allah en-compasses everything.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

To Allah belongs what is in the heavens and what is in the earth. Allah encompasses every thing.

— Muhammad Taqi Usmani

To Allah belongs what is in the heavens and what is in the earth. Allah encompasses every thing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And to Allah belongs all that is in the heavens and all that is in the earth. And Allah is Ever Encompassing all things.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Unto Allah belongeth whatsoever is in the heavens and whatsoever is in the earth. Allah ever surroundeth all things.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And to Allah belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. And ever is Allah, of all things, encompassing.

— Saheeh International

To God belongs all that is in the heavens and the earth and He has control over all things.

— Muhammad Sarwar

And whatever is in the heavens and whatever is in the earth is Allah's; and Allah encompasses all things.

— Muhammad Habib Shakir

And Allah's is whatsoever is in the heavens and whatsoever is in the earth; and of everything Allah is ever an Encompasser.

— Abdul Majid Daryabadi

But to Allah belong all things in the heavens and on earth: And He it is that Encompasseth all things.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:126

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 123–126

مصائب گناہوں کا کفارہ حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا کہ اہل کتاب اور مسلمان میں چرچہ ہونے لگا اہل کتاب تو یہ کہ کر اپنی فضلیت جتا رہے تھے کہ ہمارے نبی تمہارے نبی سے پہلے کے ہیں اور ہماری کتاب بھی تمہاری کتاب سے پہلے کی ہے اور مسلمان کہہ رہے تھے کہ ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں اور ہماری کتاب تمام اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اس پر یہ آیتیں اتریں اور مسلمانوں کی سابقہ دین والوں پر فضلیت بیان ہوئی، مجاہد سے مروی ہے کہ عرب نے کہا نہ تو ہم مرنے کے بعد جئیں گے نہ ہمیں عذاب ہوگا یہودیوں نے کہا صرف ہم ہی جنتی ہیں، یہی قول نصرانیوں کا بھی تھا اور کہتے تھے آگ ہمیں صرف چند دن ستائے گی، آیت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النِّسَآء 150 یعنی اللہ کے آگے سر تسلیم خم کردینا اور خود سری و خود مختاری سے باز آجانا اس لیے بہترین طریقہ ہے کہ یہ حقیقت کے عین مطابق ہے۔ جب اللہ زمین و آسمان کا اور ان ساری چیزوں کا مالک ہے جو زمین و آسمان میں ہیں تو انسان کے لیے صحیح رویہ یہی ہے کہ اس کی بندگی و اطاعت پر راضی ہوجائے اور سر کشی چھوڑ دے۔ سورة النِّسَآء 151 یعنی اگر انسان اللہ کے آگے سر تسلیم خم نہ کرے اور سرکشی سے باز نہ آئے تو وہ اللہ کی گرفت سے بچ کر کہیں بھاگ نہیں سکتا، اللہ کی قدرت اس کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 125–126

ارشاد فرمایاومن احسن دیناً ممن اسلم وجھہ للہ وھو محسن و اتبع ملتہ ابراہیم حنیفاً یعنی اس شخص سے بہتر کسی کا طریقہ نہیں ہوسکتا جس میں دو باتیں پائی جائیں، ایک اسلم وجھہ للہ یعنی اپنی ذات کو اللہ کے سپرد کر دے، ریا کاری یا دنیا سازی کے لئے نہیں بلکہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے عمل کرے۔ دوسرے وھومحسن یعنی وہ عمل بھی درست طریقہ پر کرے امام ابن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ درست طریقہ پر عمل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا عمل محض خود ساختہ طرز پر نہ ہو، بلکہ شریعت مطہر کے بتلائے ہوئے طریقہ پر ہو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیم کے مطابق ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 125–126

125۔ 126:۔ وَمَنْ اَحْسَنُ دِيْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَھُوَ مُحْسِنٌ وَّاتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۭوَاتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِيْمَ خَلِيْلًا۔ وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِيْطًا۔ ملت ابراہیم : اب یہ اس ھدی اللہ اور سبیل المومنین کی سند اور اس کا درجہ و مرتبہ واضح فرمایا جس کی مخالفت کو شرک قرار دیا ہے اور جس سے یہ اوپر والی بحث پیدا ہوئی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ اس کی مخالفت اور اس سے انحراف کے کیا معنی ؟ آخر اس کے دین سے بڑھ کر کس کا دین ہوسکتا ہے جو اپنے آپ کو یک قلم اللہ کے سپرد کردے اور ساتھ ساتھ وہ محسن بھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 125–126

125۔ 1 یہاں کامیابی کا ایک معیار اور اس کا ایک نمونہ بیان کیا جا رہا ہے۔ معیار یہ ہے کہ اپنے کو اللہ کے سپرد کر دے محسن بن جائے اور ملت ابراہیم ؑ کی پیروی کرے اور نمونہ حضرت ابراہیم ؑ کا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنا خلیل بنایا۔ خلیل کے معنی ہیں کہ جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اس طرح راسخ ہوجائے کہ کسی اور کے لئے اس میں جگہ نہ رہے۔ خلیل (بروزن فعیل) بمعنی فاعل ہے جیسے علیم بمعنی عالم اور بعض کہتے ہیں کہ بمعنی مفعول ہے۔ جیسے حبیب بمعنی محبوب اور حضرت ابراہیم ؑ یقینا اللہ کے محب بھی تھے اور محبوب بھی ؑ (فتح القدیر) اور نبی ﷺ نے فرمایا ہے، اللہ نے مجھے بھی خلیل بنایا ہے جس طرح اس نے ابراہیم ؑ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 119–126

72: کفار عرب بعض چوپایوں کے کان چیر کر بتوں کے نام پر وقف کردیتے تھے اور ایسے جانور سے کوئی فائدہ اٹھانے کو جائز نہیں سمجھتے تھے، اس باطل رسم کی طرف اشارہ ہے کہ اس پر شیطان عمل کر ارہا ہے، اور اللہ کی تخلیق میں تبدیلی سے مراد خود یہی عمل بھی ہوسکتا ہے کہ جانور کے کان خوامخواہ چیر دئے جائیں، اس کے علاوہ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے بعض ان کاموں کو بھی تخلیق میں تبدیلی قرار دے کر منع فرمایا ہے جو عورتیں اپنے حسن میں اضافہ کرنے کی غرض سے کیا کرتی تھیں، مثلاً جسم کے کسی حصے کو سوئیوں وغیرہ سے گود کر نشانات بنوانا، چہرے کے قدرتی رویں کو (جو عیب کی حد تک بڑھا ہوا نہ ہو) صاف کرنا اور دانتوں کے درمیان…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” نمبر 126۔ قرآن کریم میں جہاں یہ بات آتی ہے کہ اللہ ایک ہے اور وہی الہ ہے تو اس کے ساتھ یہ بات بھی آتی ہے کہ وہی مالک اور نگہبان بھی ہے ۔ (ملک ۔ مہیمن) یعنی وہی بادشاہ اور کنٹرول کرنے والا ہے ۔ پس اسلام کا نظریہ توحید صرف یہ نہیں ہے کہ ذات میں اللہ وحدہ لا شریک ہے بلکہ وہ مثبت توحید ہے اور اس کائنات میں فاعل اور موثر بھی وہی ہے اور حکومت اور نگہبانی بھی اسی کی ہے ۔ جب نفس انسانی کے اندر یہ شعور پختہ ہوجاتا ہے کہ زمین وآسمانوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے اور وہ ہر چیز کو اپنے احاطے میں لئے ہوئے ہے ۔ کوئی چیز خدا کے علم اور اس کی سلطنت سے باہر نہیں ہے ‘ تو اس طرح ایک انسان اس امر پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی زمین اور آسمان میں جو کچھ ہے سب اس کے بندے اور اس کی مخلوق اور مملوک ہیں اور اس کے قبضہ میں ہیں۔ اپنی رحمت اور حکمت سے جس کے ساتھ جیسا چاہے معاملہ کرے اس کو کسی کی حاجت نہیں۔ خلیل بنانے سے کوئی دھوکا نہ کھائے اور اہل عالم کے جملہ اعمال خیرو شر کی جزا اور سزا میں تردد نہ کرے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 125–126

آیت 125 وَمَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلّٰہِ وَہُوَ مُحْسِنٌ اللہ کی بندگی میں خوبصورتی لا کر ‘ خلوص اور للہیت کے ساتھ ‘ پورے دین کا اتباع کر کے ‘ تفریق بین الدّین سے بچ کر اور Total submission کے ذریعے سے اس نے احسان کے درجے تک رسائی حاصل کرلی۔ ِ ّ وَّاتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا ط اور اس نے پیروی کی دین ابراہیم علیہ السلام کی یکسو ہو کر یا پیروی کی اس ابراہیم علیہ السلام کے دین کی ‘ جو یکسو تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

165 جزاء و سزا کا قانون بیان کرنے کے بعد یہ فرمانا کہ کائنات کی ایک ایک چیز اللہ ہی کی ملک ہے اس لحاظ سے ہے کہ وہ اپنے اس قانون کو نافذ کرنے کی پوری پوری قدرت رکھتا ہے اور تم اس کی گرفت سے کسی صورت بچ نہیں سکتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

329 ۔ (اپنے علم وقدرت سے) (آیت) ’ ’ للہ ما فی السموت وما فی الارض “۔ میں بیان کیا گیا اللہ کے کمال علم کا۔ یعنی چھوٹی بڑی کوئی سی شئے کائنات میں نہ اس کی ملک وسلطنت سے باہر ہے اور نہ اس کے احاطہ علم سے۔ مشرکین کو علی العموم انہی دو صفات کا اثبات قرآن مجید بار بار کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 116–126

آیت نمبر 116 تا 126 ترجمہ : اللہ تعالیٰ قطعاً معاف نہ کرے گا اس بات کو کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے (ہاں) شرک کے علاوہ گناہ جس کے چاہے گا معاف کردے گا، اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ حق سے دور جا پڑتا ہے مشرک اللہ کو چھوڑ کر عورتوں یعنی (دیویوں) کی بندگی (پوجا) کرتے ہیں، جیسا کہ لات کی اور عزّیٰ کی اور مناة کی، ان کی عبادت نہیں ہے مگر سرکش شیطان کی عبادت جو حد طاعت سے خارج ہونیوالا ہے بتوں کی عبادت میں مشرکوں کے شیطان کی بات ماننے کی وجہ سے اور وہ ابلیس ہے، اللہ نے اس پر لعنت فرمائی یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کردیا، اور وہ شیطان کہہ چکا ہے کہ میں تیرے بندوں میں سے اپنا مقرر حصہ لے کر رہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وللہ ما فی السموات وما فی الارض . اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے یعنی اللہ ہی کی مخلوق اور اللہ ہی کی ملک ہے سوائے اللہ کے کسی دوسرے کو کسی چیز کی تخلیق میں دخل ہے نہ ملکیت میں (یوں تو سارا جہان اور جہان کی چیزیں اللہ ہی کی مخلوق و مملوک ہیں لیکن چونکہ موجودات سماوی اور کائنات ارضی نظر کے سامنے ہیں اس لئے خصوصیت کے ساتھ انہی کا تذکرہ کیا گیا) اس جملہ کا معنوی تعلق یا تو آیت وَمَنْ اَحْسَنْ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلّٰہِسے ہے گویا یہ اس کلام کی علت ہے کہ جب سب کچھ اللہ ہی کا پیدا کیا ہوا اور اسی کی ملکیت ہے لہٰذا ہر شخص پر واجب ہے کہ اپنا رخ اسی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 125–126

(125۔ 126) اور ایسے شخص سے زیادہ مضبوط اور اچھا کس کا دین ہوگا جو اپنے دین اور عمل کو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خالص ہو کر کرے گا اور توحید پر کار بند ہو کر قول وعمل میں نیکی کرے گا، تمام مخلوقات اور ہر ہر چیز بشمول غلام اور باندیاں سب اللہ تعالیٰ کی ملک میں داخل ہیں اور وہ تمام آسمانوں و زمین والوں کی ہر ایک بات کا کامل طریقہ پر علم رکھنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یعنی اللہ تعالیٰ کے ابراہیم ؑ اور نبی کریم ﷺ کو دوست بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ جس طرح دوست برابر ہوتے ہیں، ان کی ملکیت بھی ایک ہی سمجھی جاتی ہے، اسی طرح ابراہیم ؑ اللہ کے خلیل تھے، نہیں بلکہ آسمان و زمین کی ملکیت اب بھی اللہ ہی کے پاس ہے اور ہر شے کا احاطہ بھی اسی کے پاس ہے، یہ تو اس کا فضل و کرم ہے کہ اپنے ان خاص بندوں کو اپنا خلیل قرار دے کر ان کی عزت افزائی فرمائی۔ دلیل چاہو تو ابراہیم ؑ کے والد آذر اور نبی ﷺ کے چچا ابو لہب کا معاملہ دیکھ لو۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 126۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وللہ ما فی السموت وما فی الارض “۔ ملک اور ایجاد کے اعتبار سے سب کچھ اللہ کے لیے ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا اس کے حسن طاعت کی وجہ سے نہ اسے اس کی دوستی کی حاجت تھی، نہ کثرت کے لیے اور نہ مدد کے لیے، اسے اس کی ضرورت ہی کیا ہے جب زمین و آسمانوں کا سب کچھ اس کا ہے اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے امتثال امر پر عزت وشرف بخشا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وکان اللہ بکل شیء محیطا “۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء کا اپنے علم سے احاطہ کیا ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 125–126

(1) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اسلام والوں سے کہا اسلام کے سوا کوئی دین نہیں یہ کتاب ایسی ہے کہ جس نے ہر کتاب کو منسوخ کردیا اور ہمارے نبی نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں اور ہمارے دین بہترین دین ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ومن احسن دینا ممن اسلم وجھہ للہ وھو محسن “۔ (2) حاکم (نے اس کو صھیح کہا) اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کلام کے ساتھ چن لیا اور ابراہیم (علیہ السلام) کو خلت کے ساتھ۔ (3) ابن جریر و طبرانی نے السنۃ میں ابن عباس سے روایت کیا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کی خلت کے ساتھ اور موسیٰ کو کلام…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَلِلّٰہِ : اور اللہ ہی کے لیے ہے ] [ مَا : وہ ‘ جو ] [ فِی السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [ وَمَا : اور وہ ‘ جو ] [ فِی الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ بِکُلِّ شَیْئٍ : ہر چیز کا ] [ مُّحِیْطًا : احاطہ کرنے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آخر میں فرمایا (وَ لِلّٰہِ مَاَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ ) کہ اللہ کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں جو کچھ زمین میں ہے اور سب اس کی مخلوق ہیں اور مملوک ہیں۔ اسے اختیار ہے کہ تکوینی طور پر ان کو جس حال میں رکھے اور تشریعی طور سے جو حکم دے۔ جس کام کا چاہے حکم دے اور جس سے چاہے منع کرے۔ (وَ کَان اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطًا) اور ہر چیز اللہ کے علم اور قدرت کے احاطہ میں ہے اسے تمام اعمال کا اور عمل کرنے والوں کا علم ہے اور حکمت کے مطابق ہر ایک کو جزا و سزا دینے پر اسے قدرت ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 116–126

شرک اور اہل شرک کی مذمت اور رسوم جاہلیت کا ابطال۔ قال تعالی، ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ محیطا۔ یہ آخری آیت ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی۔ آیت۔ بھی طعمہ کے بارے میں نازل ہوئی جب اس نے دیکھا کہ اللہ نے اس کا پردہ فاش کردیا تو مرتد ہو کر چلا گیا ایک شخص کی دیوار میں نقب لگایا اتفاقا دیوار اس پر گر پڑی اور وہ مرگیا اب اس کے بعد اللہ شرک کی بابت ارشاد فرماتے ہیں کہ شرک تو بغیر توبہ کے کسی حال میں نہیں بخشا جاتا اور البتہ شرک اور کفر کے علاوہ اور گناہ بغیر توبہ کے بھی بخشے جاتے ہیں پس اگر طعمہ مرتد نہ ہوتا اور مشرکین کے ساتھ جاکرنہ ملتا تو ممکن تھا کہ چوری وغیرہ کا گناہ بغیر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 125–126

86 یہ دین اسلام کی پیروی اور ملت ابراہیمی کے اتباع کی ترغیب ہے اپنی خواہشات اور اپنی خود ساختہ نجات کی باتوں کو چھوڑو اور ہر قسم کے باطل اور شرک سے دور رہنے والے ابراہیم کی ملت کا اتباع کرو جسے اللہ تعالیٰ نے مقام خلت عطا فرمایا تھا۔ وَلِلّٰہِ مَا فِیْ السَّمٰوَاتِ وَ مَا فِیْ الْاَرْضِ الخ یہ تخویف اخروی ہے زمین و آسمان میں اقتدار اعلیٰ کا مالک اللہ ہے اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے اس لیے وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا یہاں تک دونوں حصے مع متعلقات ختم ہوئے اس کے بعد دونوں حصوں کے بعض مسائل یعنی احکام رعیت میں سے دوسرے اور چودھویں اور احکام سلطانیہ میں سے نویں حکم پر مزید روشنی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 123–126

ربط آیات گزشتہ درس میں شرک کی مذمت اور شیطان کی دشمنی ، کارگزاری اور بہکاوے کے مختلف طریقوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ شرک تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اور شیطان انسان کو گمراہ کرنا ے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتا ہے۔ شیطان کے اتباع میں شرک کرنے والے لوگ دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ اس سے پہلے منافقین اور ان کی حمایت کرنے والوں کی مذمت بھی بیان ہوچکی ہے اہل کتاب گمراہ ہو کر غلط راستے پر چل نکلے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بھی متنبہ کیا کہ اگر ان میں بھی اہل کتاب جیسی خرابیاں پیدا ہوگئیں تو وہ بھی ناکام رہیں گے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ کسی جماعت یا فرقے کے ساتھ خالی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ۝ 0ۭ وَكَانَ اللہُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِيْطًا۝ 126ۧ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 123–126

ترکیب : لیس کا اسم اور خبر دونوں محذوف اور بامانیکم خبر سے متعلق ہے اے لیس الامر منوطا بامانیکم۔ من یعمل سوئً یجزبہ جواب ولا یجد معطوف ہے یجز پر۔ من ذکر او انثی بیان ہے من کا ومن مبتداء احسن ممیز دینا تمیز ممن متعلق ہے احسن افضل التفضیل سے وھو محسن جملہ حال ہے فاعل اسم سے واتبع معطوف ہے اسلم پر پھر یہ سب مجموعہ خبر ہے۔ تفسیر : پہلی آیت میں تھا وما یعدھم الشیطان الا غرورا کہ ان لوگوں سے شیطان جو کچھ وعدہ کرتا ہے ٗ فریب کا کرتا ہے۔ عام ہے کہ شیطان سے ابلیس مراد یا قوت وہمیہ اور اس کے وعدوں میں خیالات باطلہ کہ جو ہر ایک قوم میں خلاف حق چلے آتے ہیں مثلاً عیسائیوں میں یہ ہے کہ تمام گناہ حضرت مسیح…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 125–126

وَمَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلّٰہِ وَہُوَمُحْسِنٌ وَّاتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا ط وَاتَّخَذَاللّٰہُ اِبْرٰہِیْمَ خَلِیْلًا وَلِلّٰہِ مَا فی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْ ئٍ مُّحِیْطًا ع ” اور اس سے بڑھ کر کون ہوگا دین کے اعتبار سے جس نے اپنی ذات اللہ کے سپرد کردی۔ اس حال میں کہ وہ خوب کار بھی ہو اور ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کی پیروی کرے جو بالکل یکسو تھا اور اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا دوست بنایا اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے اور اللہ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے۔ “ (النسآء : 125…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 125–126

فہم القرآن ربط کلام : اچھی تمناؤں کے لیے اچھے اعمال کرنا ضروری ہیں جن کی بنیاد ملّتِ ابراہیم ہے۔ اس سے پہلے اہل کتاب کی بےبنیاد تمناؤں کی نفی کرکے وضاحت فرمائی کہ جہنم سے نجات اور جنت میں داخلہ محض نیک تمناؤں، خوش کن جذبات اور بلند بانگ دعو وں کی بنیاد پر حاصل نہیں ہوسکتا۔ کا میابی کا انحصار ایمان اور نیک اعمال پر ہے جس کی دین اسلام رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام نام ہے اللہ تعالیٰ کے حضور سر تسلیم خم کرنے کا۔ جس سے مراد کلی طور پر اپنے جذبات اور اعمال کو اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان کرنا ہے۔ ایسا شخص ہی محسن یعنی نیکو کار کہلانے کا حقدار ہے۔ اس کے لیے یہودیت، عیسائیت اور دائیں بائیں کے راستے نہیں بلکہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

خلیل کو اللہ کی خلت کی حاجت ہے : آیت 126 : وَلِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ (اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے وہ اللہ ہی کا ہے) اس میں اس بات کی دلیل بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی خُلّت کی خلیل کو حاجت ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی خُلّت کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ وہ اس سے پاک ہے۔ وکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ مُّحِیْطًا (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کرنے والے ہیں) اپنے علم کے لحاظ سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 126۔ : (آیت)” واللہ ما فی السموت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ وکان اللہ بکل شیء محیطا “۔ اس کا علم تمام اشیاء پر محیط ہے ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 123–126

(123 ۔ 126) ۔ اوپر ذکر تھا کہ شیطان وسوسہ کے طور پر لا حاصل آرزوئیں انسان کے دل میں ڈالتا ہے ان آیتوں میں اس قسم کی بعض آرزوؤں کا ذکر ہے چناچہ تفسیر ابن ابی حاتم اور ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ وغیرہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اہل کتاب اپنے آپ کو افضل اور جنتی گنتے اور مسلمانوں سے اس بات پر جھگڑتے تھے اور بعض مسلمان بھی اسی طرح اہل کتاب سے جھگڑتے تھے اور مشرکین مکہ حشر کے قائم نہ ہونے پر طرح طرح کی خیالی باتیں کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 3۔ اور فرمایا کہ عمر بھرے برے علم کر کے اس کے مواخذہ سے بےخوف رہنا اور جو لوگ اللہ کی مرضی کے موافق نیک عمل کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 126 اس آیت کریمہ میں اس حقیقت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اس نے خبر دی ہے کہ (ما فی السموت وما فی الارض) ” جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے (سب اسی کا ہے۔ ) “ یعنی ہر چیز اس کی ملکیت اور تمام لوگ اس کے غلام ہیں۔ پس تمام لوگ غلام اور وہ اکیلا ان کا مالک اور ان کے تمام معاملات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ اس کے علم نے تمام معلومات، اس کی بصر نے تمام مبصرات اور اس کی سماعت نے تمام مسموعات کا احاطہ کر رکھا ہے۔ اس کی مشیت اور قدرت تمام موجودات پر نافذ اور اس کی رحمت زمین و آسمان کی تمام مخلوق پر سایہ کناں ہے۔ وہ اپنے قہر اور غلبہ کی بنا پر تمام مخلوق پر غالب ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 125–126

قول باری ہے ( واتبع ملۃ ابراہیم حنیفا و اتحذ اللہ ابراہیم خلیل اور یکسو ہو کر ابراہیم کے طریقے کی پیروی کی۔ اس ابراہیم کے طریقہ کی جسے اللہ نے اپنا دوست بنا لیا تھا) یہ آیت اس قول باری کی نظیر ہے ( ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا پھر ہم نے تمہیں وحی کی یکسو ہو کر ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو) یہ بات اس امر کی موجب ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مدت کی جو باتیں ثابت شدہ ہوں ہم پر ان کی پیروی لازم ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس سے یہ بات ضروری ہوتی جاتی ہے کہ حضور ﷺ کی شریعت وہی ہوجائے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت تھی۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ حضرت ابراہہیم علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

322 کائنات سب کی سب اللہ ہی کی ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ آسمان و زمین کی اس پوری کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے۔ خلق کے اعتبار سے بھی، کہ خالق سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے، اور ملک کے اعتبار سے بھی کہ مالک حقیقی بھی سب کا وہی ہے۔ اور ملک یعنی حکومت اور بادشاہی کے اعتبار سے بھی کہ سب پر حکومت و بادشاہی بھی اسی وحدہ لاشریک کی ہے۔ اور تصرف کے اعتبار سے بھی کہ اس کائنات میں جو کچھ ہوا یا ہو رہا ہے یا آئندہ ہوگا وہ سب اسی وحدہ لاشریک کے حکم سے اور اسی کی مشیئت کے مطابق ہو رہا ہے۔ پس غلط اور سراسر غلط ہیں وہ لوگ جنہوں نے ازخود اللہ پاک کی زمین کے طرح طرح کے ناموں سے حصے بخرے کر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 125–126

اسلام اور ملت ابراہیمی تشریح : پچھلی آیات میں اصول زندگی، آداب اور مذہب کی حفاظت کا طریقہ کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسانوں میں بہترین انسان وہ ہے جو پوری طرح سے اللہ کا فرمانبردار بندہ بن کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ رب کریم کے اس قدر پسندیدہ اور مقبول بندے تھے کہ اللہ رب العزت نے ان کو اپنا خلیل بنا لیا تھا، خلیل گہرے اور مخلص دوست کو کہتے ہیں، اسی لیے ان کو خلیل اللہ (اللہ کا دوست) کہا جاتا ہے وہ اس قدر مقبول الٰہی کیسے ہوگئے ؟ اس لیے کہ انہوں نے اپنی زندگی، مال و دولت، بیوی، بیٹا اور گھر بار سب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 116–126

رکوع نمبر 18 ۔ آیات 116 تا 126 ۔ اسرار و معارف : ان اللہ لا یغفر ۔۔۔ محیطا۔ ایک اور بہت بڑی جماعت ان جہلا اور نادانوں کی ہے جنہوں نے اپنے آپ کو شرک جیسی مصیبت میں ڈال رکھا ہے اور وہ اوصاف جو صرف اللہ کو سزا وار ہیں دوسروں کو ان میں حصہ دار مانتے ہیں یا پھر وہ اطاعت جو صرف اللہ کا حصہ ہے اس میں دوسروں کو شریک کرلیتے ہیں یہی تین گروہ تھے علمائے یہود اور یہود و نصاری۔ جو ایمان نہ لائے تھے یا منافقین جو بظاہر ایمان لانے کا اظہار و اقرار کرتے مگر دل سے ایمان دار نہ تھے اور تیسرے مشرکین مکہ و عرب دنیا کی آبادی بلحاظ مذہب و ملت انہی تین گروہوں میں تقسیم کی جاسکتی تھی اور آج بھی ایسا ہی ہے سوائے اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 126–127

ف 7 گویہاں یہ صراحت نہیں ہے کہ عورتوں کے بارے میں کیا سوال کررہے تھے۔ لیکن اگلی چار آیات جو فتویٰ دیا گیا ہے اس سے اس سوال کا خود بخود پتا چل جاتا ہے۔ تفاسیر میں ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے عورتوں کو وارثت اور ان کے متعلقہ چند احکام کے بارے میں استفسار کیا تو یہ آیت نازل ہوئیں۔ (قرطبی) 1 یعنی قرآن تم کو حکم دیتا ہے شروع سورت میں یتیم لڑکیوں کے بیان کردو حقوق کی طرف اشارہ ہے۔ (دیکھئے۔ آیت ب 3)2 یہ تر جمہ اس صورت میں ہے جب توغبون کا صلا فی مخذوف مانا جائے اور اگر اس کا صلہ عب مخذ وف ماان جائے تو ترجمہ یوں ہوگا تم ان سے نکاح کرنا پسند نہیں کرتے۔ حضرت عائشہ ؓ کی حدیث سے اس دوسرے ترجمہ کی تا ئید ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 124–126

آیت نمبر 124-126 لغات القرآن : ذکر اوانثی، مردوں میں سے یا عورتوں میں سے۔ نقیر، تل برابر۔ احسن دین، بہترین طریقہ، بہترین راستہ۔ خلیل، دوست۔ تشریح : یہود، نصاریٰ اور مسلم تینوں مذہب والے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بزرگ پیغمبر مانتے ہیں جن کا مقام بہت واجب التعظیم ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور خود حضور نبی کریم ﷺ سب ان کی اولادوں میں ہیں۔ اس آیت میں خاص خطاب بنی اسرائیل یعنی یہود دے ہے کہ اگر وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مانتے ہیں تو دیکھ لو ان کی خاص صفت توحید تھی یعنی وہ اللہ کو معبود مانتے تھے۔ وہ صرف اللہ سے امیدیں رکھتے تھے۔ اسی کا وہ خود رکھتے تھے۔ مگر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 123–126

ان آیتوں میں اس قسم کی بعض آرزؤں کا ذکر ہے جو اہل کتاب اپنے آپ کو افضل اور جنتی گنتے اور مسلمانوں سے اس بات پر جھگڑتے تھے اور بعضے مسلمان بھی اسی طرح اہل کتاب سے جھگڑتے تھے اور مشرکین مکہ حشر کے قائم نہ ہونے پر طرح طرح کی خیالی باتیں کرتے تھے۔ اس پر یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ عمر بھر برے عمل کرکے اس کے مواخذہ سے بےخوف رہنا اور جو لوگ اللہ کی مرضی کے موافق نیک عمل کرتے ہیں ان کی طرح عقبیٰ میں راحت کی توقع رکھنا بڑی نادانی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 119–126

[77] مشرکین عرب کا دستور تھا کہ وہ خاص خاص جانوروں کے کان چیر کر اپنے فرضی معبودوں کے نام بطور نذر چھوڑ دیتے تھے۔ یہ کان کا چیرنا اس مقصد کے لئے ہوتا تھا کہ دوسرے ان کو نذر سمجھ کر ان سے تعرض نہ کریں۔ [78] اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کے بدلنے سے مراد اللہ کی اس فطرت کو بدلنا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تمام خلائق کو پیدا کیا ہے مثلاً توحید دین فطرت ہے لیکن شیطان اور اس کے ایجنٹوں نے اس کو شرک سے مسخ کیا ضمناً اس میں وہ ساری چیزیں آجائیں گی جو اللہ کی فطرت کی تبدیلی کے حکم میں ہیں، مثلاً مردوں اور عورتوں کو بانجھ بنانا، ضبط ولادت، مردوں کو خواجہ سرا بنانا اور اسی قبیل کی دوسری خرافات۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 125–126

اچھا دین : (ف 1) اسلام کے معنی پوری توجہ اور پورے التفات کے ساتھ بارگاہ جلال میں جھک جانے کے ہیں ۔ اس کے سارے احکام پورا نظام عمل ‘ اطاعت و تسلیم کا مرقع ہے ۔ اس کی تعلیمات کا مقصد وعطر اسوہ ابراہیم (علیہ السلام) کی اشاعت ہے یعنی تمام خواہشات نام ونمود کو پس پشت ڈال کر کفر وطاغوت کی بھٹی میں جلنا ، ایمان و توحید کے قیام دین کے سلسلہ میں ہر مصیبت وابتلاء کو برداشت کرنا ، نمرود سے لڑجانا اور ناروا التہاب سے کھیل جانا ، ملت ابراہیمی نام ہے سرفروشی وجانبازی کا ‘ ایثار و خلوص کا ، توحید ومعرفت کی مئے آتشین کے جامہائے لبالب کا ۔ پس وہدین جو ہمہ جہاد وحریت ہو ، وہ ملت جو جانبازوں اور جانثاروں کا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔ (تیسیر) مطلب وہی ہے جو ہم اوپر عرض کرچکے ہیں ایک حصہ میں اللہ تعالیٰ کی سلطنت اور اس کی مالکیت کا اعلان ہے اور دوسرے حصہ میں اس کے علم اور اس کی قدرت کا اعلان ہے اور یہی دو باتیں بندے کے لئے اس کی عبادت و اطاعت کا موجب ہیں غالباً یاد ہوگا کہ سورة نساء کی ابتداء میں یتیم بچوں کے سلسلے میں بعض احکام و مسائل فرمائے تھے کیونکہ لوگ یتیم بچوں کے بارے میں کوتاہی کرتے تھے اگر کوئی یتیم لڑکی خوبصورت اور مالدار ہوتی اور اتفاقاً اس کا ولی ایسا ہوتا جس سے نکاح جائز…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 125–126

ف 7۔ یعنی فرمانبرداری اختیار کرے عقائد میں بھی اعمال میں بھی۔ 8۔ دل سے فرمانبرداری اختیار کی ہوخالی مصلحت سے ظاہرداری نہ ہو۔ 9۔ ملت ابراہیمی یعنی اسلام کا اتباع کرے۔ 1۔ خلیل ہونا اعلی درجہ کا تقرب ومقبولیت ہے اور حضرت جندب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے مجھ کو بھی خلیل بنایا ہے جیسا ابراہیم (علیہ السلام) کو بنایا تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آسمان و زمین کی ہور شے ک اصل مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہ ہرچیز کو گھیرے ہوئے ہے : 206: قرآن کریم کا قاری جو قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھتا ہے وہ اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ مشرکین کو ہمیشہ دو صفات باری یعنی علم وصفت ملک وقدرت میں سب سے زیادہ ٹھوکر لگی ہے اس لئے قرآن کریم انہی دو صفات کا اثبات باربار کرتا ہے یہاں بھی للہ مافی السموات ومافی الارض میں اللہ تعالیٰ کی صفت کمال قدرت و وسعت سلطنت کا بیان ہے اور کا ناللہ بکل شیء محیطا میں کمال علم کا بیان ہے اور مطلب یہ ہے کہ کوئی چھوٹی بڑی چیز اس پوری کائنات میں سے نہ اس کی ملک و سلطنت سے باہر ہے اور نہ اس کے احاطہ علم سے۔ اور اس کا یہ مطلب بھی ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 125–126

The verse says: وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّـهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَ‌اهِيمَ حَنِيفًا And who is better in Faith than one who has surrendered his self to Allah and is good in deeds, and has followed the creed of Ibrahim, the upright...) (125) It means that there can be no way better than the way of the person who is an embodiment of two virtues: 1. Firstly, 'surrenders his or her self to Allah.' In other words, acts for the good pleasure of Allah with all sincerity at one's command without ever contaminating one's deeds with hypocritical or…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

150. To submit to God is the best course for man, for it conforms fully to ultimate reality. Since God is the Lord of the heavens and the earth and all that lies therein, the only right attitude for man is to give up his unlimited freedom and willingly commit himself to serve and obey God. 151. If man will neither submit to God nor stop acting in defiance of Him, he should bear in mind that he can never escape from God's grip,for His power encompasses him completely.

Read the full tafseer →