Explained with ayahs 123–126
مصائب گناہوں کا کفارہ
حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا کہ اہل کتاب اور مسلمان میں چرچہ ہونے لگا اہل کتاب تو یہ کہ کر اپنی فضلیت جتا رہے تھے کہ ہمارے نبی تمہارے نبی سے پہلے کے ہیں اور ہماری کتاب بھی تمہاری کتاب سے پہلے کی ہے اور مسلمان کہہ رہے تھے کہ ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں اور ہماری کتاب تمام اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اس پر یہ آیتیں اتریں اور مسلمانوں کی سابقہ دین والوں پر فضلیت بیان ہوئی، مجاہد سے مروی ہے کہ عرب نے کہا نہ تو ہم مرنے کے بعد جئیں گے نہ ہمیں عذاب ہوگا یہودیوں نے کہا صرف ہم ہی جنتی ہیں، یہی قول نصرانیوں کا بھی تھا اور کہتے تھے آگ ہمیں صرف چند دن ستائے گی، آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–125
سورة النِّسَآء 149
شیطان کا سارا کاروبار ہی وعدوں اور امیدوں کے بل پر چلتا ہے۔ وہ انسان کو انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر جب کسی غلط راستے کی طرف لے جانا چاہتا ہے تو اس کے آگے سبز باغ پیش کردیتا ہے۔ کسی کو انفرادی لطف و لذت اور کامیابیوں کی امید، کسی کو قومی سر بلندیوں کی توقع، کسی کو نوع انسانی کی فلاح و بہبود کا یقین، کسی کو صداقت تک پہنچ جانے کا اطمینان، کسی کو یہ بھروسہ کہ نہ خدا ہے نہ آخرت، بس مر کر مٹی ہوجانا ہے، کسی کو یہ تسلی کہ آخرت ہے بھی تو وہاں کی گرفت سے فلاں کے طفیل اور فلاں کے صدقے میں بچ نکلو گے۔ غرض جو جس وعدے اور جس توقع سے فریب کھا سکتا ہے اس کے سامنے وہی پیش کرتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
ارشاد فرمایاومن احسن دیناً ممن اسلم وجھہ للہ وھو محسن و اتبع ملتہ ابراہیم حنیفاً یعنی اس شخص سے بہتر کسی کا طریقہ نہیں ہوسکتا جس میں دو باتیں پائی جائیں، ایک اسلم وجھہ للہ یعنی اپنی ذات کو اللہ کے سپرد کر دے، ریا کاری یا دنیا سازی کے لئے نہیں بلکہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے عمل کرے۔
دوسرے وھومحسن یعنی وہ عمل بھی درست طریقہ پر کرے امام ابن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ درست طریقہ پر عمل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا عمل محض خود ساختہ طرز پر نہ ہو، بلکہ شریعت مطہر کے بتلائے ہوئے طریقہ پر ہو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیم کے مطابق ہو۔
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
125۔ 126:۔ وَمَنْ اَحْسَنُ دِيْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَھُوَ مُحْسِنٌ وَّاتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۭوَاتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِيْمَ خَلِيْلًا۔ وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِيْطًا۔
ملت ابراہیم : اب یہ اس ھدی اللہ اور سبیل المومنین کی سند اور اس کا درجہ و مرتبہ واضح فرمایا جس کی مخالفت کو شرک قرار دیا ہے اور جس سے یہ اوپر والی بحث پیدا ہوئی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ اس کی مخالفت اور اس سے انحراف کے کیا معنی ؟ آخر اس کے دین سے بڑھ کر کس کا دین ہوسکتا ہے جو اپنے آپ کو یک قلم اللہ کے سپرد کردے اور ساتھ ساتھ وہ محسن بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
125۔ 1 یہاں کامیابی کا ایک معیار اور اس کا ایک نمونہ بیان کیا جا رہا ہے۔ معیار یہ ہے کہ اپنے کو اللہ کے سپرد کر دے محسن بن جائے اور ملت ابراہیم ؑ کی پیروی کرے اور نمونہ حضرت ابراہیم ؑ کا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنا خلیل بنایا۔ خلیل کے معنی ہیں کہ جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اس طرح راسخ ہوجائے کہ کسی اور کے لئے اس میں جگہ نہ رہے۔ خلیل (بروزن فعیل) بمعنی فاعل ہے جیسے علیم بمعنی عالم اور بعض کہتے ہیں کہ بمعنی مفعول ہے۔ جیسے حبیب بمعنی محبوب اور حضرت ابراہیم ؑ یقینا اللہ کے محب بھی تھے اور محبوب بھی ؑ (فتح القدیر) اور نبی ﷺ نے فرمایا ہے، اللہ نے مجھے بھی خلیل بنایا ہے جس طرح اس نے ابراہیم ؑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–126
72: کفار عرب بعض چوپایوں کے کان چیر کر بتوں کے نام پر وقف کردیتے تھے اور ایسے جانور سے کوئی فائدہ اٹھانے کو جائز نہیں سمجھتے تھے، اس باطل رسم کی طرف اشارہ ہے کہ اس پر شیطان عمل کر ارہا ہے، اور اللہ کی تخلیق میں تبدیلی سے مراد خود یہی عمل بھی ہوسکتا ہے کہ جانور کے کان خوامخواہ چیر دئے جائیں، اس کے علاوہ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے بعض ان کاموں کو بھی تخلیق میں تبدیلی قرار دے کر منع فرمایا ہے جو عورتیں اپنے حسن میں اضافہ کرنے کی غرض سے کیا کرتی تھیں، مثلاً جسم کے کسی حصے کو سوئیوں وغیرہ سے گود کر نشانات بنوانا، چہرے کے قدرتی رویں کو (جو عیب کی حد تک بڑھا ہوا نہ ہو) صاف کرنا اور دانتوں کے درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–125
(آیت) ” 123 تا 125۔
یہود اور نصاری کہتے تھے ۔ (آیت) ” (نحن ابناء اللہ واحباؤہ) ہم اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں ۔ اور یہ بھی کہتے تھے ۔ (آیت) ” لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ ) “ ہمیں آگ نہ چھوئے گی مگر چند دنوں کے لئے ۔۔۔۔۔۔ اور یہودی تو آج تک اپنے آپ کو اللہ کی مختار قوم کہتے ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ بعض مسلمانوں کے دل میں بھی یہ بات آتی ہو کہ وہ ایک ایسی امت ہیں جسے تمام لوگوں کے لئے نکالا گیا ہے اور اللہ ان کی تمام غلطیوں کو معاف کر دے گا ‘ اس لئے کہ وہ مسلمان ہیں۔
چناچہ یہ آیت ایسے ہی حالات کی تردید کے لئے اتری کہ دونوں فریقوں کے یہ خیالات درست نہیں ہیں ۔ عملوں پر سب کا بیڑا پار ہوگا۔ تمام…
Read the full tafseer →3 پہلے معلوم ہوچکا کہ اللہ کے نزدیک اعمال کا اعتبار ہے بیہودہ آرزو کا کوئی نتیجہ نہیں۔ اہل کتاب وغیرہ سب کے لئے یہی قاعدہ مقرر ہے جس میں اشارہ تھا اہل اسلام یعنی حضرات صحابہ کی تعریف اور فضیلت کی طرف اور اہل کتاب کی مذمت اور برائی کی طرف۔ اب کھول کر فرماتے ہیں کہ دینداری میں ایسے شخص کا مقابلہ کون کرسکتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے حکم پر سر رکھے ہوئے ہو اور نیک کاموں میں دل سے لگا ہوا ہو اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی سچی پیروی کرتا ہو جو سب کو چھوڑ کر اللہ کا ہوگیا تھا اور اس کو اللہ نے اپنا دوست بنا لیا۔ ظاہر ہے کہ یہ تینوں خوبیاں حضرات صحابہ میں علیٰ وجہ الکمال موجود تھیں نہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
آیت 125 وَمَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلّٰہِ وَہُوَ مُحْسِنٌ
اللہ کی بندگی میں خوبصورتی لا کر ‘ خلوص اور للہیت کے ساتھ ‘ پورے دین کا اتباع کر کے ‘ تفریق بین الدّین سے بچ کر اور Total submission کے ذریعے سے اس نے احسان کے درجے تک رسائی حاصل کرلی۔ ِ ّ
وَّاتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا ط اور اس نے پیروی کی دین ابراہیم علیہ السلام کی یکسو ہو کر یا پیروی کی اس ابراہیم علیہ السلام کے دین کی ‘ جو یکسو تھا۔
Read the full tafseer →164 دین ابراہیم کی صفات :۔ سیدنا ابراہیم کے دین کی قابل ذکر صفات دو ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کے مقابلہ میں انہوں نے تمام طاغوتی طاقتوں سے ٹکر لی۔ تقلید آباء کا انکار کیا، بت پرستی اور نجوم پرستی سے ٹکر لی۔ نمرود کی خدائی کا انکار کیا اور چونکہ انہوں نے اپنے وقت کی تمام طاغوتی طاقتوں سے ٹکر لی اور ان کا مقابلہ کرتے ہوئے صرف ایک اللہ کے دامن میں پناہ لی۔ لہذا وہ حنیف کہلائے اور حنیف کا یہی معنیٰ ہے اور دوسری صفت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کے تمام تر احکام کے سامنے برضا ورغبت اپنا سر تسلیم خم کردیا تھا۔ یہ نہیں کیا کہ جو بات آسان یا نفس کو مرغوب تھی اسے تو قبول کرلیا اور جو مشکل یا ناپسند تھی اسے چھوڑ…
Read the full tafseer →326 ۔ یعنی فرمانبرداری دل سے ہو، منافقانہ نہ ہو۔ موحد محسن بالقول والفعل (ابن عباس ؓ متابعاللشریعۃ فیصح ظاہرہ بالمتابعۃ و باطنہ بالاخلاص (ابن کثیر) (آیت) ” اسلم وجھہ “۔ یعنی فرمانبرداری اختیار کرے عقائد میں بھی، اعمال میں بھی، ای اخلص دینہ وعملہ للہ (ابن عباس ؓ
327 ۔ (کہ اس ملت ابراہیمی کا دوسرا نام دین اسلام ہے)
328 ۔ توریت میں بھی ابراہیم (علیہ السلام) کا لقب خدا کا ” دوست “ آیا ہے :۔ ”’ کیا تو ہمارا خدا نہیں، جس نے اس سرزمین کے باشندوں کو اپنی گروہ اسرائیل کے آگے سے خارج کیا اور اسے اپنے دوست ابرہام کی نسل کو ہمیشہ کے لئے دیا۔ “ (2 ۔ تواریخ 20:7) ” اے اسرائیل میرے بندے، اے یعقوب جسے میں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–126
آیت نمبر 116 تا 126
ترجمہ : اللہ تعالیٰ قطعاً معاف نہ کرے گا اس بات کو کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے (ہاں) شرک کے علاوہ گناہ جس کے چاہے گا معاف کردے گا، اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ حق سے دور جا پڑتا ہے مشرک اللہ کو چھوڑ کر عورتوں یعنی (دیویوں) کی بندگی (پوجا) کرتے ہیں، جیسا کہ لات کی اور عزّیٰ کی اور مناة کی، ان کی عبادت نہیں ہے مگر سرکش شیطان کی عبادت جو حد طاعت سے خارج ہونیوالا ہے بتوں کی عبادت میں مشرکوں کے شیطان کی بات ماننے کی وجہ سے اور وہ ابلیس ہے، اللہ نے اس پر لعنت فرمائی یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کردیا، اور وہ شیطان کہہ چکا ہے کہ میں تیرے بندوں میں سے اپنا مقرر حصہ لے کر رہوں…
Read the full tafseer →ومن احسن دینا ممن اسلم وجہہ للہ . اور ایسے شخص سے اچھا دین کس کا ہوگا جو اپنا رخ اللہ کی طرف جھکا دے یعنی جس نے اپنی ذات کو اللہ کے لئے خالص کردیا کہ اس کے قلب کی کوئی علمی یا میلانی وابستگی اور آوپختگی غیر خدا سے نہیں رہی۔ دل اور سارا بدن اللہ کے اوامرو نواہی کا پابند ہوگیا یہاں تک کہ عالم امکان میں اپنا یا کسی اور کا کوئی وجود اصلی حقیقی اس کو نظر ہی نہیں آتا کسی کے مستقل وجود یا کسی کو معبود و محبوب ماننے کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ انکار کو بصورت استفہام ذکر کرنے سے کمال انکار کی طرف اشارہ ہے۔
وہو محسن . ایسی حالت میں کہ وہ اچھے کام کرنے والا بھی ہے یعنی نیک اعمال کرتا اور برے کام چھوڑ دیتا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
(125۔ 126) اور ایسے شخص سے زیادہ مضبوط اور اچھا کس کا دین ہوگا جو اپنے دین اور عمل کو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خالص ہو کر کرے گا اور توحید پر کار بند ہو کر قول وعمل میں نیکی کرے گا، تمام مخلوقات اور ہر ہر چیز بشمول غلام اور باندیاں سب اللہ تعالیٰ کی ملک میں داخل ہیں اور وہ تمام آسمانوں و زمین والوں کی ہر ایک بات کا کامل طریقہ پر علم رکھنے والا ہے۔
Read the full tafseer →وَمَنْ اَحْسَنُ دِيْنًا۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عمل کی قبولیت کے معیار مقرر فرمائے ہیں، پہلا یہ کہ اپنا چہرہ اللہ تعالیٰ کے تابع کر دے۔ دوسرا یہ کہ وہ محسن ہو، تیسرا ملت ابراہیم کی پیروی کرے، جو حنیف تھے۔ چہرہ تابع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے سپرد کر دے، اپنی مرضی ختم کر کے اس کی مرضی پر چلے، یہ ایمان ہے۔ محسن ہونے کا مطلب ہے کہ ہر عمل خالص اللہ کے لیے کرے، جیسا کہ آپ ﷺ نے احسان کے بارے میں فرمایا : (اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ) [ بخاری، الایمان، باب سؤال جبریل النبیّ ﷺ : 50 ] اور ملت ابراہیم کی پیروی کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کا پوری طرح فرماں…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 125۔
اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو تمام ادیان پر فضیلت دی ہے۔ (آیت) ” اسلم وجھہ للہ “ اس کا معنی ہے اس نے اپنے دین کو اللہ کے لیے خاص کیا اور عبادت کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں جھکے اور متوجہ ہوئے، حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد حضرت ابوبکر ؓ ہیں دینا کو نصب بیان کے اعتبار سے ہے (آیت) ” وھو محسن “ مبتدا خبر ہیں اور حال ہے یعنی وہ موحد ہو۔ اس میں اہل کتاب داخل نہیں، کیونکہ انہوں نے حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانے کو ترک کیا۔ الملۃ سے مراد دین ہے۔ الحنیف، سے مراد مسلم ہے، یہ پہلے گزر چکا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا “۔ ثعلب نے کہا : خلیل کو خلیل اس لیے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
(1) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اسلام والوں سے کہا اسلام کے سوا کوئی دین نہیں یہ کتاب ایسی ہے کہ جس نے ہر کتاب کو منسوخ کردیا اور ہمارے نبی نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں اور ہمارے دین بہترین دین ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ومن احسن دینا ممن اسلم وجھہ للہ وھو محسن “۔
(2) حاکم (نے اس کو صھیح کہا) اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کلام کے ساتھ چن لیا اور ابراہیم (علیہ السلام) کو خلت کے ساتھ۔
(3) ابن جریر و طبرانی نے السنۃ میں ابن عباس سے روایت کیا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کی خلت کے ساتھ اور موسیٰ کو کلام…
Read the full tafseer →[ وَمَنْ : اور کون ] [ اَحْسَنُ : زیادہ اچھا ہے ] [ دِیْنًا : بلحاظ دین کے ] [ مِّمَّنْ : اس سے جس نے ] [ اَسْلَمَ : فرمانبردار کیا ] [ وَجْہَہٗ : اپنے چہرے کو ] [ لِلّٰہِ : اللہ کا ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ ہُوَ : وہ ] [ مُحْسِنٌ : احسان کرنے والا ہے ] [ وَّاتَّـبَعَ : اور اس نے پیروی کی ] [ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے کی ] [ حَنِیْفًا : یکسو ہو کر ] [ وَاتَّخَذَ : اور بنایا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ اِبْرٰہِیْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کو ] [ خَلِیْلاً : دوست ]
Read the full tafseer →محسنین کی تعریف :
پھر فرمایا (وَ مَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْھَہٗ لِلّٰہِ وَ ھُوَ مُحْسِنٌ وَّاتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا وَ اتَّخَذَاللّٰہُ اِبْرٰھِیْمَ خَلِیْلًا) اس میں لفظ (اَسْلَمَ وَجْھَہٗ لِلّٰہِ ) وارد ہوا ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں۔
ای اخلص نفسہ لہ تعالیٰ لا یعرف لھا ربا سواہ وقیل اخلص تو جھہ لہ سبحانہ و قیل بذل وجھہ للہ عزوجل فی السجود۔
مطلب یہ ہے کہ اسلم وجہہ للہ کا مصداق وہ شخص ہے جس نے اپنی جان کو خالص اللہ کے لیے مخصوص اور متعین کردیا وہ اپنے لیے اللہ کے سوا کسی کو رب نہیں پہچانتا، اور بعض حضرات نے اس کا معنی یہ بتایا ہے کہ اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–126
شرک اور اہل شرک کی مذمت اور رسوم جاہلیت کا ابطال۔
قال تعالی، ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ محیطا۔
یہ آخری آیت ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی۔ آیت۔ بھی طعمہ کے بارے میں نازل ہوئی جب اس نے دیکھا کہ اللہ نے اس کا پردہ فاش کردیا تو مرتد ہو کر چلا گیا ایک شخص کی دیوار میں نقب لگایا اتفاقا دیوار اس پر گر پڑی اور وہ مرگیا اب اس کے بعد اللہ شرک کی بابت ارشاد فرماتے ہیں کہ شرک تو بغیر توبہ کے کسی حال میں نہیں بخشا جاتا اور البتہ شرک اور کفر کے علاوہ اور گناہ بغیر توبہ کے بھی بخشے جاتے ہیں پس اگر طعمہ مرتد نہ ہوتا اور مشرکین کے ساتھ جاکرنہ ملتا تو ممکن تھا کہ چوری وغیرہ کا گناہ بغیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
86 یہ دین اسلام کی پیروی اور ملت ابراہیمی کے اتباع کی ترغیب ہے اپنی خواہشات اور اپنی خود ساختہ نجات کی باتوں کو چھوڑو اور ہر قسم کے باطل اور شرک سے دور رہنے والے ابراہیم کی ملت کا اتباع کرو جسے اللہ تعالیٰ نے مقام خلت عطا فرمایا تھا۔ وَلِلّٰہِ مَا فِیْ السَّمٰوَاتِ وَ مَا فِیْ الْاَرْضِ الخ یہ تخویف اخروی ہے زمین و آسمان میں اقتدار اعلیٰ کا مالک اللہ ہے اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے اس لیے وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا یہاں تک دونوں حصے مع متعلقات ختم ہوئے اس کے بعد دونوں حصوں کے بعض مسائل یعنی احکام رعیت میں سے دوسرے اور چودھویں اور احکام سلطانیہ میں سے نویں حکم پر مزید روشنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–126
ربط آیات
گزشتہ درس میں شرک کی مذمت اور شیطان کی دشمنی ، کارگزاری اور بہکاوے کے مختلف طریقوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ شرک تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اور شیطان انسان کو گمراہ کرنا ے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتا ہے۔ شیطان کے اتباع میں شرک کرنے والے لوگ دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ اس سے پہلے منافقین اور ان کی حمایت کرنے والوں کی مذمت بھی بیان ہوچکی ہے اہل کتاب گمراہ ہو کر غلط راستے پر چل نکلے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بھی متنبہ کیا کہ اگر ان میں بھی اہل کتاب جیسی خرابیاں پیدا ہوگئیں تو وہ بھی ناکام رہیں گے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ کسی جماعت یا فرقے کے ساتھ خالی…
Read the full tafseer →وَمَنْ اَحْسَنُ دِيْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلہِ وَھُوَمُحْسِنٌ وَّاتَّبَعَ مِلَّــۃَ اِبْرٰہِيْمَ حَنِيْفًا 0ۭ وَاتَّخَذَ اللہُ اِبْرٰہِيْمَ خَلِيْلًا 125
احسان
الإحسان فوق العدل، وذاک أنّ العدل هو أن يعطي ما عليه، ويأخذ أقلّ مما له، والإحسان أن يعطي أكثر مما عليه، ويأخذ أقلّ ممّا له «3» .
فالإحسان زائد علی العدل، فتحرّي العدل
واجب، وتحرّي الإحسان ندب وتطوّع، وعلی هذا قوله تعالی: وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] ، وقوله عزّ وجلّ : وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] ، ولذلک عظّم اللہ تعالیٰ ثواب المحسنین، فقال تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–126
ترکیب : لیس کا اسم اور خبر دونوں محذوف اور بامانیکم خبر سے متعلق ہے اے لیس الامر منوطا بامانیکم۔ من یعمل سوئً یجزبہ جواب ولا یجد معطوف ہے یجز پر۔ من ذکر او انثی بیان ہے من کا ومن مبتداء احسن ممیز دینا تمیز ممن متعلق ہے احسن افضل التفضیل سے وھو محسن جملہ حال ہے فاعل اسم سے واتبع معطوف ہے اسلم پر پھر یہ سب مجموعہ خبر ہے۔
تفسیر : پہلی آیت میں تھا وما یعدھم الشیطان الا غرورا کہ ان لوگوں سے شیطان جو کچھ وعدہ کرتا ہے ٗ فریب کا کرتا ہے۔ عام ہے کہ شیطان سے ابلیس مراد یا قوت وہمیہ اور اس کے وعدوں میں خیالات باطلہ کہ جو ہر ایک قوم میں خلاف حق چلے آتے ہیں مثلاً عیسائیوں میں یہ ہے کہ تمام گناہ حضرت مسیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
وَمَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلّٰہِ وَہُوَمُحْسِنٌ وَّاتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا ط وَاتَّخَذَاللّٰہُ اِبْرٰہِیْمَ خَلِیْلًا وَلِلّٰہِ مَا فی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْ ئٍ مُّحِیْطًا ع
” اور اس سے بڑھ کر کون ہوگا دین کے اعتبار سے جس نے اپنی ذات اللہ کے سپرد کردی۔ اس حال میں کہ وہ خوب کار بھی ہو اور ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کی پیروی کرے جو بالکل یکسو تھا اور اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا دوست بنایا اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے اور اللہ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے۔ “ (النسآء : 125…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
فہم القرآن
ربط کلام : اچھی تمناؤں کے لیے اچھے اعمال کرنا ضروری ہیں جن کی بنیاد ملّتِ ابراہیم ہے۔
اس سے پہلے اہل کتاب کی بےبنیاد تمناؤں کی نفی کرکے وضاحت فرمائی کہ جہنم سے نجات اور جنت میں داخلہ محض نیک تمناؤں، خوش کن جذبات اور بلند بانگ دعو وں کی بنیاد پر حاصل نہیں ہوسکتا۔ کا میابی کا انحصار ایمان اور نیک اعمال پر ہے جس کی دین اسلام رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام نام ہے اللہ تعالیٰ کے حضور سر تسلیم خم کرنے کا۔ جس سے مراد کلی طور پر اپنے جذبات اور اعمال کو اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان کرنا ہے۔ ایسا شخص ہی محسن یعنی نیکو کار کہلانے کا حقدار ہے۔ اس کے لیے یہودیت، عیسائیت اور دائیں بائیں کے راستے نہیں بلکہ…
Read the full tafseer →آیت 125:
وَمَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْھَہٗ لِلّٰہِ (اور ایسے شخص سے کس کا دین اچھا ہوگا جس نے پھیرلیا اپنا چہرہ اللہ تعالیٰ کی طرف) یعنی جس نے اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کردیا اور مکمل طور پر اس کے سپرد کردیا کہ اس کے سوا کسی کو رب و معبود جانتا ہی نہیں۔ وَہُوَ مُحْسِنٌ (اس حال میں کہ وہ مخلص ہو) یعنی نیک کاموں کو اپنانے والا ہو۔ وَّاتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا (اور اس نے اتباع کی ملت ابراہیم ( علیہ السلام) کی جو سب سے یکسو ہوجانے والے تھے) حَنِیْفًا : باطل دینوں سے منہ موڑ کر راہ حق پر گامزن۔
نحو : حنیفا یہ ابراہیم سے حال ہے یا وَاتَّبَعَ سے حال ہے۔
لفظ…
Read the full tafseer →(تفسیر) 125۔:
(آیت)” ومن احسن دینا “۔ اس سے مراد محکم دین ہے ، (آیت)” ممن اسلم وجہہ للہ “ جس کا عمل خالص اللہ ہی کے لیے ہو۔ بعض نے کہا کہ جس نے اپنا کام اللہ کے سپرد کردیا ہو (آیت)” وھومحسن “۔ محسن سے مراد مواحد ہے (آیت)” وتبع ملۃ ابراھیم “۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا دین ۔ ” حنیفا “ یعنی مخلص مسلمان ہو کر ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ دین ابراہیم (علیہ السلام) سے مراد کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا ، طواف کرنا اور مناسک حج مراد ہے ، یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کو اس لیے خاص کیا کہ تمام امتوں کے نزدیک مقبول ہیں ، بعض نے کہا کہ آپ ﷺ کی بعثت چونکہ ملت ابراہیمی پر ہوئی اور پھر دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–126
(123 ۔ 126) ۔ اوپر ذکر تھا کہ شیطان وسوسہ کے طور پر لا حاصل آرزوئیں انسان کے دل میں ڈالتا ہے ان آیتوں میں اس قسم کی بعض آرزوؤں کا ذکر ہے چناچہ تفسیر ابن ابی حاتم اور ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ وغیرہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اہل کتاب اپنے آپ کو افضل اور جنتی گنتے اور مسلمانوں سے اس بات پر جھگڑتے تھے اور بعض مسلمان بھی اسی طرح اہل کتاب سے جھگڑتے تھے اور مشرکین مکہ حشر کے قائم نہ ہونے پر طرح طرح کی خیالی باتیں کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 3۔ اور فرمایا کہ عمر بھرے برے علم کر کے اس کے مواخذہ سے بےخوف رہنا اور جو لوگ اللہ کی مرضی کے موافق نیک عمل کرتے…
Read the full tafseer →آیت 125
یعنی اس شخص کے دین سے بہتر کسی کا دین نہیں جس نے اخلاص اور اللہ کی طرف تمام اعضاء کی توجہ کو جمع کرلیا ہے۔ یہاں اخلاص سے مراد ہے چہرے کا اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جانا جو قلب کے خشوع، اس کی توجہ، اس کی انابت اور اس کے اخلاص پر دلالت کرتا ہے۔ اس اخلاص اور فرمانبرداری کے ساتھ ساتھ (وھو محسن) ” اور وہ نیکوکار بھی ہے “ وہ اس شریعت کا متبع ہو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو مبعوث فرمایا، اپنی کتابیں نازل کیں اور اسے اپنے خاص بندوں اور ان کے متبعین کے لئے لائحہ عمل قرار دیا۔ (واتبع ملۃ ابراہیم) ” اور ابراہیم کے دین کا پیرو ہے۔ “ یعنی اس نے حضرت ابراہیم کے دین اور شریعت کی اتباع کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
قول باری ہے ( واتبع ملۃ ابراہیم حنیفا و اتحذ اللہ ابراہیم خلیل اور یکسو ہو کر ابراہیم کے طریقے کی پیروی کی۔ اس ابراہیم کے طریقہ کی جسے اللہ نے اپنا دوست بنا لیا تھا) یہ آیت اس قول باری کی نظیر ہے ( ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا پھر ہم نے تمہیں وحی کی یکسو ہو کر ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو) یہ بات اس امر کی موجب ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مدت کی جو باتیں ثابت شدہ ہوں ہم پر ان کی پیروی لازم ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس سے یہ بات ضروری ہوتی جاتی ہے کہ حضور ﷺ کی شریعت وہی ہوجائے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت تھی۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ حضرت ابراہہیم علیہ…
Read the full tafseer →319 اخلاص نیت کی عظمت و اہمیت : یعنی نجات کیلئے اخلاص نیت اور عمل صالح کا پایا جانا بھی ضروری ہے۔ سو اسلام وجہ یعنی اپنے آپ کو اللہ پاک کے سپرد اور اس کے حوالے کردینے کے سلسلہ میں ایمان کے ساتھ دو اور چیزوں کا پایا جانا بھی ضروری ہے۔ ایک اخلاص کہ اس کی نیت خالص اللہ پاک کی رضا کیلئے ہو اور دوسرے اتباع یعنی یہ کہ اس کا عمل کتاب و سنت کی تعلیمات مقدسہ کے عین مطابق ہو۔ سو ایمان و یقین کے ساتھ ساتھ اخلاص اور اتباع دونوں کا پایا جانا بھی ضروری ہے۔ اس کے بغیر کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں شرف قبولیت نہیں پاسکتا۔ اور نہ ہی اس کے بغیر کسی عمل کی اس کے یہاں قدر و قیمت ہوسکتی ہے۔
320 ملت ابراہیمی اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
اسلام اور ملت ابراہیمی
تشریح : پچھلی آیات میں اصول زندگی، آداب اور مذہب کی حفاظت کا طریقہ کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسانوں میں بہترین انسان وہ ہے جو پوری طرح سے اللہ کا فرمانبردار بندہ بن کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ رب کریم کے اس قدر پسندیدہ اور مقبول بندے تھے کہ اللہ رب العزت نے ان کو اپنا خلیل بنا لیا تھا، خلیل گہرے اور مخلص دوست کو کہتے ہیں، اسی لیے ان کو خلیل اللہ (اللہ کا دوست) کہا جاتا ہے وہ اس قدر مقبول الٰہی کیسے ہوگئے ؟ اس لیے کہ انہوں نے اپنی زندگی، مال و دولت، بیوی، بیٹا اور گھر بار سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–126
رکوع نمبر 18 ۔ آیات 116 تا 126 ۔
اسرار و معارف :
ان اللہ لا یغفر ۔۔۔ محیطا۔
ایک اور بہت بڑی جماعت ان جہلا اور نادانوں کی ہے جنہوں نے اپنے آپ کو شرک جیسی مصیبت میں ڈال رکھا ہے اور وہ اوصاف جو صرف اللہ کو سزا وار ہیں دوسروں کو ان میں حصہ دار مانتے ہیں یا پھر وہ اطاعت جو صرف اللہ کا حصہ ہے اس میں دوسروں کو شریک کرلیتے ہیں یہی تین گروہ تھے علمائے یہود اور یہود و نصاری۔ جو ایمان نہ لائے تھے یا منافقین جو بظاہر ایمان لانے کا اظہار و اقرار کرتے مگر دل سے ایمان دار نہ تھے اور تیسرے مشرکین مکہ و عرب دنیا کی آبادی بلحاظ مذہب و ملت انہی تین گروہوں میں تقسیم کی جاسکتی تھی اور آج بھی ایسا ہی ہے سوائے اس…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی خالص توحید کی راہ اختیار کی اور ہر کام اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق کرتا ہے۔ احسان یہ ہے کہ عمل خالص اللہ کے لیے ہو اور سنت کے مطابق ہو، اگر خلوص نہیں ہے تو ریاکاری ہے اور سنت کے مطابق نہیں ہے تو بدعت ہے۔ (م، ع)6 جن کی دوستی میں کسی پہلو سے کوئی خامی نہ تھی، حضرت جندب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو آپ ﷺ کی وفات سے پہلے یہ فرماتے سنا اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی خلیل بنایا ا ہے جیسے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو خلیل بنادیا تھا۔ (مستد رک حاکم بسند صحیح )
Read the full tafseer →(4:125) احسن ۔ بہتر۔ افعل التفضیل کا صیغہ۔ من احسن۔ استفہام انکاری ہے یعنی کوئی بہتر نہیں ہوسکتا بلحاظ دین کے ۔۔ الخ۔
من اسلم وجھہ اللہ۔ جس نے اللہ کے آگے سرتسلیم خم کردیا۔
حنیفا۔ ایک طرف ہونے والا۔ حنف سے جس کے معنی گمراہی سے استقامت کی طرف مائل ہونے کے ہیں۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ جو کوئی ایک راہ حق پکڑلے اور سب باطل راہیں چھوڑ دے۔ حنیف کہلادے۔ حنیفا حال ہے اس کا ذوالحال وہ شخص ہے جس نے ملت ابراہیمی کی پیروی اختیار کی۔ واتبع ملۃ ابراہیم حنیفا۔ اور جس نے تمام ادیان باطلہ کو چھوڑ کر صرف دین ابراہیمی کا اتباع کیا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–126
آیت نمبر 124-126
لغات القرآن : ذکر اوانثی، مردوں میں سے یا عورتوں میں سے۔ نقیر، تل برابر۔ احسن دین، بہترین طریقہ، بہترین راستہ۔ خلیل، دوست۔
تشریح : یہود، نصاریٰ اور مسلم تینوں مذہب والے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بزرگ پیغمبر مانتے ہیں جن کا مقام بہت واجب التعظیم ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور خود حضور نبی کریم ﷺ سب ان کی اولادوں میں ہیں۔ اس آیت میں خاص خطاب بنی اسرائیل یعنی یہود دے ہے کہ اگر وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مانتے ہیں تو دیکھ لو ان کی خاص صفت توحید تھی یعنی وہ اللہ کو معبود مانتے تھے۔ وہ صرف اللہ سے امیدیں رکھتے تھے۔ اسی کا وہ خود رکھتے تھے۔ مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–126
ان آیتوں میں اس قسم کی بعض آرزؤں کا ذکر ہے جو اہل کتاب اپنے آپ کو افضل اور جنتی گنتے اور مسلمانوں سے اس بات پر جھگڑتے تھے اور بعضے مسلمان بھی اسی طرح اہل کتاب سے جھگڑتے تھے اور مشرکین مکہ حشر کے قائم نہ ہونے پر طرح طرح کی خیالی باتیں کرتے تھے۔ اس پر یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ عمر بھر برے عمل کرکے اس کے مواخذہ سے بےخوف رہنا اور جو لوگ اللہ کی مرضی کے موافق نیک عمل کرتے ہیں ان کی طرح عقبیٰ میں راحت کی توقع رکھنا بڑی نادانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–126
[77] مشرکین عرب کا دستور تھا کہ وہ خاص خاص جانوروں کے کان چیر کر اپنے فرضی معبودوں کے نام بطور نذر چھوڑ دیتے تھے۔ یہ کان کا چیرنا اس مقصد کے لئے ہوتا تھا کہ دوسرے ان کو نذر سمجھ کر ان سے تعرض نہ کریں۔
[78] اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کے بدلنے سے مراد اللہ کی اس فطرت کو بدلنا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تمام خلائق کو پیدا کیا ہے مثلاً توحید دین فطرت ہے لیکن شیطان اور اس کے ایجنٹوں نے اس کو شرک سے مسخ کیا ضمناً اس میں وہ ساری چیزیں آجائیں گی جو اللہ کی فطرت کی تبدیلی کے حکم میں ہیں، مثلاً مردوں اور عورتوں کو بانجھ بنانا، ضبط ولادت، مردوں کو خواجہ سرا بنانا اور اسی قبیل کی دوسری خرافات۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
اچھا دین :
(ف 1) اسلام کے معنی پوری توجہ اور پورے التفات کے ساتھ بارگاہ جلال میں جھک جانے کے ہیں ۔
اس کے سارے احکام پورا نظام عمل ‘ اطاعت و تسلیم کا مرقع ہے ۔
اس کی تعلیمات کا مقصد وعطر اسوہ ابراہیم (علیہ السلام) کی اشاعت ہے یعنی تمام خواہشات نام ونمود کو پس پشت ڈال کر کفر وطاغوت کی بھٹی میں جلنا ، ایمان و توحید کے قیام دین کے سلسلہ میں ہر مصیبت وابتلاء کو برداشت کرنا ، نمرود سے لڑجانا اور ناروا التہاب سے کھیل جانا ، ملت ابراہیمی نام ہے سرفروشی وجانبازی کا ‘ ایثار و خلوص کا ، توحید ومعرفت کی مئے آتشین کے جامہائے لبالب کا ۔
پس وہدین جو ہمہ جہاد وحریت ہو ، وہ ملت جو جانبازوں اور جانثاروں کا…
Read the full tafseer →ف 1 اور جو کوئی شخص کوئی نیک کام کے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ایسے نکو کار مومن جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور ان کے حق میں تل برابر بھی کمی نہیں کی جائے گی اور اس شخص سے بہتر اور اچھا کس کا دین اور کس کا طریقہ ہوسکتا ہے جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرتسلیم خم کردیا ہو اور اپنے آپ کو اس کے سپرد کردیا ہو اور وہ نکو کار اور مخلص ہو اور نیک روش کا پابند ہو اور وہ سب ملتوں سے یکسو ہو کر صرف ملت ابراہیم کا پیرو اور متبع ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو اپنا خالص دوست بنایا تھا۔ (تیسیر)
نقیر سے مراد بہت حقیر شئے کھجور کی گٹھلی پر جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
ف 7۔ یعنی فرمانبرداری اختیار کرے عقائد میں بھی اعمال میں بھی۔
8۔ دل سے فرمانبرداری اختیار کی ہوخالی مصلحت سے ظاہرداری نہ ہو۔
9۔ ملت ابراہیمی یعنی اسلام کا اتباع کرے۔
1۔ خلیل ہونا اعلی درجہ کا تقرب ومقبولیت ہے اور حضرت جندب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے مجھ کو بھی خلیل بنایا ہے جیسا ابراہیم (علیہ السلام) کو بنایا تھا۔
Read the full tafseer →ابراہیم (علیہ السلام) وہ شخصیت جو سب سے کٹ کر صرف اللہ کے ہو رہے تھے :
205: فرمایا یہ ملت ابراہیمی کی دعوت کسی گروہ بندی کی دعوت نہیں بلکہ یہ ساری گروہ بندیوں کو رخصت کردینے کی دعوت ہے۔ اس لئے گروہ بندیاں اس وقت بھی موجود تھیں لیکن تاریخ کو ورق گردانی کر کے دیکھو کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے کسی گروہ کا ساتھ دیا تھا ؟ تم پر روشن ہوجائے گا کہ وہ تو ہر طرف سے منہ موڑکر صرف ایک کا ہو کر رہ گیا تھا اس لئے اس کو ” حنیف “ کہا گیا۔ اس کا نتیجہ کیا رہا ؟ فرمایا اللہ نے ابراہیم کو خلیل بنا لیا۔ سبحان اللہ کیا لطف ہے اس فقرئہ قرآنی میں کہ واتخذاللہ ابراہیم خلیلا ” اللہ نے ابراہیم کو اپنا دوست بنا لیا۔ “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
The verse says:
وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّـهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا
And who is better in Faith than one who has surrendered his self to Allah and is good in deeds, and has followed the creed of Ibrahim, the upright...) (125)
It means that there can be no way better than the way of the person who is an embodiment of two virtues:
1. Firstly, 'surrenders his or her self to Allah.' In other words, acts for the good pleasure of Allah with all sincerity at one's command without ever contaminating one's deeds with hypocritical or…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–125
149. Satanic operations are based on making attractive promises and raising high hopes. Whenever Satan wants to mislead men, whether individually or collectively, he tries to inspire them with Utopian expectations. In some he inspires expectations of ecstatic pleasure and outstanding success in their individual lives. He inspires others with prospects for achieving national glory. To still others he promises the well-being of mankind. He makes people feel confident that they can arrive at the ultimate truth without the aid of revealed knowledge. He deludes others into believing that God…
Read the full tafseer →