An-Nisaa 4:124

An-Nisaa · from ayah 124

4:124

وَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَلَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا ۟وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَـنَّةَ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ نَقِيۡرًا

اور جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان بھی ہوگا تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کی تل برابر بھی حق تلفی نہ کی جائے گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And whoever does righteous deeds, whether male or female, while being a believer - those will enter Paradise and will not be wronged, [even as much as] the speck on a date seed.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 18 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:124

اور جو نیک عمل کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، بشر طیکہ ہو وہ مومن، تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور اُن کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان بھی ہوگا تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کی تل برابر بھی حق تلفی نہ کی جائے گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو ایمان واﻻ ہو مرد ہو یا عورت اور وه نیک اعمال کرے، یقیناً ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف برابر بھی ان کا حق نہ مارا جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو شخص نیک کام کرے گا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ مومن ہو، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف برابر بھی ان پر ظلم نہیں ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جو کچھ بھلے کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور ہو مسلمان تو وہ جنت میں داخل کیے جائیں گے اور انہیں تِل بھر نقصان نہ دیا جائے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو کوئی نیک اعمال کرے گا (خواہ) مرد ہو یا عورت درآنحالیکہ وہ مومن ہے پس وہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اوران کی تِل برابر (بھی) حق تلفی نہیں کی جائے گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جو شخص نیک کاموں میں سے (کوئی کام) کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور کھجور کی گٹھلی کے نقطے کے برابر ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو کوئی اچھے کام کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ ایمان لانے والا ہو تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ بھر بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو نیکی کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہے تو یہی لوگ ہیں جو جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہ ہوگی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو کوئی بھی نیک کام کرے گا خواہ وہ کوئی مرد ہو، یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ داخل ہونگے جنت میں (اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے) اور ان پر ذرہ برابر کوئی ظلم نہیں ہوگا

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو کوئی نیکیوں پر عمل کرے گا (خواہ) مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان ہو تو ایسے (سب) لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو کوئی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور ہو وہ صاحب ایمان تو یہ وہ لوگ ہیں جو جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی تل کے برابر بھی کوئی حق تلفی نہیں کی جائے گی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو نیک عمل کرے گا، خواہ مرد ہو، خواہ عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر بھی حق تلفی نہ ہونے پائے گی

— محترمہ رفعت اعجاز

Whoever does good and believes -whether he is male or female - such shall enter the Garden, and they shall not be wronged in the slightest.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Whoever, male or female, does good deeds and is a believer, then such people shall enter Paradise, and they shall not be wronged in the least.

— Muhammad Taqi Usmani

Whoever, male or female, does good deeds and is a believer, then such people shall enter Paradise, and they shall not be wronged in the least.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And whoever does righteous good deeds, male or female, and is a believer, such will enter Paradise and not the least injustice, even to the size of a Naqir, will be done to them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And whoso doeth good works, whether of male or female, and he (or she) is a believer, such will enter paradise and they will not be wronged the dint in a date-stone.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And whoever does righteous deeds, whether male or female, while being a believer - those will enter Paradise and will not be wronged, [even as much as] the speck on a date seed.

— Saheeh International

Any believer, male or female, who acts righteously, will enter Paradise and will not suffer the least bit of injustice.

— Muhammad Sarwar

And whoever does good deeds whether male or female and he (or she) is a believer-- these shall enter the garden, and they shall not be dealt with a jot unjustly.

— Muhammad Habib Shakir

And whosoever worketh of righteous works, male or female, and is a believer, these shall enter the Garden and shall not be wronged a speck.

— Abdul Majid Daryabadi

If any do deeds of righteousness,- be they male or female - and have faith, they will enter Heaven, and not the least injustice will be done to them.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:124

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 123–126

مصائب گناہوں کا کفارہ حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا کہ اہل کتاب اور مسلمان میں چرچہ ہونے لگا اہل کتاب تو یہ کہ کر اپنی فضلیت جتا رہے تھے کہ ہمارے نبی تمہارے نبی سے پہلے کے ہیں اور ہماری کتاب بھی تمہاری کتاب سے پہلے کی ہے اور مسلمان کہہ رہے تھے کہ ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں اور ہماری کتاب تمام اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اس پر یہ آیتیں اتریں اور مسلمانوں کی سابقہ دین والوں پر فضلیت بیان ہوئی، مجاہد سے مروی ہے کہ عرب نے کہا نہ تو ہم مرنے کے بعد جئیں گے نہ ہمیں عذاب ہوگا یہودیوں نے کہا صرف ہم ہی جنتی ہیں، یہی قول نصرانیوں کا بھی تھا اور کہتے تھے آگ ہمیں صرف چند دن ستائے گی، آیت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 120–125

سورة النِّسَآء 149 شیطان کا سارا کاروبار ہی وعدوں اور امیدوں کے بل پر چلتا ہے۔ وہ انسان کو انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر جب کسی غلط راستے کی طرف لے جانا چاہتا ہے تو اس کے آگے سبز باغ پیش کردیتا ہے۔ کسی کو انفرادی لطف و لذت اور کامیابیوں کی امید، کسی کو قومی سر بلندیوں کی توقع، کسی کو نوع انسانی کی فلاح و بہبود کا یقین، کسی کو صداقت تک پہنچ جانے کا اطمینان، کسی کو یہ بھروسہ کہ نہ خدا ہے نہ آخرت، بس مر کر مٹی ہوجانا ہے، کسی کو یہ تسلی کہ آخرت ہے بھی تو وہاں کی گرفت سے فلاں کے طفیل اور فلاں کے صدقے میں بچ نکلو گے۔ غرض جو جس وعدے اور جس توقع سے فریب کھا سکتا ہے اس کے سامنے وہی پیش کرتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ارشاد ہے ومن یعمل من الصلحت من ذکر اوانثی وھو مومن فاولئک یدخلن الجنة ولایظلمون نقیراً ”یعنی جو مرد یا عورت نیک عمل کرے بشرطیکہ اس عمل کے ساتھ ایمان بھی ہو تو ضرور جنت میں جائے گا اور ان کے اعمال کا بدلہ پورا پورا ملے گا جس میں ذرا کمی نہ کی جائے گی۔“ اس میں اشارہ فرمایا کہ اہل کتاب یا دوسرے غیر مسلم اگر ان کے اعمال نیک بھی ہوں تو چونکہ ان کا ایمان صحیح نہیں اس لئے وہ عمل مقبول نہیں اور مسلمانوں کا چونکہ ایمان بھی صحیح ہے اور عمل بھی نیک ہے اس لئے وہ کامیاب اور دوسروں سے افضل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبولبیت کا ایک معیار۔ چوتھی آیت میں افضیلت اور مقبولیت عنداللہ کا ایک معیار بتلایا گیا ہے،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 122–124

122۔ 124:۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْھَآ اَبَدًا ۭ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا ۭ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِيْلًا۔ لَيْسَ بِاَمَانِيِّكُمْ وَلَآ اَمَانِيِّ اَھْلِ الْكِتٰبِ ۭ مَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا يُّجْزَ بِهٖ ۙ وَلَا يَجِدْ لَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا۔ وَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُوْنَ نَقِيْرًا۔ نجات کی راہ ایمان و عمل صالح ہے نہ کہ جھوٹی آرزوئیں : یعنی شیطان کے وعدے اور اس کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

124۔ 1 جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے کہ اہل کتاب اپنے متعلق بڑی خوش فہمیوں میں مبتلا تھے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے پھر ان کی خوش فہمیوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے فرمایا کہ آخرت کی کامیابی محض امیدوں پر اور آرزؤں سے نہیں ملے گی اس کے لئے تو ایمان اور عمل صالح کی پونجی ضروری ہے۔ اگر اس کے برعکس نامہ اعمال میں برائیاں ہوں گی تو اسے ہر صورت میں اس کی سزا بھگتنی ہوگی، وہاں کوئی ایسا دوست یا مددگار نہیں ہوگا جو برائی کی سزا سے بچا سکے۔ آیت میں اہل کتاب کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بھی خطاب فرمایا ہے تاکہ وہ بھی یہود و نصاریٰ کی سی غلط فہمیوں، خوش فہمیوں اور عمل سے خالی آرزؤں اور تمناؤں سے اپنا دامن بچاکر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 119–126

72: کفار عرب بعض چوپایوں کے کان چیر کر بتوں کے نام پر وقف کردیتے تھے اور ایسے جانور سے کوئی فائدہ اٹھانے کو جائز نہیں سمجھتے تھے، اس باطل رسم کی طرف اشارہ ہے کہ اس پر شیطان عمل کر ارہا ہے، اور اللہ کی تخلیق میں تبدیلی سے مراد خود یہی عمل بھی ہوسکتا ہے کہ جانور کے کان خوامخواہ چیر دئے جائیں، اس کے علاوہ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے بعض ان کاموں کو بھی تخلیق میں تبدیلی قرار دے کر منع فرمایا ہے جو عورتیں اپنے حسن میں اضافہ کرنے کی غرض سے کیا کرتی تھیں، مثلاً جسم کے کسی حصے کو سوئیوں وغیرہ سے گود کر نشانات بنوانا، چہرے کے قدرتی رویں کو (جو عیب کی حد تک بڑھا ہوا نہ ہو) صاف کرنا اور دانتوں کے درمیان…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 123–125

(آیت) ” 123 تا 125۔ یہود اور نصاری کہتے تھے ۔ (آیت) ” (نحن ابناء اللہ واحباؤہ) ہم اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں ۔ اور یہ بھی کہتے تھے ۔ (آیت) ” لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ ) “ ہمیں آگ نہ چھوئے گی مگر چند دنوں کے لئے ۔۔۔۔۔۔ اور یہودی تو آج تک اپنے آپ کو اللہ کی مختار قوم کہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ بعض مسلمانوں کے دل میں بھی یہ بات آتی ہو کہ وہ ایک ایسی امت ہیں جسے تمام لوگوں کے لئے نکالا گیا ہے اور اللہ ان کی تمام غلطیوں کو معاف کر دے گا ‘ اس لئے کہ وہ مسلمان ہیں۔ چناچہ یہ آیت ایسے ہی حالات کی تردید کے لئے اتری کہ دونوں فریقوں کے یہ خیالات درست نہیں ہیں ۔ عملوں پر سب کا بیڑا پار ہوگا۔ تمام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 123–124

2 کتاب والوں یعنی یہودیوں اور نصرانیوں کو خیال تھا کہ ہم خاص بندے ہیں جن گناہوں پر خلقت پکڑی جائے گی ہم نہ پکڑے جائیں گے۔ ہمارے پیغمبر حمایت کر کے ہم کو بچا لیں گے اور نادان اہل اسلام بھی اپنے حق میں یہی خیال کرلیا کرتے ہیں۔ سو فرما دیا کہ نجات اور ثواب کسی کی امید اور خیال پر موقوف اور منحصر نہیں جو برا کرے گا پکڑا جائے گا کوئی ہو اللہ کے عذاب کے وقت کسی کی حمایت کام نہیں آسکتی اللہ جس کو پکڑے وہی چھوڑے تو چھوٹے۔ دنیا کی مصیبت اور بیماری کو دھیان کرلو اور جو کوئی عمل نیک کرے گا بشرطیکہ ایمان بھی رکھتا ہو سو ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور اپنی نیکیوں کا پورا ثواب پائیں گے۔ خلاصہ یہ کہ ثواب و…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 123–124

آیت 123 لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ وَلَآ اَمَانِیِّ اَہْلِ الْکِتٰبِ ط۔ تنبیہہ آگئی کہ تمہارے اندر بھی بلا جواز اور بےبنیاد خواہشات پیدا ہوجائیں گی۔ یہود و نصاریٰ کی طرح تم لوگ بھی بڑی دل خوش کن آرزوؤں wishful thinkings کے عادی ہوجاؤ گے ‘ شفاعت کی امید پر تم بھی حرام خوریاں کرو گے ‘ اللہ کی نا فرمانیاں جیسی کچھ انہوں نے کی تھیں تم بھی کرو گے۔ لیکن جان لو کہ اللہ کا قانون اٹل ہے ‘ بدلے گا نہیں۔ تمہاری خواہشات سے ‘ تمہاری آرزوؤں سے اور تمہاری تمناؤں سے کچھ نہیں ہوگا۔ بالکل اسی طرح جیسے اہل کتاب کی خواہشات سے کچھ نہیں ہوا۔ بلکہ : مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءً ا یُّجْزَ بِہٖلا اگرچہ اللہ کے ہاں اس قانون…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 123–124

163 سستی نجات کا عقیدہ :۔ شیطان جن راہوں سے انسان کو گمراہ کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر سستی نجات کا عقیدہ ہے۔ تو اس میدان میں مسلمان یہود و نصاریٰ سے بھی دو ہاتھ آگے ہی ہوں گے جنہوں نے پیروں کی سفارش کے علاوہ اس دنیا میں بھی بہشتی دروازے بنا رکھے ہیں کہ جو شخص اس دروازے سے اس پیر کے عرس کے دن گزر گیا وہ بہشتی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایسی خرافات کی تردید کرتے ہوئے نجات کی صحیح راہ بیان فرمائی اور وہ راہ اللہ تعالیٰ کا قانون جزا و سزا ہے۔ یہ قانون قرآن کریم میں متعدد مقامات پر مذکور ہے اور اس قانون کی قابل ذکر دفعات یہ ہیں : (1) قانون جزاء وسزاء کی دفعات :۔ ہر انسان کو صرف وہی کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

325 ۔ (کہ ان کی کوئی نیکی لکھنے سے جزئا یا کلا، رہ جائے) (آیت) ” وھو مومن “۔ ایمان کی قید بہت ضروری ہے۔ ہر عمل کے واقعۃ صالح ہونے کے لئے لازم ہے کہ محرک عمل بھی صحیح ہو۔ ریا، نمایش یا وہم پرستی مقصود نہ ہو۔ اسی اخلاص نیت کا نام اصطلاح شریعت میں ایمان ہے۔ اور بغیر اخلاص نیت کے کوئی مقبول نہیں اسکے بغیر عمل صالح صرف صورۃ ہی صالح ہوگا۔ حقیقت صالحیت سے خالی۔ یہیں سے اس بحث کا بھی خاتمہ ہوا جاتا ہے جو بعض سطحی دماغ والوں نے آج کل پیدا کر رکھی ہے یعنی آیا کافروں کے اعمال صالحہ قبول ہوں گے ؟ جواب یہ ہے کہ بغیر اخلاص نیت یا ایمان کے کسی عمل پر عمل صالح کا اطلاق ہی درست نہیں، تو اس کے اجر کا کیا سوال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 116–126

آیت نمبر 116 تا 126 ترجمہ : اللہ تعالیٰ قطعاً معاف نہ کرے گا اس بات کو کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے (ہاں) شرک کے علاوہ گناہ جس کے چاہے گا معاف کردے گا، اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ حق سے دور جا پڑتا ہے مشرک اللہ کو چھوڑ کر عورتوں یعنی (دیویوں) کی بندگی (پوجا) کرتے ہیں، جیسا کہ لات کی اور عزّیٰ کی اور مناة کی، ان کی عبادت نہیں ہے مگر سرکش شیطان کی عبادت جو حد طاعت سے خارج ہونیوالا ہے بتوں کی عبادت میں مشرکوں کے شیطان کی بات ماننے کی وجہ سے اور وہ ابلیس ہے، اللہ نے اس پر لعنت فرمائی یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کردیا، اور وہ شیطان کہہ چکا ہے کہ میں تیرے بندوں میں سے اپنا مقرر حصہ لے کر رہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن یعمل من الصلحت . اور جو شخص بھی کوئی نیک عمل کرے گا من الصلحت میں من تبصیضیہ ہے یعنی کچھ بھی نیکی کرے گا کیونکہ دوسری آیت آئی ہے مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ ۔ من ذکر او انثی . یعنی کرنے والا مرد ہو یا عورت یا وہ نیکی مرد سے صادر ہو یا عورت سے۔ اوّل صورت میں یہ ٹکڑا یَعْمَلْکی ضمیر سے حال ہوگا اور مَنْکا استعمال مَنْ یعملکے ابہام کو واضح کرنے کے لئے ہوگا (یعنی من تبیینیہ ہوگا) اور دوسری صورت میں الصلحت سے حال ہوگا اور منابتدائیہ ہوگا۔ بہرحال دونوں صورتوں میں لفظ او سے من یعملکے حکم کے عموم کی تاکید ہوگی۔ بعض علماء نے بیان کیا کہ من ذکر او انثی میں جو نیک عمل کرنے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(124) اور مرد اور عورتوں میں سے جو اطاعت خداوندی کرے گا، بشرطیکہ وہ صدق دل کے ساتھ اللہ پر ایمان رکھنے والا ہوگا تو گٹھلی کے چھلکے برابر بھی اس کی نیکیوں میں سے کچھ نہیں کیا جائے گا۔ شان نزول : ومن یعمل من الصلحت“۔ (الخ) نیز اسی طرح قتادہ ؓ ، ضحاک ؒ ، سدی ؒ اور ابوصالح ؒ سے بھی روایت نقل کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سب دین والوں نے باہم فخر کیا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ کچھ لوگ یہودیوں کے اور کچھ عیسائیوں کے اور کچھ مسلمانوں کے بیٹھے یہ لوگ کہنے لگے کہ ہم افضل ہیں اور انہوں نے کہا کہ ہم افضل ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور نیز مسروق سے اس طرح روایت نقل کی ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی تو اہل…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

نقیراً : نقیر اس چھوٹے سے گڑھے کو کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی کی پشت پر ہوتا ہے، یعنی مرد ہو یا عورت اگر ایمان اور عمل صالح موجود ہے تو جنت میں جائیں گے اور ان پر تھوڑے سے تھوڑا ظلم بھی نہیں کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 124۔ ایمان کو شرط قرار دیا، کیونکہ مشرکین کعبہ کی خدمت، حاجیوں کو کھانا کھلانے اور مہمانوں کی مہمان نوازی کرنے پر اتراتے تھے اور اہل کتاب اپنی سبقت اور اپنے قول (آیت) ” نحن ابنؤااللہ واحبآؤہ “۔ (المائدہ : 18) کے ساتھ ڈینگیں مارتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ بغیر ایمان کے اچھے اعمال قبول نہیں۔ (آیت) ” یدخلون الجنۃ “ کو ابوعمرو اور ابن کثیر نے مجہول کا صیغہ پڑھا ہے باقی لوگوں نے معروف کا صیغہ پڑھا ہے یعنی وہ اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں داخل ہوں گے، نقیر کا ذکر پہلے گزر چکا ہے اس سے مراد وہ نکتہ ہے جو گٹھلی کی پیٹھ میں ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) عبد بن حمید و ابن جریر نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” لیس بامانیکم ولا امانی اہل الکتب “ نازل ہوئی تو اہل کتاب نے کہا تم اور ہم برابر ہیں پھر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ومن یعمل من الصلحت من ذکر او انثی وھو مؤمن “ تو مسلمان ان پر غالب آگئے۔ (2) ابن المنذرو ابن جریر نے سدی (رح) سے لفظ آیت ” ومن یعمل من الصلحت من ذکر او انثی وھو مؤمن “ کے بارے میں روایت کیا کہ ایمان کو قبول کرنے سے انکار فرمایا گیا مگر نیک عمل کے ساتھ۔ (3) ابن المنذر و ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابن عمران سے ملے اور ان سے اس آیت لفظ آیت ” ومن یعمل من الصلحت “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَمَنْ : اور جو ] [ یَّـعْمَلْ : کرے گا ] [ مِنَ الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں میں سے ‘] [ مِنْ ذَکَرٍ : مذکر ہو ] [ اَوْ اُنْثٰی : یا مؤنث ‘] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ ہُوَ : وہ ] [ مُؤْمِنٌ : مومن ہو ] [ فَاُولٰٓئِکَ : تو وہ لوگ ] [ یَدْخُلُوْنَ : داخل ہوں گے ] [ الْجَنَّۃَ : جنت میں ] [ وَلاَ یُظْلَمُوْنَ : اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ] [ نَقِیْرًا : اِک تل بھر بھی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مومنین مومنات کے لیے بھر پور ثواب : پھر فرمایا (وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی) (الایۃ) اس آیت کے بارے میں لباب النقول میں حضرت مسروق تابعی سے نقل کیا ہے کہ جب آیت کریمہ (لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ وَ لَآ اَمَانِیِّ اَھْلِ الْکِتٰبِ ) نازل ہوئی تو اہل کتاب نے مسلمانوں سے کہا کہ پھر ہم اور تم برابر ہوگئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جس میں یہ بتادیا کہ جو بھی کوئی شخص مرد ہو یا عورت نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ اس میں لفظ مومن بڑھا کر یہ بتادیا کہ اہل کتاب جب تک مومن نہ ہوں گے انہیں کسی عمل کا کوئی ثواب نہ ملے گا۔ اور وہ جنت میں داخل نہ ہوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 116–126

شرک اور اہل شرک کی مذمت اور رسوم جاہلیت کا ابطال۔ قال تعالی، ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ محیطا۔ یہ آخری آیت ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی۔ آیت۔ بھی طعمہ کے بارے میں نازل ہوئی جب اس نے دیکھا کہ اللہ نے اس کا پردہ فاش کردیا تو مرتد ہو کر چلا گیا ایک شخص کی دیوار میں نقب لگایا اتفاقا دیوار اس پر گر پڑی اور وہ مرگیا اب اس کے بعد اللہ شرک کی بابت ارشاد فرماتے ہیں کہ شرک تو بغیر توبہ کے کسی حال میں نہیں بخشا جاتا اور البتہ شرک اور کفر کے علاوہ اور گناہ بغیر توبہ کے بھی بخشے جاتے ہیں پس اگر طعمہ مرتد نہ ہوتا اور مشرکین کے ساتھ جاکرنہ ملتا تو ممکن تھا کہ چوری وغیرہ کا گناہ بغیر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 121–124

85 یہ مشرکین اور شیطان کی اطاعت کرنے والوں کے لیے تخویف اخروی ہے اور وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا لصّٰلِحٰتِ سے توحید کو ماننے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ لَیْسَ بِاَ مَانِیَّکُمْ وَ لَا اَمَانِیِّ اَھْلِ الْکِتٰبِ الخ یہ مومنین اور اہل کتاب کو زجر ہے کہ تمہاری اور اہل کتاب کی خواہشات اور آرزؤوں کے احکام کی تعمیل پر ہے اس لیے باہمی تفاخر سے کوئی فائدہ نہیں۔ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْءاً تخویف اخروی اور وَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ سے بشارت اخروی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 123–126

ربط آیات گزشتہ درس میں شرک کی مذمت اور شیطان کی دشمنی ، کارگزاری اور بہکاوے کے مختلف طریقوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ شرک تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اور شیطان انسان کو گمراہ کرنا ے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتا ہے۔ شیطان کے اتباع میں شرک کرنے والے لوگ دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ اس سے پہلے منافقین اور ان کی حمایت کرنے والوں کی مذمت بھی بیان ہوچکی ہے اہل کتاب گمراہ ہو کر غلط راستے پر چل نکلے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بھی متنبہ کیا کہ اگر ان میں بھی اہل کتاب جیسی خرابیاں پیدا ہوگئیں تو وہ بھی ناکام رہیں گے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ کسی جماعت یا فرقے کے ساتھ خالی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَھُوَمُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَلَا يُظْلَمُوْنَ نَقِيْرًا۝ 124 ذَّكَرُ ( مذکر) والذَّكَرُ : ضدّ الأنثی، قال تعالی: وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثى [ آل عمران/ 36] ، وقال : آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] ، وجمعه : ذُكُور وذُكْرَان، قال تعالی: ذُكْراناً وَإِناثاً [ الشوری/ 50] ، وجعل الذَّكَر كناية عن العضو المخصوص . والمُذْكِرُ : المرأة التي ولدت ذکرا، والمِذْكَار : التي عادتها أن تذكر، وناقة مُذَكَّرَة : تشبه الذّكر في عظم خلقها، وسیف ذو ذُكْرٍ ، ومُذَكَّر : صارم، تشبيها بالذّكر،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 123–126

ترکیب : لیس کا اسم اور خبر دونوں محذوف اور بامانیکم خبر سے متعلق ہے اے لیس الامر منوطا بامانیکم۔ من یعمل سوئً یجزبہ جواب ولا یجد معطوف ہے یجز پر۔ من ذکر او انثی بیان ہے من کا ومن مبتداء احسن ممیز دینا تمیز ممن متعلق ہے احسن افضل التفضیل سے وھو محسن جملہ حال ہے فاعل اسم سے واتبع معطوف ہے اسلم پر پھر یہ سب مجموعہ خبر ہے۔ تفسیر : پہلی آیت میں تھا وما یعدھم الشیطان الا غرورا کہ ان لوگوں سے شیطان جو کچھ وعدہ کرتا ہے ٗ فریب کا کرتا ہے۔ عام ہے کہ شیطان سے ابلیس مراد یا قوت وہمیہ اور اس کے وعدوں میں خیالات باطلہ کہ جو ہر ایک قوم میں خلاف حق چلے آتے ہیں مثلاً عیسائیوں میں یہ ہے کہ تمام گناہ حضرت مسیح…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَلَا یُظْلِمُوْنَ نَقِیْرًا ” اور جو نیکی کرے گا خواہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہے یہی لوگ ہیں جو جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہ ہوگی۔ “ (النسآء : 124) اس آیت کریمہ نے پہلی آیت کریمہ کے مضمون کو مکمل کیا ہے۔ اس میں صرف یہ فرمایا گیا تھا کہ جو شخص بھی کوئی برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ لیکن ایمان کا ذکر نہیں کیا۔ اور اس سے یہ غلط فہمی ہوسکتی تھی کہ اس معاملے میں کافر اور مومن اور سابقہ اہل کتاب شاید سب برابر ہیں۔ کیونکہ بات صرف عمل کی کی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : مومنوں کو دوبارہ تسلی دی گئی ہے کہ نیک عمل کرنے والا ایماندار خواہ مرد ہو یا عورت اسے بہترین جزا ملے گی۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ذات پات اور مذکر و مؤنث کا کوئی امتیاز نہیں۔ اعمال کا انجام ذکر کرنے کے بعد حسب معمول صالح کر دار لوگوں کا صلہ بیان کرتے ہوئے مرد و زن کو تسلی دی گئی ہے کہ نیک عمل کرنے والا مرد ہو یا عورت بشرطیکہ اس نے نیک عمل حالت ایمان میں کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخشے گا اور اس کو جنت میں ضرور داخل فرمائے گا اور ان کے اجر وثواب میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ اسی بات کو تفصیل کیساتھ یوں بیان فرمایا ہے۔ ” بیشک مسلمان مرد اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 124 : وَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَہُوَ مُؤْمِنٌ (جو شخص بھی کوئی نیک عمل کرے گا۔ خواہ وہ مرد ہو یا عورت اس حال میں کہ وہ مومن ہو) ۔ نحو : ہو مومن یہ حال ہے۔ اور پہلا مِنْ ۔ تبعیضیہ اور دوسرا من یعمل کے ابہام کو دور کرنے کے لئے ہے۔ نکتہ : اس آیت سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اعمال ایمان کا جز نہیں ہیں۔ ایمان دخول جنت کا اصل سبب ہے : فَاُولٰٓپکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ (پس وہ جنت میں داخل ہونگے) قراءت : مکی ٗ ابوعمرو اور ابوبکر رحمہم اللہ نے یُدْخَلون پڑھا ہے۔ وَلَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا (اور ذرہ بھر بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی) نَقِیْر وہ گڑھا جو گٹھلی کی پشت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 124۔: (آیت)” من یعمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔ نقیرا “۔ کھجور کی مقدار نقیر وہ گڑھا جو کھجور کی گٹھلی پر ہوتا ہے ، ابن کثیر (رح) ، ابو جعفر (رح) ، اور اہل بصرہ اور ابوبکر صدیق ؓ کے نزدیک ” یدخلون “ یاء کے ضمہ اور خاء کے فتحہ کے ساتھ اور سورة مریم سورة حم المؤمن میں اسی طرح ہے ۔ ابوعمرو ؓ نے ” یدخلونھا “۔ پڑھا ہے سورة فاطر میں اور دوسرے قراء نے یاء کے فتحہ اور خاء کے ضمہ کے ساتھ نقل کیا ہے ، اعمش نے ابی الضحی سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کیا ، فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتاب من یعمل سوء یجزبہ “۔ اہل کتاب نے کہا ہم اور تم اس معاملے میں برابر ہو، اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 123–126

(123 ۔ 126) ۔ اوپر ذکر تھا کہ شیطان وسوسہ کے طور پر لا حاصل آرزوئیں انسان کے دل میں ڈالتا ہے ان آیتوں میں اس قسم کی بعض آرزوؤں کا ذکر ہے چناچہ تفسیر ابن ابی حاتم اور ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ وغیرہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اہل کتاب اپنے آپ کو افضل اور جنتی گنتے اور مسلمانوں سے اس بات پر جھگڑتے تھے اور بعض مسلمان بھی اسی طرح اہل کتاب سے جھگڑتے تھے اور مشرکین مکہ حشر کے قائم نہ ہونے پر طرح طرح کی خیالی باتیں کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 3۔ اور فرمایا کہ عمر بھرے برے علم کر کے اس کے مواخذہ سے بےخوف رہنا اور جو لوگ اللہ کی مرضی کے موافق نیک عمل کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 124 یعنی معاملہ، نجات اور تزکیہ تمہاری اور اہل کتاب کی خواہشات پر مبنی نہیں۔ (الامانی) سے مراد ایسی خواہشات اور تمنائیں ہیں جو عمل سے عاری اور محض دعویٰ ہوں۔ اگر ان تمناؤں کا مقابلہ ان جیسی دیگر تمناؤں سے کیا جائے تو یہ ان کی جنس میں شمار ہوں گی۔ ہر امر میں تمنا اور آرزو کا یہی معاملہ ہے۔ تب ایمان اور ابدی سعادت محض خواہشات اور آرزؤں سے کیسے حاصل ہوسکتی ہے ؟ اہل کتاب کی جھوٹی خواہشات اور تمناؤں کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ کرچکا ہے، وہ کہا کرتے تھے : (لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودآ اونصریٰ تلک امانبھم) (البقرہ :111/2) ” یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی شخص جنت میں نہیں جائے گا یہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 119–124

قول باری ہے ( ولا مرنھم فلیبتکن اذان الانعام میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے) تبتیک تقطیع یعنی ٹکڑے ٹکڑے کرنے کو کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے ” یبت کہ تبتیکا ( اس ینے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے یا کر ڈالے گا) اس مقام پر اس سے مراد بحیرہ ( ایسی اونٹنی جو پانچ دفعہ بچے جن چکی ہو اور آخری بار اس کے ہاں نر بچہ پیدا ہو اس کا کان چیر کر اسے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا پھر نہ کوئی اس پر سوار ہوتا، نہ اس کا اون اتارا جاتا، نہ اس کا دودھ پیا جاتا اور نہ اسے ذبح کیا جاتا اسے حق تھا کہ جس گھاٹ سے چاہے پانی پیے اور جس کھیت سے چاہے چرے) کا کان چیرنا ہے۔ قتادہ عکرمہ اور سدی سے یہی مروی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

317 ایمان قبولیت عنداللہ کیلئے شرط اول ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو بھی کوئی نیک عمل کرے گا خواہ وہ کوئی مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو۔ کیونکہ ایمان کے بغیر کیا جانے والا کوئی بھی عمل آخرت میں فائدہ نہیں دے سکے گا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں قبولیت کیلئے ایمان شرط اول ہے۔ اس کے بغیر کسی بھی عمل کی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں کہ مدار قبولیت ونجات ایمان صحیح ہی پر ہے۔ بہرکیف عمل صالح کے بارے میں بھی یہ اصول اور ضابطہ کلی بیان فرمایا گیا کہ جو بھی کوئی نیک عمل کریگا خواہ وہ کوئی مرد ہو یا عورت اس کا عمل ضائع نہیں جائیگا بشرطیکہ وہ ایماندار ہو۔ سو اس کے نتیجے میں ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 123–124

جھوٹی آرزوؤں کا سہارا ؟ تشریح : عذاب اور ثواب والی اس قسم کی آیات سن کر یہودی اور عیسائی کہتے تھے کہ ہم تو اللہ کے خاص بندے ہیں کیونکہ یہودی اپنے آپ کو اللہ کے بیٹے کہتے تھے (نعوذ باللہ) اور عیسائیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ مسیح (علیہ السلام) نے سولی پر چڑھ کر ان کے تمام گناہوں کا کفارہ ادا کردیا ہے، لہٰذا بقول ان کے ان کو عذاب نہیں ہوگا یا چند دن کے بعد وہ جہنم سے باہر آجائیں گے۔ تو اللہ رب العزت نے ان کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا : کہ عمل کا بدلہ ضرور اور پورا پورا دیا جائے گا۔ خواہ عورت ہو یا مرد، جو اللہ پر ایمان لائے گا، اس کے بتائے ہوئے راستوں پر چلے گا اور پوری زندگی اللہ رب العزت کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 116–126

رکوع نمبر 18 ۔ آیات 116 تا 126 ۔ اسرار و معارف : ان اللہ لا یغفر ۔۔۔ محیطا۔ ایک اور بہت بڑی جماعت ان جہلا اور نادانوں کی ہے جنہوں نے اپنے آپ کو شرک جیسی مصیبت میں ڈال رکھا ہے اور وہ اوصاف جو صرف اللہ کو سزا وار ہیں دوسروں کو ان میں حصہ دار مانتے ہیں یا پھر وہ اطاعت جو صرف اللہ کا حصہ ہے اس میں دوسروں کو شریک کرلیتے ہیں یہی تین گروہ تھے علمائے یہود اور یہود و نصاری۔ جو ایمان نہ لائے تھے یا منافقین جو بظاہر ایمان لانے کا اظہار و اقرار کرتے مگر دل سے ایمان دار نہ تھے اور تیسرے مشرکین مکہ و عرب دنیا کی آبادی بلحاظ مذہب و ملت انہی تین گروہوں میں تقسیم کی جاسکتی تھی اور آج بھی ایسا ہی ہے سوائے اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی اصل چیز ایمان لاکر نیک عمل کرنا جس کے عمل نیک ہوں گے وہ جنت میں جائے گا اور جن کے عمل برے ہوں گے ان کو برے اعمال کی سزا مل کر رہے گی چاہے وہ نام کا مسلمان ہو یا یہودی نصرانی ہو مسروق کہتے ہیں ہو یا یہودی نصرانی ہو مسروق کہتے ہیں کہ مسلمان اور اہل کتاب آپس میں فخر کرنے لگے مسلمان کہتے کہ ہم تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں۔ اور اہل کتاب کئے کہ ہم تمہاری بہ نسبت راہ حق پر ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی (ابن جریر، قرطبی) حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ برا عمل کرے گا اس کی سزا پائے گا تو مسلمان کو سخت تشویش ہوئی۔ نبی و نے فرمایا نیک اعمال میں کوشش کرو ( سددواقابوا) مسلمان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 124–126

آیت نمبر 124-126 لغات القرآن : ذکر اوانثی، مردوں میں سے یا عورتوں میں سے۔ نقیر، تل برابر۔ احسن دین، بہترین طریقہ، بہترین راستہ۔ خلیل، دوست۔ تشریح : یہود، نصاریٰ اور مسلم تینوں مذہب والے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بزرگ پیغمبر مانتے ہیں جن کا مقام بہت واجب التعظیم ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور خود حضور نبی کریم ﷺ سب ان کی اولادوں میں ہیں۔ اس آیت میں خاص خطاب بنی اسرائیل یعنی یہود دے ہے کہ اگر وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مانتے ہیں تو دیکھ لو ان کی خاص صفت توحید تھی یعنی وہ اللہ کو معبود مانتے تھے۔ وہ صرف اللہ سے امیدیں رکھتے تھے۔ اسی کا وہ خود رکھتے تھے۔ مگر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 123–126

ان آیتوں میں اس قسم کی بعض آرزؤں کا ذکر ہے جو اہل کتاب اپنے آپ کو افضل اور جنتی گنتے اور مسلمانوں سے اس بات پر جھگڑتے تھے اور بعضے مسلمان بھی اسی طرح اہل کتاب سے جھگڑتے تھے اور مشرکین مکہ حشر کے قائم نہ ہونے پر طرح طرح کی خیالی باتیں کرتے تھے۔ اس پر یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ عمر بھر برے عمل کرکے اس کے مواخذہ سے بےخوف رہنا اور جو لوگ اللہ کی مرضی کے موافق نیک عمل کرتے ہیں ان کی طرح عقبیٰ میں راحت کی توقع رکھنا بڑی نادانی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 119–126

[77] مشرکین عرب کا دستور تھا کہ وہ خاص خاص جانوروں کے کان چیر کر اپنے فرضی معبودوں کے نام بطور نذر چھوڑ دیتے تھے۔ یہ کان کا چیرنا اس مقصد کے لئے ہوتا تھا کہ دوسرے ان کو نذر سمجھ کر ان سے تعرض نہ کریں۔ [78] اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کے بدلنے سے مراد اللہ کی اس فطرت کو بدلنا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تمام خلائق کو پیدا کیا ہے مثلاً توحید دین فطرت ہے لیکن شیطان اور اس کے ایجنٹوں نے اس کو شرک سے مسخ کیا ضمناً اس میں وہ ساری چیزیں آجائیں گی جو اللہ کی فطرت کی تبدیلی کے حکم میں ہیں، مثلاً مردوں اور عورتوں کو بانجھ بنانا، ضبط ولادت، مردوں کو خواجہ سرا بنانا اور اسی قبیل کی دوسری خرافات۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 123–124

معیار نجات : (ف 1) اسلام اور دیگر مذاہب کے تصور نجات میں بڑا فرق ہے ، سب مذاہب میں نجات کہتے ہیں ‘ روحانی مسرت اور عقبی کی کامیابی کو مگر اسلام کے نزدیک نجات ایک ارتقائی صورت فلاح کا نام ہے جس میں ولادت سے لے کر موت کی آغوش تک کا سامان آسائش پہناں ہے وہ مذہب جو عقبی کی بخششوں کا تو ذمہ دار ہے ، مگر دنیا کی کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگاتا ‘ وہ غلط ہے ، اسلام کہتا ہے ، تمہاری نجات اسی دنیا سے شروع ہوتی ہے ، جو یہاں خوش ہے اس کے لئے آسمانوں میں بھی مسرت بےپایاں کے سامان موجود ہیں اور جو یہاں مطمئن نہیں اس میں قطعا استعداد نہیں کہ وہ آخری کی نعمت ہائے جادوانی سے بہرہ وافر حاسل کرسکے ۔ یہ وجہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 123–124

ف 3 مسلمانو ! آخرت کی کامیابی اور نجات نہ تو تمہاری آرزوئوں پر موقوف ہے اور نہ اہل کتاب کی تمنائوں پر موقوف ہے بلکہ ضابطہ یہ ہے کہ جو شخص بھی کوئی برا کام کرے گا وہ اس برے کام کی سزا دیا جائے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ اپنا کوئی حمایتی پائے گا اور نہ مدد گار مطلب یہ ہے کہ آخرت کے متعلق بےبنیاد امیدیں قائم کرنے سے کوئی فائدہ نہیں قاعدہ یہ ہے کہ جو شخص بھی کوئی برا کام کرے گا خواہ وہ برا کام عقیدے سے تعلق رکھتا ہو خواہ اعمال سے تعلق رکھتا ہو۔ بہرحال اس برے کام کا اس کو بدلا دیا جائے گا اور ایسے شخص کو کوئی حمایت کرنے والا اور اور کوئی مدد کرنے والا بھی میسر نہ آئے گا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 6۔ یہ جو مومن کی قید لگائی گئی اس کا مصداق ہر فرقہ نہیں بلکہ صرف وہ فرقہ ہے جس کا دین خدا تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہونے میں سب سے اچھا ہو اور ایسافرقہ صرف اہل اسلام ہیں جس کی دلیل یہ ہے کہ ان میں یہ صفات ہیں اطاعت تامہ اخلاص اتباع ملت ابراہیم۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اچھے عمل کا بدلہ اچھا ہوتا ہے اور اچھا عمل وہی ہے جو ایمان کے ساتھ ہو : 203: یہاں اس بات کو واضح کردیا کہ اعمال صالحہ کی قبولیت کے لئے ایمان کا ہونا شرط اولین ہے۔ آپ خود دیکھئے کہ ایک آدمی ایک قطعہ زمین کو ہموار کرتا ہے۔ اس سے جڑی بوٹی اکھاڑکر باہر پھینکتا ہے ، پھر اس کی آبپاشی کرتا ہے اور پھر عین وقت پر اس میں ہل چلا دیتا ہے اور رات دن اس کی نگرانی میں مصروف رہتا ہے لیکن اس میں وقت پر بیج نہیں ڈالتا تو کیا اس کی طویل محنت ومشقت کا کوئی نتیجہ برامد ہوگا ؟ جب بیج ہی نہیں تو ساری محنت رائیگاں جائے گی اس طرح اگر ایمان کا تخم نہیں تو دنیا جہان کی ساری نیکیاں برباد ہوجائیں گی اس لئے کہ ان میں با…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Verse 124 says: وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِن ذَكَرٍ‌ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرً‌ا ﴿124﴾. It means a man or woman who does good deeds, subject to the condition that such deeds issue forth from true faith, shall certainly go to Paradise fully rewarded for all his or her deeds without being wronged in the least. The hint given here is that the People of the Book or other non-Muslims may also have some good deeds of their own, but, since their faith is not sound, therefore, those deeds of theirs are not acceptable. As for…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 120–125

149. Satanic operations are based on making attractive promises and raising high hopes. Whenever Satan wants to mislead men, whether individually or collectively, he tries to inspire them with Utopian expectations. In some he inspires expectations of ecstatic pleasure and outstanding success in their individual lives. He inspires others with prospects for achieving national glory. To still others he promises the well-being of mankind. He makes people feel confident that they can arrive at the ultimate truth without the aid of revealed knowledge. He deludes others into believing that God…

Read the full tafseer →