Explained with ayahs 123–126
مصائب گناہوں کا کفارہ
حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا کہ اہل کتاب اور مسلمان میں چرچہ ہونے لگا اہل کتاب تو یہ کہ کر اپنی فضلیت جتا رہے تھے کہ ہمارے نبی تمہارے نبی سے پہلے کے ہیں اور ہماری کتاب بھی تمہاری کتاب سے پہلے کی ہے اور مسلمان کہہ رہے تھے کہ ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں اور ہماری کتاب تمام اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اس پر یہ آیتیں اتریں اور مسلمانوں کی سابقہ دین والوں پر فضلیت بیان ہوئی، مجاہد سے مروی ہے کہ عرب نے کہا نہ تو ہم مرنے کے بعد جئیں گے نہ ہمیں عذاب ہوگا یہودیوں نے کہا صرف ہم ہی جنتی ہیں، یہی قول نصرانیوں کا بھی تھا اور کہتے تھے آگ ہمیں صرف چند دن ستائے گی، آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–125
سورة النِّسَآء 149
شیطان کا سارا کاروبار ہی وعدوں اور امیدوں کے بل پر چلتا ہے۔ وہ انسان کو انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر جب کسی غلط راستے کی طرف لے جانا چاہتا ہے تو اس کے آگے سبز باغ پیش کردیتا ہے۔ کسی کو انفرادی لطف و لذت اور کامیابیوں کی امید، کسی کو قومی سر بلندیوں کی توقع، کسی کو نوع انسانی کی فلاح و بہبود کا یقین، کسی کو صداقت تک پہنچ جانے کا اطمینان، کسی کو یہ بھروسہ کہ نہ خدا ہے نہ آخرت، بس مر کر مٹی ہوجانا ہے، کسی کو یہ تسلی کہ آخرت ہے بھی تو وہاں کی گرفت سے فلاں کے طفیل اور فلاں کے صدقے میں بچ نکلو گے۔ غرض جو جس وعدے اور جس توقع سے فریب کھا سکتا ہے اس کے سامنے وہی پیش کرتا ہے اور…
Read the full tafseer →معارف و مسائل
مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان ایک مفاخرانہ گفتگو
لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتب الخ ان آیات میں پہلے ایک مکالمہ اور گفتگو کا ذکر ہے جو مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان ہوئی ہے اور پھر اس مکالمہ پر محاکمہ کیا گیا ہے، فریقین کو صحیح راہ ہدایت بتلائی گئی، آخر میں اللہ کے نزدیک مقبول اور افضل و اعلی ہونے کا ایک معیار بتلا دیا گیا جس کو سامنے رکھا جائے تو کبھی انسان غلطی اور گمراہی کا شکار نہ ہو۔
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان مفاخرت کی گفتگو ہونے لگی، اہل کتاب نے کہا کہ ہم تم سے افضل و اشرف ہیں، کیونکہ ہمارے نبی تمہارے نبی سے پہلے اور ہماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–124
122۔ 124:۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْھَآ اَبَدًا ۭ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا ۭ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِيْلًا۔ لَيْسَ بِاَمَانِيِّكُمْ وَلَآ اَمَانِيِّ اَھْلِ الْكِتٰبِ ۭ مَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا يُّجْزَ بِهٖ ۙ وَلَا يَجِدْ لَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا۔ وَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُوْنَ نَقِيْرًا۔
نجات کی راہ ایمان و عمل صالح ہے نہ کہ جھوٹی آرزوئیں : یعنی شیطان کے وعدے اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
122۔ 1 شیطانی وعدے تو سراسر دھوکا اور فریب ہیں لیکن اس کے مقابلے میں اللہ کے وعدے جو اس نے اہل ایمان سے کئے ہیں سچے اور برحق ہیں اور اللہ سے زیادہ سچا کون ہوسکتا ہے۔ لیکن انسان کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ یہ سچوں کی بات کو کم مانتا ہے اور جھوٹوں کے پیچھے زیادہ چلتا ہے۔ چناچہ دیکھ لیجئے کہ شیطانی چیزوں کا چلن عام ہے اور ربانی کاموں کو اختیار کرنے والے ہر دور میں اور ہر جگہ کم ہی رہے ہیں اور کم ہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–126
72: کفار عرب بعض چوپایوں کے کان چیر کر بتوں کے نام پر وقف کردیتے تھے اور ایسے جانور سے کوئی فائدہ اٹھانے کو جائز نہیں سمجھتے تھے، اس باطل رسم کی طرف اشارہ ہے کہ اس پر شیطان عمل کر ارہا ہے، اور اللہ کی تخلیق میں تبدیلی سے مراد خود یہی عمل بھی ہوسکتا ہے کہ جانور کے کان خوامخواہ چیر دئے جائیں، اس کے علاوہ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے بعض ان کاموں کو بھی تخلیق میں تبدیلی قرار دے کر منع فرمایا ہے جو عورتیں اپنے حسن میں اضافہ کرنے کی غرض سے کیا کرتی تھیں، مثلاً جسم کے کسی حصے کو سوئیوں وغیرہ سے گود کر نشانات بنوانا، چہرے کے قدرتی رویں کو (جو عیب کی حد تک بڑھا ہوا نہ ہو) صاف کرنا اور دانتوں کے درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–125
(آیت) ” 123 تا 125۔
یہود اور نصاری کہتے تھے ۔ (آیت) ” (نحن ابناء اللہ واحباؤہ) ہم اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں ۔ اور یہ بھی کہتے تھے ۔ (آیت) ” لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ ) “ ہمیں آگ نہ چھوئے گی مگر چند دنوں کے لئے ۔۔۔۔۔۔ اور یہودی تو آج تک اپنے آپ کو اللہ کی مختار قوم کہتے ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ بعض مسلمانوں کے دل میں بھی یہ بات آتی ہو کہ وہ ایک ایسی امت ہیں جسے تمام لوگوں کے لئے نکالا گیا ہے اور اللہ ان کی تمام غلطیوں کو معاف کر دے گا ‘ اس لئے کہ وہ مسلمان ہیں۔
چناچہ یہ آیت ایسے ہی حالات کی تردید کے لئے اتری کہ دونوں فریقوں کے یہ خیالات درست نہیں ہیں ۔ عملوں پر سب کا بیڑا پار ہوگا۔ تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
2 کتاب والوں یعنی یہودیوں اور نصرانیوں کو خیال تھا کہ ہم خاص بندے ہیں جن گناہوں پر خلقت پکڑی جائے گی ہم نہ پکڑے جائیں گے۔ ہمارے پیغمبر حمایت کر کے ہم کو بچا لیں گے اور نادان اہل اسلام بھی اپنے حق میں یہی خیال کرلیا کرتے ہیں۔ سو فرما دیا کہ نجات اور ثواب کسی کی امید اور خیال پر موقوف اور منحصر نہیں جو برا کرے گا پکڑا جائے گا کوئی ہو اللہ کے عذاب کے وقت کسی کی حمایت کام نہیں آسکتی اللہ جس کو پکڑے وہی چھوڑے تو چھوٹے۔ دنیا کی مصیبت اور بیماری کو دھیان کرلو اور جو کوئی عمل نیک کرے گا بشرطیکہ ایمان بھی رکھتا ہو سو ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور اپنی نیکیوں کا پورا ثواب پائیں گے۔ خلاصہ یہ کہ ثواب و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
آیت 123 لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ وَلَآ اَمَانِیِّ اَہْلِ الْکِتٰبِ ط۔
تنبیہہ آگئی کہ تمہارے اندر بھی بلا جواز اور بےبنیاد خواہشات پیدا ہوجائیں گی۔ یہود و نصاریٰ کی طرح تم لوگ بھی بڑی دل خوش کن آرزوؤں wishful thinkings کے عادی ہوجاؤ گے ‘ شفاعت کی امید پر تم بھی حرام خوریاں کرو گے ‘ اللہ کی نا فرمانیاں جیسی کچھ انہوں نے کی تھیں تم بھی کرو گے۔ لیکن جان لو کہ اللہ کا قانون اٹل ہے ‘ بدلے گا نہیں۔ تمہاری خواہشات سے ‘ تمہاری آرزوؤں سے اور تمہاری تمناؤں سے کچھ نہیں ہوگا۔ بالکل اسی طرح جیسے اہل کتاب کی خواہشات سے کچھ نہیں ہوا۔ بلکہ :
مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءً ا یُّجْزَ بِہٖلا
اگرچہ اللہ کے ہاں اس قانون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
163 سستی نجات کا عقیدہ :۔ شیطان جن راہوں سے انسان کو گمراہ کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر سستی نجات کا عقیدہ ہے۔ تو اس میدان میں مسلمان یہود و نصاریٰ سے بھی دو ہاتھ آگے ہی ہوں گے جنہوں نے پیروں کی سفارش کے علاوہ اس دنیا میں بھی بہشتی دروازے بنا رکھے ہیں کہ جو شخص اس دروازے سے اس پیر کے عرس کے دن گزر گیا وہ بہشتی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایسی خرافات کی تردید کرتے ہوئے نجات کی صحیح راہ بیان فرمائی اور وہ راہ اللہ تعالیٰ کا قانون جزا و سزا ہے۔ یہ قانون قرآن کریم میں متعدد مقامات پر مذکور ہے اور اس قانون کی قابل ذکر دفعات یہ ہیں :
(1) قانون جزاء وسزاء کی دفعات :۔ ہر انسان کو صرف وہی کچھ…
Read the full tafseer →324 ۔ (اس برائی کے متناسب اور اس شخص کے مناسب حال) یہ اس حقیقت کا بیان ہے کہ مدار کار طاعت ہے محض آرزوئیں اور خوش خیالیاں لاشئی محض ہیں خواہ وہ کسی کی بھی ہوں۔ (آیت) ” سوٓء ا “۔ کے معنی یہاں شرک کے بھی کئے گئے ہیں لیکن جمہور مفسرین نے اسے عام ہی رکھا ہے۔ قال الجمھور لفظ الایۃ عام والکافر والمومن مجاز بعملہ السوء (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–126
آیت نمبر 116 تا 126
ترجمہ : اللہ تعالیٰ قطعاً معاف نہ کرے گا اس بات کو کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے (ہاں) شرک کے علاوہ گناہ جس کے چاہے گا معاف کردے گا، اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ حق سے دور جا پڑتا ہے مشرک اللہ کو چھوڑ کر عورتوں یعنی (دیویوں) کی بندگی (پوجا) کرتے ہیں، جیسا کہ لات کی اور عزّیٰ کی اور مناة کی، ان کی عبادت نہیں ہے مگر سرکش شیطان کی عبادت جو حد طاعت سے خارج ہونیوالا ہے بتوں کی عبادت میں مشرکوں کے شیطان کی بات ماننے کی وجہ سے اور وہ ابلیس ہے، اللہ نے اس پر لعنت فرمائی یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کردیا، اور وہ شیطان کہہ چکا ہے کہ میں تیرے بندوں میں سے اپنا مقرر حصہ لے کر رہوں…
Read the full tafseer →لیس بامانیکم . حقیقت امر تمہاری آرزوؤں سے وابستہ نہیں ہے۔ یعنی اے اہل مکہ تم میں سے جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ حشر و نشر کچھ نہ ہوگا اور بعض کہتے ہیں کہ اللہ کے پاس یہ بت ہمارے سفارشی ہوں گے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ تمہارے خیال کے مطابق اگر دوبارہ زندگی ہوئی تب بھی ہم تم سے اچھے حال میں ہوں گے۔ حقیقت امر تمہارے ان اندازوں سے وابستہ نہیں ہے۔ سیاق آیت دلالت کر رہا ہے کہ خطاب اہل مکہ کو ہے۔ مجاہد کا یہی قول ہے۔
ولا امانی اہل الکتب . اور نہ حقیقت امر اہل کتاب کے مفروضات سے وابستہ ہے۔
اہل کتاب سے مراد ہیں یہودی اور عیسائی جو کہتے تھے کہ ہم اللہ کے چہیتے اور بیٹے ہیں اور جنت میں یہودیوں اور عیسائیوں کے…
Read the full tafseer →(123) اے گروہ مسلمین نہ تمہاری خواہشوں سے کام چلتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد کسی گناہ پر مواخذہ ہوگا اور نہ اہل کتاب کی خواہشوں سے کہ ہم دن میں جو گناہ کرتے ہیں وہ رات کو معاف ہوجاتے ہیں اور رات کو جو گناہ کرتے ہیں وہ دن میں معاف کردیے جاتے ہیں۔
بلکہ مسلمانوں میں سے جو برائی کا کام کرے گا، اسے دنیا میں یا مرنے کے بعد جنت میں داخل ہونے سے پہلے اس کا بدلا دیا جائے گا اور کافر کو آخرت میں دوزخ میں داخل ہونے سے پہلے یا دوزخ میں داخل ہونے کے بعد اس کا بدلا مل جائے گا اور اسے عذاب الہی سے کوئی یار و مددگار نجات دلانے والا نہیں ملے گا۔
شان نزول : لیس بامانیکم“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے ابن عباس ؓ سے…
Read the full tafseer →لَيْسَ بِاَمَانِيِّكُمْ۔۔ : اہل کتاب کا خیال تھا کہ ہم خاص بندے ہیں، جن گناہوں پر لوگ پکڑے جائیں گے ہم نہیں پکڑے جائیں گے، ہمارے پیغمبر ہماری حمایت کریں گے، ہم صرف چند دن جہنم میں رہیں گے۔ (دیکھیے البقرۃ : 80) جنت میں صرف ہم جائیں گے۔ (البقرۃ : 111) آج کل کچھ نادان مسلمان بھی اپنے حق میں یہ خیال رکھتے ہیں، سو اللہ نے فرمایا کہ برا جو کرے گا، کوئی ہو، سزا پائے گا، کسی کی حمایت کام نہیں آئے گی۔ اللہ کا پکڑا وہی چھوڑے تو چھوٹے۔ دنیا کی مصیبت پر آدمی قیاس کرلے۔
مَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا يُّجْزَ بِهٖ ۙ۔۔ : خوش فہمیاں اور خام خیالیاں سزا کو دفع نہیں کرسکتیں، سزا ضرور ملے گی، خواہ دنیا میں ملے یا آخرت…
Read the full tafseer →آیت نمبر 123۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتب “۔ ابو جعفر مدنی نے (آیت) ” لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتب “۔ یعنی دونوں جگہ یا کی تخفیف کے ساتھ پڑھا۔ اس کے نزول کے بارے میں بہتر قول وہ ہے جو حکم بن ابان نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : یہودونصاری نے کہا : جنت میں داخل نہ ہوگا مگر جو ہم میں سے ہوگا قریش نے کہا : ہم دوبارہ زندہ نہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل فرمایا (آیت) ” لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتب “۔ قتادہ اور سدی نے کہا : مومنین اور اہل کتاب نے باہم فخر کیا، اہل کتاب نے کہا : ہمارے نبی تمہارے نبی سے پہلے اور…
Read the full tafseer →(1) سعید بن منصور و عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ عرب والوں نے کہا نہ ہم اٹھائے جائیں گے اور نہ ہم سے حساب بھی لیا جائے اور یہود و نصاری نے کہا لفظ آیت ” وقالوا لن یدخل لجنۃ الا من کان ھودا او نصری “ (البقرۃ آیت 111) (اور) ” لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ “ (البقرۃ آیت 80) تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” لیس بمانیکم ولا امانی اہل الکتب من یعمل سوءا یجزبہ “
(2) سعید بن منصور و ابن جریر و ابن المنذر نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ مسلمانوں میں اور اہل کتاب میں باہم گفتگو ہوئی مسلمانوں نے کہا ہم تم سے زیادہ ہدیت والے ہیں اہل کتاب نے کہا ہم تم سے زیادہ ہدایت والے…
Read the full tafseer →[ لَــیْسَ : (قیامت کا معاملہ) نہیں ہے ] [ بِاَمَانِیِّـکُمْ : تمہاری آرزئوں کے مطابق ] [ وَلَآ اَمَانِیِّ اَہْلِ الْکِتٰبِ : اور نہ اہل کتاب کی آرزئوں کے مطابق ] [ مَنْ : جو ] [ یَّعْمَلْ : عمل کرے گا ] [ سُوْٓئً ا : کسی برائی کا ] [ ؐیُّجْزَ : تو اس کو بدلہ دیا جائے گا ] [ بِہٖ : اس کا ] [ وَلاَ یَجِدْ : اور وہ نہیں پائے گا ] [ لَــہٗ : اپنے لیے ] [ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ : اللہ کے علاوہ ] [ وَلِــیًّا : کوئی کارساز ] [ وَّلاَ نَصِیْرًا : اور نہ کوئی مددگار ]
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا (لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ وَ لَآ اَمَانِیِّ اَھْلِ الْکِتٰبِ ) لباب النقول صفحہ 83 میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہود و نصاری نے کہا کہ جنت میں ہمارے سوا کوئی داخل نہ ہوگا اور قریش نے کہا کہ ہم موت کے بعد اٹھائے ہی نہ جائیں گے (تاکہ کوئی عذاب کی صورت سامنے آئے) اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی پھر حضرت مسروق تابعی سے نقل کیا کہ نصاریٰ اور مسلمان جمع ہوئے اور آپس میں فخر کرنے لگے ہر فریق نے یہ کہا ہم تم سے افضل ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کی بات زیادہ قرب و انسب معلوم ہوتی ہے جس میں قریش کو خطاب ہے کہ تم خود ہی سارے فیصلے کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–126
شرک اور اہل شرک کی مذمت اور رسوم جاہلیت کا ابطال۔
قال تعالی، ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ محیطا۔
یہ آخری آیت ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی۔ آیت۔ بھی طعمہ کے بارے میں نازل ہوئی جب اس نے دیکھا کہ اللہ نے اس کا پردہ فاش کردیا تو مرتد ہو کر چلا گیا ایک شخص کی دیوار میں نقب لگایا اتفاقا دیوار اس پر گر پڑی اور وہ مرگیا اب اس کے بعد اللہ شرک کی بابت ارشاد فرماتے ہیں کہ شرک تو بغیر توبہ کے کسی حال میں نہیں بخشا جاتا اور البتہ شرک اور کفر کے علاوہ اور گناہ بغیر توبہ کے بھی بخشے جاتے ہیں پس اگر طعمہ مرتد نہ ہوتا اور مشرکین کے ساتھ جاکرنہ ملتا تو ممکن تھا کہ چوری وغیرہ کا گناہ بغیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–124
85 یہ مشرکین اور شیطان کی اطاعت کرنے والوں کے لیے تخویف اخروی ہے اور وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا لصّٰلِحٰتِ سے توحید کو ماننے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ لَیْسَ بِاَ مَانِیَّکُمْ وَ لَا اَمَانِیِّ اَھْلِ الْکِتٰبِ الخ یہ مومنین اور اہل کتاب کو زجر ہے کہ تمہاری اور اہل کتاب کی خواہشات اور آرزؤوں کے احکام کی تعمیل پر ہے اس لیے باہمی تفاخر سے کوئی فائدہ نہیں۔ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْءاً تخویف اخروی اور وَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ سے بشارت اخروی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–126
ربط آیات
گزشتہ درس میں شرک کی مذمت اور شیطان کی دشمنی ، کارگزاری اور بہکاوے کے مختلف طریقوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ شرک تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اور شیطان انسان کو گمراہ کرنا ے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتا ہے۔ شیطان کے اتباع میں شرک کرنے والے لوگ دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ اس سے پہلے منافقین اور ان کی حمایت کرنے والوں کی مذمت بھی بیان ہوچکی ہے اہل کتاب گمراہ ہو کر غلط راستے پر چل نکلے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بھی متنبہ کیا کہ اگر ان میں بھی اہل کتاب جیسی خرابیاں پیدا ہوگئیں تو وہ بھی ناکام رہیں گے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ کسی جماعت یا فرقے کے ساتھ خالی…
Read the full tafseer →لَيْسَ بِاَمَانِيِّكُمْ وَلَآ اَمَانِيِّ اَھْلِ الْكِتٰبِ 0ۭ مَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا يُّجْزَ بِہٖ 0ۙ وَلَا يَجِدْ لَہٗ مِنْ دُوْنِ اللہِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا 123
تَّمَنِّي :
تقدیر شيء في النّفس وتصویره فيها، وذلک قد يكون عن تخمین وظنّ ، ويكون عن رويّة وبناء علی أصل، لکن لمّا کان أكثره عن تخمین صار الکذب له أملك، فأكثر التّمنّي تصوّر ما لا حقیقة له . قال تعالی: أَمْ لِلْإِنْسانِ ما تَمَنَّى [ النجم/ 24] ، فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ [ البقرة/ 94] ، وَلا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَداً [ الجمعة/ 7]
والأُمْنِيَّةُ
: الصّورة الحاصلة في النّفس من تمنّي الشیء، ولمّا کان الکذب تصوّر ما لا حقیقة له…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–126
ترکیب : لیس کا اسم اور خبر دونوں محذوف اور بامانیکم خبر سے متعلق ہے اے لیس الامر منوطا بامانیکم۔ من یعمل سوئً یجزبہ جواب ولا یجد معطوف ہے یجز پر۔ من ذکر او انثی بیان ہے من کا ومن مبتداء احسن ممیز دینا تمیز ممن متعلق ہے احسن افضل التفضیل سے وھو محسن جملہ حال ہے فاعل اسم سے واتبع معطوف ہے اسلم پر پھر یہ سب مجموعہ خبر ہے۔
تفسیر : پہلی آیت میں تھا وما یعدھم الشیطان الا غرورا کہ ان لوگوں سے شیطان جو کچھ وعدہ کرتا ہے ٗ فریب کا کرتا ہے۔ عام ہے کہ شیطان سے ابلیس مراد یا قوت وہمیہ اور اس کے وعدوں میں خیالات باطلہ کہ جو ہر ایک قوم میں خلاف حق چلے آتے ہیں مثلاً عیسائیوں میں یہ ہے کہ تمام گناہ حضرت مسیح…
Read the full tafseer →لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ وَلَآاَمَانِیِّ اَہْلِ الْکِتٰبِ ط مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓئً ا یُّجْزَبِہٖ لا وَلَایَجِدْلَہٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیْرًا
” نہ تمہاری امیدوں پر مدار ہے نہ اہل کتاب کی امیدوں پر ‘ جو کوئی برائی کرے گا اس کی سزا پائے گا اور وہ اپنے لیے اللہ کے مقابل کوئی کارساز اور مددگار نہ پا سکے گا۔ “ (النسآء : 123)
شانِ نزول
یوں تو اس آیت کریمہ میں ایک اصولی بات فرمائی گئی ہے لیکن ہمارے مفسرین کرام نے ایک شان نزول بھی لکھا ہے جس سے بات مزید واضح ہوجاتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان مفاخرت کی گفتگو ہونے لگی۔ اہل…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جنت محض دعو وں ‘ نعروں اور کسی فرقہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ جو برائی اور شرک سے بچے گا وہی جنت کا مستحق ہوگا۔ بصورت دیگر برا شخص جنت اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے محروم رہے گا۔
قرآن مجید ایک بار پھر اپنے اسلوب بیان کا اعادہ فرماتے ہوئے دو قسم کے اعمال اور ان کے انجام کا بیک مقام موازنہ کرتا ہے تاکہ قرآن کا قاری تجزیہ کرے کہ اسے کس کردار کا انتخاب اور آخرت کی کونسی منزل کے لیے کوشش کرنی چاہیے ؟ یہ حقیقت بار بار واضح کی گئی ہے کہ کسی شخص کی نجات نعروں اور دعو وں کی بنیاد پر نہیں ہوگی بلکہ نجات سچے ایمان اور صالح عمل پر ہوگی۔ یہاں ایک مرتبہ پھر اہل کتاب کے دعوے کی تردید کی جارہی…
Read the full tafseer →جھوٹی تمنا بےفائدہ ہے :
آیت 123 : لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ (حقیقت امر تمہاری تمنائوں پر نہیں) اے مشرکو ! کہ تمہارے یہ بت تمہیں فائدہ دیں گے۔ وَلَآٓ اَمَانِیِّ اَہْلِ الْکِتٰبِ (اور نہ حقیقت اہل کتاب کی تمنائوں سے وابستہ ہے) جبکہ وہ اس حد تک دعویٰ کرنے والے ہیں : نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰہِ وَاَحِبَّآؤُہٗ [ لمائدہ : 18] کہ ہم تو اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور محبوب ہیں۔ اسی طرح : لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَ یَّامًا مَّعْدُوْدَۃً (البقرہ : 80) کہ ہمیں تو آگ چند دن لگے گی۔ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْئً ا یُّجْزَبِہٖ (جو شخص کوئی برا عمل کرتا ہے اس کا بدلہ دیا جائے گا) خواہ مشرکین سے ہو یا اہل کتاب میں سے…
Read the full tafseer →123۔ (آیت)” لیس مامانیکم ولا امانی اھل الکتاب “۔
(لیس بامانیکم کی تفسیر)
مسروق (رح) ، قتادہ (رح) ، اور ضحاک (رح) ، کا قول ہے کہ (آیت)” لیس بامانیکم “۔ سے مراد مسلمانوں کو خطاب ہے اور (آیت)” ولا امانی “ سے مراد اہل کتاب یہود و نصاری ہیں ، یہ اس وجہ سے کہ وہ ایک دوسرے پر فخر کرتے تھے ، اہل کتاب کہنے لگے کہ ہمارا نبی تمہارے نبی سے پہلے ہے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے مقدم ہے ، لہذا ہم تمہارے سے زیادہ اللہ کے قریب ہیں اور مسلمانوں نے ان سے کہا ہمارے نبی خاتم الانبیاء ﷺ ہیں اور ہماری کتاب کا فیصلہ سب کتابوں پر لاگو ہے اور ہمارا ایمان تمہاری کتاب پر بھی ہے مگر تمہارا ایمان ہماری کتاب پر نہیں ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–126
(123 ۔ 126) ۔ اوپر ذکر تھا کہ شیطان وسوسہ کے طور پر لا حاصل آرزوئیں انسان کے دل میں ڈالتا ہے ان آیتوں میں اس قسم کی بعض آرزوؤں کا ذکر ہے چناچہ تفسیر ابن ابی حاتم اور ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ وغیرہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اہل کتاب اپنے آپ کو افضل اور جنتی گنتے اور مسلمانوں سے اس بات پر جھگڑتے تھے اور بعض مسلمان بھی اسی طرح اہل کتاب سے جھگڑتے تھے اور مشرکین مکہ حشر کے قائم نہ ہونے پر طرح طرح کی خیالی باتیں کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 3۔ اور فرمایا کہ عمر بھرے برے علم کر کے اس کے مواخذہ سے بےخوف رہنا اور جو لوگ اللہ کی مرضی کے موافق نیک عمل کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
آیت 122-
یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشوتں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، روز آخرت اور اچھی بری تقدیر پر علم، تصدیق اور اقرار کے ساتھ اس طرح ایمان لائیں جس طرح ان کو حکم دیا گیا ہے۔ (وعملوا الصلحت) ” اور نیک کام کرتے رہے۔ “ یعنی وہ اعمال جو ایمان سے جنم لیتے ہیں اور یہ تمام مامورات کو شامل ہے، چاہے وہ فرض ہوں یا مستحب، ان کا تعلق اعمال قلب سے ہو، اعمال لسان سے ہو اور بقیہ اعمال جو ارح سے۔ ہر شخص کے لئے اس کے حال و مقام، اس کے ایمان اور عمل صالح کی تکمیل کے مطابق ثواب مرتب ہوتا ہے۔ ایمان و عمل میں جو کوتاہی واقع ہوتی ہے اس پر مترتب ہونے والا ثواب اس کی تلافی کردیتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–124
قول باری ہے ( ولا مرنھم فلیبتکن اذان الانعام میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے) تبتیک تقطیع یعنی ٹکڑے ٹکڑے کرنے کو کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے ” یبت کہ تبتیکا ( اس ینے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے یا کر ڈالے گا) اس مقام پر اس سے مراد بحیرہ ( ایسی اونٹنی جو پانچ دفعہ بچے جن چکی ہو اور آخری بار اس کے ہاں نر بچہ پیدا ہو اس کا کان چیر کر اسے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا پھر نہ کوئی اس پر سوار ہوتا، نہ اس کا اون اتارا جاتا، نہ اس کا دودھ پیا جاتا اور نہ اسے ذبح کیا جاتا اسے حق تھا کہ جس گھاٹ سے چاہے پانی پیے اور جس کھیت سے چاہے چرے) کا کان چیرنا ہے۔ قتادہ عکرمہ اور سدی سے یہی مروی…
Read the full tafseer →314 محض امیدوں پر جینا ایک دھوکہ ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مدار نہ تمہاری امیدوں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی امیدوں پر۔ بلکہ اصول اور ضابطہ یہ ہے کہ جو بھی کوئی برائی کرے گا وہ اس کا بدلہ پائے گا۔ پس محض امیدوں سے کچھ نہیں بنتا جب تک کہ صحیح عقیدہ و ایمان کی اساس و بنیاد قائم نہ ہو اور عمل و کردار کا سرمایہ موجود نہ ہو۔ اور جو لوگ محض امیدوں پر جیتے اور انہی پر تکیہ کرتے ہیں وہ ایسے بےبنیاد سہاروں پر عمل و کردار کی دولت سے لاپرواہ اور محروم ہوجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ انہی بھول بھلیوں میں لگ کر اور ایسی بےحقیقت چیزوں میں کھوکر وہ حیات مستعار کی متاع گرانمایہ کو تمام کردیتے ہیں اور ہمیشہ کے خسارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
جھوٹی آرزوؤں کا سہارا ؟
تشریح : عذاب اور ثواب والی اس قسم کی آیات سن کر یہودی اور عیسائی کہتے تھے کہ ہم تو اللہ کے خاص بندے ہیں کیونکہ یہودی اپنے آپ کو اللہ کے بیٹے کہتے تھے (نعوذ باللہ) اور عیسائیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ مسیح (علیہ السلام) نے سولی پر چڑھ کر ان کے تمام گناہوں کا کفارہ ادا کردیا ہے، لہٰذا بقول ان کے ان کو عذاب نہیں ہوگا یا چند دن کے بعد وہ جہنم سے باہر آجائیں گے۔ تو اللہ رب العزت نے ان کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا : کہ عمل کا بدلہ ضرور اور پورا پورا دیا جائے گا۔ خواہ عورت ہو یا مرد، جو اللہ پر ایمان لائے گا، اس کے بتائے ہوئے راستوں پر چلے گا اور پوری زندگی اللہ رب العزت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–126
رکوع نمبر 18 ۔ آیات 116 تا 126 ۔
اسرار و معارف :
ان اللہ لا یغفر ۔۔۔ محیطا۔
ایک اور بہت بڑی جماعت ان جہلا اور نادانوں کی ہے جنہوں نے اپنے آپ کو شرک جیسی مصیبت میں ڈال رکھا ہے اور وہ اوصاف جو صرف اللہ کو سزا وار ہیں دوسروں کو ان میں حصہ دار مانتے ہیں یا پھر وہ اطاعت جو صرف اللہ کا حصہ ہے اس میں دوسروں کو شریک کرلیتے ہیں یہی تین گروہ تھے علمائے یہود اور یہود و نصاری۔ جو ایمان نہ لائے تھے یا منافقین جو بظاہر ایمان لانے کا اظہار و اقرار کرتے مگر دل سے ایمان دار نہ تھے اور تیسرے مشرکین مکہ و عرب دنیا کی آبادی بلحاظ مذہب و ملت انہی تین گروہوں میں تقسیم کی جاسکتی تھی اور آج بھی ایسا ہی ہے سوائے اس…
Read the full tafseer →ف 3 اہل کتاب کی تمنائیں بہت خوشنما تھیں۔ ہم اللہ کے محبوب اور بیٹے ہیں، ہمارے سوا کوئی جنت میں نہیں جائے گا ہمارے گناہوں پر ہم سے مواخذ ہ نہیں ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ اسی قسم کے خیالات میں آجکل نادان مسلمان بھی گرفتار ہیں۔ فرمایا جو براکام کرے گا اس کی سزا پائے گا کوئی ہو کسی کی پیش نہیں جاتی (موضح)
Read the full tafseer →(4:123) مانیکم۔ مانی۔ امنیۃ کی جمع۔ تمہاری ٹھہرائی ہوئی امیدیں۔ تمہارے خیالات کے اندازے۔ اس میں خطاب بت پرستوں سے ہے۔ لیس کا اسم محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے۔ لیس الامر منوطا بامانیکم ایھا المشرکون۔ اے مشرکو بات (یعنی انجام کار) تمہاری امیدوں پر منحصر نہیں ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 123
لغات القرآن : امانی، (امنیۃ) تمنائیں۔ یجز، بدلہ دیا جائے گا۔ لایجد، نہیں پائے گا۔
تشریح : فرمایا گیا ہے کہ اے ایمان والو ! اگر تمہیں اللہ کی خوشنودی کی آرزو ہے تو عمل صالح کرکے دکھلاؤ۔ اور اے مشرکو ! زندگی کو صرف آرزو اور تمنا ہی میں مت گزارو۔ ایمان لاؤ، نیک عمل کرو۔ یہ تمہارے باطل معبود تمہیں کچھ نہ دے سکیں گے۔ وہی نیک عمل مقبول ہے جس کے پیچھے ایمان ہو۔ نیک عمل ہو۔
یہ آیت ان لوگوں کے لئے نصیحت ہے جو جنت کی آرزو ہی کرتے رہتے ہیں لیکن اس کیلئے عمل کی جو قیمت دینی چاہیے وہ دینے کو تیار نہیں ہیں۔ نیک عمل کیا ہے اس کا ذکر اگلی آیت میں آتا ہے۔
” جو بھی برائی کرے گا اس کا نتیجہ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–126
ان آیتوں میں اس قسم کی بعض آرزؤں کا ذکر ہے جو اہل کتاب اپنے آپ کو افضل اور جنتی گنتے اور مسلمانوں سے اس بات پر جھگڑتے تھے اور بعضے مسلمان بھی اسی طرح اہل کتاب سے جھگڑتے تھے اور مشرکین مکہ حشر کے قائم نہ ہونے پر طرح طرح کی خیالی باتیں کرتے تھے۔ اس پر یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ عمر بھر برے عمل کرکے اس کے مواخذہ سے بےخوف رہنا اور جو لوگ اللہ کی مرضی کے موافق نیک عمل کرتے ہیں ان کی طرح عقبیٰ میں راحت کی توقع رکھنا بڑی نادانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–126
[77] مشرکین عرب کا دستور تھا کہ وہ خاص خاص جانوروں کے کان چیر کر اپنے فرضی معبودوں کے نام بطور نذر چھوڑ دیتے تھے۔ یہ کان کا چیرنا اس مقصد کے لئے ہوتا تھا کہ دوسرے ان کو نذر سمجھ کر ان سے تعرض نہ کریں۔
[78] اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کے بدلنے سے مراد اللہ کی اس فطرت کو بدلنا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تمام خلائق کو پیدا کیا ہے مثلاً توحید دین فطرت ہے لیکن شیطان اور اس کے ایجنٹوں نے اس کو شرک سے مسخ کیا ضمناً اس میں وہ ساری چیزیں آجائیں گی جو اللہ کی فطرت کی تبدیلی کے حکم میں ہیں، مثلاً مردوں اور عورتوں کو بانجھ بنانا، ضبط ولادت، مردوں کو خواجہ سرا بنانا اور اسی قبیل کی دوسری خرافات۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
معیار نجات :
(ف 1) اسلام اور دیگر مذاہب کے تصور نجات میں بڑا فرق ہے ، سب مذاہب میں نجات کہتے ہیں ‘ روحانی مسرت اور عقبی کی کامیابی کو مگر اسلام کے نزدیک نجات ایک ارتقائی صورت فلاح کا نام ہے جس میں ولادت سے لے کر موت کی آغوش تک کا سامان آسائش پہناں ہے وہ مذہب جو عقبی کی بخششوں کا تو ذمہ دار ہے ، مگر دنیا کی کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگاتا ‘ وہ غلط ہے ، اسلام کہتا ہے ، تمہاری نجات اسی دنیا سے شروع ہوتی ہے ، جو یہاں خوش ہے اس کے لئے آسمانوں میں بھی مسرت بےپایاں کے سامان موجود ہیں اور جو یہاں مطمئن نہیں اس میں قطعا استعداد نہیں کہ وہ آخری کی نعمت ہائے جادوانی سے بہرہ وافر حاسل کرسکے ۔
یہ وجہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
ف 3 مسلمانو ! آخرت کی کامیابی اور نجات نہ تو تمہاری آرزوئوں پر موقوف ہے اور نہ اہل کتاب کی تمنائوں پر موقوف ہے بلکہ ضابطہ یہ ہے کہ جو شخص بھی کوئی برا کام کرے گا وہ اس برے کام کی سزا دیا جائے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ اپنا کوئی حمایتی پائے گا اور نہ مدد گار
مطلب یہ ہے کہ آخرت کے متعلق بےبنیاد امیدیں قائم کرنے سے کوئی فائدہ نہیں قاعدہ یہ ہے کہ جو شخص بھی کوئی برا کام کرے گا خواہ وہ برا کام عقیدے سے تعلق رکھتا ہو خواہ اعمال سے تعلق رکھتا ہو۔ بہرحال اس برے کام کا اس کو بدلا دیا جائے گا اور ایسے شخص کو کوئی حمایت کرنے والا اور اور کوئی مدد کرنے والا بھی میسر نہ آئے گا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے…
Read the full tafseer →ف 5۔ خلاصہ یہ ہوا کہ نری تمناوں سے کام نہیں چلتا مگر مسلمان نری تمناوں پر نہیں ہیں بلکہ کام کرتے ہیں اور دوسرے فرقے جب اسلام نہ لائے جس پر سارا کام موقوف ہے۔ تو بس نری تمناوں پر ہوئے۔
Read the full tafseer →جنت ایک حقیقت ہے وہ خالی آرزوئوں کانا م نہیں :
202: مذاہب عالم کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھیں آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ من حیث القوم دنیا میں ایک قوم بھی ایسی نہیں پائی گئی جو جنت کو نہ مانتی ہو وہ چاہے جو نام اس کا رکھے۔ پھر تعجب یہ ہے کہ ہر قوم نے وہ اپنی ہی ملکیت سمجھ رکھی ہے اس لئے وہ دوسری ساری قوموں کو اس کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیتی۔ قرآن کریم انہی مفروضوں کو وہمی اور بناوٹی قرار دیتا ہے اور زور دے کر کہتا ہے کہ اللہ کے ٹھہرائے ہوئے دین کی حقیقت تو یہ تھی کہ وہ نوع انسانی پر خدا پرستی اور نیک عملی کی راہ کھولتا تھا یعنی اللہ کے اسی قانون کا اعلان کرتا تھا کہ دنیا کی ہرچیز کی طرح انسانی…
Read the full tafseer →Commentary
A dialogue between Muslims and he People of the Book contending for glory against each other
Verse 123 which begins with the words: لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ 'This is not (a matter of) your fancies or the fancies of the People of the Book...', is about a cross talk between Muslims and the People of the Book. It is followed by a wise and judicious ruling on the confronting claims aimed at bringing the contestants to the right path. Finally, given here is a standard measure of, determining as to who is superior and acceptable in the sight of Allah, a…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–125
149. Satanic operations are based on making attractive promises and raising high hopes. Whenever Satan wants to mislead men, whether individually or collectively, he tries to inspire them with Utopian expectations. In some he inspires expectations of ecstatic pleasure and outstanding success in their individual lives. He inspires others with prospects for achieving national glory. To still others he promises the well-being of mankind. He makes people feel confident that they can arrive at the ultimate truth without the aid of revealed knowledge. He deludes others into believing that God…
Read the full tafseer →