Explained with ayahs 116–122
مشرک کی پہچان اور ان کا انجام
اس سورت کے شروع میں پہلی آیت کے متعلق ہم پوری تفسیر کرچکے ہیں اور وہیں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں بھی بیان کردی ہیں، حضرت علی فرمایا کرتے تھے قرآن کی کوئی آیت مجھے اس آیت سے زیادہ محبوب نہیں (ترمذی) مشرکین سے دنیا اور آخرت کی بھلائی دور ہوجاتی ہے اور وہ راہ حق سے دور ہوجاتے ہیں وہ اپنے آپ کو اور اپنے دونوں جہانوں کو برباد کرلیتے ہیں، یہ مشرکین عورتوں کے پرستار ہیں، حضرت کعب فرماتے ہیں ہر صنم کے ساتھ ایک جنبیہ عورت ہے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں اِنَاثًا سے مراد بت ہیں، یہ قول اور بھی مفسرین کا ہے، ضحاک کا قول ہے کہ مشرک فرشتوں کو پوجتے تھے اور انہیں اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–125
سورة النِّسَآء 149
شیطان کا سارا کاروبار ہی وعدوں اور امیدوں کے بل پر چلتا ہے۔ وہ انسان کو انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر جب کسی غلط راستے کی طرف لے جانا چاہتا ہے تو اس کے آگے سبز باغ پیش کردیتا ہے۔ کسی کو انفرادی لطف و لذت اور کامیابیوں کی امید، کسی کو قومی سر بلندیوں کی توقع، کسی کو نوع انسانی کی فلاح و بہبود کا یقین، کسی کو صداقت تک پہنچ جانے کا اطمینان، کسی کو یہ بھروسہ کہ نہ خدا ہے نہ آخرت، بس مر کر مٹی ہوجانا ہے، کسی کو یہ تسلی کہ آخرت ہے بھی تو وہاں کی گرفت سے فلاں کے طفیل اور فلاں کے صدقے میں بچ نکلو گے۔ غرض جو جس وعدے اور جس توقع سے فریب کھا سکتا ہے اس کے سامنے وہی پیش کرتا ہے اور…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور جو لوگ ایمان لائے اور (انہوں نے) اچھے کام کئے ہم ان کو عنقریب ایسے باغوں میں داخل کرلیں گے کہ ان کے (محلات کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی، وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ فرمایا ہے اور سچا وعدہ فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ کس کا کہنا صحیح ہوگا نہ تمہاری تمناؤں سے کام چلتا ہے اور نہ اہل کتاب کی تمناؤں سے (کہ خالی خولی زبان سے اپنے فضائل بیان کیا کریں بلکہ مدارکار اطاعت پر ہے، پس) جو شخص (اطاعت میں کمی کرے گا اور) کوئی بڑا کام کرے گا (خواہ عقائد سے ہو یا اعمال سے) وہ اس کے عوض میں سزا دیا جاوے گا (اگر وہ برائی عقیدہ کفریہ تک ہے تو سزا دائمی اور یقینی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–124
122۔ 124:۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْھَآ اَبَدًا ۭ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا ۭ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِيْلًا۔ لَيْسَ بِاَمَانِيِّكُمْ وَلَآ اَمَانِيِّ اَھْلِ الْكِتٰبِ ۭ مَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا يُّجْزَ بِهٖ ۙ وَلَا يَجِدْ لَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا۔ وَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُوْنَ نَقِيْرًا۔
نجات کی راہ ایمان و عمل صالح ہے نہ کہ جھوٹی آرزوئیں : یعنی شیطان کے وعدے اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
122۔ 1 شیطانی وعدے تو سراسر دھوکا اور فریب ہیں لیکن اس کے مقابلے میں اللہ کے وعدے جو اس نے اہل ایمان سے کئے ہیں سچے اور برحق ہیں اور اللہ سے زیادہ سچا کون ہوسکتا ہے۔ لیکن انسان کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ یہ سچوں کی بات کو کم مانتا ہے اور جھوٹوں کے پیچھے زیادہ چلتا ہے۔ چناچہ دیکھ لیجئے کہ شیطانی چیزوں کا چلن عام ہے اور ربانی کاموں کو اختیار کرنے والے ہر دور میں اور ہر جگہ کم ہی رہے ہیں اور کم ہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–126
72: کفار عرب بعض چوپایوں کے کان چیر کر بتوں کے نام پر وقف کردیتے تھے اور ایسے جانور سے کوئی فائدہ اٹھانے کو جائز نہیں سمجھتے تھے، اس باطل رسم کی طرف اشارہ ہے کہ اس پر شیطان عمل کر ارہا ہے، اور اللہ کی تخلیق میں تبدیلی سے مراد خود یہی عمل بھی ہوسکتا ہے کہ جانور کے کان خوامخواہ چیر دئے جائیں، اس کے علاوہ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے بعض ان کاموں کو بھی تخلیق میں تبدیلی قرار دے کر منع فرمایا ہے جو عورتیں اپنے حسن میں اضافہ کرنے کی غرض سے کیا کرتی تھیں، مثلاً جسم کے کسی حصے کو سوئیوں وغیرہ سے گود کر نشانات بنوانا، چہرے کے قدرتی رویں کو (جو عیب کی حد تک بڑھا ہوا نہ ہو) صاف کرنا اور دانتوں کے درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
(آیت) ” نمبر 121 تا 122۔
اور وہ جہنم جس سے اولیاء الشیطان کو بھی چھٹکارا نہ ہوگا ۔ دوسری جانب جنت ہے جس میں خدا دوست ہمیشہ رہیں گے (۔۔۔۔ ومن اصدق من اللہ قیلا (4 : 122) (اور اللہ سے بڑھ کر سچی بات کس کی ہوگی)
اللہ کی بات مطلقا سچی ہوتی ہے جس کے مقابلے میں شیطان کی بات فریب اور جھوٹ ہوتی ہے اور جو لوگ شیطان کے جھوٹے وعدوں میں آجاتے ہیں اور جو لوگ اللہ کے سچے وعدے پر یقین کرتے ہیں ان دونوں کے موقف میں بہت ہی بڑا فرق ہے ۔
اس کے بعد قرآن کریم عمل اور جزائے عمل کے بارے میں اللہ کے عظیم اور ناقابل تغیر اصول کو بیان کرتا ہے کہ ثواب و عقاب کا دارومدار محض خواہشات نفس اور تمناؤں پر نہیں ہوتا ۔ ثواب و…
Read the full tafseer →1 یعنی وہ لوگ جو شیطان کی خرابی سے محفوظ ہیں اور ارشاد خداوندی کے موافق ایمان لائے اور اچھے عمل کئے وہ ہمیشہ کے لئے باغ و بہار میں رہیں گے اور یہ اللہ کا وعدہ ہے جس سے سچی کسی کی بات نہیں ہوسکتی پھر ایسے سچے وعدہ کو چھوڑ کر شیطان کی جھوٹی باتوں میں آنا کس قدر گمراہی اور کتنی بڑی مضرت کو سر پر لینا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 122 وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ
خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا ط ان میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔
Read the full tafseer →162 یہاں اہل ایمان اور جنت کا ذکر اللہ تعالیٰ کی اس سنت کے مطابق لایا گیا ہے کہ جہاں ترہیب کا ذکر ہو رہا ہو تو ساتھ ہی ترغیب کا اور جہاں ترغیب کا ذکر ہو رہا ہو تو ساتھ ہی ترہیب کا ذکر عموماً قرآن کریم میں آیا کرتا ہے۔ پچھلی آیات میں شیطان کے پیروکاروں کا ذکر تھا اور یہ بتایا گیا تھا کہ شیطان کے وعدے اور امیدیں دلانا سب کچھ مکروفریب ہوتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایمان والوں سے اللہ نے جس جنت کا وعدہ کر رکھا ہے۔ وہ بالکل سچا ہے اور اللہ سے بڑھ کر سچا ہو بھی کون سکتا ہے ؟ لوگوں کے اعمال کے اچھے اور برے نتائج اس نے جو اطلاع دی ہے اور جنت اور دوزخ کے جو حالات بتائے ہیں وہ سب اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
323 ۔ دائمی راحت کی زندگی صرف قرآن اور شریعت کے اتباع سے ممکن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–126
آیت نمبر 116 تا 126
ترجمہ : اللہ تعالیٰ قطعاً معاف نہ کرے گا اس بات کو کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے (ہاں) شرک کے علاوہ گناہ جس کے چاہے گا معاف کردے گا، اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ حق سے دور جا پڑتا ہے مشرک اللہ کو چھوڑ کر عورتوں یعنی (دیویوں) کی بندگی (پوجا) کرتے ہیں، جیسا کہ لات کی اور عزّیٰ کی اور مناة کی، ان کی عبادت نہیں ہے مگر سرکش شیطان کی عبادت جو حد طاعت سے خارج ہونیوالا ہے بتوں کی عبادت میں مشرکوں کے شیطان کی بات ماننے کی وجہ سے اور وہ ابلیس ہے، اللہ نے اس پر لعنت فرمائی یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کردیا، اور وہ شیطان کہہ چکا ہے کہ میں تیرے بندوں میں سے اپنا مقرر حصہ لے کر رہوں…
Read the full tafseer →والذین امنوا وعملوا الصلحت سندخلہم جنت تجری من تحتہا الانہر خلدین فیہا ابدا اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ہم ان کو ضرور جنتوں میں داخل کریں گے جن کے محلات اور بالا خانوں کے نیچے سے نہریں بہتی جا رہی ہوں گی ‘ ان جنتوں میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
وعد اللہ حقا . اللہ نے (اس کا) سچا وعدہ کیا ہے۔ وعد اور حقامفعول مطلق ہیں تاکید کے لئے۔
ومن اصدق من اللہ قلیلا . اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ بات کا سچا کون ہے یعنی کوئی بھی اللہ سے زیادہ سچی بات والا نہیں ہے (استفہام انکاری ہے) استفہام کے پیرایہ میں نفی کرنے سے نفی میں کامل قوت پیدا ہوگئی۔ آیت کا مقصد ہے شیطان کے جھوٹے وعدوں اور اللہ کے سچے وعدہ…
Read the full tafseer →(122) جو حضرات رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے اور حقوق اللہ کی بجا آوری کرتے ہیں ہم ان کو ایسے باغات میں داخل کریں گے جہاں محلات کے نیچے سے دودھ، شہد، پاکیزہ شراب اور پانی کی نہریں جاری ہوں گی، یہ حضرات ہمیشہ جنت میں رہیں گے، نہ وہاں ان کو موت آئے گی اور نہ یہ ہو ان سے نکالے جائیں گے، جنت اور دوزخ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ فرمایا ہے، وہ یقیناً ہو کر رہے گا۔
Read the full tafseer →جس طرح شیطان اپنی پیروی کرنے والوں سے وعدے کرتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اپنے نیک بندوں سے جنت اور بلند درجات کے وعدے فرماتا ہے اور اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدے اور بات میں کون سچا ہوسکتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيْثًا) [ النساء : 87 ] ”اور اللہ سے زیادہ بات میں کون سچا ہے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
آیت نمبر 120، تا 122۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یعدھم “۔ یعنی وہ جھوٹے وعدے کرتا ہے، مال وجاہ اور ریاست کے سبز باغ دکھاتا ہے اور انہیں کہتا ہے نہ دوبارہ اٹھنا ہے اور نہ کوئی سزا ہے، وہ انہیں فقر وغربت سے ڈراتا ہے تاکہ وہ بھلائی میں مال خرچ نہ کریں (آیت) ” ویمنیھم اس کا بھی یہی مفہوم ہے (آیت) ” وما یعدھم الشیطن الا غرور “۔ یعنی دھوکا، ابن عرفہ نے کہا : الغرور ہر وہ چیز جس کے ظاہر کو تو دیکھے تو تو اس سے محبت کرے جب کہ اس کا باطن مکروہ ہو یا مجہول ہو شیطان کو غرور کہا جاتا ہے، کیونکہ نفس کی محبت کی جگہوں پر ابھارتا ہے جب کہ اس کے پیچھے تکلیف دہ چیزیں ہوتی ہیں۔ (آیت) ” اولئک “ یہ مبتدا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–122
(1) عبد اللہ بن احمد نے الزوائد المسند میں وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابی بن کعب ؓ سے لفظ آیت ” ان یدعون من دونہ الا انثا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر بت کے ساتھ ایک جنی عورت ہوتی ہے۔
(2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ ” ان یدعون من دونہ الا انثا “ یعنی لات عزی اور منات سب مؤنث ہیں۔
(3) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” ان یدعون من دونہ الا انثا “ کہ ان کے نام عورتوں والے رکھتے تھے (جیسے لات، منات اور عزی ) ۔
(4) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان یدعون من دونہ الا انثا “ سے مردہ مراد ہے۔
(5) عبد بن حمید…
Read the full tafseer →[ وَالَّذِیْنَ : اور وہ لوگ جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَعَمِلُوا : اور عمل کیے ] [ الصّٰلِحٰتِ : نیکی کے ] [ سَنُدْخِلُہُمْ : ہم عنقریب داخل کریں گے ان کو ] [ جَنّٰتٍ : ایسے باغات میں ] [ تَجْرِیْ : بہتی ہیں ] [ مِنْ تَحْتِہَا : جن کے نیچے سے ] [ الْاَنْہٰرُ : نہریں ] [ خٰلِدِیْنَ : ایک حالت میں رہتے ہوئے ] [ فِیْہَـآ : اس میں ] [ اَبَدًا : ہمیشہ ] [ وَعْدَ اللّٰہِ : (ہو چکا) اللہ کا وعدہ ] [ حَقًّا : حق ہوتے ہوئے ] [ وَمَنْ : اور کون ] [ اَصْدَقُ : زیادہ سچا ہے ] [ مِنَ اللّٰہِ : اللہ سے ] [ قِیْلاً : بلحاظ بات کے ]
ترکیب :” وَعْدَ اللّٰہِ “ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ کسی فعل محذوف کا…
Read the full tafseer →اہل ایمان کے لیے بشارت اور آرزوؤں پر بھروسہ کرنے کی ممانعت
ان آیات میں اول تو ان حضرات کے لیے جو اہل ایمان ہوں اور اعمال صالحہ میں مشغول رہتے ہوں ایسے باغوں میں داخلے کی خوشخبری دی جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور فرمایا کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو بالکل سچا پکا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ سے بڑھ کر اپنی بات میں سچا کون ہوسکتا ہے۔ جب اللہ نے وعدہ فرما لیا تو اب ایمان اور اعمال صالحہ کو اپنانا اور اس کے مطابق زندگی گزارنا بندوں کا سب سے بڑا اہم فریضہ ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–126
شرک اور اہل شرک کی مذمت اور رسوم جاہلیت کا ابطال۔
قال تعالی، ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ محیطا۔
یہ آخری آیت ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی۔ آیت۔ بھی طعمہ کے بارے میں نازل ہوئی جب اس نے دیکھا کہ اللہ نے اس کا پردہ فاش کردیا تو مرتد ہو کر چلا گیا ایک شخص کی دیوار میں نقب لگایا اتفاقا دیوار اس پر گر پڑی اور وہ مرگیا اب اس کے بعد اللہ شرک کی بابت ارشاد فرماتے ہیں کہ شرک تو بغیر توبہ کے کسی حال میں نہیں بخشا جاتا اور البتہ شرک اور کفر کے علاوہ اور گناہ بغیر توبہ کے بھی بخشے جاتے ہیں پس اگر طعمہ مرتد نہ ہوتا اور مشرکین کے ساتھ جاکرنہ ملتا تو ممکن تھا کہ چوری وغیرہ کا گناہ بغیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–124
85 یہ مشرکین اور شیطان کی اطاعت کرنے والوں کے لیے تخویف اخروی ہے اور وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا لصّٰلِحٰتِ سے توحید کو ماننے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ لَیْسَ بِاَ مَانِیَّکُمْ وَ لَا اَمَانِیِّ اَھْلِ الْکِتٰبِ الخ یہ مومنین اور اہل کتاب کو زجر ہے کہ تمہاری اور اہل کتاب کی خواہشات اور آرزؤوں کے احکام کی تعمیل پر ہے اس لیے باہمی تفاخر سے کوئی فائدہ نہیں۔ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْءاً تخویف اخروی اور وَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ سے بشارت اخروی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–122
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید فرمائی تھی اور ساتھ یہ بات بھی سمجھائی تھی کہ جو لوگ اللہ کے علاوہ غیروں کی پرستش کرتے ہیں۔ انہوں نے زنا ناموں سے دیویاں بنارکھی ہیں اور دراصل وہ شیطان کی پوجا کرتے ہیں۔ شیطان ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے اور ان کی تخیلات پر غالب آکر ان کو شرک پر آمادہ کرتا ہے حدیث شریف میں شیطان سے پناہ پکڑنے کے لیے اس دعا کا ذکر آتا ہے۔ اللھم انی اعوذ بک من شرالشطین وشرکہ اے اللہ ! میں شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ پکڑتا ہوں۔ اس لفظ کو شرک اور شرک دونوں طرح سے پڑھا گیا ہے۔ شرک کا معنی جال ہوتا ہے تو اگر ایسا ہے تو معنی ہوگا ، اے اللہ ! میں شیطان…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَـنُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْھَآ اَبَدًا 0ۭ وَعْدَ اللہِ حَقًّا 0ۭ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ قِيْلًا 122
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–122
1 ؎ باوجود خدا کے بندے ہونے کے شیطان کے ہی حکم بردار ہوں گے۔ 12
2 ؎؎ شیطان جہاں بنی آدم کے دل میں طرح طرح کے خیالات فاسدہ پیدا کرتا ہے ایسا کرو گے تو یوں ہوگا فلاں معبود کو پکارو گے تو رستگاری کرے گا۔ اولاد اور مواشی میں ان کی نذر و نیاز کرو گے تو برکت ہوگی۔ اسی قسم سے تھا جو وہ مکہ کے کافروں کے دل میں ڈالتا تھا کہ بتوں کی نذر و نیاز کے لئے جانوروں کے کان چیر ڈالتے تھے اور داغ دے کر ان کی شکل بگاڑ دیتے تھے۔ اس سے مقصود یہ ہوتا تھا کہ یہ بتوں اور غیر اللہ کے نام سے مخصوص ہوجائیں۔ اب بھی جاہلوں بلکہ جاہل مسلمانوں میں بھی ایسے ہی دستور ہیں صرف یہ ہے کہ بتوں کی جگہ صلحاء و اولیائِ کرام کے نام سے…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہَارُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا ط وَعْدَ اللّٰہِ حَقًّا ط وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ قِیْلًا
” اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ہم ان کو ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ وہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنی بات میں سچا ہوگا۔ “ (النسآء : 122)
شیطان کی پرفریب چالوں ‘ اس کے وعدوں اور اس کی امیدوں کے بہلاو وں کا ذکر فرمانے کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ نجات پانے والے شیطان کے وعدوں پر بھروسہ کرنے والے لوگ نہیں ‘ ان کی حیثیت تو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مشرک جہنم میں جائیں گے شرک سے پاک ایمان اور نیک عمل کے حاملین جنت میں داخل ہوں گے۔
جو لوگ ایمان لائے اور شریعت کے مطابق نیک عمل کرتے رہے ان کے بارے میں رب کریم فرماتے ہیں کہ ہم انہیں ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری وساری ہوں گی۔ اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق اور سچا ہے کہ مشرک جہنم میں اور مومن جنت میں جائیں گے۔ مومنوں کو انتہا درجے کی تسلی دینے کے لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے سے بڑھ کر کسی اور کا وعدہ اور فرمان سچا نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا صاحب ایمان لوگوں کو جنت کے حصول کے لیے پوری کوشش کرنی اور اس کے حصول کے لیے دن رات…
Read the full tafseer →آیت 122 : وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے) اور شیطان کی کفریہ باتوں میں اتباع نہیں کی۔
سَنُدْ خِلُہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا (عنقریب ہم ان کو ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں چلتی ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے)
قراءت : نخعی کی قرء ات میں سید خلہم ہے۔ وَعْدَاللّٰہِ حَقًّا (اللہ تعالیٰ نے اس کا سچا وعدہ کیا ہے)
نحو : وعد اور حَقًّا دونوں مصدر ہیں مفعول مطلق برائے تاکید لائے گئے ایک اپنے فعل کی تاکید جبکہ دوسرا اسی فعل کی تاکید ہے۔
استفہام بمعنی نفی :
وَمَنْ اَصْدَقُ…
Read the full tafseer →122۔ (آیت)” والذین امنوا وعملوا الصلحت سندخلھم جنات تجری من تحتھا الانھار “۔ ان کے کمروں اور مکانوں کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی (آیت)” خالدین فیھا ابدا وعداللہ حقا ومن اصدق من اللہ قلیلا “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
(116 ۔ 122) ۔ اس سے پہلے یہ آیت اہل کتاب کے ذکر میں تھی اس لئے وہاں فقد افتری ( 4۔ 48) فرمایا تھا کیونکہ اہل کتاب کا شرک جان بوجھ کر افتراء کے طور پر تھا یہاں عرب کے مشرکوں اور مرتدلوگوں کا ذکر ہے اس لئے فقد ضل فرمایا کہ یہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ ان کی جہالت کا سبب ہے، باقی معنی آیت کے پہلی جگہ جہاں یہ ہے۔ وہاں بیان کئے گئے ہیں عرب کے مشرک لوگ اپنے بتوں کے نام لات و منات اور عزیٰ عورتوں کے سے رکھتے تھے۔ اس واسطے فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے سوا عورتوں کو پکارتے ہیں۔ اللہ کے سوا جس چیز کی کوئی پوجا کرتا ہے وہ شیطان کے بہکانے سے کرتا ہے اس لئے فرمایا کہ حقیقت میں یہ لوگ شیطان معلون کی پوجا کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
آیت 122-
یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشوتں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، روز آخرت اور اچھی بری تقدیر پر علم، تصدیق اور اقرار کے ساتھ اس طرح ایمان لائیں جس طرح ان کو حکم دیا گیا ہے۔ (وعملوا الصلحت) ” اور نیک کام کرتے رہے۔ “ یعنی وہ اعمال جو ایمان سے جنم لیتے ہیں اور یہ تمام مامورات کو شامل ہے، چاہے وہ فرض ہوں یا مستحب، ان کا تعلق اعمال قلب سے ہو، اعمال لسان سے ہو اور بقیہ اعمال جو ارح سے۔ ہر شخص کے لئے اس کے حال و مقام، اس کے ایمان اور عمل صالح کی تکمیل کے مطابق ثواب مرتب ہوتا ہے۔ ایمان و عمل میں جو کوتاہی واقع ہوتی ہے اس پر مترتب ہونے والا ثواب اس کی تلافی کردیتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–124
قول باری ہے ( ولا مرنھم فلیبتکن اذان الانعام میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے) تبتیک تقطیع یعنی ٹکڑے ٹکڑے کرنے کو کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے ” یبت کہ تبتیکا ( اس ینے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے یا کر ڈالے گا) اس مقام پر اس سے مراد بحیرہ ( ایسی اونٹنی جو پانچ دفعہ بچے جن چکی ہو اور آخری بار اس کے ہاں نر بچہ پیدا ہو اس کا کان چیر کر اسے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا پھر نہ کوئی اس پر سوار ہوتا، نہ اس کا اون اتارا جاتا، نہ اس کا دودھ پیا جاتا اور نہ اسے ذبح کیا جاتا اسے حق تھا کہ جس گھاٹ سے چاہے پانی پیے اور جس کھیت سے چاہے چرے) کا کان چیرنا ہے۔ قتادہ عکرمہ اور سدی سے یہی مروی…
Read the full tafseer →310 عمل صالح سے مراد ؟ : اور عمل صالح وہی عمل ہوسکتا ہے جو کتاب و سنت کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق ہو۔ سو ان لوگوں نے محض ایمان و عشق کے دعوے ہی نہیں کئے ہوں گے بلکہ اپنے عمل و کردار سے اس کا ثبوت بھی دیا ہوگا۔ سو محض ایمان و عشق کے زبانی کلامی دعو وں سے کام نہیں چلے گا، بلکہ اس کے لئے عمل و کردار کا ثبوت بھی درکار ہوگا۔ کیونکہ ایمان و یقین اور عشق و محبت کا تعلق انسان کے باطن سے ہوتا ہے۔ اس کا ثبوت اپنے عمل و کردار سے ہی دیا جاسکتا ہے ۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ شیطان کے وعدے اور اس کی آرزوئیں تو محض جھوٹ و فریب اور دھوکے کا سامان…
Read the full tafseer →جنت کی خوشخبری
تشریح : پچھلی آیت میں بدترین جگہ جہنم کا ذکر تھا کہ شیطان کے ساتھی وہاں جائیں گے اور اس آیت میں مومنین اور نیک لوگوں کو جو اللہ و رسول ﷺ کے بتائے ہوئے راستوں پر چلتے ہیں ان کو خوشخبری دی جارہی ہے کہ ان کو جنت میں جگہ ملے گی۔ جنت کے بارے میں رسول کریم ﷺ نے فرمایا : کہ جنت نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہے نہ کسی کان نے سنی ہے، حتٰی کہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک نہیں آیا۔ (صحیح بخاری) اللہ سے زیادہ کس کی بات سچ اور حق ہوسکتی ہے ؟ یہ اللہ کا سچا اور پکا وعدہ ہے کہ نیک لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان باغات میں رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–126
رکوع نمبر 18 ۔ آیات 116 تا 126 ۔
اسرار و معارف :
ان اللہ لا یغفر ۔۔۔ محیطا۔
ایک اور بہت بڑی جماعت ان جہلا اور نادانوں کی ہے جنہوں نے اپنے آپ کو شرک جیسی مصیبت میں ڈال رکھا ہے اور وہ اوصاف جو صرف اللہ کو سزا وار ہیں دوسروں کو ان میں حصہ دار مانتے ہیں یا پھر وہ اطاعت جو صرف اللہ کا حصہ ہے اس میں دوسروں کو شریک کرلیتے ہیں یہی تین گروہ تھے علمائے یہود اور یہود و نصاری۔ جو ایمان نہ لائے تھے یا منافقین جو بظاہر ایمان لانے کا اظہار و اقرار کرتے مگر دل سے ایمان دار نہ تھے اور تیسرے مشرکین مکہ و عرب دنیا کی آبادی بلحاظ مذہب و ملت انہی تین گروہوں میں تقسیم کی جاسکتی تھی اور آج بھی ایسا ہی ہے سوائے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
ف 2 جس طرح شیطان اپنی پیروی کرنے والوں سے وعدہ کرتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ بھی اپنے نیک بندوں سے جنت اور بلند درجات کے وعدے سراسر یقینی اور قطعی ہیں درآنحالیکہ شیطان کے وعدے سراسر دھوکا اور فریب ہیں۔
Read the full tafseer →(4:122) جنت ای فی جنت۔ قیلا (اپنی) بات میں کلام میں ۔ قول میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
آیت نمبر 116-122
لغات القرآن : لایغفر، معاف نہیں کرے گا۔ ضل، بھٹک گیا۔ ضلال بعید، بھٹک کر دور تک پہنچ جانا۔ انت، عورتیں، دیویاں۔ مرید، باغی۔ اضلن، میں ضرور گمراہ کروں گا۔ امنین، میں ضرور امیدیں دلاؤں گا۔ امرن، میں ضرور سکھاؤں گا۔ یبتکن، ضرور پھاڑیں گے۔ اذان، کان۔ الانعام، مویشی، جانور۔ یغیرن، ضرور تبدیل کریں گے۔ غرور، دھوکا، فریب۔ محیص، بھاگنے کی جگہ۔ اصدق، زیادہ سچا۔ قیل، کہا گیا، قول۔
تشریح : یہاں بالکل واضح طریقہ سے کہہ دیا گیا ہے کہ شرک کی معافی نہیں ہے۔ اس کے سوا اگر اللہ چاہے تو ہر گناہ کی معافی ہوسکتی ہے۔ چونکہ شرک ہی سارے گناہوں کی جڑ ہے۔ یہ کفر کی سب سے خطرناک قسم ہے۔ جب بندہ اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
شان نزول : حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ آیت ایک بوڑھے اعرابی کے حق میں نازل ہوئی جس نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں بوڑھا ہوں گناہوں میں غرق ہوں بجز اس کے کہ جب سے میں نے اللہ کو پہچانا اور اس پر ایمان لایا، اس وقت سے کبھی میں نے اس کے ساتھ شرک نہیں کیا اور اس کے سوا کبھی کسی اور کو ولی نہیں بنایا، اور جرات کے ساتھ گناہوں میں مبتلا نہ ہوا، اور ایک پل بھی میں نے یہ گمان نہ کیا کہ میں اللہ سے بھاگ سکتا ہوں۔ میں شرمندہ ہوں اور مغفرت چاہتا ہوں۔ اللہ کے ہاں میرا کیا حال ہوگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ شرک نہ بخشا جائے گا جو مشرک اپنے شرک پر مرے اور جو مشرک اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–126
[77] مشرکین عرب کا دستور تھا کہ وہ خاص خاص جانوروں کے کان چیر کر اپنے فرضی معبودوں کے نام بطور نذر چھوڑ دیتے تھے۔ یہ کان کا چیرنا اس مقصد کے لئے ہوتا تھا کہ دوسرے ان کو نذر سمجھ کر ان سے تعرض نہ کریں۔
[78] اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کے بدلنے سے مراد اللہ کی اس فطرت کو بدلنا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تمام خلائق کو پیدا کیا ہے مثلاً توحید دین فطرت ہے لیکن شیطان اور اس کے ایجنٹوں نے اس کو شرک سے مسخ کیا ضمناً اس میں وہ ساری چیزیں آجائیں گی جو اللہ کی فطرت کی تبدیلی کے حکم میں ہیں، مثلاً مردوں اور عورتوں کو بانجھ بنانا، ضبط ولادت، مردوں کو خواجہ سرا بنانا اور اسی قبیل کی دوسری خرافات۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–122
(ف 2) ان آیات میں شیطان کے کام بتائے ہیں کہ وہ گمراہی کے کیا کیا وسائل اختیار کرتا ہے ۔ کہیں جھوٹی امیدیں دلاتا ہے ۔ کہیں تبرک وقربانی کے لئے جانوروں کے کان ، ناک چھدواتا ہے کہیں تغیر خلق وتبدیل فطرت پر آمادہ کرتا ہے ۔ فرمایا کہ ایسے لوگ جو اس کے جھانسے میں آگئے ہیں صریح گھاٹے میں ہیں اور ان کے لئے قیامت کے دن جہنم ٹھکانا ہے ۔
حل لغات :
اناث : جمع انثی ۔ مادہ عورت ۔
مرید : سرکش ۔
یبتکن : کان کاٹ دینا مشرکین مکہ کا قاعدہ تھا کہ جب اونٹنی پانچ بچے دے اور پانچواں بچہ نر ہو تو وہ اس کا کان چیر دیتے تھے اور اسے عزت و حرمت کے قابل سمجھتے تھے اس پر سوار نہ ہوتے تھے ، اس لفظ سے اسی رسم کی طرف اشارہ…
Read the full tafseer →ف 2 یہ لوگ جو شیطان کے فرمانبردار ہیں یہی وہ ہیں جن کا آخری ٹھکانا جہنم ہے اور یہ لوگ اس دوزخ سے کہیں بھاگنے کو جگہ نہ پائیں گے اور رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند رہے اور اچھے کام کرتے رہے ہم ان کو عنقریب ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کی سیر گاہوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ نے اس حسن سلوک کا وعدہ فرمایا ہے اور سچا وعدہ فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کون بات کا سچا ہوسکتا ہے۔ (تیسیر)
محیص جائے فرار وعد اللہ حقاً کی لوگوں نے مختلف ترکیبیں کی ہیں ہم نے مشہور ترکیب اختیار کی ہے یعنی وھدھم وعداوا حقہ حقا اور یہ اہل زبان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–122
ف 3۔ یعنی ایسے شیطان کی اطاعت کرتے ہیں جو اولا متمرد ہے ثانیا تمرد کی وجہ سے ملعون ہے ثالثا انسان کا عدو ہے جیسا اس کے اقوال سے مترشح ہے۔
4۔ یعنی خدا تعالیٰ کی اطاعت نہ کرے شیطان کی اطاعت کرے۔
Read the full tafseer →ایمان لانے والے اور ایمان کے بعد اچھے اعمال کرنے والے جنت کے باغات میں داخل ہوں گے :
200: مطلب یہ ہے کہ شیطان کے وعدے اور اس کی پیدا کردہ آرزوئیں تو محض جھوٹ کا پلندہ ہیں جن کی حقیقت کچھ بھی نہیں اور فریب کا ری کی حقیقت ہوتی ہی کیا ہے ؟ رہے وہ لوگ جو صحیح معنوں میں ایمان لانے والے ہیں اور اللہ کی رضا کے لئے اچھے اعمال کمانے والے ہیں ان کے لئے یقینا جنت کے دروازے کھلنے والے ہیں اور وہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے کیونکہ ان کو وہاں سے نکلنے کی ضرورت نہیں ہوگی اور ان کو اب نکالا بھی نہیں جائے گا۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” البتہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے ان کی میزبانی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
Sequence
Though, the mention of Jihad in preceding verses includes all forces hostile to Islam, yet the actual description was limited to Jews and the hypocrites. Out of the larger group of antagonists there were the pagans who were much more in numbers. The verses that follow take up their beliefs and point out to the punishment they will face. This has a coherence of its own at this place. It will be recalled that the thief mentioned earlier became an apostate. The lasting punishment he thus earned for himself becomes evident. (Bayan a1-Qur'an)
Commentary
The first verse (116) إِنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–125
149. Satanic operations are based on making attractive promises and raising high hopes. Whenever Satan wants to mislead men, whether individually or collectively, he tries to inspire them with Utopian expectations. In some he inspires expectations of ecstatic pleasure and outstanding success in their individual lives. He inspires others with prospects for achieving national glory. To still others he promises the well-being of mankind. He makes people feel confident that they can arrive at the ultimate truth without the aid of revealed knowledge. He deludes others into believing that God…
Read the full tafseer →