Explained with ayahs 116–122
مشرک کی پہچان اور ان کا انجام
اس سورت کے شروع میں پہلی آیت کے متعلق ہم پوری تفسیر کرچکے ہیں اور وہیں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں بھی بیان کردی ہیں، حضرت علی فرمایا کرتے تھے قرآن کی کوئی آیت مجھے اس آیت سے زیادہ محبوب نہیں (ترمذی) مشرکین سے دنیا اور آخرت کی بھلائی دور ہوجاتی ہے اور وہ راہ حق سے دور ہوجاتے ہیں وہ اپنے آپ کو اور اپنے دونوں جہانوں کو برباد کرلیتے ہیں، یہ مشرکین عورتوں کے پرستار ہیں، حضرت کعب فرماتے ہیں ہر صنم کے ساتھ ایک جنبیہ عورت ہے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں اِنَاثًا سے مراد بت ہیں، یہ قول اور بھی مفسرین کا ہے، ضحاک کا قول ہے کہ مشرک فرشتوں کو پوجتے تھے اور انہیں اللہ کی…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 147
اہل عرب کے توہمات میں سے ایک کی طرف اشارہ ہے۔ ان کے ہاں قاعدہ تھا کہ جب اونٹنی پانچ یا دس بچے جن لیتی تو اس کے کان پھاڑ کر اسے اپنے دیوتا کے نام پر چھوڑ دیتے اور اس سے کام لینا حرام سمجھتے تھے۔ اسی طرح جس اونٹ کے نطفہ سے دس بچے ہوجاتے اسے بھی دیوتا کے نام پر پن کردیا جاتا اور کان چیرنا اس بات کی علامت تھا کہ یہ پن کیا ہوا جانور ہے۔
سورة النِّسَآء 148
خدائی ساخت میں ردوبدل کرنے کا مطلب اشیاء کی پیدائشی بناوٹ میں ردوبدل کرنا نہیں ہے۔ اگر اس کا یہ مطلب لیا جائے تب تو پوری انسانی تہذیب ہی شیطان کے اغوا کا نتیجہ قرار پائے گی۔ اس لئے تہذیب تو نام ہی ان تصرفات کا ہے جو انسان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–121
خلاصہ تفسیر
بیشک اللہ تعالیٰ اس بات کو (سزا دے کر بھی) نہ بخشیں گے کہ ان کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا جائے (بلکہ سزائے ابدی میں مبتلا رکھیں گے) اور اس کے سوا اور جتنے گناہ ہیں (خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ) جس کے لئے منظور ہوگا (بلا سزا) وہ گناہ بخش دیں گے (البتہ اگر وہ مشرک مسلمان ہوجائے تو پھر مشرک ہی نہ رہا اب وہ سزائے دائمی بھی نہ رہی گی) اور (وجہ اس شرک کے نہ بخشنے کی یہ ہے کہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ (کسی کو) شریک ٹھراتا ہے وہ (امر حق سے) بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا (وہ امر حق توحید ہی جو عقلاً بھی واجب ہے اور کار ساز کی تعظیم اس کے حقوق میں سے ہے، پس مشرک نے حضرت صانع کار ساز کی اہانت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–121
117۔ 121:۔ اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا ۚ وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا۔ لَّعَنَهُ اللّٰهُ ۘوَقَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا۔ وَّلَاُضِلَّنَّھُمْ وَلَاُمَنِّيَنَّھُمْ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ ۭ وَمَنْ يَّتَّخِذِ الشَّيْطٰنَ وَلِيًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِيْنًا۔ يَعِدُھُمْ وَيُمَنِّيْهِمْ ۭ وَمَا يَعِدُھُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا۔ اُولٰۗىِٕكَ مَاْوٰىھُمْ جَهَنَّمُ ۡ وَلَا يَجِدُوْنَ عَنْھَا مَحِيْصًا۔
" ان یدعون "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–121
119۔ 1 یہ وہ باطل امیدیں ہیں جو شیطان کے وسوسوں اور دخل اندازی سے پیدا ہوتی اور انسانوں کی گمراہی کا سبب بنتی ہیں۔
119۔ 2 یہ بحیرہ اور سائبہ جانوروں کی علامتیں اور صورتیں ہیں۔ مشرکین ان کو بتوں کے نام وقف کرتے تو شناخت کے لئے ان کا کان وغیرہ چیر دیا کرتے تھے۔
119۔ 3 تغیْرُ خَلق اللہ (اللہ کی تخلیق کو بدلنا) کی کئی صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک تو یہی جس کا ابھی ذکر ہوا یعنی کان وغیرہ کاٹنا چیرنا سوراخ کرنا، ان کے علاوہ اور کئی صورتیں ہیں مثلاً اللہ تعالیٰ نے چاند، سورج، پتھر اور آگ وغیرہ اشیاء مختلف مقاصد کے لئے بنائی ہیں، لیکن مشرکین نے ان کے مقصد تخلیق کو بدل کر ان کو معبود بنا لیا۔ یا تغییر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–126
72: کفار عرب بعض چوپایوں کے کان چیر کر بتوں کے نام پر وقف کردیتے تھے اور ایسے جانور سے کوئی فائدہ اٹھانے کو جائز نہیں سمجھتے تھے، اس باطل رسم کی طرف اشارہ ہے کہ اس پر شیطان عمل کر ارہا ہے، اور اللہ کی تخلیق میں تبدیلی سے مراد خود یہی عمل بھی ہوسکتا ہے کہ جانور کے کان خوامخواہ چیر دئے جائیں، اس کے علاوہ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے بعض ان کاموں کو بھی تخلیق میں تبدیلی قرار دے کر منع فرمایا ہے جو عورتیں اپنے حسن میں اضافہ کرنے کی غرض سے کیا کرتی تھیں، مثلاً جسم کے کسی حصے کو سوئیوں وغیرہ سے گود کر نشانات بنوانا، چہرے کے قدرتی رویں کو (جو عیب کی حد تک بڑھا ہوا نہ ہو) صاف کرنا اور دانتوں کے درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–120
(آیت) ” نمبر 117 تا 120 ،
دور جاہلیت میں عرب یہ سمجھتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ پھر وہ ان فرشتوں کی مورتیاں بنانے اور ان کے نام عورتوں کے ناموں سے رکھتے ۔ لات ‘ عزی اور منات وغیرہ ۔ پھر وہ ان بتوں کو پوجتے تھے اور پوجتے اس لئے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیوں کے بت ہیں ۔ یوں وہ بارگاہ الہی میں ان کو تقرب کا ذریعہ بناتے تھے ۔ ابتداء میں اس طرح انہوں نے شرک کا آغاز کیا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے اس کہانی کیا اصلیت کو بھلا دیا اور ان بتوں کی پوجا بذاتہ کرنے لگے ۔ اس کے بعد جب مزید آگے بڑھے تو مطلق پتھروں کی پوجا شروع کردی۔ پارہ چہارم میں ہم نے اس کی کچھ تفصیلات دی ہیں۔
ان میں سے بعض بذات خود…
Read the full tafseer →6 یعنی جو لوگ میرے حصہ میں آئیں گے ان کو طریق حق سے گمراہ کرونگا اور انکو حیات دنیاوی اور خواہشات دنیاوی کے حصول کی اور قیامت اور حساب و کتاب امور اخروی کے نہ ہونے کی آرزود لاؤنگا اور اس بات کی تعلیم دوں گا کہ جانوروں کے کان چیر کر بتوں کے نام پر ان کو چھوڑیں گے اور اللہ کی پیدا کی ہوئی صورتوں کو اور اس کی مقرر کی ہوئی باتوں کو بدل ڈالیں گے۔ فائدہ : کافروں کا دستور تھا گائے بکری اور اونٹ کا بچہ بت کے نام کردیتے اور اس کا کان چیر کر یا اس کے کان میں نشانی ڈال کر چھوڑ دیتے اور صورت بدلنا جیسے خوجہ کرنا یا بدن کو سوئی سے گود کر تل بنانا یا نیلا داغ دینا یا بچوں کے سر پر چوٹیاں رکھنا کسی کے نام…
Read the full tafseer →آیت 119 وَّلَاُضِلَّنَّہُمْ وَلَاُمَنِّیَنَّہُمْ
ان کے دلوں میں بڑی امیدوں کے چراغ روشن کروں گا کہ یہ بہت تابناک کیریئر ہے ‘ لگے رہو اسی کام میں ‘ اس میں بڑا فائدہ ہے ‘ ناجائز ہے تو خیر ہے ‘ اللہ بخش ہی دے گا۔ ہم تو اللہ کے پیارے رسول ﷺ کے امتی ہیں ‘ ہمیں خوف کس بات کا ہے ؟ جس طرح یہودیوں کو یہ زعم ہوگیا تھا کہ ہم تو اللہ کے بیٹے ہیں ‘ ہم اس کے بڑے چہیتے ہیں ‘ وغیرہ۔ ان کو میں اس طرح کی لمبی لمبی امیدوں اور لمبے لمبے منصوبوں میں الجھا دوں گا۔ اسی کو ’ طول امل ‘ کہتے ہیں۔
وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ
اس کی تفصیل سورة الانعام میں آئے گی کہ فلاں بت یا فلاں دیوی کے نام…
Read the full tafseer →158 شیطانی فریب کی صورتیں :۔ ایسی جھوٹی آرزوئیں جن کا شریعت میں کوئی ثبوت نہ ہو۔ جیسے یہود کا یہ عقیدہ کہ انہیں دوزخ کی آگ چھو ہی نہیں سکے گی۔ ماسوائے ان چند دنوں کے جن میں گؤ سالہ پرستی کی تھی۔ یا جیسے یہ کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں اور اللہ کے چہیتے اور پیارے ہیں لہذا ہمیں آخرت میں عذاب نہ ہوگا۔ ایسی جھوٹی آرزوئیں اور عقائد شیطان ہی خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے جس سے انسان گناہوں پر دلیر ہوجاتا ہے اور یہ بات یہودی تک محدود نہیں نصاریٰ اور مسلمان بھی اس معاملہ میں شیطان سے فریب خوردہ ہیں۔ نصاریٰ نے کفارہ مسیح کا عقیدہ گھڑ رکھا ہے اور مسلمانوں میں سید حضرات کہتے ہیں کہ ہماری خیر سے نسل ہی…
Read the full tafseer →318 ۔ یعنی ان کے عقائد اور بنیادی خیالات کو بھی ڈگمگادوں گا۔ اور ان کی نفسانی جذبات اور خواہشات کو بھی ابھار دوں گا۔ گمراہیاں دو ہی طریقوں سے آسکتی ہیں اور انسانی شیطانی اثر دو ہی شکلوں سے قبول کرسکتا ہے۔ ایک عقل وفکر کی راہ سے۔ دوسرے جذبات اور احساسات کا راستہ ہے۔ قرآن مجید کے دو لفظوں نے ان سب کا احاطہ کرلیا۔ ضلال کے تحت میں ہر قسم کی عقلی، فکری، نظری گمراہیاں آگئیں۔ اور تمنی کے تحت میں معاصی، فواحش کی جانب میلان اور نظر سے ان کی مضرتوں کا غائب ہوجانا آگیا۔
319 ۔ (بتوں کے نام پر) عرب جاہلیت کے ایک خاص دستور کی طرف اشارہ ہے۔ کان کے پیچھے جو غدود ہوتے ہیں، وہ غدود بندروں کے کاٹ کاٹ کر انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–126
آیت نمبر 116 تا 126
ترجمہ : اللہ تعالیٰ قطعاً معاف نہ کرے گا اس بات کو کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے (ہاں) شرک کے علاوہ گناہ جس کے چاہے گا معاف کردے گا، اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ حق سے دور جا پڑتا ہے مشرک اللہ کو چھوڑ کر عورتوں یعنی (دیویوں) کی بندگی (پوجا) کرتے ہیں، جیسا کہ لات کی اور عزّیٰ کی اور مناة کی، ان کی عبادت نہیں ہے مگر سرکش شیطان کی عبادت جو حد طاعت سے خارج ہونیوالا ہے بتوں کی عبادت میں مشرکوں کے شیطان کی بات ماننے کی وجہ سے اور وہ ابلیس ہے، اللہ نے اس پر لعنت فرمائی یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کردیا، اور وہ شیطان کہہ چکا ہے کہ میں تیرے بندوں میں سے اپنا مقرر حصہ لے کر رہوں…
Read the full tafseer →ولاضلنہم . اور ضرور (راہِ حق سے) ان کو بھٹکاؤں گا یعنی ان کے دلوں میں وسوسے ڈالوں گا اور خواہشات نفس کو آراستہ پیراستہ شکل میں ان کے لئے لاؤں گا۔ گمراہ کرنے کی نسبت شیطان کی طرف مجازی ہے (حقیقت میں گمراہ کرنے والا اور ہدایت یاب بنانے والا اللہ ہی ہے شیطان تو گمراہی کا ایک ذریعہ ہے)
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے بعض لوگوں کے پاس شیطان آکر کہتا ہے اس کو کس نے پیدا کیا (پھر) اس کو کس نے پیدا کیا (بندہ کہتا چلا جاتا ہے کہ سب کو رب نے پیدا کیا) آخر شیطان کہتا ہے تیرے رب کو کس نے پیدا کیا لہٰذا اگر کوئی اس درجہ تک پہنچ جائے تو اس کو اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے (کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
(118۔ 119۔ 120) اس ابلیس ملعون نے کہا تھا کہ ضرور ایک بڑے حصے کو تیری اطاعت سے بےراہ کرکے اپنا حصہ اس سے لوں گا یا یہ کہ ہزار میں سے نو سو ننانوے کو دوزخ میں داخل کراؤں گا اور ہدایت سے گمراہی پر لاؤں گا اور جو شخص شیطان کی پوجا کرتا ہے وہ دنیا وآخرت کے برباد ہونے کی وجہ سے کھلے نقصان میں ہے۔
شیطان ان سے یہ وعدے کرتا ہے کہ جنت اور دوزخ کچھ نہیں اور یہ جھوٹی امید دلاتا ہے کہ دنیا کا خاتمہ نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →وَلَاُمَنِّيَنَّھُمْ۔۔ : یہ وہ باطل امیدیں ہیں جو شیطان انسان کے دل میں پیدا کرتا ہے کہ گناہ کرتے رہو اللہ تعالیٰ بڑا غفور و رحیم ہے، ایمان مسلمان کے دل میں ہونا چاہیے، نماز پڑھنے اور دوسرے نیک اعمال کی کیا ضرورت ہے، یا ابھی جلدی کیا ہے، مرتے وقت توبہ کرلیں گے، یا جن بزرگوں اور پیروں کا تم دم بھرتے ہو ان کا اللہ پر بڑا زور ہے، تم ان کا دامن تھام لینا وہ تمہیں سیدھے جنت میں لے جائیں گے وغیرہ۔ اس قسم کے تمام خیالات اور گمان شیطانی آرزوؤں میں داخل ہیں۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)
3 فَلَيُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ۔۔ : ”بَتَّکَ“ کا معنی قطع کرنا ہے، یعنی غیر اللہ کے نام پر جانوروں کے کان کاٹ کر ان پر…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 119۔
اس میں نو مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولاضلنھم “۔ یعنی میں انہیں ہدایت کے راستہ سے پھیروں گا۔ (آیت) ” ولا منینھم یعنی ان کے لیے جھوٹے امیدیں مزین کروں گا۔ یہ کسی ایک تمنا پر منحصر نہیں، کیونکہ ہر ایک اپنی رغبت اور قرائن حال کے اعتبار سے خواہش و تمنا کرتا ہے، بعض علماء نے فرمایا : میں انہیں لمبی زندگی کی امیددلاؤں گا کہ خیر توبہ اور معرفت حاصل کرنے کا بڑا وقت باقی ہے نیز انہیں گناہوں پر اصرار کی امید دلاؤں گا (آیت) ” ولا مرنھم فلیبتکن اذان الانعام “۔ البتک کا معنی کاٹنا ہے اسی سے ہے سیف باتک کانٹے والی تلوار، یعنی شیطان نے کہا : میں انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–122
(1) عبد اللہ بن احمد نے الزوائد المسند میں وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابی بن کعب ؓ سے لفظ آیت ” ان یدعون من دونہ الا انثا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر بت کے ساتھ ایک جنی عورت ہوتی ہے۔
(2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ ” ان یدعون من دونہ الا انثا “ یعنی لات عزی اور منات سب مؤنث ہیں۔
(3) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” ان یدعون من دونہ الا انثا “ کہ ان کے نام عورتوں والے رکھتے تھے (جیسے لات، منات اور عزی ) ۔
(4) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان یدعون من دونہ الا انثا “ سے مردہ مراد ہے۔
(5) عبد بن حمید…
Read the full tafseer →[ وَّلَاُضِلَّـنَّـہُمْ : اور میں لازماً بہکائوں گا ان کو ] [ وَلَاُمَنِّیَنَّـہُمْ : اور میں لازماً تمنائوں میں مبتلا کروں گا ان کو ] [ وَلَاٰمُرَنَّـھُمْ : اور میں لازماً ترغیب دوں گا ان کو ] [ فَلَیُـبَـتِّکُنَّ : پھر وہ لوگ لازماً چیریں گے ] [ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ : چوپائوں کے کان ] [ وَلَاٰمُرَنَّـھُمْ : اور میں لازماً ترغیب دوں گا ان کو ] [ فَلَیُغَـیِّرُنَّ : پھر وہ لازماً بدلیں گے ] [ خَلْقَ اللّٰہِ : اللہ کی خلقت کو ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ یَّتَّخِذِ : بناتا ہے ] [ الشَّیْطٰنَ : شیطان کو ] [ وَلِـیًّا : کارساز ] [ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ : اللہ کے علاوہ ] [ فَقَدْ خَسِرَ : تو اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–119
مشرکین مورتیوں کی پوجا کرتے ہیں اور شیطان کے فرمانبر دار ہیں
اوپر شرک کا ذکر تھا ان آیات کی بعض صورتوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ شرک اور کفر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا ہر کام یہ سب شیطان کے سمجھانے سے اور اس کی راہ بتانے سے وجود میں آتا ہے۔ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا تھا کہ آدم کو سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے جو مجھے گمراہ قرار دیا ہے تو میں بنی آدم سے اس کا بدلہ لے لوں گا۔ بنی آدم کا ایک بہت بڑا حصہ اپنی طرف لگا لوں گا تھوڑے بہت ہی لوگ بچیں گے۔ اکثر لوگوں کو اپنی اطاعت پر ڈال دوں گا، جب حضرت آدم (علیہ السلام) دنیا میں آئے اور ان کی ذریت پھیلنی شروع ہوئی اور شیطان مردود بھی دنیا میں آگیا جو اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–126
شرک اور اہل شرک کی مذمت اور رسوم جاہلیت کا ابطال۔
قال تعالی، ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ محیطا۔
یہ آخری آیت ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی۔ آیت۔ بھی طعمہ کے بارے میں نازل ہوئی جب اس نے دیکھا کہ اللہ نے اس کا پردہ فاش کردیا تو مرتد ہو کر چلا گیا ایک شخص کی دیوار میں نقب لگایا اتفاقا دیوار اس پر گر پڑی اور وہ مرگیا اب اس کے بعد اللہ شرک کی بابت ارشاد فرماتے ہیں کہ شرک تو بغیر توبہ کے کسی حال میں نہیں بخشا جاتا اور البتہ شرک اور کفر کے علاوہ اور گناہ بغیر توبہ کے بھی بخشے جاتے ہیں پس اگر طعمہ مرتد نہ ہوتا اور مشرکین کے ساتھ جاکرنہ ملتا تو ممکن تھا کہ چوری وغیرہ کا گناہ بغیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–120
84 یعنی بظاہر تو فرشتوں اور بزرگوں کی موتیوں کو پکارتے اور ان پر نذریں نیازے چڑھاتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ سب کچھ وہ شیطان کیلئے کر رہے ہیں جو ان مورتیوں سے بولتا ہے کان یدخل فی اجواف الاصنام فیتکلم واعیھا (بحر ج 3 ص 352) یہاں تک شرک اعتقادی کی نفی تھی وقال لا تخذن من عبادک نصیبا مفروضا۔ یہاں سے شرک فعلی کی نفی کی گئی ہے۔ نَصِیْباً مَّفْرُوْضاً مقررہ حصہ یعنی میں تیرے بندوں کو ایسا گمراہ کروں گا کہ وہ شرک کرنے لگیں گے اور اپنے مالوں سے مقررہ حصے غیر اللہ کی نیازوں کے نکالیں گے (شاہ عبدالقادر) ۔ فَلْیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ الخ یعنی وہ غیر اللہ کی خوشنودی کے لیے جانور چھوڑیں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–122
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید فرمائی تھی اور ساتھ یہ بات بھی سمجھائی تھی کہ جو لوگ اللہ کے علاوہ غیروں کی پرستش کرتے ہیں۔ انہوں نے زنا ناموں سے دیویاں بنارکھی ہیں اور دراصل وہ شیطان کی پوجا کرتے ہیں۔ شیطان ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے اور ان کی تخیلات پر غالب آکر ان کو شرک پر آمادہ کرتا ہے حدیث شریف میں شیطان سے پناہ پکڑنے کے لیے اس دعا کا ذکر آتا ہے۔ اللھم انی اعوذ بک من شرالشطین وشرکہ اے اللہ ! میں شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ پکڑتا ہوں۔ اس لفظ کو شرک اور شرک دونوں طرح سے پڑھا گیا ہے۔ شرک کا معنی جال ہوتا ہے تو اگر ایسا ہے تو معنی ہوگا ، اے اللہ ! میں شیطان…
Read the full tafseer →وَّلَاُضِلَّنَّھُمْ وَلَاُمَنِّيَنَّھُمْ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللہِ 0ۭ وَمَنْ يَّتَّخِذِ الشَّيْطٰنَ وَلِيًّا مِّنْ دُوْنِ اللہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِيْنًا 119ۭ
( ضل)إِضْلَالُ
والإِضْلَالُ ضربان : أحدهما : أن يكون سببه الضَّلَالُ ، وذلک علی وجهين : إمّا بأن يَضِلَّ عنک الشیءُ کقولک : أَضْلَلْتُ البعیرَ ، أي : ضَلَّ عنّي، وإمّا أن تحکم بِضَلَالِهِ ، والضَّلَالُ في هذين سبب الإِضْلَالِ.
والضّرب الثاني :
أن يكون الإِضْلَالُ سببا لِلضَّلَالِ ، وهو أن يزيّن للإنسان الباطل ليضلّ کقوله : لَهَمَّتْ طائِفَةٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–122
1 ؎ باوجود خدا کے بندے ہونے کے شیطان کے ہی حکم بردار ہوں گے۔ 12
2 ؎؎ شیطان جہاں بنی آدم کے دل میں طرح طرح کے خیالات فاسدہ پیدا کرتا ہے ایسا کرو گے تو یوں ہوگا فلاں معبود کو پکارو گے تو رستگاری کرے گا۔ اولاد اور مواشی میں ان کی نذر و نیاز کرو گے تو برکت ہوگی۔ اسی قسم سے تھا جو وہ مکہ کے کافروں کے دل میں ڈالتا تھا کہ بتوں کی نذر و نیاز کے لئے جانوروں کے کان چیر ڈالتے تھے اور داغ دے کر ان کی شکل بگاڑ دیتے تھے۔ اس سے مقصود یہ ہوتا تھا کہ یہ بتوں اور غیر اللہ کے نام سے مخصوص ہوجائیں۔ اب بھی جاہلوں بلکہ جاہل مسلمانوں میں بھی ایسے ہی دستور ہیں صرف یہ ہے کہ بتوں کی جگہ صلحاء و اولیائِ کرام کے نام سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–119
اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اِنٰـثًا ج وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًا لا لََّعَنَہُ اللّٰہُ م وَقَالَ لَاتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا لا وَّلَاُضِلَّـنَّہُمْ وَلَاُمَنِّیَنَّہُمْ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ ط وَمَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًا ط
” وہ اللہ کے سوا نہیں پکارتے مگر دیویوں کو۔ اور وہ نہیں پکارتے مگر شیطانِ سرکش کو جس پر اللہ نے لعنت کی ہے۔ اور اس نے کہہ رکھا ہے کہ میں ہتھیا کے رہوں گا تیرے بندوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
فہم القرآن
ربط کلام : شرک دراصل شیطان کا حکم ماننا اور اس کی عبادت کرنا ہے۔ شیطان پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے لہٰذا مشرک پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔
شیطان نے صرف آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار نہیں کیا بلکہ وہ جرم پر جرم کرتا چلا گیا۔ اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر معذرت کرنے کی بجائے اپنے جرم کے دلائل دیتے ہوئے قسمیں اٹھائیں کہ میں ہر حال میں بنی نوع انسان کو گمراہ کرتا رہوں گا۔ یہاں تک کہ ان میں سے کثیر تعداد کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ میں انہیں پر کشش اور دلفریب امیدیں دلاؤں گا اور انہیں جانوروں کے کان چیرنے اور اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بدلنے کا حکم دوں گا۔ چناچہ ابتدائے آفرینش سے…
Read the full tafseer →شیطانی چالیں :
آیت 119 : وَلَاُ ضِلَّنَّہُمْ (اور میں ضرور ان کو راہ حق سے بھٹکائوں گا) گمراہی کی طرف دعوت دے کر اور وسوسہ اندازی سے۔ اگر شیطان کے پاس گمراہی کو نافذ کرنے کی قوت ہوتی تو تمام گمراہ ہوجاتے۔
وَلَاُ مَنِّیَنَّہُمْ (اور میں ان کے دلوں میں باطل ہو سیں دلاؤں گا) یعنی باطل و بےکار تمنائیں ان کے دلوں میں ڈالوں گا۔ جیسے درازیٔ عمر ٗ امیدوں کو پالینا۔ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ ٰاذَانَ الْاَنْعَامِ (میں ان کو تعلیم دونگا جس سے وہ جانوروں کے کان کاٹیں گے) البتک کاٹنا، کثرت سے چیرنا۔ بار بار چیرنا۔ مطلب یہ ہے کہ میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ چوپایوں کے کان کاٹیں۔ وہ…
Read the full tafseer →119۔ (آیت)” ولا اضلنھم “۔ حق سے گمراہ کرنا یعنی ان سب کو گمراہ کرنا ، ابلیس کے اس پوشیدہ کلام کرنے کے ساتھ ۔ ابلیس کو اسی وجہ سے ابلیس کہا جاتا ہے کیونکہ یہ لوگوں پر حق کو ملتبس کردیتا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” لازینن لھم فی الارض “ کہ ہم زمین کو خوب مزین کردیں گے ۔ (آیت)” ولامنینھم “ وہ تمنائیں ڈالتا ہے کہ نہ جنت ہے نہ دوزخ ہے نہ کوئی عذاب اور نہ ہی کوئی قیامت اور نہ جی کر اٹھنا اور بعض نے کہا معاصی کے ارتکاب کے ساتھ ساتھ آخرت کے ادراک کی تمنا کرنا (آیت)” ولامرنھم فلیبتکن اذان الانعام ولامرنھم لیغیرن خلق اللہ “۔
(فلیغیرن خلق اللہ کی وضاحت)
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
(116 ۔ 122) ۔ اس سے پہلے یہ آیت اہل کتاب کے ذکر میں تھی اس لئے وہاں فقد افتری ( 4۔ 48) فرمایا تھا کیونکہ اہل کتاب کا شرک جان بوجھ کر افتراء کے طور پر تھا یہاں عرب کے مشرکوں اور مرتدلوگوں کا ذکر ہے اس لئے فقد ضل فرمایا کہ یہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ ان کی جہالت کا سبب ہے، باقی معنی آیت کے پہلی جگہ جہاں یہ ہے۔ وہاں بیان کئے گئے ہیں عرب کے مشرک لوگ اپنے بتوں کے نام لات و منات اور عزیٰ عورتوں کے سے رکھتے تھے۔ اس واسطے فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے سوا عورتوں کو پکارتے ہیں۔ اللہ کے سوا جس چیز کی کوئی پوجا کرتا ہے وہ شیطان کے بہکانے سے کرتا ہے اس لئے فرمایا کہ حقیقت میں یہ لوگ شیطان معلون کی پوجا کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–121
آیت 117
یعنی یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کے سوا جن ہستیوں کو پکارتے ہیں سب مؤنث ہیں یعنی لوگ جن بتوں کو پوجتے ہیں وہ عورتوں جیسے ناموں سے موسوم ہیں، مثلاً ” عزی “ اور ” مناۃ “ وغیرہ یہ بھی ہمیں معلوم ہے کہ اسم اپنے مسمی پر دلالت کرتا ہے اور جب ان بتوں کے نام مؤنث اور ناقص ہیں تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ان اسماء کے مسمیات بھی ناقص اور صفات کمال سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر فرمایا ہے کہ یہ بات کوئی چیز تخلیق کرسکتے ہیں نہ رزق عطا کرسکتے ہیں نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی کسی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں بلکہ وہ تو اپنی ذات تک کے نفع و نقصان کے مالک نہیں اور اگر کوئی ان کو نقصان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–124
قول باری ہے ( ولا مرنھم فلیبتکن اذان الانعام میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے) تبتیک تقطیع یعنی ٹکڑے ٹکڑے کرنے کو کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے ” یبت کہ تبتیکا ( اس ینے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے یا کر ڈالے گا) اس مقام پر اس سے مراد بحیرہ ( ایسی اونٹنی جو پانچ دفعہ بچے جن چکی ہو اور آخری بار اس کے ہاں نر بچہ پیدا ہو اس کا کان چیر کر اسے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا پھر نہ کوئی اس پر سوار ہوتا، نہ اس کا اون اتارا جاتا، نہ اس کا دودھ پیا جاتا اور نہ اسے ذبح کیا جاتا اسے حق تھا کہ جس گھاٹ سے چاہے پانی پیے اور جس کھیت سے چاہے چرے) کا کان چیرنا ہے۔ قتادہ عکرمہ اور سدی سے یہی مروی…
Read the full tafseer →305 جانوروں کے کان کٹوانے کا چیلنج : سو ابلیس نے کہا تھا کہ میں ضرور بالضرور ان کو پٹی پڑھاؤں گا تاکہ یہ اپنے جانوروں کے کان کاٹیں۔ بتوں وغیرہ معبودان باطلہ کے نام پر چھوڑنے کیلئے، جیسا کہ مشرکین عرب " بحیرہ " و " سائبہ " وغیرہ چھوڑتے تھے۔ اور ہندو اپنے بتوں کے نام اور اپنے مندروں وغیرہ میں چھوڑتے ہیں۔ اور کلمہ گو مشرک (نام نہاد مسلمان) مختلف قبروں اور آستانوں کے نام سے چھوڑتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ غیر اللہ کے نام کی نذر ونیاز حرام اور شرک ہے۔ خواہ وہ کسی بھی نام سے ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے واضح فرمایا گیا کہ شیطان مرید نے اپنے چیلنج میں کہا کہ میں اولاد آدم کو گمراہ کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–121
شرک اور شیطان کی حرکتیں
تشریح : ان آیات میں شرک کی وضاحت اور شیطان کی چالوں کا ذکر کیا گیا ہے اللہ کو چھوڑ کر کفار بت پرستی، آگ پر ستی، چاند، سورج، ستاروں کو پوجتے ہیں اور پھر سب سے بڑا انسان کا دشمن ” شیطان “ جس کے بارے میں سورة ٔ البقرہ میں وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے اور یہاں پھر بیان کیا جارہا ہے کہ شیطان ہر وقت اور ہر ممکن صورت میں انسان کو اپنی راہوں پر چلانے، اللہ کے راستے سے دور کرنے کی کوششیں کرتا رہتا ہے خاص طور پر تواہمات میں مبتلا کرتا ہے، یعنی جانوروں کے کان پھاڑنا۔ جب اونٹنی پانچ یا دس بچے پیدا کرلیتی یا اونٹ کے نطفے سے دس بچے پیدا ہوجاتے تو اہل عرب انکے کان چیر کر ان کو دیوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–126
رکوع نمبر 18 ۔ آیات 116 تا 126 ۔
اسرار و معارف :
ان اللہ لا یغفر ۔۔۔ محیطا۔
ایک اور بہت بڑی جماعت ان جہلا اور نادانوں کی ہے جنہوں نے اپنے آپ کو شرک جیسی مصیبت میں ڈال رکھا ہے اور وہ اوصاف جو صرف اللہ کو سزا وار ہیں دوسروں کو ان میں حصہ دار مانتے ہیں یا پھر وہ اطاعت جو صرف اللہ کا حصہ ہے اس میں دوسروں کو شریک کرلیتے ہیں یہی تین گروہ تھے علمائے یہود اور یہود و نصاری۔ جو ایمان نہ لائے تھے یا منافقین جو بظاہر ایمان لانے کا اظہار و اقرار کرتے مگر دل سے ایمان دار نہ تھے اور تیسرے مشرکین مکہ و عرب دنیا کی آبادی بلحاظ مذہب و ملت انہی تین گروہوں میں تقسیم کی جاسکتی تھی اور آج بھی ایسا ہی ہے سوائے اس…
Read the full tafseer →ف 11 کہ گناہ کرتے رہو اللہ تعالیٰ بڑا غفور رحیم ہے۔ مسلمان کے دل میں ایمان ہونا چاہیے نماز پڑھنے اور دوسرے نیک اعمال کرنے کی کیا ضرورت ہے یا ابھی جلدی کیا ہے مرتے وقت توبہ کرلیں گے یا جن بزرگوں اور پیروں کا تم دم بھرتے ہو ان کا اللہ تعالیٰ پر بڑا زور ہے تم ان کا دامن تھام لینا وہ تمہیں سیدھے جنت میں لے جائیں گے وغیرہ اس قسم کے تمام خیالات وظنوں شیطانی آرزوں داخل ہیں کذافی القر طبی وابن کثیر۔ (وحیدی)12 البتک کے معنی قطع کرنا کے ہیں۔ یعنی پھر ان پر سواری کرنا حرام سمجھیں گے جن کو بحیرہ وسائبہ وغیرہ کہتے تھے (دیکھئے سورت مائدہ آیت 103)13 یعنی اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں اس کی شکل و صورت…
Read the full tafseer →لامنینھم۔ باب تفصیل ۔ میں ان کو (طرح طرح کی) امیدیں دلاؤں گا۔ تمنۃ وتمنیۃ۔ منی یمنی۔ آرزو دلانا۔ رغبت دلانا
لامرنہم۔ میں ان کو ضرور حکم دوں گا۔ امر سے۔
لیستکن۔ بتک یبتک نبتیک (تفعیل) کاٹنا ۔ کاٹ کاٹ کر ٹکڑے کرنا۔ چیرنا یبتکن اذان الانعام۔ وہ ضرور جانوروں کے کان کا ٹا کریں گے۔ (کفار عرب اس اونٹنی کو جو پانچ بچے جنتی اور پانچواں نر ہوتا تو اس کے کام چھیدددد کر بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے۔ اور اس سے کسی قسم کا کام نہ لیتے۔ یہ بھی شرک کی ایک شکل ہے۔
ولامرنھم فلیبتکن اذان الانعام۔ میں ان کو شدت یا اصرار سے حکم دوں گا اور اس کے نتیجہ میں وہ ضرور جانوروں کے کان کاٹا کریں گے۔پچھلے فعل کے نتیجہ کو ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
آیت نمبر 116-122
لغات القرآن : لایغفر، معاف نہیں کرے گا۔ ضل، بھٹک گیا۔ ضلال بعید، بھٹک کر دور تک پہنچ جانا۔ انت، عورتیں، دیویاں۔ مرید، باغی۔ اضلن، میں ضرور گمراہ کروں گا۔ امنین، میں ضرور امیدیں دلاؤں گا۔ امرن، میں ضرور سکھاؤں گا۔ یبتکن، ضرور پھاڑیں گے۔ اذان، کان۔ الانعام، مویشی، جانور۔ یغیرن، ضرور تبدیل کریں گے۔ غرور، دھوکا، فریب۔ محیص، بھاگنے کی جگہ۔ اصدق، زیادہ سچا۔ قیل، کہا گیا، قول۔
تشریح : یہاں بالکل واضح طریقہ سے کہہ دیا گیا ہے کہ شرک کی معافی نہیں ہے۔ اس کے سوا اگر اللہ چاہے تو ہر گناہ کی معافی ہوسکتی ہے۔ چونکہ شرک ہی سارے گناہوں کی جڑ ہے۔ یہ کفر کی سب سے خطرناک قسم ہے۔ جب بندہ اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
شان نزول : حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ آیت ایک بوڑھے اعرابی کے حق میں نازل ہوئی جس نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں بوڑھا ہوں گناہوں میں غرق ہوں بجز اس کے کہ جب سے میں نے اللہ کو پہچانا اور اس پر ایمان لایا، اس وقت سے کبھی میں نے اس کے ساتھ شرک نہیں کیا اور اس کے سوا کبھی کسی اور کو ولی نہیں بنایا، اور جرات کے ساتھ گناہوں میں مبتلا نہ ہوا، اور ایک پل بھی میں نے یہ گمان نہ کیا کہ میں اللہ سے بھاگ سکتا ہوں۔ میں شرمندہ ہوں اور مغفرت چاہتا ہوں۔ اللہ کے ہاں میرا کیا حال ہوگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ شرک نہ بخشا جائے گا جو مشرک اپنے شرک پر مرے اور جو مشرک اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–126
[77] مشرکین عرب کا دستور تھا کہ وہ خاص خاص جانوروں کے کان چیر کر اپنے فرضی معبودوں کے نام بطور نذر چھوڑ دیتے تھے۔ یہ کان کا چیرنا اس مقصد کے لئے ہوتا تھا کہ دوسرے ان کو نذر سمجھ کر ان سے تعرض نہ کریں۔
[78] اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کے بدلنے سے مراد اللہ کی اس فطرت کو بدلنا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تمام خلائق کو پیدا کیا ہے مثلاً توحید دین فطرت ہے لیکن شیطان اور اس کے ایجنٹوں نے اس کو شرک سے مسخ کیا ضمناً اس میں وہ ساری چیزیں آجائیں گی جو اللہ کی فطرت کی تبدیلی کے حکم میں ہیں، مثلاً مردوں اور عورتوں کو بانجھ بنانا، ضبط ولادت، مردوں کو خواجہ سرا بنانا اور اسی قبیل کی دوسری خرافات۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–122
(ف 2) ان آیات میں شیطان کے کام بتائے ہیں کہ وہ گمراہی کے کیا کیا وسائل اختیار کرتا ہے ۔ کہیں جھوٹی امیدیں دلاتا ہے ۔ کہیں تبرک وقربانی کے لئے جانوروں کے کان ، ناک چھدواتا ہے کہیں تغیر خلق وتبدیل فطرت پر آمادہ کرتا ہے ۔ فرمایا کہ ایسے لوگ جو اس کے جھانسے میں آگئے ہیں صریح گھاٹے میں ہیں اور ان کے لئے قیامت کے دن جہنم ٹھکانا ہے ۔
حل لغات :
اناث : جمع انثی ۔ مادہ عورت ۔
مرید : سرکش ۔
یبتکن : کان کاٹ دینا مشرکین مکہ کا قاعدہ تھا کہ جب اونٹنی پانچ بچے دے اور پانچواں بچہ نر ہو تو وہ اس کا کان چیر دیتے تھے اور اسے عزت و حرمت کے قابل سمجھتے تھے اس پر سوار نہ ہوتے تھے ، اس لفظ سے اسی رسم کی طرف اشارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
ف 3 یہ مشرک نہیں عبادت کرتے مگر چند عورتوں کی یعنی دیویوں کی اور زنا نے ناموں کی اور یہ مشرک نہیں عبادت کرتے مگر شیطان کی جو سرکش اور نافرمان ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور جس کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ سے یوں کہا تھا کہ میں تیرے بندوں سے ضرور اپنا مقرر حصہ لے کر رہوں گا اور تیری اطاعت و عبادت میں بٹوارا کرا کے رہوں گا۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی تیرے بندے اپنے اعمال میں میرا حصہ ٹھہرا رکھیں گے جیسے دستور ہے بتوں کی نیاز نکال رکھتے ہیں۔ (موضح القرآن)
اناث انثی کی جمع ہے ان کے بتوں کو عورتیں اس لئے فرمایا کہ عام طور سے وہ اپنے بتوں کو مئونث سے تعبیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–122
ف 3۔ یعنی ایسے شیطان کی اطاعت کرتے ہیں جو اولا متمرد ہے ثانیا تمرد کی وجہ سے ملعون ہے ثالثا انسان کا عدو ہے جیسا اس کے اقوال سے مترشح ہے۔
4۔ یعنی خدا تعالیٰ کی اطاعت نہ کرے شیطان کی اطاعت کرے۔
Read the full tafseer →شیطان کا اعلان عام اور اس کے نتائج :
195: شیطان نے ڈگڈگی بجائی اور اعلان عام کردیا کہ ” میں انہیں بہکائوں گا اور ضرور ایسا کروں گا کہ آرزوئوں میں انہیں مشغول رکھوں گا اور ضرور حکم دوں گا ‘ پس وہ جانوروں کے کان چیریں گے۔ “ گمراہیاں دو طریقوں ہی سے آسکتی ہیں اور انسان شیطانی اثر دو ہی شکلوں میں قبول کرسکتا ہے ایک عقل و فکر کی راہ سے دوسرے جزبات و احساسات کی راہ سے۔ یعنی وہ یہ کہہ رہا ہے کہ ان کے عقائد اور بنیادی خیالات کو بھی ڈگمگا دوں گا اور ان کے نفسانی جزبات اور خواہشات کو بھی ابھار دوں گا اس طرح ” ضلال “ کے تحت ہو قسم کی عقلی ‘ فکری اور نظری گمراہیاں آگئیں اور تمنی کے تحت میں معاصی و خواہش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
Sequence
Though, the mention of Jihad in preceding verses includes all forces hostile to Islam, yet the actual description was limited to Jews and the hypocrites. Out of the larger group of antagonists there were the pagans who were much more in numbers. The verses that follow take up their beliefs and point out to the punishment they will face. This has a coherence of its own at this place. It will be recalled that the thief mentioned earlier became an apostate. The lasting punishment he thus earned for himself becomes evident. (Bayan a1-Qur'an)
Commentary
The first verse (116) إِنَّ…
Read the full tafseer →147. The reference here is to a superstitious Arabian custom. It was customary among the Arabs that after a camel had given birth to five or ten young to slit her ears and let her go in the name of their deity; they considered it forbidden to put her to any work. Likewise, the male camel that had caused the birth of ten camels was consecrated to some deity. The slitting of ears symbolized this consecration.
148. To alter God's creation in some respect does not mean changing its original form. If that was meant, human civilization would have to be considered Satanic in its entirety. For…
Read the full tafseer →