An-Nisaa 4:120

An-Nisaa · from ayah 120

4:120

یَعِدُهُمْ وَیُمَنِّیْهِمْ ؕ— وَمَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا ۟يَعِدُهُمۡ وَيُمَنِّيۡهِمۡ‌ ؕ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيۡـطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا‏

وہ ان کو وعدے دیتا رہا اور امیدیں دلاتا ہے اور جو کچھ شیطان انہیں وعدے دیتا ہے جو دھوکا ہی دھوکا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Satan promises them and arouses desire in them. But Satan does not promise them except delusion.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 18 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:120

وہ اِن لوگوں سے وعدہ کرتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا ہے، مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ ان کو وعدے دیتا رہا اور امیدیں دلاتا ہے اور جو کچھ شیطان انہیں وعدے دیتا ہے جو دھوکا ہی دھوکا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه ان سے زبانی وعدے کرتا رہے گا، اور سبز باغ دکھاتا رہے گا، (مگر یاد رکھو!) شیطان کے جو وعدے ان سے ہیں وه سراسر فریب کاریاں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ تو ان سے وعدے کرتا اور انہیں آرزووں میں مبتلا کرتا ہے جبکہ (حقیقت یہ ہے کہ) شیطان ان سے جو بھی وعدے کرتا ہے وہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

شیطان انہیں وعدے دیتا ہے اور آرزوئیں دلاتا ہے اور شیطان انہیں وعدے نہیں دیتا مگر فریب کے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

شیطان انہیں (غلط) وعدے دیتا ہے اور انہیں (جھوٹی) اُمیدیں دلاتا ہے اور شیطان فریب کے سوا ان سے کوئی وعدہ نہیں کرتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ انھیں وعدے دیتا ہے اور انھیں آرزوئیں دلاتا ہے اور شیطان انھیں دھوکے کے سوا کچھ وعدہ نہیں دیتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

شیطان ان سے وعدہ کرتا اور امیدیں دلاتا ہے۔ اور جو وعدے بھی شیطان انہیں دیتا ہے وہ فریب کے سوا کچھ نہیں ہوتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ ان کو وعدوں کے بہلاوے دیتا ہے، آرزوؤں میں پھنساتا ہے اور شیطان کے وعدے سرتاسر فریب ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ ان سے (جھوٹے) وعدے کرتا، اور ان کو طرح طرح کی امیدیں دلاتا ہے اور شیطان ان سے وعدے نہیں کرتا مگر محض دھوکے (اور فریب) کے،

— مولانا اسحاق مدنی

(شیطان) ان سے وعدے ہی کرتا اور ہوسیں ہی دلاتارہتا ہے اور شیطان ان سے وعدہ فریب کی راہ سے کرتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ (شیطان) ان سے وعدے بھی کرتا ہے اور انہیں امیدیں بھی دلاتا ہے اور نہیں وعدہ کرتا ان سے شیطان مگر دھوکے کا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ ان لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا ہے، مگر شیطان کے سارے وعدے سوائے فریب کے اور کچھ نہیں ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Satan makes promises to them and fills them with vain hopes, but whatever he promises them is merely delusion.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He (the Satan) makes promises to them, and he tempts them with hopes. The Satan does not make a promise to them but to deceive.

— Muhammad Taqi Usmani

He (the Satan) makes promises to them, and he tempts them with hopes. The Satan does not make a promise to them but to deceive.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He [Shaytan] makes promises to them, and arouses in them false desires; and Shaytan's promises are nothing but deceptions.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He promiseth them and stirreth up desires in them, and Satan promiseth them only to beguile.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Satan promises them and arouses desire in them. But Satan does not promise them except delusion.

— Saheeh International

Satan gives them false promises and tempts them to develop longings which can never be realized.

— Muhammad Sarwar

He gives them promises and excites vain desires in them; and the Shaitan does not promise them but to deceive.

— Muhammad Habib Shakir

The Satan maketh them promises and filleth them with vain desires. and Satan promiseth them not but delusion.

— Abdul Majid Daryabadi

Satan makes them promises, and creates in them false desires; but satan's promises are nothing but deception.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:120

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 116–122

مشرک کی پہچان اور ان کا انجام اس سورت کے شروع میں پہلی آیت کے متعلق ہم پوری تفسیر کرچکے ہیں اور وہیں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں بھی بیان کردی ہیں، حضرت علی فرمایا کرتے تھے قرآن کی کوئی آیت مجھے اس آیت سے زیادہ محبوب نہیں (ترمذی) مشرکین سے دنیا اور آخرت کی بھلائی دور ہوجاتی ہے اور وہ راہ حق سے دور ہوجاتے ہیں وہ اپنے آپ کو اور اپنے دونوں جہانوں کو برباد کرلیتے ہیں، یہ مشرکین عورتوں کے پرستار ہیں، حضرت کعب فرماتے ہیں ہر صنم کے ساتھ ایک جنبیہ عورت ہے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں اِنَاثًا سے مراد بت ہیں، یہ قول اور بھی مفسرین کا ہے، ضحاک کا قول ہے کہ مشرک فرشتوں کو پوجتے تھے اور انہیں اللہ کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 120–125

سورة النِّسَآء 149 شیطان کا سارا کاروبار ہی وعدوں اور امیدوں کے بل پر چلتا ہے۔ وہ انسان کو انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر جب کسی غلط راستے کی طرف لے جانا چاہتا ہے تو اس کے آگے سبز باغ پیش کردیتا ہے۔ کسی کو انفرادی لطف و لذت اور کامیابیوں کی امید، کسی کو قومی سر بلندیوں کی توقع، کسی کو نوع انسانی کی فلاح و بہبود کا یقین، کسی کو صداقت تک پہنچ جانے کا اطمینان، کسی کو یہ بھروسہ کہ نہ خدا ہے نہ آخرت، بس مر کر مٹی ہوجانا ہے، کسی کو یہ تسلی کہ آخرت ہے بھی تو وہاں کی گرفت سے فلاں کے طفیل اور فلاں کے صدقے میں بچ نکلو گے۔ غرض جو جس وعدے اور جس توقع سے فریب کھا سکتا ہے اس کے سامنے وہی پیش کرتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 116–121

خلاصہ تفسیر بیشک اللہ تعالیٰ اس بات کو (سزا دے کر بھی) نہ بخشیں گے کہ ان کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا جائے (بلکہ سزائے ابدی میں مبتلا رکھیں گے) اور اس کے سوا اور جتنے گناہ ہیں (خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ) جس کے لئے منظور ہوگا (بلا سزا) وہ گناہ بخش دیں گے (البتہ اگر وہ مشرک مسلمان ہوجائے تو پھر مشرک ہی نہ رہا اب وہ سزائے دائمی بھی نہ رہی گی) اور (وجہ اس شرک کے نہ بخشنے کی یہ ہے کہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ (کسی کو) شریک ٹھراتا ہے وہ (امر حق سے) بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا (وہ امر حق توحید ہی جو عقلاً بھی واجب ہے اور کار ساز کی تعظیم اس کے حقوق میں سے ہے، پس مشرک نے حضرت صانع کار ساز کی اہانت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 117–121

117۔ 121:۔ اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا ۚ وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا۔ لَّعَنَهُ اللّٰهُ ۘوَقَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا۔ وَّلَاُضِلَّنَّھُمْ وَلَاُمَنِّيَنَّھُمْ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ ۭ وَمَنْ يَّتَّخِذِ الشَّيْطٰنَ وَلِيًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِيْنًا۔ يَعِدُھُمْ وَيُمَنِّيْهِمْ ۭ وَمَا يَعِدُھُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا۔ اُولٰۗىِٕكَ مَاْوٰىھُمْ جَهَنَّمُ ۡ وَلَا يَجِدُوْنَ عَنْھَا مَحِيْصًا۔ " ان یدعون "…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 119–121

119۔ 1 یہ وہ باطل امیدیں ہیں جو شیطان کے وسوسوں اور دخل اندازی سے پیدا ہوتی اور انسانوں کی گمراہی کا سبب بنتی ہیں۔ 119۔ 2 یہ بحیرہ اور سائبہ جانوروں کی علامتیں اور صورتیں ہیں۔ مشرکین ان کو بتوں کے نام وقف کرتے تو شناخت کے لئے ان کا کان وغیرہ چیر دیا کرتے تھے۔ 119۔ 3 تغیْرُ خَلق اللہ (اللہ کی تخلیق کو بدلنا) کی کئی صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک تو یہی جس کا ابھی ذکر ہوا یعنی کان وغیرہ کاٹنا چیرنا سوراخ کرنا، ان کے علاوہ اور کئی صورتیں ہیں مثلاً اللہ تعالیٰ نے چاند، سورج، پتھر اور آگ وغیرہ اشیاء مختلف مقاصد کے لئے بنائی ہیں، لیکن مشرکین نے ان کے مقصد تخلیق کو بدل کر ان کو معبود بنا لیا۔ یا تغییر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 119–126

72: کفار عرب بعض چوپایوں کے کان چیر کر بتوں کے نام پر وقف کردیتے تھے اور ایسے جانور سے کوئی فائدہ اٹھانے کو جائز نہیں سمجھتے تھے، اس باطل رسم کی طرف اشارہ ہے کہ اس پر شیطان عمل کر ارہا ہے، اور اللہ کی تخلیق میں تبدیلی سے مراد خود یہی عمل بھی ہوسکتا ہے کہ جانور کے کان خوامخواہ چیر دئے جائیں، اس کے علاوہ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے بعض ان کاموں کو بھی تخلیق میں تبدیلی قرار دے کر منع فرمایا ہے جو عورتیں اپنے حسن میں اضافہ کرنے کی غرض سے کیا کرتی تھیں، مثلاً جسم کے کسی حصے کو سوئیوں وغیرہ سے گود کر نشانات بنوانا، چہرے کے قدرتی رویں کو (جو عیب کی حد تک بڑھا ہوا نہ ہو) صاف کرنا اور دانتوں کے درمیان…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 117–120

(آیت) ” نمبر 117 تا 120 ، دور جاہلیت میں عرب یہ سمجھتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ پھر وہ ان فرشتوں کی مورتیاں بنانے اور ان کے نام عورتوں کے ناموں سے رکھتے ۔ لات ‘ عزی اور منات وغیرہ ۔ پھر وہ ان بتوں کو پوجتے تھے اور پوجتے اس لئے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیوں کے بت ہیں ۔ یوں وہ بارگاہ الہی میں ان کو تقرب کا ذریعہ بناتے تھے ۔ ابتداء میں اس طرح انہوں نے شرک کا آغاز کیا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے اس کہانی کیا اصلیت کو بھلا دیا اور ان بتوں کی پوجا بذاتہ کرنے لگے ۔ اس کے بعد جب مزید آگے بڑھے تو مطلق پتھروں کی پوجا شروع کردی۔ پارہ چہارم میں ہم نے اس کی کچھ تفصیلات دی ہیں۔ ان میں سے بعض بذات خود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 120–121

7 یعنی جب شیطان کی خباثت و شرارت اور اس کی عداوت کی کیفیت خوب معلوم ہوچکی تو اب اس میں کچھ شک نہ رہا کہ اپنے سچے معبود سے منحرف ہو کر جو کوئی اس کی موافقت کرے گا سخت نقصان میں پڑے گا۔ اس کے تمام وعدے اور امیدیں محض فریب ہیں نتیجہ یہ ہوگا کہ ان سب کا ٹھکانا دوزخ ہے اس سے نکلنے کی کوئی صورت نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 120 یَعِدُہُمْ وَیُمَنِّیْہِمْط وَمَا یَعِدُہُمُ الشَّیْطٰنُ الاَّ غُرُوْرًا ۔ شیطان ان کو وعدوں کے بہلاوے دیتا ہے اور آرزوؤں میں پھنساتا ہے ‘ سبز باغ دکھاتا ہے ‘ مگر شیطان کے دعوے سراسر فریب ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 120–121

161 مثلاً شیطان کا یہ پٹی پڑھانا کہ توحید کے ہوتے ہوئے باقی سب گناہ معاف ہوجائیں گے اور اس طرح گناہوں پر دلیر بنادینا یا اولیاء اللہ کی ان کے مریدوں کے حق میں سفارش کرکے چھڑا لینے کے عقیدہ کو پختہ کردینا، یا یہ کہ ابھی کافی زندگی باقی ہے۔ نیک اعمال کے لئے اور توبہ کے لئے ابھی جلدی بھی کیا پڑی ہے۔ ایسے سب وعدے اور امیدیں شیطان انسان کو فریب میں مبتلا رکھنے کے لئے کرتا رہتا ہے۔ اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ شیطان انسان کے دل میں بےجا آرزوئیں پیدا کرتا رہتا ہے۔ جن سے انسان کی حرص اور طول امل میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جوں جوں ابن آدم بوڑھا ہوتا جاتا ہے اس کی حرص…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

322 ۔ چناچہ ان وعدوں کی بےحقیقتی اکثر تو اسی دنیا میں روشن ہو کر رہتی ہے، ورنہ موت کے وقت تو بہرصورت کھلتی ہی ہے۔ (آیت) ” یعدھم “۔ شیطانی وعدے مثلا یہ کہ حشر نشر، حساب کتاب کوئی چیز نہیں، جو کچھ ہے یہی مادی دنیا ہے۔ عقل جزوی ہی سب سے بڑا معیار اور آخری معیار ہے۔ وحی الہی محض وہم ہے۔ مادہ کی قوتیں، اور قوانین ہی سب کچھ ہیں۔ ان کے اوپر کوئی مشیت اعلی حاکم نہیں۔ وقس علی ھذا (آیت) ” یمنیھم “۔ شیطانی جذبات مثلا یہ کہ فحش کاری میں کوئی عیب وہرج نہیں۔ شراب صحت کے لئے ضروری ہے۔ قانون حجاب ترقی کی راہ میں حائل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 116–126

آیت نمبر 116 تا 126 ترجمہ : اللہ تعالیٰ قطعاً معاف نہ کرے گا اس بات کو کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے (ہاں) شرک کے علاوہ گناہ جس کے چاہے گا معاف کردے گا، اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ حق سے دور جا پڑتا ہے مشرک اللہ کو چھوڑ کر عورتوں یعنی (دیویوں) کی بندگی (پوجا) کرتے ہیں، جیسا کہ لات کی اور عزّیٰ کی اور مناة کی، ان کی عبادت نہیں ہے مگر سرکش شیطان کی عبادت جو حد طاعت سے خارج ہونیوالا ہے بتوں کی عبادت میں مشرکوں کے شیطان کی بات ماننے کی وجہ سے اور وہ ابلیس ہے، اللہ نے اس پر لعنت فرمائی یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کردیا، اور وہ شیطان کہہ چکا ہے کہ میں تیرے بندوں میں سے اپنا مقرر حصہ لے کر رہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یعدہم . شیطان ان کو وعدے دیتا ہے یعنی دماغوں میں فاسد خیالات پیدا کرتا ہے یا اپنے دوستوں کی زبانی ایسے وعدے کراتا ہے جن کو وہ کبھی پورا نہیں کرتا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ شیطان خود آدمی کی شکل میں آکر کامیابی کی لالچ دیتا ہو جیسا جنگ بدر میں کیا تھا اور کہا تھا لاَ غَالِبَ لَکُمْ الْیَوْمَ : آج تم پر کوئی غلبہ پانے والا نہیں میں ضامن ہوں لیکن فَلَمَّا تَرَآء تِ الْفِءْتَانِ نَکَصَ عَلٰی عَقِبَیْہِ جب دونوں لشکروں کا آمنا سامنا ہوا تو ایڑیاں موڑ کر بھاگ گیا اور کہنے لگا آج تمہاری کوئی حمایت نہیں کرسکتا مجھے اللہ کی طرف سے وہ چیزیں نظر آرہی ہیں جو تم کو نظر نہیں آتیں۔ ویمینہم اور ان کو امیدیں دلاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 118–120

(118۔ 119۔ 120) اس ابلیس ملعون نے کہا تھا کہ ضرور ایک بڑے حصے کو تیری اطاعت سے بےراہ کرکے اپنا حصہ اس سے لوں گا یا یہ کہ ہزار میں سے نو سو ننانوے کو دوزخ میں داخل کراؤں گا اور ہدایت سے گمراہی پر لاؤں گا اور جو شخص شیطان کی پوجا کرتا ہے وہ دنیا وآخرت کے برباد ہونے کی وجہ سے کھلے نقصان میں ہے۔ شیطان ان سے یہ وعدے کرتا ہے کہ جنت اور دوزخ کچھ نہیں اور یہ جھوٹی امید دلاتا ہے کہ دنیا کا خاتمہ نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 120–121

ابلیس کے پاس جھوٹے وعدوں، غلط آرزوؤں اور وسوسوں کے سوا کچھ نہیں، حالانکہ اس کے سب وعدے جھوٹے اور سراسر دھوکا ہیں، بظاہر خوش نما، اندر سے مہلک ہیں۔ دیکھیے سورة فاطر (5، 6) اور سورة ابراہیم (23) اور ظاہر ہے کہ اپنے دشمن کو پہچانتے ہوئے پھر اس کے وعدوں پر اعتبار اور غلط آرزوؤں کو سچ سمجھنے کا نتیجہ جہنم کے سوا کیا ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 120–122

آیت نمبر 120، تا 122۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یعدھم “۔ یعنی وہ جھوٹے وعدے کرتا ہے، مال وجاہ اور ریاست کے سبز باغ دکھاتا ہے اور انہیں کہتا ہے نہ دوبارہ اٹھنا ہے اور نہ کوئی سزا ہے، وہ انہیں فقر وغربت سے ڈراتا ہے تاکہ وہ بھلائی میں مال خرچ نہ کریں (آیت) ” ویمنیھم اس کا بھی یہی مفہوم ہے (آیت) ” وما یعدھم الشیطن الا غرور “۔ یعنی دھوکا، ابن عرفہ نے کہا : الغرور ہر وہ چیز جس کے ظاہر کو تو دیکھے تو تو اس سے محبت کرے جب کہ اس کا باطن مکروہ ہو یا مجہول ہو شیطان کو غرور کہا جاتا ہے، کیونکہ نفس کی محبت کی جگہوں پر ابھارتا ہے جب کہ اس کے پیچھے تکلیف دہ چیزیں ہوتی ہیں۔ (آیت) ” اولئک “ یہ مبتدا ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 117–122

(1) عبد اللہ بن احمد نے الزوائد المسند میں وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابی بن کعب ؓ سے لفظ آیت ” ان یدعون من دونہ الا انثا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر بت کے ساتھ ایک جنی عورت ہوتی ہے۔ (2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ ” ان یدعون من دونہ الا انثا “ یعنی لات عزی اور منات سب مؤنث ہیں۔ (3) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” ان یدعون من دونہ الا انثا “ کہ ان کے نام عورتوں والے رکھتے تھے (جیسے لات، منات اور عزی ) ۔ (4) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان یدعون من دونہ الا انثا “ سے مردہ مراد ہے۔ (5) عبد بن حمید…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ یَـعِدُہُمْ : وہ وعدہ کرتا ہے ان سے ] [ وَیُمَنِّیْہِمْ : اور وہ تمنائوں میں مبتلا کرتا ہے ان کو ] [ وَمَا یَعِدُہُمُ : اور وعدہ نہیں کرتا ان سے ] [ الشَّیْطٰنُ : شیطان ] [ اِلاَّ : مگر ] [ غُرُوْرًا : دھوکوں کا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 120–121

شیطان جھوٹے وعدے کرتا ہے اور آرزوؤں پر ڈالتا ہے : پھر فرمایا (یَعِدُھُمْ وَ یُمَنِّیْھِمْ ) کہ شیطان لوگوں سے وعدے کیا کرتا ہے اور آرزوئیں دلاتا ہے۔ اللہ کی رضا مندی کے جو کام ہیں ان کے خلاف ابھارتا ہے اور کہتا ہے کہ ایسا کرو گے تو اس تکلیف میں پڑجاؤ گے اور ایسی ایسی لذت سے محروم ہوجاؤ گے سورة بقرہ میں فرمایا (اَلشَّیْطَانُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَاْمُرُکُمْ بالْفَحْشَآءِ ) (شیطان تم سے تنگدستی کے وعدے کرتا ہے یعنی یہ ظاہر کرتا ہے کہ نیک کاموں میں خرچ کرو گے تو تنگدست ہوجاؤ گے اور تمہیں برائیوں کا حکم دیتا ہے) آرزوئیں دلانے کا مطلب یہ ہے کہ جوانوں کو کہتا ہے کہ دل کھول کر گناہ کرلو بڑی زندگی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 116–126

شرک اور اہل شرک کی مذمت اور رسوم جاہلیت کا ابطال۔ قال تعالی، ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ محیطا۔ یہ آخری آیت ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی۔ آیت۔ بھی طعمہ کے بارے میں نازل ہوئی جب اس نے دیکھا کہ اللہ نے اس کا پردہ فاش کردیا تو مرتد ہو کر چلا گیا ایک شخص کی دیوار میں نقب لگایا اتفاقا دیوار اس پر گر پڑی اور وہ مرگیا اب اس کے بعد اللہ شرک کی بابت ارشاد فرماتے ہیں کہ شرک تو بغیر توبہ کے کسی حال میں نہیں بخشا جاتا اور البتہ شرک اور کفر کے علاوہ اور گناہ بغیر توبہ کے بھی بخشے جاتے ہیں پس اگر طعمہ مرتد نہ ہوتا اور مشرکین کے ساتھ جاکرنہ ملتا تو ممکن تھا کہ چوری وغیرہ کا گناہ بغیر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 117–120

84 یعنی بظاہر تو فرشتوں اور بزرگوں کی موتیوں کو پکارتے اور ان پر نذریں نیازے چڑھاتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ سب کچھ وہ شیطان کیلئے کر رہے ہیں جو ان مورتیوں سے بولتا ہے کان یدخل فی اجواف الاصنام فیتکلم واعیھا (بحر ج 3 ص 352) یہاں تک شرک اعتقادی کی نفی تھی وقال لا تخذن من عبادک نصیبا مفروضا۔ یہاں سے شرک فعلی کی نفی کی گئی ہے۔ نَصِیْباً مَّفْرُوْضاً مقررہ حصہ یعنی میں تیرے بندوں کو ایسا گمراہ کروں گا کہ وہ شرک کرنے لگیں گے اور اپنے مالوں سے مقررہ حصے غیر اللہ کی نیازوں کے نکالیں گے (شاہ عبدالقادر) ۔ فَلْیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ الخ یعنی وہ غیر اللہ کی خوشنودی کے لیے جانور چھوڑیں گے اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 118–122

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید فرمائی تھی اور ساتھ یہ بات بھی سمجھائی تھی کہ جو لوگ اللہ کے علاوہ غیروں کی پرستش کرتے ہیں۔ انہوں نے زنا ناموں سے دیویاں بنارکھی ہیں اور دراصل وہ شیطان کی پوجا کرتے ہیں۔ شیطان ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے اور ان کی تخیلات پر غالب آکر ان کو شرک پر آمادہ کرتا ہے حدیث شریف میں شیطان سے پناہ پکڑنے کے لیے اس دعا کا ذکر آتا ہے۔ اللھم انی اعوذ بک من شرالشطین وشرکہ اے اللہ ! میں شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ پکڑتا ہوں۔ اس لفظ کو شرک اور شرک دونوں طرح سے پڑھا گیا ہے۔ شرک کا معنی جال ہوتا ہے تو اگر ایسا ہے تو معنی ہوگا ، اے اللہ ! میں شیطان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَعِدُھُمْ وَيُمَنِّيْہِمْ۝ 0ۭ وَمَا يَعِدُھُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا۝ 120 وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 119–122

1 ؎ باوجود خدا کے بندے ہونے کے شیطان کے ہی حکم بردار ہوں گے۔ 12 2 ؎؎ شیطان جہاں بنی آدم کے دل میں طرح طرح کے خیالات فاسدہ پیدا کرتا ہے ایسا کرو گے تو یوں ہوگا فلاں معبود کو پکارو گے تو رستگاری کرے گا۔ اولاد اور مواشی میں ان کی نذر و نیاز کرو گے تو برکت ہوگی۔ اسی قسم سے تھا جو وہ مکہ کے کافروں کے دل میں ڈالتا تھا کہ بتوں کی نذر و نیاز کے لئے جانوروں کے کان چیر ڈالتے تھے اور داغ دے کر ان کی شکل بگاڑ دیتے تھے۔ اس سے مقصود یہ ہوتا تھا کہ یہ بتوں اور غیر اللہ کے نام سے مخصوص ہوجائیں۔ اب بھی جاہلوں بلکہ جاہل مسلمانوں میں بھی ایسے ہی دستور ہیں صرف یہ ہے کہ بتوں کی جگہ صلحاء و اولیائِ کرام کے نام سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 120–121

یَعِدُ ہُمْ وَیُمَنِّیْہِمْ ط وَمَا یَعِدُہُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا ” وہ لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انھیں امیدیں دلاتا ہے ‘ اور شیطان کے وعدے سرتاسر فریب ہیں۔ “ (النسآء : 120) شیطان کا کاروبارِ ضلالت …وعدے کرنا اور امیدیں دلانا بات کو سمیٹتے ہوئے فرمایا کہ شیطان کا سارا کاروبارِ ضلالت صرف دو چیزوں پر چلتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ جھوٹے وعدے کرتا ہے اور دوسرے یہ کہ امیدوں کے سبز باغ دکھاتا ہے۔ جس شخص نے مال و دولت ہی کو زندگی کا حقیقی مقصد بنا لیا ہے اور اس کے سوا باقی ہر چیز ثانوی ہو کر رہ گئی ہے آپ کبھی اس سے بات کر کے دیکھ لیجیے ‘ آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ اس کے سامنے دولت کے حصول…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 120–121

فہم القرآن ربط کلام : شیطان گمراہی پر آدمی کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ عمر بھر اس کے پھندے میں پھنسا رہے اور گناہوں میں آگے ہی بڑھتاچلا جائے۔ اسی وجہ سے شیطان انسان کو ہر قسم کی امیدیں دلاتا ہے۔ علامہ عبدالرحمن ابن جوزی (رح) نے شیطان کے پھندوں اور دلفریب وعدوں پر ” تلبیس ابلیس “ کے نام پر ایک مفصل کتاب لکھی ہے جس میں انہوں نے سینکڑوں ایسے واقعات درج کیے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ شیطان آدمی کی طبیعت اور اس کا رجحان دیکھ کر اسے گمراہ کرتا ہے۔ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ وہ کسی سخی انسان کو کنجوسی کی طرف رغبت دے بلکہ وہ سخی کو فضول خرچی و اسراف پر آمادہ کرتا ہے۔ بخیل کو فقر کا خوف دلا کر مزید…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 120 : یَعِدُہُمْ (وہ شیطان ان سے وعدے کرتا ہے) ان کو اس طرح کے وساوس ڈالتا ہے کہ جنت نہیں۔ دوزخ نہیں اور نہ ہی بعث و حساب ہے۔ وَیُمَنِّیْہِمْ (اور ان کو امیدیں دلاتا ہے) جن کو وہ کبھی پا نہیں سکتے۔ وَمَا یَعِدُہُمُ الشَّیْطٰنُ اِلاَّ غُرُوْرًا (اور شیطان کا وعدہ ان سے محض فریب ہی ہوتا ہے) غرور ؔ۔ دیکھے کچھ اور ظاہر اس کے الٹ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 120۔: (آیت)” یعدھم ویمنیھم “۔ شیطان ان کو وعدے دیتا ہے اور امیدیں دلاتا ہے جو انسان کے دل میں واقع ہو وہ عمر کی طویلی اور دنیا میں ہمیشگی کی امیدیں دلانا ، یہ کبھی خوف دلاتا کہ خرچ نہ کرو فقر وفاقہ آجائے گا پھر وہ خرچ کرنے سے روکتا ہے اور صلہ رحمی سے روکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت)” الشیطان یعدکم الفقر “۔ ان کو شیطان یہ امیدیں دلاتا ہے کہ نہ دوبارہ اٹھایا جائے گا اور نہ ہی کوئی جنت ہے اور نہ دوزخ (آیت)” وما یعدھم الشیطان الا غرور “۔ غرور سے مراد باطل ہے ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 116–122

(116 ۔ 122) ۔ اس سے پہلے یہ آیت اہل کتاب کے ذکر میں تھی اس لئے وہاں فقد افتری ( 4۔ 48) فرمایا تھا کیونکہ اہل کتاب کا شرک جان بوجھ کر افتراء کے طور پر تھا یہاں عرب کے مشرکوں اور مرتدلوگوں کا ذکر ہے اس لئے فقد ضل فرمایا کہ یہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ ان کی جہالت کا سبب ہے، باقی معنی آیت کے پہلی جگہ جہاں یہ ہے۔ وہاں بیان کئے گئے ہیں عرب کے مشرک لوگ اپنے بتوں کے نام لات و منات اور عزیٰ عورتوں کے سے رکھتے تھے۔ اس واسطے فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے سوا عورتوں کو پکارتے ہیں۔ اللہ کے سوا جس چیز کی کوئی پوجا کرتا ہے وہ شیطان کے بہکانے سے کرتا ہے اس لئے فرمایا کہ حقیقت میں یہ لوگ شیطان معلون کی پوجا کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 117–121

آیت 117 یعنی یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کے سوا جن ہستیوں کو پکارتے ہیں سب مؤنث ہیں یعنی لوگ جن بتوں کو پوجتے ہیں وہ عورتوں جیسے ناموں سے موسوم ہیں، مثلاً ” عزی “ اور ” مناۃ “ وغیرہ یہ بھی ہمیں معلوم ہے کہ اسم اپنے مسمی پر دلالت کرتا ہے اور جب ان بتوں کے نام مؤنث اور ناقص ہیں تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ان اسماء کے مسمیات بھی ناقص اور صفات کمال سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر فرمایا ہے کہ یہ بات کوئی چیز تخلیق کرسکتے ہیں نہ رزق عطا کرسکتے ہیں نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی کسی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں بلکہ وہ تو اپنی ذات تک کے نفع و نقصان کے مالک نہیں اور اگر کوئی ان کو نقصان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 119–124

قول باری ہے ( ولا مرنھم فلیبتکن اذان الانعام میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے) تبتیک تقطیع یعنی ٹکڑے ٹکڑے کرنے کو کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے ” یبت کہ تبتیکا ( اس ینے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے یا کر ڈالے گا) اس مقام پر اس سے مراد بحیرہ ( ایسی اونٹنی جو پانچ دفعہ بچے جن چکی ہو اور آخری بار اس کے ہاں نر بچہ پیدا ہو اس کا کان چیر کر اسے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا پھر نہ کوئی اس پر سوار ہوتا، نہ اس کا اون اتارا جاتا، نہ اس کا دودھ پیا جاتا اور نہ اسے ذبح کیا جاتا اسے حق تھا کہ جس گھاٹ سے چاہے پانی پیے اور جس کھیت سے چاہے چرے) کا کان چیرنا ہے۔ قتادہ عکرمہ اور سدی سے یہی مروی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 120–121

308 شیطان کا کام جھوٹے وعدے کرنا، اور بےبنیاد امیدیں دلانا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ شیطان ان سے جھوٹے وعدے کرتا اور ان کو طرح طرح کی امیدیں دلاتا ہے کہ بس جی یہ دنیا ہی سب کچھ ہے۔ اسی کے مزے جس نے لوٹ لئے اس نے سب کچھ پا لیا۔ اور آخرت واخرت کچھ نہیں۔ یہ ایسے ہی دلوں کو خوش کرنے والی باتیں اور بھلاوے و خام خیالیاں ہیں۔ جن میں پڑ کر دنیاوی عیش و عشرت اور یہاں کی لذتوں کا مزہ بھی کر کرا ہوجاتا ہے۔ اور اگر کوئی قیامت ویامت ہوئی بھی تو تم کسی کا لڑ پکڑ لو۔ اور فلاں فلاں سرکار میں سے کسی کے غلام بن جاؤ۔ بس وہ تمہارے سب کام خود کرا دے گی۔ اور یہ کہ ابھی بڑی لمبی عمر پڑی ہے۔ آخر میں جا کر توبہ کر کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 119–121

شرک اور شیطان کی حرکتیں تشریح : ان آیات میں شرک کی وضاحت اور شیطان کی چالوں کا ذکر کیا گیا ہے اللہ کو چھوڑ کر کفار بت پرستی، آگ پر ستی، چاند، سورج، ستاروں کو پوجتے ہیں اور پھر سب سے بڑا انسان کا دشمن ” شیطان “ جس کے بارے میں سورة ٔ البقرہ میں وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے اور یہاں پھر بیان کیا جارہا ہے کہ شیطان ہر وقت اور ہر ممکن صورت میں انسان کو اپنی راہوں پر چلانے، اللہ کے راستے سے دور کرنے کی کوششیں کرتا رہتا ہے خاص طور پر تواہمات میں مبتلا کرتا ہے، یعنی جانوروں کے کان پھاڑنا۔ جب اونٹنی پانچ یا دس بچے پیدا کرلیتی یا اونٹ کے نطفے سے دس بچے پیدا ہوجاتے تو اہل عرب انکے کان چیر کر ان کو دیوتا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 116–126

رکوع نمبر 18 ۔ آیات 116 تا 126 ۔ اسرار و معارف : ان اللہ لا یغفر ۔۔۔ محیطا۔ ایک اور بہت بڑی جماعت ان جہلا اور نادانوں کی ہے جنہوں نے اپنے آپ کو شرک جیسی مصیبت میں ڈال رکھا ہے اور وہ اوصاف جو صرف اللہ کو سزا وار ہیں دوسروں کو ان میں حصہ دار مانتے ہیں یا پھر وہ اطاعت جو صرف اللہ کا حصہ ہے اس میں دوسروں کو شریک کرلیتے ہیں یہی تین گروہ تھے علمائے یہود اور یہود و نصاری۔ جو ایمان نہ لائے تھے یا منافقین جو بظاہر ایمان لانے کا اظہار و اقرار کرتے مگر دل سے ایمان دار نہ تھے اور تیسرے مشرکین مکہ و عرب دنیا کی آبادی بلحاظ مذہب و ملت انہی تین گروہوں میں تقسیم کی جاسکتی تھی اور آج بھی ایسا ہی ہے سوائے اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی شیطان کی مذکورہ بالا تمنائیں اور دعوے سب غرور (خدیعہ) میں بظاہر خوشنما نظر آتے ہیں اندر سے مہلک ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:120) لعدھم۔ وعد یعد وعد وعدۃ سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب وہ ان سے وعدہ کرتا ہے۔ وہ ان کو ڈراتا ہے۔ یمنیہم۔ اور غلط امیدیں دلاتا ہے جھوٹی آرزوئیں پیش کرتا ہے۔ غرورا۔ دھوکہ۔ فریب۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 116–122

آیت نمبر 116-122 لغات القرآن : لایغفر، معاف نہیں کرے گا۔ ضل، بھٹک گیا۔ ضلال بعید، بھٹک کر دور تک پہنچ جانا۔ انت، عورتیں، دیویاں۔ مرید، باغی۔ اضلن، میں ضرور گمراہ کروں گا۔ امنین، میں ضرور امیدیں دلاؤں گا۔ امرن، میں ضرور سکھاؤں گا۔ یبتکن، ضرور پھاڑیں گے۔ اذان، کان۔ الانعام، مویشی، جانور۔ یغیرن، ضرور تبدیل کریں گے۔ غرور، دھوکا، فریب۔ محیص، بھاگنے کی جگہ۔ اصدق، زیادہ سچا۔ قیل، کہا گیا، قول۔ تشریح : یہاں بالکل واضح طریقہ سے کہہ دیا گیا ہے کہ شرک کی معافی نہیں ہے۔ اس کے سوا اگر اللہ چاہے تو ہر گناہ کی معافی ہوسکتی ہے۔ چونکہ شرک ہی سارے گناہوں کی جڑ ہے۔ یہ کفر کی سب سے خطرناک قسم ہے۔ جب بندہ اللہ کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 116–122

شان نزول : حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ آیت ایک بوڑھے اعرابی کے حق میں نازل ہوئی جس نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں بوڑھا ہوں گناہوں میں غرق ہوں بجز اس کے کہ جب سے میں نے اللہ کو پہچانا اور اس پر ایمان لایا، اس وقت سے کبھی میں نے اس کے ساتھ شرک نہیں کیا اور اس کے سوا کبھی کسی اور کو ولی نہیں بنایا، اور جرات کے ساتھ گناہوں میں مبتلا نہ ہوا، اور ایک پل بھی میں نے یہ گمان نہ کیا کہ میں اللہ سے بھاگ سکتا ہوں۔ میں شرمندہ ہوں اور مغفرت چاہتا ہوں۔ اللہ کے ہاں میرا کیا حال ہوگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ شرک نہ بخشا جائے گا جو مشرک اپنے شرک پر مرے اور جو مشرک اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 119–126

[77] مشرکین عرب کا دستور تھا کہ وہ خاص خاص جانوروں کے کان چیر کر اپنے فرضی معبودوں کے نام بطور نذر چھوڑ دیتے تھے۔ یہ کان کا چیرنا اس مقصد کے لئے ہوتا تھا کہ دوسرے ان کو نذر سمجھ کر ان سے تعرض نہ کریں۔ [78] اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کے بدلنے سے مراد اللہ کی اس فطرت کو بدلنا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تمام خلائق کو پیدا کیا ہے مثلاً توحید دین فطرت ہے لیکن شیطان اور اس کے ایجنٹوں نے اس کو شرک سے مسخ کیا ضمناً اس میں وہ ساری چیزیں آجائیں گی جو اللہ کی فطرت کی تبدیلی کے حکم میں ہیں، مثلاً مردوں اور عورتوں کو بانجھ بنانا، ضبط ولادت، مردوں کو خواجہ سرا بنانا اور اسی قبیل کی دوسری خرافات۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 119–122

(ف 2) ان آیات میں شیطان کے کام بتائے ہیں کہ وہ گمراہی کے کیا کیا وسائل اختیار کرتا ہے ۔ کہیں جھوٹی امیدیں دلاتا ہے ۔ کہیں تبرک وقربانی کے لئے جانوروں کے کان ، ناک چھدواتا ہے کہیں تغیر خلق وتبدیل فطرت پر آمادہ کرتا ہے ۔ فرمایا کہ ایسے لوگ جو اس کے جھانسے میں آگئے ہیں صریح گھاٹے میں ہیں اور ان کے لئے قیامت کے دن جہنم ٹھکانا ہے ۔ حل لغات : اناث : جمع انثی ۔ مادہ عورت ۔ مرید : سرکش ۔ یبتکن : کان کاٹ دینا مشرکین مکہ کا قاعدہ تھا کہ جب اونٹنی پانچ بچے دے اور پانچواں بچہ نر ہو تو وہ اس کا کان چیر دیتے تھے اور اسے عزت و حرمت کے قابل سمجھتے تھے اس پر سوار نہ ہوتے تھے ، اس لفظ سے اسی رسم کی طرف اشارہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 120–121

ف 1 اور میں یقینا تیرے بندوں کو صحیح راہ سے گمراہ کر دوں گا اور میں ان کو بےبنیاد امیدوں میں الجھائوں گا تاکہ وہ معاصی میں مبتلا ہوگیا اور میں ان کو یہ بھی تعلیم دوں گا کہ وہ چوپایوں کے کانوں کو چیریں اور کاٹیں اور میں ان کو یہ بھی سکھائوں گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے خلق میں صورتاً اور ضعتاً تغیر و تبدل کریں اور اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورتوں کو بگاڑیں اور جس شخص نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بنایا اور دوست تجویز کیا یقین جانو ! وہ صریح نقصان اور کھلے ٹوٹے میں جا پڑا اور وہ کھلا دیوالیہ ہوگیا شیطان ان لوگوں سے غلط وعدے کیا کرتا ہے اور ان کو بےبنیاد آرزئوں اور امیدوں میں مبتلا کیا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 119–122

ف 3۔ یعنی ایسے شیطان کی اطاعت کرتے ہیں جو اولا متمرد ہے ثانیا تمرد کی وجہ سے ملعون ہے ثالثا انسان کا عدو ہے جیسا اس کے اقوال سے مترشح ہے۔ 4۔ یعنی خدا تعالیٰ کی اطاعت نہ کرے شیطان کی اطاعت کرے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

خلقت الٰہی میں ردوبدل کردینے کی شیطانی چال : 196: شیطان کی یہ حکم کہ وہ اللہ کی خلقت میں ضرور ردوبدل کریں گے کہ اللہ کی ساخت کو بدل کر رکھ گے۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کے بدلنے سے اصلا مراد اس فطرت اللہ کو بدلنا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو پیدا کیا جس طرح توحید دین فطرت ہے لیکن شیطان اور اس کے چیلوں نے اس کو شرک سے بدل دیا سورة الروم میں ارشاد الٰہی ہوا کہ ” اللہ کی دی ہوئی فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی پیدائش میں کوئی تبدیلی نہیں یہ مضبوط دین ہے۔ “ (الروم 30 : 30) اس طرح خلق اللہ کی تبدیلی سے مراد دین الٰہی کی تبدیلی ہے اور یہی معنی حسن ضحاک ارور مجاہد وغیرہ آئمہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 116–122

Sequence Though, the mention of Jihad in preceding verses includes all forces hostile to Islam, yet the actual description was limited to Jews and the hypocrites. Out of the larger group of antagonists there were the pagans who were much more in numbers. The verses that follow take up their beliefs and point out to the punishment they will face. This has a coherence of its own at this place. It will be recalled that the thief mentioned earlier became an apostate. The lasting punishment he thus earned for himself becomes evident. (Bayan a1-Qur'an) Commentary The first verse (116) إِنَّ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 120–125

149. Satanic operations are based on making attractive promises and raising high hopes. Whenever Satan wants to mislead men, whether individually or collectively, he tries to inspire them with Utopian expectations. In some he inspires expectations of ecstatic pleasure and outstanding success in their individual lives. He inspires others with prospects for achieving national glory. To still others he promises the well-being of mankind. He makes people feel confident that they can arrive at the ultimate truth without the aid of revealed knowledge. He deludes others into believing that God…

Read the full tafseer →