An-Nisaa 4:118

An-Nisaa · from ayah 118

4:118

لَّعَنَهُ اللّٰهُ ۘ— وَقَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا ۟ۙلَّـعَنَهُ اللّٰهُ‌ ۘ وَقَالَ لَاَ تَّخِذَنَّ مِنۡ عِبَادِكَ نَصِيۡبًا مَّفۡرُوۡضًا

جس پر خدا نے لعنت کی ہے (جو خدا سے) کہنے لگا میں تیرے بندوں سے (غیر خدا کی نذر دلوا کر مال کا) ایک مقرر حصہ لے لیا کروں گا۔

— Fateh Muhammad Jalandhari

Whom Allah has cursed. For he had said, "I will surely take from among Your servants a specific portion.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 18 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:118

جس کو اللہ نے لعنت زدہ کیا ہے (وہ اُس شیطان کی اطاعت کر رہے ہیں) جس نے اللہ سے کہا تھا کہ "میں تیرے بندوں سے ایک مقرر حصہ لے کر رہوں گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس پر خدا نے لعنت کی ہے (جو خدا سے) کہنے لگا میں تیرے بندوں سے (غیر خدا کی نذر دلوا کر مال کا) ایک مقرر حصہ لے لیا کروں گا۔

— مولانا فتح محمد جالندہری

جسے اللہ نے لعنت کی ہے اور اس نے بیڑا اٹھایا ہے کہ تیرے بندوں میں سے میں مقرر شده حصہ لے کر رہوں گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس پر اللہ نے پھٹکار ڈال رکھی ہے، اور اس نے (اللہ سے) یہ کہہ رکھا ہے کہ : میں تیرے بندوں سے ایک طے شدہ حصہ لے کر رہوں گا،

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس پر اللہ نے لعنت کی اور بولا قسم ہے میں ضرور تیرے بندوں میں سے کچھ ٹھہرایا ہوا حصہ لوں گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس پراللہ نے لعنت کی ہے اور جس نے کہا تھا کہ میں تیرے بندوں میں سے ایک معیّن حصہ (اپنے لئے) ضرور لے لوں گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس پر اللہ نے لعنت کی اور جس نے کہا کہ میں ہر صورت تیرے بندوں سے ایک مقرر حصہ ضرور لوں گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس نے اللہ سے کہا تھا کہ : میں تیرے بندوں میں سے ایک مقررہ حصہ لے کر رہوں گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس پر اللہ کی پھٹکار ہے ! اور اس نے کہہ رکھا ہے کہ میں تیرے بندوں میں سے ایک معین حصہ ہتھیا کے رہوں گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس پر لعنت فرمادی اللہ نے، اور جس نے (اللہ سے اعلانیہ) کہہ دیا تھا کہ میں ضرور بالضرور لے کر رہونگا تیرے بندوں سے ایک مقرر حصہ،

— مولانا اسحاق مدنی

اس پر لعنت کی ہے اللہ نے۔ اور وہ کہہ چکا ہے کہ میں تیرے بندوں میں اپنا مقرر حصہ لے کر رہوں گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ نے اس پر لعنت فرما دی ہے اور اس نے کہا (اے اللہ) میں تیرے بندوں میں سے ایک مقرر حصہ تو لے کر ہی چھوڑوں گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس کو اللہ نے لعنت زدہ کیا ہے۔ (وہ شیطان) جس نے اللہ سے کہا تھا کہ میں تیرے بندوں میں سے ایک مقرر حصہ لے کر رہوں گا

— محترمہ رفعت اعجاز

upon whom Allah has laid His curse. He said (to Allah): 'I will take to myself an appointed portion of Your servants

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

whom Allah has cursed. He (the Satan) said, :Surely I will take an appointed share from Your slaves,

— Muhammad Taqi Usmani

whom Allah has cursed. He (the Satan) said, :Surely I will take an appointed share from Your slaves,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah cursed him. And he [Shaytan] said: "I will take an appointed portion of your servants."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Whom Allah cursed, and he said: Surely I will take of Thy bondmen an appointed portion,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Whom Allah has cursed. For he had said, "I will surely take from among Your servants a specific portion.

— Saheeh International

God condemned Satan when he said, "I will certainly take my revenge from Your servants.

— Muhammad Sarwar

Allah has cursed him; and he said: Most certainly I will take of Thy servants an appointed portion:

— Muhammad Habib Shakir

Allah hath accursed him. And he said: surely shall take of Thine bondmen a portion allotted.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah did curse him, but he said: "I will take of Thy servants a portion Marked off;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:118

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 116–122

مشرک کی پہچان اور ان کا انجام اس سورت کے شروع میں پہلی آیت کے متعلق ہم پوری تفسیر کرچکے ہیں اور وہیں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں بھی بیان کردی ہیں، حضرت علی فرمایا کرتے تھے قرآن کی کوئی آیت مجھے اس آیت سے زیادہ محبوب نہیں (ترمذی) مشرکین سے دنیا اور آخرت کی بھلائی دور ہوجاتی ہے اور وہ راہ حق سے دور ہوجاتے ہیں وہ اپنے آپ کو اور اپنے دونوں جہانوں کو برباد کرلیتے ہیں، یہ مشرکین عورتوں کے پرستار ہیں، حضرت کعب فرماتے ہیں ہر صنم کے ساتھ ایک جنبیہ عورت ہے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں اِنَاثًا سے مراد بت ہیں، یہ قول اور بھی مفسرین کا ہے، ضحاک کا قول ہے کہ مشرک فرشتوں کو پوجتے تھے اور انہیں اللہ کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النِّسَآء 146 یعنی ان کے اوقات میں ان کی محنتوں اور کوششوں میں، ان کی قوتوں اور قابلیتوں میں ان کے مال اور ان کی اولاد میں اپنا حصہ لگاؤں گا اور ان کو فریب دے کر ایسا پرچاؤں گا کہ وہ ان ساری چیزوں کا ایک معتدبہ حصہ میری راہ میں صرف کریں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 116–121

خلاصہ تفسیر بیشک اللہ تعالیٰ اس بات کو (سزا دے کر بھی) نہ بخشیں گے کہ ان کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا جائے (بلکہ سزائے ابدی میں مبتلا رکھیں گے) اور اس کے سوا اور جتنے گناہ ہیں (خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ) جس کے لئے منظور ہوگا (بلا سزا) وہ گناہ بخش دیں گے (البتہ اگر وہ مشرک مسلمان ہوجائے تو پھر مشرک ہی نہ رہا اب وہ سزائے دائمی بھی نہ رہی گی) اور (وجہ اس شرک کے نہ بخشنے کی یہ ہے کہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ (کسی کو) شریک ٹھراتا ہے وہ (امر حق سے) بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا (وہ امر حق توحید ہی جو عقلاً بھی واجب ہے اور کار ساز کی تعظیم اس کے حقوق میں سے ہے، پس مشرک نے حضرت صانع کار ساز کی اہانت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 117–121

117۔ 121:۔ اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا ۚ وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا۔ لَّعَنَهُ اللّٰهُ ۘوَقَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا۔ وَّلَاُضِلَّنَّھُمْ وَلَاُمَنِّيَنَّھُمْ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ ۭ وَمَنْ يَّتَّخِذِ الشَّيْطٰنَ وَلِيًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِيْنًا۔ يَعِدُھُمْ وَيُمَنِّيْهِمْ ۭ وَمَا يَعِدُھُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا۔ اُولٰۗىِٕكَ مَاْوٰىھُمْ جَهَنَّمُ ۡ وَلَا يَجِدُوْنَ عَنْھَا مَحِيْصًا۔ " ان یدعون "…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

118۔ 1 مقرر شدہ حصہ سے مراد وہ نذر نیاز بھی ہوسکتی ہے جو مشرکین اپنے بتوں اور قبروں میں مدفون اشخاص کے نام نکالتے ہیں اور جہنمیوں کا وہ کوٹہ بھی ہوسکتا ہے جنہیں شیطان گمراہ کر کے اپنے ساتھ جہنم لے جائے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

71: یعنی بہت سے بندوں کو گمراہ کر کے انہیں اپنا بنا لوں گا اور بہت سوں سے اپنی مرضی کے کام کراؤں گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 117–120

(آیت) ” نمبر 117 تا 120 ، دور جاہلیت میں عرب یہ سمجھتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ پھر وہ ان فرشتوں کی مورتیاں بنانے اور ان کے نام عورتوں کے ناموں سے رکھتے ۔ لات ‘ عزی اور منات وغیرہ ۔ پھر وہ ان بتوں کو پوجتے تھے اور پوجتے اس لئے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیوں کے بت ہیں ۔ یوں وہ بارگاہ الہی میں ان کو تقرب کا ذریعہ بناتے تھے ۔ ابتداء میں اس طرح انہوں نے شرک کا آغاز کیا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے اس کہانی کیا اصلیت کو بھلا دیا اور ان بتوں کی پوجا بذاتہ کرنے لگے ۔ اس کے بعد جب مزید آگے بڑھے تو مطلق پتھروں کی پوجا شروع کردی۔ پارہ چہارم میں ہم نے اس کی کچھ تفصیلات دی ہیں۔ ان میں سے بعض بذات خود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 117–118

4 یعنی ان مشرکوں نے اللہ کے سوا جو اپنا معبود بنایا تو ان بتوں کو جن کو عورتوں کے نام سے نامزد کر رکھا ہے جیسے عزیٰ اور منات اور نائلہ وغیرہ اور حقیقۃ الامر دیکھئے تو یہ مشرکین شیطان سرکش ملعون الٰہی کی عبادت کرتے ہیں اسی نے تو بہکا کر ایسا کرایا اور بت پرستی کرنے میں اس کی اطاعت اور اس کی عین خوشی ہے۔ اس سے مشرکین کی پرلے سرے کی ضلالت اور جہالت ظاہر فرمانی مقصود ہے۔ دیکھئے اول تو اللہ کے سوا کسی کو معبود بنانا اس سے بڑھ کر ضلالت کیا ہوسکتی ہے پھر بنایا تو کس کو پتھروں کو جن میں کسی قسم کی حس و حرکت بھی نہیں اور عورتوں کے نام سے موسوم ہیں اور کس کے بتلانے سے شیطان مردود و ملعون خداوندی کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 118 لَّعَنَہُ اللّٰہُ 7 وَقَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا ان لوگوں کو میں اپنے ساتھ جہنم میں پہنچا کر رہوں گا۔ گویا : ع ہم تو ڈوبے ہیں صنم ‘ تم کو بھی لے ڈوبیں گے !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

157 یہ مقررہ حصہ وہ لوگ ہیں جو شیطان کے فریب میں آ کر اللہ کے ساتھ شرک کریں گے اور گمراہ ہوجائیں گے۔ اور یہ مقررہ حصہ آدھے سے بھی بہت زیادہ ہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا : ( وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ 179۔ ) 7 ۔ الاعراف :179) اور ہم نے بہت سے جن اور انسان جہنم کے لیے پیدا کیے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

316 ۔ (اور لعنت کی باعث اسکی یہی سرکشی اور بےحکمی ہوئی ہے) 317 ۔ یہ بنی آدم کو وضاحت سے بتا دیا ہے کہ شیطان تو ان کا پرانا دشمن اور بدخواہ ہے۔ (آیت) ” لاتخذن۔۔۔ نصیبا مفروضا “۔ یعنی اپنی راہ پر لگا کر رہوں گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 116–126

آیت نمبر 116 تا 126 ترجمہ : اللہ تعالیٰ قطعاً معاف نہ کرے گا اس بات کو کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے (ہاں) شرک کے علاوہ گناہ جس کے چاہے گا معاف کردے گا، اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ حق سے دور جا پڑتا ہے مشرک اللہ کو چھوڑ کر عورتوں یعنی (دیویوں) کی بندگی (پوجا) کرتے ہیں، جیسا کہ لات کی اور عزّیٰ کی اور مناة کی، ان کی عبادت نہیں ہے مگر سرکش شیطان کی عبادت جو حد طاعت سے خارج ہونیوالا ہے بتوں کی عبادت میں مشرکوں کے شیطان کی بات ماننے کی وجہ سے اور وہ ابلیس ہے، اللہ نے اس پر لعنت فرمائی یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کردیا، اور وہ شیطان کہہ چکا ہے کہ میں تیرے بندوں میں سے اپنا مقرر حصہ لے کر رہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لعنہ اللہ جس کو اللہ نے اپنی رحمت سے دور کردیا تھا۔ شیطاً نا کی پہلی صفت مَرِیْدًا اور دوسری صفت یہ جملہ۔ وقال اور شیطان نے کہا تھا۔ اس کا عطف لَعَنَپر ہے گویا شیطان ایک تو ملعون ہے۔ دوسرے ایسے قول کا قائل بھی ہے جو انتہائی انسان دشمنی پر دلالت کر رہا ہے۔ شیطان کا یہ قول دلالت کر رہا ہے کہ آیت میں لفظ شیطاناً سے مراد ابلیس ہے کیونکہ ابلیس ہی نے جب حضرت آدم ( علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور اللہ نے اس پر لعنت کی تو اس نے کہا ‘ قسم ہے تیری عزت و جلال کی جب تک بنی آدم میں جان رہے گی اس وقت تک برابر میں ان کو بہکاتا رہوں گا۔ صحیح حدیث میں یہی مضمون آیا ہے اور آئندہ آیت کا بھی یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 118–120

(118۔ 119۔ 120) اس ابلیس ملعون نے کہا تھا کہ ضرور ایک بڑے حصے کو تیری اطاعت سے بےراہ کرکے اپنا حصہ اس سے لوں گا یا یہ کہ ہزار میں سے نو سو ننانوے کو دوزخ میں داخل کراؤں گا اور ہدایت سے گمراہی پر لاؤں گا اور جو شخص شیطان کی پوجا کرتا ہے وہ دنیا وآخرت کے برباد ہونے کی وجہ سے کھلے نقصان میں ہے۔ شیطان ان سے یہ وعدے کرتا ہے کہ جنت اور دوزخ کچھ نہیں اور یہ جھوٹی امید دلاتا ہے کہ دنیا کا خاتمہ نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

آیت 118 : نصیباً مفروضا یعنی تیرے بندوں میں سے ایک گروہ کو اپنی راہ پر ڈال لوں گا، وہ اپنے مال میں میرا حصہ مقرر رکھیں گے جیسے بتوں اور قبروں کے نام کی نذر و نیاز نکالی جاتی ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (136 تا 140) جتنے گمراہ دوزخی ہیں سب نصیب شیطان (شیطان کے حصے) میں شامل ہیں۔ (قرطبی) شیطان ملعون اپنی سرکشی سے خود بھی گمراہ ہوا اور انسانوں کو گمراہ کرنے پر بھی ایسی کمر باندھی کہ نہ دشمنی چھپاتا ہے اور نہ دشمنی سے باز آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 118۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لعنہ اللہ “ اللعن کا اصل معنی دور کرنا ہے، یہ پہلے گزر چکا ہے اور عرف میں ایسا دور کرنا ہے جو ناراضگی اور غضب کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ ابلیس پر تعیین کے ساتھ لعنت کرنا جائز ہے اسی طرح وہ کفار جو مر چکے ہیں مثلا فرعون، ہامان اور ابو جہل ان پر تعیین کے ساتھ لعنت کرنا جائز ہے اور رہے زندہ لوگ تو ان کے بارے میں کلام سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وقال لا تخذن من عبادک نصیبا مفروضا “۔ یہ شیطان نے کہا تھا یعنی میں اپنی گمراہ کن چالوں کے ساتھ ان کو تیری اطاعت سے نکالوں گا اور اپنی گمراہی کے ساتھ انہیں گمراہ کروں گا، یہ کفار اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 117–122

(1) عبد اللہ بن احمد نے الزوائد المسند میں وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابی بن کعب ؓ سے لفظ آیت ” ان یدعون من دونہ الا انثا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر بت کے ساتھ ایک جنی عورت ہوتی ہے۔ (2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ ” ان یدعون من دونہ الا انثا “ یعنی لات عزی اور منات سب مؤنث ہیں۔ (3) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” ان یدعون من دونہ الا انثا “ کہ ان کے نام عورتوں والے رکھتے تھے (جیسے لات، منات اور عزی ) ۔ (4) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان یدعون من دونہ الا انثا “ سے مردہ مراد ہے۔ (5) عبد بن حمید…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ لَّـعَنَہُ : لعنت کرے اس پر ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ وَ : اور ] [ قَالَ : اس نے کہا ] [ لَاَتَّخِذَنَّ : میں لازماً ہتھیا لوں گا ] [ مِنْ عِبَادِکَ : تیرے بندوں میں سے ] [ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا : ایک مقرر حصہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 117–119

مشرکین مورتیوں کی پوجا کرتے ہیں اور شیطان کے فرمانبر دار ہیں اوپر شرک کا ذکر تھا ان آیات کی بعض صورتوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ شرک اور کفر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا ہر کام یہ سب شیطان کے سمجھانے سے اور اس کی راہ بتانے سے وجود میں آتا ہے۔ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا تھا کہ آدم کو سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے جو مجھے گمراہ قرار دیا ہے تو میں بنی آدم سے اس کا بدلہ لے لوں گا۔ بنی آدم کا ایک بہت بڑا حصہ اپنی طرف لگا لوں گا تھوڑے بہت ہی لوگ بچیں گے۔ اکثر لوگوں کو اپنی اطاعت پر ڈال دوں گا، جب حضرت آدم (علیہ السلام) دنیا میں آئے اور ان کی ذریت پھیلنی شروع ہوئی اور شیطان مردود بھی دنیا میں آگیا جو اپنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 116–126

شرک اور اہل شرک کی مذمت اور رسوم جاہلیت کا ابطال۔ قال تعالی، ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ محیطا۔ یہ آخری آیت ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی۔ آیت۔ بھی طعمہ کے بارے میں نازل ہوئی جب اس نے دیکھا کہ اللہ نے اس کا پردہ فاش کردیا تو مرتد ہو کر چلا گیا ایک شخص کی دیوار میں نقب لگایا اتفاقا دیوار اس پر گر پڑی اور وہ مرگیا اب اس کے بعد اللہ شرک کی بابت ارشاد فرماتے ہیں کہ شرک تو بغیر توبہ کے کسی حال میں نہیں بخشا جاتا اور البتہ شرک اور کفر کے علاوہ اور گناہ بغیر توبہ کے بھی بخشے جاتے ہیں پس اگر طعمہ مرتد نہ ہوتا اور مشرکین کے ساتھ جاکرنہ ملتا تو ممکن تھا کہ چوری وغیرہ کا گناہ بغیر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 117–120

84 یعنی بظاہر تو فرشتوں اور بزرگوں کی موتیوں کو پکارتے اور ان پر نذریں نیازے چڑھاتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ سب کچھ وہ شیطان کیلئے کر رہے ہیں جو ان مورتیوں سے بولتا ہے کان یدخل فی اجواف الاصنام فیتکلم واعیھا (بحر ج 3 ص 352) یہاں تک شرک اعتقادی کی نفی تھی وقال لا تخذن من عبادک نصیبا مفروضا۔ یہاں سے شرک فعلی کی نفی کی گئی ہے۔ نَصِیْباً مَّفْرُوْضاً مقررہ حصہ یعنی میں تیرے بندوں کو ایسا گمراہ کروں گا کہ وہ شرک کرنے لگیں گے اور اپنے مالوں سے مقررہ حصے غیر اللہ کی نیازوں کے نکالیں گے (شاہ عبدالقادر) ۔ فَلْیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ الخ یعنی وہ غیر اللہ کی خوشنودی کے لیے جانور چھوڑیں گے اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 118–122

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید فرمائی تھی اور ساتھ یہ بات بھی سمجھائی تھی کہ جو لوگ اللہ کے علاوہ غیروں کی پرستش کرتے ہیں۔ انہوں نے زنا ناموں سے دیویاں بنارکھی ہیں اور دراصل وہ شیطان کی پوجا کرتے ہیں۔ شیطان ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے اور ان کی تخیلات پر غالب آکر ان کو شرک پر آمادہ کرتا ہے حدیث شریف میں شیطان سے پناہ پکڑنے کے لیے اس دعا کا ذکر آتا ہے۔ اللھم انی اعوذ بک من شرالشطین وشرکہ اے اللہ ! میں شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ پکڑتا ہوں۔ اس لفظ کو شرک اور شرک دونوں طرح سے پڑھا گیا ہے۔ شرک کا معنی جال ہوتا ہے تو اگر ایسا ہے تو معنی ہوگا ، اے اللہ ! میں شیطان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَّعَنَہُ اللہُ۝ 0ۘ وَقَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا۝ 118ۙ لعن اللَّعْنُ : الطّرد والإبعاد علی سبیل السّخط، وذلک من اللہ تعالیٰ في الآخرة عقوبة، وفي الدّنيا انقطاع من قبول رحمته وتوفیقه، ومن الإنسان دعاء علی غيره . قال تعالی: أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] ( ل ع ن ) اللعن ۔ کسی کو ناراضگی کی بنا پر اپنے سے دور کردینا اور دھتکار دینا ۔ خدا کی طرف سے کسی شخص پر لعنت سے مراد ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں تو اللہ کی رحمت اور توفیق سے اثر پذیر ہونے محروم ہوجائے اور آخرت عقوبت کا مستحق قرار پائے اور انسان کی طرف سے کسی پر لعنت بھیجنے کے معنی بد دعا کے ہوتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 116–118

ترکیب : اللّٰہ اسم ان لا یغفر خبر ان یشرک بہ مفعول ہے یغفر کا۔ لمن کالام یغفر سے متعلق ہے۔ اناثا جمع انثی علی فعال ویروابہ کل مالا روح لہ من الاحجار والاصنام والشمس ویکن ان یقال انہم کانوا یعبدون الخبائث من الشیاطین والارواح الغیر المرئۃ ویستعینون بھا ویناد ونھا فی کل شدہ غمرۃ لعنۃ اللّٰہ صفت ہے شیطاناً کی اور ممکن ہے کہ مستانفہ ہو جملہ بدعا کے لئے لاتخذن الخ مقولہ شیطان ہے۔ تفسیر : اگلی آیتوں میں گناہ کی معافی کی طرف اشارہ تھا یہاں اس بات کی تصریح ہے کہ گناہوں میں شرک ایسا سخت گناہ ہے کہ جس کی سزا ابدی جہنم ہے۔ یہ بغیر توبہ کے ہرگز معاف نہیں ہوتا۔ ہاں اگر اس کے سوا اور جس گناہ کو چاہے گا خدا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 117–119

اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اِنٰـثًا ج وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًا لا لََّعَنَہُ اللّٰہُ م وَقَالَ لَاتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا لا وَّلَاُضِلَّـنَّہُمْ وَلَاُمَنِّیَنَّہُمْ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ ط وَمَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًا ط ” وہ اللہ کے سوا نہیں پکارتے مگر دیویوں کو۔ اور وہ نہیں پکارتے مگر شیطانِ سرکش کو جس پر اللہ نے لعنت کی ہے۔ اور اس نے کہہ رکھا ہے کہ میں ہتھیا کے رہوں گا تیرے بندوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 118–119

فہم القرآن ربط کلام : شرک دراصل شیطان کا حکم ماننا اور اس کی عبادت کرنا ہے۔ شیطان پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے لہٰذا مشرک پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔ شیطان نے صرف آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار نہیں کیا بلکہ وہ جرم پر جرم کرتا چلا گیا۔ اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر معذرت کرنے کی بجائے اپنے جرم کے دلائل دیتے ہوئے قسمیں اٹھائیں کہ میں ہر حال میں بنی نوع انسان کو گمراہ کرتا رہوں گا۔ یہاں تک کہ ان میں سے کثیر تعداد کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ میں انہیں پر کشش اور دلفریب امیدیں دلاؤں گا اور انہیں جانوروں کے کان چیرنے اور اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بدلنے کا حکم دوں گا۔ چناچہ ابتدائے آفرینش سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 118: لَّعَنَہُ اللّٰہُ وَقَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا (اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی رحمت سے دور کردیا اور شیطان نے کہا میں تیرے بندوں میں سے اپنا حصہ ضرور لونگا) شیطان کی پہلی صفت مریدًا اور دوسری لعنہ اللّٰہ ہے اور شیطان نے یہ انتہائی دشمنی والی بدترین بات کہی۔ مَّفْرُوْضًا قطعی جو میرے لئے لازم ہوگا۔ ایک ہزار میں سے 999 شیطان کے لئے۔ ایک اللہ کے لئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

118۔ (آیت)” لعنۃ اللہ “ وہ اللہ کی رحمت سے دور ہوتے ہیں ” وقال “ ابلیس نے کہا (آیت)” لاتخذن من عبادک نصیبا مفروضا “۔ جو حق معلوم ہے اور ابلیس کے ساتھ اطاعت کرنا ایک مفروضہ ہے ، بعض تفاسیر میں ہے کہ ایک ہزار میں نوسوننانوے ابلیس کے پیروکار ہیں ، اصل فرض لغت میں کہ جاتا ہے کاٹنے کو اور اسی سے ”’ فرضۃ فی النھر “ بولا جاتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 116–122

(116 ۔ 122) ۔ اس سے پہلے یہ آیت اہل کتاب کے ذکر میں تھی اس لئے وہاں فقد افتری ( 4۔ 48) فرمایا تھا کیونکہ اہل کتاب کا شرک جان بوجھ کر افتراء کے طور پر تھا یہاں عرب کے مشرکوں اور مرتدلوگوں کا ذکر ہے اس لئے فقد ضل فرمایا کہ یہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ ان کی جہالت کا سبب ہے، باقی معنی آیت کے پہلی جگہ جہاں یہ ہے۔ وہاں بیان کئے گئے ہیں عرب کے مشرک لوگ اپنے بتوں کے نام لات و منات اور عزیٰ عورتوں کے سے رکھتے تھے۔ اس واسطے فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے سوا عورتوں کو پکارتے ہیں۔ اللہ کے سوا جس چیز کی کوئی پوجا کرتا ہے وہ شیطان کے بہکانے سے کرتا ہے اس لئے فرمایا کہ حقیقت میں یہ لوگ شیطان معلون کی پوجا کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 117–121

آیت 117 یعنی یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کے سوا جن ہستیوں کو پکارتے ہیں سب مؤنث ہیں یعنی لوگ جن بتوں کو پوجتے ہیں وہ عورتوں جیسے ناموں سے موسوم ہیں، مثلاً ” عزی “ اور ” مناۃ “ وغیرہ یہ بھی ہمیں معلوم ہے کہ اسم اپنے مسمی پر دلالت کرتا ہے اور جب ان بتوں کے نام مؤنث اور ناقص ہیں تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ان اسماء کے مسمیات بھی ناقص اور صفات کمال سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر فرمایا ہے کہ یہ بات کوئی چیز تخلیق کرسکتے ہیں نہ رزق عطا کرسکتے ہیں نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی کسی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں بلکہ وہ تو اپنی ذات تک کے نفع و نقصان کے مالک نہیں اور اگر کوئی ان کو نقصان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 115–118

قول باری ہے ( ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین الہ الھدیٰ و یتبع غیر سبیل المومنین نولہ ماتولی و نصلہ جھنم) اور جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے درآں حالیکہ اس پر راہ راست واضح ہوچکی ہو تو ہم اس کو اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے۔ حضور ﷺ کی مخالفت ، آپ سے علیحدگی اور آپ کی دشمنی کی صورت یہ ہے کہ مخالفت کرنے والا ایک جانب ہو جو اس جانب کے ما سوا ہو جس میں حضور ﷺ ہیں اسی طرح یہ قول باری ہے ( ان الذین یحادون اللہ ورسولہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں) وہ اس طرح کہ مخالفت کرنے والا اس کنارے پر ہو جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

304 شیطان کے چیلنج کا ذکر : سو شیطان کا چیلنج حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے سامنے تھا جو اس نے اپنے دھتکارے جانے کے بعد کیا تھا۔ یعنی ان میں سے ان لوگوں کو جو میری بات مانیں گے اور میرے پیچھے چلیں گے۔ وہ تیرے سوا اوروں کی بندگی کریں گے۔ دوسروں کے آگے جھکیں گے۔ ان کے آگے سجدے کریں گے۔ ان کے گرد طواف کریں گے۔ ان کے نام کی نذریں مانیں گے۔ نیازیں دیں گے چڑھاوے چڑھائیں گے اور طرح طرح سے کفر و شرک کا ارتکاب کریں گے۔ سو تیرے ان بندوں سے جن کے سبب تو نے مجھے گمراہ کیا میں ایک مقرر حصہ لیکر رہوں گا۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ چناچہ اس نے ایسا کر دکھایا جیسا کہ دوسری جگہ قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے { وَلَقَدْ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 116–118

شرک ناقابل معافی ہے تشریح : یہاں طعمہ اور زید کے ذکر سے ایک اور بہت بڑا نکتہ سمجھایا گیا ہے، یعنی طعمہ اگر رسول ﷺ کے فیصلہ کو مان کر توبہ کرلیتا تو اس کے کئی چھوٹے بڑے گناہ اللہ خوش ہو کر شاید معاف کردیتا لیکن اس نے تو انتہا کردی کہ مسلمانوں کی جماعت کو چھوڑ کر کفار میں جاملا، یعنی مشرک ہوگیا۔ مشرک کا مطلب ہے اللہ کی وحدانیت سے پھرجانا اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا۔ اللہ رب العزت نے فرمایا کہ شرک اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کی بخشش کبھی نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے، اس کی کوئی معافی نہیں۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 116–126

رکوع نمبر 18 ۔ آیات 116 تا 126 ۔ اسرار و معارف : ان اللہ لا یغفر ۔۔۔ محیطا۔ ایک اور بہت بڑی جماعت ان جہلا اور نادانوں کی ہے جنہوں نے اپنے آپ کو شرک جیسی مصیبت میں ڈال رکھا ہے اور وہ اوصاف جو صرف اللہ کو سزا وار ہیں دوسروں کو ان میں حصہ دار مانتے ہیں یا پھر وہ اطاعت جو صرف اللہ کا حصہ ہے اس میں دوسروں کو شریک کرلیتے ہیں یہی تین گروہ تھے علمائے یہود اور یہود و نصاری۔ جو ایمان نہ لائے تھے یا منافقین جو بظاہر ایمان لانے کا اظہار و اقرار کرتے مگر دل سے ایمان دار نہ تھے اور تیسرے مشرکین مکہ و عرب دنیا کی آبادی بلحاظ مذہب و ملت انہی تین گروہوں میں تقسیم کی جاسکتی تھی اور آج بھی ایسا ہی ہے سوائے اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 یعنی تیرے بندوں میں سے اک گروہ کو اپنی راہ پر ڈال لوں گا وہ اپنے مال میں میرا حصہ مق ر کر رکھیں گے جیسے بتوں وار قبروں کے نام کی نذر نیاز نکالی جاتی ہے ، (موضح) جنتے کمراہ دوزخی ہیں سب نصیب شیطان میں داخل ہیں (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:118) لعنہ اللہ۔ میں ہ ضمیر شیطان کی طرف راجع ہے اور قال فعل کا فاعل بھی شیطان ہی ہے۔ لاتخذن۔ مضارع واحد متکلم بالام تاکید و نون ثقلیہ۔ اتخاذ (افتعال) سے۔ بہت سی چیزوں میں سے کسی ایک کو لینا۔ یا اختیار کرنا۔ یعنی میں ضرور لوں گا۔ لاضلنہم۔ میں ان کو ضرور بہکاؤں گا۔ میں ان کو ضرور گمراہ کروں گا۔ اضلال۔ سے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 116–122

آیت نمبر 116-122 لغات القرآن : لایغفر، معاف نہیں کرے گا۔ ضل، بھٹک گیا۔ ضلال بعید، بھٹک کر دور تک پہنچ جانا۔ انت، عورتیں، دیویاں۔ مرید، باغی۔ اضلن، میں ضرور گمراہ کروں گا۔ امنین، میں ضرور امیدیں دلاؤں گا۔ امرن، میں ضرور سکھاؤں گا۔ یبتکن، ضرور پھاڑیں گے۔ اذان، کان۔ الانعام، مویشی، جانور۔ یغیرن، ضرور تبدیل کریں گے۔ غرور، دھوکا، فریب۔ محیص، بھاگنے کی جگہ۔ اصدق، زیادہ سچا۔ قیل، کہا گیا، قول۔ تشریح : یہاں بالکل واضح طریقہ سے کہہ دیا گیا ہے کہ شرک کی معافی نہیں ہے۔ اس کے سوا اگر اللہ چاہے تو ہر گناہ کی معافی ہوسکتی ہے۔ چونکہ شرک ہی سارے گناہوں کی جڑ ہے۔ یہ کفر کی سب سے خطرناک قسم ہے۔ جب بندہ اللہ کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 116–122

شان نزول : حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ آیت ایک بوڑھے اعرابی کے حق میں نازل ہوئی جس نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں بوڑھا ہوں گناہوں میں غرق ہوں بجز اس کے کہ جب سے میں نے اللہ کو پہچانا اور اس پر ایمان لایا، اس وقت سے کبھی میں نے اس کے ساتھ شرک نہیں کیا اور اس کے سوا کبھی کسی اور کو ولی نہیں بنایا، اور جرات کے ساتھ گناہوں میں مبتلا نہ ہوا، اور ایک پل بھی میں نے یہ گمان نہ کیا کہ میں اللہ سے بھاگ سکتا ہوں۔ میں شرمندہ ہوں اور مغفرت چاہتا ہوں۔ اللہ کے ہاں میرا کیا حال ہوگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ شرک نہ بخشا جائے گا جو مشرک اپنے شرک پر مرے اور جو مشرک اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 117–118

[76] کیونکہ مشرکین شیطان کے کہے میں آ کر دیویوں کو پکارتے ہیں لہذا دیویوں کو پکارنا عین شیطان کو پکارنا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 117–118

(ف 1) جہالت کی حد کہ پوجتے بھی ہیں تو اناث کو ، جیسے لات ‘ عزے ، منات یعنی ذہنی پستی کی یہ آخری مثال ہے کہ شرک نے انکے دماغوں کو ماؤف کردیا ہے اب انہیں دیویاں بھی خدا نظر آتی ہیں ۔ حالانکہ خدا کے لئے غلبہ وقوت ایسے خصائل ہیں جو بدیہی ہیں ۔ اناث کے معنی بعض لوگوں نے بتوں کے بھی لئے ۔ قال الحسن لم یکن حتی من احیاء العرب الاولھم صنم یبدونہ ولسمونہ اثنی بن فلان ۔ حضرت عائشہ ؓ کی قرات میں اوثانا بھی آیا ہے ، مگر صحیح وہی معنی ہیں جو قرات متواترہ میں مذکور ہیں ، ہوسکتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ وحضرت حسن ؓ نے اوثانا کو بطور تشریح معنی کے لکھا ہو ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 118–119

ف 3 یہ مشرک نہیں عبادت کرتے مگر چند عورتوں کی یعنی دیویوں کی اور زنا نے ناموں کی اور یہ مشرک نہیں عبادت کرتے مگر شیطان کی جو سرکش اور نافرمان ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور جس کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ سے یوں کہا تھا کہ میں تیرے بندوں سے ضرور اپنا مقرر حصہ لے کر رہوں گا اور تیری اطاعت و عبادت میں بٹوارا کرا کے رہوں گا۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی تیرے بندے اپنے اعمال میں میرا حصہ ٹھہرا رکھیں گے جیسے دستور ہے بتوں کی نیاز نکال رکھتے ہیں۔ (موضح القرآن) اناث انثی کی جمع ہے ان کے بتوں کو عورتیں اس لئے فرمایا کہ عام طور سے وہ اپنے بتوں کو مئونث سے تعبیر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 117–118

ف 2۔ زنانی چیزوں سے مراد بعض بت ہیں جن کے نام اور صورتیں عورتوں کی سی تھیں اور ان کو زیور وغیرہ بھی پہناتے تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

شیطان ہی وہ جنس ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کیا جاچکا ہے : 193: اللہ کی رحمت سے دور جہ جانے کا نام اللہ کی لعنت کا مستحق قرار پانا ہے۔ شیطان کیا ہے ؟ اس کے متعلق تفصیل عروۃ الوثقی جلد اول سورة بقرہ کی آیت 30 سے 39 گیارہ آیات میں ذکر ہوچکی ہے آدم فرشتہ اور ابلیس کی حقیقت تم پر واضح ہو ہوجائے گی وہاں سے ملاحظہ فرمائیں۔ شیطان لینت کیوں ہوا ؟ رب کریم کی نافرمانی کے باعث۔ نافرمانی کی اور پھر ڈٹ گیا کہ میں نے جو کچھ کیا وہ بالکل صحیح کیا۔ گویا نافرمانی کو اس نے حق سمجھا یہی وجہ تھی کہ وہ لعنت کا مستحق ٹھہراجس سے اس با کا ظاہر کرنا مقصود ہے کہ غلطی کا ہوجانا اتنا جرم نہیں جتنا کہ غلطی کو غلطی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 116–122

Sequence Though, the mention of Jihad in preceding verses includes all forces hostile to Islam, yet the actual description was limited to Jews and the hypocrites. Out of the larger group of antagonists there were the pagans who were much more in numbers. The verses that follow take up their beliefs and point out to the punishment they will face. This has a coherence of its own at this place. It will be recalled that the thief mentioned earlier became an apostate. The lasting punishment he thus earned for himself becomes evident. (Bayan a1-Qur'an) Commentary The first verse (116) إِنَّ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

146. This shows that Satan is determined to lay his claim to a portion of men's time, to their effort and labour, to their energies and capacities, to their material belongings, and to their offspring, and would somehow trick them into devoting a sizeable portion of all these in his cause.

Read the full tafseer →