Explained with ayahs 116–122
مشرک کی پہچان اور ان کا انجام
اس سورت کے شروع میں پہلی آیت کے متعلق ہم پوری تفسیر کرچکے ہیں اور وہیں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں بھی بیان کردی ہیں، حضرت علی فرمایا کرتے تھے قرآن کی کوئی آیت مجھے اس آیت سے زیادہ محبوب نہیں (ترمذی) مشرکین سے دنیا اور آخرت کی بھلائی دور ہوجاتی ہے اور وہ راہ حق سے دور ہوجاتے ہیں وہ اپنے آپ کو اور اپنے دونوں جہانوں کو برباد کرلیتے ہیں، یہ مشرکین عورتوں کے پرستار ہیں، حضرت کعب فرماتے ہیں ہر صنم کے ساتھ ایک جنبیہ عورت ہے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں اِنَاثًا سے مراد بت ہیں، یہ قول اور بھی مفسرین کا ہے، ضحاک کا قول ہے کہ مشرک فرشتوں کو پوجتے تھے اور انہیں اللہ کی…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 145
شیطان کو اس معنی میں تو کوئی بھی معبود نہیں بناتا کہ اس کے آگے مراسم پرستش ادا کرتا ہو اس کو الوہیت کا درجہ دیتا ہو، البتہ اسے معبود بنانے کی صورت یہ ہے کہ آدمی اپنے نفس کی باگیں شیطان کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔ اور جدھر جدھر وہ چلاتا ہے ادھر ادھر چلتا ہے گویا کہ یہ اس کا بندہ ہے اور وہ اس کا خدا، اس سے معلوم ہوا کہ کسی کے احکام کی بےچون وچرا اطاعت اور اندھی پیروی کرنے کا نام بھی عبادت ہے اور جو شخص اس طرح کی اطاعت کرتا ہے وہ دراصل اس کی عبادت بجا لاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–121
خلاصہ تفسیر
بیشک اللہ تعالیٰ اس بات کو (سزا دے کر بھی) نہ بخشیں گے کہ ان کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا جائے (بلکہ سزائے ابدی میں مبتلا رکھیں گے) اور اس کے سوا اور جتنے گناہ ہیں (خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ) جس کے لئے منظور ہوگا (بلا سزا) وہ گناہ بخش دیں گے (البتہ اگر وہ مشرک مسلمان ہوجائے تو پھر مشرک ہی نہ رہا اب وہ سزائے دائمی بھی نہ رہی گی) اور (وجہ اس شرک کے نہ بخشنے کی یہ ہے کہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ (کسی کو) شریک ٹھراتا ہے وہ (امر حق سے) بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا (وہ امر حق توحید ہی جو عقلاً بھی واجب ہے اور کار ساز کی تعظیم اس کے حقوق میں سے ہے، پس مشرک نے حضرت صانع کار ساز کی اہانت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–121
117۔ 121:۔ اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا ۚ وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا۔ لَّعَنَهُ اللّٰهُ ۘوَقَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا۔ وَّلَاُضِلَّنَّھُمْ وَلَاُمَنِّيَنَّھُمْ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ ۭ وَمَنْ يَّتَّخِذِ الشَّيْطٰنَ وَلِيًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِيْنًا۔ يَعِدُھُمْ وَيُمَنِّيْهِمْ ۭ وَمَا يَعِدُھُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا۔ اُولٰۗىِٕكَ مَاْوٰىھُمْ جَهَنَّمُ ۡ وَلَا يَجِدُوْنَ عَنْھَا مَحِيْصًا۔
" ان یدعون "…
Read the full tafseer →117۔ 1 اِنّاثً (عورتیں) سے مراد یا تو وہ بت ہیں جن کے نام مؤنث تھے جیسے لات، عزیٰ ، مناۃ، نائلہ وغیرہ۔ یا مراد فرشتے ہیں۔ کیونکہ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں سمجھتے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔
117۔ 2 بتوں، فرشتوں اور دیگر ہستیوں کی عبادت دراصل شیطان کی عبادت ہے۔ کیونکہ شیطان ہی انسان کو اللہ کے در سے چھڑا کر دوسروں کے آستانوں اور چوکھٹوں پر جھکاتا ہے جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔
Read the full tafseer →70: کفار مکہ جن من گھڑت دیویوں کو پوجتے تھے ان سب کو مؤنث سمجھتے تھے، لات، منات، عزی سب کو مؤنث سمجھا جاتا تھا، نیز فرشتوں کو بھی وہ خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے، آیت میں اشارہ یہ ہے کہ ایک طرف تو کفار مکہ عورتوں کو کمتر مخلوق سمجھتے ہیں اور دوسری طرف جن کو اپنا خدا بنا رکھا ہے وہ ان کے خیال کے مطابق سب مؤنث ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–120
(آیت) ” نمبر 117 تا 120 ،
دور جاہلیت میں عرب یہ سمجھتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ پھر وہ ان فرشتوں کی مورتیاں بنانے اور ان کے نام عورتوں کے ناموں سے رکھتے ۔ لات ‘ عزی اور منات وغیرہ ۔ پھر وہ ان بتوں کو پوجتے تھے اور پوجتے اس لئے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیوں کے بت ہیں ۔ یوں وہ بارگاہ الہی میں ان کو تقرب کا ذریعہ بناتے تھے ۔ ابتداء میں اس طرح انہوں نے شرک کا آغاز کیا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے اس کہانی کیا اصلیت کو بھلا دیا اور ان بتوں کی پوجا بذاتہ کرنے لگے ۔ اس کے بعد جب مزید آگے بڑھے تو مطلق پتھروں کی پوجا شروع کردی۔ پارہ چہارم میں ہم نے اس کی کچھ تفصیلات دی ہیں۔
ان میں سے بعض بذات خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
4 یعنی ان مشرکوں نے اللہ کے سوا جو اپنا معبود بنایا تو ان بتوں کو جن کو عورتوں کے نام سے نامزد کر رکھا ہے جیسے عزیٰ اور منات اور نائلہ وغیرہ اور حقیقۃ الامر دیکھئے تو یہ مشرکین شیطان سرکش ملعون الٰہی کی عبادت کرتے ہیں اسی نے تو بہکا کر ایسا کرایا اور بت پرستی کرنے میں اس کی اطاعت اور اس کی عین خوشی ہے۔ اس سے مشرکین کی پرلے سرے کی ضلالت اور جہالت ظاہر فرمانی مقصود ہے۔ دیکھئے اول تو اللہ کے سوا کسی کو معبود بنانا اس سے بڑھ کر ضلالت کیا ہوسکتی ہے پھر بنایا تو کس کو پتھروں کو جن میں کسی قسم کی حس و حرکت بھی نہیں اور عورتوں کے نام سے موسوم ہیں اور کس کے بتلانے سے شیطان مردود و ملعون خداوندی کے…
Read the full tafseer →آیت 117 اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اِنٰثًاج وَاِنْ یَّدْعُوْنَ الاَّ شَیْطٰنًا مَّرِیْدًا r
ُیہاں پہلی مرتبہ مشرکین مکہ کی بات بھی ہو رہی ہے۔ مشرکین مکہ نے اپنی دیویوں کے مؤنث نام رکھے ہوئے تھے ‘ جیسے لات ‘ منات ‘ عزیٰ وغیرہ۔ لیکن اصل میں نہ لات کا کوئی وجود ہے اور نہ ہی منات کی کچھ حقیقت ہے۔ البتہ شیطان ضرور موجود ہے جو ان کی پکار سن رہا ہے
Read the full tafseer →155 مشرکوں میں شرک کی جملہ اقسام پائی جاتی ہیں :۔ شرک کی موٹی موٹی تین اقسام ہیں اور وہ تینوں ہی اس جملہ میں آگئی ہیں مثلاً (1) شرک فی الذات۔ اس لحاظ سے مشرکین اپنی دیویوں کو اللہ کی بیویاں اور بیٹیاں سمجھتے تھے اور ان دیویوں کے ناموں سے ہی یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے جیسے الٰہ سے لات اور عزیز سے عزی وغیرہ (2) شرک فی الصفات۔ اللہ کی یہ صفت ہے کہ جہاں سے بھی اسے کوئی شخص پکارے وہ اس کی فریاد سنتا ہے اور مشرکین کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ دیویاں ان کی فریاد سنتی ہیں (3) شرک فی العبادت۔ قرآن کی تصریح کے مطابق کسی کو اس عقیدہ سے پکارنا کہ وہ اس کی فریاد سن کر اس کی مشکل دور کرسکتا ہے یا اسے کوئی فائدہ…
Read the full tafseer →314 ۔ مشرک قوموں کی دیومالا (میتا لوجی) میں ہمیشہ دیویوں دیوتاؤں کی ایک بڑی اور اہم توداد رہی ہے۔ ہندؤوں میں درگادیوی، کالی مائی، لکشمی جی، سرسوتی دیوی کے نام ایک ایک کی زبان پر ہیں۔ عرب جاہلی میں یہ دیوی پرستی اور زیادہ زور کے ساتھ جاری تھی، چناچہ قرآن مجید میں بھی جاہلی معبودوں کے سلسلہ میں صراحت جن ناموں کی آئی ہے وہ دیویوں ہی کے ہیں۔ یعنی لات، منات اور عزی، ملاحظۃ حاشیہ تفسیرانگریزی۔ اناث۔ لغت میں اس کے ایک معنی دیوی، کمزور اور ضیعف العمل چیزوں کے بھی آتے ہیں۔ قیل لما یضعف عملہ انثی (راغب) پھر چونکہ جمادات تمام تر انفعالیت کے مظہر ہوتے ہیں۔ اور پتھر کے بت یا مورتیاں انہی کی بنی ہوئی ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–126
آیت نمبر 116 تا 126
ترجمہ : اللہ تعالیٰ قطعاً معاف نہ کرے گا اس بات کو کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے (ہاں) شرک کے علاوہ گناہ جس کے چاہے گا معاف کردے گا، اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ حق سے دور جا پڑتا ہے مشرک اللہ کو چھوڑ کر عورتوں یعنی (دیویوں) کی بندگی (پوجا) کرتے ہیں، جیسا کہ لات کی اور عزّیٰ کی اور مناة کی، ان کی عبادت نہیں ہے مگر سرکش شیطان کی عبادت جو حد طاعت سے خارج ہونیوالا ہے بتوں کی عبادت میں مشرکوں کے شیطان کی بات ماننے کی وجہ سے اور وہ ابلیس ہے، اللہ نے اس پر لعنت فرمائی یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کردیا، اور وہ شیطان کہہ چکا ہے کہ میں تیرے بندوں میں سے اپنا مقرر حصہ لے کر رہوں…
Read the full tafseer →ان یدعون من دونہ . وہ نہیں عبادت کرتے ہیں اللہ کو چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
دعا عبادت ہے پھر حضور ﷺ نے آیت وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْتلاوت فرمائی۔ رواہ احمد و اصحاب السنن الاربعہ۔
ایک بات یہ بھی ہے کہ جو کسی کی پوجا کرتا ہے وہ اسی کو حاجات کے لئے پکارتا ہے۔
الا انثا . مگر چند زنانی چیزوں کی۔ اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ اناث سے مراد بت ہیں۔ بتوں کو اناث کہنے کی وجہ یا تو یہ ہے کہ عرب اپنے بتوں کو مؤنث (مادہ) ہی جانتے تھے اور ان کے ناموں کے لئے مؤنث کے صیغے ہی استعمال کرتے تھے مثلاً مناۃ ‘ عزیٰ اللات (شاید حضرت…
Read the full tafseer →(117) اہل مکہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ لات، عزی، مناۃ ایسے بتوں کو پوجتے ہیں کہ جن میں کچھ بھی جان نہیں گویا یہ صرف شیطان کی پوجا کرتے ہیں جو کہ سخت قسم کا سرکش ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ نے ہر ایک خیر سے دور کردیا ہے۔
Read the full tafseer →”اناثا“ یہ ”أُنْثَی“ کی جمع ہے، یعنی مونث۔ ان سے مراد یا تو بت ہیں جن کے اکثر نام (لات، مناۃ، عزیٰ وغیرہ) مؤنث تھے۔ یونانیوں اور ہندوؤں نے بھی عبادت کے لیے دیویاں بنا رکھی ہیں۔ مسلمانوں نے ان کی دیکھا دیکھی ایسی ہستیوں میں ایسے اوصاف مشہور کر رکھے ہیں جیسے وہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کی محبوبائیں ہوں، بلکہ ان کے خیال میں جو پہنچ چکے ہیں وہ اپنی وضع قطع بھی عورتوں والی بنا کر رکھتے ہیں، وہی چوڑیاں وہی زیور وغیرہ۔ ”اناثا“ سے مراد فرشتے بھی ہیں، کیونکہ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں اور ان کی مائیں جنوں کی سردارنیوں کو مانتے تھے۔
2 اِنْ يَّدْعُوْنَ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی وضاحت اللہ کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 117۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان یدعون من دونہ “۔ یعنی من دون اللہ، (آیت) ” الا انثا “۔ یہ اہل مکہ کے بارے میں نازل ہوئی کیونکہ بتوں کی عبادت کرتے تھے، ان نافیۃ بمعنی ما ہے، اثنا “ سے مراد بت ہیں یعنی لات، عزی اور مناۃ، ہر قبیلہ کا ایک بت تھا جس کی وہ عبادت کرتے تھے اور کہتے تھے : انثی بنی فلاں “ یہ حسن اور حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے (2) (تفسیر الحسن البصری، جلد 2 صفحہ 365)
ہر بت کے ساتھ اس کا شیطان ہوتا تھا وہ بتوں کے مجاروں اور کاہنوں کو نظر آتا اور ان سے کلام کرتا، یہ کلام بطور تعجب ذکر کی گئی ہے، کیونکہ ہر جنس سے مونث کمزور اور گھٹیا ہوتی ہے۔ پس یہ ان لوگوں کی جہالت ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–122
(1) عبد اللہ بن احمد نے الزوائد المسند میں وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابی بن کعب ؓ سے لفظ آیت ” ان یدعون من دونہ الا انثا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر بت کے ساتھ ایک جنی عورت ہوتی ہے۔
(2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ ” ان یدعون من دونہ الا انثا “ یعنی لات عزی اور منات سب مؤنث ہیں۔
(3) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” ان یدعون من دونہ الا انثا “ کہ ان کے نام عورتوں والے رکھتے تھے (جیسے لات، منات اور عزی ) ۔
(4) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان یدعون من دونہ الا انثا “ سے مردہ مراد ہے۔
(5) عبد بن حمید…
Read the full tafseer →[ اِنْ یَّدْعُوْنَ : وہ لوگ نہیں پکارتے ] [ مِنْ دُوْنِہٖٓ : اس کے علاوہ ] [ اِلَّآ : مگر ] [ اِنٰـثًا : عورتوں کو ] [ وَاِنْ یَّدْعُوْنَ : اور وہ نہیں پکارتے ] [ اِلاَّ : مگر ] [ شَیْطٰنًا مَّرِیْدًا : سرکش شیطان کو ]
م ر د
مَرِدَ یَمْرَدُ (س) مَرَدًا : (1) درخت کی ٹہنی کا پتوں کے بغیر ہونا۔ (2) چکنا ہونا۔
مَرَدَ یَمْرُدُ (ن) مُرُوْدًا : (1) ہمسروں سے آگے نکلنا۔ (2) نافرمان و سرکش ہونا۔ { وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ قف مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِقف }(التوبۃ :101) ” اور مدینے والوں میں سے کچھ لوگ آگے بڑھے نفاق پر۔ “
مَارِدٌ (اسم الفاعل) : سرکشی کرنے والا ۔ { وَحِفْظًا مِّنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–119
مشرکین مورتیوں کی پوجا کرتے ہیں اور شیطان کے فرمانبر دار ہیں
اوپر شرک کا ذکر تھا ان آیات کی بعض صورتوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ شرک اور کفر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا ہر کام یہ سب شیطان کے سمجھانے سے اور اس کی راہ بتانے سے وجود میں آتا ہے۔ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا تھا کہ آدم کو سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے جو مجھے گمراہ قرار دیا ہے تو میں بنی آدم سے اس کا بدلہ لے لوں گا۔ بنی آدم کا ایک بہت بڑا حصہ اپنی طرف لگا لوں گا تھوڑے بہت ہی لوگ بچیں گے۔ اکثر لوگوں کو اپنی اطاعت پر ڈال دوں گا، جب حضرت آدم (علیہ السلام) دنیا میں آئے اور ان کی ذریت پھیلنی شروع ہوئی اور شیطان مردود بھی دنیا میں آگیا جو اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–126
شرک اور اہل شرک کی مذمت اور رسوم جاہلیت کا ابطال۔
قال تعالی، ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ محیطا۔
یہ آخری آیت ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی۔ آیت۔ بھی طعمہ کے بارے میں نازل ہوئی جب اس نے دیکھا کہ اللہ نے اس کا پردہ فاش کردیا تو مرتد ہو کر چلا گیا ایک شخص کی دیوار میں نقب لگایا اتفاقا دیوار اس پر گر پڑی اور وہ مرگیا اب اس کے بعد اللہ شرک کی بابت ارشاد فرماتے ہیں کہ شرک تو بغیر توبہ کے کسی حال میں نہیں بخشا جاتا اور البتہ شرک اور کفر کے علاوہ اور گناہ بغیر توبہ کے بھی بخشے جاتے ہیں پس اگر طعمہ مرتد نہ ہوتا اور مشرکین کے ساتھ جاکرنہ ملتا تو ممکن تھا کہ چوری وغیرہ کا گناہ بغیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–120
84 یعنی بظاہر تو فرشتوں اور بزرگوں کی موتیوں کو پکارتے اور ان پر نذریں نیازے چڑھاتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ سب کچھ وہ شیطان کیلئے کر رہے ہیں جو ان مورتیوں سے بولتا ہے کان یدخل فی اجواف الاصنام فیتکلم واعیھا (بحر ج 3 ص 352) یہاں تک شرک اعتقادی کی نفی تھی وقال لا تخذن من عبادک نصیبا مفروضا۔ یہاں سے شرک فعلی کی نفی کی گئی ہے۔ نَصِیْباً مَّفْرُوْضاً مقررہ حصہ یعنی میں تیرے بندوں کو ایسا گمراہ کروں گا کہ وہ شرک کرنے لگیں گے اور اپنے مالوں سے مقررہ حصے غیر اللہ کی نیازوں کے نکالیں گے (شاہ عبدالقادر) ۔ فَلْیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ الخ یعنی وہ غیر اللہ کی خوشنودی کے لیے جانور چھوڑیں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
ربط آیات
گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اجماع کے خلاف چلنے والے شخص کے متعلق فرمایا کہ جو شخص ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد اللہ کے رسول کی مخالفت کرے گا اور مومنین کے راستے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کرے گا ، بلکہ جس طرف وہ جانا چاہتا ہے ، اسے جانے دے گا ، اور پھر اس کا انجام جہنم ہوگا ، مومنین کے راستے کی مخالفت کا نتیجہ گمراہی ہوتا ہے ، اور انسان شرک میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ گزشتہ دروس میں جس منافق بشیر کا واقعہ بیان کیا گیا ہے وہ مومنین کا راستہ چھوڑ کر مشرکین کے راستے پر چل نکلا اور پھر وہاں جہنم رسید ہوگیا ، اس شخص نے چوری کی تھی ، اگر وہ تائب ہوجاتا تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کردیتا ، مگر…
Read the full tafseer →اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اِنٰثًا 0ۚ وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا 117ۙ
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ،
( د ع و ) الدعاء ( ن )
کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
ترکیب : اللّٰہ اسم ان لا یغفر خبر ان یشرک بہ مفعول ہے یغفر کا۔ لمن کالام یغفر سے متعلق ہے۔ اناثا جمع انثی علی فعال ویروابہ کل مالا روح لہ من الاحجار والاصنام والشمس ویکن ان یقال انہم کانوا یعبدون الخبائث من الشیاطین والارواح الغیر المرئۃ ویستعینون بھا ویناد ونھا فی کل شدہ غمرۃ لعنۃ اللّٰہ صفت ہے شیطاناً کی اور ممکن ہے کہ مستانفہ ہو جملہ بدعا کے لئے لاتخذن الخ مقولہ شیطان ہے۔
تفسیر : اگلی آیتوں میں گناہ کی معافی کی طرف اشارہ تھا یہاں اس بات کی تصریح ہے کہ گناہوں میں شرک ایسا سخت گناہ ہے کہ جس کی سزا ابدی جہنم ہے۔ یہ بغیر توبہ کے ہرگز معاف نہیں ہوتا۔ ہاں اگر اس کے سوا اور جس گناہ کو چاہے گا خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–119
اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اِنٰـثًا ج وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًا لا لََّعَنَہُ اللّٰہُ م وَقَالَ لَاتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا لا وَّلَاُضِلَّـنَّہُمْ وَلَاُمَنِّیَنَّہُمْ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ ط وَمَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًا ط
” وہ اللہ کے سوا نہیں پکارتے مگر دیویوں کو۔ اور وہ نہیں پکارتے مگر شیطانِ سرکش کو جس پر اللہ نے لعنت کی ہے۔ اور اس نے کہہ رکھا ہے کہ میں ہتھیا کے رہوں گا تیرے بندوں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ یہاں شرک کی ایک اور قسم بیان کی گئی ہے۔
یہاں شرک کی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ یہ لوگ دیویوں کی عبادت کرتے ہیں جو حقیقتاً شیطان کی عبادت کرنے کے مترادف ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے۔ دنیا میں سب سے پہلے شرک نوح (علیہ السلام) کی قوم میں پیدا ہوا۔ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے اپنے بزرگوں کے مجسمے تراشے ان میں سب سے بڑے بت کا نام سواع تھا سواع عورت کی شکل پر بنایا گیا اس کا معنی ہے ” انتظام و انصرام کرنے والی دیوی “۔ مشرکین مکہ لات، منات اور عزیٰ کو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا وسیلہ بناتے تھے۔ یہ سب کے سب عورتوں کے نام ہیں۔ ہندؤوں اور بدھ مت…
Read the full tafseer →اصنام کو اناث کہنے کی وجہ :
آیت 117 : اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ (نہیں وہ عبادت کرتے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر) اِلَّآ اِنٰـثًا (مگر مؤنثوں کی) اناث جمع انثٰی کی اور وہ لات عزّیٰ و مناۃ ہیں۔ اہل عرب کا ہر قبیلہ کسی نہ کسی بت کی پوجا کرتا تھا۔ وہ اس کا نام فلاں قبیلہ کی مؤنث رکھتے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ وہ اپنے اصنام کے متعلق کہتے یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ وَاِنْ یَّدْعُوْنَ (وہ عبادت نہیں کرتے) اِلاَّ شَیْطٰنًا مَّرِیْدًا (مگر شیطان مردود کی) کیونکہ شیطان نے ان کو بتوں کی عبادت پر آمادہ کیا۔ اور انہوں نے اس کی اطاعت کی۔ پس اس کی اطاعت کو عبادت قرار دیا۔ مَّرِیْدًا اطاعت سے نکلنے والا اور بھلائی…
Read the full tafseer →(تفسیر) 117۔:
(آیت)” ان یدعون من دونہ الا اناثا “۔ اس آیت کا نزول مکہ والوں کے بارے میں ہوا کہ وہ نہیں پکارتے مگر انہیں مورتیوں کا اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” وقال ربکم ادعونی “۔ یعنی تم عبادت کرو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق (آیت)” ان الذین یستکبرون عن عبادتی سیدخلون جھنم داخرین “۔ ۔۔۔۔۔۔ (آیت)” من دونہ “۔ سے مراد اللہ کے سوا (آیت)” الا اناثا “ اناث سے مراد بت ہیں چونکہ وہ بتوں کو اسی نام سے موسوم کرتے تھے جیسا کہ لات ، منات عزی ، اور وہ یہ کہتے تھے کہ ہر ایک قبیلہ کا بت ہے جومؤنث ہے ” انثی بنی فلاں “۔ ان بتوں میں سے ایک ایک کے ساتھ شیطان ہوتا تھا جو ان کے ساتھ کہانت اور کلام کرتا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
(116 ۔ 122) ۔ اس سے پہلے یہ آیت اہل کتاب کے ذکر میں تھی اس لئے وہاں فقد افتری ( 4۔ 48) فرمایا تھا کیونکہ اہل کتاب کا شرک جان بوجھ کر افتراء کے طور پر تھا یہاں عرب کے مشرکوں اور مرتدلوگوں کا ذکر ہے اس لئے فقد ضل فرمایا کہ یہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ ان کی جہالت کا سبب ہے، باقی معنی آیت کے پہلی جگہ جہاں یہ ہے۔ وہاں بیان کئے گئے ہیں عرب کے مشرک لوگ اپنے بتوں کے نام لات و منات اور عزیٰ عورتوں کے سے رکھتے تھے۔ اس واسطے فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے سوا عورتوں کو پکارتے ہیں۔ اللہ کے سوا جس چیز کی کوئی پوجا کرتا ہے وہ شیطان کے بہکانے سے کرتا ہے اس لئے فرمایا کہ حقیقت میں یہ لوگ شیطان معلون کی پوجا کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–121
آیت 117
یعنی یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کے سوا جن ہستیوں کو پکارتے ہیں سب مؤنث ہیں یعنی لوگ جن بتوں کو پوجتے ہیں وہ عورتوں جیسے ناموں سے موسوم ہیں، مثلاً ” عزی “ اور ” مناۃ “ وغیرہ یہ بھی ہمیں معلوم ہے کہ اسم اپنے مسمی پر دلالت کرتا ہے اور جب ان بتوں کے نام مؤنث اور ناقص ہیں تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ان اسماء کے مسمیات بھی ناقص اور صفات کمال سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر فرمایا ہے کہ یہ بات کوئی چیز تخلیق کرسکتے ہیں نہ رزق عطا کرسکتے ہیں نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی کسی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں بلکہ وہ تو اپنی ذات تک کے نفع و نقصان کے مالک نہیں اور اگر کوئی ان کو نقصان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–118
قول باری ہے ( ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین الہ الھدیٰ و یتبع غیر سبیل المومنین نولہ ماتولی و نصلہ جھنم) اور جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے درآں حالیکہ اس پر راہ راست واضح ہوچکی ہو تو ہم اس کو اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے۔ حضور ﷺ کی مخالفت ، آپ سے علیحدگی اور آپ کی دشمنی کی صورت یہ ہے کہ مخالفت کرنے والا ایک جانب ہو جو اس جانب کے ما سوا ہو جس میں حضور ﷺ ہیں اسی طرح یہ قول باری ہے ( ان الذین یحادون اللہ ورسولہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں) وہ اس طرح کہ مخالفت کرنے والا اس کنارے پر ہو جو…
Read the full tafseer →302 مشرکین کا بےحقیقت مادہ ناموں کو پکارنا : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ فرمایا گیا کہ یہ لوگ اللہ کے سوا نہیں پکارتے مگر کچھ عورتوں کے ناموں کو۔ مثلًا لات، عزی، منات اور نائلہ وغیرہ، جو کہ سب کے سب مونث اور عورتوں کے نام ہیں۔ اور اسی طرح وہ لوگ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ اسی طرح ہندو کالی دیوی، لکشمی دیوی، وغیرہ مختلف ناموں سے اپنے معبودوں کو پکارتے ہیں۔ بہرکیف اس طرح مشرکین اپنے ان خودساختہ بتوں کو پوجتے پکارتے اور کہتے تھے اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں (روح کبیر، قرطبی، ابن کثیر، اور محاسن التاویل وغیرہ) ۔ افسوس کہ اسی ذہنیت کے جراثیم بہت سے جاہل مسلمانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
شرک ناقابل معافی ہے
تشریح : یہاں طعمہ اور زید کے ذکر سے ایک اور بہت بڑا نکتہ سمجھایا گیا ہے، یعنی طعمہ اگر رسول ﷺ کے فیصلہ کو مان کر توبہ کرلیتا تو اس کے کئی چھوٹے بڑے گناہ اللہ خوش ہو کر شاید معاف کردیتا لیکن اس نے تو انتہا کردی کہ مسلمانوں کی جماعت کو چھوڑ کر کفار میں جاملا، یعنی مشرک ہوگیا۔ مشرک کا مطلب ہے اللہ کی وحدانیت سے پھرجانا اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا۔ اللہ رب العزت نے فرمایا کہ شرک اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کی بخشش کبھی نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے، اس کی کوئی معافی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–126
رکوع نمبر 18 ۔ آیات 116 تا 126 ۔
اسرار و معارف :
ان اللہ لا یغفر ۔۔۔ محیطا۔
ایک اور بہت بڑی جماعت ان جہلا اور نادانوں کی ہے جنہوں نے اپنے آپ کو شرک جیسی مصیبت میں ڈال رکھا ہے اور وہ اوصاف جو صرف اللہ کو سزا وار ہیں دوسروں کو ان میں حصہ دار مانتے ہیں یا پھر وہ اطاعت جو صرف اللہ کا حصہ ہے اس میں دوسروں کو شریک کرلیتے ہیں یہی تین گروہ تھے علمائے یہود اور یہود و نصاری۔ جو ایمان نہ لائے تھے یا منافقین جو بظاہر ایمان لانے کا اظہار و اقرار کرتے مگر دل سے ایمان دار نہ تھے اور تیسرے مشرکین مکہ و عرب دنیا کی آبادی بلحاظ مذہب و ملت انہی تین گروہوں میں تقسیم کی جاسکتی تھی اور آج بھی ایسا ہی ہے سوائے اس…
Read the full tafseer →ف 8 اناثا سے مراد یا تو بت ہیں جن کے نام (اللات منات عزی) سب مئو نث تھے اور یا فرشتے مراد ہیں جنہیں وہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ آیت میں غیر اللہ کے پکارنے کو شرک قرار دیا ہے۔ جو شخص بھی غیبی مدد کے لیے کسی کو اللہ کے سوا پکار تا ہے وہ مشرک ہے کیونکہ عبادت دراصل اسی پکارنے کا نام ہے۔ ( قرطبی۔ ابن کثیر)9 کیونکہ شیطان ہی نے انہیں بتوں یا فرشتوں کی پرستش پر لگایا ہے ْ ( قرطبی)
Read the full tafseer →(4:117) ان نافیہ ہے۔ انثا عورتیں۔ انثی کی جمع ہے جس مے معنی عورت کے ہیں۔ معبودان باطل کو اناث کہا ہے کیونکہ مشرکین اپنے بتوں کو انواع و اقسام کے زیوروں سے آراستہ کرتے اور ان کو عورتوں کے نام سے نامزد کرتے تھے۔ جیسے لات، منات، عزی، نائلہ۔ یہ سب مؤنث نام ہیں۔
ضحاک کا بیان ہے کہ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے اور مدعی تھے کہ ہم ان کو اس لئے پوجتے ہیں کہ یہ بارگاہ الٰہی میں ہمارے قرب کا موجب ہیں چناچہ انہوں نے خوبصورت شکل میں ان کے مجسمے تراشے اور کہا کہ یہ اللہ کی بیٹیوں کی شبیہ ہیں جن کی ہم پرستش کرتے ہیں ۔ قرآن میں ہے وجعلوا المئکۃ الذین ۔۔ انثا۔ اور انہوں نے فرشتوں کو جو کہ خدا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
آیت نمبر 116-122
لغات القرآن : لایغفر، معاف نہیں کرے گا۔ ضل، بھٹک گیا۔ ضلال بعید، بھٹک کر دور تک پہنچ جانا۔ انت، عورتیں، دیویاں۔ مرید، باغی۔ اضلن، میں ضرور گمراہ کروں گا۔ امنین، میں ضرور امیدیں دلاؤں گا۔ امرن، میں ضرور سکھاؤں گا۔ یبتکن، ضرور پھاڑیں گے۔ اذان، کان۔ الانعام، مویشی، جانور۔ یغیرن، ضرور تبدیل کریں گے۔ غرور، دھوکا، فریب۔ محیص، بھاگنے کی جگہ۔ اصدق، زیادہ سچا۔ قیل، کہا گیا، قول۔
تشریح : یہاں بالکل واضح طریقہ سے کہہ دیا گیا ہے کہ شرک کی معافی نہیں ہے۔ اس کے سوا اگر اللہ چاہے تو ہر گناہ کی معافی ہوسکتی ہے۔ چونکہ شرک ہی سارے گناہوں کی جڑ ہے۔ یہ کفر کی سب سے خطرناک قسم ہے۔ جب بندہ اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
شان نزول : حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ آیت ایک بوڑھے اعرابی کے حق میں نازل ہوئی جس نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں بوڑھا ہوں گناہوں میں غرق ہوں بجز اس کے کہ جب سے میں نے اللہ کو پہچانا اور اس پر ایمان لایا، اس وقت سے کبھی میں نے اس کے ساتھ شرک نہیں کیا اور اس کے سوا کبھی کسی اور کو ولی نہیں بنایا، اور جرات کے ساتھ گناہوں میں مبتلا نہ ہوا، اور ایک پل بھی میں نے یہ گمان نہ کیا کہ میں اللہ سے بھاگ سکتا ہوں۔ میں شرمندہ ہوں اور مغفرت چاہتا ہوں۔ اللہ کے ہاں میرا کیا حال ہوگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ شرک نہ بخشا جائے گا جو مشرک اپنے شرک پر مرے اور جو مشرک اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
[76] کیونکہ مشرکین شیطان کے کہے میں آ کر دیویوں کو پکارتے ہیں لہذا دیویوں کو پکارنا عین شیطان کو پکارنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
(ف 1) جہالت کی حد کہ پوجتے بھی ہیں تو اناث کو ، جیسے لات ‘ عزے ، منات یعنی ذہنی پستی کی یہ آخری مثال ہے کہ شرک نے انکے دماغوں کو ماؤف کردیا ہے اب انہیں دیویاں بھی خدا نظر آتی ہیں ۔ حالانکہ خدا کے لئے غلبہ وقوت ایسے خصائل ہیں جو بدیہی ہیں ۔
اناث کے معنی بعض لوگوں نے بتوں کے بھی لئے ۔ قال الحسن لم یکن حتی من احیاء العرب الاولھم صنم یبدونہ ولسمونہ اثنی بن فلان ۔
حضرت عائشہ ؓ کی قرات میں اوثانا بھی آیا ہے ، مگر صحیح وہی معنی ہیں جو قرات متواترہ میں مذکور ہیں ، ہوسکتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ وحضرت حسن ؓ نے اوثانا کو بطور تشریح معنی کے لکھا ہو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
ف 2 بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے خواہ اس کی ذات میں یا اس کی صفات مختصہ میں اور شرک سے کم درجے کے گناہوں کو خواہ وہ صغیر ہوں یا کبیرہ جس کے لئے وہ چاہے گا ان کو بخشدے گا اور بالکل سزا نہیں دے گا اور بات بھی یہ ہے کہ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کیا خواہ وہ شرک ذاتی ہو یا صفاتی یقینا ایسی گمراہی میں جا پڑا جو راہ حق سے بہت دور ہے۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اوپر سے ذکر تھا منافقوں کا جو پیغمبر کے حکم پر راضی نہ ہو اور جدی راہ چلے یہ آیت فرمائی کہ اللہ شرک نہیں بخشتا تو شرک فرمایا حکم میں شریک کرنے کو یعنی سوائے دین اسلام کے اور دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
ف 2۔ زنانی چیزوں سے مراد بعض بت ہیں جن کے نام اور صورتیں عورتوں کی سی تھیں اور ان کو زیور وغیرہ بھی پہناتے تھے۔
Read the full tafseer →مشرکین مکہ سوا جن کو اپنا حاجت روا جانتے تھے ان کو ” اناث “ کہتے تھے :
191: اناث کیا ہے ؟ اناث انثی کی جمع ہے۔ یہ ارشاد اس لئے فرمایا کہ مشرکن مکہ جن ہستیوں کو اللہ کا شریک اور ساجھی ٹھہراتے تھے ان کے نام انہوں نے عورتوں ہی کے سے رکھے تھے جیسے لات ، مناۃ اور عزٰی اور روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ ہر ایک قبیلہ کا ایک بت تھا جسے وہ انثی بن فلاں کہتے تھے کیونکہ اناث میں قوت منفعلہ یعنی دوسرے کا اثر قبول کرنے کی قوت تو ہوتی ہے لیکن کسی میں اثر کرنے کی قوت نہیں ہوتی اگرچہ علامہ بیضاوی کا یہ ارشاد اس وقت تو صحیح ہوگا جب وہ اس دنیا میں موجود تھے لیکن اگر وہ آج ہوتے تو شاید ایسا نہ کہتے کیونکہ اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
Sequence
Though, the mention of Jihad in preceding verses includes all forces hostile to Islam, yet the actual description was limited to Jews and the hypocrites. Out of the larger group of antagonists there were the pagans who were much more in numbers. The verses that follow take up their beliefs and point out to the punishment they will face. This has a coherence of its own at this place. It will be recalled that the thief mentioned earlier became an apostate. The lasting punishment he thus earned for himself becomes evident. (Bayan a1-Qur'an)
Commentary
The first verse (116) إِنَّ…
Read the full tafseer →145. No one sets up Satan as his 'god' in the sense that he makes him the object of his ritual worship and declares him to be God in so many words. The way to make Satan one's god is to entrust one's reins to him and let oneself be drawn helplessly in whichever direction he wants; the relationship between the two is, then, that of worshipper and worshipped. This shows that either absolute, unreserved obedience to or blind following of anybody is tantamount to 'worshipping' him, so that whoever indulges in this kind of absolute obedience is guilty of worshipping a 'god' other than the One True…
Read the full tafseer →