An-Nisaa 4:116

An-Nisaa · from ayah 116

4:116

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ ؕ— وَمَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا بَعِیْدًا ۟اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰ لِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًاۢ بَعِيۡدًا

خدا اس کے گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا (اور گناہ) جس کو چاہیے گا بخش دے گا۔ اور جس نے خدا کے ساتھ شریک بنایا وہ رستے سے دور جا پڑا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, Allah does not forgive association with Him, but He forgives what is less than that for whom He wills. And he who associates others with Allah has certainly gone far astray.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 18 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:116

اللہ کے ہاں بس شرک ہی کی بخشش نہیں ہے، اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہوسکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہے جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا اس کے گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا (اور گناہ) جس کو چاہیے گا بخش دے گا۔ اور جس نے خدا کے ساتھ شریک بنایا وہ رستے سے دور جا پڑا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اسے اللہ تعالیٰ قطعاً نہ بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک مقرر کیا جائے، ہاں شرک کے علاوه گناه جس کے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے واﻻ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا

— مولانا محمد جوناگڑہی

بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس سے کمتر ہر گناہ کی جس کے لیے چاہتا ہے بخشش کردیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایات ہے، وہ راہ راست سے بھٹک کر بہت دور جا گرتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کا کوئی شریک ٹھہرایا جائے اور اس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے وہ دور کی گمراہی میں پڑا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک اللہ اس (بات) کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے اور جو (گناہ) اس سے نیچے ہے جس کے لئے چاہے معاف فرما دیتا ہے، اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے وہ واقعی دور کی گمراہی میں بھٹک گیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے، جسے چاہے گا اور جو اللہ کے ساتھ شریک بنائے تو یقینا وہ بھٹک گیا، بہت دور بھٹکنا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ کے ساتھ اگر کسی کو شریک بنایا جائے تو یہ گناہ وہ کبھی معاف نہیں کرے گا اور اس کے علاوہ جو دوسرے گناہ ہیں انہیں وہ جسے چاہے معاف کردے۔ اور جس نے کسی کو اللہ کا شریک بنایا وہ گمراہی میں دور تک چلا گیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک اللہ اس چیز کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جائے، اس کے نیچے جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے گا وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک اللہ نہیں بخشے گا اس بات کو کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے اور وہ بخش دے گا اس کے سوا جو بھی گناہ ہوگا، جس کے لئے چاہے گا، اور جس نے شرک کیا، تو وہ یقینا (راہ حق سے) بھٹک کر جاپڑا دور کی گمراہی میں،

— مولانا اسحاق مدنی

یقیناً اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس کے سوا (اور گناہوں کو) بخش دے گا جس کے لیے منظور ہوگا اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ یقیناً بڑی دور کی گمراہی میں پڑگیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ ہرگز نہیں بخشے گا اس بات کو کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور بخش دے گا اس کے سوا جس کے لیے چاہے گا اور جو شرک کرتا ہے اللہ کے ساتھ وہ تو پھر گمراہ ہوگیا اور گمراہی میں بھی بہت دور نکل گیا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ کے ہاں صرف شرک کی ہی بخشش نہیں ہے، اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہوسکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہے۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا

— محترمہ رفعت اعجاز

Truly it is only associating others with Allah in His divinity that Allah does not forgive, and forgives anything besides that to whomsoever He wills. Whoever associates others with Allah in His divinity has indeed strayed far away.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, Allah does not forgive that a partner is ascribed to Him, and forgives anything short of that for whomsoever He wills. Whoever ascribes a partner to Allah has indeed gone far astray.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, Allah does not forgive that a partner is ascribed to Him, and forgives anything short of that for whomsoever He wills. Whoever ascribes a partner to Allah has indeed gone far astray.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, Allah forgives not (the sin of) setting up partners (in worship) with Him, but He forgives whom He wills, sins other than that, and whoever sets up partners in worship with Allah, has indeed strayed far away.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! Allah pardoneth not that partners should be ascribed unto Him. He pardoneth all save that to whom He will. Whoso ascribeth partners unto Allah hath wandered far astray.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, Allah does not forgive association with Him, but He forgives what is less than that for whom He wills. And he who associates others with Allah has certainly gone far astray.

— Saheeh International

God will not forgive the sin of considering something equal to Him, but He may forgive the other sins of whomever He wants. One who considers anything equal to God has certainly gone far away from the right path.

— Muhammad Sarwar

Surely Allah does not forgive that anything should be associated with Him, and He forgives what is besides this to whom He pleases; and whoever associates anything with Allah, he indeed strays off into a remote error.

— Muhammad Habib Shakir

Verily Allah shall not forgive that aught be associated with Him, and He will forgive all else unto whomsoever He liketh; and whosoever associateth ought with Allah, hath surely strayed away a far straying.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah forgiveth not (The sin of) joining other gods with Him; but He forgiveth whom He pleaseth other sins than this: one who joins other gods with Allah, Hath strayed far, far away (from the right).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:116

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 116–122

مشرک کی پہچان اور ان کا انجام اس سورت کے شروع میں پہلی آیت کے متعلق ہم پوری تفسیر کرچکے ہیں اور وہیں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں بھی بیان کردی ہیں، حضرت علی فرمایا کرتے تھے قرآن کی کوئی آیت مجھے اس آیت سے زیادہ محبوب نہیں (ترمذی) مشرکین سے دنیا اور آخرت کی بھلائی دور ہوجاتی ہے اور وہ راہ حق سے دور ہوجاتے ہیں وہ اپنے آپ کو اور اپنے دونوں جہانوں کو برباد کرلیتے ہیں، یہ مشرکین عورتوں کے پرستار ہیں، حضرت کعب فرماتے ہیں ہر صنم کے ساتھ ایک جنبیہ عورت ہے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں اِنَاثًا سے مراد بت ہیں، یہ قول اور بھی مفسرین کا ہے، ضحاک کا قول ہے کہ مشرک فرشتوں کو پوجتے تھے اور انہیں اللہ کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النِّسَآء 144 اس رکوع میں اوپر کے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ اپنی جاہلیت کے طیش میں آکر یہ شخص جس راہ کی طرف گیا ہے وہ کیسی راہ ہے، اور صالحین کے گروہ سے الگ ہو کر جن لوگوں کا ساتھ اس نے اختیار کیا ہے وہ کیسے لوگ ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 116–121

خلاصہ تفسیر بیشک اللہ تعالیٰ اس بات کو (سزا دے کر بھی) نہ بخشیں گے کہ ان کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا جائے (بلکہ سزائے ابدی میں مبتلا رکھیں گے) اور اس کے سوا اور جتنے گناہ ہیں (خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ) جس کے لئے منظور ہوگا (بلا سزا) وہ گناہ بخش دیں گے (البتہ اگر وہ مشرک مسلمان ہوجائے تو پھر مشرک ہی نہ رہا اب وہ سزائے دائمی بھی نہ رہی گی) اور (وجہ اس شرک کے نہ بخشنے کی یہ ہے کہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ (کسی کو) شریک ٹھراتا ہے وہ (امر حق سے) بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا (وہ امر حق توحید ہی جو عقلاً بھی واجب ہے اور کار ساز کی تعظیم اس کے حقوق میں سے ہے، پس مشرک نے حضرت صانع کار ساز کی اہانت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون۔ آیات 116۔ 126:۔ آگے پہلے وجہ بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ یہ منافقین جو اللہ کی ہدایت واضح ہوچکنے کے بعد رسول کی مخالفت مومنین کی راہ سے الگ اپنی راہ نکالنا چاہتے ہیں جہنم میں پڑیں گے تو کیوں پڑیں گے ؟ اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ کی ہدایت کے خلاف کوئی راہ اختیار کرنا، خدا کے رسول کے خلاف اپنی پارٹی کھڑی کرنا اور مومنین کے راستے سے الگ راہ نکالنا اپنی حقیقت کے لحاظ سے شرک ہے اور اللہ تعالیٰ کا شرک کے متعلق یہ فیصلہ ہے کہ وہ اس کو معاف فرمانے والا نہیں۔ شرک کی حقیقت : اس کے بعد شرک کے ذکر کے تعلق سے شرک کی حقیقت واضح فرمائی کہ جو لوگ شرک کرتے ہیں وہ درحقیقت شیطان کے پیرو ہیں۔ اس نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 115–116

115۔ 1 ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت اور مومنین کا راستہ چھوڑ کر کسی اور راستے کی پیروی، دین اسلام سے خروج ہے جس پر یہاں جہنم کی وعید بیان فرمائی ہے۔ مومنین سے مراد صحابہ کرام ہیں جو دین اسلام کے اولین پیرو اور اس کی تعلیمات کا کامل نمونہ تھے، اور ان آیات کے نزول کے وقت جن کے سوا کوئی گروہ مومنین موجود نہ تھا کہ وہ مراد ہو۔ اس لئے صحابہ کرام ؓ کی مخالفت اور غیر سبیل المومنین کا اتباع دونوں حقیقت میں ایک ہی چیز کا نام ہے۔ اس لئے صحابہ کرام ؓ کے راستے اور منہاج سے انحراف بھی کفر و ضلال ہی ہے۔ بعض علماء نے سبیل المومنین سے مراد اجماع امت لیا یعنی اجماع امت سے انحراف بھی کفر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

69: تشریح : یعنی شرک سے کم کسی گناہ کو اللہ تعالیٰ جب چاہے توبہ کے بغیر بھی محض اپنے فضل سے معاف کرسکتا ہے لیکن شرک کی معافی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ مشرک اپنے شرک سے سچی توبہ کرکے موت سے پہلے پہلے اسلام قبول کرے اور توحید پر ایمان لے آئے۔ یہی مضمون پیچھے آیت نمبر 48 میں بھی گذر چکا ہے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 115–116

(آیت) ” 115 تا 116۔ ان آیات کے نزول کے سلسلے میں یہ کہا گیا ہے کہ بشیر ابن ابیرق مرتد ہوگیا اور جاکر مشرکین مکہ کے ساتھ مل گیا حالانکہ اس پر راست واضح ہوچکی تھی ۔ پہلے وہ اسلامی صفوں میں تھا لیکن اس نے اہل ایمان کی راہ کو چھوڑ کر دوسری راہ کو اپنا لیا۔ لیکن یہ آیت مضمون اور اطلاق کے اعتبار سے عام ہے ۔ اس کا اطلاق ہر اس حالت پر ہوگا جس میں رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی جارہی ہو ۔ جس میں آپ کی مخالفت میں کفر ‘ شرک اور ارتداد اختیار کیا گیا ہو اور اس طرح کے قدیم وجدید تمام واقعات پر اس کا اطلاق ہوگا ۔ (المشاقہ) کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص ایک ٹکڑا لے اور دوسرا اس کے مقابلے میں دوسرا ٹکڑا لے لے ۔ اور جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی شرک سے نیچے کے گناہ جس کے چاہے گا اللہ بخش دے گا مگر شرک کو ہرگز نہیں بخشے گا۔ مشرک کے لئے عذاب ہی مقرر فرما چکا تو چوری کرنا اور تہمت جھوٹی لگانا اگرچہ کبیرہ گناہ تھے مگر یہ بھی احتمال تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس چور کو بخش دیتا لیکن جب وہ چور رسول اللہ ﷺ کے حکم سے بھاگا اور مشرکوں میں جا ملا تو اب اس کی مغفرت کا احتمال بھی نہ رہا۔ فائدہ : اس سے یہ معلوم ہوا کہ شرک یہی نہیں کہ اللہ کے سوا کسی کی پرستش کرے بلکہ اللہ کے حکم کے مقابلہ میں کسی کے حکم کو پسند کرنا یہ بھی شرک ہے۔ 3 دور جا پڑا اس لئے کہ وہ شخص تو اللہ ہی سے صریح منحرف ہوگیا اور اللہ کے مقابلہ میں دوسرا معبود بنا کر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 116 اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ ط۔ گویا یہ بھی کوئی فری لائسنس نہیں ہے۔ یاد رہے کہ یہ آیت اس سورة مبارکہ میں دوسری بار آرہی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

154 اس آیت سے درج ذیل باتیں معلوم ہوئیں : 1۔ شرک ناقابل معافی جرم ہے جسے اللہ کسی صورت میں بھی معاف نہیں کرے گا۔ 2۔ کیسے گناہوں کی معافی کی توقع ہوسکتی ہے :۔ دوسرے گناہوں کے متعلق یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ وہ معاف ہوجائیں گے۔ اللہ جس کو چاہے اور جونسا گناہ چاہے معاف کردینے کا اختیار رکھتا ہے اور چاہے تو ان پر مواخذہ بھی کرسکتا ہے۔ گناہ بھی دو قسم کے ہوتے ہیں یا ایک ہی گناہ میں دو قسم کے حقوق ہوتے ہیں۔ ایک اللہ کا حق، دوسرے بندوں کا حق، اللہ جسے چاہے اپنا حق معاف کر دے اور جسے چاہے نہ کرے مگر بندوں کے حقوق کی ادائیگی لازمی ہے تب ہی اللہ اپنا حق بھی معاف کرے گا۔ بندوں کا حق خواہ اس دنیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

313 ۔ (ایسا کہ اب حق کی طرف اس کی مراجعت ممکن نہیں) (آیت) ” ان یشرک بہ، من یشرک باللہ “۔ شرک ضد ہے توحید کی۔ اور جس طرح توحید اصل اصول ہے تمام ممکن بھلائیوں اور نیکیوں کی، اسی طرح شرک اصلی بنیاد ہے ساری شرمآبیوں اور برائیوں کی اس لئے اور کسی معصیت پر شرک کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ راہرو کا رخ اگر منزل مقصود کی طرف ہو تو گرتا پڑتا، وقت ضائع کرتا کبھی نہ کبھی منزل سے دور تر ہی کرتا رہے گا اور قیامت تک بھی اگر چلتا رہے تو منزل تک نہ پہنچ سکے گا۔ مشرک قبول رحمت کی ساری صلاحیتوں واستعدادوں ہی کو سوخت کردیتا ہے اس لئے وہ آخرت کی کسی نعمت، کسی لذت، کسی رحت کے قابل ہی نہیں رہ جاتا۔ ملاحظہ ہوں اس سورت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 116–126

آیت نمبر 116 تا 126 ترجمہ : اللہ تعالیٰ قطعاً معاف نہ کرے گا اس بات کو کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے (ہاں) شرک کے علاوہ گناہ جس کے چاہے گا معاف کردے گا، اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ حق سے دور جا پڑتا ہے مشرک اللہ کو چھوڑ کر عورتوں یعنی (دیویوں) کی بندگی (پوجا) کرتے ہیں، جیسا کہ لات کی اور عزّیٰ کی اور مناة کی، ان کی عبادت نہیں ہے مگر سرکش شیطان کی عبادت جو حد طاعت سے خارج ہونیوالا ہے بتوں کی عبادت میں مشرکوں کے شیطان کی بات ماننے کی وجہ سے اور وہ ابلیس ہے، اللہ نے اس پر لعنت فرمائی یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کردیا، اور وہ شیطان کہہ چکا ہے کہ میں تیرے بندوں میں سے اپنا مقرر حصہ لے کر رہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء . اللہ اپنے ساتھ شرک کئے جانے کو معاف نہیں کرے گا اور شرک کے علاوہ ( ہر گناہ صغیرہ ہو یا کبیرہ) جس کو معاف کرنا چاہے گا معاف کر دے گا۔ خواہ توبہ کے بعد ہو یا توبہ کے بغیر ہو۔ ومن یشرک باللہ اور (واجب الوجود قرار دینے میں یا معبود ماننے میں) جو کوئی کسی کو اللہ کا ساجھی قرار دیتا ہے۔ فقد ضل ضللا بعیدا . وہ (راہ حق سے) دور بھٹک جاتا ہے۔ نجات اور مغفرت تک اس کی رسائی ممکن نہیں۔ بغوی نے بروایت ضحاک حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول ایک بوڑھے اعرابی کے حق میں ہوا تھا جس نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا تھا ‘ یا رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(116) طعمہ کے طریقہ پر جو حالت شرک پر مرجائے گا، اس کی مغفرت نہ ہوگی اور شرک سے کم جو گناہ ہوں گے جو اس کا اہل ہوگا تو اس کی مغفرت فرما دیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ : پچھلی آیت میں اس شخص کا ذکر ہے جو رسول کی مخالفت کرتا ہے اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرتا ہے۔ ایسا ہی شخص ہوسکتا ہے جو اپنے کفر پر اصرار کرے اور دین اسلام قبول نہ کرے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کے کفر پر اڑنے کو شرک قرار دیا اور صراحت قرار دیا اور صراحت فرما دی کہ اس کی بخشش کی کوئی صورت نہیں۔ ہاں اگر کوئی شخص دین سلام قبول کرلے اللہ کی توحید اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی شہادت دے اس کا عملی ثبوت دے اور ایسے فعل سے بچا رہے جس سے آدمی ملت اسلام سے خارج ہوجاتا ہے پھر کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کر بیٹھے تو اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 115–116

آیت نمبر : 115 تا 116۔ اس آیت میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) علماء نے فرمایا : یہ دونوں آیات ابن ابیرق چور کے سبب سے نازل ہوئیں جب نبی مکرم ﷺ نے اس پر ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ فرمایا اور وہ مکہ کی طرف بھاگ گیا تھا اور مرتد ہوگیا تھا، حضرت سعید بن جبیر ؓ نے کہا : جب ہو مکہ میں گیا تو مکہ میں ایک گھر کو نقب لگائی اسے مشرکین نے پکڑ لیا اور اسے قتل کردیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشآء ومن یشرک باللہ فقد ضل ضللا بعیدا “۔ ضحاک ؓ نے کہا : قریش کے چند لوگ مدینہ طبیہ آئے اور اسلام قبول کیا، پھر مرتد ہو کر مکہ کی طرف لوت گئے پس یہ آیت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 115–116

(1) ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو معاویہ نے بلایا اور کہا کہ اپنے بھائی کے بیٹے سے بیعت کرلو میں نے عرض کیا کہ اے معاویہ لفظ آیت ” ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جہنم وساءت مصیرا “ اس آیت نے ان کو مجھ سے خاموش کردیا۔ (2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) ” نولہ ما تولی “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم اس کو باطل معبودوں کی طرف پھرنے دیتے ہیں۔ اللہ کے رسول کی مخالفت کرنا حرام ہے (3) ابن ابی حاتم نے مالک (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن عبد العزیز (رح) سے فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے بعد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ لاَ یَغْفِرُ : نہیں بخشے گا ] [ اَنْ : (اس کو) کہ ] [ یُّشْرَکَ : شریک کیا جائے (کچھ بھی) ] [ بِہٖ : اس کے ساتھ ] [ وَیَغْفِرُ : اور وہ بخش دے گا ] [ مَا : اس کو جو ] [ دُوْنَ ذٰلِکَ : اس کے علاوہ ہے ] [ لِمَنْ : جس کے لیے ] [ یَّشَآئُ : وہ چاہے گا ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ یُّشْرِکْ : شریک کرتا ہے ] [ بِاللّٰہِ : اللہ کے ساتھ ] [ فَقَدْ ضَلَّ : تو وہ گمراہ ہوا ہے ] [ ضَللٰاً م بَعِیْدًا : دور کا گمراہ ہونا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مشرکین کی بخشش نہیں وہ دور کی گمراہی میں ہیں : آخر میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ ) (الآیۃ) یہ آیت شریفہ چند رکوع پہلے سورة نساء ہی میں گزر چکی ہے البتہ آخر کے الفاظ میں تھوڑا سا اختلاف ہے۔ آیت کی تفسیر اور تشریح ہم وہاں لکھ چکے ہیں۔ یہاں اس مناسبت سے سابقہ مضمون کا اعادہ فرمایا ہے کہ چوری کرنے والا منافق ظاہراً بھی کافر ہوگیا اور مشرکوں میں جا کر مل گیا تھا۔ فائدہ : صاحب روح المعانی صفحہ 148: ج 5 فرماتے ہیں کہ چند رکوع پہلے اس آیت کے ختم پر (فَقَدِ افْتَرٰیٓ اِثْماً عَظِیْماً ) فرمایا اور یہاں (فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا بَعِیْدًا) فرمایا۔ اس میں یہ نکتہ ہے کہ وہاں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 116–126

شرک اور اہل شرک کی مذمت اور رسوم جاہلیت کا ابطال۔ قال تعالی، ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ محیطا۔ یہ آخری آیت ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی۔ آیت۔ بھی طعمہ کے بارے میں نازل ہوئی جب اس نے دیکھا کہ اللہ نے اس کا پردہ فاش کردیا تو مرتد ہو کر چلا گیا ایک شخص کی دیوار میں نقب لگایا اتفاقا دیوار اس پر گر پڑی اور وہ مرگیا اب اس کے بعد اللہ شرک کی بابت ارشاد فرماتے ہیں کہ شرک تو بغیر توبہ کے کسی حال میں نہیں بخشا جاتا اور البتہ شرک اور کفر کے علاوہ اور گناہ بغیر توبہ کے بھی بخشے جاتے ہیں پس اگر طعمہ مرتد نہ ہوتا اور مشرکین کے ساتھ جاکرنہ ملتا تو ممکن تھا کہ چوری وغیرہ کا گناہ بغیر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

83 یہ مشرکین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ احکام سلطانیہ کے بعد اصلی مقصد یعنی توحید کا پہلے کی نسبت قدرے تفصیل سے بیان ہے وہاں کہا شرک نہ کرو یہاں بیان کیا کہ شرک بری بلا ہے اسے خدا کبھی نہ بخشے گا۔ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا اِنٰثًا سے شرک اعتقادی کی نفی کی گئی ہے۔ اِنٰثاً سے مراد فرشتے ہیں کیونکہ مشرکین فرشتوں کو خدا کی بیٹیوں کے بمنزلہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے وہ خدا کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ ان بعضہم کان یعبد الملئکۃ و کانوا یقولون المائکۃ بنات اللہ (کبیر ج 3 ص 464) وقیل اِلَّا اِنٰثاً ملئکۃ لقولہم الملائکۃ بنات اللہ وھی شفعاءنا عند اللہ (قرطبی ص 387 ج 5)

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 116–117

ربط آیات گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اجماع کے خلاف چلنے والے شخص کے متعلق فرمایا کہ جو شخص ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد اللہ کے رسول کی مخالفت کرے گا اور مومنین کے راستے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کرے گا ، بلکہ جس طرف وہ جانا چاہتا ہے ، اسے جانے دے گا ، اور پھر اس کا انجام جہنم ہوگا ، مومنین کے راستے کی مخالفت کا نتیجہ گمراہی ہوتا ہے ، اور انسان شرک میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ گزشتہ دروس میں جس منافق بشیر کا واقعہ بیان کیا گیا ہے وہ مومنین کا راستہ چھوڑ کر مشرکین کے راستے پر چل نکلا اور پھر وہاں جہنم رسید ہوگیا ، اس شخص نے چوری کی تھی ، اگر وہ تائب ہوجاتا تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کردیتا ، مگر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ اللہَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِہٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ۝ 0ۭ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللہِ فَقَدْ ضَلَگ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا۝ 116 غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 116–118

ترکیب : اللّٰہ اسم ان لا یغفر خبر ان یشرک بہ مفعول ہے یغفر کا۔ لمن کالام یغفر سے متعلق ہے۔ اناثا جمع انثی علی فعال ویروابہ کل مالا روح لہ من الاحجار والاصنام والشمس ویکن ان یقال انہم کانوا یعبدون الخبائث من الشیاطین والارواح الغیر المرئۃ ویستعینون بھا ویناد ونھا فی کل شدہ غمرۃ لعنۃ اللّٰہ صفت ہے شیطاناً کی اور ممکن ہے کہ مستانفہ ہو جملہ بدعا کے لئے لاتخذن الخ مقولہ شیطان ہے۔ تفسیر : اگلی آیتوں میں گناہ کی معافی کی طرف اشارہ تھا یہاں اس بات کی تصریح ہے کہ گناہوں میں شرک ایسا سخت گناہ ہے کہ جس کی سزا ابدی جہنم ہے۔ یہ بغیر توبہ کے ہرگز معاف نہیں ہوتا۔ ہاں اگر اس کے سوا اور جس گناہ کو چاہے گا خدا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ ط وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ضلَّ ضَلٰلاً م بَعِیْدًا ” بیشک اللہ نہیں بخشے گا اس بات کو کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے۔ اور بخش دے گا اس کے سوا جس کو چاہے گا۔ اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے گا وہ بہک کر دور جا پڑا۔ “ (النسآء : 116) ربطِ کلام سابقہ آیات میں فرمایا گیا ہے کہ جو منافقین اللہ کی ہدایت واضح ہو چکنے کے بعد بھی رسول کی مخالفت کرتے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف اپنی الگ راہ نکالنا چاہتے ہیں ‘ بلکہ ان کے مقابلے میں اپنی ایک پارٹی کھڑی کرنا چاہتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ ایسے منافقین کو جہنم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا انکار کرنا کفر ہے اور اس کی ذات وصفات اور عبادت میں کسی کو شریک ٹھہرانا شرک ہے جو سب سے بڑا گناہ، ظلم عظیم اور پرلے درجے کی گمراہی ہے۔ کفر و شرک کے سوا اللہ تعالیٰ جسے چاہے اور جو چاہے معاف فرما دے گا اس میں حقوق العباد بھی شامل ہیں۔ خاص کر ایسا شخص جو دوسروں کے حق کی ادائیگی اور اپنی زیادتی کی تلافی کرنا چاہتا تھا لیکن غفلت یا عدم وسائل کی وجہ سے تلافی نہیں کرسکا۔ اللہ تعالیٰ یقیناً اسے معاف فرما کر حق دار کی داد رسی فرما دے گا۔ جیسا کہ بخاری شریف میں کئی مقامات میں رسول معظم ﷺ کا فرمان درج ہے جس میں آپ نے توحید کی برکات…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

شرک کی معافی نہیں : آیت 116 : اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَادُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ ۔ وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلاً م بَعِیْدًا۔ اس کی تفسیر گزری بعیدًاسے مراد راہ حق سے دور ہوا۔ بیشک اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کیے جانے کو معاف نہیں کریگا۔ اور شرک کے علاوہ جس کو معاف کرنا چاہے گا معاف کر دے گا ( خواہ توبہ کے بعد یا بغیر توبہ کے) اور جو کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دیتا ہے۔ وہ راہ حق سے بھٹک گیا دور کا بھٹکنا) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

116۔ (آیت)” ان اللہ لا یغفر ۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔ ضل ضلالا بعیدا “ وہ راستے سے بھاگ گیا ، خیر سے محروم کردیا گیا ۔ (” ان اللہ لا یغفر کا شان نزول) ضحاک (رح) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ اس آیت کا نزول عرب کے شیوخ کے بارے میں ہوا کہ یہ آپ ﷺ کے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی ! ﷺ یہ بوڑھا گناہوں سے لت پت ہے صرف اس نے ایک گناہ نہیں کیا وہ یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا ، جب ہم نے اس کو جانا اور اس نے ایمان قبول کیا اور نہ ہی اس نے اللہ کے سوا کسی کو پکارا اور نہ ہی ایسے گناہ کیے جس پر انسان جری ہوجاتا ہے نہ میرے دماغ میں کبھی یہ بات آئی کہ میں اللہ سے بھاگ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 116–122

(116 ۔ 122) ۔ اس سے پہلے یہ آیت اہل کتاب کے ذکر میں تھی اس لئے وہاں فقد افتری ( 4۔ 48) فرمایا تھا کیونکہ اہل کتاب کا شرک جان بوجھ کر افتراء کے طور پر تھا یہاں عرب کے مشرکوں اور مرتدلوگوں کا ذکر ہے اس لئے فقد ضل فرمایا کہ یہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ ان کی جہالت کا سبب ہے، باقی معنی آیت کے پہلی جگہ جہاں یہ ہے۔ وہاں بیان کئے گئے ہیں عرب کے مشرک لوگ اپنے بتوں کے نام لات و منات اور عزیٰ عورتوں کے سے رکھتے تھے۔ اس واسطے فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے سوا عورتوں کو پکارتے ہیں۔ اللہ کے سوا جس چیز کی کوئی پوجا کرتا ہے وہ شیطان کے بہکانے سے کرتا ہے اس لئے فرمایا کہ حقیقت میں یہ لوگ شیطان معلون کی پوجا کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 115–116

آیت 115 یعنی جو کوئی رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرتا ہے اور آپ کی لائی ہوئی شریعت میں آپ سے عناد رکھتا ہے (من بعد ماتبین لہ الھدی) ” سیدھا راستہ معلوم ہونے کے بعد “ یعنی دلائل قرآنی اور براہین نبوی کے ذریعے سے ہدایت کا راستہ واضح ہوجانے کے بعد (ویتبغ غیر سبیل المومنین) ” اور مومنوں کے راستے کے خلاف چلے “ اہل ایمان کے راستے سے مراد ان کے عقائد و اعمال ہیں (نولہ ما تولی) ” ہم اس کو پھیر دیتے ہیں اسی طرف جس طرف وہ پھرتا ہے “ یعنی ہم اسے اور اس چیز کو جو اس نے اپنے لئے اتخیار کی ہے چھوڑ کر اس سے الگ ہوجاتے ہیں اور ہم اسے بھلائی کی توفیقف سے محروم کردیتے ہیں۔ کیونکہ اس نے حق کو جان بوجھ کر ترک کردیا۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 115–118

قول باری ہے ( ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین الہ الھدیٰ و یتبع غیر سبیل المومنین نولہ ماتولی و نصلہ جھنم) اور جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے درآں حالیکہ اس پر راہ راست واضح ہوچکی ہو تو ہم اس کو اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے۔ حضور ﷺ کی مخالفت ، آپ سے علیحدگی اور آپ کی دشمنی کی صورت یہ ہے کہ مخالفت کرنے والا ایک جانب ہو جو اس جانب کے ما سوا ہو جس میں حضور ﷺ ہیں اسی طرح یہ قول باری ہے ( ان الذین یحادون اللہ ورسولہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں) وہ اس طرح کہ مخالفت کرنے والا اس کنارے پر ہو جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

300 شرک ناقابل معافی جرم ۔ والعیاذ باللہ : کیونکہ شرک کا جرم دراصل بغاوت کا جرم ہے، جو ناقابل معافی ہے۔ الا یہ کہ آدمی سچی توبہ کر کے اس سے باز آجائے اور شرک کی نجاست و گندگی سے اپنے آپ کو پاک کرلے۔ اہل بدعت کے بعض بڑے اور ان کے حواری ایسے موقع پر شرک کا ترجمہ کفر سے کرتے اور اس سے وہ کفر مرادلیتے ہیں۔ پتہ نہیں اس کی ان کو ضرورت کیا پڑی۔ اور شرک کی یہ طرف داری وہ کیوں کرتے ہیں حالانکہ یہاں پر { وَمَنْ یِّکْفُرْ } نہیں بلکہ { وَمَنْ یُّشرِکْ } فرمایا گیا ہے۔ اور لفظ کو اپنے ظاہر سے پھیرنے کیلئے کوئی خاص مقتضیٰ یا قرینہ صارفہ بھی یہاں موجود نہیں ہے۔ پھر ظاہر اور متبادر کا یہ ترک اور اس سے فرار…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 116–118

شرک ناقابل معافی ہے تشریح : یہاں طعمہ اور زید کے ذکر سے ایک اور بہت بڑا نکتہ سمجھایا گیا ہے، یعنی طعمہ اگر رسول ﷺ کے فیصلہ کو مان کر توبہ کرلیتا تو اس کے کئی چھوٹے بڑے گناہ اللہ خوش ہو کر شاید معاف کردیتا لیکن اس نے تو انتہا کردی کہ مسلمانوں کی جماعت کو چھوڑ کر کفار میں جاملا، یعنی مشرک ہوگیا۔ مشرک کا مطلب ہے اللہ کی وحدانیت سے پھرجانا اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا۔ اللہ رب العزت نے فرمایا کہ شرک اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کی بخشش کبھی نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے، اس کی کوئی معافی نہیں۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 116–126

رکوع نمبر 18 ۔ آیات 116 تا 126 ۔ اسرار و معارف : ان اللہ لا یغفر ۔۔۔ محیطا۔ ایک اور بہت بڑی جماعت ان جہلا اور نادانوں کی ہے جنہوں نے اپنے آپ کو شرک جیسی مصیبت میں ڈال رکھا ہے اور وہ اوصاف جو صرف اللہ کو سزا وار ہیں دوسروں کو ان میں حصہ دار مانتے ہیں یا پھر وہ اطاعت جو صرف اللہ کا حصہ ہے اس میں دوسروں کو شریک کرلیتے ہیں یہی تین گروہ تھے علمائے یہود اور یہود و نصاری۔ جو ایمان نہ لائے تھے یا منافقین جو بظاہر ایمان لانے کا اظہار و اقرار کرتے مگر دل سے ایمان دار نہ تھے اور تیسرے مشرکین مکہ و عرب دنیا کی آبادی بلحاظ مذہب و ملت انہی تین گروہوں میں تقسیم کی جاسکتی تھی اور آج بھی ایسا ہی ہے سوائے اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 معلوم ہوا کہ مشرک کے سوا مسلمان گنہگار ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گے اس سے ان لوگوں کو رد نکلتا ہے جو مر تکب کبیرہ کو دائمی جہنمی کہتے ہیں۔ (قرطبی)7 اوپر سے منا فقوں کا ذکر آرہا ہے جو پیغمبر ﷺ کے ٖٖٖ فیصلوں کو پسند نہ کرتے او جدا راستے پر چلتے تھے، اس آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شرک کو نہیں بخشا معلوم ہوا کہ اسلام کے سوا کسی دوسرے دین (طریقہ) کو محبوب رکھا جائے اور اس کو معمولی بنایا جائے تو یہ مشرک ہے۔ ، کیونکہ اسلام کے سوا جو دین بھی ہے سب شرک ہے اگرچہ پرستش کا شرک نہ بھی کیا جائے (ازموضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 115–116

(4:115) یشاقق۔ واحد مذکر غائب مضارع مجزوم بوجہ عمل من۔ شقاق مصدر۔ ق ثانی بوجہ حرف مابعد کے ساتھ وصل کے لئے مکسور ہوا۔ جو مخالفت کرتا ہے شقاق مصدر باب مفاعلہ سے ہے شق (مضاعف) کے معنی طرف۔ ضد۔ مخالفت۔ ٹکڑہ۔ نولہ۔ جمع متکلم مضارع ہ ضمیر مفعول راجع الی من تولیۃ مصدر باب تفعیل ۔ ہم پھریں گے۔ اسے۔ ہم اس کو مختار بنادیں گے ماتولی۔ اس نے منہ موڑا۔ اس نے پیٹھ پھیردی۔ وہ متولی ہوا۔ وہ پھر گیا۔ تولی (تفعل) نولہ ما تولی۔ جدھر وہ کود جانا چاہتا ہے ہم اسے ادھر ہی جانے دیں گے۔ نصلہ۔ مضارع جمع متکلم۔ اصلاء مصدر۔ باب افعال سے۔ صلی مادہ اصل میں نصلیہ تھا جواب شرط کی وجہ سے ی گرگئی۔ ہم اس کو داخل کریں گے۔ ہم اس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 116–122

آیت نمبر 116-122 لغات القرآن : لایغفر، معاف نہیں کرے گا۔ ضل، بھٹک گیا۔ ضلال بعید، بھٹک کر دور تک پہنچ جانا۔ انت، عورتیں، دیویاں۔ مرید، باغی۔ اضلن، میں ضرور گمراہ کروں گا۔ امنین، میں ضرور امیدیں دلاؤں گا۔ امرن، میں ضرور سکھاؤں گا۔ یبتکن، ضرور پھاڑیں گے۔ اذان، کان۔ الانعام، مویشی، جانور۔ یغیرن، ضرور تبدیل کریں گے۔ غرور، دھوکا، فریب۔ محیص، بھاگنے کی جگہ۔ اصدق، زیادہ سچا۔ قیل، کہا گیا، قول۔ تشریح : یہاں بالکل واضح طریقہ سے کہہ دیا گیا ہے کہ شرک کی معافی نہیں ہے۔ اس کے سوا اگر اللہ چاہے تو ہر گناہ کی معافی ہوسکتی ہے۔ چونکہ شرک ہی سارے گناہوں کی جڑ ہے۔ یہ کفر کی سب سے خطرناک قسم ہے۔ جب بندہ اللہ کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 116–122

شان نزول : حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ آیت ایک بوڑھے اعرابی کے حق میں نازل ہوئی جس نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں بوڑھا ہوں گناہوں میں غرق ہوں بجز اس کے کہ جب سے میں نے اللہ کو پہچانا اور اس پر ایمان لایا، اس وقت سے کبھی میں نے اس کے ساتھ شرک نہیں کیا اور اس کے سوا کبھی کسی اور کو ولی نہیں بنایا، اور جرات کے ساتھ گناہوں میں مبتلا نہ ہوا، اور ایک پل بھی میں نے یہ گمان نہ کیا کہ میں اللہ سے بھاگ سکتا ہوں۔ میں شرمندہ ہوں اور مغفرت چاہتا ہوں۔ اللہ کے ہاں میرا کیا حال ہوگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ شرک نہ بخشا جائے گا جو مشرک اپنے شرک پر مرے اور جو مشرک اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 115–116

[75] جب نبی ﷺ نے مذکورہ بالا مقدمے میں یہودی کو بری کردیا اور اطمعہ کے خلاف فیصلہ دیا تو وہ منافق کھلم کھلا مخالفت پر آمادہ ہوگیا اور مسلمانوں سے الگ ہو کر مشرکین سے جا ملا۔ اس آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

غیر مغفور گناہ : (ف 3) اس آیت میں واضح الفاظ میں بتا دیا ہے کہ شرک ناقابل عفو گناہ ہے کیونکہ اس سے زیادہ گمراہ کن جاذب ادہام اور کوئی عقیدہ نہیں ، فطرت انسان کو اللہ تعالیٰ نے اتنا پاکیزہ اور بلند پیدا کیا ہے کہ وہ کسی طرح بھی شرک جیسی ذلت کو برداشت نہیں کرسکتی ۔ حل لغات : مرضات اللہ : خدا کی رضا مندیاں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 116–117

ف 2 بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے خواہ اس کی ذات میں یا اس کی صفات مختصہ میں اور شرک سے کم درجے کے گناہوں کو خواہ وہ صغیر ہوں یا کبیرہ جس کے لئے وہ چاہے گا ان کو بخشدے گا اور بالکل سزا نہیں دے گا اور بات بھی یہ ہے کہ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کیا خواہ وہ شرک ذاتی ہو یا صفاتی یقینا ایسی گمراہی میں جا پڑا جو راہ حق سے بہت دور ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اوپر سے ذکر تھا منافقوں کا جو پیغمبر کے حکم پر راضی نہ ہو اور جدی راہ چلے یہ آیت فرمائی کہ اللہ شرک نہیں بخشتا تو شرک فرمایا حکم میں شریک کرنے کو یعنی سوائے دین اسلام کے اور دین…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ مشرک نے حضرت صانع کی اہانت کی اس لیے ایسی ہی سزاکامستحق ہوگا بخلاف دوسرے گناہوں کے کچھ توضلال ہے مگر توحید کے خلاف اور اس سے بعید نہیں اس لیے قابل مغفرت قرار دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

شرک پر مرنے والے کا خاتمہ بالخیر نہیں ہوتا اس لئے وہ راہ ہدایت سے بہت دور نکل جاتا ہے 190: یہی آیت اس سورة النساء کی آیت 48 بھی ہے اس لئے اس کی تشریح کے لئے آیت 48 ملاحظہ کریں وہاں فرمایا تھا کہ ” جو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے وہ گناہ عظیم کا ارتکاب کرتا ہے ۔ “ اور اس جگہ فرمایا جس نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرایا تو وہ بھٹک کر سیدھے راستے سے بہت دور جا پڑا۔ “ بات ایک ہی ہے لیکن وہاں ارشاد فرمایا تھا شرک بہت بڑا گنا ہ ہے جو قابل معافی نہیں ہے اور یہاں فرمایا کہ وہ قابل معافی اس لئے نہیں ہے کہ وہ یعنی مشرک گمراہی میں اس قدر دور نکل جاتا کہ وہاں سے واپس آنا مشکل ہوتا ہے۔ گویا سرطان کا پھوڑا ہے جس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 116–122

Sequence Though, the mention of Jihad in preceding verses includes all forces hostile to Islam, yet the actual description was limited to Jews and the hypocrites. Out of the larger group of antagonists there were the pagans who were much more in numbers. The verses that follow take up their beliefs and point out to the punishment they will face. This has a coherence of its own at this place. It will be recalled that the thief mentioned earlier became an apostate. The lasting punishment he thus earned for himself becomes evident. (Bayan a1-Qur'an) Commentary The first verse (116) إِنَّ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

144. In this and the following verses we are asked to consider coolly, the end result of obsession with rage and anger, and what kind of people one chooses to identify with in place of the righteous people from whom one foolishly dissociates oneself.

Read the full tafseer →