An-Nisaa 4:115

An-Nisaa · from ayah 115

4:115

وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ؕ— وَسَآءَتْ مَصِیْرًا ۟۠وَمَنۡ يُّشَاقِقِ الرَّسُوۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَـهُ الۡهُدٰى وَ يَـتَّبِعۡ غَيۡرَ سَبِيۡلِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصۡلِهٖ جَهَـنَّمَ‌ ؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا

اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر کی مخالف کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And whoever opposes the Messenger after guidance has become clear to him and follows other than the way of the believers - We will give him what he has taken and drive him into Hell, and evil it is as a destination.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 17 of surah · Ruku 14 of juzع

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:115

مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے، درآں حالیکہ اس پر راہ راست واضح ہو چکی ہو، تو اُس کو ہم اُسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بد ترین جائے قرار ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر کی مخالف کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو شخص باوجود راه ہدایت کے واضح ہو جانے کے بھی رسول ﷺ کا خلاف کرے اور تمام مومنوں کی راه چھوڑ کر چلے، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وه خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے، وه پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو شخص اپنے سامنے ہدایت واضح ہونے کے بعد بھی رسول کی مخالفت کرے، اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرے، اس کو ہم اسی راہ کے حوالے کردیں گے جو اس نے خود اپنائی ہے، اور اسے دوزخ میں جھونکیں گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جو رسول کا خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اُسے اُس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو شخص رسول ﷺ کی مخالفت کرے اس کے بعد کہ اس پر ہدایت کی راہ واضح ہو چکی اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ کی پیروی کرے تو ہم اسے اسی (گمراہی) کی طرف پھیرے رکھیں گے جدھر وہ (خود) پھر گیا ہے اور (بالآخر) اسے دوزخ میں ڈالیں گے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جو کوئی رسول کی مخالفت کرے، اس کے بعد کہ اس کے لیے ہدایت خوب واضح ہوچکی اور مومنوں کے راستے کے سوا (کسی اور) کی پیروی کرے ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ پھرے گا اور ہم اسے جہنم میں جھونکیں گے اور وہ بری لوٹنے کی جگہ ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مگر جو شخص راہ راست کے واضح ہوجانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مومنوں کی راہ چھوڑ کر کوئی اور راہ۔ اختیار کرے تو ہم اسے ادھر ہی پھیر دیتے ہیں جدھر کا خود اس نے رخ کرلیا ہے، پھر ہم اسے جہنم میں جھونک دیں گے جو بہت بری بازگشت ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو کوئی راہ ہدایت واضح ہوچکنے کے بعد رسول کی مخالفت کرے گا اور مسلمانوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرے گا تو ہم اس کو اسی راہ پر ڈالیں گے جس پر وہ پڑا اور اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (اس کے برعکس) جس نے مخالفت کی اللہ کے رسول ﷺ کی، اس کے بعد کہ کھل گئی اس کے لئے (حق و ہدایت کی) سیدھی راہ، اور اس نے پیروی کی اہل ایمان کے راستے کے سوا کسی اور (راستے) کے، تو ہم اس کو ادھر ہی پھیردیں گے جدھر وہ خود چلا، اور (آخر کار) ہم اسکو داخل کردیں گے جہنم میں، اور وہ بڑی ہی بری جگہ ہے لوٹنے کی،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو کوئی بعد اس کے کہ اس پر (راہ) ہدایت کھل چکی رسول کی مخالفت کرے گا اور مومنین کے راستہ کے علاوہ (کسی راستہ کی) پیروی کرے گا ہم اسے کرنے دیں گے جو کچھ وہ کرتا ہے اور پھر ہم اسے جہنم میں جھونکیں گے۔ اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو رسول ﷺ کی مخالفت پر تل گیا اس کے بعد کہ اس پر ہدایت واضح ہوچکی اور وہ اہل ایمان کے راستے کے سوا کوئی دوسرا راستہ اختیار کرے تو ہم بھی اس کو اسی طرف پھیر دیتے ہیں جس طرف اس نے خود رخ اختیار کرلیا ہو اور ہم اسے پہنچائیں گے جہنم میں اور وہ بہت بری جگہ ہے لوٹنے کی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے جبکہ اس پر راہ راست واضح ہوچکی ہو تو اس کو ہم اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین جائے قرار ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

As for him who sets himself against the Messenger and follows a path other than that of the believers even after true guidance had become clear to him, We will let him go to the way he has turned to, and We will cast him into Hell - an evil destination.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Whoever breaks away with the Messenger after the right path has become clear to him, and follows what is not the way of the believers, We shall let him have what he chose, and We shall admit him to Jahannam, which is an evil place to return.

— Muhammad Taqi Usmani

Whoever breaks away with the Messenger after the right path has become clear to him, and follows what is not the way of the believers, We shall let him have what he chose, and We shall admit him to Jahannam, which is an evil place to return.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And whoever contradicts and opposes the Messenger after the right path has been shown clearly to him, and follows other than the believers' way, We shall keep him in the path he has chosen, and burn him in Hell what an evil destination!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And whoso opposeth the messenger after the guidance (of Allah) hath been manifested unto him, and followeth other than the believer's way, We appoint for him that unto which he himself hath turned, and expose him unto hell - a hapless journey's end!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And whoever opposes the Messenger after guidance has become clear to him and follows other than the way of the believers - We will give him what he has taken and drive him into Hell, and evil it is as a destination.

— Saheeh International

Whoever gives the Messenger a hard time, even after having received clear guidance, and follows a path other than that of the believers, will be left alone. We will cast him into hell, a terrible destination.

— Muhammad Sarwar

And whoever acts hostilely to the Apostle after that guidance has become manifest to him, and follows other than the way of the believers, We will turn him to that to which he has (himself) turned and make him enter hell; and it is an evil resort.

— Muhammad Habib Shakir

And whosoever opposeth the apostle after the truth hath become manifest unto him, and followeth other way than that of the believers, We shall let him follow that to which he hath turned, and shall roast him in Hell - an evil retreat!

— Abdul Majid Daryabadi

If anyone contends with the Messenger even after guidance has been plainly conveyed to him, and follows a path other than that becoming to men of Faith, We shall leave him in the path he has chosen, and land him in Hell,- what an evil refuge!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:115

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 114–115

اچھے کاموں کی دعوت اور برے کاموں سے روکنے کے علاوہ تمام باتیں قابل مواخذہ ہیں لوگوں کے اکثر کلام بےمعنی ہوتے ہیں سوائے ان کے جن کی باتوں کا مقصد دوسروں کی بھلائی اور لوگوں میں میل ملاپ کرانا ہو، حضرت سفیان ثوری کی عیادت کے لئے لوگ جاتے ہیں ان میں سعید بن حسان بھی ہیں تو آپ فرماتے ہیں سعید تم نے ام صالح کی روایت سے جو حدیث بیان کی تھی آج اسے پھر سناؤ، آپ سند بیان کرکے فرماتے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا انسان کی تمام باتیں قابل مواخذہ ہیں بجز اللہ کے ذکر اور اچھے کاموں کے بتانے اور برے کاموں سے روکنے کے، حضرت سفیان نے کہا یہی مضمون اس آیت میں ہے، یہی مضمون آیت (يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النِّسَآء 143 جب مذکورہ بالا مقدمہ میں وحی الہٰی کی بنا پر نبی ﷺ نے اس خائن مسلمان کے خلاف اور اس بےگناہ یہودی کے حق میں فیصلہ صادر فرما دیا تو اس منافق پر جاہلیت کا اس قدر سخت دورہ پڑا کہ وہ مدینہ سے نکل کر اسلام اور نبی ﷺ کے دشمنوں کے پاس مکہ چلا گیا اور کھلم کھلا مخالفت پر آمادہ ہوگیا۔ اس آیت میں اس کی اسی حرکت کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اجماع امت حجت ہے ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی الخ (آیت نمبر 511) اس آیت میں دو چیزوں کا جرم عظیم اور دخول جہنم کا سبب ہونا بیان فرمایا ہے ایک مخالفت رسول اور یہ ظاہر ہے کہ مخالفت رسول کفر اور وبال عظیم ہے، دوسرے جس کام پر سب مسلمان متفق ہوں اس کو چھوڑ کر ان کے خلاف کوئی راستہ اختیار کرنا، اس سے معلوم ہوا کہ اجماع امت حجت ہے، یعنی جس طرح قرآن و سنت کے بیان کردہ احکام پر عمل کرنا واجب ہوتا ہے اسی طرح امت کا اتفاق جس چیز پر ہوجائے اس پر بھی عمل کرنا واجب ہے اور اس کی مخالفت گناہ عظیم ہے جیسا کہ آپ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایاید اللہ علی الجماعة من شد شدفی النار”یعنی جماعت کے سر پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 114–115

لَا خَيْرَ فِيْ كَثِيْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىھُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۢ بَيْنَ النَّاسِ ۭ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَاۗءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيْهِ اَجْرًا عَظِيْمًا۔ وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا۔ نجوی کا مفہوم اور اس میں خیر و شر کا پہلو : نجوی کے معنی سرگوشی اور رازداری کے انداز میں کسی سے بات کرنے کے ہیں۔ اس میں بجائے خود کوئی برائی نہیں ہے اس لیے کہ ایسے مواقع بہت سے ہوسکتے ہیں جہاں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 115–116

115۔ 1 ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت اور مومنین کا راستہ چھوڑ کر کسی اور راستے کی پیروی، دین اسلام سے خروج ہے جس پر یہاں جہنم کی وعید بیان فرمائی ہے۔ مومنین سے مراد صحابہ کرام ہیں جو دین اسلام کے اولین پیرو اور اس کی تعلیمات کا کامل نمونہ تھے، اور ان آیات کے نزول کے وقت جن کے سوا کوئی گروہ مومنین موجود نہ تھا کہ وہ مراد ہو۔ اس لئے صحابہ کرام ؓ کی مخالفت اور غیر سبیل المومنین کا اتباع دونوں حقیقت میں ایک ہی چیز کا نام ہے۔ اس لئے صحابہ کرام ؓ کے راستے اور منہاج سے انحراف بھی کفر و ضلال ہی ہے۔ بعض علماء نے سبیل المومنین سے مراد اجماع امت لیا یعنی اجماع امت سے انحراف بھی کفر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

68: اس آیت سے علمائے کرام، بالخصوص امام شافعی نے اجماع کی حجیت پر استدلال کیا ہے یعنی جس مسئلے پر پوری امت مسلمہ متفق رہی ہو وہ یقینی طور پر برحق ہوتا ہے اور اس کی مخالفت جائز نہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 115–116

(آیت) ” 115 تا 116۔ ان آیات کے نزول کے سلسلے میں یہ کہا گیا ہے کہ بشیر ابن ابیرق مرتد ہوگیا اور جاکر مشرکین مکہ کے ساتھ مل گیا حالانکہ اس پر راست واضح ہوچکی تھی ۔ پہلے وہ اسلامی صفوں میں تھا لیکن اس نے اہل ایمان کی راہ کو چھوڑ کر دوسری راہ کو اپنا لیا۔ لیکن یہ آیت مضمون اور اطلاق کے اعتبار سے عام ہے ۔ اس کا اطلاق ہر اس حالت پر ہوگا جس میں رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی جارہی ہو ۔ جس میں آپ کی مخالفت میں کفر ‘ شرک اور ارتداد اختیار کیا گیا ہو اور اس طرح کے قدیم وجدید تمام واقعات پر اس کا اطلاق ہوگا ۔ (المشاقہ) کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص ایک ٹکڑا لے اور دوسرا اس کے مقابلے میں دوسرا ٹکڑا لے لے ۔ اور جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی جب کسی کو حق بات واضح ہوچکے پھر اس کے بعد بھی رسول اللہ ﷺ کے حکم کی مخالفت کرے اور سب مسلمانوں کو چھوڑ کر اپنی جدا راہ اختیار کرے تو اس کا ٹھکانا جہنم ہے جیسا کہ اس چور نے کیا جس کا ذکر ہوچکا۔ بجائے اس کے کہ قصور کا اعتراف کر کے توبہ کرتا یہ کیا کہ ہاتھ کٹنے کے خوف سے مکہ بھاگ گیا اور مشرکین میں مل گیا۔ فائدہ : اکابر علماء نے اس آیت سے یہ مسئلہ بھی نکالا کہ اجماع امت کا مخالف اور منکر جہنمی ہے یعنی اجماع امت کو ماننا فرض ہے۔ حدیث میں وارد ہے کہ اللہ کا ہاتھ ہے مسلمانوں کی جماعت پر جس نے جدی راہ اختیار کی وہ دوزخ میں جا پڑا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 115 وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدٰی یعنی جو کوئی خفیہ سازشوں اور چوری چھپے کی لگائی بجھائی کے ذریعے لوگوں کو اللہ کے رسول ﷺ کے خلاف بھڑکاتا ہے کہ دیکھو جی یہ اپنے لوگوں کو نواز رہے ہیں۔ جیسا کہ غزوۂ حنین میں ہوا تھا کہ آپ ﷺ نے مکہ مکرمہ کے ان مسلمانوں کو جو فتح مکہّ کے بعد مسلمان ہوئے تھے ‘ مال غنیمت میں سے ان کی دلجوئی کے لیے جسے قرآن میں تالیف قلوب کہا گیا ہے ذرا زیادہ مال دے دیاتو اس پر بعض لوگوں نے شور مچا دیا کہ دیکھ لیا ‘ جب کڑا وقت تھا ‘ مشکل وقت تھا تو اسے ہم جھیلتے رہے ‘ اب یہ اچھا وقت آیا ہے تو اپنے رشتہ دار یاد آگئے ہیں۔ ظاہر ہے مکہ والے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

153 ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس آیت کا خطاب اسی منافق سے ہے جس نے چوری کی تھی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے وحی الٰہی کی بنا پر مذکورہ مقدمہ کا فیصلہ بےگناہ یہودی کے حق میں دے دیا۔ تو اس منافق کو سخت صدمہ ہوا۔ وہ مدینہ سے نکل کر رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی مختلف صورتیں :۔ اسلام اور رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں کے پاس مکہ چلا گیا اور کھلم کھلا مخالفت پر اتر آیا۔ لیکن حکم کے لحاظ سے یہ خطاب سب لوگوں کے لیے ہے جس میں مسلمان بھی شامل ہیں اور یہ حکم قیامت تک کے لیے ہے۔ یعنی جو شخص بھی رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے طریق زندگی کو چھوڑ کر کوئی دوسرا طریق اختیار کرے گا وہ گمراہ ہوجائے گا اور جس قدر زیادہ مخالفت کرے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

312 ۔ (آیت) ” من بعد ما تبین لہ الھدی “۔ اسے صاف کردیا کہ آیت میں بیان مرتدوں کے خصائل رذیلہ کا ہورہا ہے۔ (آیت) ” نولہ ما تولی “۔ یعنی ہم اسے اسی طریق پر چھوڑے رکھتے ہیں اپنے قانون مشیت تکوینی کے موافق۔ مقصود یہ ہے کہ جبرواکراہ سے کسی کو راہ حق کے قبول کرنے اور ماننے پر مجبور نہیں کیا جاتا، بلکہ وضوح حق کے بعد جو بدبخت اپنی کجروی پر قائم رہنا چاہتا ہے۔ اسی پر اسے قائم رہنے دیا جاتا ہے۔ (آیت) ” ومن یتبع غیر سبیل ال مومنین “۔ اس اتباع کا تعلق اموردین سے ہے (آیت) ” یتبع۔۔۔۔ جھنم “۔ آیت کے اس جز سے فقہاء کو ایک بہت بڑی اصل ہاتھ آگئی ہے۔ اور اس کو انہوں نے اجماع امت کے حجت شرعی ہونے کا مبنی قرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 113–115

آیت نمبر 113 تا 115 ترجمہ : اے محمد اگر آپ کے اوپر اللہ کا فضل اور حفاظت کی مہربانی نہ ہوتی تو (طُعْمَة ابن اُبَْیرق) کی قوم کی ایک جماعت نے آپ کے برحق فیصلہ کرنے سے اشتباہ میں ڈال کر بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھام مگر دراصل یہ لوگ اپنے آپکو گمراہ کررہے ہیں اور یہ لوگ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے مِن، زائدہ ہے، گمراہ کرنے کا وبال خود ان کے اوپر ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب قرآن اور حکمت کہ جس میں احکام ہیں نازل فرمایا اور اپکو وہ احکام اور مغیبات سکھائے کہ جن کو آپ نہیں جانتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کا تیرے اوپر یہ اور اس کے علاوہ کا بڑا بھاری فضل ہے، ان لوگوں کے خفیہ مشوروں میں اکثر کوئی خیر نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الہدی . اور جو شخص رسول کی مخالفت کرے گا بعد اس کے کہ اس کو امر حق ظاہر ہوچکا تھا۔ یعنی دلیل یقینی سے ثابت ہونے اور قطعی طور پر معلوم ہونے کے بعد کہ یہ رسول اللہ ﷺ : کا حکم ہے جو شخص فرمان رسول ﷺ کی مخالفت کرے گا۔ یہ شرط لگانے کی وجہ یہ ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کے فرمان کی کسی کو اطلاع نہ پہنچے یا اطلاع پہنچ جائے مگر ذریعۂ اطلاع اور سلسلۂ روایت یقینی نہ ہو اور اس صورت میں یہ شخص رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے خلاف کرے یا انتہائی ذہنی کوشش کے بعد بھی مراد حدیث سمجھنے میں مجتہد سے غلطی ہوجائے تو ایسا شخص آیت کے حکم میں داخل نہیں ہے۔ بعض علماء نے مخالفت رسول سے مراد ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(115) اور جو شخص توحید اور امر حق کے ظاہر ہونے کے بعد رسول اکرم ﷺ کی ان باتوں میں مخالفت کرے یعنی طعمہ اور مسلمانوں کے دین پر مشرکین مکہ کے دین کو ترجیح دے اور اس راستہ کو اختیار کرے، سو دنیا میں جو طریقہ اس نے اختیار کیا ہے یعنی کفر، اسی پر ہم اسے چھوڑ دیتے ہیں اور آخرت میں دوزخ میں داخل کریں گے ، شان نزول : (آیت) ”ومن یشاقق الرسول“۔ (الخ) جب قرآن کریم کا یہ حکم نازل ہوا تو رسول اکرم ﷺ ہتھیار لے کر آئے اور رفاعہ ؓ کو دے دیے اور بشیر منافق مشرکوں کے ساتھ جا کر مل گیا اور سلافہ بنت سعد کے پاس جاکر اترا، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں، امام حاکم ؒ فرماتے ہیں امام مسلم کی شرط…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ : ”یشاقق“ ”شَقَّ“ سے باب مفاعلہ کا فعل مضارع معلوم ہے۔ ”شَقَّ“ کا معنی طرف، کنارہ ہے، یعنی جو شخص یا گروہ رسول اللہ ﷺ کی اس طرح مخالفت کرے کہ آپ کے مقابلے میں آجائے، ایک طرف اللہ کے رسول ہوں دوسری طرف یہ شخص یا گروہ ہو اور حق معلوم ہوجانے کے باوجود مومنوں کے سیدھے اور صاف راستے سے (جو ہر حال میں اتباع رسول ہے) ہٹ جائے، تو ہم بھی اسے اسی طرف پھیر دیں گے جدھر وہ پھرے گا اور اسی ٹیڑھی راہ پر جانے دیں گے جو اسے جہنم میں لے جا کر ڈال دے گی اور وہ بہت برا راستہ ہے۔ 2 ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت اور مومنین کا راستہ چھوڑ کر کسی اور راستے کی پیروی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 115–116

آیت نمبر : 115 تا 116۔ اس آیت میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) علماء نے فرمایا : یہ دونوں آیات ابن ابیرق چور کے سبب سے نازل ہوئیں جب نبی مکرم ﷺ نے اس پر ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ فرمایا اور وہ مکہ کی طرف بھاگ گیا تھا اور مرتد ہوگیا تھا، حضرت سعید بن جبیر ؓ نے کہا : جب ہو مکہ میں گیا تو مکہ میں ایک گھر کو نقب لگائی اسے مشرکین نے پکڑ لیا اور اسے قتل کردیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشآء ومن یشرک باللہ فقد ضل ضللا بعیدا “۔ ضحاک ؓ نے کہا : قریش کے چند لوگ مدینہ طبیہ آئے اور اسلام قبول کیا، پھر مرتد ہو کر مکہ کی طرف لوت گئے پس یہ آیت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 115–116

(1) ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو معاویہ نے بلایا اور کہا کہ اپنے بھائی کے بیٹے سے بیعت کرلو میں نے عرض کیا کہ اے معاویہ لفظ آیت ” ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جہنم وساءت مصیرا “ اس آیت نے ان کو مجھ سے خاموش کردیا۔ (2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) ” نولہ ما تولی “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم اس کو باطل معبودوں کی طرف پھرنے دیتے ہیں۔ اللہ کے رسول کی مخالفت کرنا حرام ہے (3) ابن ابی حاتم نے مالک (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن عبد العزیز (رح) سے فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے بعد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَمَنْ : اور جو ] [ یُّشَاقِقِ : مخالفت کرے گا ] [ الرَّسُوْلَ : ان رسول ﷺ کی ] [ مِنْم بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ جو ] [ تَــبَـیَّنَ : واضح ہوئی ] [ لَــہُ : اس کے لیے ] [ الْہُدٰی : ہدایت ] [ وَیَـتَّـبِعْ : اور پیروی کرے گا ] [ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ : مؤمنوں کے راستے کے علاوہ کی ] [ نُوَلِّـہٖ : تو ہم پھیر دیں گے اس کو ] [ مَا : ادھر ‘ جدھر ] [ تَوَلّٰی : وہ پھرا ] [ وَنُصْلِہٖ : اور ہم ڈالیں گے اس کو ] [ جَہَنَّمَ : جہنم میں ] [ وَسَآئَ تْ : اور کتنابرا ہے وہ ] [ مَصِیْرًا : لوٹنا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

رسول اللہ ﷺ کے خلاف راہ اختیار کرنا داخلۂ دوزخ کا سبب ہے : پھر فرمایا (وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرُّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی) (الآیۃ) کہ جو شخص ہدایت ظاہر ہونے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مومنین کے راستہ کے علاوہ دوسرے راستہ کا اتباع کرے ہم اسے وہ کرنے دیں گے جو کرتا ہے (یعنی اپنے اختیار سے جس برائی میں لگا ہوا ہے دنیا میں ہم اسے کرنے دیں گے اس کا اختیار سلب نہیں کریں گے) اور اسے جہنم میں داخل کریں گے (یہ اس کو آخرت میں سزا ملے گی) اور دوزخ بری جگہ ہے اس آیت میں دو باتوں میں دوزخ کے داخلہ کے خبر دی گئی اول یہ کہ جو شخص ہدایت ظاہر ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرے وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 105–115

حکم بست وہشتم ممانعت از حمایت اہل خیانت۔ قال تعالی۔ انا انزلنا الیک الکتاب بالحق۔۔۔ الی۔۔۔ مصیرا۔ ربط) گزشتہ آیات میں کفار اور منافقین کے معاملات کا ذکر تھا اب آیات میں منافقین کے ایک شرانگیز قصہ کا بیان ہے یہ بتلانا مقصود ہے کہ کافروں پر ظلم کرنا اور بےگناہ پر تہمت اور الزام لگانا جائز نہیں اور خیانت کرنے والے کی حمایت جائز نہیں اگرچہ وہ کلمہ گو ہو مقدمہ کا فیصلہ عدل و انصاف سے ہونا چاہیے۔ شان نزول۔ نبی ﷺ کے زمانہ میں ایک منافق طعمہ بن ابیرق نامی نے ایک انصاری کے گھر میں نقب لگائی اور آٹے کا تھیلا جس میں زرہ وہتھیار رکھے ہوئے تھے چرا کرلے گیا اتفاق سے اس تھیلہ میں ایک سوراخ تھا چور کے گھر تک…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 114–115

82 یہ نویں حکم سلطانی سے متعلق ہے۔ منافقوں نے رات کو منصوبہ بنایا تھا کہ وہ زید بن یاسمین یہودی پر چوری کا الزام لگا دیں اور جھوٹی قسمیں کھا کر طعمہ کو چوری کے الزام سے بری کرنے کی کوشش کریں گے تو فرمایا دوسرے کو نقصان پہنچانے اور جھوٹی گواہی دینے کے لیے مشورے نہیں کرنے چاہئیں۔ اراد ما تفاوض بہ قوم بنی ابیرق من التدبیر (قرطبی ج 5 ص 382) بلکہ مشورے تو دوسروں کو فائدہ پہنچانے، ان پر احسان کرنے اور باہمی اصلاح کی بابت ہونے چاہئیں۔ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذَالِکَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللہِ الخ یہ ان لوگوں کے لیے بشارت اخروی ہے جو محض اللہ کی رضا کے لیے مشورے کریں وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ الخ یہ ان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات گزشتہ آیات میں منافقین کی مذمت بیان ہوتی رہی ہے اللہ تعالیٰ نے ا ن کی خیانت ، برائی ، خفیہ مشوروں اور میٹنگوں کا ذکر فرمایا۔ گزشتہ اور اس سے پیوستہ دروس میں منافقین کے ایک خاندان بنوابیرق کا ذکر تھا کہ ان کے ایک آدمی بشیر ابن ابیرق نے چوری کا ارتکاب کیا۔ مگر خود کو اس سے بری الذمہ ثابت کرنے کے لیے چوری کا الزام ایک مخلص مسلمان لبید ابن سہیل ؓ پر اور پھر ایک یہودی پر لگایا اس کے علاوہ معززین قبیلہ کا ایک وفد بھی حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا ، جس میں مخلص مسلمان بھی شامل تھے۔ اس وفد نے حضور نبی کریم ﷺ کو باور کرانے کی کوشش کی کہ ان کا آدمی بےگناہ ہے ، اور رفاعہ ؓ اور قتادہ ؓ نے اس پر غلط…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَہُ الْہُدٰى وَيَتَّبِـعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ۝ 0ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا۝ 115ۧ شقاق والشِّقَاقُ : المخالفة، وکونک في شِقٍّ غير شِقِ صاحبک، أو مَن : شَقَّ العصا بينک وبینه . قال تعالی: وَإِنْ خِفْتُمْ شِقاقَ بَيْنِهِما[ النساء/ 35] ، فَإِنَّما هُمْ فِي شِقاقٍ [ البقرة/ 137] ، أي : مخالفة، لا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقاقِي [هود/ 89] ، وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتابِ لَفِي شِقاقٍ بَعِيدٍ [ البقرة/ 176] ، مَنْ يُشاقِقِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ الأنفال/ 13] ، أي : صار في شقّ غير شقّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 114–115

1 ؎ ان تینوں میں نجوٰی اچھا ہے صدقہ میں اس لیے ظاہر کرنے میں یعنی والی کو عار ہوگا نیک نصیحت میں اخفاء اس لیے بہتر ہے کہ ظاہر میں اس کی فضیحت ہے اصلاح باہمی میں اس لیے کہ ظاہر کرنے میں اتار چڑھاؤ اصلاح کے باعث ہیں فوت ہوجاتے ہیں۔ 12

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ م بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلَِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَ نُصْلِہٖ جَہَنَّمَط وَسَآئَ تْ مَصِیْرًا ع ” اور جو شخص مخالفت کرے رسول کی اس کے بعد کہ روشن ہوگئی اس کے لیے ہدایت اور پیروی کرے مسلمانوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی تو ہم اس کو اسی راہ پر ڈالیں گے جس پر وہ پڑا اور اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ “ (النسآء : 115) کہا جاتا ہے کہ یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی (جس کا ذکر گزشتہ رکوع میں ہوا) جس نے چوری کی تھی ‘ لیکن اپنے جرم کا اعتراف کرنے کی بجائے الزام ایک یہودی پر لگا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو لوگوں کے لیے رہنما اور مقتدا بنا کر بھیجا ہے۔ رسول محترم ﷺ کی پیروی اور اتباع کو اپنی اتباع قرار دیا، اپنی محبت اور بخشش کو رسول کی اطاعت کے ساتھ مشروط فرمایا ہے۔ اس لیے جلوت اور خلوت میں رسول کی اتباع ہر مسلمان پر فرض ہے۔ جو شخص یا جماعت رسول کی ہدایت اور سنت سامنے ہونے کے باوجود رسول معظم ﷺ کی پیروی سے انحراف اور صحابہ کرام کے طریقہ کو چھوڑتے ہیں وہ لوگ جدھر چاہیں اور جس طرح چاہیں منہ اٹھا کر چل نکلیں وہ جہنم میں ہی گرنے والے ہیں جو بدترین جائے قرار ہے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے اتباع رسول کے ساتھ صحابہ کی اتباع کا بھی حکم دیا ہے۔ کیونکہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 115 : وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْم بَعْدِ مَاتَبَیَّنَ لَہُ الْہُدٰی ( جو شخص رسول کی مخالفت کریگا اس کے بعد کہ امر حق ظاہر ہوچکا تھا) یعنی دلیل یقینی سے واضح ہونے اور قطعی طور پر معلوم ہونے کے بعد کہ وہ ہدایت ہے۔ وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ (وہ مؤمنوں کے راستہ کے علاوہ دوسرے راستہ پر چلے گا) سبیل سے مراد دین حنیفی کا راستہ۔ اجماع حجت ہے : مسئلہ : اس آیت میں دلیل ہے۔ کہ اجماع حجت ہے اس کی مخالفت جائز نہیں۔ جیسا کہ کتاب و سنت کی مخالفت جائز نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دونوں چیزیں۔ غیر سبیل المؤمنین اور مخالفت رسول کو ایک شرط سے مشروط کیا۔ اور اس کی سزا وعید شدید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 115۔: (آیت)” ومن یشاقق الرسول “۔ اس آیت کا نزول طعمہ بن ابیرق کے بارے میں ہوا ، جب اس پر چوری کا ظہور ہوا تو اس کو ڈر وخوف لاحق ہوا کہ اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور یہ رسوا ہوجائے گا تو پھر یہ مکہ کی طرف بھاگ گیا اور مرتد ہوگیا ، اس پر مذکورہ آیت نازل ہوئی (آیت)” ومن یشاقق الرسول “۔ بمعنی مخالفت کرنا (آیت)” من بعد ما تبین لہ الھدی “۔ توحید اور حدود کے ظاہر ہونے کے بعد ” ویتبع غیر سبیل المؤمنین “ مؤمنین کے راستے کے علاوہ (آیت)” نولہ ما تولی “۔ اس کو آخرت کی طرف پھیر دیں گے جس کو انہوں نے دنیا میں چھوڑ دیا تھا (آیت)” ونصلہ جھنم وساء ت مصیرا “۔ روایت کیا گیا ہے کہ طعمہ بن ابیرق ایک شخص…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 114–115

(114 ۔ 115) ۔ طعمہ کی قوم کے لوگوں نے آپس میں رات کو اس جھوٹی گواہی کا مشورہ کیا جس کا ذکر اوپر گذرا۔ اور صبح کو وہ جھوٹی گواہی آنحضرت ﷺ کے رو برو ادا کی اور پھر اوپر کی آیتوں کے نازل ہوجانے کے بعد جب طعمہ کی چوری کا حال کھل گیا۔ تو وہ اپنے ہاتھ کے کاٹے جانے کی سزا سے ڈر کر مدینہ سے مکہ کو بھاگ گیا۔ اور وہاں مرتد ہو کر مرگیا۔ ان ہی باتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ طعمہ کی قوم کی طرح جو کوئی خلاف شریعت باتوں کا مشورہ کرے تو اس طرح کے مشوروں میں کچھ بھلائی بلکہ اس طرح کے مشوروں میں آدمی کے دین کا نقصان ہے ہاں دین کے فائدہ کے مشورہ یہ ہیں۔ کہ کسی کو صدقہ خیرات کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 115–116

آیت 115 یعنی جو کوئی رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرتا ہے اور آپ کی لائی ہوئی شریعت میں آپ سے عناد رکھتا ہے (من بعد ماتبین لہ الھدی) ” سیدھا راستہ معلوم ہونے کے بعد “ یعنی دلائل قرآنی اور براہین نبوی کے ذریعے سے ہدایت کا راستہ واضح ہوجانے کے بعد (ویتبغ غیر سبیل المومنین) ” اور مومنوں کے راستے کے خلاف چلے “ اہل ایمان کے راستے سے مراد ان کے عقائد و اعمال ہیں (نولہ ما تولی) ” ہم اس کو پھیر دیتے ہیں اسی طرف جس طرف وہ پھرتا ہے “ یعنی ہم اسے اور اس چیز کو جو اس نے اپنے لئے اتخیار کی ہے چھوڑ کر اس سے الگ ہوجاتے ہیں اور ہم اسے بھلائی کی توفیقف سے محروم کردیتے ہیں۔ کیونکہ اس نے حق کو جان بوجھ کر ترک کردیا۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 115–118

قول باری ہے ( ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین الہ الھدیٰ و یتبع غیر سبیل المومنین نولہ ماتولی و نصلہ جھنم) اور جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے درآں حالیکہ اس پر راہ راست واضح ہوچکی ہو تو ہم اس کو اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے۔ حضور ﷺ کی مخالفت ، آپ سے علیحدگی اور آپ کی دشمنی کی صورت یہ ہے کہ مخالفت کرنے والا ایک جانب ہو جو اس جانب کے ما سوا ہو جس میں حضور ﷺ ہیں اسی طرح یہ قول باری ہے ( ان الذین یحادون اللہ ورسولہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں) وہ اس طرح کہ مخالفت کرنے والا اس کنارے پر ہو جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

297 اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کے حکموں کو توڑا اور جان کر ان کی خلاف ورزی کی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور رسول کی مخالفت اور نافرمانی کی سب سے بڑی صورت یہ ہے کہ انسان پیغمبر کے لائے ہوئے دین متین سے پھرجائے اور اس سے مرتد ہوجائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو اللہ ۔ جَلَّ جَلَاُلہٗ ۔ اور اس کے رسول اکرم ﷺ کی مخالفت ۔ والعیاذ باللہ ۔ ہلاکت و تباہی کی راہ ہے اور اس کا نتیجہ و انجام بہت ہی برا اور نہایت ہی ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اللہ کے رسول اور اس کی ہدایت کی مخالفت کرتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 114–115

سرگوشی کی برائی، رسول ﷺ کی مخالفت کی سزا تشریح : ان آیات میں بھی اخلاقی اصول بتائے گئے ہیں جو کہ آپس میں مشوروں اور مجلس کے آداب کے متعلق ہیں۔ یہاں صاف طور پر منع کیا گیا ہے کہ کسی مجلس میں بیٹھ کر سرگوشی کرنا ایک طرح سے فساد اور بدگمانی پھیلانے والا کام ہے۔ کیونکہ اس طرح اردگرد کے لوگ خواہ مخواہ سوچ میں پڑ سکتے ہیں کہ ہوسکتا ہے ہمارے خلاف ہی بات ہو رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔ تو اس عمل کی اجازت صرف اس صورت میں دی گئی ہے کہ کسی ایسے نیک کام کے لیے سرگوشی کی جائے جو کہ اونچی آواز سے کہنے سے دوسروں کے لیے شرمندگی یا بےعزتی کا باعث بن سکتی ہو، مثلاً : کسی ضرورت مند کو کچھ دینا، کسی کو صدقہ دینا، کسی کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 113–115

رکوع نمبر 17 ۔ آیات 113 تا 115 ۔ اسرار و معارف : ولولا۔۔۔۔۔ وساءت مصیرا۔ اور اے میرے حبیب (ﷺ) اگر آپ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی جو ہر حال میں اور ہر آن آپ کو نصیب ہے تو ان منافقین میں تو ایک ٹولہ یہ سوچ بھی رکھتا ہے کہ معاذ اللہ آپ کو گمراہ کردے اور اللہ کا دین چھڑوا کر رسومات اور بدعات میں مبتلا کردے۔ لیکن آپ تو مجسمہ رحمت ہیں آپ تو نہ صرف اللہ کا فضل و احسان پانے والے ہیں بلکہ بانٹنے والے ہیں اس لیے آپ سے ٹکرا کر اپنی پیشانی کو توڑ لیتے ہیں۔ خود گمراہ ہو رہے ہیں۔ یہاں سے جان لیا جائے کہ شیخ اگر کامل نہ ہوا تو بدعات کا شکار ہوجائیگا۔ اور خوشامدی اپنی لذت کے حصول کے لیے اسے گمراہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی جو شخص یا گروہ وہ شریعت کے خلاف راستہ اختیار کرے اور حق معلوم ہوجانے کے باوجود مسلمانوں کی سیدھی اور صاف روشن ہے ہٹ جائے تو ہم بھی اسے ٹیڑھی راہ پر لگا دیتے ہیں جو اس کو جہنم میں لے جا کر ڈال دیتی ہے۔ مومنوں کی راہ میں دراصل تو کتاب و سنت کی راہ ہے اور کسی اجماعی مسئلے کی مخالفت کرنا بھی غیر مومنوں کی راہ پر چلنا ہے۔ (قرطبی) امت محمد یہ کو اللہ تعالیٰ نے یہ شرف بخشا ہے کہ وہ اجتماعی طور پر غلطی اور خطا سے محفوظ رہی ہے اور رہے گی ،۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا ساری امت صدیوں ایک غلط راہ پر چلتی رہے۔ اس بارے میں بہت سی صحیح احادیث وارد ہیں حتی ٰ کہ بعض علما ان کے تواتر کے قائل ہیں امام شافع…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 115–116

(4:115) یشاقق۔ واحد مذکر غائب مضارع مجزوم بوجہ عمل من۔ شقاق مصدر۔ ق ثانی بوجہ حرف مابعد کے ساتھ وصل کے لئے مکسور ہوا۔ جو مخالفت کرتا ہے شقاق مصدر باب مفاعلہ سے ہے شق (مضاعف) کے معنی طرف۔ ضد۔ مخالفت۔ ٹکڑہ۔ نولہ۔ جمع متکلم مضارع ہ ضمیر مفعول راجع الی من تولیۃ مصدر باب تفعیل ۔ ہم پھریں گے۔ اسے۔ ہم اس کو مختار بنادیں گے ماتولی۔ اس نے منہ موڑا۔ اس نے پیٹھ پھیردی۔ وہ متولی ہوا۔ وہ پھر گیا۔ تولی (تفعل) نولہ ما تولی۔ جدھر وہ کود جانا چاہتا ہے ہم اسے ادھر ہی جانے دیں گے۔ نصلہ۔ مضارع جمع متکلم۔ اصلاء مصدر۔ باب افعال سے۔ صلی مادہ اصل میں نصلیہ تھا جواب شرط کی وجہ سے ی گرگئی۔ ہم اس کو داخل کریں گے۔ ہم اس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 114–115

آیت نمبر 114-115 لغات القرآن : نجوی، سرگوشی، کان میں باتیں کرنا۔ مرضات اللہ، اللہ کی رضا و خوشنودی۔ یشاقق، نافرمانی کرے گا، مخالفت کرے گا۔ یتبع، اتباع کرے گا۔ نولہ، ہم پھر دیں گے اس کو۔ نصلہ، ہم اس کو ڈالیں گے۔ تشریح : ان آیات کا تعلق بھی اوپر والے واقعہ سے ہوسکتا ہے کیونکہ مجرم بشر نے خفیہ سرگوشیوں اور باہمی مشوروں کے ذریعہ ہی اپنے قبیلہ والوں کو اپنے حق میں اکسایا تھا۔ اور جب وحی الٰہی نے آکر اس کی چوری کھول دی تو وہ بھاگ کر مکہ چلا گیا اور مرتد ہوگیا اور کافروں سے مل کر نبی کریم ﷺ کی مخالفت میں لگا رہا۔ پھر وہ مرتد کافر اور مخالف رسول ﷺ ہوکر مرا۔ سرگوشیاں نیک کام کیلئے بھی ہوسکتی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 114–115

شان نزول : طعمہ کی قوم کے لوگوں نے آپس میں رات کو اس جھوٹی گواہی کا مشورہ کیا جس کا ذکر اوپر گزرا اور صبح کو وہ جھوٹی گواہی آنحضرت ﷺ کے روبرو ادا کی، اور پھر اوپر کی آیتوں کے نازل ہوجانے کے بعد جب طعمہ کی چوری کا حال کھل گیا تو وہ اپنے ہاتھ کاٹے جانے کی سزا سے ڈر کر مدینہ سے مکہ کو بھاگ گیا اور وہاں مرتد ہوکر مرگیا۔ ان ہی باتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ طعمہ کی قوم کی طرح جو کوئی خلاف شریعت باتوں کا مشورہ کرے تو اس طرح کے مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں بکلہ دین کا نقصان ہے۔ ہان دین کے فائدے کے مشورے یہ ہیں کہ کسی کو صدقہ خیرات کا یا شریعت میں اور نیک کام جو ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 115–116

[75] جب نبی ﷺ نے مذکورہ بالا مقدمے میں یہودی کو بری کردیا اور اطمعہ کے خلاف فیصلہ دیا تو وہ منافق کھلم کھلا مخالفت پر آمادہ ہوگیا اور مسلمانوں سے الگ ہو کر مشرکین سے جا ملا۔ اس آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

الحاد : (ف 2) طعمہ بن ایبرق نے جب دیکھا کہ قرآن حکیم نے ہماری چالوں کو واشگاف طور پر بیان کردیا ہے کہ تو مرتد ہوگیا اور مکہ میں جا کر مر گیا ، ایسے لوگوں کے متعلق ارشاد ہے کہ یہ وہ ہیں جو ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد پھر بھی رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں ۔ آیت کا عام مفہوم یہ ہے کہ قرآن حکیم اور رسول خدا ﷺ کے بعد ہدایت ورشد کے تمام طریق واضح ہوجاتے ہیں ، اس لئے لازم ہے کہ ہر شخص کتاب وسنت کے مستحکم اصول سے تمسک اختیار کرے اور اس سلسلے میں جمہور مسلمانوں کے خلاف الگ عقائد وآراء نہ رکھے ۔ (آیت) ” غیر سبیل المومنین “۔ سے مراد مسلمانوں کے متفقہ اور متحدہ نظام عقائد وعمل کے خلاف الگ راستہ تجویز…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 اور جو شخص باوجود اس کے کہ اس پر امر حق واضح ہوچکا تھا اور اس کے لئے سیدھی راہ ظاہر ہوچکی تھی پھر بھی اس ظہور حق کے بعد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرے گا اور سب مسلمانوں کی راہ کیخلاف چلے گا اور مسلمانوں کا راستہ چھوڑ کر دوسرے راستے پر ہو لیتا ہے۔ یعنی مسلمانوں کے اعتقاد اور عمل کو چھوڑ کر دوسرے اعتقاد اور عمل اختیار کرتا ہے تو ہم اس کو اس کی اختیار کردہ راہ کے سپرد کردیں گے اور جو کچھ وہ کرتا ہے اس کو کرنے دیں گے اور آخرت میں اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ دوزخ بہت بری بازگشت ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے مسلمانوں کی جماعت پر جس نے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 114–115

ف 3۔ نیک کام میں جو کہ معروف کا ترجمہ ہے وہ تمام امور آگئے جو نافع ہوں خواہ دینی ہو یا دنیوی مگر مشروع ہوں اور گو اس میں صدقہ بھی داخل تھا لیکن نفس پر شاق ہونے کی وجہ سے اس کا زیادہ اہتمام فرمایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

راہ ہدایت واضح ہوجانے کے بعد جو گمراہی کی طرف بڑھیں تو ہمارا قانون ان کو نہیں روکتا : 189: ایک واقعہ تو وہی ہے جو پیچھے گزر چکا کہ جب ” بشیر “ یا ” اطعمہ “ جو نام بھی اس کا تھا جو نام کا مسلمان تھا اور جس نے چوری کی تھی اور الزام ایک یہودی پر لگا دیا تھا جب نبی اعظم و اخر ﷺ نے فیصلہ اس کے خلاف صادر فرمایا تو وہ مدینہ سے بھاگ کر مشرکین مکہ سے جا ملا (ترمذی ، حاکم اور ابن سعد) اس لئے ارشاد فرمایا گیا کہ ” جس شخص پر دین حق کی راہ واضح ہوجائے اور پھر وہ دیدہ و دانستہ اس سے پھرجائے تو اس نے خود اپنی پسند سے سعادت کی راہ چھوڑکر شقاوت کی راہ پسند کرلی اور جیسی کچھ راہ اس نے پسند کی ضروری ہے کہ ویسا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The Consensus of the Community is a Valid Religious Authority Two things have been identified as a great crime and as a cause of one's consignment to Hell in verse 115: وَمَن يُشَاقِقِ الرَّ‌سُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ (And whoever breaks away with the Messenger after the right path has become clear to him...). The first is opposing the Messenger of Allah. Obviously, doing so is Kufr (disbelief, infidelity) and a terrible curse. The second crime relates to a violation of universal Muslim consensus. It means the abandoning of something which has the universal agreement of all…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

143. When, after revelation from God, the Prophet (peace be on him) delivered his verdict in favour of the innocent Jew rather than the dishonest Muslim, the latter was so seized by un-Islamic, egotistic and chauvinistic considerations that he left Madina, went straight to Makka to join the ranks of the enemies of Islam and of the Prophet (peace be on him), and undertook open opposition. The verse alludes to that incident.

Read the full tafseer →