An-Nisaa 4:114

An-Nisaa · from ayah 114

4:114

لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍ بَیْنَ النَّاسِ ؕ— وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا ۟لَا خَيۡرَ فِىۡ كَثِيۡرٍ مِّنۡ نَّجۡوٰٮهُمۡ اِلَّا مَنۡ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوۡ مَعۡرُوۡفٍ اَوۡ اِصۡلَاحٍۢ بَيۡنَ النَّاسِ‌ ؕ وَمَن يَّفۡعَلۡ ذٰ لِكَ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰهِ فَسَوۡفَ نُـؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا

ان لوگوں کی بہت سی مشورتیں اچھی نہیں ہاں (اس شخص کی مشورت اچھی ہوسکتی ہے) جو خیرات یا نیک بات یا لوگوں میں صلح کرنے کو کہے اور جو ایسے کام خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرے گا تو ہم اس کو بڑا ثواب دیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

No good is there in much of their private conversation, except for those who enjoin charity or that which is right or conciliation between people. And whoever does that seeking means to the approval of Allah - then We are going to give him a great reward.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 17 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:114

لوگوں کی خفیہ سرگوشیوں میں اکثر و بیشتر کوئی بھلائی نہیں ہوتی ہاں اگر کوئی پوشیدہ طور پر صدقہ و خیرات کی تلقین کرے یا کسی نیک کام کے لیے یا لوگوں کے معاملات میں اصلاح کرنے کے لیے کسی سے کچھ کہے تو یہ البتہ بھلی بات ہے، اور جو کوئی اللہ کی رضا جوئی کے لیے ایسا کرے گا اُسے ہم بڑا اجر عطا کریں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان لوگوں کی بہت سی مشورتیں اچھی نہیں ہاں (اس شخص کی مشورت اچھی ہوسکتی ہے) جو خیرات یا نیک بات یا لوگوں میں صلح کرنے کو کہے اور جو ایسے کام خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرے گا تو ہم اس کو بڑا ثواب دیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کے اکثر خفیہ مشوروں میں کوئی خیر نہیں، ہاں! بھلائی اس کے مشورے میں ہے جو خیرات کا یا نیک بات کا یا لوگوں میں صلح کرانے کا حکم کرے اور جو شخص صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے ارادے سے یہ کام کرے اسے ہم یقیناً بہت بڑا ﺛواب دیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

لوگوں کی بہت سی خفیہ سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں ہوتی، الا یہ کہ کوئی شخص صدقے کا یا کسی نیکی کا یا لوگوں کے درمیان اصلاح کا حکم دے۔ اور جو شخص اللہ کی خوشنودی حاصل کے کرنے کے لیے ایسا کرے گا، ہم اس کو زبردست ثواب عطا کریں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان کے اکثر مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں مگر جو حکم دے خیرات یا اچھی بات یا لوگوں میں صلح کرنے کا اور جو اللہ کی رضا چاہنے کو ایسا کرے اسے عنقریب ہم بڑا ثواب دیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان کے اکثر خفیہ مشوروں میں کوئی بھلائی نہیں سوائے اس شخص (کے مشورے) کے جو کسی خیرات کا یا نیک کام کا یا لوگوں میں صلح کرانے کا حکم دیتا ہے اور جو کوئی یہ کام اللہ کی رضا جوئی کے لئے کرے تو ہم اس کو عنقریب عظیم اجر عطا کریں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان کی بہت سی سر گوشیوں میں کوئی خیر نہیں، سوائے اس شخص کے جو کسی صدقے یا نیک کام یا لوگوں کے درمیان صلح کرانے کا حکم دے اور جو بھی یہ کام اللہ کی رضا کی طلب کے لیے کرے گا تو ہم جلد ہی اسے بہت بڑا اجر دیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان کی اکثر سرگوشیوں میں خیر نہیں ہوتی۔ الا یہ کہ کوئی شخص پوشیدہ طور پر لوگوں کو صدقہ کرنے یا بھلے کام کرنے یا لوگوں کے درمیان صلح کرانے کا حکم دے۔ اور جو شخص ایسے کام اللہ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے تو ہم اسے بہت بڑا اجر عطا کریں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کی سرگوشیوں کا زیادہ حصہ ایسا ہے جس میں کوئی خیر نہیں۔ خیر والی سرگوشی تو صرف اس کی ہے جو صدقہ کی صلاح دے یا کسی نیکی کی راہ سمجھائے یا اصلاح ذات البین کی دعوت دے جو اللہ کی رضا جوئی میں ایسا کریں گے تو ہہم ان کو اجر عظیم عطا فرمائیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کوئی خبر نہیں لوگوں کی اکثر سرگوشیوں میں، بجز اس کے کہ کوئی تلقین کرے صدقہ کرنے کی، یا نیک کام کی، یا لوگوں کے درمیان صلح (صفائی) کرانے کی، اور جو کوئی ایسا کرے گا اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے، تو (وہ بڑا ہی خوش نصیب ہے، کہ) عنقریب ہی ہم اس کو نوازیں گے بہت بڑے اجر سے،

— مولانا اسحاق مدنی

سرگوشیاں بہت سی ایسی ہیں جن میں کوئی بھلائی نہیں ہاں البتہ بھلائی یہ ہے کہ کوئی صدقہ کی ترغیب دے یا کسی اور نیک کام کی یا لوگوں کے درمیان اصلاح کی۔ اور جو کوئی اللہ کی رضا حاصل کرنے کو ایسا کرے گا۔ سو ہم اس کو عنقریب اجر عظیم دیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان (منافقین) کی سرگوشیوں میں سے اکثر میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی الاّ یہ کہ کوئی تلقین کرے صدقہ و خیرات کی یا نیکی کی یا لوگوں کے معاملات کو درست کرنے کی اور جو شخص اس طرح (کی سرگوشی) کرے گا اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے تو عنقریب ہم اسے دیں گے بہت بڑا اجر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

لوگوں کی خفیہ سرگوشیوں میں اکثر کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔ ہاں، اگر کوئی پوشیدہ طور پر صدقہ و خیرات کی تلقین کرے، یا کسی نیک کام کے لیے، یا لوگوں کے معاملات میں اصلاح کرنے کے لیے کسی سے کچھ کہے تو یہ البتہ بھلی بات ہے اور جو کوئی اللہ کی رضا جوئی کے لیے ایسا کرے گا اسے ہم بڑا اجر عطا کریں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Most of their secret conferrings are devoid of good, unless one secretly enjoins in charity, good deeds, and setting the affairs of men right. We shall grant who ever does that seeking to please Allah a great reward.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

There is no good in most of their whisperings, unless one bids charity or a fair action, or reconciliation between people. The one who does this, to seek Allah‘s pleasure, We shall give him a great reward.

— Muhammad Taqi Usmani

There is no good in most of their whisperings, unless one bids charity or a fair action, or reconciliation between people. The one who does this, to seek Allah‘s pleasure, We shall give him a great reward.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

There is no good in most of their secret talks save (in) him who orders Sadaqah, or goodness, or conciliation between mankind; and he who does this, seeking the good pleasure of Allah, We shall give him a great reward.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

There is no good in much of their secret conferences save (in) him who enjoineth almsgiving and kindness and peace-making among the people. Whoso doeth that, seeking the good pleasure of Allah, We shall bestow on him a vast reward.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

No good is there in much of their private conversation, except for those who enjoin charity or that which is right or conciliation between people. And whoever does that seeking means to the approval of Allah - then We are going to give him a great reward.

— Saheeh International

There is nothing good in much of their secret talks except for that which is for charity, justice, or for reconciliation among people to seek thereby the pleasure of God for which We will give a great reward.

— Muhammad Sarwar

There is no good in most of their secret counsels except (in his) who enjoins charity or goodness or reconciliation between people; and whoever does this seeking Allah's pleasure, We will give him a mighty reward.

— Muhammad Habib Shakir

No good is there in much of their whispers except in his who commandeth charity or kindness or reconciliation among mankind; and whosoever doeth this seeking the good-will of Allah, We shall presently give him a mighty hire.

— Abdul Majid Daryabadi

In most of their secret talks there is no good: But if one exhorts to a deed of charity or justice or conciliation between men, (Secrecy is permissible): To him who does this, seeking the good pleasure of Allah, We shall soon give a reward of the highest (value).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:114

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 114–115

اچھے کاموں کی دعوت اور برے کاموں سے روکنے کے علاوہ تمام باتیں قابل مواخذہ ہیں لوگوں کے اکثر کلام بےمعنی ہوتے ہیں سوائے ان کے جن کی باتوں کا مقصد دوسروں کی بھلائی اور لوگوں میں میل ملاپ کرانا ہو، حضرت سفیان ثوری کی عیادت کے لئے لوگ جاتے ہیں ان میں سعید بن حسان بھی ہیں تو آپ فرماتے ہیں سعید تم نے ام صالح کی روایت سے جو حدیث بیان کی تھی آج اسے پھر سناؤ، آپ سند بیان کرکے فرماتے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا انسان کی تمام باتیں قابل مواخذہ ہیں بجز اللہ کے ذکر اور اچھے کاموں کے بتانے اور برے کاموں سے روکنے کے، حضرت سفیان نے کہا یہی مضمون اس آیت میں ہے، یہی مضمون آیت (يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 113–114

سورة النِّسَآء 142 یعنی اگر وہ غلط روداد پیش کر کے تمہیں غلط فہمی میں مبتلا کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتے اور اپنے حق میں انصاف کے خلاف فیصلہ حاصل کرلیتے تو نقصان انہی کا تھا، تمہارا کچھ بھی نہ بگڑتا۔ کیونکہ خدا کے نزدیک مجرم وہ ہوتے نہ کہ تم۔ جو شخص حاکم کو دھوکہ دے کر اپنے حق میں فیصلہ کرتا ہے وہ دراصل خود اپنے آپ کو اس غلط فہمی میں مبتلا کرتا ہے کہ ان تدبیروں سے حق اس کے ساتھ ہوگیا، حالانکہ فی الواقع اللہ کے نزدیک حق جس کا ہے اسی کا رہتا ہے اور فریب خوردہ حاکم کے فیصلہ سے حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ (ملاحظہ ہو سورة بقرہ 197)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر عام لوگوں کی اکثر سرگوشیوں میں خیر (یعنی ثواب و برکت) نہیں ہوتی، ہاں مگر جو لوگ ایسے ہیں کہ (خیر) خیرات کی یا اور کسی نیک کام کام کی یا لوگوں میں باہم اصلاح کردینے کی ترغیب دیتے ہیں (اور اس تعلیم و ترغیب کی تکمیل و انتظام کے لئے خفیہ تدبیریں اور مشورے کرتے ہیں، یا خود ہی صدقہ وغیرہ کی دوسروں کو خفیہ ترغیب دیتے ہیں، کیونکہ بعض اوقات خفیہ ہی کہنا مصلحت ہوتا ہے، ان کے مشوروں میں البتہ خیر یعنی ثواب اور برکت ہے) اور جو شخص یہ کام کرے گا (یعنی ان اعمال کی ترغیب دے گا) حق تعالیٰ کی رضا جوئی کے واسطے (نہ کہ جاہ و شہرت کی غرض سے) سو ہم اس کو عنقریب اجر عظیم عطاء فرمائیں گے اور جو شخص رسول…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 114–115

لَا خَيْرَ فِيْ كَثِيْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىھُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۢ بَيْنَ النَّاسِ ۭ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَاۗءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيْهِ اَجْرًا عَظِيْمًا۔ وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا۔ نجوی کا مفہوم اور اس میں خیر و شر کا پہلو : نجوی کے معنی سرگوشی اور رازداری کے انداز میں کسی سے بات کرنے کے ہیں۔ اس میں بجائے خود کوئی برائی نہیں ہے اس لیے کہ ایسے مواقع بہت سے ہوسکتے ہیں جہاں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

114۔ 1 نَجْوَیٰ (سرگوشی) سے مراد وہ باتیں ہیں جو منافقین آپس میں مسلمانوں کے خلاف یا ایک دوسرے کے خلاف کرتے تھے۔ 114۔ 2 یعنی صدقہ خیرات معروف (جو ہر قسم کی نیکی میں شامل ہے) اور اصلاح بین الناس کے بارے میں مشورے، خیر پر مبنی ہیں جیسا کہ احادیث میں بھی ان امور کی فضیلت و اہمیت بیان کی گئی ہے۔ 114۔ 3 کیونکہ اگر اخلاص (یعنی رضائے الٰہی کا مقصد) نہیں ہوگا تو بڑے سے بڑا عمل بھی نہ صرف ضائع ہوجائے گا بلکہ وبال جان بن جائے گا۔ 114۔ 4 احادیث میں اعمال مزکورہ کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ اللہ کی راہ میں حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ بھی احد پہاڑ جتنا ہوجائے گا، نیک بات کی اشاعت بھی بڑی فضیلت ہے۔ اسی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 113–114

67: اس سے بشر اور اس کے حمایتی مراد ہیں جو یہ چاہتے تھے کہ یہودی کو بےگناہ سزا دلوا دیں

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 40 ایک نظر میں : یہ سبق درس سابق کے ساتھ مربوط ہے اور ان دونوں کے درمیان کئی ربط ہیں ۔ اس میں بعض آیات تو درس سابق کے واقعہ کی باز گشت ہیں ۔ اس واقعہ اور وحی الہی کے بعد بشر ابن ابیرق جو چوری میں ملوث تھا ‘ مرتد ہوگیا تھا اور رسول اللہ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگیا تھا ۔ اور اسلام کے بعد دوبارہ جاہلیت میں چلا گیا تھا ۔ چناچہ اس حوالے سے اس سبق میں جاہلیت کی بات کی گئی ہے ۔ جاہلی خیالات ‘ تصورات اور اس نظام میں شیطان کی کارستانیاں وغیرہ ۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلام اور جاہلیت کے درمیان سرحد شرکیہ عقاید ہیں ۔ اللہ کے نظام میں شرک کی معافی نہیں ہے ۔ اس کے سوا سب کچھ قابل معافی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 منافق اور حیلہ گر آکر آپ سے کان میں باتیں کرتے تاکہ لوگوں میں اپنا اعتبار بڑھائیں اور مجلس میں بیٹھ کر آپس میں بیہودہ سرگوشی کیا کرتے کسی کی عیب جوئی، کسی کی غیبت، کسی کی شکایت کرتے۔ اس پر ارشاد ہوا کہ جو لوگ باہم کانوں میں مشاورت کرتے ہیں اکثر مشورے خیر سے خالی ہوتے ہیں۔ صاف اور سچی باتوں کو چھپانے کی حاجت نہیں اس میں کوئی فریب ہوتا ہے۔ البتہ چھپاوے تو صدقہ اور خیرات کی بات کو چھپاوے تاکہ لینے والا شرمندہ نہ ہو یا کسی ناواقف کو غلطی سے بچائے اور اس کو اچھی بات اور صیحح مسئلہ بتائے تو چھپا کر بتائے تاکہ اس کو ندامت نہ ہو یا دو میں لڑائی ہو اور غصہ والا جوش میں صلح نہیں کرتا تو اول کوئی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 114 لاَ خَیْرَ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰٹہُمْ منافقین کی منفی سرگرمیوں کا ذکر ہے۔ علیحدہ بیٹھ کر سرگوشیاں کرنا ‘ دوسروں کو دیکھ کر مسکرانا اور ساتھ اشارے بھی کرنا تاکہ دیکھنے والے کے دل میں خلجان پیدا ہو کہ میرے بارے میں بات ہو رہی ہے ‘ آج بھی ہماری مجلسوں میں یہ سب کچھ ہوتا ہے۔ یہ سارے معاملات جوں کے توں انسانی معاشرے کے اندر ویسے ہی آج بھی موجود ہیں۔ مگر اللہ کا فرمان ہے کہ اس انداز کی خفیہ سرگوشیوں کا زیادہ حصہ ایسا ہوتا ہے جس میں کوئی خیر نہیں ہوتی۔ اِلاَّ مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلاَحٍم بَیْنَ النَّاسِ ط۔ خیر والی سرگوشی یہ ہوسکتی ہے کہ خاموشی سے کسی کو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

152 کون سے خفیہ مشورے بہتر ہیں ؟ منافق لوگ جو راتوں کو الگ بیٹھ کر مشورے کرتے ہیں۔ وہ بسا اوقات بری باتیں ہی سوچتے ہیں، جو خیر سے خالی ہوتی ہیں۔ کیونکہ بھلائی کی اور صاف ستھری سچی بات کو چھپانے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی البتہ کچھ امور ایسے ہیں جو چھپا کر کرنا بہتر ہوتے ہیں مثلاً کسی کو صدقہ دے تو چھپا کر دے تاکہ لینے والا شرمندہ نہ ہو۔ یا صدقہ دینے کے متعلق الگ مشورہ کرنا بھی اچھا کام ہے۔ اسی طرح بھلائی کے کاموں اور بالخصوص لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے متعلق اگر خفیہ مشورہ بھی کیا جائے تو بھی یہ ایک نیکی کا کام ہے لیکن افسوس ہے کہ یہ لوگ ان امور میں سے تو کسی بات کا مشورہ نہیں کرتے۔ وہ ایسے مشورے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

310 ۔ (اور ان اغراض کے لئے خفیہ گفتگو اور سرگوشی کی ضرورت پڑجائے تو اس میں البتہ کوئی ہرج نہیں۔ ، بلکہ ایسے موقع پر خیروبرکت ہوگی) (آیت) ” نجوھم “۔ میں ضمیر ھم مطلق انسان کی جانب ہے۔ ای نجوی الناس جمیعا (ابن جریر) یعنی کلام الناس (ابن کثیر) المراد لاخیر فی مایتناجی فیہ۔ 311 ۔ (نہ کہ اپنے ذاتی دنیوی اغراض کے لئے) اخلاص نیت اور حصول رضاء الہی کی شرط ہر اہم موقع کے لئے یہاں بھی لگی ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 113–115

آیت نمبر 113 تا 115 ترجمہ : اے محمد اگر آپ کے اوپر اللہ کا فضل اور حفاظت کی مہربانی نہ ہوتی تو (طُعْمَة ابن اُبَْیرق) کی قوم کی ایک جماعت نے آپ کے برحق فیصلہ کرنے سے اشتباہ میں ڈال کر بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھام مگر دراصل یہ لوگ اپنے آپکو گمراہ کررہے ہیں اور یہ لوگ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے مِن، زائدہ ہے، گمراہ کرنے کا وبال خود ان کے اوپر ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب قرآن اور حکمت کہ جس میں احکام ہیں نازل فرمایا اور اپکو وہ احکام اور مغیبات سکھائے کہ جن کو آپ نہیں جانتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کا تیرے اوپر یہ اور اس کے علاوہ کا بڑا بھاری فضل ہے، ان لوگوں کے خفیہ مشوروں میں اکثر کوئی خیر نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا خیر فی کثیر من نجوہم . اور ان کی اکثر سرگوشیوں میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔ نجوی سر (راز) کذا فی القاموس ناجَیْتَہٗمیں نے اس سے پوشیدہ بات کی۔ صاحب صحاح نے لکھا ہے بخوۃ الارضٹیلہ نجویٰاصلاً اسی سے بنا ہے یعنی کسی ٹیلہ پر سب سے الگ تھلگ ہو کر بات کرنا۔ بعض علماء نے کہا یہ لفظ نجات سے بنا ہے ‘ اس وقت نجویٰ کا معنی ہوگا ایسی بات کہنا جس میں اس شخص کی خلاصی اور بچاؤ ہو۔ بغوی نے لکھا ہے نجوی کا معنی ہے پوشیدہ تدبیر کرنا بعض علماء نے کہا ‘ نجویٰ اس تدبیر کو کہتے ہیں جو تنہا کوئی قوم کرتی ہے خواہ علی الاعلان کرے یا چھپ کر۔ آیت وَاَسُّرْوا لنَّجْویٰ الَّذِیْنَ ظلموا سے اسی توضیح کی تائید ہو رہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(114) قوم طعمہ کی سرگوشیوں میں کوئی خیر اور برکت نہیں، البہت جو مساکین کو صدقہ و خیرات دینے یا کسی شخص کو قرض دینے یا طعمہ اور زید بن سمین کے درمیان باہم اصلاح کرنے کی ترغیب کرے تو ایسی صلاح پر مبنی سرگوشیوں کی بھی گنجایش ہے سو جو شخص محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے یہ باتیں کرے تو ہم اس کو جنت میں پورا ثواب دیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَا خَيْرَ فِيْ كَثِيْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىھُمْ۔۔ : ”نَجْوَی“ کچھ لوگوں سے علیحدہ ہو کر صلاح مشورہ کو کہتے ہیں، یہ مصدر ہے اور مبالغہ کے طور پر ”عَدْلٌ“ اور ”رِضًی“ کی طرح جمع پر بھی بولا جاتا ہے۔ اور ”اِلاَّ“ کے بعد ”نَجْوَی“ محذوف ہے، یعنی ”اِلاَّ نَجْوَی مَنْ اَمْرُ بِصَدَقَۃٍ“ یعنی ان کی بہت سی سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں، سوائے اس شخص کی سر گوشی کے جو صدقے کا حکم دے۔ ”بصدقۃ“ صدقہ اس مال کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے کے لیے خرچ کیا جائے۔ یہ اصل میں نفل پر بولا جاتا ہے لیکن بعض اوقات فرض پر بھی بول دیتے ہیں، جیسے : (اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ) [ التوبۃ : 60 ] مقصد یہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 114۔ اس سے مراد بنی ابیرق کی قوم ہے جس نے جو تدبیر کی تھی۔ اور انہوں نے وہ تدبیر نبی مکرم ﷺ سے ذکر کی تھی النجوی دو آدمیوں کے درمیان سرگوشی کرنا ہے، تو کہتا ہے : ناجیت فلانا مناجاۃ ونجاء وھم ینتجون ویتناجون ونجوت فلانا انجوہ نجوا اس کا معنی ہے سرگوشی کرنا، نجوی یہ نجوت الشی سے مشتق ہے یعنی میں نے اسے خاص کیا، میں نے اسے علیحدہ کیا، النجوۃ بلند زمین کو کہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے اردگرد کی زمین سے بلند ہوتی ہے شاعر نے کہا : فمن بنجوتہ کمن بعقوتہ والمستکن کمن یمشی بقرواح (1) (زاد المسیر فی علم التفسیر، جلد 1، صفحہ 119) پس نجوی کا معنی سرگوشی کرنا ہے، یہ مصدر ہے، جماعت کے لیے بھی بولا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لا خیر فی کثیر من نجوہم الا من امر بصدقۃ او معروف او اصلاح بین الناس “ سے مراد ہے کہ جو شخص تیرے پاس آئے اور تجھ سے سرگوشی کرتا ہے اس مسئلہ میں تو اس سے سرگوشی کر اور جو شخص تیرے پاس آئے اور تجھ سے سرگوشی کرتا ہے اس کے علاوہ (کسی دوسرے مسئلہ میں) تو اس سے قطع نظر کر اور اس سے سرگوشی نہ کر۔ (2) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے مقاتل بن حبان (رح) سے روایت کیا کہ ” الا من امر بصدقۃ “ میں معروف سے مراد قرض ہے۔ نیکی کے کام کیلئے مشورہ کرنا باعث اجر ہے (3) ترمذی وابن ماجہ وعبد اللہ بن احمد نے زوائد الزھد میں وابن ابی الدنیا نے الصحت میں وابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ لاَ خَیْرَ : کسی قسم کی کوئی بھلائی نہیں ہے ] [ فِیْ کَثِیْرٍ : اکثر میں ] [ مِّنْ نَّجْوٰٹہُمْ : ان کی سرگوشی میں سے ] [ اِلاَّ : سوائے اس کے کہ ] [ مَنْ : جو ] [ اَمَرَ : ترغیب دے ] [ بِصَدَقَۃٍ : کسی خیرات کی ] [ اَوْ مَعْرُوْفٍ : یا کسی بھلائی کی ] [ اَوْ اِصْلاَحٍ : یا کسی اصلاح کی ] [ بَیْنَ النَّاسِ : لوگوں کے درمیان ] [ وَمَنْ : اور ] [ یَّفْعَلْ : کرے گا ] [ ذٰلِکَ : یہ ] [ ابْتِغَــآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ : اللہ کی رضا چاہنے میں ] [ فَسَوْفَ : تو عنقریب ] [ نُــؤْتِیْـہِ : ہم دیں گے اس کو ] [ اَجْرًا عَظِیْمًا : ایک شاندار بدلہ ] ترکیب :” وَمَنْ “ شرطیہ ہے اور ” یَفْعَلْ “ شرط ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

کون سے مشوروں میں خیر ہے ؟ پھر فرمایا (لَا خَیْرَ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰھُمْ ) یعنی جو لوگ آپس میں مشورے کرتے ہیں ان کے بہت سے مشوروں میں کوئی خیر نہیں کیونکہ یہ مشورے اللہ کی رضا کے خلاف بھی ہوتے ہیں اور ان مشوروں میں احکام اسلامیہ کے خلاف بھی باتیں سوچی جاتی ہیں۔ ہاں ان مشوروں میں اگر کوئی ایسی بات ہو کہ ایک دوسرے کو آپس میں صدقہ دینے کے لیے کہا جائے یا کسی نیک کام کے کرنے کا حکم ہو یا لوگوں کے درمیان صلح کرا دینے کی بات ہو تو یہ مشورے خیر کے مشورے ہوں گے۔ اللہ کی رضا کے لیے جو شخص یہ کام کرے گا اسے اللہ تعالیٰ بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا۔ اس کا تعلق (اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 105–115

حکم بست وہشتم ممانعت از حمایت اہل خیانت۔ قال تعالی۔ انا انزلنا الیک الکتاب بالحق۔۔۔ الی۔۔۔ مصیرا۔ ربط) گزشتہ آیات میں کفار اور منافقین کے معاملات کا ذکر تھا اب آیات میں منافقین کے ایک شرانگیز قصہ کا بیان ہے یہ بتلانا مقصود ہے کہ کافروں پر ظلم کرنا اور بےگناہ پر تہمت اور الزام لگانا جائز نہیں اور خیانت کرنے والے کی حمایت جائز نہیں اگرچہ وہ کلمہ گو ہو مقدمہ کا فیصلہ عدل و انصاف سے ہونا چاہیے۔ شان نزول۔ نبی ﷺ کے زمانہ میں ایک منافق طعمہ بن ابیرق نامی نے ایک انصاری کے گھر میں نقب لگائی اور آٹے کا تھیلا جس میں زرہ وہتھیار رکھے ہوئے تھے چرا کرلے گیا اتفاق سے اس تھیلہ میں ایک سوراخ تھا چور کے گھر تک…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 114–115

82 یہ نویں حکم سلطانی سے متعلق ہے۔ منافقوں نے رات کو منصوبہ بنایا تھا کہ وہ زید بن یاسمین یہودی پر چوری کا الزام لگا دیں اور جھوٹی قسمیں کھا کر طعمہ کو چوری کے الزام سے بری کرنے کی کوشش کریں گے تو فرمایا دوسرے کو نقصان پہنچانے اور جھوٹی گواہی دینے کے لیے مشورے نہیں کرنے چاہئیں۔ اراد ما تفاوض بہ قوم بنی ابیرق من التدبیر (قرطبی ج 5 ص 382) بلکہ مشورے تو دوسروں کو فائدہ پہنچانے، ان پر احسان کرنے اور باہمی اصلاح کی بابت ہونے چاہئیں۔ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذَالِکَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللہِ الخ یہ ان لوگوں کے لیے بشارت اخروی ہے جو محض اللہ کی رضا کے لیے مشورے کریں وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ الخ یہ ان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

گزشتہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کی کارگزاری بیان فرمائی کہ انہوں نے خود چوری کرکے مورد الزام دوسروں کو ٹھہرایا۔ اور حضور ﷺ کو بھی باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ چور نہیں ہیں بلکہ ان پر الزام لگانے والے زیادتی کے مرتکب ہیں۔ انہوں نے برادری کے معززین کے ذریعے حضور نبی کریم ﷺ کے سامنے اپنی صفائی بھی پیش کی مگر اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے ان کی سازش کا پردہ چاک کردیا اور اپنے نبی کو تمام حالات سے آگاہ کردیا۔ اس کے بعد حضور ﷺ کی عصمت کا مسئلہ بھی آگیا کہ اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا تو یہ لوگ آپ کو غلط بات کا طرف دار بنادیتے۔ اللہ نے فرمایا کہ خائن لوگوں کی حمایت نہیں کرنی چاہیے ، اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَا خَيْرَ فِيْ كَثِيْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىھُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍؚ بَيْنَ النَّاسِ۝ 0ۭ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَاۗءَ مَرْضَاتِ اللہِ فَسَوْفَ نُؤْتِيْہِ اَجْرًا عَظِيْمًا۝ 114 لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 114–115

1 ؎ ان تینوں میں نجوٰی اچھا ہے صدقہ میں اس لیے ظاہر کرنے میں یعنی والی کو عار ہوگا نیک نصیحت میں اخفاء اس لیے بہتر ہے کہ ظاہر میں اس کی فضیحت ہے اصلاح باہمی میں اس لیے کہ ظاہر کرنے میں اتار چڑھاؤ اصلاح کے باعث ہیں فوت ہوجاتے ہیں۔ 12

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَاخَیْرَ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰہُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍ م بَیْنَ النَّاسِ ط وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ ابْتِغآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا ” نہیں ہے کوئی بھلائی ان کی اکثر سرگوشیوں میں بجز ان لوگوں کے جو حکم دیں صدقہ دینے کا یا نیک کام کا یا لوگوں کے درمیان صلح کرانے کا۔ اور جو اللہ کی رضا جوئی میں ایسا کریں گے تو ہم ان کو اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔ “ (النسآء : 114) گزشتہ رکوع کی ایک آیت میں فرمایا تھا کہ چور کی حمایت کرنے والے دراصل منافق ہیں اور یہ راتوں کو چھپ چھپ کر ایسی باتوں کے مشورے کرتے ہیں جنھیں اللہ پسند نہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کے کردار کے مختلف پہلوبیان کرنے کے ساتھ ان کی مجالس میں ہونی والی سازشوں کو طشت ازبام کیا ہے۔ برے لوگوں کی مجالس بھی اکثر طور پر بری ہی ہوا کرتی ہیں۔ خاص کر ان کی خفیہ مجالس کبھی شر سے خالی نہیں ہوا کرتیں۔ ایسے لوگ برائی، بےحیائی، چوری چکاری، سازش اور شرارت کے لیے ہی سوچ و بچار کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس قسم کے لوگوں کی مجلس کو لوہار کی بھٹی کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ (عَنْ أَبِيْ مُوْسٰی ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ مَثَلُ الْجَلِیْسِ الصَّالِحِِ وَالسُّوْءِ کَحَامِلِ الْمِسْکِ وَنَافِخِ الْکِیْرِ فَحَامِلُ الْمِسْکِ إِمَّآ أَنْ یُّحْذِیَکَ وَإِمَّآ أَنْ تَبْتَاعَ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 114 : لَا خَیْرَ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰہُمْ (ان کی اکثر سرگوشیوں میں کوئی بھلائی نہیں) ہُمْ سے مراد لوگ اِلاَّ مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ (مگر وہ سرگوشی جو صدقہ کی کی جائے) ۔ نحوی تحقیق : نحو : نمبر 1۔ کثیر مبدل منہ اور مَنْ اَمَرَ بدل مجرور ہے۔ نمبر 2: یا نجواہم مبدل منہ اور مَنْ اَمَرَ بدل۔ نمبر 3: مستثنیٰ منقطع کی وجہ سے منصوب ہے۔ الا بمعنی لکن ای من امر بصدقۃٍ ففی نجواہ الخیر۔ (اِلاَّ کو غیر کے معنی میں لینا زیادہ بہتر ہے گویا الا وصفی ہے۔ فتدبر) نیکی وہ جو شہرت سے بچ جائے : اَوْ مَعْرُوْفٍ (یا کسی نیک کام کا) جیسے نمبر 1۔ قرض۔ نمبر 2۔ مظلوم کی داد رسی۔ نمبر 3۔ ہر اچھائی۔ صدقہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

114۔ (آیت)” لا خیر فی کثیر من نجواھم “۔ اس سے مراد طعمہ کی قوم ہے اور مجاہد (رح) کا قول ہے کہ یہ آیت تمام انسانوں کے حق میں عام ہے ، نجوی کہتے ہیں کہ کسی کام کی تدبیر کو پوشیدہ رکھنا اور بعض نے کہا کہ نجوی یہاں پر یہ ہے بہت سارے لوگ آپس میں اس بارے میں سرگوشیاں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” واذھم نجوی الا من امر بصدقۃ “ بعض نے کہا کہ یہ استثناء منقطع ہے یعنی وہ شخص جو ان کو صدقہ کرنے پر ابھارے ، (آیت)” اومعروف “ اللہ کی اطاعت میں اور جو کچھ انہوں نے شریعت سے حاصل کیا ، نیک اعمال سارے کے سارے معروف میں داخل ہیں کیونکہ عقلیں اس کو جانتی ہیں ۔ (آیت)” اواصلاح بین الناس “ حضرت ام درداء ؓ سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 114–115

(114 ۔ 115) ۔ طعمہ کی قوم کے لوگوں نے آپس میں رات کو اس جھوٹی گواہی کا مشورہ کیا جس کا ذکر اوپر گذرا۔ اور صبح کو وہ جھوٹی گواہی آنحضرت ﷺ کے رو برو ادا کی اور پھر اوپر کی آیتوں کے نازل ہوجانے کے بعد جب طعمہ کی چوری کا حال کھل گیا۔ تو وہ اپنے ہاتھ کے کاٹے جانے کی سزا سے ڈر کر مدینہ سے مکہ کو بھاگ گیا۔ اور وہاں مرتد ہو کر مرگیا۔ ان ہی باتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ طعمہ کی قوم کی طرح جو کوئی خلاف شریعت باتوں کا مشورہ کرے تو اس طرح کے مشوروں میں کچھ بھلائی بلکہ اس طرح کے مشوروں میں آدمی کے دین کا نقصان ہے ہاں دین کے فائدہ کے مشورہ یہ ہیں۔ کہ کسی کو صدقہ خیرات کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 114 یعنی بہت سی ایسی سرگوشیاں جو لوگ آپس میں کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے ہیں ان میں کوئی بھلائی نہیں اور جس کلام میں کوئی بھلائی نہ ہو تو وہ یا تو بےفائدہ کلام ہوتا ہے مثلاً فضول مگر مباح بات چیت، یا وہ محض شر ہوتا ہے مثلاً محرم کلام کی تمام اقسام، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے استثنا بیان کرتے ہوئے فرمایا : (الامن امر بصدقۃ) ” ہاں وہ شخص جو صدقہ کا حکم دے۔ “ یعنی اس میں سے وہ شخص مستثنیٰ ہے جو مال، علم یا کسی اور منفعت میں صدقہ کا حکم دیتا ہے۔ بلکہ شاید بعض چھوٹی عبادات بھی اس زمرے میں شمار ہوتی ہیں، مثلاً تسبیح وتحمید وغیرہ۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :” ہر تسبیح صدقہ ہے، ہر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے ( لاخیر فی کثیر من نجواھم الا من امربصد قۃ اذ معروف او اصلاح بین الناس۔ لوگوں کی خفیہ سرگوشیوں میں اکثر و بیشتر کوئی بھلائی نہیں ہوتی ۔ ہاں اگر کوئی پوشیدہ طورپر صدقہ و خیرات کی تلقین کرے یا کسی نیک کام کے لیے یا لوگوں کے معاملات میں اصلا کرنے کے لیے کسی سے کچھ کہے تو البتہ بھلی بات ہے) ۔ اہل لغت کا قول ہے کہ نجویٰ اسرار یعنی خفیہ سرگوشی کو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ لوگوں کی خفیہ سرگوشیوں میں اکثر و بیشتر کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔ البتہ صدقہ و خیرات کرنے کے لیے کوئی شخص کسی کو خفیہ طور پر تلقین کرے یا نیکی کرنے کا حکم دے یا لوگوں کے درمیان معاملات کی اصلاح کے لیے خفیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

295 لوگوں کی اکثر سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کوئی خیر نہیں لوگوں کی اکثر سرگوشیوں میں۔ کیونکہ اگر یہ کوئی خیر کا کام ہوتا تو اس کو چھپانے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ اس کو تو ایسے لوگ ظاہر کر کے کرتے جیسا کہ عام انسانوں کا وطیرہ اور فطرت ہے۔ البتہ بعض اوقات ریاء وغیرہ کے خدشے سے انسان کچھ نیک کام بھی چھپا کر کرتا ہے۔ اس لئے یہاں سب مشوروں اور سرگوشیوں کے بارے میں { لا خیر } کا حکم نہیں لگایا گیا۔ بلکہ { فِیْ کَثِیْرٍ } کی قید لگا کر اکثر مشوروں کے بارے میں یہ حکم بیان فرمایا گیا ہے۔ نیز آگے { اِلَا مَنْ اَمََرَبِصَدَقَۃٍ } سے تین بڑے نیک کاموں کا استثناء بھی فرما دیا گیا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 114–115

سرگوشی کی برائی، رسول ﷺ کی مخالفت کی سزا تشریح : ان آیات میں بھی اخلاقی اصول بتائے گئے ہیں جو کہ آپس میں مشوروں اور مجلس کے آداب کے متعلق ہیں۔ یہاں صاف طور پر منع کیا گیا ہے کہ کسی مجلس میں بیٹھ کر سرگوشی کرنا ایک طرح سے فساد اور بدگمانی پھیلانے والا کام ہے۔ کیونکہ اس طرح اردگرد کے لوگ خواہ مخواہ سوچ میں پڑ سکتے ہیں کہ ہوسکتا ہے ہمارے خلاف ہی بات ہو رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔ تو اس عمل کی اجازت صرف اس صورت میں دی گئی ہے کہ کسی ایسے نیک کام کے لیے سرگوشی کی جائے جو کہ اونچی آواز سے کہنے سے دوسروں کے لیے شرمندگی یا بےعزتی کا باعث بن سکتی ہو، مثلاً : کسی ضرورت مند کو کچھ دینا، کسی کو صدقہ دینا، کسی کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 113–115

رکوع نمبر 17 ۔ آیات 113 تا 115 ۔ اسرار و معارف : ولولا۔۔۔۔۔ وساءت مصیرا۔ اور اے میرے حبیب (ﷺ) اگر آپ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی جو ہر حال میں اور ہر آن آپ کو نصیب ہے تو ان منافقین میں تو ایک ٹولہ یہ سوچ بھی رکھتا ہے کہ معاذ اللہ آپ کو گمراہ کردے اور اللہ کا دین چھڑوا کر رسومات اور بدعات میں مبتلا کردے۔ لیکن آپ تو مجسمہ رحمت ہیں آپ تو نہ صرف اللہ کا فضل و احسان پانے والے ہیں بلکہ بانٹنے والے ہیں اس لیے آپ سے ٹکرا کر اپنی پیشانی کو توڑ لیتے ہیں۔ خود گمراہ ہو رہے ہیں۔ یہاں سے جان لیا جائے کہ شیخ اگر کامل نہ ہوا تو بدعات کا شکار ہوجائیگا۔ اور خوشامدی اپنی لذت کے حصول کے لیے اسے گمراہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 نجو یٰ دوسروں سے علیحدٰ ہو کر صلا و مشورہ کرنے کو کہتے ہیں یہ مصدر ہے اور مبالغہ کے طور پر عدل ورضی کی طرح جمع پر بولا جاتا ہے اور الا کے بعد نجو یٰ مخذوف ہے ن ای الا نجویٰ ج من امر بصد قتہ الخ3 معررو کا لفظ جمیع اعمال خیر کو شامل ہے حتی ٰ کہ کہ کسی کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا بھی معروف میں داخل ہے۔ حدیث میں ہے ولو ان تلقی اخاک بو۔ حہ طلق اور اصلا بین الناس کا لفظ مسلمانو کے درمیان ہر قسم کے اختلافات ختم کرنے کو شامل ہے حدیث میں ہے جس نے دو مسلمانوں میں صلح کر ادی ہے اس کے لئے آگ سے براۃ لکھی جاتی ہے ( قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:114) نجوہم۔ اسم نکرہ۔ سرگوشی۔ سرگوشی کرنے والے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب ۔ مضاف مضاف الیہ۔ واحد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس کا مادہ ن ج و ہے۔ النجوۃ۔ بلند جگہ۔ جگہ جو بلندی کی وجہ سے اپنے ماحول سے الگ معلوم ہو۔ نجوۃ۔ کسی کو علیحدہ بلند مقام پر چھوڑنے کے بھی ہیں۔ ناجیتہ کے معنی سرگوشی کرنے کے ہیں۔ یا اپنے بھید کو دوسروں پر افشاء ہونے سے بچانے کے ہیں۔ اس سے استنجاء ہے۔ استبجاء کرنے اور رفع حاجت کے لئے علیحدہ جگہ تلاش کرنا۔ گویا ہر صورت میں علیحدگی اور خلوت کا مفہوم غالب ہے۔ لاخیر فی کثیر من نجوھم۔ ان کے اکثر خفیہ مشورے خیر سے خالی ہوتے ہیں۔ الا ۔۔ بین الناس۔ ہاں وہ جو (ایسے مشوروں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 114–115

آیت نمبر 114-115 لغات القرآن : نجوی، سرگوشی، کان میں باتیں کرنا۔ مرضات اللہ، اللہ کی رضا و خوشنودی۔ یشاقق، نافرمانی کرے گا، مخالفت کرے گا۔ یتبع، اتباع کرے گا۔ نولہ، ہم پھر دیں گے اس کو۔ نصلہ، ہم اس کو ڈالیں گے۔ تشریح : ان آیات کا تعلق بھی اوپر والے واقعہ سے ہوسکتا ہے کیونکہ مجرم بشر نے خفیہ سرگوشیوں اور باہمی مشوروں کے ذریعہ ہی اپنے قبیلہ والوں کو اپنے حق میں اکسایا تھا۔ اور جب وحی الٰہی نے آکر اس کی چوری کھول دی تو وہ بھاگ کر مکہ چلا گیا اور مرتد ہوگیا اور کافروں سے مل کر نبی کریم ﷺ کی مخالفت میں لگا رہا۔ پھر وہ مرتد کافر اور مخالف رسول ﷺ ہوکر مرا۔ سرگوشیاں نیک کام کیلئے بھی ہوسکتی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 114–115

شان نزول : طعمہ کی قوم کے لوگوں نے آپس میں رات کو اس جھوٹی گواہی کا مشورہ کیا جس کا ذکر اوپر گزرا اور صبح کو وہ جھوٹی گواہی آنحضرت ﷺ کے روبرو ادا کی، اور پھر اوپر کی آیتوں کے نازل ہوجانے کے بعد جب طعمہ کی چوری کا حال کھل گیا تو وہ اپنے ہاتھ کاٹے جانے کی سزا سے ڈر کر مدینہ سے مکہ کو بھاگ گیا اور وہاں مرتد ہوکر مرگیا۔ ان ہی باتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ طعمہ کی قوم کی طرح جو کوئی خلاف شریعت باتوں کا مشورہ کرے تو اس طرح کے مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں بکلہ دین کا نقصان ہے۔ ہان دین کے فائدے کے مشورے یہ ہیں کہ کسی کو صدقہ خیرات کا یا شریعت میں اور نیک کام جو ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 113–114

[74] یعنی یہ لوگ اگر اصل مجرم کی حمایت کر کے آپ کو غلط فہمی میں مبتلا کردیتے اور اپنے حق میں غلط فیصلہ حاصل کرلیتے تو وہ خود اپنے آپ کو اس غلط فہمی میں مبتلا کرلیتے کہ حق ان کے ساتھ ہوگیا حالانکہ حاکم عدالت کا کسی غلط فہمی کی بنا پر فیصلہ کردینے سے حقیقت نہیں بدل جاتی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) اس آیت میں منافقانہ سرگرمیوں سے روکا ہے منافقین کا قاعدہ یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ حیلے اور تدبیریں سوچتے رہتے ، قرآن حکیم نے فرمایا کوئی اہم نیکی کی بات ہو تو اس کے اخفا میں مضائقہ نہیں اور نہ عام سرگوشیاں اور کانا پھوسیاں ممنوع ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 عام لوگوں کے باہمی مشوروں اور سرگوشیوں میں بسا اوقات بھلائی اور خیر و برکت نہیں ہوتی۔ مگر ہاں ان لوگوں کے باہمی مشورے اور سرگوشیاں ہیں جو صدقہ اور خیر خیرات کی تعلیم و ترغیب دیں یا کسی اور نیک و مستحسن کام کی تعلیم و ترغیب دیں یا لوگوں کے مابین اصلاح و صلح و صفائی کرانے کی ترغیب دیں اور جو شخص محض اللہ تعالیٰکی رضا جوئی اور خوشنودی کی غرض سے ان کاموں کی ترغیب دے گا اور ان کاموں کو کرے گا تو ہم اس کو عنقریب بہت بڑا اجر وصلہ عطا فرمائیں گے۔ (تیسیر) نجوی زمین کے اس حصہ کو کہتے ہیں جو قطعہ بلند ہو یعنی پست اور ہموار زمین میں جو حصہ اونچا ہو اس کو نجوی کہتے یں لیکن اب بھید کو بولتے ہیں دو یا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 114–115

ف 3۔ نیک کام میں جو کہ معروف کا ترجمہ ہے وہ تمام امور آگئے جو نافع ہوں خواہ دینی ہو یا دنیوی مگر مشروع ہوں اور گو اس میں صدقہ بھی داخل تھا لیکن نفس پر شاق ہونے کی وجہ سے اس کا زیادہ اہتمام فرمایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پوشیدہ مشورے کرنے والوں کے مشوروں میں بھلائی کم ہی ہوا کرتی ہے 188: نجویٰ دراصل نجاۃ ہی سے ہے اور یہ خفیہ طور پر مشورہ کرنے کے معنوں میں بولا جاتا ہے ۔ نجویٰ فی نفسہ بری چیز نہیں ۔ وہ مزموم کیوں ہیَ ؟ ہر نجویٰ مذموم بھی نہیں ہاں ! منافقین جب کوئی خفیہ مشورہ کریں گے تو خود وہ ان کے مزاج کے باعث برا ہوگا کیونکہ ان کی باتوں میں اکثر خیر نہیں ہوتی جب وہ کوئی سوچ سوچیں گے کوئی مشورہ کریں گے تو اس میں بھلائی کیونکر ہوگی ؟ اور ایسامشورہ مسلمانوں اور خصوصا آپ ﷺ کی موجودگی میں آپ ﷺ ہی سے چھپ کر آخر کیسے ہوگا ؟ کیا وہ لوگ آپ ﷺ سے زیادہ زیرک ہیں کہ آپ ﷺ سے پوشیدہ کوئی بات کریں گے ۔ اس لئے فرمایا ان کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Sequence Moving from the episode of theft and the conspiracies made to cover up the crime by false accusations against others, the text now highlights positive things that can be done through mutual consultation and which could help one to remain obedient to the Messenger's teachings and the command of Allah without ever trying to go against the ideal path taken by those who believe in Allah and His Messenger. Commentary In the first part of the verse لَّا خَيْرَ‌ فِي كَثِيرٍ‌ مِّن نَّجْوَاهُمْ translated as 'there is no good in most of their whisperings..', it has been declared that most…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 113–114

142. Even if some people succeeded in their design to obtain from the Prophet (peace be on him) a wrong judgement in their favour by presenting a false account of events, the real loss would have been theirs rather than the Prophet's (peace be on him). For the real criminals in the sight of God are the perpetrators of that fraud and not the Prophet (peace be on him) who might in good faith have delivered a verdict that actually did not conform to the facts. Whoever obtains a judgement in his favour by tricking the courts deludes himself into believing that by such tricks he can bring right to…

Read the full tafseer →