Explained with ayahs 110–113
سچی توبہ کبھی مسترد نہیں ہوتی
اللہ تعالیٰ اپنا کرم اور اپنی مہربانی کو بیان فرماتا ہے کہ جس گناہ سے جو کوئی توبہ کرے اللہ اس کی طرف مہربانی سے رجوع کرتا ہے، ہر وہ شخص جو رب کی طرف جھکے رب اپنی مہربانی سے اور اپنی وسعت رحمت سے اسے ڈھانپ لیتا ہے اور اس کے صغیرہ کبیرہ گناہ کو بخشش دیتا ہے، چاہے وہ گناہ آسمان و زمین اور پہاڑوں سے بھی بڑے ہوں، بنو اسرائیل میں جب کوئی گناہ کرتا تو اس کے دروازے پر قدرتی حروف میں کفارہ لکھا ہوا نظر آجاتا جو اسے ادا کرنا پڑتا اور انہیں یہ بھی حکم تھا کہ ان کے کپڑے پر اگر پیشاب لگ جائے تو اتنا کپڑا کتروا ڈالیں اللہ نے اس امت پر آسانی کردی پانی سے دھو لینا ہی کپڑے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
سورة النِّسَآء 142
یعنی اگر وہ غلط روداد پیش کر کے تمہیں غلط فہمی میں مبتلا کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتے اور اپنے حق میں انصاف کے خلاف فیصلہ حاصل کرلیتے تو نقصان انہی کا تھا، تمہارا کچھ بھی نہ بگڑتا۔ کیونکہ خدا کے نزدیک مجرم وہ ہوتے نہ کہ تم۔ جو شخص حاکم کو دھوکہ دے کر اپنے حق میں فیصلہ کرتا ہے وہ دراصل خود اپنے آپ کو اس غلط فہمی میں مبتلا کرتا ہے کہ ان تدبیروں سے حق اس کے ساتھ ہوگیا، حالانکہ فی الواقع اللہ کے نزدیک حق جس کا ہے اسی کا رہتا ہے اور فریب خوردہ حاکم کے فیصلہ سے حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ (ملاحظہ ہو سورة بقرہ 197)۔
Read the full tafseer →نویں آیت (یعنی نمبر 311) میں جو آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا گیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحمت آپ کے ساتھ نہ ہوئی جس نے بذریعہ وحی آپ کو واقعہ کی حقیقت بتلا دی تو یہ لوگ آپ کو غلطی میں مبتلا کردیتے، مگر چونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل و رحمت آپ کے ساتھ ہے، اس لئے وہ ہرگز آپ کو غلطی میں نہیں ڈال سکتے، بلکہ خود ہی گمراہی میں مبتلا ہوتے ہیں اور آپ کو یہ ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچاسکتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور دانشمندی کی باتیں نازل فرمائی ہیں جن کو آپ نہیں جانتے تھے۔
قرآن و سنت کی حقیقت۔
آیت نمبر 311 یعنی وانزل اللہ علیک الکتب والحکمة وعلمک مالم تکن تعلم الخ میں کتاب کے ساتھ حکمت کو…
Read the full tafseer →وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْھُمْ اَنْ يُّضِلُّوْكَ ۭوَمَا يُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَيْءٍ ۭ وَاَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ ۭ وَكَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ عَظِيْمًا
یہ پیغمبر ﷺ کی طرف التفات اور آپ کے واسطے سے مسلمانوں کو تنبیہ ہے کہ یہ اللہ کا تمہارے اوپر خاص فضل و احسان ہے کہ تم ان منافقین کے شر سے محفوظ رہے ورنہ ان کی ایک جماعت کی تو رات دن کوشش اور سازش یہی ہے کہ تمہیں راہ سے بےراہ کرکے رہے لیکن اللہ نے اپنے فضلِ خاص سے تمہیں کتاب و حکمت کی جو روشنی…
Read the full tafseer →113۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ کی اس خاص حفاظت و نگرانی کا ذکر ہے جس کا اہتمام انبیاء (علیہم السلام) کے لئے فرمایا ہے جو انبیاء پر اللہ کے فضل خاص اور اس کی رحمت خاصہ کا مظہر ہے طائفہ (جماعت) سے مراد وہ لوگ ہیں جو بنو ابیرق کی حمایت میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ان کی صفائی پیش کر رہے تھے جس سے یہ اندیشہ پیدا ہو چلا تھا کہ نبی ﷺ اس شخص کو چوری کے الزام سے بری کردیں گے، جو فی الواقع چور تھا۔
113۔ 2 یہ دوسرے فضل واحسان کا تذکرہ ہے جو آپ ﷺ پر کتاب وحکمت (سنت) نازل فرما کر اور ضروری باتوں کا حکم دے کر فرمایا گیا جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا (وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا ۭ مَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
67: اس سے بشر اور اس کے حمایتی مراد ہیں جو یہ چاہتے تھے کہ یہودی کو بےگناہ سزا دلوا دیں
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 113۔
یہ کوشش ان مختلف النوع کوششوں میں سے ایک ہے جو رسول اللہ ﷺ کے دشمن اسلام کے خلاف کر رہے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ حضور اکرم ﷺ کو سچائی انصاف اور صراط مستقیم سے بدراہ کردیں لیکن اللہ کا فضل وکرم ہمیشہ آپ کے شامل حال رہتا اور آپ کو اللہ بچا لیتے اور جو لوگ سازشیں کرتے وہ خود سازش کا شکار ہوجاتے اور خود ہی گمراہ ہوتے ۔ اور سیرت الرسول ﷺ میں اس قسم کے بیشمار واقعات موجود ہیں کہ سازشوں نے سازش کی اور اللہ نے ان کی سازش کو ناکام بنا دیا اور ان کی کوششیں ناکام ہوگئیں ۔ اللہ تعالیٰ یہاں حضور کو اطمینان دلاتے ہیں کہ اس کا فضل اور رحمت رسول اللہ کے شامل حال رہے گی اور وہ انہیں کوئی…
Read the full tafseer →4 اس میں خطاب ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی طرف اور اظہار ہے ان خائنوں کے فریب کا اور بیان ہے آپ کی عظمت شان اور عصمت کا اور اس کا کہ آپ کمال علمی میں جو کہ تمام کمالات سے افضل اور اول ہے سب سے فائق ہیں اور اللہ کا فضل آپ پر بےنہایت ہے جو ہمارے بیان اور ہماری سمجھ میں نہیں آسکتا اور اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ آپ کو جو چور کی براءت کا خیال ہوا تھا وہ ظاہرحال کو دیکھ کر اوراقوال و شہادات کو سن کر اور اس کو سچ سمجھ کر ہوگیا تھا میلان عن الحق یا مداہنت فی الحق ہرگز ہرگز اس کا باعث نہ تھا اور اتنی بات میں کچھ برائی نہ تھی بلکہ یہی ہونا ضروری تھا۔ جب اللہ تعالیٰ کے فضل سے حقیقت…
Read the full tafseer →آیت 113 وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ وَرَحْمَتُہٗ لَہَمَّتْ طَّآءِفَۃٌ مِّنْہُمْ اَنْ یُّضِلُّوْکَ ط۔
وہ لوگ تو اس پر کمر بستہ تھے کہ آپ ﷺ کو غلط فہمی میں مبتلا کر کے آپ ﷺ سے غلط فیصلہ کروائیں ‘ عدالت محمدی ﷺ سے ظلم پر مبنی فیصلہ صادر ہوجائے ‘ گنا ہگار چھوٹ جائے اور جو اصل مجرم نہیں تھا ‘ بالکل بےگناہ تھا ‘ اس کو پکڑلیا جائے۔
وَمَا یُضِلُّوْنَ الاّآ اَنْفُسَہُمْ وَمَا یَضُرُّوْنَکَ مِنْ شَیْءٍ ط۔
ہم ایسے مواقع پر بر وقت آپ ﷺ کو مطلع کرتے رہیں گے۔
Read the full tafseer →151 آپ پر اللہ نے بہت بڑا فضل کیا تھا :۔ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت یہ تھی کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو اصل صورت حال سے بذریعہ وحی مطلع فرما دیا۔ ورنہ اس کے نتائج صرف یہی نہ تھے کہ مجرم بچ جاتا اور ایک بےقصور مجرم قرار پاتا بلکہ اس کے نتائج بڑے دوررس تھے جو عوام الناس کی نظروں میں مسلمانوں کی ساکھ اور ان کے کردار کو مجروح بنا سکتے تھے، ایسے لوگ جو آپ کو بہکا کر اپنے حق میں فیصلہ کرانا چاہتے تھے اپنی ہی عاقبت خراب کر رہے تھے۔ اس سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اور اللہ کے ہاں مجرم وہ تھے نہ کہ آپ
خ مقدمہ میں چالاکی سے دوسرے کا مال ہتھیانا :۔ جو شخص کسی حاکم کو دھوکہ دے کر اپنے حق میں…
Read the full tafseer →307 ۔ یعنی اپنی اس ناپاک کوشش میں کامیاب ہونا تو ان کے لئے ممکن نہیں۔ البتہ اس سعی سے اپنے ہی کو یہ مستحق عقوبت بنا رہے ہیں۔ (آیت) ” لولا فضل اللہ علیک روحمتہ “۔ اللہ کا فضل وکرم تو آپ ﷺ پر عموما اور ہر حال میں تھا لیکن اس خاص قضیہ میں خصوصیت کے ساتھ اس کا ظہور رہا۔ (آیت) ” ان یضلوک “۔ یعنی آپ کو غلطی اور دھوکے میں مبتلا کرکے آپ سے غلط فیصلہ حاصل کرلیں۔ ان یخطؤک عن الحکم (ابن عباس ؓ ای بان یضلوک عن القضاء بالحق (روح)
308 ۔ (احکام دین وقضا یا کے باب میں) یعنی شیطان اور اس کے چیلوں (منافقین) کو یہ قوت نہیں دی گئی ہے کہ وہ آپ ﷺ کو دین کے کسی شعبہ میں کچھ بھی مغالطہ میں ڈال سکیں۔
309 ۔ یہ کتاب کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
آیت نمبر 113 تا 115
ترجمہ : اے محمد اگر آپ کے اوپر اللہ کا فضل اور حفاظت کی مہربانی نہ ہوتی تو (طُعْمَة ابن اُبَْیرق) کی قوم کی ایک جماعت نے آپ کے برحق فیصلہ کرنے سے اشتباہ میں ڈال کر بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھام مگر دراصل یہ لوگ اپنے آپکو گمراہ کررہے ہیں اور یہ لوگ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے مِن، زائدہ ہے، گمراہ کرنے کا وبال خود ان کے اوپر ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب قرآن اور حکمت کہ جس میں احکام ہیں نازل فرمایا اور اپکو وہ احکام اور مغیبات سکھائے کہ جن کو آپ نہیں جانتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کا تیرے اوپر یہ اور اس کے علاوہ کا بڑا بھاری فضل ہے، ان لوگوں کے خفیہ مشوروں میں اکثر کوئی خیر نہیں…
Read the full tafseer →ولو لا فضل اللہ علیک ورحمتہ . اور اگر آپ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی یہ رسول اللہ ﷺ : کو خطاب ہے۔ فضل سے مراد ہے اللہ کی طرف سے حفاظت اور رحمت سے مراد مہربانی حفاظت و مہربانی کی صورت یہ ہوئی کہ ابن ابیرق کی قوم کے اندرونی رازوں سے رسول اللہ ﷺ : کو واقف بنادیا۔
لہمت طآئفۃ منہم ان یضلوک . تو ان کا ایک گروہ (یعنی بنی ظفر) تو آپ کو بھٹکا دینے کا قصد کر ہی چکا تھا ( یقیناً آپ بھٹک جاتے) یعنی دروغ بافی کر کے انہوں نے غلط فیصلہ کرانے کا ارادہ کرلیا تھا اور معاملہ میں اشتباہ پیدا کردیا تھا یہاں تک کہ آپ ابن ابیرق کی پیروکاری کرنے لگے تھے۔
جملہ لَہَمَّتْ ۔ لَوْلاَکا جواب ہے۔ اس سے مقصود یہ…
Read the full tafseer →(113) اور اگر آپ ﷺ پر نبوت اور جبریل امین ؑ کو آپ کے پاس بھیج کر اللہ کی طرف سے فضل اور رحمت نہ ہوتی تو طعمہ کی قوم نے تو آپ کو صحیح حکم سے غلطی میں ڈالنے کا ارادہ کرلیا تھا۔
لیکن اس کا نقصان اسی پر ہے جو جھوٹی گواہی دے اور ہم نے آپ ﷺ پر بذریعہ جبریل امین ؑ قرآن کریم نازل کیا، جس میں حلال و حرام اور تمام فیصلوں کو بیان کردیا ہے اور آپ کو بذریعہ قرآن حکیم ان احکام وحدود سے آگاہ کیا جن سے آپ نزول قرآن سے پہلے آگاہ نہ تھے اور نبوت کی وجہ سے آپ پر بڑا فضل ربی ہے۔
Read the full tafseer →وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ۔ : اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت آپ پر یہ تھی کہ آپ کو وحی کے ذریعے سے اصل واقع کی حقیقت سے آگاہ کردیا۔ ورنہ وہ طائفہ جو بنو ابیرق کا حامی تھا، آپ کو قائل کر کے انھیں بری کرانے ہی والا تھا، اس کا نتیجہ صرف یہی نہ تھا کہ ایک مجرم بچ جاتا اور ایک بےگناہ مجرم بن جاتا، بلکہ اس کے نتائج بہت دور رس تھے، جس سے مسلمانوں کی ساکھ اور کردار مجروح ہوجاتا۔ فرمایا ایسے لوگ درحقیقت اپنی عاقبت برباد کر کے اپنا ہی نقصان کر رہے تھے، آپ کا محافظ خود اللہ تعالیٰ تھا، آپ کو وہ نہ دھوکا دے سکتے تھے نہ آپ کا کچھ نقصان کرسکتے تھے۔
وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ ۭ : یعنی آپ کو وحی…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 113۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولولا فضل اللہ علیک ورحمۃ “۔ لولا کے بعد سیبویہ کے نزدیک مبتدا مرفوع ہوتا ہے اور خبر محذوف ہوتی ہے ظاہر نہیں ہوتی معنی یہ ہے کہ اگر آپ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی کہ ہم نے تجھے حق پر آگاہ کیا، بعض نے فرمایا : نبوت اور عصمت عطا کرکے رحمت وضل نہ کیا جاتا تو ایک گروہ نے تجھے حق سے ہٹانے کا قصد کرلیا تھا، کیونکہ سوال انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہ ابن ابیرق کو تہمت سے بری کردیں اور وہ تہمت یہودی پر ڈال دیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول مکرم ﷺ پر فضل فرمایا کہ انہیں اس واقعہ کی حقیقت پر آگاہ فرمایا اور اس کا علم عطا فرمایا : (آیت) ” وما یضلون الا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–113
(1) ترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وحاکم (نے اس کو صحیح کہا) قتادہ بن نعمان ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے خاندان کے لوگ تھے جن کو بنو ابیرق کہا جاتا تھا (یہ تین بھائی تھے) بشر بشیر، مبشر، بشیر منافق تھا اشعار کہتا تھا جس میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی ہجو کرتا اور شعروں کی نسبت کسی عرب کی طرف کردیتا تھا اور کہتا تھا کہ فلاں نے ایسا اور ایسا کہا اور جب رسول اللہ ﷺ کے اصحاب یہ شعر سنتے تھے تو کہتے اللہ کی قسم ! کہ یہ شعر اسی خبیث نے کہے ہیں اس نے کہا جب بھی لوگ قصیدہ کہیں تو کہہ دین کہ ابن ابیرق نے کہا یہ لوگ جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں میں تنگ دست تھے ( اس زمانہ میں) اہل مدینہ…
Read the full tafseer →[ وَلَوْلاَ : اور اگر نہ ہوتا ] [ فَضْلُ اللّٰہِ : اللہ کا فضل ] [ عَلَیْکَ : آپ ﷺ پر ] [ وَرَحْمَتُـہٗ : اور اس کی رحمت ] [ لَہَمَّتْ : تو ارادہ کیا تھا ] [ طَّـآئِفَۃٌ : ایک گروہ نے ] [ مِّنْہُمْ : ان میں سے ] [ اَنْ : کہ ] [ یُّضِلُّوْکَ : وہ بہکادیں آپ ﷺ کو ] [ وَمَا یُضِلُّوْنَ : اور وہ نہیں بہکاتے ہیں ] [ اِلَّآ : مگر ] [ اَنْفُسَہُمْ : اپنے آپ کو ] [ وَمَا یَضُرُّوْنَکَ : اور وہ نہیں نقصان کرتے آپ ؐ کا ] [ مِنْ شَیْئٍ : کچھ بھی ] [ وَاَنْزَلَ : اور اتارا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ عَلَـیْکَ : آپ ﷺ پر ] [ الْکِتٰبَ : اس کتاب کو ] [ وَالْحِکْمَۃَ : اور حکمت کو ] [ وَعَلَّمَکَ : اور سکھایا…
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ وَ رَحْمَتُہٗ لَھَمَّتْ طَّآءِفَۃٌ مِّنْھُمْ اَنْ یُّضِلُّوْکَ ) اس میں آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت آپ کے ساتھ نہ ہوتی جس نے بذریعہ وحی آپ کو حقیقت حال سے باخبر فرمادیا تو کچھ لوگ یہ ارادہ کر ہی چکے تھے کہ آپ کو غلطی میں مبتلا کردیں۔ ان لوگوں نے جو کچھ کیا اس کے ذریعہ خود ہی راہ حق سے ہٹے، یہ لوگ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور آپ کو وہ چیزیں بتائیں جنہیں آپ نہیں جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا بڑا فضل ہے۔
فائدہ : یہ جو فرمایا (لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بَمَآ اَرٰکَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–115
حکم بست وہشتم ممانعت از حمایت اہل خیانت۔
قال تعالی۔ انا انزلنا الیک الکتاب بالحق۔۔۔ الی۔۔۔ مصیرا۔
ربط) گزشتہ آیات میں کفار اور منافقین کے معاملات کا ذکر تھا اب آیات میں منافقین کے ایک شرانگیز قصہ کا بیان ہے یہ بتلانا مقصود ہے کہ کافروں پر ظلم کرنا اور بےگناہ پر تہمت اور الزام لگانا جائز نہیں اور خیانت کرنے والے کی حمایت جائز نہیں اگرچہ وہ کلمہ گو ہو مقدمہ کا فیصلہ عدل و انصاف سے ہونا چاہیے۔
شان نزول۔
نبی ﷺ کے زمانہ میں ایک منافق طعمہ بن ابیرق نامی نے ایک انصاری کے گھر میں نقب لگائی اور آٹے کا تھیلا جس میں زرہ وہتھیار رکھے ہوئے تھے چرا کرلے گیا اتفاق سے اس تھیلہ میں ایک سوراخ تھا چور کے گھر تک…
Read the full tafseer →81 چوری کی یہ مذکورہ واردات جس کی حقیقت سے آپ آگاہ نہیں تھے جس کے اصل چور کا آپ کو علم نہیں تھا اور جس میں چور کے رشتہ داروں نے چور کو بےگناہ ثابت کرنے کے لیے جو رات کو بیٹھ کر منصوبہ بنایا تھا اسے بھی آپ نہیں جانتے تھے لیکن اس واقعہ کی پوری حقیقت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مطلع کردیا اور یہ اللہ تعالیٰ کا آپ پر بہت بڑا احسان اور اس کا عظیم فضل ہے کیونکہ اگر آپ اصل حقیقت سے آگاہ نہ ہوتے تو آپ ایک بےگناہ کو چوری کی سزا دیدیتے اور اصل چور کو بری کردیتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ لوگوں کے دلوں میں آپ کی نبوت کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوجاتے۔
آیت کی مزید تحقیق :۔ اس آیت سے بریلوی آنحضرت ﷺ کے کلی علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
ربط آیات
اس سورة میں منافقین کا تذکرہ اور ان کی مذمت مختلف مقامات پر ہوتی رہی ہے۔ گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اس کارگزاری کا تذکرہ فرمایا کہ جرم کا ارتکاب خود کرکے اس کا الزام دوسروں پر لگادیتے ہیں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا تھا کہ منافقین نے حضرت رفاعہ ؓ کے گھر چوری کرکے اس کا اتہام پہلے ایک مسلمان پر لگایا اور پھر یہودی پر۔ اس کے علاوہ حضور ﷺ کے پاس اپنی بریت کی سفارش بھی بہم پہنچائی ، ظاہری حالات دیکھ کر بنی (علیہ السلام) نے بھی ایسا ہی خیال کیا ، مگر اللہ تعالیٰ نے آیات نازل فرما کر اصل صورت حال سے مطلع فرمادیا اور منافقوں کی سخت مذمت بیان کی۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ اگر اس قسم کی غلطی…
Read the full tafseer →وَلَوْلَا فَضْلُ اللہِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُہٗ لَہَمَّتْ طَّاۗىِٕفَۃٌ مِّنْھُمْ اَنْ يُّضِلُّوْكَ 0ۭ وَمَا يُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَيْءٍ 0ۭ وَاَنْزَلَ اللہُ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ 0ۭ وَكَانَ فَضْلُ اللہِ عَلَيْكَ عَظِيْمًا 113
«لَوْلَا»
يجيء علی وجهين :
أحدهما : بمعنی امتناع الشیء لوقوع غيره، ويلزم خبره الحذف، ويستغنی بجوابه عن الخبر . نحو : لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] .
والثاني : بمعنی هلّا، ويتعقّبه الفعل نحو : لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] أي : هلّا . وأمثلتهما تکثر في…
Read the full tafseer →ترکیب : لہمت جواب لولا۔ مایضرونک من شیء من زائد ہے وشیء بمعنی ضرر ہو کر مفعول مطلق ہے۔ من نجواھم صفت ہے الامن امر استثناء لا خیر فی کثیر من نجواھم سے ہے نجوٰی مصدر ہے بمعنی مشورہ اور من ذات اشخاص کے لئے تو استثناء منقطع ہوگا اور یہ بھی بلغاء کے کلام میں بکثرت مستعمل ہے اور نجوٰی کا اطلاق کبھی مشورہ کرنے والوں پر بھی ہوتا ہے جیسا کہ آیا ہے اذھم نجوٰی اس صورت میں استثناء متصل ہوگا موضع جر میں بھی اور نصب میں بھی۔
تفسیر : اجماع امت کا برحق ہونا : ان آیات میں بھی اسی واقعہ کی طرف بطور تکملہ اور تتمہ کے اشارہ ہے۔ فرماتا ہے کہ اگر خدا کا تم پر فضل و رحمت نہ ہوتی تو ایک گروہ نے ان میں سے (یعنی طعمہ…
Read the full tafseer →وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ وَ رَحْمَتُہٗ لَہَمَّتْ طَّّّـآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ اَنْ یُضِلُّوْکَ ط وَمَا یُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَہُمْ وَمَا یَضُرُّوْنَـکَ مِنْ شَیْئٍ ط وَ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلَیْکَ الْـکِتٰبَ وَ الْحِکْمَََۃَ وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ ط وَکَانَ فَضْلُ اللّٰہِ عََلَیْکَ عَظِِِیْمًا
” اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے تہیہ کرلیا تھا۔ کہ وہ تمہیں غلط فہمی میں ڈال دیں۔ حالانکہ وہ غلط فہمی میں نہیں ڈالتے مگر اپنے آپ کو اور تمہیں ضرر نہیں پہنچا سکتے کچھ بھی اور اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تمہیں وہ چیز سکھائی ہے جو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : خطاب جاری ہے۔
پہلے بیان ہونے والے واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے پیغمبر ! اگر اللہ تعالیٰ کا آپ پر فضل و کرم نہ ہوتا تو ان میں سے ایک گروہ نے تمہیں عدل و انصاف کے راستے سے ہٹا دینے کا پکا منصوبہ بنا لیا تھا۔ اگر آپ ان کی مرضی کے مطابق فیصلہ صادر فرما دیتے تو اس سے آپ کی سیرت پر حرف گیری ہوتی اور عدل و انصاف کا ترازو جھک جاتا۔ تاہم آپ کی ذات اقدس کا حقیقتاً نقصان نہ ہوتا کیونکہ آپ نے ظاہری شواہد کے مطابق فیصلہ کرنا تھا۔
معلوم ہوا کہ اگر جج سے غلط معلومات اور جھوٹی شہادتوں کے ذریعے ناحق فیصلہ کروالیا جائے تو وہ عنداللہ گناہ گار نہیں ہوگا۔ البتہ آدمی کو شعوری اور…
Read the full tafseer →آیت 113 : وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ وَرَحْمَتُہٗ (اگر آپ پر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحمت نہ ہوتی) فضل سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت وعصمت اور رحمت سے مراد اس کی خصوصی مہربانی جس سے ان کو رازوں کی اطلاع دی۔
بنی ظفرؔ کا طرز عمل :
لَہَمَّتْ طَّآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ (تو ان میں سے ایک گروہ آپ کو بھٹکانے کا قصد کرچکا تھا) مراد بنی ظفر۔ یا بنو ظفر کا ایک گروہ ہے ہُمْ سے مراد لوگ۔ اَن یُّضِلُّوْکَ (کہ وہ آپ کو بھٹکا دیتے) صحیح فیصلہ سے اور طریق عدل کی پیروی سے باوجود اس بات کے جان لینے کے کہ ان کا ساتھی مجرم ہے۔ وَمَا یُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَہُمْ (اور وہ نہیں گمراہ کرتے مگر اپنے آپ کو)…
Read the full tafseer →113۔ (آیت)” ولولا فضل اللہ علیک ورحمتہ “۔ یہ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے ” لھمت “ ارادہ کرچکے تھے (آیت)” طائفۃ منھم “۔ اس سے مراد طعمۃ کی قوم ہے (آیت)” ان یضلوک “ فیصلے میں راہ حق سے ہٹا دیتے اور سارا معاملہ ملتبس کردیتے ، یہاں تک کہ طعمہ کی طرف سے دفاع کرنے لگے تھے (آیت)” وما یضلون الا انفسھم “۔ اس کا وبال ان ہی کی طرف لوٹے گا ، (آیت)” وما یضرونک من شیئ “ ان کا ضرر ان ہی کی طرف لوٹے گا (آیت)” انزل اللہ علیک الکتاب “۔ کتاب سے مراد قرآن مجید ہے (آیت)” والحکمۃ “ یہ فیصلہ وحی کے ذریعے کرنا (آیت)” وعلمک مالم تکن تعلم “۔ احکام میں سے، بعض نے کہا علم الغیب میں سے (آیت)” وکان فضل اللہ علیک عظیما “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
(110 ۔ 113) ۔ یہ آیتیں بھی طعمہ کے قصے سے متعلق ہیں ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے طعمہ کو چوری کے گناہ سے اور ایک شخص بری پر جو اس نے چوری کا بہتان لگایا تھا۔ اس طے اور طعمہ کے قبیلے کے لوگوں کو جھوٹی گواہی کے گناہ سے توبہ استغفار کرنے کی رغبت دلائی ہے اور فرمایا ہے کہ کبیرہ، صغیرہ جس طرح کے گناہوں سے جو کوئی توبہ کرے گا اللہ ایسا غفور رحیم ہے کہ وہ فورًا ہر ایک گناہ گار کی خالص نیت کی توبہ قبول کرلیتا ہے اور اس توبہ کرنے والے شخص کے سب گناہ معاف کردیتا ہے ابو سعید خدری ؓ کی حدیث اوپر گزرچکی ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ شیطان جب مردود ٹھہرا جا کر آسمان بر سے نکالا جانے لگا تو اس نے قسم کھا کر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–113
آیت 105
اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا، بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامرو نواہی عدل پر مبنی ہیں۔ (وتمت کلمت ربک صدقاً وعدلاً ) (الانعام :110/6) ” اور تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔ “
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لئے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیھم) (النحل :33/16) ” ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–113
قول باری ہے ( ومن یکسب خطیئۃ او اثما ثم یرم بہ یریئاً فقد احتمل بھتاناً و اثما مبینا۔ اور جس نے کوئی خطا یا گناہ کر کے اس کا الزام کسی بےگناہ پر تھوپ دیا اس نے بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ لیا۔ ) خطیئہ اولاثم کے درمیان فرق کے متعلق ایک قول ہے کہ اگر کوئی غلط کام جان بوجھ کر کیا جائے تو وہ اثم کہلاتا ہے ، اگر عمداً نہ کیا جائے تو وہ خطیئہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کا ایک ساتھ اس لیے ذکر کیا کہ ان دونوں کا حکم بیان ہوجائے اور یہ واضح کردیا جائے۔
کہ خواہ یہ عمداً ہوا ہو یا عمد کے بغیر دونوں صورتیں یکساں ہیں۔ جو شخص کسی بےگناہ انسان پر کوئی الزام لگائے گا و بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار…
Read the full tafseer →290 بدنیتی اور خبث باطن باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ خبث باطن اور بدنیتی انسان کی اپنی ہی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو ایسے بدنیت لوگ اپنی ہی ہلاکت کا سامان کرتے ہیں اور آپ ﷺ تو قطعی طور پر راہ حق و صواب پر ہیں اور آپ کا محافظ اور حامی و ناصر اللہ ہے۔ پھر آپ کو کسی کا نقصان پہنچانے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ سو آپ ﷺ کا تو یہ لوگ کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے، البتہ اپنی بدباطنی اور بدنیتی کی بناء پر یہ اپنی ہلاکت و تباہی میں اضافے کا سامان ضرور کریں گے۔ سو بدنیتی انسان کی اپنی ہی ہلاکت کا باعث بنتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس میں…
Read the full tafseer →نبی کریم ﷺ کی معصومیت اور رحمت الٰہی
تشریح : اس آیت میں پچھلی آیات کا واقعہ اس صورت سے دہرایا جارہا ہے کہ طعمہ اور اس کے حامی بیشک منصف، یعنی آپ ﷺ کو بہکانے میں کافی حد تک کامیاب ہوگئے تھے۔ مسئلہ یہی ہے کہ غلط گواہی اور جھوٹ کا سہارا لے کر منصف کو تو غلط فیصلہ پر مجبور کیا جاسکتا ہے تو اس میں منصف سے زیادہ جھوٹے گواہوں کی پکڑ ہوسکتی ہے لیکن آپ ﷺ کیونکہ اللہ کے نبی ہیں آپ ﷺ کی راہنمائی اور فریب سے بچاؤ اللہ رب العزت کی ذمہ داری ہے۔ اس نے آپ ﷺ کو قرآن و حکمت کے ذریعے سے حقیقت حال سے آگاہ کردیا اور یوں آپ ﷺ غلط فیصلہ کرنے سے بچ گئے اور یہ اللہ رب العزت کی طرف سے آپ ﷺ پر بہت بڑی مہربانی اور فضل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
رکوع نمبر 17 ۔ آیات 113 تا 115 ۔ اسرار و معارف :
ولولا۔۔۔۔۔ وساءت مصیرا۔
اور اے میرے حبیب (ﷺ) اگر آپ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی جو ہر حال میں اور ہر آن آپ کو نصیب ہے تو ان منافقین میں تو ایک ٹولہ یہ سوچ بھی رکھتا ہے کہ معاذ اللہ آپ کو گمراہ کردے اور اللہ کا دین چھڑوا کر رسومات اور بدعات میں مبتلا کردے۔ لیکن آپ تو مجسمہ رحمت ہیں آپ تو نہ صرف اللہ کا فضل و احسان پانے والے ہیں بلکہ بانٹنے والے ہیں اس لیے آپ سے ٹکرا کر اپنی پیشانی کو توڑ لیتے ہیں۔ خود گمراہ ہو رہے ہیں۔ یہاں سے جان لیا جائے کہ شیخ اگر کامل نہ ہوا تو بدعات کا شکار ہوجائیگا۔ اور خوشامدی اپنی لذت کے حصول کے لیے اسے گمراہ…
Read the full tafseer →ف 10 مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت سے ان کے بہکانے کا کوئی اثر نہ ہوا اللہ کی رحمت یہ کہ آپ ﷺ کو واقعہ کی حقیقت سے مطلع فرمادیا۔11 کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی حفاظت کا خاص انتظام کیا ہے۔
1 یعنی وحی کے ذریعہ آپ ﷺ کو وہ علم دیا جو آپ ﷺ کے پہلے حاصل نہیں تھا۔ (دیکھئے سورت اشوریٰ آیت 52) اور یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑافضل ہے۔ ( قرطبی )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
(4:112) یرم بہ۔ رمی یرمی (ضرب) سے مضارع واحد مذکر غائب۔ رمی مصدر، اس کی تہمت لگائے۔ الزام لگائے۔ بہ میں ہ ضمیر خطیئۃ اور اثم کی طرف راجع ہے۔ یرم اصل میں یرمی تھا۔ من شرطیہ کی وجہ سے ی حذف ہوگئی۔
بریئا۔ بےتعلق ۔ بےگنا۔ ثم یوم بہ بریئا۔ پھر اس گناہ کا الزام کسی بےگناہ کے سر تھوپ دیتا ہے۔
احتمل۔ اس نے اٹھالیا احتمال سے بمعنی برداشت کرنا۔ اٹھانا۔ فقد احتمل بھتانا واثما مبینا۔ تو اس نے بہتان اور ایک صریغ گناہ کا بوجھ اپنے سر اٹھالیا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 131
لغات القرآن : ھمت، ارادہ کرلیا۔ مایضرونک، آپ ﷺ کو وہ نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ فضل اللہ، اللہ کا فضل و کرم۔
تشریح : اس آیت کا بھی تعلق اوپر والے واقعہ سے ہے۔ اگر کوئی فریق چکنی چپڑی باتیں بنا کر اور واقعات کو تو ڑ مروڑ کر نئی شکل سے اور قاضی سے فیصلہ اپنے حق میں لے لے تو یہ گناہ سراسر فریق مذکور کے نام پر لکھا جائے گا۔ قاضی کا کوئی قصور نہیں۔ حالانکہ خود حضور ﷺ کے پاس کتاب اور حکمت کی تعلیم موجود تھی اور وہ علم جو کسی اور کے پاس نہ تھا، اسکے باوجود آپ کو غلط فہمی میں مبتلا کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ ساری حقیقت آپ کے سامنے کھول کر رکھ دی اور اس طرح اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
شان نزول : یہ آیتیں بھی طعمہ کے قصہ سے متعلق ہیں ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے طعمہ کو چوری کے گناہ سے اور ایک بےگناہ شخص پر جو اس نے چوری کا بہتان لگایا تھا، اس سے اور طعمہ کے قبیلہ کے لوگوں کو جھوٹی گواہی کے گناہ سے، توبہ استغفار کرنے کی رغبت دلائی ہے، اور فرمایا کہ کبیرہ صغیرہ جس طرح کے گناہوں سے جو کوئی توبہ کرے گا اللہ ایسا غفور ورحیم ہے کہ وہ فورا ہر ایک کی خالص نیت کی توبہ قبول کرلیتا ہے، اور اس توبہ کرنے والے شخص کے سب گناہ معاف کردیتا ہے۔ پھر فرمایا کہ اے رسول اللہ ﷺ یہ اللہ کا تم پر فضل اور اس کی رحمت ہے کہ جہاں ایسا غلطی کا موقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فورا بذریعہ وحی کے اس غلطی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
[74] یعنی یہ لوگ اگر اصل مجرم کی حمایت کر کے آپ کو غلط فہمی میں مبتلا کردیتے اور اپنے حق میں غلط فیصلہ حاصل کرلیتے تو وہ خود اپنے آپ کو اس غلط فہمی میں مبتلا کرلیتے کہ حق ان کے ساتھ ہوگیا حالانکہ حاکم عدالت کا کسی غلط فہمی کی بنا پر فیصلہ کردینے سے حقیقت نہیں بدل جاتی۔
Read the full tafseer →(ف 3) مقصد یہ ہے کہ طعمہ اور اس کی جماعت چاہتی یہ تھی کہ آپ ﷺ خائن لوگوں کی حمایت کریں اور یہودی کو محض اس لئے کہ وہ یہودی ہے ‘ مجرم قرار دیں ، مگر اس لئے کہ آپ ﷺ وحی والہام اور تعلیم واکتشاف کی نعمتوں سے بہرہ وافر رکھتے تھے ، ان کے فریب سراسر پاک دامن رہے ۔
حل لغات :
یرم : باب رمی یرمی ، مصدر رمی ، معنی پھینکنا ۔ ڈالنا ۔
نجوی : سرگوشی ۔ کاناپھوسی ۔
Read the full tafseer →ف 1 اور جو شخص کوئی چھوٹا گناہ کرے یا کسی بڑے گناہ کا مرتکب ہو پھر اس گناہ کی تہمت کسی بےگناہ اور ناکردہ گناہ پر لگا دے تو ایسے شخص نے یقینا بہت بڑے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اپنے سر پر لاد لیا اور اپنے سر پر بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ دھر لیا اور اے پیغمبر ! ﷺ اگر آپ پر اللہ تعالیٰ کا فل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور اس معاملہ میں آپ پر اس کی خاص عنایت نہ ہوتی تو چور کے حمایتیوں میں سے تو ایک گروہ نے آپ کو غلطی میں مبتلا کرنے کا ارادہ ہی کرلیا تھا اور یہ ارادہ کرنے والے بجز اس کے کہ اس ارادے سے اپنے آپ کو وبال میں مبتلا کرلیں آپ کو کسی قسم کی غلطی اور گمراہی میں نہیں ڈال سکتے اور نہ آپ…
Read the full tafseer →ف 2۔ لیکن خدا کے فضل سے ان کی رنگ آمیز باتوں کا آپ پر کوئی اثر نہیں ہوا اور آئندہ بھی نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →یہ صیاد اپنے دام میں خود ہی پھنس کر رہ جائیں گے آپ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے :
187: فرمایا ” یہ لوگ غلط راستہ پر نہیں ڈال رہے ہیں مگر اپنے آپ کو ‘ یہ تمہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ “ یہ گو یا اس حقیقت کا بیان ہے کہ راہ حق سے منحرف ہو کر چلنے والے اگر راہ حق پر چلنے والوں کو حق سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہو سکیں تو تو پھر وہ اپنی ساری دانش فروشیوں کے باوجود صرف اور صرف اپنے ہی کو گمراہ کرتے ہیں جادئہ حق پر سوار رہنے والوں کو وہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔ مطلب یہ ہے کہ تم اپنے موقف حق پر ڈٹے رہو اور دیکھتے جائو کہ یہ خود تباہی کے کس کھڈ میں جا کر گرتے ہیں ۔ اس لئے جو کنواں کھو دتا ہے اس…
Read the full tafseer →Addressing the Holy Prophet ﷺ in the ninth verse (113), it has been said: It was Allah's grace and mercy that He revealed to you the reality behind the event of theft, otherwise these people would have misled you into error. But, since you are not alone, Allah's grace and mercy is with you, these people can never mislead you into error.
On the contrary, they themselves fall into error. Be sure that these people cannot harm you in any way whatsoever because Allah has revealed the Book and wisdom to you and taught you what you did not know.
The Holy Prophet ﷺ and Ijtihad
From verse 105 which…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
142. Even if some people succeeded in their design to obtain from the Prophet (peace be on him) a wrong judgement in their favour by presenting a false account of events, the real loss would have been theirs rather than the Prophet's (peace be on him). For the real criminals in the sight of God are the perpetrators of that fraud and not the Prophet (peace be on him) who might in good faith have delivered a verdict that actually did not conform to the facts. Whoever obtains a judgement in his favour by tricking the courts deludes himself into believing that by such tricks he can bring right to…
Read the full tafseer →