Explained with ayahs 105–109
حقیقت چھپ نہیں سکتی
اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ سے فرماتا ہے کہ یہ قرآن کریم جو آپ پر اللہ نے اتارا ہے وہ مکمل طور پر اور ابتداء تا انتہا حق ہے، اس کی خبریں بھی حق اس کے فرمان بھی برحق۔ پھر فرماتا ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان وہ انصاف کرو جو اللہ تعالیٰ تمہیں سمجھائے، بعض علمائے اصول نے اس سے استدلال کیا ہے کہ نبی ﷺ کو اجتہاد سے حکم کرنے کا اختیار دیا گیا تھا، اس کی دلیل بخاری مسلم کی حدیث بھی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دروازے پر دو جھگڑنے والوں کی آواز سنی تو آپ باہر آئے اور فرمانے لگے میں ایک انسان ہوں جو سنتا ہوں اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں بہت ممکن ہے کہ یہ ایک شخص زیادہ حجت باز اور چرب زبان ہو اور میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
سورة النِّسَآء 141
جو شخص دوسرے کے ساتھ خیانت کرتا ہے وہ دراصل سب سے پہلے خود اپنے نفس کے ساتھ خیانت کرتا ہے۔ کیونکہ دل اور دماغ کو جو قوتیں اس کے پاس بطور امانت ہیں ان پر بےجا تصرف کر کے وہ انہیں مجبور کرتا ہے کہ خیانت میں اس کا ساتھ دیں۔ اور اپنے ضمیر کو جسے اللہ نے اس کے اخلاق کا محافظ بنایا تھا، اس حد تک دبا دیتا ہے کہ وہ اس خیانت کاری میں سد راہ بننے کے قابل نہیں رہتا۔ جب انسان اپنے اندر اس ظالمانہ دست برد کو پایہ تکمیل تک پہنچا لیتا ہے تب کہیں باہر اس سے خیانت و معصیت کے افعال صادر ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →پانچویں آیت (یعنی آیت نمبر 901) میں بنو ابیرق کی مدد کرنے والے حمایتیوں کو تنبیہ فرمائی گئی کہ دنیا میں تو تم نے ان کی حمایت کرلی، مگر معاملہ یہیں تو ختم نہیں ہوجاتا، قیامت میں جب حق سبحانہ، و تعالیٰ کی عدالت میں معاملہ پیش ہوگا وہاں کون حمایت کریگا، اس آیت میں ان کو ملامت بھی ہے اور آخرت کا خوف دلا کر اپنے فعل سے توبہ اور رجوع کی ترغیب بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–112
109۔ 112:۔ ھٰٓاَنْتُمْ هٰٓؤُلَاۗءِ جٰدَلْتُمْ عَنْھُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۣ فَمَنْ يُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْھُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَمْ مَّنْ يَّكُوْنُ عَلَيْهِمْ وَكِيْلًا۔ وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۔ وَمَنْ يَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا يَكْسِبُهٗ عَلٰي نَفْسِهٖ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا۔ وَمَنْ يَّكْسِبْ خَطِيْۗئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهٖ بَرِيْۗـــــــًٔــا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنً۔
ھا عربی میں کلمہ تنبیہ ہے اس پر دوسرے مقام میں بحث گزر چکی ہے۔ یہ جملہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
19۔ 1 یعنی جب اس گناہ کی وجہ سے اس کا مواخذہ ہوگا تو اللہ کی گرفت سے اسے بچا سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–112
66: یہ آیتیں اگرچہ عام ہدایتوں پر مشتمل ہیں مگر ایک خاص واقعے میں نازل ہوئی ہیں، خاندان بنو ابیرق کے ایک شخص بشر نے جو ظاہری طور پر مسلمان تھا، ایک صحابی حضرت رفاعہ ؓ کے گھر میں نقب لگا کر کچھ غلہ اور کچھ ہتھیار چرالئے، اور لے جاتے وقت ہوشیاری یہ کی کہ غلے کی بوری کا منہ اس طرح کھولا کہ تھوڑا تھوڑا غلہ راستے میں گرتا جائے یہاں تک کہ ایک یہودی کے گھر کے دروازے پر پہنچ کر بوری کا منہ بند کردیا اور بعد میں چوری کئے ہوئے ہتھیار اسی یہودی کے پاس رکھوادئے، جب چوری کی تفتیش شروع ہوئی تو ایک طرف غلے کے نشانات یہودی کے گھر تک پائے گئے اور دوسری طرف ہتھیار اسی کے پاس سے برآمد ہوئے، اس لئے شروع میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
درس نمبر 39 ایک نظر میں :
ان آیات میں ایک ایسی کہانی کی طرف اشارہ ہے جس کی کوئی مثال اس کرہ ارض پر نہیں ملتی بلکہ انسانیت کی تاریخ میں اس کے ساتھ ملتی جلتی کوئی مثال نہیں ہے ۔ یہ مثال بھی شاہد عادل ہے کہ یہ دین من جانب اللہ ہے اور لازما من جانب اللہ ہے ۔ اس لئے کہ انسانوں کا تصور انصاف اور عدالت جس قدر بھی بلند ہو ‘ ان کی روح جس قدر بھی صاف ہوجائے اور ان کا مزاج جس قدر بھی صراط مستقیم پر قائم ہو وہ اپنے آپ کو اس مقام بلند تک نہیں پہنچا سکتے ‘ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ کام صرف وحی الہی کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ انسانی تاریخ کے افق پر کھینچا جانے والا یہ گراف اس قدر اونچا ہے کہ اس…
Read the full tafseer →6 اس میں خطاب ہے چور کی قوم اور ان لوگوں کو جو چور کے طرف دار ہوئے تھے یعنی اللہ تعالیٰ کو سب کچھ معلوم ہے اس بیجا حمایت سے چور کو قیامت میں کوئی نفع نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →آیت 109 ہٰٓاَنْتُمْ ہٰٓؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْہُمْ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاقف فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰہَ عَنْہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَمْ مَّنْ یَّکُوْنُ عَلَیْہِمْ وَکِیْلاً
یہ خطاب ہے اس منافق چور کے قبیلے کے لوگوں سے کہ اے لوگو ! تم نے دنیا کی زندگی میں تو مجرموں کی طرف سے خوب وکالت کرلی ‘ یہاں تک کہ حضور ﷺ کو بھی قائل کرنے کی حد تک تم پہنچ گئے۔ مگر یہاں تم انہیں چھڑا بھی لیتے اور بالفرض حضور ﷺ کو بھی قائل کرلیتے تو قیامت کے دن انہیں اللہ کی پکڑ سے کون چھڑاتا ؟ اس ضمن میں حضور ﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم اس طرح ہے کہ میرے سامنے کوئی مقدمہ پیش ہوتا ہے ‘ اس میں ایک فریق زیادہ چرب زبان ہوتا ہے ‘…
Read the full tafseer →148 یہ خطاب اس منافق چور کے حمائیتوں سے ہے کہ اگر آج تم چور کے حمایتی بن بھی گئے تو کل قیامت کے دن اللہ کے روبرو تم میں سے کون اس کی وکالت کرے گا جبکہ تمہارے لیے تمہارا اپنا ہی یہ گناہ کافی ہوگا۔
ضمناً اس واقعہ سے یہ معلوم ہوا کہ کسی شخص کے پاس سے چوری کا مال برآمد ہوجانا اس بات کا یقینی ثبوت نہیں ہوتا کہ وہ فی الواقع چور ہے لہذا ایسے معاملات میں انتہائی تحقیق اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے آپ نے حدود قائم کرنے کے سلسلہ میں بہت سی ہدایات فرمائی ہیں جن کا ذکر کسی دوسرے مناسب مقام پر کردیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →303 ۔ اس حقیقت کبری کو یاددلایا ہے کہ اصل پیشی اور جوابدہی تو عدالت آخرت ہی کی ہے۔ یہاں کسی طرح اگر بات بنا بھی لی گئی تو کیا ہوتا ہے مومن کیلئے اصل خوف کی چیز تو وہی آخرت کی عدالت ہے جہاں کسی قسم کی بھی تلبیس کی گنجائش نہیں (آیت) ” ھانتم “۔ خطاب ہے مجرم کی برادری اور محلہ والوں کی طرف جنہوں نے سازش کرکے مجرم کی پشت پناہی کی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–112
وَاسْتغفِرِ اللہ ان اللہ کان غفورارحیما، یعنی اس بات پر کہ بغیر تحقیق کے آپ نے جو خیانت کرنے والوں کی حمایت کی ہے اس پر اللہ سے مغفرت طلب کریں، اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو مومنین اس منافق کے ساتھ اس کی حمایت کرنے کی وجہ سے خیانت یعنی معصیت میں مبتیلا ہوگئے آپ ان کے لئے مغفرت طلب کریں مذکورہ واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فریقین میں سے جب تک کسی پر پورا یقین نہ ہو کہ وہ حق پر ہے اس کی حمایت اور وکالت کرنا جائز نہیں۔
اگر کوئی فریق دھوکے اور فریب اور چرب زبانی سے عدالت یا حاکم سے اپنے حق میں فیصلہ کرالے تو ایسے فیصلے کی عند اللہ کوئی حیثیت نہیں، اس بات کو نبی ﷺ نے ایک حدیث میں اسطرح بیان…
Read the full tafseer →ہانتم ہولآء جادلتہم عنہم فی الحیوۃ الدنیا ہاں تم ایسے ہو کہ تم نے دنیوی زندگی میں تو ان کی طرف سے جواب دہی کی باتیں کرلیں۔ ہُمْکی ضمیر ابن ابیرق اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی طرف راجع ہیں اور ابن ابیرق کی قوم والے بھی اس میں داخل ہیں۔
جدالکا معنی ہے شدت مخاصمت۔ یہ لفظ جَدْلٌسے بنا ہے جدلٌکا معنی ہے سختی کے ساتھ بٹنا۔ صاحب جدال بھی اپنے دلائل کی قوت سے مقابل کو اس کے مسلک سے موڑ دینا چاہتا ہے یا لفظ جدال جدالَّہٌسے بنا ہے جدالۃ زمین کو کہتے ہیں پس جدال کا معنی ہوا ہر حریف کا دوسرے حریف کو کشتی لڑ کر زمین پر گرا دینے کی کوشش کرنا۔
فمن یجادل اللہ عنہم یوم القیمۃ لیکن قیامت کے دن ابن ابیرق اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
(107۔ 108۔ 109) اللہ تعالیٰ ایسے فاجر، کذاب اور بےقصور لوگوں پر بہتان لگانے والوں کو نہیں چاہتے جن کی حالت یہ ہے کہ چوری کی بنا پر لوگوں سے تو شرماتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ سے نہیں شرماتے، حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کی تمام باتوں سے باخبر ہے، جس وقت پر یہ لوگ ایسی باتیں کہہ رہے تھے کہ جن کو نہ اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور نہ یہ خود پسند کرتے ہیں اور جو یہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کا جاننے والا ہے، قوم طعمہ یعنی بنی ظفر دنیاوی زندگی میں تو تم نے طعمہ کی طرف سے جھگڑا کرلیا، لیکن اللہ تعالیٰ کو طعمہ کی جانب سے کون جواب دے گا یا طعمہ پر عذاب خداوندی کا کون ذمہ دار ہوگا۔
Read the full tafseer →ھٰٓاَنْتُمْ هٰٓؤُلَاۗءِ جٰدَلْتُمْ۔۔ : یہ ان لوگوں سے کہا جا رہا ہے جو ابیرق کے بیٹوں کی طرف سے وکالت اور بحث کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
آیت نمبر 108 تا 109۔
ضحاک ؓ نے کہا : جب اس نے چوری کی تو اس نے اپنے گھر میں ایک گڑھا کھودا اور زرہ کو پرنالے کے نیچے رکھ دیا تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” یستخفون من الناس ولا یستخفون من اللہ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ پر زرہ کی جگہ مخفی نہیں ہے۔ (آیت) ” وھو معھم “۔ یعنی وہ ان کو تاڑنے والا اور ان پر نگہبان ہے۔ بعض نے فرمایا (آیت) ” یستخفون من الناس “ کا معنی ہے وہ لوگوں سے چھپتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” ومن ھو مستخف بالیل “۔ (الرعد : 10) یعنی وہ چھپنے والا ہے، بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے وہ لوگوں سے حیا کرتے ہیں یہ اس لیے، کیونکہ حیا کرنا چھپنے کا سبب ہے۔
(آیت) ” وھو معھم “ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–113
(1) ترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وحاکم (نے اس کو صحیح کہا) قتادہ بن نعمان ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے خاندان کے لوگ تھے جن کو بنو ابیرق کہا جاتا تھا (یہ تین بھائی تھے) بشر بشیر، مبشر، بشیر منافق تھا اشعار کہتا تھا جس میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی ہجو کرتا اور شعروں کی نسبت کسی عرب کی طرف کردیتا تھا اور کہتا تھا کہ فلاں نے ایسا اور ایسا کہا اور جب رسول اللہ ﷺ کے اصحاب یہ شعر سنتے تھے تو کہتے اللہ کی قسم ! کہ یہ شعر اسی خبیث نے کہے ہیں اس نے کہا جب بھی لوگ قصیدہ کہیں تو کہہ دین کہ ابن ابیرق نے کہا یہ لوگ جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں میں تنگ دست تھے ( اس زمانہ میں) اہل مدینہ…
Read the full tafseer →[ ہٰٓــاَنْتُمْ : ارے تم لوگ تو ] [ ہٰٓــؤُلَآئِ : وہ ہو (کہ) ] [ جٰدَلْـتُـمْ : مناظرہ کرتے ہو ] [ عَنْہُمْ : ان کی طرف سے ] [ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا : اس دنیوی زندگی میں ] [ فَمَنْ : تو کون ] [ یُّجَادِلُ : مناظرہ کرے گا ] [ اللّٰہَ : اللہ سے ] [ عَنْہُمْ : ان کی طرف سے ] [ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ : قیامت کے دن ] [ اَمْ : یا ] [ مَّنْ : کون ] [ یَّــکُوْنُ : ہوگا ] [ عَلَیْہِمْ : ان کا ] [ وَکِیْلاً : کارساز ]
نوٹ : یہ آیات اور اس کے آگے کی چند آیات ایک خاص واقعہ سے متعلق ہیں جس میں مدینہ میں آباد ایک مسلمان قبیلے کے ایک فرد نے چوری کی اور اس کا الزام ایک یہودی کے سر ڈال دیا۔ مقدمہ رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
ایک منافق کا چوری کرنا اور اس کی طرف سے دفاع کرنے پر چند تنبیہات
آیت بالا کا سبب نزول ایک واقعہ ہے جسے امام ترمذی نے اپنی کتاب میں حضرت قتادہ بن نعمان ؓ سے نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہمارے قبیلے میں تین آدمی تھے، بشر، بشیر، اور مبشر، ان کو بنی ابیرق کہا جاتا تھا، ان میں بشیر منافق آدمی تھا وہ ایسے شعر کہتا تھا جن میں انبیاء کرام ﷺ کے صحابہ کی ہجو ہوتی تھی پھر ان اشعار کو بعض اہل عرل کی طرف منسوب کردیتا تھا اور کہتا رہتا تھا کہ فلاں نے یوں کہا فلاں نے یوں کہا آنحضرت سرور عالم کے صحابہ (جب ان اشعار کو سنتے تھے تو سمجھ لیتے تھے کہ یہ اسی کی حرکت ہے اور) کہتے تھے کہ اللہ کی قسم یہ شعر تو اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–115
حکم بست وہشتم ممانعت از حمایت اہل خیانت۔
قال تعالی۔ انا انزلنا الیک الکتاب بالحق۔۔۔ الی۔۔۔ مصیرا۔
ربط) گزشتہ آیات میں کفار اور منافقین کے معاملات کا ذکر تھا اب آیات میں منافقین کے ایک شرانگیز قصہ کا بیان ہے یہ بتلانا مقصود ہے کہ کافروں پر ظلم کرنا اور بےگناہ پر تہمت اور الزام لگانا جائز نہیں اور خیانت کرنے والے کی حمایت جائز نہیں اگرچہ وہ کلمہ گو ہو مقدمہ کا فیصلہ عدل و انصاف سے ہونا چاہیے۔
شان نزول۔
نبی ﷺ کے زمانہ میں ایک منافق طعمہ بن ابیرق نامی نے ایک انصاری کے گھر میں نقب لگائی اور آٹے کا تھیلا جس میں زرہ وہتھیار رکھے ہوئے تھے چرا کرلے گیا اتفاق سے اس تھیلہ میں ایک سوراخ تھا چور کے گھر تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–109
79 آنحضرت ﷺ نے منافقین کی چرب زبانی اور طاقت لسانی سے زید بن یاسمین کو چور سمجھ کر اس کا ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ فرما لیا تھا پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو اصل حقیقت سے آگاہ فرما دیا تو آپ کو معلوم ہوگیا کہ اگر یہ سزا نافذ ہوجاتی تو نفس الامر کے خلاف اور واقع میں خطا ہوتی اس لیے اس میں اگرچہ آپ معذور تھے لیکن پھر بھی اس لغزش پر استغفار کا حکم فرمایا۔ فھم النبی ﷺ ان یقطع ید زید الیھودی (معالم ج 1 ص 494) فلما اطلعہ اللہ علی کذب قوم طعمۃ عرف انہ لو وقع ذلک الامر لکان خطا فی نفس الامر فامرہ بالاستغفار منہ و ان کان معذورا (خازن ج 1 ص 492) ۔ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضیٰ مِنَ الْقَوْل ْ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
ربط آیات
گزشتہ دروس میں سفر اور خوف کی حالتوں میں نماز کا بیان تھا۔ اس کے بعد امن کی حالت میں دستور کے مطابق نماز پڑھنے کا حکم ہوا۔ پھر جہاد کے ضمن میں دشمن کا تعاقب کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور اس معاملہ میں سستی کا اظہار کرنے سے منع فرمایا گیا۔ اہلِ ایمان کو یاد دلایا کہ کافر باطل پروگرام رکھنے کے باوجود بڑے مستعد ہیں جب کہ مسلمانوں کے پاس تو اللہ اور اسکے رسول کا دین برحق ہے لہٰذا انہیں دشمن کے مقابلہ میں زیادہ مستعد ہونا چاہئے۔ انہیں اللہ تعالیٰ سے وہ کچھ امید ہے جو کفار کو نہیں ہو سکتی۔
اُس سے پہلے منافقین کا تذکرہ تھا کہ وہ جہاد سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور اس میں شمولیت کے خلاف حیلے بہانے…
Read the full tafseer →ھٰٓاَنْتُمْ ہٰٓؤُلَاۗءِ جٰدَلْتُمْ عَنْھُمْ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا 0ۣ فَمَنْ يُّجَادِلُ اللہَ عَنْھُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ اَمْ مَّنْ يَّكُوْنُ عَلَيْہِمْ وَكِيْلًا 109
جدل
الجِدَال : المفاوضة علی سبیل المنازعة والمغالبة، وأصله من : جَدَلْتُ الحبل، أي : أحكمت فتله ۔ قال اللہ تعالی: وَجادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ [ النحل/ 125]
( ج د ل ) الجدال
( مفاعلۃ ) کے معنی ایسی گفتگو کرنا ہیں جسمیں طرفین ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کریں اصل میں یہ جدلت الحبل سے مشتق ہے ۔ جس کے معنی ہیں رسی کو مضبوط بٹنا اسی سے بٹی ہوئی رسی کو الجدیل کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَجادِلْهُمْ بِالَّتِي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
1 ؎ جو دغابازی اور خدا کی نافرمانی کرتے ہیں درحقیقت وہ اپنے حق میں برا کرتے ہیں کس لئے کہ اس کا وبال اور انجام کار انہی پر پڑتا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →ہٰٓاَنْتُمْ ھٰٓؤُلَآئِ جٰدَلْتُمْ عَنْہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا قف فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰہَ عَنْہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَمْ مَّنْ یَّکُوْنُ عَلَیْہِمْ وَکِیْلًا
” یہ تم ہو جنھوں نے دنیا کی زندگی میں ان کی مدافعت کی تو قیامت کے دن اللہ سے کون ان کی مدافعت کرے گا۔ یا کون ان کا ذمہ دار بنے گا۔ “ (النسآء : 109)
ہاحرف تنبیہ ہے۔ یہ جملہ کے شروع میں آتا ہے۔ اور مقصود اس سے یہ ہوتا ہے کہ مخاطب کو ہوشیار کیا جائے کہ وہ کان کھول کر بات سنے۔
ان آیات میں دو دفعہ ” لا تجادل “ اور ” جادلتم “ ایک ہی فعل سے نکلنے والے لفظ آئے ہیں جن کا مصدر مجادلہ ہے۔ قرآن پاک میں یہ لفظ اچھے اور برے دونوں معنوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–112
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
جن لوگوں نے عزیز داری کی بنیاد پر چور کی حمایت اور تعصب کی بنا پر یہودی پر الزام لگایا تھا۔ اب انہیں مخاطب کیا جارہا ہے کہ تم ایسے لوگ ہو جو طرف داری اور تعصب کی بنیاد پر اس دنیا میں مجرم کے حق میں جھگڑتے ہو۔ بتاؤ قیامت کے دن رب ذوالجلال کے سامنے مجرموں کی طرف سے کون جھگڑا اور ان کی وکالت کرسکے گا ؟
اس فرمان کا صاف مطلب ہے کہ کسی شخص کو مجرم کی پاسداری اور اس کے جرم کی وکالت نہیں کرنی چاہیے۔ یہ فرمان ہر وکیل کے لیے تازیانۂ عبرت رکھتا ہے۔ اس کے بعد چار مرتبہ لفظ ” مَنْ “ استعمال کیا کہ دنیا میں کوئی بھی جان بوجھ کر گناہ کرے یا بھول کر خطا کرنے کے بعد اللہ…
Read the full tafseer →ایک نحوی تحقیق :
آیت 109 : ہٰٓاَنْتُمْ ہٰٓؤُلَآئِ ۔ ہَا یہ تنبیہ کے لئے ہے۔ انتم مبتداء اور اولاء خبر ہے۔ جٰدَلْتُمْ عَنْہُمْ (ہاں تم تو ایسے لوگ ہو کہ تم نے ان کی طرف سے جواب دہی کی باتیں کرلیں) مجادلہ کا معنی ان کی طرف سے جھگڑنا۔ نحو : نمبر 1۔ یہ جملہ مبینہ ہے۔ کیونکہ اولآء خبر واقع ہو رہی ہے۔ جیسے سخی کو کہیں انت حاتم تجود بمالک۔
نمبر 2۔ اولآء اسم موصول بمع الذین اور جادلتم، صلہ اب مطلب یہ ہوا۔ چھوڑو ! تم تو ان کی طرف سے مجادلہ کر رہے ہو۔ ہم کی ضمیر کا مرجع طعمہ اور اس کی معاون پارٹی۔
فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰہَ عَنْہُمْ یَوْمَ الْقَیٰمَۃِ (دنیا کی زندگی میں پس کون…
Read the full tafseer →109۔ (آیت)” ھا انتم ھولائ “۔ ہاں اے لوگو ! تم ایسے ہو ۔ ” جادلتم “۔ بمعنی جھگڑنا ۔ ” عنھم “۔ طعمہ کے متعلق تم جھگڑتے ہو (آیت)” فی الحیوۃ الدنیا “۔ جدال سخت جھگڑے کو کہتے ہیں وہ سخت قتل کردینا ، یعنی وہ اس کے قتل کا ارادہ رکھتے تھے ، دلیل وحجت کے ساتھ یا لفظ جدال وجدالۃ سے ہے اس کا معنی ہے زمین ، جدال کا معنی یہ ہوا کہ ہر حریف کا دوسرے حریف کو کشتی لڑا کر زمین پر گر دینے کی کوشش کرنا ، (آیت)” فمن یجادل اللہ عنھم “۔ طعمۃ کے متعلق ، (آیت)” یوم القیامۃ “ قیامت کے دن اللہ تم کو اس کے بارے میں عذاب میں مبتلا کرے گا ، (آیت)” ام من یکون علیھم وکیلا “ بمعنی کفیل کے ہے ، ناگوار امر کو اپنے مؤکل کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
(105 ۔ 109) ۔ ترمذی، مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور قتادہ بن نعمان ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک صحابی قتادہ بن نعمان ؓ کی زرہ چوری جاتی رہی اور دریافت سے معلوم ہوا کہ قبیلہ بنی ظفر کے ایک شخص طعمہ بن ابیرق نے وہ ذرہ چرائی ہے طعمہ نے یہ چالاکی کی کہ وہ ذرہ ایک شخص یہودی زید بن سمین کے پاس رکھوا دی۔ اور طعمہ کی خانہ تلاشی کے وقت جب وہ ذرہ طعمہ کے گھر سے برآمد نہیں ہوئی تو طعمہ نے اسی یہودی کو چور ٹھہرا کر ذرہ کا پتہ اسی یہودی کے گھر میں ہونے کا دے دیا اور ادھر طعمہ کی قوم نے رات کو یہ مشور کیا کہ آنحضرت ﷺ کے پاس جا کر طعمہ کی برأت کی گواہی ادا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–113
آیت 105
اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا، بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامرو نواہی عدل پر مبنی ہیں۔ (وتمت کلمت ربک صدقاً وعدلاً ) (الانعام :110/6) ” اور تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔ “
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لئے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیھم) (النحل :33/16) ” ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–113
قول باری ہے ( ومن یکسب خطیئۃ او اثما ثم یرم بہ یریئاً فقد احتمل بھتاناً و اثما مبینا۔ اور جس نے کوئی خطا یا گناہ کر کے اس کا الزام کسی بےگناہ پر تھوپ دیا اس نے بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ لیا۔ ) خطیئہ اولاثم کے درمیان فرق کے متعلق ایک قول ہے کہ اگر کوئی غلط کام جان بوجھ کر کیا جائے تو وہ اثم کہلاتا ہے ، اگر عمداً نہ کیا جائے تو وہ خطیئہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کا ایک ساتھ اس لیے ذکر کیا کہ ان دونوں کا حکم بیان ہوجائے اور یہ واضح کردیا جائے۔
کہ خواہ یہ عمداً ہوا ہو یا عمد کے بغیر دونوں صورتیں یکساں ہیں۔ جو شخص کسی بےگناہ انسان پر کوئی الزام لگائے گا و بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار…
Read the full tafseer →287 قیامت میں کوئی کسی کے کچھ بھی کام نہیں آسکے گا : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام انکاری کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ کون ہے جو ان کی طرف سے لڑسکے قیامت کے روز ؟ اور ظاہر ہے کہ ایسا کوئی بھی نہیں جو ان کی طرف سے قیامت کے روز لڑسکے، کہ ایسی ہمت وہاں کسی میں ہو ہی نہیں سکتی۔ تو پھر دنیا میں ان کی طرف سے لڑنے کا کیا فائدہ ؟ اصل فیصلہ تو وہیں ہونا ہے۔ سو یہاں پر ان دنیاوی حکام کے لئے بھی درس عبرت ہے جو صرف ظاہر پر فیصلہ کرتے ہیں۔ اور اسی کے وہ پابند بھی ہیں کہ وہ مجرموں کی حمایت اور ان کی پشت پناہی نہ کریں کہ ان کی حمایت اور پشت پناہی سے اگر ایسے خائن اور مجرم لوگ بچ بھی گئے تو آخر کب تک ؟ آخرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–112
استغفار اور بہتان
تشریح : پچھلی آیات کا قصہ دہراتے ہوئے سبق دیا جارہا ہے کہ ایک تو ناجائز طرف داری گناہ ہے اور دوسرے بےگناہ پر بہتان لگانا بہت بڑا گناہ ہے اور پھر آخر میں سچے دل سے استغفار کا حکم دیا گیا ہے۔ کیونکہ تمام گناہوں سے نجات سچی معافی ہی دلا سکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–112
رکوع نمبر 16 ۔ آیات 105 تا 112 ۔ اسرار و معارف :
انا انزلنا۔۔۔ اثما مبینا۔
ہم نے آپ پر سچی کتاب نازل فرمائی ہے کہ آپ لوگوں کے درمیان انصاف کریں اور اس کے مطابق کریں جو اللہ نے آپ کو بتا دیا ہے یا دکھا دیا ہے۔ سب سے پہلی بات جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ نزول قرآن ہے ہی نافذ کرنے کے لیے اور جہاں تک جس کا اختیار ہے وہاں تک اسے قرآن (اسلام) نافذ کرنا چاہئے۔ جیسے کسی کو اپنے وجود پر ہی اختیار ہے تو اپنے وجود پر تو نافذ کرے۔ اسی طرح پیر صاحبان کو مریدین پر مولوی صاحبان کو اپنے ماننے والوں پر ، کسی کو گھر پر تو کسی کو محلہ پر اور کسی کو ملک پر اختیار حاصل ہوتا ہے۔ اپنے اپنے اختیار کے مطابق…
Read the full tafseer →ف 6 جو ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلا سکے، اس کے مخاطب بنی ظفر اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو طعمہ اور اس کے بھائیوں کی طرف سے جھگڑ رہے تھے، (قرطبی، ابن کثیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–111
یستخفون۔ وہ چھپتے ہیں۔ وہ چھپے رہ سکتے ہیں۔ استخفاء (استفعال) مصدر خفی مادہ ۔
یبیتون۔ بتییت مصدر باب تفعیل۔ رات کو سوچتے ہیں۔ رات کو سوچتے اور تدبیریں کرتے ہیں۔ مالا یرضی من القول۔ ایسی باتیں سوچتے اور کہتے ہیں جن پر خدا راضی نہیں ہے۔ محیطا۔ اسم فاعل۔ مفرد احاطۃ مصدر۔ ہر طرف سے گھیرے ہوئے۔ پورا پورا قابو رکھنے والا۔ ہر طرح سے جاننے والا۔ یہاں احاطہ علمی مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–112
آیت نمبر 105-112
لغات القرآن : لتحکم، تاکہ تو فیصلہ کر دے۔ خائنین، خیانت کرنے والے۔ بددیانت۔ خصیم، جھگڑا لو آدمی۔ لاتجادل، جھگڑا نہ کر۔ یختانون، وہ خیانت کرتے ہیں۔ خوان، بہت زیادہ خیانت کرنے والا۔ یستخفون، البتہ وہ شرماتے ہیں۔ یرم، وہ مارتا ہے، وہ پھینکتا ہے، تہمت لگاتا ہے۔
تشریح : حضور نبی کریم ﷺ کے سامنے ایک مقدمہ پیش ہوا جس میں اصلی مجرم ایک نام نہاد مسلمان بشر نامی تھا۔ اس نے اور اس کے قبیلہ والوں نے صورت حال کی شکل یوں دے دی کہ ایک یہودی مجرم نظر آنے لگا۔ اس کے قبیلہ والے خوب چیختے چلاتے ہوئے آئے کہ ہم مسلمان ہیں ہم کیوں چوری کرنے لگے۔ اصل چور تو وہ جہنمی یہودی ہے۔
واقعات کی صورت کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
شان نزول : آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک انصاری کی زرہ آٹے میں دھری ہوئی تھی جو گم ہوگئی۔ صبح کو تلاش کی تو آٹے کا نشان ایک شخص کے گھر تک تھا جس کا نام طعمہ بن ابیرق تھا، وہاں جھاڑا لیا (تلاشی لی) تو نہ پائی۔ وہ نشان آگے دیکھا تو ایک یہودی کے گھر تک جس کا نام زید تھا پایا گیا۔ وہاں زرہ ملی۔ اس یہودی نے کہا کہ مجھ کو طعمہ نے سپرد کی۔ طعمہ نے کہا میں بری ہوں چور وہی ہے جس کے ہاں برآمد ہوئی۔ طعمہ کی قوم میں رات کو مشورہ ہوا کہ ہم سب مل کر آنحضرت ﷺ کے پاس گواہی دیں گے کہ طعمہ بری ہے اور آنحضرت ﷺ ہماری حمایت کریں گے اور وہ یہودی چور ٹھہرے گا۔ صبح کو سب نے مل کر یہی کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–112
[73] اس آیت میں خطاب اس گروہ سے ہے جو اطمعہ کی حمایت میں جتھا بندی کر کے فریق ثانی سے جھگڑتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
قرآن حقائق محسوسہ کا نام ہے :
(ف 2) (آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق “ کے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ افق اعلی سے حضور ﷺ کے قلب اقدس پر نازل ہوا ہے وہ حق یعنی قطعی صلت وصفا سے حالات وظروف کے بالکل مطابق ہے ، علوم ومحسوسات کے موافق ہے اور کوئی چیز اس میں غیر موزوں اور غیر متناسب نہیں ۔
(آیت) ” بما ارک اللہ “ ۔ سے مراد یہ ہے ‘ یہ قرآن حتما وسعت ومشاہدہ کے ہم پلہ ہے ، اس کی قطعیت میں کوئی احتمال شک وشبہ نہیں ، یہ محسوس حقیقت ہے جس کی تجلیات قلب اطہر پر جلوہ کناں ہیں ۔
(آیت) ” ولا تکن للخآئنین خصیما “۔ اور اس قبیل کی تمام آیات جو اس کے بعد مذکور ہیں ، منصب نبوت کی توضیح کے لئے ہیں یعنی بتانا یہ…
Read the full tafseer →ف 2 ہاں تم وہ لوگ ہو جو دنیوی زندگی میں تو ان کی طرف سے جھگڑ رہے ہو اور ان کی طرف سے تم نے جواب دہی کرلی مگر یہ تو بتائو کہ قیامت کے دن ان کا طرف دار بن کر اللہ تعالیٰ سے کون جواب دہی کرے گا اور اللہ تعالیٰ کے روبرو ان کی جانب سے کون جھگڑنے کی ہمت کرے گا یا وہ کون شخص ہوگا جو ان کا وکیل ہو سکے اور ان کا کام بنانیوالا ہو۔ (تیسیر)
اس آیت میں ان لوگوں کو تنبیہہ ہے جو بشیر یا طعمہ کی طرف سے صفائی دے رہے تھے اور مجرم کے طرف داروں کی حمایت کر رہے تھے کہ اچھا یہاں تو تم بہت بڑھ بڑھ کر بول رہے ہو لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو ان منافقوں کی طرف سے کون بولنے والا ہوگا جو زبانی جواب دہی کرے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–111
ف 4۔ بنوابیرق ایک خاندان تھا اس میں ایک شخص بشیر نام منافق تھا اس نے حضرت رفاعہ کی بخاری میں نقب دے کر کچھ آٹا اور کچھ ہتھیار جو اس میں رکھے تھے چرا لیے صبح کو پاس پڑوس میں تلاش کیا پتہ نہ چلا بعض قرائن قویہ سے بشیر پر شبہ ہوا بنوابیرق نے جو کہ بشیر کے شریک حال تھے اپنی برات کے لیے حضرت لبید کا نام لے دیا غرض حضرت رفاعہ نے اپنے برادر زادہ حضرت قتادہ کو جناب رسول اللہ کی خدمت میں بھیج کر اس واقعہ کی اطلاع دی آپ نے وعدہ تحقیق فرمایا بنوابیرق کو جو خبر ہوئی ایک شخص جو اسی خاندان کا تھا اسیر نام سب اس کے پاس آئے سب نے مشورہ کرکے جمع ہو کر مع بعض اہل محلہ کے جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جمع ہوئے…
Read the full tafseer →پارٹی کا ساتھ دینے والوں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ آخرت میں یہ جھگڑا کون کرے گا ؟
182: حمایتیوں کے حمایتی ساتھ ملتے جاتے ہیں اور اس طرح پارٹی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جاتی ہے لیکن آخر کب تک ؟ پارٹی کب تک رہے گی اور پارٹی باز تک ؟ اس لئے یہ تنبیہہ کی گئی ہے کہ دنیا میں تو تم نے ان کی حمایت کرلی جگر معاملہ یہیں تو ختم نہیں ہوجائے گا۔ قیامت میں جب اللہ تعالیٰ کی عدالت میں معاملہ پیش ہوگا تو وہاں کون حمایت کرے گا۔ اس آیت میں ان لوگوں کو ملامت بھی کی گئی ہے جو حق و باطل کی تمیز کئے بغیر اپنی پارٹی ‘ خاندان اور مکتبہ فکر کی حمایت کرتے ہیں اور آخرت کا خوف دلا کر ان کے فعل سے توبہ اور رجوع کی…
Read the full tafseer →Banu Ubayriq telling them that their support given to betrayers of trust in the mortal world does not end at that. There will be the Day of Doom when their case will come before Almighty Allah. Who will lend support to them at that time? The verse serves two purposes. It admonishes them, and then reminds them of the hazards of the Hereafter persuading them thereby to repent and turn to Allah.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
141. Whoever commits a breach of trust with others in fact commits a breach of trust with his own self first. For the powers of his head and heart have been placed at his disposal as a trust, and by misusing them he is forcing those powers to support him in acts which involve a breach of trust. In doing so the person concerned suppresses his conscience, which God has placed as a sentinel over his moral conduct, with the result that it is rendered incapable of preventing him from acts of wrong and iniquity. It is only after a man has already carried out this cruel suppression of conscience…
Read the full tafseer →