Explained with ayahs 105–109
حقیقت چھپ نہیں سکتی
اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ سے فرماتا ہے کہ یہ قرآن کریم جو آپ پر اللہ نے اتارا ہے وہ مکمل طور پر اور ابتداء تا انتہا حق ہے، اس کی خبریں بھی حق اس کے فرمان بھی برحق۔ پھر فرماتا ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان وہ انصاف کرو جو اللہ تعالیٰ تمہیں سمجھائے، بعض علمائے اصول نے اس سے استدلال کیا ہے کہ نبی ﷺ کو اجتہاد سے حکم کرنے کا اختیار دیا گیا تھا، اس کی دلیل بخاری مسلم کی حدیث بھی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دروازے پر دو جھگڑنے والوں کی آواز سنی تو آپ باہر آئے اور فرمانے لگے میں ایک انسان ہوں جو سنتا ہوں اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں بہت ممکن ہے کہ یہ ایک شخص زیادہ حجت باز اور چرب زبان ہو اور میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
سورة النِّسَآء 141
جو شخص دوسرے کے ساتھ خیانت کرتا ہے وہ دراصل سب سے پہلے خود اپنے نفس کے ساتھ خیانت کرتا ہے۔ کیونکہ دل اور دماغ کو جو قوتیں اس کے پاس بطور امانت ہیں ان پر بےجا تصرف کر کے وہ انہیں مجبور کرتا ہے کہ خیانت میں اس کا ساتھ دیں۔ اور اپنے ضمیر کو جسے اللہ نے اس کے اخلاق کا محافظ بنایا تھا، اس حد تک دبا دیتا ہے کہ وہ اس خیانت کاری میں سد راہ بننے کے قابل نہیں رہتا۔ جب انسان اپنے اندر اس ظالمانہ دست برد کو پایہ تکمیل تک پہنچا لیتا ہے تب کہیں باہر اس سے خیانت و معصیت کے افعال صادر ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →چوتھی آیت (یعنی آیت نمبر 801) میں ان خیانت کرنے والوں کے برے حال اور بیوقوفی کا بیان ہے کہ یہ لوگ اپنے ہی جیسے آدمیوں سے تو شرماتے اور چوری کو چھپاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے نہیں شرماتے جو ہر وقت ان کے ساتھ ہے اور ان کے ہر کام کو دیکھ رہا ہے، خصوصاً اس واقعہ کو جب انہوں نے باہم مشورہ کر کے یہ رائے قائم کی کہ الزام یہودی پر لگاؤ اور رسول اللہ ﷺ سے رفاعہ اور قتادہ کی شکایت کرو کہ بلاوجہ ہم پر الزام لگا رہے ہیں اور آپ سے اس کی درخواست کرو کہ آپ یہودی کے مقابلہ میں ہماری حمایت فرمائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
آگے کا مضمون۔ آیات 105۔ 115: آگے پیغمبر ﷺ کو خطاب کر کے یہ ہدایت فرمائی کہ اللہ نے تمہیں جو کتاب عطا فرمائی ہے اب یہی حق و باطل کی کسوٹی ہے، تم اسی کسوٹی پر پرکھ کے لوگوں کے ساتھ معاملہ کرو جو اس پر پورے اتریں وہ مومن و مخلص ہیں، جو اس پر کھوٹے ثابت ہوں وہ عہد شکن اور غدار ہیں، تم خدا کے حضور میں ان کے سفارشی اور وکیل نہ بنو۔ خدا ایسے بدعہدوں اور گناہگاروں کو پسند نہیں کرتا۔ آیت 88 فمالکم فی المنافقین الایۃ میں جس بات کی طرف اجمالاً اشارہ فرمایا تھا اب یہ اس کی تفصیل آگئی۔ وہاں یہ بات گزر چکی ہے کہ مسلمانوں میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے دل میں منافقین کے لیے بڑا نرم گوشہ رکھتے تھے۔ وہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
16۔ 1 یعنی بغیر تحقیق کہ آپ ﷺ نے خیانت کرنے والوں کی حمایت کی ہے، اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ فریقین میں سے جب تک کسی کی بابت پورا یقین نہ ہو کہ وہ حق پر ہے اس کی حمایت اور وکالت کرنا جائز نہیں۔ علاوہ ازیں اگر کوئی فریق دھوکے اور فریب اور اپنی چرب زبانی سے عدالت یا حاکم مجاز سے اپنے حق میں فیصلہ کرا لے گا درآں حالیکہ وہ صاحب حق نہ ہو تو ایسے فیصلے کی عند اللہ کوئی اہمیت نہیں۔ اس بات کو نبی ﷺ نے ایک حدیث میں اس طرح بیان فرمایا خبردار ! میں ایک انسان ہی ہوں اور جس طرح میں سنتا ہوں اسی کی روشنی میں فیصلہ کرتا ہوں ممکن ہے ایک شخص اپنی دلیل و حجت پیش کرنے میں تیز طرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–112
66: یہ آیتیں اگرچہ عام ہدایتوں پر مشتمل ہیں مگر ایک خاص واقعے میں نازل ہوئی ہیں، خاندان بنو ابیرق کے ایک شخص بشر نے جو ظاہری طور پر مسلمان تھا، ایک صحابی حضرت رفاعہ ؓ کے گھر میں نقب لگا کر کچھ غلہ اور کچھ ہتھیار چرالئے، اور لے جاتے وقت ہوشیاری یہ کی کہ غلے کی بوری کا منہ اس طرح کھولا کہ تھوڑا تھوڑا غلہ راستے میں گرتا جائے یہاں تک کہ ایک یہودی کے گھر کے دروازے پر پہنچ کر بوری کا منہ بند کردیا اور بعد میں چوری کئے ہوئے ہتھیار اسی یہودی کے پاس رکھوادئے، جب چوری کی تفتیش شروع ہوئی تو ایک طرف غلے کے نشانات یہودی کے گھر تک پائے گئے اور دوسری طرف ہتھیار اسی کے پاس سے برآمد ہوئے، اس لئے شروع میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
درس نمبر 39 ایک نظر میں :
ان آیات میں ایک ایسی کہانی کی طرف اشارہ ہے جس کی کوئی مثال اس کرہ ارض پر نہیں ملتی بلکہ انسانیت کی تاریخ میں اس کے ساتھ ملتی جلتی کوئی مثال نہیں ہے ۔ یہ مثال بھی شاہد عادل ہے کہ یہ دین من جانب اللہ ہے اور لازما من جانب اللہ ہے ۔ اس لئے کہ انسانوں کا تصور انصاف اور عدالت جس قدر بھی بلند ہو ‘ ان کی روح جس قدر بھی صاف ہوجائے اور ان کا مزاج جس قدر بھی صراط مستقیم پر قائم ہو وہ اپنے آپ کو اس مقام بلند تک نہیں پہنچا سکتے ‘ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ کام صرف وحی الہی کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ انسانی تاریخ کے افق پر کھینچا جانے والا یہ گراف اس قدر اونچا ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
5 پہلی آیت میں جب ان لوگوں کی دغا اور برائی صاف بتلا دی گئی تو شاید رسول اللہ ﷺ نے بوجہ غلبہء شفقت جو آپ کو تمام خلق بالخصوص اپنی امت پر تھا حق تعالیٰ سے ان خطاواروں کی معافی چاہیے۔ اس پر ارشاد ہوا کہ ان دغا بازوں کی طرف ہو کر اللہ سے کیوں جھگڑتے ہو ایسے لوگ اللہ کو خوش نہیں آتے۔ یہ تو لوگوں سے چھپ چھپ کر راتوں کو ناجائز مشورہ کرتے ہیں اور اللہ سے نہیں شرماتے جو ہر وقت ان کے ساتھ ہے اور ان کے تمام امور پر حاوی ہے اور اگر آپ نے ان کی معافی نہ بھی مانگی ہو تو آپ کی معافی مانگنے کا احتمال تو بالیقین موجود تھا۔ دیکھئے دوسری جگہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بابت ( يُجَادِلُنَا فِيْ قَوْمِ لُوْطٍ…
Read the full tafseer →آیت 108 یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلاَ یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰہِ
یہ لوگ انسانوں سے اپنی حرکات چھپا سکتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ سے نہیں چھپا سکتے۔
وَہُوَ مَعَہُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لاَ یَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ ط
یہ منافقین کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ جب وہ مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف چوری چھپے سازشیں کر رہے ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ اگر اللہ پر ان کا ایمان ہو تو انہیں معلوم ہو کہ اللہ ہماری باتیں سن رہا ہے۔ یہ مسلمانوں سے ڈرتے ہیں ‘ ان سے اپنی باتوں کو خفیہ رکھتے ہیں ‘ مگر ان بد بختوں کو یہ خیال نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ تو ہر وقت ہمارے پاس موجود ہے ‘ اس…
Read the full tafseer →147 زرہ کا چور دراصل سچا مسلمان نہیں بلکہ منافق آدمی تھا اور اس کے خاندان والے بھی کچھ پختہ ایمان والے نہ تھے۔ جب یہ مقدمہ رسول اللہ ﷺ کے ہاں چلا گیا تو ان لوگوں کے مشورے کا موضوع یہ ہوتا تھا کہ چور کس طرح چوری کے اس جرم سے بچ سکتا ہے اور یہ جرم اس یہودی کے سر کیسے تھوپا جائے۔ دراصل اس طرح راتوں کو مشورے کرنا اور یہ سمجھنا کہ اس طرح ان کے جرم پر پردہ پڑا رہے گا، یہی ان لوگوں کے ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے اور اللہ سے کوئی معاملہ بھلا کیسے چھپا رہ سکتا ہے۔
Read the full tafseer →302 ۔ (اس کے احاطہ علم سے کون سی کارروائی مخفی سے مخفی بھی باہر رہ سکتی ہے ؟ ) اس حقیقت کا استحضار ہر جرم، ہر معصیت سے باز رکھنے کو کافی ہے۔ (آیت) ” یستخفون من الناس “۔ یعنی خلق کے سامنے ذلت ورسوائی سے شرماتے ہیں۔ (آیت) ” لا یستخفون من اللہ “۔ یعنی اللہ کے حضور میں بہ طور مجرم پیش ہونے سے نہیں شرماتے ہیں۔ (آیت) ” اذ یبیتون۔۔۔ القول “۔ اشارہ ہے اس طرف کہ اس خاص معاملہ میں رات کو باہم راز دارانہ مشورہ ہوا تھا کہ صبح کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گفتگو اسی طریقہ پر کی جائے گی۔ (آیت) ” وھو معھم “۔ معتزلہ، قدریہ، جہمیہ، وغیرہ نے اس قسم کی آیتوں سے حق تعالیٰ کی معیت مکانی پر استدلال کیا ہے۔ قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–112
وَاسْتغفِرِ اللہ ان اللہ کان غفورارحیما، یعنی اس بات پر کہ بغیر تحقیق کے آپ نے جو خیانت کرنے والوں کی حمایت کی ہے اس پر اللہ سے مغفرت طلب کریں، اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو مومنین اس منافق کے ساتھ اس کی حمایت کرنے کی وجہ سے خیانت یعنی معصیت میں مبتیلا ہوگئے آپ ان کے لئے مغفرت طلب کریں مذکورہ واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فریقین میں سے جب تک کسی پر پورا یقین نہ ہو کہ وہ حق پر ہے اس کی حمایت اور وکالت کرنا جائز نہیں۔
اگر کوئی فریق دھوکے اور فریب اور چرب زبانی سے عدالت یا حاکم سے اپنے حق میں فیصلہ کرالے تو ایسے فیصلے کی عند اللہ کوئی حیثیت نہیں، اس بات کو نبی ﷺ نے ایک حدیث میں اسطرح بیان…
Read the full tafseer →یستخفون من الناس (یعنی ابن ابیرق کی قوم والے لوگوں کی شرم اور رسوائی کے خوف کی وجہ سے) لوگوں سے تو چھپاتے ہیں۔
ولا یستخفون من اللہ اور اللہ سے نہیں چھپا سکتے یا یہ مطلب کہ اللہ سے نہیں شرماتے سب سے زیادہ مستحق تو اللہ ہی ہے کہ اس سے شرم کی جائے اور اس کے سامنے رسوا ہونے کا خوف کیا جائے۔ (1) [ ابن حمید اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن مسعود ؓ کا قول موقوفاً نقل کیا ہے کہ جو شخص لوگوں کے سامنے تو نماز پڑھتا ہے اور خلوت میں وہ نماز نہیں پڑھتا تو یہ استہانت ہے۔ وہ اس فعل سے اللہ کی توہین کرتا ہے۔ یہ فرمانے کے بعد حضرت ابن مسعود ؓ نے یہ آیت یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلاَ یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
(107۔ 108۔ 109) اللہ تعالیٰ ایسے فاجر، کذاب اور بےقصور لوگوں پر بہتان لگانے والوں کو نہیں چاہتے جن کی حالت یہ ہے کہ چوری کی بنا پر لوگوں سے تو شرماتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ سے نہیں شرماتے، حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کی تمام باتوں سے باخبر ہے، جس وقت پر یہ لوگ ایسی باتیں کہہ رہے تھے کہ جن کو نہ اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور نہ یہ خود پسند کرتے ہیں اور جو یہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کا جاننے والا ہے، قوم طعمہ یعنی بنی ظفر دنیاوی زندگی میں تو تم نے طعمہ کی طرف سے جھگڑا کرلیا، لیکن اللہ تعالیٰ کو طعمہ کی جانب سے کون جواب دے گا یا طعمہ پر عذاب خداوندی کا کون ذمہ دار ہوگا۔
Read the full tafseer →يَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ : یعنی ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ گناہوں کا ارتکاب کرنے میں لوگوں سے چھپاؤ تو کرتے، ہیں مگر اللہ تعالیٰ سے چھپاؤ نہیں کرتے جو اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ رات کی گھڑیوں میں نا مناسب کاموں کے مشورے کر رہے ہوتے ہیں، وہ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے، اس سے بچ کر کہاں جائیں گے ؟ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہونے کے مطلب کے لیے دیکھیے سورة حدید (4) اور سورة مجادلہ (7)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
آیت نمبر 108 تا 109۔
ضحاک ؓ نے کہا : جب اس نے چوری کی تو اس نے اپنے گھر میں ایک گڑھا کھودا اور زرہ کو پرنالے کے نیچے رکھ دیا تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” یستخفون من الناس ولا یستخفون من اللہ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ پر زرہ کی جگہ مخفی نہیں ہے۔ (آیت) ” وھو معھم “۔ یعنی وہ ان کو تاڑنے والا اور ان پر نگہبان ہے۔ بعض نے فرمایا (آیت) ” یستخفون من الناس “ کا معنی ہے وہ لوگوں سے چھپتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” ومن ھو مستخف بالیل “۔ (الرعد : 10) یعنی وہ چھپنے والا ہے، بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے وہ لوگوں سے حیا کرتے ہیں یہ اس لیے، کیونکہ حیا کرنا چھپنے کا سبب ہے۔
(آیت) ” وھو معھم “ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–113
(1) ترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وحاکم (نے اس کو صحیح کہا) قتادہ بن نعمان ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے خاندان کے لوگ تھے جن کو بنو ابیرق کہا جاتا تھا (یہ تین بھائی تھے) بشر بشیر، مبشر، بشیر منافق تھا اشعار کہتا تھا جس میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی ہجو کرتا اور شعروں کی نسبت کسی عرب کی طرف کردیتا تھا اور کہتا تھا کہ فلاں نے ایسا اور ایسا کہا اور جب رسول اللہ ﷺ کے اصحاب یہ شعر سنتے تھے تو کہتے اللہ کی قسم ! کہ یہ شعر اسی خبیث نے کہے ہیں اس نے کہا جب بھی لوگ قصیدہ کہیں تو کہہ دین کہ ابن ابیرق نے کہا یہ لوگ جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں میں تنگ دست تھے ( اس زمانہ میں) اہل مدینہ…
Read the full tafseer →[ یَّسْتَخْفُوْنَ : وہ پوشیدگی چاہتے ہیں ] [ مِنَ النَّاسِ : لوگوں سے ] [ وَلاَ یَسْتَخْفُوْنَ : اور پوشیدگی نہیں چاہتے ] [ مِنَ اللّٰہِ : اللہ سے ] [ وَہُوَ : اور وہ ] [ مَعَہُم : ان کے ساتھ ہوتا ہے ] [ اِِذْ : جب ] [ یُـبَـیِّتُوْنَ : وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں ] [ مَا : اس کا ] [ لاَ یَرْضٰی : وہ (یعنی اللہ) راضی نہیں ہوتا ] [ مِنَ الْقَوْلِ : جس بات سے ] [ وَکَانَ اللّٰہُ : اور اللہ ہے ] [ بِمَا : اس کو جو ] [ یَعْمَلُوْنَ : وہ کرتے ہیں ] [ مُحِیْطًا : گھیرنے والا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
ایک منافق کا چوری کرنا اور اس کی طرف سے دفاع کرنے پر چند تنبیہات
آیت بالا کا سبب نزول ایک واقعہ ہے جسے امام ترمذی نے اپنی کتاب میں حضرت قتادہ بن نعمان ؓ سے نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہمارے قبیلے میں تین آدمی تھے، بشر، بشیر، اور مبشر، ان کو بنی ابیرق کہا جاتا تھا، ان میں بشیر منافق آدمی تھا وہ ایسے شعر کہتا تھا جن میں انبیاء کرام ﷺ کے صحابہ کی ہجو ہوتی تھی پھر ان اشعار کو بعض اہل عرل کی طرف منسوب کردیتا تھا اور کہتا رہتا تھا کہ فلاں نے یوں کہا فلاں نے یوں کہا آنحضرت سرور عالم کے صحابہ (جب ان اشعار کو سنتے تھے تو سمجھ لیتے تھے کہ یہ اسی کی حرکت ہے اور) کہتے تھے کہ اللہ کی قسم یہ شعر تو اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–115
حکم بست وہشتم ممانعت از حمایت اہل خیانت۔
قال تعالی۔ انا انزلنا الیک الکتاب بالحق۔۔۔ الی۔۔۔ مصیرا۔
ربط) گزشتہ آیات میں کفار اور منافقین کے معاملات کا ذکر تھا اب آیات میں منافقین کے ایک شرانگیز قصہ کا بیان ہے یہ بتلانا مقصود ہے کہ کافروں پر ظلم کرنا اور بےگناہ پر تہمت اور الزام لگانا جائز نہیں اور خیانت کرنے والے کی حمایت جائز نہیں اگرچہ وہ کلمہ گو ہو مقدمہ کا فیصلہ عدل و انصاف سے ہونا چاہیے۔
شان نزول۔
نبی ﷺ کے زمانہ میں ایک منافق طعمہ بن ابیرق نامی نے ایک انصاری کے گھر میں نقب لگائی اور آٹے کا تھیلا جس میں زرہ وہتھیار رکھے ہوئے تھے چرا کرلے گیا اتفاق سے اس تھیلہ میں ایک سوراخ تھا چور کے گھر تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–109
79 آنحضرت ﷺ نے منافقین کی چرب زبانی اور طاقت لسانی سے زید بن یاسمین کو چور سمجھ کر اس کا ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ فرما لیا تھا پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو اصل حقیقت سے آگاہ فرما دیا تو آپ کو معلوم ہوگیا کہ اگر یہ سزا نافذ ہوجاتی تو نفس الامر کے خلاف اور واقع میں خطا ہوتی اس لیے اس میں اگرچہ آپ معذور تھے لیکن پھر بھی اس لغزش پر استغفار کا حکم فرمایا۔ فھم النبی ﷺ ان یقطع ید زید الیھودی (معالم ج 1 ص 494) فلما اطلعہ اللہ علی کذب قوم طعمۃ عرف انہ لو وقع ذلک الامر لکان خطا فی نفس الامر فامرہ بالاستغفار منہ و ان کان معذورا (خازن ج 1 ص 492) ۔ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضیٰ مِنَ الْقَوْل ْ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
ربط آیات
گزشتہ دروس میں سفر اور خوف کی حالتوں میں نماز کا بیان تھا۔ اس کے بعد امن کی حالت میں دستور کے مطابق نماز پڑھنے کا حکم ہوا۔ پھر جہاد کے ضمن میں دشمن کا تعاقب کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور اس معاملہ میں سستی کا اظہار کرنے سے منع فرمایا گیا۔ اہلِ ایمان کو یاد دلایا کہ کافر باطل پروگرام رکھنے کے باوجود بڑے مستعد ہیں جب کہ مسلمانوں کے پاس تو اللہ اور اسکے رسول کا دین برحق ہے لہٰذا انہیں دشمن کے مقابلہ میں زیادہ مستعد ہونا چاہئے۔ انہیں اللہ تعالیٰ سے وہ کچھ امید ہے جو کفار کو نہیں ہو سکتی۔
اُس سے پہلے منافقین کا تذکرہ تھا کہ وہ جہاد سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور اس میں شمولیت کے خلاف حیلے بہانے…
Read the full tafseer →يَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللہِ وَھُوَمَعَھُمْ اِذْ يُبَيِّتُوْنَ مَا لَا يَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ 0ۭ وَكَانَ اللہُ بِمَا يَعْمَلُوْنَ مُحِيْطًا 108
اسْتِخْفَاءُ
والاسْتِخْفَاءُ : طلب الإخفاء، ومنه قوله تعالی: أَلا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ [هود/ 5] والخَوَافي : جمع خافية، وهي : ما دون القوادم من الرّيش .
۔ الا ستخفاء ۔ چھپنا ۔ قرآن میں ہے : أَلا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ [هود/ 5] دیکھو یہ اپنے سینوں کو دوہرا کرتے ہیں تاکہ خدا سے پردہ کریں ۔ الخوافی ۔ پرند کے بازوں کے نیچے چھپے ہوئے پر اس کا مفرد خفیتہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
1 ؎ جو دغابازی اور خدا کی نافرمانی کرتے ہیں درحقیقت وہ اپنے حق میں برا کرتے ہیں کس لئے کہ اس کا وبال اور انجام کار انہی پر پڑتا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَََآ اَرَاکَ اللّٰہُ ط وَلَا تَـکُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًا لا وَّاسْتَغْفِرِاللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ج وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَہُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنْ کَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًا ج لا یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا یَسْتخْفُوْنَ مِنَ اللّٰہِ وَھُوَ مَعَہُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ ط وَ کَانَ اللّٰہُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا
” اے نبی ! ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ تم فیصلہ کرو لوگوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش ہونے والے مقدمہ کی روئیداد اس طرح ہے کہ انصار قبیلہ کے بنی ظفر خاندان میں سے ایک شخص نے انصاری کے گھر سے آٹے کی بوری اور ایک زرہ چوری کرلی۔ جب اس کا کھوج شروع ہوا تو اس نے اپنے آپ کو الزام سے بچانے کے لیے چوری کا سامان ایک یہودی کے گھر میں امانت رکھ دیا۔ اہل محلہ نے سامان یہودی کے گھر پاکر اسے چور ٹھہرایا لیکن یہودی نے انصاری کا نام لیا۔ جس پر انصاری کے رشتے داروں نے مل بیٹھ کر مشورہ کیا کہ رسول معظم ﷺ کے سامنے یہودی کو چور ثابت کیا جائے۔ جب مقدمہ آپ کی خدمت میں پیش ہوا تو انہوں نے یہودی کو چور ثابت کردیا۔ قریب تھا کہ آپ یہودی…
Read the full tafseer →آیت 108 : یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ (وہ لوگوں سے حیاء کرتے ہوئے چھپاتے پھرتے ہیں) ان کے ضرر کے خطرہ سے۔
حیاء کا حقدار سب سے بڑھ کر اللہ عز ّوجل ہے :
وَلَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰہِ (وہ اللہ تعالیٰ سے چھپا نہیں سکتے) اور نہ اس سے شرم کرتے ہیں۔ وَہُوَ مَعَہُمْ (حالانکہ وہ ان کے ساتھ ہے) ان کے حالات سے مطلع ہے۔ اور اس پر کوئی چھپائی جانے والی چیز مخفی نہیں۔
فائدہ : یہ آیت ان لوگوں کے لئے ہے جو اپنے رب سے حیاء نہیں کرتے اور اس سے نہیں ڈرتے حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ اس کے سامنے ہیں۔ ان کے اور اس کے سامنے کوئی آڑ نہیں اور نہ اوٹ ہے اور نہ کوئی چیز اس سے پوشیدہ رہ سکتی ہے۔ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ…
Read the full tafseer →108۔ (آیت)” ویستخفون من الناس “۔ لوگوں سے حیا کر کے ان سے چھپاتے ہو، اس سے مراد بنی ظفر بن الحارث ہے ۔ (آیت)” ولا یستخفون من اللہ “۔ جبکہ وہ اللہ سے نہ حیا کرتے ہیں اور نہ چھپاتے ہیں ۔ (آیت)” وھو معھم اذ یبیتون “۔ وہ باتیں کرتے ہیں تبیت کہا جاتا ہے رات کو کسی کام کے متعلق تدبیر کرنا ، (آیت)” مالا یرضی من القول “۔ طعمہ والوں کی قوم نے آپس میں یہ طے کیا کہ معاملہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کریں چونکہ طعمہ مسلمان تھا اس لیے حضور ﷺ اس کے قول قسم کا اعتبار کرلیں اور یہودی چونکہ کافر ہے ، اس لیے اس کی بات نہیں سنی جائے گی اللہ نے قوم طعمہ کے اس مشورہ کو پسند نہیں فرمایا ۔ (آیت)” وکان اللہ بما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
(105 ۔ 109) ۔ ترمذی، مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور قتادہ بن نعمان ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک صحابی قتادہ بن نعمان ؓ کی زرہ چوری جاتی رہی اور دریافت سے معلوم ہوا کہ قبیلہ بنی ظفر کے ایک شخص طعمہ بن ابیرق نے وہ ذرہ چرائی ہے طعمہ نے یہ چالاکی کی کہ وہ ذرہ ایک شخص یہودی زید بن سمین کے پاس رکھوا دی۔ اور طعمہ کی خانہ تلاشی کے وقت جب وہ ذرہ طعمہ کے گھر سے برآمد نہیں ہوئی تو طعمہ نے اسی یہودی کو چور ٹھہرا کر ذرہ کا پتہ اسی یہودی کے گھر میں ہونے کا دے دیا اور ادھر طعمہ کی قوم نے رات کو یہ مشور کیا کہ آنحضرت ﷺ کے پاس جا کر طعمہ کی برأت کی گواہی ادا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–113
آیت 105
اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا، بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامرو نواہی عدل پر مبنی ہیں۔ (وتمت کلمت ربک صدقاً وعدلاً ) (الانعام :110/6) ” اور تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔ “
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لئے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیھم) (النحل :33/16) ” ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–113
قول باری ہے ( ومن یکسب خطیئۃ او اثما ثم یرم بہ یریئاً فقد احتمل بھتاناً و اثما مبینا۔ اور جس نے کوئی خطا یا گناہ کر کے اس کا الزام کسی بےگناہ پر تھوپ دیا اس نے بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ لیا۔ ) خطیئہ اولاثم کے درمیان فرق کے متعلق ایک قول ہے کہ اگر کوئی غلط کام جان بوجھ کر کیا جائے تو وہ اثم کہلاتا ہے ، اگر عمداً نہ کیا جائے تو وہ خطیئہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کا ایک ساتھ اس لیے ذکر کیا کہ ان دونوں کا حکم بیان ہوجائے اور یہ واضح کردیا جائے۔
کہ خواہ یہ عمداً ہوا ہو یا عمد کے بغیر دونوں صورتیں یکساں ہیں۔ جو شخص کسی بےگناہ انسان پر کوئی الزام لگائے گا و بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار…
Read the full tafseer →284 ایمان و یقین سے محرومی کی ایک نقد سزا : کہ اس سے انسان کی مت مار کر رکھ دی جاتی ہے اور وہ صحیح اور غلط کی پہچان اور نفع و نقصان کی تمیز سے محروم ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایمان و یقین سے محرومی کا نتیجہ اور اس کی ایک نقد سزا یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ لوگوں سے ڈرتے ہیں اللہ سے نہیں ڈرتے۔ یعنی ان کا معاملہ الٹا ہے۔ حالانکہ اصل حق اللہ پاک ہی کا ہے کہ بندہ اس وحدہ لاشریک سے شرماتا اور اس کی معصیت اور نافرمانی سے ہمیشہ بچتا رہے۔ اور ایک اور مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ استخفاء کو یہاں پر لازم کی بجائے متعدی کے معنی میں لیا جائے یعنی وہ لوگ اپنے کرتوتوں کو لوگوں سے تو چھپاتے ہیں مگر اللہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
فیصلہ عدل سے کرو
تشریح : ان آیات کا شان نزول ایک جھگڑا ہے جو طعمہ مسلمان اور زید یہودی کے درمیان ہوگیا تھا۔ واقعہ اس طرح ہے کہ طعمہ نے کچھ مال چوری کیا اور اس مال کو پکڑے جانے کے خطرہ سے یہودی کے گھر رکھوا دیا جب کھوج لگانے والوں نے مال یہودی کے گھر سے پکڑ لیا تو یہودی کو چوری کے الزام میں پکڑ لیا۔ یہودی کیونکہ بےقصور تھا وہ بہت پریشان ہوا لیکن مال کا ملنا بہت بڑا ثبوت تھا اس کے علاوہ طعمہ کے خاندان والوں نے قسمیں کھا کر کہا کہ یہودی غلط کہتا ہے۔ یہ قضیہ فیصلہ کے لیے نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا تو طعمہ اور اس کے ساتھیوں نے قسمیں کھا کر اور بڑا زور دے کر نبی کریم ﷺ کو یقین دلا یا کہ زید جھوٹ بول رہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–112
رکوع نمبر 16 ۔ آیات 105 تا 112 ۔ اسرار و معارف :
انا انزلنا۔۔۔ اثما مبینا۔
ہم نے آپ پر سچی کتاب نازل فرمائی ہے کہ آپ لوگوں کے درمیان انصاف کریں اور اس کے مطابق کریں جو اللہ نے آپ کو بتا دیا ہے یا دکھا دیا ہے۔ سب سے پہلی بات جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ نزول قرآن ہے ہی نافذ کرنے کے لیے اور جہاں تک جس کا اختیار ہے وہاں تک اسے قرآن (اسلام) نافذ کرنا چاہئے۔ جیسے کسی کو اپنے وجود پر ہی اختیار ہے تو اپنے وجود پر تو نافذ کرے۔ اسی طرح پیر صاحبان کو مریدین پر مولوی صاحبان کو اپنے ماننے والوں پر ، کسی کو گھر پر تو کسی کو محلہ پر اور کسی کو ملک پر اختیار حاصل ہوتا ہے۔ اپنے اپنے اختیار کے مطابق…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ گنا ہوں کا ارتکاب کرنے میں لوگوں سے تو شرم کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ سے جو ان کے ظاہر و باطن کو جنتا ہے شرم نہیں کرتے۔3 یعنی جاننے، دیکھنے اور سننے کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے ورنہ بذاتہ تو اللہ تعالیٰ مستوی علی العرش ہے ، ( قرطبی، ابن کثیر)4 جیسے جھوٹی شہادت پر ایکا کرنا ارنے قصو پر چوری کا الزام لگانا۔5 تو اس سے بچ کر کہاں جائے گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–111
یستخفون۔ وہ چھپتے ہیں۔ وہ چھپے رہ سکتے ہیں۔ استخفاء (استفعال) مصدر خفی مادہ ۔
یبیتون۔ بتییت مصدر باب تفعیل۔ رات کو سوچتے ہیں۔ رات کو سوچتے اور تدبیریں کرتے ہیں۔ مالا یرضی من القول۔ ایسی باتیں سوچتے اور کہتے ہیں جن پر خدا راضی نہیں ہے۔ محیطا۔ اسم فاعل۔ مفرد احاطۃ مصدر۔ ہر طرف سے گھیرے ہوئے۔ پورا پورا قابو رکھنے والا۔ ہر طرح سے جاننے والا۔ یہاں احاطہ علمی مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–112
آیت نمبر 105-112
لغات القرآن : لتحکم، تاکہ تو فیصلہ کر دے۔ خائنین، خیانت کرنے والے۔ بددیانت۔ خصیم، جھگڑا لو آدمی۔ لاتجادل، جھگڑا نہ کر۔ یختانون، وہ خیانت کرتے ہیں۔ خوان، بہت زیادہ خیانت کرنے والا۔ یستخفون، البتہ وہ شرماتے ہیں۔ یرم، وہ مارتا ہے، وہ پھینکتا ہے، تہمت لگاتا ہے۔
تشریح : حضور نبی کریم ﷺ کے سامنے ایک مقدمہ پیش ہوا جس میں اصلی مجرم ایک نام نہاد مسلمان بشر نامی تھا۔ اس نے اور اس کے قبیلہ والوں نے صورت حال کی شکل یوں دے دی کہ ایک یہودی مجرم نظر آنے لگا۔ اس کے قبیلہ والے خوب چیختے چلاتے ہوئے آئے کہ ہم مسلمان ہیں ہم کیوں چوری کرنے لگے۔ اصل چور تو وہ جہنمی یہودی ہے۔
واقعات کی صورت کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
شان نزول : آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک انصاری کی زرہ آٹے میں دھری ہوئی تھی جو گم ہوگئی۔ صبح کو تلاش کی تو آٹے کا نشان ایک شخص کے گھر تک تھا جس کا نام طعمہ بن ابیرق تھا، وہاں جھاڑا لیا (تلاشی لی) تو نہ پائی۔ وہ نشان آگے دیکھا تو ایک یہودی کے گھر تک جس کا نام زید تھا پایا گیا۔ وہاں زرہ ملی۔ اس یہودی نے کہا کہ مجھ کو طعمہ نے سپرد کی۔ طعمہ نے کہا میں بری ہوں چور وہی ہے جس کے ہاں برآمد ہوئی۔ طعمہ کی قوم میں رات کو مشورہ ہوا کہ ہم سب مل کر آنحضرت ﷺ کے پاس گواہی دیں گے کہ طعمہ بری ہے اور آنحضرت ﷺ ہماری حمایت کریں گے اور وہ یہودی چور ٹھہرے گا۔ صبح کو سب نے مل کر یہی کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
[72] مراد منافقین ہیں جن کا ذکر پچھلی آیت میں '' خائنین '' کے لفظ سے ہوا ہے اس لئے کہ ان کی خیانت سے اللہ اور رسول کا کچھ نہیں بگڑتا۔ بگڑتا تو انہی کا ہے لیکن ان کو نظر نہیں آتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–109
قرآن حقائق محسوسہ کا نام ہے :
(ف 2) (آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق “ کے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ افق اعلی سے حضور ﷺ کے قلب اقدس پر نازل ہوا ہے وہ حق یعنی قطعی صلت وصفا سے حالات وظروف کے بالکل مطابق ہے ، علوم ومحسوسات کے موافق ہے اور کوئی چیز اس میں غیر موزوں اور غیر متناسب نہیں ۔
(آیت) ” بما ارک اللہ “ ۔ سے مراد یہ ہے ‘ یہ قرآن حتما وسعت ومشاہدہ کے ہم پلہ ہے ، اس کی قطعیت میں کوئی احتمال شک وشبہ نہیں ، یہ محسوس حقیقت ہے جس کی تجلیات قلب اطہر پر جلوہ کناں ہیں ۔
(آیت) ” ولا تکن للخآئنین خصیما “۔ اور اس قبیل کی تمام آیات جو اس کے بعد مذکور ہیں ، منصب نبوت کی توضیح کے لئے ہیں یعنی بتانا یہ…
Read the full tafseer →ف 1 اے پیغمبر ﷺ ! ہم نے آپ کی جانب ایک سچی کتاب نازل کی ہے یعنی کتاب حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے اور اس کے تمام امور حق اور سچے ہیں تاکہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے جو بتادیا ہے آپ اس کے مطابق اس واقع خاص میں لوگوں کے مابین فیصلہ کریں اور جب آپ کو چور کا اصل حال معلوم ہوگیا تو آپ خیانت کرنے والوں کے طرف دار نہ بنیں اور خائنوں کی طرف داری نہ کریں اور اسید بن عروہ کے کہنے سے جو طبعاً چور کی بےگناہی کی طرف آپ کو میلان ہوگیا تھا وہ آپ کی شان کے مناسب نہ تھا اس لئے آپ سے اس سے اللہ تعالیٰ کی جناب میں استغفار کیجیے بلا شبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت اور نہایت مہربانی کرنے والا ہے اور آپ ان لوگوں کی طرف سے جو اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–111
ف 4۔ بنوابیرق ایک خاندان تھا اس میں ایک شخص بشیر نام منافق تھا اس نے حضرت رفاعہ کی بخاری میں نقب دے کر کچھ آٹا اور کچھ ہتھیار جو اس میں رکھے تھے چرا لیے صبح کو پاس پڑوس میں تلاش کیا پتہ نہ چلا بعض قرائن قویہ سے بشیر پر شبہ ہوا بنوابیرق نے جو کہ بشیر کے شریک حال تھے اپنی برات کے لیے حضرت لبید کا نام لے دیا غرض حضرت رفاعہ نے اپنے برادر زادہ حضرت قتادہ کو جناب رسول اللہ کی خدمت میں بھیج کر اس واقعہ کی اطلاع دی آپ نے وعدہ تحقیق فرمایا بنوابیرق کو جو خبر ہوئی ایک شخص جو اسی خاندان کا تھا اسیر نام سب اس کے پاس آئے سب نے مشورہ کرکے جمع ہو کر مع بعض اہل محلہ کے جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جمع ہوئے…
Read the full tafseer →راتوں کو چھپ چھپ کر مشورے کرنے والے اللہ سے پوشیدہ نہیں ہیں
181: راتوں کرنے کا رواج بہت پرانا ہے اور خصوصا ایسی مجلسیں جن میں مخالفت کا عنصر غالب ہو اور رات کو جمائی جاتی ہیں تاکہ سرغنے سر جوڑ کر بیٹھ سکیں اور اپنی اپنی سکیمیں اور دائو پیچ ‘ ان کے طریقے اور پھر نتائج پر سیر حاصل بحث کرسکیں اور اس طرح جو قدم اٹھائیں وہ پیچھے نہ ہٹا سکیں ۔ اگر خاندان کا مسئلہ ہے تو پورے خاندان کے سربراہان جمع ہوں گے اگر پارٹی کا مسئلہ ہے تو پوری پارٹی کے سرغنے جمع ہوں گے اس طرح اگر کسی مکتب جکر کا معاملہ ہے تو مکتب فکر کے راہنمامل بیٹھیں گے روایات میں آتا ہے کہ اس معاملہ کا پورا حل کھل جانے کے بعد بنی ابیرق نے…
Read the full tafseer →The fourth verse (108) describes the condition of people who betray trust and act treacherously. It is strange that these people feel shy before other people like them and conceal their theft from them while they do not feel shy before Allah who is with them all the time and watches over everything they do, specially the occasion when they mutually conspired to put the blame on the Jew, went to the Holy Prophet ﷺ complained against Rifa` ah and Qatadah ؓ ، charged them of false accusation and appealed to the Holy Prophet for support against the Jew.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
141. Whoever commits a breach of trust with others in fact commits a breach of trust with his own self first. For the powers of his head and heart have been placed at his disposal as a trust, and by misusing them he is forcing those powers to support him in acts which involve a breach of trust. In doing so the person concerned suppresses his conscience, which God has placed as a sentinel over his moral conduct, with the result that it is rendered incapable of preventing him from acts of wrong and iniquity. It is only after a man has already carried out this cruel suppression of conscience…
Read the full tafseer →