Explained with ayahs 110–113
سچی توبہ کبھی مسترد نہیں ہوتی
اللہ تعالیٰ اپنا کرم اور اپنی مہربانی کو بیان فرماتا ہے کہ جس گناہ سے جو کوئی توبہ کرے اللہ اس کی طرف مہربانی سے رجوع کرتا ہے، ہر وہ شخص جو رب کی طرف جھکے رب اپنی مہربانی سے اور اپنی وسعت رحمت سے اسے ڈھانپ لیتا ہے اور اس کے صغیرہ کبیرہ گناہ کو بخشش دیتا ہے، چاہے وہ گناہ آسمان و زمین اور پہاڑوں سے بھی بڑے ہوں، بنو اسرائیل میں جب کوئی گناہ کرتا تو اس کے دروازے پر قدرتی حروف میں کفارہ لکھا ہوا نظر آجاتا جو اسے ادا کرنا پڑتا اور انہیں یہ بھی حکم تھا کہ ان کے کپڑے پر اگر پیشاب لگ جائے تو اتنا کپڑا کتروا ڈالیں اللہ نے اس امت پر آسانی کردی پانی سے دھو لینا ہی کپڑے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
سورة النِّسَآء 141
جو شخص دوسرے کے ساتھ خیانت کرتا ہے وہ دراصل سب سے پہلے خود اپنے نفس کے ساتھ خیانت کرتا ہے۔ کیونکہ دل اور دماغ کو جو قوتیں اس کے پاس بطور امانت ہیں ان پر بےجا تصرف کر کے وہ انہیں مجبور کرتا ہے کہ خیانت میں اس کا ساتھ دیں۔ اور اپنے ضمیر کو جسے اللہ نے اس کے اخلاق کا محافظ بنایا تھا، اس حد تک دبا دیتا ہے کہ وہ اس خیانت کاری میں سد راہ بننے کے قابل نہیں رہتا۔ جب انسان اپنے اندر اس ظالمانہ دست برد کو پایہ تکمیل تک پہنچا لیتا ہے تب کہیں باہر اس سے خیانت و معصیت کے افعال صادر ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →چھٹی آیت (یعنی نمبر 110) میں قرآن کریم کے عام اسلوب حکیمانہ کے مطابق مجرموں گنہگاروں کو ناامیدی سے بچانے کے لئے فرمایا گیا کہ چھوٹا گناہ ہو یا بڑا، جب گنہگار اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو غفور و رحیم پاتا ہے اس میں ان لوگوں کو جن سے یہ گناہ سر زد ہوا تھا اس کی ترغیب ہے کہ اب بھی باز آجائیں اور دل سے توبہ کرلیں تو کچھ نہیں بگڑا، اللہ تعالیٰ سب معاف فرمائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–112
109۔ 112:۔ ھٰٓاَنْتُمْ هٰٓؤُلَاۗءِ جٰدَلْتُمْ عَنْھُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۣ فَمَنْ يُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْھُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَمْ مَّنْ يَّكُوْنُ عَلَيْهِمْ وَكِيْلًا۔ وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۔ وَمَنْ يَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا يَكْسِبُهٗ عَلٰي نَفْسِهٖ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا۔ وَمَنْ يَّكْسِبْ خَطِيْۗئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهٖ بَرِيْۗـــــــًٔــا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنً۔
ھا عربی میں کلمہ تنبیہ ہے اس پر دوسرے مقام میں بحث گزر چکی ہے۔ یہ جملہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
19۔ 1 یعنی جب اس گناہ کی وجہ سے اس کا مواخذہ ہوگا تو اللہ کی گرفت سے اسے بچا سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–112
66: یہ آیتیں اگرچہ عام ہدایتوں پر مشتمل ہیں مگر ایک خاص واقعے میں نازل ہوئی ہیں، خاندان بنو ابیرق کے ایک شخص بشر نے جو ظاہری طور پر مسلمان تھا، ایک صحابی حضرت رفاعہ ؓ کے گھر میں نقب لگا کر کچھ غلہ اور کچھ ہتھیار چرالئے، اور لے جاتے وقت ہوشیاری یہ کی کہ غلے کی بوری کا منہ اس طرح کھولا کہ تھوڑا تھوڑا غلہ راستے میں گرتا جائے یہاں تک کہ ایک یہودی کے گھر کے دروازے پر پہنچ کر بوری کا منہ بند کردیا اور بعد میں چوری کئے ہوئے ہتھیار اسی یہودی کے پاس رکھوادئے، جب چوری کی تفتیش شروع ہوئی تو ایک طرف غلے کے نشانات یہودی کے گھر تک پائے گئے اور دوسری طرف ہتھیار اسی کے پاس سے برآمد ہوئے، اس لئے شروع میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
(آیت) ” نمبر 110 تا 113۔
یہ تین آیات وہ قواعد کلیہ وضع کرتی ہیں جن کے مطابق اللہ اپنے بندوں کے ساتھ سلوک و انصاف کرے گا ۔ اور لوگ بھی اگر چاہیں تو وہ اس کے مطابق سلوک کرکے اچھا معاشرہ تعمیر کرسکتے ہیں اور انہی قواعد کے مطابق وہ اللہ کے ساتھ معاملہ کر کے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں ۔
پہلی آیت میں معافی کا دروازہ چوپٹ کھلا رکھا گیا ۔ اگر لوگ توبہ کرلیں ۔ تو اللہ تعالیٰ کی معافی کا دروازہ کھلا پائیں گے ۔ ہر گناہ گار تائب کو معافی کی امید دلائی گئی ہے ۔
(آیت) ” ومن یعمل سوءا اویظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ یجد اللہ غفورا رحیما “۔ (4 : 110)
(اگر کوئی شخص برا فعل کر گزرے یا اپنے نفس پر ظلم کر جائے اور اس کے…
Read the full tafseer →1 سوء اور ظلم سے بڑے اور چھوٹے گناہ مراد ہیں یا سوء سے وہ گناہ مراد ہے جس سے دوسرے کو درد پہنچے جیسے کسی پر تہمت لگانی اور ظلم وہ ہے کہ اس کی خرابی اپنے ہی نفس تک رہے یعنی گناہ کیسا ہی ہو اس کا علاج استغفار اور توبہ ہے۔ توبہ کے بعد اللہ تعالیٰ البتہ معاف فرما دیتا ہے۔ اگر آدمیوں نے جان بوجھ کر فریب سے کسی مجرم کی برات ثابت کردی یا غلطی سے مجرم کو بےقصور سمجھ گئے تو اس سے اس کے جرم میں تخفیف بھی نہیں ہوسکتی۔ البتہ توبہ سے بالکل معاف ہوسکتا ہے۔ اس میں اس چور کو اور اس کے سب طرفداروں کو جو دیدہ دانستہ طرف دار بنے ہوں یا غلطی سے سبھی کو توبہ اور استغفار کا ارشاد ہوگیا اور اشارہ لطیف اس طرف بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
آیت 110 وَمَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءً ا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا
اس سلسلے میں سیدھی روش یہی ہے کہ غلطی یا خطا ہوگئی ہے تو اس کا اعتراف کرلو ‘ اس جرم کی جو دنیوی سزا ہے وہ بھگت لو اور اللہ سے استغفار کرو۔ اس طرح آخرت کی سزا سے چھٹکارا مل جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
149 اپنے گناہ دوسروں کے ذمہ لگانا اور بہتان تراشی :۔ اصل چور کی حمایت کی دو صورتیں تھیں۔ ایک یہ کہ چور نے جھوٹ بول کر اپنے حمائیتوں کو مطمئن کردیا ہو کہ میں فی الواقع مجرم نہیں ہوں یعنی ان کا یہ گناہ نادانستہ یا غلطی کی بنا پر ہو۔ اور دوسری صورت یہ تھی کہ حمائیتوں کو ٹھیک طرح معلوم ہوچکا ہو کہ جس کی حمایت کر رہے ہیں وہ فی الواقع مجرم ہے اور اس کا یہ گناہ دیدہ دانستہ ہو۔ پہلی صورت کو اللہ تعالیٰ نے سوء اً سے تعبیر فرمایا اور دوسری صورت کو اپنے آپ پر ظلم سے۔ ان دونوں صورتوں میں اگر یہ حمایتی لوگ مجرم کی حمایت سے دستبردار ہوجاتے اور اللہ سے بخشش مانگتے تو یقینا اللہ ان کا گناہ معاف کردیتا۔
واضح…
Read the full tafseer →304 ۔ اوپر کی وعیدی وانذاری آیتوں کے بعد گنہگاروں اور کمزور ایمان والوں کے لئے یہ کیسی حکیمانہ اور مناسب حال دلدہی ہے (آیت) ” من یعمل سوءا “۔ متعدی برائی مراد ہے یعنی کسی دوسرے کے ساتھ برائی کی جائے۔ مثلا ظلم، دغا، سود خواری، رشوت ستانی وغیرھا (آیت) ” یظلم نفسہ “۔ وہ برائی جو خود اپنے ہی حق میں کی جائے۔ مثلا ترک نماز، شراب خواری وغیرہا۔ (آیت) ” یستغفر اللہ “۔ یہ استغفار قواعد شرعی کے مطابق ہونا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–112
وَاسْتغفِرِ اللہ ان اللہ کان غفورارحیما، یعنی اس بات پر کہ بغیر تحقیق کے آپ نے جو خیانت کرنے والوں کی حمایت کی ہے اس پر اللہ سے مغفرت طلب کریں، اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو مومنین اس منافق کے ساتھ اس کی حمایت کرنے کی وجہ سے خیانت یعنی معصیت میں مبتیلا ہوگئے آپ ان کے لئے مغفرت طلب کریں مذکورہ واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فریقین میں سے جب تک کسی پر پورا یقین نہ ہو کہ وہ حق پر ہے اس کی حمایت اور وکالت کرنا جائز نہیں۔
اگر کوئی فریق دھوکے اور فریب اور چرب زبانی سے عدالت یا حاکم سے اپنے حق میں فیصلہ کرالے تو ایسے فیصلے کی عند اللہ کوئی حیثیت نہیں، اس بات کو نبی ﷺ نے ایک حدیث میں اسطرح بیان…
Read the full tafseer →ومن یعمل سوءا جو شخص کوئی بدی کرے یعنی ایسا برا کام کرے جس سے دوسرے کو تکلیف ہو۔ (1) [ ابن راہویہ نے مسند میں لکھا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا جب آیت مَنْ یَّعْمَلْ سُوْءً ا یُّجَزْبِہٖ وَلاَ یَجِدْلَہٗ مِنْ دُْون اللّٰہِ وَلِیًّا وَّلاَ نَصِیْرًا نازل ہوئی تو (غم کے مارے) ہمارے کھانے پینے کا فائدہ جاتا رہا ‘ آخر آیت وَمَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءً ا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہِ غَفُوْرًا رَحِیْمًانازل ہوئی۔ متعدد طریقوں سے حضرت علی ؓ کی روایت سے حضرت ابوبکر ؓ کا بیان آیا ہے کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے جس شخص نے کوئی گناہ کرلیا ہو پھر اٹھ کر…
Read the full tafseer →(110) اور جو چوری کرے اور جھوٹی قسم کھا کر بہتان باندھ کر اپنے آپ کو نقصان پہنچائے، پھر گناہوں سے اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرمائے گا،
Read the full tafseer →وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ۔۔ : مزید آیات دیکھیے سورة زمر (53، 54) سورة فرقان (68 تا 71) اور سورة آل عمران (135) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”کوئی آدمی جب جو کوئی گناہ کرے، پھر اٹھ کر اچھی طرح وضو کرے، پھر اللہ سے معافی مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کردیتا ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : (وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ڞ) [ آل عمران : 135 ] ”اور وہ لوگ جب کوئی بےحیائی کرتے ہیں، یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پس اپنے گناہ کی بخشش…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 110۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ بنی ابیرق پر اس آیت کے ساتھ توبہ پیش فرمائی۔ (آیت) ” ومن یعمل سوءا “۔ یعنی جو چوری کر بیٹھے (آیت) ” او یظلم نفسہ “۔ یا شرک کر بیٹھے۔ (آیت) ” ثم یستغفر اللہ “ پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے، زبان سے استغفار بغیر توبہ کے نفع مند نہیں، ہم نے یہ مسئلہ سورة آل عمران میں بیان کردیا ہے، ضحاک ؓ نے کہا : یہ آیت وحشی کے بارے میں نازل ہوئی جو حضرت حمزہ کا قاتل تھا اس نے اس نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا تھا اور حضرت حمزہ کو قتل کیا تھا پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا : میں شرمندہ ہوں، کیا میرے لیے توبہ ہے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” ومن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–113
(1) ترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وحاکم (نے اس کو صحیح کہا) قتادہ بن نعمان ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے خاندان کے لوگ تھے جن کو بنو ابیرق کہا جاتا تھا (یہ تین بھائی تھے) بشر بشیر، مبشر، بشیر منافق تھا اشعار کہتا تھا جس میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی ہجو کرتا اور شعروں کی نسبت کسی عرب کی طرف کردیتا تھا اور کہتا تھا کہ فلاں نے ایسا اور ایسا کہا اور جب رسول اللہ ﷺ کے اصحاب یہ شعر سنتے تھے تو کہتے اللہ کی قسم ! کہ یہ شعر اسی خبیث نے کہے ہیں اس نے کہا جب بھی لوگ قصیدہ کہیں تو کہہ دین کہ ابن ابیرق نے کہا یہ لوگ جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں میں تنگ دست تھے ( اس زمانہ میں) اہل مدینہ…
Read the full tafseer →[ وَمَنْ : اور جو ] [ یَّعْمَلْ : کرتا ہے ] [ سُوْٓئً : کوئی برائی ] [ اَوْ : یا ] [ یَظْلِمْ : ظلم کرتا ہے ] [ نَفْسَہٗ : اپنے آپ پر ] [ ثُمَّ : پھر ] [ یَسْتَغْفِرِ : مغفرت مانگتا ہے ] [ اللّٰہَ : اللہ سے ] [ یَجِدِ : تو وہ پاتا ہے ] [ اللّٰہَ : اللہ کو ] [ غَفُوْرًا : بےانتہا بخشنے والا ] [ رَّحِیْمًا : ہر حال میں رحم کرنے والا ]
ترکیب : ” مَنْ “ شرطیہ ہے۔ ” یَعْمَلْ “ اور ” یَظْلِمْ “ اور ” یَسْتَغْفِرْ “ یہ تینوں افعال شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہیں ‘ جبکہ ” یَجِدْ “ جواب شرط ہے۔ ” یَکْسِبْ “ بھی شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے اور ” یَکْسِبُـہٗ “ جواب شرط ہے ‘ لیکن درمیان میں ” اِنَّمَا “…
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءً ا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا) (جو شخص کوئی گناہ کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے مغفرت چاہے تو اللہ تعالیٰ کو غفور رحیم پائے گا) جو بھی کوئی گناہ سرزد ہوجائے توبہ استغفار کرے اور اسی توبہ میں یہ بھی شامل ہے کہ جس کا کوئی مال لیا ہے وہ واپس کرے وہ چرانے والا شخص جو چوری ظاہر ہونے کے بعد مدنیہ منورہ سے فرار ہوگیا اور دین اسلام کو بھی چھوڑ دیا اسے اور اس طرح کے تمام لوگوں کو تنبیہ ہے کہ گناہ ہوجانے پر اللہ سے دور نہ ہوتے چلے جائیں بلکہ قریب آئیں اور توبہ استغفار میں مشغول ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–115
حکم بست وہشتم ممانعت از حمایت اہل خیانت۔
قال تعالی۔ انا انزلنا الیک الکتاب بالحق۔۔۔ الی۔۔۔ مصیرا۔
ربط) گزشتہ آیات میں کفار اور منافقین کے معاملات کا ذکر تھا اب آیات میں منافقین کے ایک شرانگیز قصہ کا بیان ہے یہ بتلانا مقصود ہے کہ کافروں پر ظلم کرنا اور بےگناہ پر تہمت اور الزام لگانا جائز نہیں اور خیانت کرنے والے کی حمایت جائز نہیں اگرچہ وہ کلمہ گو ہو مقدمہ کا فیصلہ عدل و انصاف سے ہونا چاہیے۔
شان نزول۔
نبی ﷺ کے زمانہ میں ایک منافق طعمہ بن ابیرق نامی نے ایک انصاری کے گھر میں نقب لگائی اور آٹے کا تھیلا جس میں زرہ وہتھیار رکھے ہوئے تھے چرا کرلے گیا اتفاق سے اس تھیلہ میں ایک سوراخ تھا چور کے گھر تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
80 سُوْ ء سے مراد چوری اور ظلم، نفس سے مراد جھوٹی شہادت ہے یعنی جو شخص چوری اور جھوٹی گواہی جیسا گناہ کر کے بھی اس سے سچی توبہ کرلے اللہ تعالیٰ اس کا گناہ معاف کر کے اسے اپنی رحمت کا مورد بنا لے گا۔ وَمَنْ یَّکْسِبْ خَطِیْئَۃً اَوْ اِثْماً یہ بھی قوم طعمہ کو زجر ہے کیونکہ انہوں نے ایک بےگناہ یہودی پر تہمت لگائی اور طعمہ کو بری کرنے کے لیے جھوٹ قسمیں کھائی اور جھوٹی گواہیاں دیں۔ خَطِیْئَۃً سے مراد چوری اور اثم سے مراد جھوٹی قسم ہے۔ قیل ان الخطیئۃ ھی سرقۃ الدرع والاثم ھو یمینہ الکاذبۃ (خازن ج 1 ص 496، بحر ج 3 ص 346) ۔ وَلَوْ لَا فَضْلُ اللہِ عَلَیْکَ الخ۔ لَوْ کا جواب محذوف ہے یعنی لَاَضَلُّوْک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
ربط آیات
اس سورة میں منافقین کا تذکرہ اور ان کی مذمت مختلف مقامات پر ہوتی رہی ہے۔ گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اس کارگزاری کا تذکرہ فرمایا کہ جرم کا ارتکاب خود کرکے اس کا الزام دوسروں پر لگادیتے ہیں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا تھا کہ منافقین نے حضرت رفاعہ ؓ کے گھر چوری کرکے اس کا اتہام پہلے ایک مسلمان پر لگایا اور پھر یہودی پر۔ اس کے علاوہ حضور ﷺ کے پاس اپنی بریت کی سفارش بھی بہم پہنچائی ، ظاہری حالات دیکھ کر بنی (علیہ السلام) نے بھی ایسا ہی خیال کیا ، مگر اللہ تعالیٰ نے آیات نازل فرما کر اصل صورت حال سے مطلع فرمادیا اور منافقوں کی سخت مذمت بیان کی۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ اگر اس قسم کی غلطی…
Read the full tafseer →وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللہَ يَجِدِ اللہَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا 110
عمل
العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ
[ البقرة/ 277]
( ع م ل ) العمل
ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
1 ؎ جو دغابازی اور خدا کی نافرمانی کرتے ہیں درحقیقت وہ اپنے حق میں برا کرتے ہیں کس لئے کہ اس کا وبال اور انجام کار انہی پر پڑتا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓئً ا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا
” اور جو کسی برائی کا ارتکاب کرے یا اپنی جان پر ظلم ڈھائے ‘ پھر اللہ سے مغفرت چاہے۔ تو وہ اللہ کو بخشنے والا رحم کرنے والا پائے گا۔ “ (النسآء : 110)
قرآن کریم کا حکیمانہ اسلوب
سابقہ آیات میں درجہ بدرجہ تنقید کا حق ادا کرنے کے بعد ایک اصولی بات ارشاد فرمائی جو قرآن کریم کا عام حکیمانہ اسلوب ہے کہ وہ جب کسی برائی پر نکیر کرتا ہے اور پھر اس کے انجام سے ڈراتا ہے تو مخاطب کو مایوس نہیں ہونے دیتا۔ ساتھ ہی اسے مغفرت کا راستہ بھی دکھاتا ہے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ تمہاری غلطیاں کو تاہیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–112
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
جن لوگوں نے عزیز داری کی بنیاد پر چور کی حمایت اور تعصب کی بنا پر یہودی پر الزام لگایا تھا۔ اب انہیں مخاطب کیا جارہا ہے کہ تم ایسے لوگ ہو جو طرف داری اور تعصب کی بنیاد پر اس دنیا میں مجرم کے حق میں جھگڑتے ہو۔ بتاؤ قیامت کے دن رب ذوالجلال کے سامنے مجرموں کی طرف سے کون جھگڑا اور ان کی وکالت کرسکے گا ؟
اس فرمان کا صاف مطلب ہے کہ کسی شخص کو مجرم کی پاسداری اور اس کے جرم کی وکالت نہیں کرنی چاہیے۔ یہ فرمان ہر وکیل کے لیے تازیانۂ عبرت رکھتا ہے۔ اس کے بعد چار مرتبہ لفظ ” مَنْ “ استعمال کیا کہ دنیا میں کوئی بھی جان بوجھ کر گناہ کرے یا بھول کر خطا کرنے کے بعد اللہ…
Read the full tafseer →ظلم کی مراد :
آیت 110 : وَمَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓ ئً ا ( جو شخص کوئی برائی کرے) سوء سے مراد ایسا گناہ جو شرک سے کم درجہ ہو۔ اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ (یا اپنے نفس پر ظلم کرے) ظلم سے مراد شرک ہے۔ یا ایسی برائی جس کا نقصان دوسروں کو پہنچے جیسا کہ طعمہ نے قتادہ اور یہودی کے سلسلہ میں کیا۔ (ایک کی چوری کی دوسرے کے ذمہ جھوٹ لگا دی) اور ظلم سے مراد ایسا برا کام جس کا وبال اسی تک پہنچتا ہو جیسے جھوٹی قسم کھانا۔
ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ (پھر اللہ تعالیٰ سے معافی کا طلبگار ہوا) یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (وہ اللہ تعالیٰ کو بخشنے والا مہربان پائے گا)
اس میں طعمہ کو توبہ و استغفار پر آمادہ کیا گیا…
Read the full tafseer →110۔ (آیت)” ومن یعمل سوء ا “۔ بمعنی چوری کے ہے (آیت)” اویظلم نفسہ “۔ دوسرے شخص کے اوپر بری تہمت لگانا ، بعض نے کہا اس سے مراد جو براکام کرے یعنی کسی کو شریک ٹھہرائے یا اس کے نفس پر ظلم کرے ، شرک کے علاوہ کوئی دوسرا گناہ کرے ، (آیت)” ثم یستغفر اللہ “ پھر وہ اس گناہ سے توبہ کرے اور استفغار کرے (آیت)” یجد اللہ غفورا رحیما “ یعنی طمعہ کے اوپر اس بارے میں توبہ کو پیش کیا گیا اور ان کو ترغیب دی گئی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
(110 ۔ 113) ۔ یہ آیتیں بھی طعمہ کے قصے سے متعلق ہیں ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے طعمہ کو چوری کے گناہ سے اور ایک شخص بری پر جو اس نے چوری کا بہتان لگایا تھا۔ اس طے اور طعمہ کے قبیلے کے لوگوں کو جھوٹی گواہی کے گناہ سے توبہ استغفار کرنے کی رغبت دلائی ہے اور فرمایا ہے کہ کبیرہ، صغیرہ جس طرح کے گناہوں سے جو کوئی توبہ کرے گا اللہ ایسا غفور رحیم ہے کہ وہ فورًا ہر ایک گناہ گار کی خالص نیت کی توبہ قبول کرلیتا ہے اور اس توبہ کرنے والے شخص کے سب گناہ معاف کردیتا ہے ابو سعید خدری ؓ کی حدیث اوپر گزرچکی ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ شیطان جب مردود ٹھہرا جا کر آسمان بر سے نکالا جانے لگا تو اس نے قسم کھا کر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–113
آیت 105
اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا، بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامرو نواہی عدل پر مبنی ہیں۔ (وتمت کلمت ربک صدقاً وعدلاً ) (الانعام :110/6) ” اور تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔ “
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لئے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیھم) (النحل :33/16) ” ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–113
قول باری ہے ( ومن یکسب خطیئۃ او اثما ثم یرم بہ یریئاً فقد احتمل بھتاناً و اثما مبینا۔ اور جس نے کوئی خطا یا گناہ کر کے اس کا الزام کسی بےگناہ پر تھوپ دیا اس نے بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ لیا۔ ) خطیئہ اولاثم کے درمیان فرق کے متعلق ایک قول ہے کہ اگر کوئی غلط کام جان بوجھ کر کیا جائے تو وہ اثم کہلاتا ہے ، اگر عمداً نہ کیا جائے تو وہ خطیئہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کا ایک ساتھ اس لیے ذکر کیا کہ ان دونوں کا حکم بیان ہوجائے اور یہ واضح کردیا جائے۔
کہ خواہ یہ عمداً ہوا ہو یا عمد کے بغیر دونوں صورتیں یکساں ہیں۔ جو شخص کسی بےگناہ انسان پر کوئی الزام لگائے گا و بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار…
Read the full tafseer →288 سلامتی اور نجات کی راہ کی نشاندہی : یہ ہے صدق و صواب اور سلامتی و نجات کی سیدھی راہ کہ آدمی اپنا قصور تسلیم کر کے سچے دل سے توبہ و استغفار کرے۔ تو اللہ پاک اپنے فضل و کرم سے اسے معاف فرما دے گا کہ وہ بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے۔ لیکن جن کے دلوں پر بدنیتی اور کفر و نفاق کی چھاپ پڑی ہو ان کو یہ سیدھی راہ سوجھتی ہی نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ چناچہ یہاں بھی ایسے ہی ہوا کہ طعمہ بن ابیرق سچی توبہ کی اس سیدھی راہ کو اپنانے کی بجائے مکہ میں جا کر مشرکین سے مل گیا۔ اور وہاں بھی اس نے چوری کی غرض سے ایک دیوار میں نقب لگائی تو وہ اس کے اوپر گرگئی۔ جس سے وہ وہیں مر کر فی النَّار والسقَّر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–112
استغفار اور بہتان
تشریح : پچھلی آیات کا قصہ دہراتے ہوئے سبق دیا جارہا ہے کہ ایک تو ناجائز طرف داری گناہ ہے اور دوسرے بےگناہ پر بہتان لگانا بہت بڑا گناہ ہے اور پھر آخر میں سچے دل سے استغفار کا حکم دیا گیا ہے۔ کیونکہ تمام گناہوں سے نجات سچی معافی ہی دلا سکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–112
رکوع نمبر 16 ۔ آیات 105 تا 112 ۔ اسرار و معارف :
انا انزلنا۔۔۔ اثما مبینا۔
ہم نے آپ پر سچی کتاب نازل فرمائی ہے کہ آپ لوگوں کے درمیان انصاف کریں اور اس کے مطابق کریں جو اللہ نے آپ کو بتا دیا ہے یا دکھا دیا ہے۔ سب سے پہلی بات جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ نزول قرآن ہے ہی نافذ کرنے کے لیے اور جہاں تک جس کا اختیار ہے وہاں تک اسے قرآن (اسلام) نافذ کرنا چاہئے۔ جیسے کسی کو اپنے وجود پر ہی اختیار ہے تو اپنے وجود پر تو نافذ کرے۔ اسی طرح پیر صاحبان کو مریدین پر مولوی صاحبان کو اپنے ماننے والوں پر ، کسی کو گھر پر تو کسی کو محلہ پر اور کسی کو ملک پر اختیار حاصل ہوتا ہے۔ اپنے اپنے اختیار کے مطابق…
Read the full tafseer →ف 7 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس ّآیت میں بنی بیرق سے توبہ کے لیے کہا جا رہا ہے۔ آیت میں ہر قسم کے گناہوں کی پاداش سے محفوظ رہنے کا راستہ بتایا گیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار السو وہ گنا ہے جن سے انسان اپنے علاوہ دوسروں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ جسے جھوٹی شہادت اور بےگناہ کو متہم کرنا۔ اور او یظلم نفسہ سے ان گناہوں کی طرف اشارہ ہے جن سے انسان صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے جیسے ترک صلوٰۃ اور شراب نوشی وغیرہ۔ ضحاک فرماتے کہ حضرت حمزہ ؓ کا قاتل وحشی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حا ضر ہوا اور عرض کی کہ مجھے اپنے فعل پر سخت ندامت ہے کیا میر توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ اس پر یہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–111
یستخفون۔ وہ چھپتے ہیں۔ وہ چھپے رہ سکتے ہیں۔ استخفاء (استفعال) مصدر خفی مادہ ۔
یبیتون۔ بتییت مصدر باب تفعیل۔ رات کو سوچتے ہیں۔ رات کو سوچتے اور تدبیریں کرتے ہیں۔ مالا یرضی من القول۔ ایسی باتیں سوچتے اور کہتے ہیں جن پر خدا راضی نہیں ہے۔ محیطا۔ اسم فاعل۔ مفرد احاطۃ مصدر۔ ہر طرف سے گھیرے ہوئے۔ پورا پورا قابو رکھنے والا۔ ہر طرح سے جاننے والا۔ یہاں احاطہ علمی مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–112
آیت نمبر 105-112
لغات القرآن : لتحکم، تاکہ تو فیصلہ کر دے۔ خائنین، خیانت کرنے والے۔ بددیانت۔ خصیم، جھگڑا لو آدمی۔ لاتجادل، جھگڑا نہ کر۔ یختانون، وہ خیانت کرتے ہیں۔ خوان، بہت زیادہ خیانت کرنے والا۔ یستخفون، البتہ وہ شرماتے ہیں۔ یرم، وہ مارتا ہے، وہ پھینکتا ہے، تہمت لگاتا ہے۔
تشریح : حضور نبی کریم ﷺ کے سامنے ایک مقدمہ پیش ہوا جس میں اصلی مجرم ایک نام نہاد مسلمان بشر نامی تھا۔ اس نے اور اس کے قبیلہ والوں نے صورت حال کی شکل یوں دے دی کہ ایک یہودی مجرم نظر آنے لگا۔ اس کے قبیلہ والے خوب چیختے چلاتے ہوئے آئے کہ ہم مسلمان ہیں ہم کیوں چوری کرنے لگے۔ اصل چور تو وہ جہنمی یہودی ہے۔
واقعات کی صورت کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
شان نزول : یہ آیتیں بھی طعمہ کے قصہ سے متعلق ہیں ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے طعمہ کو چوری کے گناہ سے اور ایک بےگناہ شخص پر جو اس نے چوری کا بہتان لگایا تھا، اس سے اور طعمہ کے قبیلہ کے لوگوں کو جھوٹی گواہی کے گناہ سے، توبہ استغفار کرنے کی رغبت دلائی ہے، اور فرمایا کہ کبیرہ صغیرہ جس طرح کے گناہوں سے جو کوئی توبہ کرے گا اللہ ایسا غفور ورحیم ہے کہ وہ فورا ہر ایک کی خالص نیت کی توبہ قبول کرلیتا ہے، اور اس توبہ کرنے والے شخص کے سب گناہ معاف کردیتا ہے۔ پھر فرمایا کہ اے رسول اللہ ﷺ یہ اللہ کا تم پر فضل اور اس کی رحمت ہے کہ جہاں ایسا غلطی کا موقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فورا بذریعہ وحی کے اس غلطی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–112
[73] اس آیت میں خطاب اس گروہ سے ہے جو اطمعہ کی حمایت میں جتھا بندی کر کے فریق ثانی سے جھگڑتے تھے۔
Read the full tafseer →(ف 1) اس آیت میں ترغیب استغفار ہے یعنی ہر گناہ بارگاہ عفو میں قابل بخشش ہے ، ضرورت صرف اقدام توبہ کی ہے ، ایک دفعہ گناہوں سے نفرت ہوجائے اور نیکی کے لئے مضبوط عہد کرلے پھر فکر تعزیر نہیں ، خدا غفور اور رحیم ہے ۔
حل لغات :
خصیم : جھگڑالو ۔ جھگڑا کرنے والا ۔
یختانون : مصدر اختیان ۔ خیانت کرنا ، نقصان پہنچانا ۔
خوان : بہت خیانت کرنے والا ۔
اثیم : مجرم ۔
Read the full tafseer →ف 3 جو شخص بدی اور برائی کرے یا صرف اپنی ہی جان کو نقصان پہنچائے اور فقط اپنے ہی پر ظلم کرے پھر یہ شخص شرعی طریقہ پر اللہ تعالیٰکی جناب میں توبہ کرے اور معافی چاہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو بڑا معاف کرنے والا اور بڑی مہربانی کرنے والا پائے گا۔ (تیسیر)
سوء سے مراد وہ گناہ ہیں جو متعدی ہوں اور جن سے دوسروں کو بھی نقصان پہنچتا ہو۔ یظلم نفسہ سے مراد وہ گناہ ہیں جو غیر متعدی ہوں اور سا میں صرف حقوق اللہ کا معاملہ ہو حقوق العباد کا دخل نہ ہو شرعی طریقہ کا مطلب یہ ہے کہ متعدی گناہ میں توبہ کے ساتھ صاحب حق کا حق بھی ادا کرے یا اس سے معاف کرائے اور اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–111
ف 4۔ بنوابیرق ایک خاندان تھا اس میں ایک شخص بشیر نام منافق تھا اس نے حضرت رفاعہ کی بخاری میں نقب دے کر کچھ آٹا اور کچھ ہتھیار جو اس میں رکھے تھے چرا لیے صبح کو پاس پڑوس میں تلاش کیا پتہ نہ چلا بعض قرائن قویہ سے بشیر پر شبہ ہوا بنوابیرق نے جو کہ بشیر کے شریک حال تھے اپنی برات کے لیے حضرت لبید کا نام لے دیا غرض حضرت رفاعہ نے اپنے برادر زادہ حضرت قتادہ کو جناب رسول اللہ کی خدمت میں بھیج کر اس واقعہ کی اطلاع دی آپ نے وعدہ تحقیق فرمایا بنوابیرق کو جو خبر ہوئی ایک شخص جو اسی خاندان کا تھا اسیر نام سب اس کے پاس آئے سب نے مشورہ کرکے جمع ہو کر مع بعض اہل محلہ کے جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جمع ہوئے…
Read the full tafseer →اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کر بیٹھنے والوں کیلئے ہدایت الٰہی :
183: فرمایا دن کا روٹھا اگر شام کو واپس آجائے تو اس کے روٹھنے کی سزا جو اس کو مل گئی وہی کافی ہے اب اس کو شرمسار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ، کیوں ؟ اس لئے کہ اس سے فائدہ کی بجائے الٹا نقصان ہوگا ۔ ضد بڑھے گی جس میں باربار ٹھنے اور پھر بالکل روٹھ ہی جانے کا خطرہ موجود ہے۔ لہذاتم خاموش ہو جائو تو خود ہی گیا تھا خود ہی آگیا اس طرح اس نے نقصان کس کا کیا ؟ اپنا نقصان کرنے والے کو اگر یہ احساس ہوگیا کہ میں نے نقصان کیا تو ہی احساس ہی اس کیلئے کا فی ہے۔ فرمایا ” جو شخص کوئی برائی کی بات کر بیٹھتا ہے یا اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کرلیتا ہے اور پھر…
Read the full tafseer →In the sixth verse (110), we can once again see the wise way of the Qur'an at work when, in order to save sinners from total disappointment, it was said that a sin was a sin, big or small. When a sinner repents and seeks Allah's forgiveness, he finds Him forgiving, merciful. As obvious, there is an element of persuasion for those who have committed sin suggesting that they still had the time and the hope to just desist and repent sincerely; nothing is lost, Allah will forgive everything.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
141. Whoever commits a breach of trust with others in fact commits a breach of trust with his own self first. For the powers of his head and heart have been placed at his disposal as a trust, and by misusing them he is forcing those powers to support him in acts which involve a breach of trust. In doing so the person concerned suppresses his conscience, which God has placed as a sentinel over his moral conduct, with the result that it is rendered incapable of preventing him from acts of wrong and iniquity. It is only after a man has already carried out this cruel suppression of conscience…
Read the full tafseer →