Al-Kahf 18:5

Al-Kahf · from ayah 5

18:5

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّلَا لِاٰبَآىِٕهِمْ ؕ— كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ ؕ— اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا ۟مَا لَهُمۡ بِهٖ مِنۡ عِلۡمٍ وَّلَا لِاٰبَآئِهِمۡ‌ؕ كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ‌ؕ اِنۡ يَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا كَذِبًا‏

ان کو اس بات کا کچھ بھی علم نہیں اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو تھا۔ (یہ) بڑی سخت بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے (اور کچھ شک نہیں) کہ یہ جو کہتے ہیں محض جھوٹ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They have no knowledge of it, nor had their fathers. Grave is the word that comes out of their mouths; they speak not except a lie.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:5

اِس بات کا نہ اُنہیں کوئی علم ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو تھا بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے وہ محض جھوٹ بکتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان کو اس بات کا کچھ بھی علم نہیں اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو تھا۔ (یہ) بڑی سخت بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے (اور کچھ شک نہیں) کہ یہ جو کہتے ہیں محض جھوٹ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

در حقیقت نہ تو خود انہیں اس کا علم ہے نہ ان کے باپ دادوں کو۔ یہ تہمت بڑی بری ہے جو ان کے منھ سے نکل رہی ہے وه نرا جھوٹ بک رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس بات کا کوئی علمی ثبوت نہ خود ان کے پاس ہے، نہ ان کے باپ دادوں کے پاس تھا۔ بڑی سنگین بات ہے جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے۔ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں، وہ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس بارے میں نہ وہ کچھ علم رکھتے ہیں نہ ان کے باپ دادا کتنا بڑا بول ہے کہ ان کے منہ سے نکلتا ہے، نِرا جھوٹ کہہ رہے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

نہ اس کا کوئی علم انہیں ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو تھا، (یہ) کتنا بڑا بول ہے جو ان کے منہ سے نکل رہا ہے، وہ (سراسر) جھوٹ کے سوا کچھ کہتے ہی نہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

نہ انھیں اس کا کوئی علم ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو۔ بولنے میں بڑی ہے، جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہے، وہ سراسر جھوٹ کے سوا کچھ نہیں کہتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس بات کا نہ انھیں خود کچھ علم ہے، نہ ان کے باپ دادا کو تھا۔ بہت ہی سخت بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے۔ جو کچھ وہ کہتے ہیں سراسر جھوٹ ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کو اس باب میں کوئی علم نہیں، نہ ان کو نہ ان کے آباء و اجداد کو۔ نہایت ہی سنگین بات ہے جو ان کے مونہو سے نکل رہی ہے۔ یہ محض جھوٹ ہے جو وہ بک رہے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(حالانکہ) ان کے پاس اس کا کوئی علم نہیں، اور نہ ہی ان کے باپ دادا کے پاس تھا، بڑی ہی بھاری بات ہے یہ جو ان لوگوں کے مونہوں سے نکلتی ہے، یہ لوگ بالکل ہی نرا جھوٹ بک رہے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اس (دعوی) پر کوئی دلیل نہ ان کے پاس ہے اور نہ ان کے باپ دادوں کے پاس تھی بڑی بھاری بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے یہ لوگ بالکل ہی جھوٹ بکتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہیں اس کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں اور نہ ہی ان کے آباء و اَجداد کو تھا بہت بڑی بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکل رہی ہے وہ نہیں کہتے مگر سرا سر جھوٹ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ ان کو اس بات کا کچھ بھی علم نہیں اور نہ ہی ان کے باپ دادا کو ہی تھا۔ یہ بڑی سخت بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے اور کچھ شک نہیں کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں محض جھوٹ ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

a thing about which they have no knowledge, neither they nor their ancestors. Dreadful is the word that comes out of their mouths. What they utter is merely a lie.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

while they have no knowledge about it, nor had their fathers. Grave is the word that comes out of their mouths. They say nothing but lie.

— Muhammad Taqi Usmani

while they have no knowledge about it, nor had their fathers. Grave is the word that comes out of their mouths. They say nothing but lie.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

No knowledge have they of such a thing, nor had their fathers. Mighty is the word that comes out of their mouths. They utter nothing but a lie.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(A thing) whereof they have no knowledge, nor (had) their fathers, Dreadful is the word that cometh out of their mouths. They speak naught but a lie.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They have no knowledge of it, nor had their fathers. Grave is the word that comes out of their mouths; they speak not except a lie.

— Saheeh International

Neither they nor their fathers had any knowledge of such utterance (that God has begotten a son). Whatever they say about (this matter) is vicious blasphemy and plain lies.

— Muhammad Sarwar

They have no knowledge of it, nor had their fathers; a grievous word it is that comes out of their mouths; they speak nothing but a lie.

— Muhammad Habib Shakir

No knowledge thereof have they, nor had their fathers. Odious is the word that cometh out of their mouths; they say not but a lie.

— Abdul Majid Daryabadi

No knowledge have they of such a thing, nor had their fathers. It is a grievous thing that issues from their mouths as a saying what they say is nothing but falsehood!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

مستحق تعریف قرآن مجید ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اللہ ہر امر کے شروع اور اس کے خاتمے پر اپنی تعریف و حمد کرتا ہے ہر حال میں وہ قابل حمد اور لائق ثنا اور سزاوار تعریف ہے اول آخر مستحق حمد فقط اسی کی ذات والا صفات ہم اس نے اپنے نبی کریم ﷺ پر قرآن کریم نازل فرمایا جو اس کتاب کو ٹھیک ٹھاک اور سیدھا اور راست رکھا ہے جس میں کوئی کجی کوئی کسر کوئی کمی نہیں صراط مستقیم کی رہبر واضح جلی صاف اور واضح ہے۔ بدکاروں کو ڈرانے والی، نیک کاروں کو خوشخبریاں سنانے والی، معتدل، سیدھی، مخالفوں منکروں کو خوفناک عذابوں کی خبر دینے والی یہ کتاب ہے۔ جو عذاب اللہ کی طرف کے ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ایسے عذاب کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْكَهْف 3 یعنی ان کا یہ قول کہ فلاں خدا کا بیٹا ہے، یا فلاں کو خدا نے بیٹا بنا لیا ہے، کچھ اس بنیاد پر نہیں ہے کہ ان کو خدا کے ہاں اولاد ہونے یا خدا کے کسی کو متبنیٰ بنانے کا علم ہے، بلکہ محض اپنی عقیدت مندی کے غلو میں وہ ایک من مانا حکم لگا بیٹھے ہیں اور ان کو کچھ احساس نہیں ہے کہ وہ کیسی سخت گمراہی کی بات کہہ رہے ہیں اور کتنی بڑی گستاخی اور افترا پردازی ہے جو اللہ رب العالمین کی جناب میں ان سے سرزد ہو رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–6

سورة کہف کی خصوصیات اور فضائل مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، مسند احمد میں حضرت ابو الدردا ؓ سے ایک روایت ہے کہ جس شخص نے سورة کہف کی پہلی دس آیتیں حفظ کرلیں وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا، اور کتب مذکورہ میں حضرت ابوالدردا ؓ ہی سے ایک دوسری روایت میں یہی مضمون سورة کہف کی آخری دس آیتیں یاد کرنے کے متعلق منقول ہے اور مسند احمد میں بروایت حضرت سہل بن معاذ ؓ یہ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سورة کہف کی پہلی اور آخری آیتیں پڑھ لے تو اس کے لئے اس کے قدم سے سر تک ایک نور ہوجاتا ہے اور جو پوری سورت پڑھ لے جو اس کے لئے زمین سے آسمان تک نور ہوجاتا ہے۔ اور حافظ ضیاء مقدسی نے اپنی کتاب…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مشرکین کی اندھی تقلید : مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلا لآبَائِهِمْ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِنْ يَقُولُونَ إِلا كَذِبًا۔ علم سے مراد یہاں دلیل وبرہان ہے۔ یعنی جن لوگوں نے خدا کے بیٹے اور بیٹیاں فرض کرکے ان کو خدا کا شریک بنا رکھا ہے انہوں نے یہ افسانہ محض اپنے جی سے گھڑا ہے۔ نہ خدا نے کہیں یہ بات کہی ہے ورنہ ان بوالفضولوں کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے۔ یہ اپنے جن آباء و اجداد کی تقلید میں یہ حماقت کررہے ہیں ان کے پاس بھی اس کی کوئی دلیل نہیں تھی۔ محض جہالت سے انہوں نے یہ ضلالت اختیار کی اور یہ بھی جہالت ہی سے ان کی لکیر کو پیٹ رہے ہیں۔ فرمایا کہ یہ بڑی ہی سنگیں بات ہے جو…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 3–5

مالھم بہ من علم ولا لابئھم (81 : 5) ” بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے ، وہ محض جھوٹ بکتے ہیں۔ “ قرآن کریم نے ان کے کلام اور ان کے عقیدے کے لئے جو الفاظ چنے ہیں وہ تعبیر مفہوم اور الفاظ کی آواز دونوں کے اعتبار سے ان کے کلمہ اور ان کی بات کے قابل مذمت ہونے کا اظہار کرتے ہیں۔ پہلا لفظ ہے (کبرت) تاکہ سننے والے کو معلوم ہوجائے کہ یہ لوگ جو بات کرتے ہیں وہ غایت درجے کی قابل مذمت اور بہت بڑی بات ہے باعتبار نتائج۔ کلمۃ تو ضمیر جملہ سے تمیز کے طور پر لایا گیا۔ یعنی کبرت کے اندر موجود ضمیر ہے۔ یہ زیادہ متوجہ کرنے کے لئے کہ ان کے منہ سے یہ عظیم با بڑی لاپرواہی اور بےت کے انداز میں نکل رہی ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی کوئی تحقیق اور علمی اصول ان کے ہاتھ میں نہیں نہ ان کے باپ دادوں کے ہاتھ میں تھا۔ جن کی اندھی تقلید میں ایسی بھاری بات زبان سے نکال رہے ہیں۔ گویا خداوند تعالیٰ کی شان قدوسیت و سبوحیت کی ان لوگوں کو کچھ خبر نہیں جو اس کی جناب میں ایسی گستاخیاں کرتے ہوئے ذرا نہیں شرماتے۔ دلائل وبراہین کی جگہ ان کے ذخیرہ میں یہ ہی باقی رہ گیا ہے کہ زبان سے ایک جھوٹی اور بدیہ البطلان بات کہتے چلے جائیں اور جب ثبوت مانگو تو کہہ دیں کہ یہ مذہب کا ایک راز ہے جس کے ادراک تک عقل انسانی کی رسائی نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5 مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّلَا لِاٰبَاۗىِٕهِمْ انہوں نے یہ جو عقیدہ ایجاد کیا ہے اس کی نہ تو ان کے پاس کوئی علمی سند ہے اور نہ ہی ان کے آباء و اَجداد کے پاس تھی۔ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے اولاد منسوب کر کے اس کی شان میں بہت بڑی گستاخی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

5 کیونکہ اللہ کے لیے اولاد قرار دینا انتہائی گستاخی کی بات ہے اور یہ ایسی بات ہے جس کا الہامی کتابوں کی سچی تعلیم میں کہیں ڈھونڈے سے بھی سراغ نہیں مل سکتا اس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ ان لوگوں کے بزرگوں اور آباؤ اجداد میں سے کسی نے ایسی بات کہہ دی اور بلا تحقیق کہہ دی۔ بعد میں آنے والی نسلوں میں یہی بلاتحقیق جھوٹی اور انہونی بات ان کے عقیدہ میں شامل ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

5۔ (اور ایسا مہمل اور خرافی عقیدہ رکھے ہوئے ہیں جو واقعہ کے خلاف تو ہے ہی، خود عقل کے بھی خلاف ہے اور جس کے صدق کا امکان ہی نہیں، بلکہ وہ عقلا ممتنع ہے) عقائد شرکیہ مہمل تو سب کے سب ہی ہیں۔ لیکن حق تعالیٰ کے لئے بیٹا فرض کرنا اور بھی گستاخانہ اور سب سے بڑھ کر کر یہ ومکروہ ہے جیسا کہ قرآن مجید کے اس زجر تاکیدی سے ظاہرہورہا ہے۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” مالھم بہ من علم یعنی کسی قسم کی بھی دلیل عقلی اور کوئی بھی سند نقلی تو ان لوگوں کے پاس نہیں ہے۔ علم یہاں سند اور دلیل کے معنی میں ہے۔ (آیت) ” من علم “۔ من زائد، تاکید نفی کے لئے ہے (آیت) ” الابآءھم “۔ یعنی ان کے احمق اسلاف جو اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–5

آیت نمبر 2 تا 5 ترجمہ : اور حال یہ ہے کہ وہ بالکل سیدھی مستقیم ہے قَیّمًا کتاب سے حال ثانیہ ہے اور جملہ حالیہ کی تاکید ہے، تاکہ ڈرائے (اللہ) کتاب کے ذریعہ کافروں کو اپنے سخت عذاب سے، جو کہ اس کی طرف سے ہے اور تاکہ ان مومنین کو خوشخبری دے جو نیک عمل کرتے ہیں یہ کہ ان کے لئے اجر حسن ہے حال یہ ہے کہ وہ اس اجر حسن میں کہ وہ جنت ہے ہمیشہ رہیں گے، اور منجملہ کافروں سے ان کافروں کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے اس قول کی نہ ان کے پاس کوئی سند ہے اور نہ ان کے آباء کے پاس جو ان سے پہلے گذر چکے ہیں اور وہ بھی اسی بات کے قائل تھے اور یہ بات جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے بڑی بھاری ہے، کلمۃً تمیز ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّلَا لِاٰبَاۗىِٕهِمْ ۭ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ ۭ اِنْ يَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا : نہ تو اس کی کوئی دلیل ان کے پاس ہے نہ ان کے باپ دادا کے پاس تھی بڑی سخت بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے اور وہ بالکل ہی جھوٹ بکتے ہیں۔ اللہ کو صاحب اولاد قرار دینا شدید ترین کفر ہے اسی شدت کفر کو ظاہر کرنے کے لئے خصوصیت کے ساتھ ان لوگوں کو ڈرانے کا ذکر کیا جو کسی کو اللہ کی اولاد قرار دیتے ہیں۔ مَالَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمِیعنی اللہ کی (مفروضہ) اولاد کا یا اولاد قرار دینے کا یا اس (کفریہ) بات کا ان کو کوئی علم نہیں۔ مطلب یہ کہ جو بات زبان سے نکالتے اور جو عقیدہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(5) نہ تو ان کے اس دعوی کی کوئی دلیل وحجت ان کے پاس ہے اور نہ انکے باپ دادا کے پاس تھی اور یہ شرک کی بڑی بھاری بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ۔۔ : یعنی اللہ کی اولاد ہونے کی کوئی دلیل نہ ان کے پاس ہے اور نہ ان کے آباء کے پاس، کیونکہ علم وہ ہے جس کی کوئی دلیل ہو۔ ان کے باپ دادا نے کسی علم کے بغیر محض جہل سے یہ بات نکالی اور انھوں نے محض جہالت کی بنا پر ان کی تقلید کی۔ ابن قیم ؓ نے تقلید کے بارے میں کیا خوب کہا ؂ اَلْعِلْمُ قَال اللّٰہُ قَالَ رَسُوْلُہُ مَا ذَاکَ وَالتَّقْلِیْدُ یَسْتَوِیَانِ اِذْ أَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ أَنَّ مُقَلِّدًا لِلنَّاسِ وَالْأَعْمَی ھُمَا سَیَّانِ ”علم وہ ہے جو اللہ نے فرمایا اور اس کے رسول نے فرمایا۔ یہ اور تقلید برابر نہیں ہیں، کیونکہ علماء کا اتفاق ہے کہ لوگوں کی تقلید کرنے والا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–5

آیت نمبر 1 تا 3 قولہ تعالیٰ : الحمدللہ الذی انزل علیٰ عبدہ الکتٰب و لم یجعل لہ عوجاً ط قیماً ابن اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ قریش نے نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط کو یہود کے علماء کی طرف بھیجا اور انہوں نے ان دونوں کو کہا : تم ان سے محمد ﷺ کے بارے میں پوچھو ان کے پاس جا کر آپ کی کیفیت اور حالت بیان کرو اور آپ کے قول کے بارے انہیں اطلاع کرو، کیونکہ ان کے پاس پہلے کتاب ہے اور ان کے پاس انبیاء (علیہم السلام) کے بارے وہ علم ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے، پس وہ دونوں نکلے یہاں تک کہ مدینہ طیبہ پہنچ گئے، اور انہوں نے یہودیوں کے علماء سے رسول اللہ ﷺ کے بارے پوچھا، اور ان کے سامنے آپ کے معاملہ کو بیان کیا،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–5

1ـ:۔ ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتب ولم یجعل لہ عوجا “ سے مراد ہے کہ کتاب کو عدل والا اور استقامت والا بنایا اور اس میں کسی قسم کی کجی اور ٹیڑھا پن نہیں۔ 2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انزل علی عبدہ الکتب ولم یجعل لہ عوجا “ سے مراد ہے کہ کتاب کو عدل والا اور استقامت والا بنایا اور اس میں کسی قسم کی کجی اور ٹیڑھا پن نہیں۔ 3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انزل علی عبدہ الکتب ولم یجعل لہ عوجا “ میں تقدیم اور تاخیر ہے (اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[مَا لَهُمْ : نہیں ہے ان کے لئے ] [بِهٖ : جس کا ] [مِنْ عِلْمٍ : کوئی بھی علم ] [وَّلَا لِاٰبَاۗىِٕهِمْ : اور نہ ہی ان کے آبائو اجداد کے لئے ] [كَبُرَتْ : بھاری ہوئی ] [كَلِمَةً : بلحاظ بات کے ] [تَخْرُجُ : (وہ جو) نکلتی ہے ] [مِنْ اَفْوَاهِهِمْ : ان کے مونہوں سے ] [ان يَّقُوْلُوْنَ : وہ لوگ نہیں کہتے ] [اِلَّا : مگر ] [كَذِبًا : ایک جھوٹ ] (آیت۔ 5) تُخْرُجُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ سے پہلے ما محذوف ہے اور یہ کَبُرَتْ کا فاعل ہے اور کَلِمَۃً اس کی تمیز ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 2–5

پھر فرمایا (قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْہُ ) تاکہ وہ قرآن کافروں کو ایک سخت عذب سے ڈرائے جو اللہ کی طرف سے ہوگا۔ (وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ اَجْرًا حَسَنًا) (اور تاکہ ایمان والوں کو بشارت دے جو نیک عمل کرتے ہیں کہ انہیں اچھا اجر ملے گا۔ ) (مَّاکِثِیْنَ فِیْہِ اَبَدًا) (یہ لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے) اجرا حسنا سے جنت مراد ہے جس میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ (وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا) (اور تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جنہوں نے کہا کہ اللہ نے اپنے لیے اولاد بنالی ہے) پہلے تمام کافروں کو ڈرانے کا تذکرہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

آغاز سورت بتحمید بر انزال کتاب ہدایت برائے اثبات توحید و رسالت و ذکر فنا وزوال دنیا برائے تذکیر آخرت قال اللہ تعالیٰ : الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتب .... الیٰ .... صعیدا جرزا۔ (ربط) گزشتہ سورت کی طرح اس سورت میں بھی اللہ تعالیٰ نے توحید و رسالت اور دنیا کے فناء وزوال اور اس کی حقارت اور آخرت کی جزاء و سزا کو بیان فرمایا اور تین قصے بیان فرمائے جن سے بھی مقصود اثبات توحید و رسالت اور اثبات قیامت ہے اور گزشتہ سورت کو حمد پر ختم فرمایا اور اس سورت کو توحید و حمد سے شروع فرمایا اور مسئلہ نبوت سے اس کی ابتداء فرمائی اور اپنی سب سے بڑی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے یہ کتاب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

6:۔ یہ ان کے قول باطل کا رد ہے ” بہ “ میں ضمیر مجرور ان کے قول مذکور کی طرف راجع ہے۔ یعنی ان کا قول سراسر جہالت سے ناشی ہے اس پر ان کے پاس کوئی دلیل ہے نہ ان کے باپ دادا کے پاس اس دعوی کی کوئی دلیل تھی۔ جن سے ان مشرکوں نے یہ غلط بات سیکھی اور جن کی تقلید میں وہ بھی اللہ تعالیٰ پر ایسا ناپاک افترا کرنے لگے۔ و ذکر الاباء لان تلک المقالۃ قد اخذوھا عنھم وتلقوھا منہم (بحر ج 6 ص 97) ۔ ” ابآء “ (باپ دادا) سے مراد عام ہے خواہ جسمانی ہوں یا روحانی اس طرح یہ لفظ ان غلط کار عالموں اور پیروں کو بھی شامل ہوجائے گا۔ جنہوں نے انہیں اس گمراہی اور شرک کی راہ پر ڈالا۔ ولا لابائھم ای اسلافہم (قرطبی ج 10 ص 353،…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 4–8

ربط آیات : گذشتہ درس میں قرآن پاک کے نزول کا ذکر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل ترین بندے پر ایک عظیم المرتب کتاب نازل فرمائی جس میں کسی قسم کی غلطی تضاد ، تخالف یا خلاف واقع بات نہیں ہے ، یہ کتاب سابقہ کتب سماویہ اور اللہ کے بندوں کی مصلحتوں کی محافظ اور نگران ہے ، نزول کتاب کا مقصد اللہ نے یہ بیان فرمایا ، تاکہ اللہ کا بندہ اللہ کی طرف سے آنے والی سخت گرفت سے لوگوں کو آگاہ کرے اور اہل ایمان کو خوشخبری دے کہ اعمال صالحہ انجام دینے والے لوگوں کے لیے اچھا اجر ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ (تخویف برائے تجویز کنندگان اولاد) اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے نزول کتاب کا دوسرا مقصد بیان کیا ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ وَّلَا لِاٰبَاۗىِٕہِمْ۝ 0ۭ كَبُرَتْ كَلِمَۃً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاہِہِمْ۝ 0ۭ اِنْ يَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا۝ 5 علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا اور راک کرنا أب الأب : الوالد، ويسمّى كلّ من کان سببا في إيجاد شيءٍ أو صلاحه أو ظهوره أبا، ولذلک يسمّى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أبا المؤمنین، قال اللہ تعالی: النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْواجُهُ أُمَّهاتُهُمْ [ الأحزاب/ 6] ( اب و ) الاب ۔ اس کے اصل معنی تو والد کے ہیں ( مجازا) ہر اس شخص کو جو کسی شے کی ایجاد ، ظہور یا اصلاح کا سبب ہوا سے ابوہ کہہ دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–8

1 ؎ قال الفراء الجزر الارفق التی لانبات فیہ یقال جرزت الارض شی مجروزۃ وجزرہا المجرادوا الشاۃ والابل اذا کلت ما علیھا وامراۃ جروزا اذا کانت کو لا وسیف جراز اذا کان ستا صلا۔ 12 منہ ترکیب : قیما صاحب الکشاف کہتے ہیں کہ یہ الکتاب سے حال نہیں ہوسکتا بلکہ یہ منصوب ہے مضمر سے والتقدیر لم یجعل لہ عوجا و جعلہ قیما صاحب حل العقد کہتے ہیں کہ یہ بدل ہے لم یجعل لہ عوجا سے کیونکہ اس کے معنی ہیں جعلہ مستقیما۔ لینذر انزل سے متعلق ہے انذرمتعدی ہوتا ہے دو مفعولوں کی طرف کقولہ اناانذرنا کم عذابًا قریبًا مگر یہاں صرف باسا ایک مفعول پر کفایت کی گئی ویبشر معطوف ہے ینذر پر ان لہم ای بان لھم جملہ یبشر کے متعلق یا اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

مَالَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ وَّلاَ لِاٰبَآئِ ہِمْ ط کَبُرَتْ کَلِمَۃً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاھِہِمْ ط اِنْ یَّـقُوْلُوْنَ اِلاَّ کَذِبًا۔ (الکہف : 5) (ان کے پاس اس باب میں کوئی علم نہیں اور نہ ان کے باپ دادا کو (اس بارے میں کوئی علم تھا) بڑی ہے وہ بات جو ان کے مونہوں سے نکل رہی ہے، وہ صرف جھوٹ بول رہے ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ثابت کرنا جہالت کی وجہ سے ہے دنیا بھر کے مشرکین نے جو اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد فرض کر رکھی ہے، حقیقی اولاد کی شکل میں یا متبنیٰ کی صورت میں، اس جسارت کی بنیاد علم نہیں بلکہ ان کا غلو اور جہالت ہے۔ معاصر مشرکین تو محض آبائواجداد کی تقلید میں ایسا کہہ رہے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–5

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیات میں مومنوں کو خوشخبری دی گئی ہے اور اب ان لوگوں کو انتباہ کیا جاتا ہے جو مخلوق میں سے کسی کو اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دیتے ہیں۔ قرآن مجید ان لوگوں کو سخت ترین انتباہ کرتا ہے جو ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے۔ حالانکہ ان کے پاس نہ اس کی دلیل ہے اور نہ ہی ان کے آباؤ اجداد علم کی بنیاد پر یہ عقیدہ رکھتے تھے گویا کہ یہ عقیدہ اور بات سراسر جہالت پر مبنی ہے۔ یہ لوگ نہیں سوچتے کہ جو بات اپنی زبان سے نکال رہے ہیں یہ جھوٹ ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی گستاخی ہے۔ سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت کی تشریح میں عرض کیا جا چکا ہے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفار کی بات سفید جھوٹ ہے : 5: مَالَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ (ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں) بیٹے بنالینے کی نمبر 2۔ بیٹا ہونے کا یہ مطلب یہ ہے کہ ان کی یہ بات کسی علمی دلیل پر مبنی نہیں۔ بلکہ جہل مرکب کا نتیجہ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کا بیٹا بنانا ہی ناممکن ومحال ہے تو پھر انہوں نے یہ کیونکر کہہ دیا مالہم بہٖ من علم ؟ اس کا مطلب یہ ہے ان کو اس کا کچھ بھی علم نہیں کیونکہ وہ ایسی بات ہی نہیں جو علم میں آئے کیونکہ وہ محال ہے۔ اور کسی چیز کے متعلق علم کی نفی یا تو اس لئے ہوتی ہے کہ اس تک پہنچنے والا راستہ معلوم نہیں یا اس لئے کہ وہ اپنی ذات کے لحاظ سے محال و ناممکن ہوتی ہے۔ وَّ لَالِاٰ بَآئِھِمْ (اور نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5۔” ما لھم بہ من علم ولا لا بائھم “ یہ انہوں نے جہالت کی بناء پر کہا نہ کہ علم کی بناء پر ( یعنی اللہ کی اولاد قرار دینے کا علم) ” کبرت “ وہ بہت بڑی تہمت ہے۔” کلمۃ “ منصوب ہے تمیزہونے کی وجہ سے ۔ بعض نے کہا کہ عبارت اس طرح تھی ” کبرت الکلمۃ کلمۃ “ ایک کلمہ کو حذف کردیا گیا ۔ اس محذوف من کی وجہ سے یہ منصوب ہے۔” تخرج من افواھم “ ظاہر کرتے ہیں ، اپنی زبانوں سے ” ان یقولون “ جو کچھ وہ کہتے ہیں ۔ ” الا کذبا ً “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5:۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے سمرہ بن جندب کی حدیث سورة بنی اسرائیل کی تفسیر میں گزر چکی ہے جس میں یہ ہے کہ الحمد للہ کا کلمہ اللہ تعالیٰ کو بہت پیارا ہے 1 ؎۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کی بعض سورتوں کے اول میں اور بعض کے آخر میں یہ کلمہ اس لیے فرمایا ہے کہ یہ اللہ کا پیارا کلمہ اس کے نیک بندوں کے منہ سے نکلے اور ان کا عقبے کا بھلا ہوجائے مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ یہ قرآن محمد ﷺ نے خود بنا لیا ہے انزل علی عبدہ الکتب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو چھٹلایا اور فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو اس نے اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر نازل فرمایا ہے جس میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–8

(آیت نمبر (1 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے روئے زمین پر پائی جانے والی ہر چیز کو ‘ لذت بھرے ماکولات و مشروبات ‘ خوبصورت ملبوسات ‘ اشجارو انہار ‘ کھیتوں ‘ باغات ‘ دلفریب مناظر ‘ خوش منظر باغیچوں ‘ سحر انگیز آوازوں ‘ خوبصورت چہروں ‘ سونے چاندی ‘ اونٹوں اور گھروں ‘ ان سب کو دنیا کی زینت ‘ فتنہ اور آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے۔ (لنبلو ھم ایھم احسن عملا ) ” تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ کون ان میں اچھے عمل کرتا ہے۔ “ یعنی کون زیادہ خالص اور زیادہ صحیح اعمال پیش کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ تمام چیزوں کو مضحمل ہونے والی ‘ فانی اور زائل ہوجانے والی بنایا ہے۔ عنقریب یہ زمین بےآب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

6۔ نور علم و ہدایت سے محرومی ہلاکتوں کی ہلاکت۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ ایسی بڑی بات کہتے ہیں حالانکہ ان کے پاس اس بارے نہ کوئی علم ہے نہ دلیل۔ اور اللہ پاک کا جب کوئی شریک یا اس کی کسی طرح کی کوئی اولاد ہے ہی نہیں تو پھر اس کیلئے کوئی علم یا کوئی دلیل وبرہان ہو ہی کیسے سکتی ہے ؟ ومن یدع مع اللہ الہا آخر لا برھان لہ، بہ فانما حسابہ عند ربہ الایۃ (المومنون : 117) سو اللہ تعالیٰ کیلئے کوئی اولاد تجویز کرنا یا اس کے کوئی شریک ماننا بڑا ہی سنگین اور ہولناک جرم ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ مگر یہ لوگ ہیں کہ اپنی جہالت کی بناء پر اتنی بڑی حماقت اور اس قدر ہولناک جسارت کا ارتکاب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

قرآن کی شان اور غلط اعتقاد تشریح : قرآن پاک اور اس کے نازل کرنے والے کی تعریف اور جس پر نازل کی گئی ان سب کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب لکھتے ہیں : نزول قرآن کا اصل مقصد نفس انسانی کی تہذیب، باطل عقائد (جھوٹے عقیدے) اور فاسد اعمال (برے کام) کی تردید ہے قرآنی نقطہ نظر سے حیات ایک وحدت ہے۔ اس لیے تعلیمات قرآنی جسم و روح کے تمام تقاضوں پر محیط (گھیرے ہوئے) ہے۔ تمام کائنات میں خدائی قانون (اللہ کے قانون) کی بالا دستی ایک بنیادی حقیقت ہے اور اس کا اطلاق (جاری ہونا) تمام انسانوں پر رتبہ، قوت، رنگ، زبان اور جغرافیائی تفریق کے باوجود یکساں طور پر ہوتا ہے۔ (از الفوز الکبیر) شاہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–12

سورة الکہف : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة کہف بھی مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور اس میں انہی دو سوالوں کے جوابات ارشاد فرمائے گئے جو کفار مکہ نے یہود مدینہ سے پوچھ کر کئے تھے ، تیسرے سوال کا جواب سورة بنی اسرائیل میں اجمالا بیان ہوچکا جو روح کے بارے میں تھا ، مگر ان دونوں کے جواب مفصل دیئے گئے ، اگرچہ ان کی تفصیل بھی جغرافیائی محل وقوع تاریخی اعتبار سے زمانہ افراد کی حتمی تعداد وغیرہ باتوں کو بیان نہیں کرتی ، کہ قرآن حکیم کا موضوع تاریخ و جغرافیہ نہیں بلکہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا اور ان کی اصلاح احوال ہے تو جس حد تک واقعہ سے اس امر میں مدد حاصل ہوتی ہو اس حد تک اس واقعہ کو بیان کیا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 محض جہالت کی بنا پر ان کے باپ دادا نے یہ بات نکالی اور محض جہالت کی بنا پر انہوں نے ان کی تقلید کی

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:5) کبرت۔ ماضی واحد مؤنث غائب اس کا فاعلھی ضمیر مستتر ہے۔ اور کلمۃ اس کی تمیز ہے اور اس واسطے منصوب ہے۔ کبرت کلمۃ تخرج من افواہہم۔ کتنی بڑی بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہے۔ یعنی ان کی زبانیں کیسے شدید گستاخانہ عقیدہ بیان کر رہی ہے (یہ اسلوب بیان اظہار تعجب کے لئے اختیار کیا گیا) ۔ ان یقولون میں ان نافیہ ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–5

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 5 لم یجعل نہیں بنایا۔ عوج ٹیڑہ پن۔ کجی۔ قیم بالکل درست، صحیح۔ باس شدید سخت عذاب۔ ما کثین ٹھیرنے والے، جمنے والے۔ ابداً ہمیشہ کبرثت بڑی۔ کلمۃ بات، کلمہ افواہ (فوہ) منہ۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 5 سورۃ الکہف کے ابتدائی تعارف میں آپ نے ملاحظہ کرلیا ہے کہب عض یہودیوں کے کہنے پر کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے اصحاب کہف، ذوالقرنین اور روح کے متعلق سوالات کئے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ عرب والے ان باتوں سے ناواقف ہیں جب ہم سوال کریں گے اور ان کا جواب نہ مل سکے گا تو ہمیں نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کا مذاق اڑانے اور یہ کہنے کا موقع ہاتھ آجائے گا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے بلکہ (نعوذ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 4–5

یہودیوں کی گستاخی کا بیان یہاں فرمایا کہ ان لوگوں کو قرآن ڈراتا ہے جو مخلوق کو خالق کی اولاد بتاتے ہیں مثلاً عرب کے مشرکین فرشتوں کو خدا کی اولاد اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور یہود عزیر (علیہ السلام) کی نسبت خدا کا بیٹا کہتے تھے۔ پھر فرمایا کہ یہ جو کہتے ہیں کہ خدا صاحب اولاد ہے نہ اس کو وہ جانتے ہیں نہ اس کے باپ دادا۔ پھر فرمایا کہ یہ بڑی بیہودہ اور گستاخی کی بات ہے جیسے یہ کر رہے ہیں اور یہ لوگ محض جھوٹ بکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-5 حالانکہ اس لغو دعوے کی کوئی دلیل نہ تو ان کے پاس ہے اور نہ ان کے بڑوں اور ان کے باپ دادوں کے پاس کوئی دلیل تھی جو ان کے منہوں سے نکلتی ہے بڑی بھاری بات ہے جو کچھ یہ کہتے ہیں وہ سراسر کذب اور جھوٹ ہے۔ یعنی اپنے خاص اور مقرب بندے پر اس کتاب کو نازل فرمایا اس میں کوئی ٹیڑھی ترچھی بات نہیں نہ لفظاً نہ معنی عبارت نہایت سلیس اور شستہ معنی میں کوئی تناقص نہیں قیم سیدھی افراط تفریط سے پاک یا دیگر کتب سماویہ کی صحت و تصدیق کرنے والی اور ان کی تعلیمات کو دنیا میں قائم رکھنے والی یا بندوں کی ضروریات اور ان کی مصالح کی کفالت کرنے والی اور ان کی دنیا اور دین کو سنوارنے والی وغیرہ۔ ہم نے سیدھی اور ٹھیک…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

لوگوں میں کتنے ہیں جو اپنے مذہب کی بنیاد علم کی بجائے باپ دادا کی پیروی پر رکھتے ہیں : 5۔ غور کرو کہ لوگوں کو اس جاہلیت سے ٹوکا گیا تھا کہ وہ اپنے مذہب کی بنا علم کی بجائے قیاس پر رکھتے ہیں اور پھر کسی طرح علمی طریقہ سے یہ تحقیق کرنے کی بھی کوشش نہیں کرتے کہ ہم جس مذہب پر چلے جا رہے ہیں اس کی کوئی دلیل بھی ہے یا نہیں اور سلسلہ میں عیسائیوں اور بعض دوسرے اہل مذاہب کی اس نادانی پر ٹوکا گیا ہے کہ انہوں نے محض گمان سے کسی کو خدا کا بیٹا ٹھہرا لیا ہے ، جو بات زیر نظر آیت میں بیان کی گئی ہے وہی سورة یونس میں بھی بیان ہوئی جیسا کہ فرمایا ” لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے ، سبحان اللہ !…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–6

The properties and merits of Surah al-Kahf According to a narration of Sayyidna Abu al-Darda' ؓ appearing in Muslim, Abu Dawud, Tirmidhi, al-Nasa'i and the Musnad of Ahmad, one who has memorized the first ten verses of Surah al-Kahf will remain protected from the ill effects of Dajjal (imposter). In another report in the same books and from the same authority, the same thing has been said about having memorized the last ten verses of Surah al-Kahf. And it has been reported in the Musnad of Ahmad on the authority of Sayyidna Sahl ibn Mu` adh ؓ that the Holy Prophet ﷺ said, "One who recites…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

3.“Dreadful is the word”That one is the son of God, or Allah has adopted that one as a son. This has been declared to be dreadful because it was not based o any knowledge that Allah has a son or has adopted a son. They had merely exaggerated their love for someone and invented such a relationship. And they do not realize that it is a dreadful blasphemy, impudence and fabrication that they are uttering in regards to Allah, the Lord of the worlds.

Read the full tafseer →