Explained with ayahs 1–5
مستحق تعریف قرآن مجید
ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اللہ ہر امر کے شروع اور اس کے خاتمے پر اپنی تعریف و حمد کرتا ہے ہر حال میں وہ قابل حمد اور لائق ثنا اور سزاوار تعریف ہے اول آخر مستحق حمد فقط اسی کی ذات والا صفات ہم اس نے اپنے نبی کریم ﷺ پر قرآن کریم نازل فرمایا جو اس کتاب کو ٹھیک ٹھاک اور سیدھا اور راست رکھا ہے جس میں کوئی کجی کوئی کسر کوئی کمی نہیں صراط مستقیم کی رہبر واضح جلی صاف اور واضح ہے۔ بدکاروں کو ڈرانے والی، نیک کاروں کو خوشخبریاں سنانے والی، معتدل، سیدھی، مخالفوں منکروں کو خوفناک عذابوں کی خبر دینے والی یہ کتاب ہے۔ جو عذاب اللہ کی طرف کے ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ایسے عذاب کہ…
Read the full tafseer →سورة الْكَهْف 2
یعنی جو خدا کی طرف اولاد منسوب کرتے ہیں۔ اس میں عیسائی بھی شامل ہیں اور یہود بھی اور مشرکین عرب بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة کہف کی خصوصیات اور فضائل
مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، مسند احمد میں حضرت ابو الدردا ؓ سے ایک روایت ہے کہ جس شخص نے سورة کہف کی پہلی دس آیتیں حفظ کرلیں وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا، اور کتب مذکورہ میں حضرت ابوالدردا ؓ ہی سے ایک دوسری روایت میں یہی مضمون سورة کہف کی آخری دس آیتیں یاد کرنے کے متعلق منقول ہے اور مسند احمد میں بروایت حضرت سہل بن معاذ ؓ یہ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سورة کہف کی پہلی اور آخری آیتیں پڑھ لے تو اس کے لئے اس کے قدم سے سر تک ایک نور ہوجاتا ہے اور جو پوری سورت پڑھ لے جو اس کے لئے زمین سے آسمان تک نور ہوجاتا ہے۔
اور حافظ ضیاء مقدسی نے اپنی کتاب…
Read the full tafseer →وَيُنْذِرَ الَّذِينَ قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا۔ یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ یعنی خاص طور پر ان لوگوں کو آگاہ کردے جو خدا کے لیے اولاد فرض کر کے ان کی عبادت میں لگے ہوئے اور ان کی شفاعت کے اعتماد پر خدا سے بالکل مستغنی ہو بیٹھے ہیں۔ اس سے مراد مشرکین عرب بھی ہیں اور نصاریٰ بھی۔ مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اور نصاری حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا بنائے ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →4۔ 1 جیسے یہودیوں عیسائیوں اور بعض مشرکین (فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں) کا عقیدہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
مالھم بہ من علم ولا لابئھم (81 : 5) ” بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے ، وہ محض جھوٹ بکتے ہیں۔ “ قرآن کریم نے ان کے کلام اور ان کے عقیدے کے لئے جو الفاظ چنے ہیں وہ تعبیر مفہوم اور الفاظ کی آواز دونوں کے اعتبار سے ان کے کلمہ اور ان کی بات کے قابل مذمت ہونے کا اظہار کرتے ہیں۔ پہلا لفظ ہے (کبرت) تاکہ سننے والے کو معلوم ہوجائے کہ یہ لوگ جو بات کرتے ہیں وہ غایت درجے کی قابل مذمت اور بہت بڑی بات ہے باعتبار نتائج۔ کلمۃ تو ضمیر جملہ سے تمیز کے طور پر لایا گیا۔ یعنی کبرت کے اندر موجود ضمیر ہے۔
یہ زیادہ متوجہ کرنے کے لئے کہ ان کے منہ سے یہ عظیم با بڑی لاپرواہی اور بےت کے انداز میں نکل رہی ہے اور…
Read the full tafseer →4 خدا کے لیے اولاد تجویز کرنے میں سب سے زیادہ مشہور اور پیش پیش تو نصاریٰ ہیں اور جیسا کہ احادیث سے ظاہر ہوتا ہے۔ ان ہی سے حاملین قرآن کو قیامت تک زیادہ سابقہ پڑنا ہے۔ تاہم عموم الفاظ میں بعض فرق یہود جو عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا، یا بعض مشرکین جو ملائکۃ اللّٰہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے وہ بھی داخل ہوگئے۔ گویا اس جگہ اولاد تجویز کرنے والے کافروں کو بالخصوص اور نصاریٰ کو اخص خصوص کے طور پر متنبہ کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 4 وَّيُنْذِرَ الَّذِيْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا
دور حاضر کی دجالیت کی اصل جڑ موجودہ مسیحیت ہے جس کی بنیاد تثلیث پر رکھی گئی ہے اور اب اسے مسیحیت کے بجائے Paulism کہنا زیادہ درست ہے۔ اس میں سب سے پہلے حضرت مسیح کو اللہ کا بیٹا قرار دیا گیا۔ پھر اس میں کفارے کا عقیدہ شامل کیا گیا کہ جو کوئی بھی حضرت مسیح پر ایمان لائے گا اسے تمام گناہوں سے پیشگی معافی مل جائے گی۔ اس کے بعد شریعت کو ساقط کر کے اس سلسلے میں تمام اختیارات پوپ کو دے دیے گئے کہ وہ جس چیز کو چاہے حلال قرار دے اور جس کو چاہے حرام۔ ان تحریفات کی وجہ سے یورپ میں عام لوگوں کو لفظ ”مذہب“ سے ہی شدید نفرت ہوگئی۔ پھر جب ہسپانیہ…
Read the full tafseer →4 اللہ کی اولاد قرار دینے والے فرقے :۔ اس آیت کے مخاطب عیسائی بھی ہیں جنہوں نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے ابن اللہ ہونے کو اپنے عقیدہ کا لازمی جزو قرار دے لیا ہے مشرکین مکہ بھی جنہوں نے اللہ کے لیے بیٹوں کے بجائے کئی بیٹیاں تجویز کر رکھی تھیں جیسے لات، عزیٰ اور منات وغیرہ اور یہود بھی جو سیدنا عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے گویا قرآن کے نزول کا مقصد عام لوگوں کو ڈرانا تو ہے ہی اور بالخصوص ان لوگوں کو ڈرانا ہے جو اللہ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →4۔ یعنی مسیحیوں کو، جو رسول کو خدا کو بیٹا مانے ہوئے ہیں۔ اتخذ اللہ ولدا “۔ اتخاذولد پر حاشیہ سورة البقرۃ (پ 1) میں گزرچکا (آیت) ” وینذرالذین “۔ قرآن مجید کی عام انذاری حیثیت کا ذکر تو ابھی ابھی (آیت) ” لینذر باساشدیدا “۔ میں آچکا ہے، اب اس پر اس (آیت) ” ینذر الذین “ الخ۔ کے عطف کے معنی یہ ہوئے کہ پہلی تہذیدوتنبیہ تو عام تھی سارے منکروں اور ہر قسم کے کافروں کیلئے اور یہ جدید تہدید وتنبیہ خصوصیت کے ساتھ ہے اسی عقیدۂ ولدیت والے کافروں یعنی مسیحیوں کے لئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
آیت نمبر 2 تا 5
ترجمہ : اور حال یہ ہے کہ وہ بالکل سیدھی مستقیم ہے قَیّمًا کتاب سے حال ثانیہ ہے اور جملہ حالیہ کی تاکید ہے، تاکہ ڈرائے (اللہ) کتاب کے ذریعہ کافروں کو اپنے سخت عذاب سے، جو کہ اس کی طرف سے ہے اور تاکہ ان مومنین کو خوشخبری دے جو نیک عمل کرتے ہیں یہ کہ ان کے لئے اجر حسن ہے حال یہ ہے کہ وہ اس اجر حسن میں کہ وہ جنت ہے ہمیشہ رہیں گے، اور منجملہ کافروں سے ان کافروں کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے اس قول کی نہ ان کے پاس کوئی سند ہے اور نہ ان کے آباء کے پاس جو ان سے پہلے گذر چکے ہیں اور وہ بھی اسی بات کے قائل تھے اور یہ بات جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے بڑی بھاری ہے، کلمۃً تمیز ہے…
Read the full tafseer →وَّيُنْذِرَ الَّذِيْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا : اور تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) اللہ اولاد رکھتا ہے
Read the full tafseer →(4) اور آپ بالخصوص بذریعہ قرآن کریم یہود و نصاری اور بعض مشرکین کو بھی ڈرائیے جو نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ٹھہراتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
”قَـيِّمًا“ میں مبالغہ ہے، یعنی بالکل سیدھی، پہلے فرمایا تھا کہ اس میں کوئی کجی نہیں رکھی، اب فرمایا بالکل سیدھی ہے۔ بات ایک ہی ہے مگر اس تاکید کا فائدہ یہ ہے کہ بعض اوقات ایک چیز میں بظاہر کوئی کجی نہیں ہوتی، مگر حقیقت میں اور باریکی سے دیکھا جائے تو اس میں کوئی نہ کوئی کجی ہوتی ہے، اس سے اس کی بھی نفی ہوگئی۔ جیسے ایک جگہ ہموار نظر آتی ہے مگر آلہ رکھ کر دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ ہموار نہیں۔ ”قَـيِّمًا“ کا معنی نگران بھی ہے، ”مُھَیْمِنٌ“ کا بھی یہی معنی ہے۔ (دیکھیے مائدہ : 48) اس صورت میں مراد یہ ہوگی کہ یہ کتاب پچھلی تمام کتابوں پر نگران ہے، یعنی ان کے مضامین کا درست یا تحریف شدہ ہونا اس کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
آیت نمبر 1 تا 3
قولہ تعالیٰ : الحمدللہ الذی انزل علیٰ عبدہ الکتٰب و لم یجعل لہ عوجاً ط قیماً ابن اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ قریش نے نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط کو یہود کے علماء کی طرف بھیجا اور انہوں نے ان دونوں کو کہا : تم ان سے محمد ﷺ کے بارے میں پوچھو ان کے پاس جا کر آپ کی کیفیت اور حالت بیان کرو اور آپ کے قول کے بارے انہیں اطلاع کرو، کیونکہ ان کے پاس پہلے کتاب ہے اور ان کے پاس انبیاء (علیہم السلام) کے بارے وہ علم ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے، پس وہ دونوں نکلے یہاں تک کہ مدینہ طیبہ پہنچ گئے، اور انہوں نے یہودیوں کے علماء سے رسول اللہ ﷺ کے بارے پوچھا، اور ان کے سامنے آپ کے معاملہ کو بیان کیا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1ـ:۔ ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتب ولم یجعل لہ عوجا “ سے مراد ہے کہ کتاب کو عدل والا اور استقامت والا بنایا اور اس میں کسی قسم کی کجی اور ٹیڑھا پن نہیں۔
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انزل علی عبدہ الکتب ولم یجعل لہ عوجا “ سے مراد ہے کہ کتاب کو عدل والا اور استقامت والا بنایا اور اس میں کسی قسم کی کجی اور ٹیڑھا پن نہیں۔
3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انزل علی عبدہ الکتب ولم یجعل لہ عوجا “ میں تقدیم اور تاخیر ہے (اور…
Read the full tafseer →[وَّيُنْذِرَ : اور تاکہ وہ خبردار کریں ] [الَّذِينَ : ان کو جنھوں نے ] [قَالُوا : کہا ] [اتَّخَذَ : بنایا ] [اللّٰهُ : اللہ نے ] [وَلَدًا : ایک بیٹا ]
(آیت۔ 4) ۔ آیت۔ 2 میں لِیُنْذِرَ کے لام کسی پر عطف ہونے کی وجہ سے وَیُنْذِرَ حالت نصب میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
پھر فرمایا (قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْہُ ) تاکہ وہ قرآن کافروں کو ایک سخت عذب سے ڈرائے جو اللہ کی طرف سے ہوگا۔
(وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ اَجْرًا حَسَنًا) (اور تاکہ ایمان والوں کو بشارت دے جو نیک عمل کرتے ہیں کہ انہیں اچھا اجر ملے گا۔ ) (مَّاکِثِیْنَ فِیْہِ اَبَدًا) (یہ لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے)
اجرا حسنا سے جنت مراد ہے جس میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ (وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا) (اور تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جنہوں نے کہا کہ اللہ نے اپنے لیے اولاد بنالی ہے) پہلے تمام کافروں کو ڈرانے کا تذکرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آغاز سورت بتحمید بر انزال کتاب ہدایت برائے اثبات توحید و رسالت و ذکر فنا وزوال دنیا برائے تذکیر آخرت
قال اللہ تعالیٰ : الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتب .... الیٰ .... صعیدا جرزا۔
(ربط) گزشتہ سورت کی طرح اس سورت میں بھی اللہ تعالیٰ نے توحید و رسالت اور دنیا کے فناء وزوال اور اس کی حقارت اور آخرت کی جزاء و سزا کو بیان فرمایا اور تین قصے بیان فرمائے جن سے بھی مقصود اثبات توحید و رسالت اور اثبات قیامت ہے اور گزشتہ سورت کو حمد پر ختم فرمایا اور اس سورت کو توحید و حمد سے شروع فرمایا اور مسئلہ نبوت سے اس کی ابتداء فرمائی اور اپنی سب سے بڑی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے یہ کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
5:۔ یہ منکرین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ ” لینذر باسا شدیدا الخ “ میں لام ” انزل “ سے متعلق ہے۔ قرآن مجید نازل کرنے کے یہاں دو مقصد بیان کیے گئے ہیں۔ اول تخویف وانذار۔ دوم تبشیر۔ پہلے ” لینذر “ سے تخویف۔ پھر ” یبشر “ سے بشارت اس کے بعد پھر ” وینذر “ سے تخویف کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلے تخویف کے بیان میں مفعول (منکرین) کا ذکر نہیں کیا گیا اور عذاب شدید کا ذکر کیا گیا ہے بشارت کے سلسلے مفعول (المومنین) اور اجر دونوں مذکور ہیں۔ اس سورت میں چونکہ مقصود منکرین کے شبہات کا ازالہ ہے اس لیے بعد عہد کی وجہ سے ” و ینذر “ کا اعادہ کر کے منکرین کا ذکر کیا گیا۔ اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ وہ کون سے منکرین ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
ربط آیات :
گذشتہ درس میں قرآن پاک کے نزول کا ذکر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل ترین بندے پر ایک عظیم المرتب کتاب نازل فرمائی جس میں کسی قسم کی غلطی تضاد ، تخالف یا خلاف واقع بات نہیں ہے ، یہ کتاب سابقہ کتب سماویہ اور اللہ کے بندوں کی مصلحتوں کی محافظ اور نگران ہے ، نزول کتاب کا مقصد اللہ نے یہ بیان فرمایا ، تاکہ اللہ کا بندہ اللہ کی طرف سے آنے والی سخت گرفت سے لوگوں کو آگاہ کرے اور اہل ایمان کو خوشخبری دے کہ اعمال صالحہ انجام دینے والے لوگوں کے لیے اچھا اجر ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔
(تخویف برائے تجویز کنندگان اولاد)
اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے نزول کتاب کا دوسرا مقصد بیان کیا ہے…
Read the full tafseer →وَّيُنْذِرَ الَّذِيْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللہُ وَلَدًا 4ۤ
نذر
وَالإِنْذارُ : إخبارٌ فيه تخویف، كما أنّ التّبشیر إخبار فيه سرور . قال تعالی: فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14]
والنَّذِيرُ :
المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2]
( ن ذ ر ) النذر
الا نذار کے معنی کسی خوفناک چیز سے آگاہ کرنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل تبشیر کے معنی کسی اچھی بات کی خوشخبری سنا نیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے متنبہ کردیا ۔
النذ یر
کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔ اور اس کا اطلاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1 ؎ قال الفراء الجزر الارفق التی لانبات فیہ یقال جرزت الارض شی مجروزۃ وجزرہا المجرادوا الشاۃ والابل اذا کلت ما علیھا وامراۃ جروزا اذا کانت کو لا وسیف جراز اذا کان ستا صلا۔ 12 منہ
ترکیب : قیما صاحب الکشاف کہتے ہیں کہ یہ الکتاب سے حال نہیں ہوسکتا بلکہ یہ منصوب ہے مضمر سے والتقدیر لم یجعل لہ عوجا و جعلہ قیما صاحب حل العقد کہتے ہیں کہ یہ بدل ہے لم یجعل لہ عوجا سے کیونکہ اس کے معنی ہیں جعلہ مستقیما۔ لینذر انزل سے متعلق ہے انذرمتعدی ہوتا ہے دو مفعولوں کی طرف کقولہ اناانذرنا کم عذابًا قریبًا مگر یہاں صرف باسا ایک مفعول پر کفایت کی گئی ویبشر معطوف ہے ینذر پر ان لہم ای بان لھم جملہ یبشر کے متعلق یا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِہِ الْکِتٰبَ وَلَمْ یَجْعَلْ لَّـہٗ عِوَجًا۔ قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاسًاشَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْـہُ وَیُبَشِّرَالْمُوْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمْ اَجْرًا حَسَنًا۔ مَّا کِـثِیْنَ فِیْہِ اَبَدًا۔ وَّیُنْذِرَالَّذِیْنَ قَالُوْا اتَّخَذَاللّٰہُ وَلَدًا۔ (الکہف : 1 تا 4)
(ہر طرح کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب اتاری اور اس میں اس نے کوئی کج پیچ نہیں رکھا۔ بالکل ہموار اور استوار تاکہ وہ اپنی جانب سے جھٹلانے والوں کو ایک سخت عذاب سے آگاہ کردے اور بشارت دے دے ایمان لانے والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیات میں مومنوں کو خوشخبری دی گئی ہے اور اب ان لوگوں کو انتباہ کیا جاتا ہے جو مخلوق میں سے کسی کو اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دیتے ہیں۔
قرآن مجید ان لوگوں کو سخت ترین انتباہ کرتا ہے جو ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے۔ حالانکہ ان کے پاس نہ اس کی دلیل ہے اور نہ ہی ان کے آباؤ اجداد علم کی بنیاد پر یہ عقیدہ رکھتے تھے گویا کہ یہ عقیدہ اور بات سراسر جہالت پر مبنی ہے۔ یہ لوگ نہیں سوچتے کہ جو بات اپنی زبان سے نکال رہے ہیں یہ جھوٹ ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی گستاخی ہے۔ سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت کی تشریح میں عرض کیا جا چکا ہے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →4: وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا (اور وہ ڈرائے ان لوگوں کو جنہوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے بیٹا بنا لیا ہے) یہاں ان لوگوں کو ذکر کردیا جن کو ڈرایا گیا ہے منذربہٖ کا ذکر نہیں کیا۔ پہلے مقام میں اس کا عکس ہے۔ اس لئے کہ پہلے تذکرہ ہوچکا اب دوبارہ ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →4۔” وینذر الذین قالوا اتخذ اللہ ولداً “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5:۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے سمرہ بن جندب کی حدیث سورة بنی اسرائیل کی تفسیر میں گزر چکی ہے جس میں یہ ہے کہ الحمد للہ کا کلمہ اللہ تعالیٰ کو بہت پیارا ہے 1 ؎۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کی بعض سورتوں کے اول میں اور بعض کے آخر میں یہ کلمہ اس لیے فرمایا ہے کہ یہ اللہ کا پیارا کلمہ اس کے نیک بندوں کے منہ سے نکلے اور ان کا عقبے کا بھلا ہوجائے مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ یہ قرآن محمد ﷺ نے خود بنا لیا ہے انزل علی عبدہ الکتب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو چھٹلایا اور فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو اس نے اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر نازل فرمایا ہے جس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
(آیت نمبر (1
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے روئے زمین پر پائی جانے والی ہر چیز کو ‘ لذت بھرے ماکولات و مشروبات ‘ خوبصورت ملبوسات ‘ اشجارو انہار ‘ کھیتوں ‘ باغات ‘ دلفریب مناظر ‘ خوش منظر باغیچوں ‘ سحر انگیز آوازوں ‘ خوبصورت چہروں ‘ سونے چاندی ‘ اونٹوں اور گھروں ‘ ان سب کو دنیا کی زینت ‘ فتنہ اور آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے۔ (لنبلو ھم ایھم احسن عملا ) ” تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ کون ان میں اچھے عمل کرتا ہے۔ “ یعنی کون زیادہ خالص اور زیادہ صحیح اعمال پیش کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ تمام چیزوں کو مضحمل ہونے والی ‘ فانی اور زائل ہوجانے والی بنایا ہے۔ عنقریب یہ زمین بےآب…
Read the full tafseer →5۔ مشرکوں کیلئے بطور خاص انذار :۔
سو ارشاد فرمایا گیا اور خاص کر اس میں انذار ہے ان لوگوں کیلئے جنہوں نے کیا خدا کی اولاد ہے۔ خواہ وہ یہود و نصاری ہوں۔ جنہوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خداوند تعالیٰ کی اولاد قرار دیا یا مشرکین عرب وغیرہ جنہوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا۔ یا وہ کلمہ گو مشرک جنہوں نے اپنے خود ساختہ فلسفوں، من گھڑت مفروضوں اور ڈھکوسلوں کی بناء پر اللہ کے کچھ بندوں کو خدائی حقوق واختیار میں شریک قرار دیا اور ان کو خدا کے لاڈلے اور محبوب کہہ کر اور ان کو حاجت روا ومشکل کشامان کر پوجنا پکارنا شروع کردیا۔ جیسا کہ حضرت شاہ ولی اللہ (رح) نے اپنی شہرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
قرآن کی شان اور غلط اعتقاد
تشریح : قرآن پاک اور اس کے نازل کرنے والے کی تعریف اور جس پر نازل کی گئی ان سب کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب لکھتے ہیں :
نزول قرآن کا اصل مقصد نفس انسانی کی تہذیب، باطل عقائد (جھوٹے عقیدے) اور فاسد اعمال (برے کام) کی تردید ہے قرآنی نقطہ نظر سے حیات ایک وحدت ہے۔ اس لیے تعلیمات قرآنی جسم و روح کے تمام تقاضوں پر محیط (گھیرے ہوئے) ہے۔ تمام کائنات میں خدائی قانون (اللہ کے قانون) کی بالا دستی ایک بنیادی حقیقت ہے اور اس کا اطلاق (جاری ہونا) تمام انسانوں پر رتبہ، قوت، رنگ، زبان اور جغرافیائی تفریق کے باوجود یکساں طور پر ہوتا ہے۔ (از الفوز الکبیر)
شاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
سورة الکہف :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة کہف بھی مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور اس میں انہی دو سوالوں کے جوابات ارشاد فرمائے گئے جو کفار مکہ نے یہود مدینہ سے پوچھ کر کئے تھے ، تیسرے سوال کا جواب سورة بنی اسرائیل میں اجمالا بیان ہوچکا جو روح کے بارے میں تھا ، مگر ان دونوں کے جواب مفصل دیئے گئے ، اگرچہ ان کی تفصیل بھی جغرافیائی محل وقوع تاریخی اعتبار سے زمانہ افراد کی حتمی تعداد وغیرہ باتوں کو بیان نہیں کرتی ، کہ قرآن حکیم کا موضوع تاریخ و جغرافیہ نہیں بلکہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا اور ان کی اصلاح احوال ہے تو جس حد تک واقعہ سے اس امر میں مدد حاصل ہوتی ہو اس حد تک اس واقعہ کو بیان کیا جاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ف 1 مراد ہیں نصاریٰ جو حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں یا مشرکین عرب بھی جو فرشتوں کو خدا کی بٹیاں قرار دیتے ہیں اور یہود جو حضرت عزیز کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
(18:2) قیما۔ درست کرنے والے۔ یعنی ایسی کتاب جو (نہ صرف بذاتہٖ ہر قسم کی کجی یا خامی سے مبرّا ہے بلکہ) دوسروں کی کجیوں اور خامیوں کی اصلاح کرتی ہے۔ ای ثابتا ومقوما لامور معاشہم ومعادہم یعنی کود کجی سے بالاتر اور دوسروں کے معاش ومعاد کو درست کرنے والی۔ حروف مادہ ق و م۔
ولم یجعل لہ عوجا قیما۔ صاحب کشاف نے وائو کو حرف عطف اور ولم یجعل لہ کو انزل پر معطوف لیا ہے۔ ان کے نزدیک قیما کو الکتب کا حال ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ فعل مضمر کی وجہ سے ہے اور تقدیر کلام یوں ہے ولم یجعل لہ عوجا جعلہ قیما۔ لیکن بعض کے نزدیک ولم یجعل لہ عوجا میں وائو حالیہ ہے گویا ولم یجعل لہ عوجا اور قیمادونوں حال ہیں جب دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 5
لم یجعل نہیں بنایا۔ عوج ٹیڑہ پن۔ کجی۔ قیم بالکل درست، صحیح۔ باس شدید سخت عذاب۔ ما کثین ٹھیرنے والے، جمنے والے۔ ابداً ہمیشہ کبرثت بڑی۔ کلمۃ بات، کلمہ افواہ (فوہ) منہ۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 5
سورۃ الکہف کے ابتدائی تعارف میں آپ نے ملاحظہ کرلیا ہے کہب عض یہودیوں کے کہنے پر کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے اصحاب کہف، ذوالقرنین اور روح کے متعلق سوالات کئے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ عرب والے ان باتوں سے ناواقف ہیں جب ہم سوال کریں گے اور ان کا جواب نہ مل سکے گا تو ہمیں نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کا مذاق اڑانے اور یہ کہنے کا موقع ہاتھ آجائے گا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے بلکہ (نعوذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
یہودیوں کی گستاخی کا بیان
یہاں فرمایا کہ ان لوگوں کو قرآن ڈراتا ہے جو مخلوق کو خالق کی اولاد بتاتے ہیں مثلاً عرب کے مشرکین فرشتوں کو خدا کی اولاد اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور یہود عزیر (علیہ السلام) کی نسبت خدا کا بیٹا کہتے تھے۔ پھر فرمایا کہ یہ جو کہتے ہیں کہ خدا صاحب اولاد ہے نہ اس کو وہ جانتے ہیں نہ اس کے باپ دادا۔ پھر فرمایا کہ یہ بڑی بیہودہ اور گستاخی کی بات ہے جیسے یہ کر رہے ہیں اور یہ لوگ محض جھوٹ بکتے ہیں۔
Read the full tafseer →-4 اور تاکہ یہ کتاب یہ کتاب ان کو بھی ڈرائے جنہوں نے یوں کہا کہ اللہ تعالیٰ اولاد رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →اس کتاب میں ان لوگوں کو بھی تنبیہ کی گئی ہے جو اللہ کے لئے اولاد قرار دیتے ہیں :
4۔ عیسائیوں کا قول تھا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے یا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بیٹا بنایا ہے لیکن اس کا یہ کہنا کسی علم پر مبنی نہیں کہ ان کو اللہ کے ہاں اولاد ہونے یا اللہ تعالیٰ کا کسی کو اولاد بنانے کا علم ہے یعنی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ان کے پاس ہے بلکہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ محض ان کی عقیدت مندی ہے اور فقط ایک قومی نظریہ ہے جس کے متعلق ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے ، فلسفیانہ تجسس جس کا مقصد یہ پتہ چلانا ہے کہ اس کائنات میں بظاہر جو کچھ ہم دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں اس کے پیچھے کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
The properties and merits of Surah al-Kahf
According to a narration of Sayyidna Abu al-Darda' ؓ appearing in Muslim, Abu Dawud, Tirmidhi, al-Nasa'i and the Musnad of Ahmad, one who has memorized the first ten verses of Surah al-Kahf will remain protected from the ill effects of Dajjal (imposter). In another report in the same books and from the same authority, the same thing has been said about having memorized the last ten verses of Surah al-Kahf.
And it has been reported in the Musnad of Ahmad on the authority of Sayyidna Sahl ibn Mu` adh ؓ that the Holy Prophet ﷺ said, "One who recites…
Read the full tafseer →2.“Those who say”includes the Christians, the Jews and the mushrik Arabs who assigned offspring to Allah.
Read the full tafseer →