دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دُعِيتُمْ إِلَی کُرَاعٍ فَأَجِيبُوا
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، عمر بن محمد، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر تمہیں بکری کے کھر کی دعوت کے لئے بھی بلایا جائے تو قبول کرو۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Apostle ﷺ having said: When you are invited to a feast (even though it is) the leg of the sheep, you should accept it.
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُکُمْ إِلَی طَعَامٍ فَلْيُجِبْ فَإِنْ شَائَ طَعِمَ وَإِنْ شَائَ تَرَکَ وَلَمْ يَذْکُرْ ابْنُ الْمُثَنَّی إِلَی طَعَامٍ
محمد بن مثنی، عبدالرحمن بن مہدی، محمد بن عبداللہ بن نمیر، سفیان، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو قبول کرلے پس اگر چاہے تو کھالے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے لیکن ابن مثنی نے إِلَی طَعَامٍ کا ذکر نہیں کیا۔
Jabir (RA) reported that Allahs Messenger (may peace he upon him) said: When any one of you is invited to a feast, he should accept it. He may eat if he likes, or he may abandon (eating) if he likes. Ibn Mathanna did not make mention of the word "feast".
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ
ابن نمیر، ابوعاصم، ابن جریج، ابوزبیر ان اسناد سے بھی حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Abu Zubair with the same chain of transmitters.
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُکُمْ فَلْيُجِبْ فَإِنْ کَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ وَإِنْ کَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، ہشام، ابن سیرین، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو چاہئے کہ قبول کرلے پس اگر روزہ دار ہو تو دعا کرے اور اگر افطار کرنے والا ہو تو کھالے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If any one of you is invited, he should accept (the invitation). In case he is fasting, he should pray (in order to bless the inmates of the house), and if he is not fasting he should eat.
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ بِئْسَ الطَّعَامُ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَی إِلَيْهِ الْأَغْنِيَائُ وَيُتْرَکُ الْمَسَاکِينُ فَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَی اللَّهَ وَرَسُولَهُ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے تھے برا کھانا اس ولیمے کا کھانا ہے جس میں امیروں کو بلایا جائے اور مساکین کو چھوڑ دیا جائے اور جو دعوت کو نہ آیا تو تحقیق اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی۔
Abu Hurairah (RA) used to say: The worst kind of food is the wedding feast to which the rich are invited and the poor are ignored. He who does not come to the feast, he in fact disobeys Allah and His Messenger ﷺ .
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ يَا أَبَا بَکْرٍ کَيْفَ هَذَا الْحَدِيثُ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْأَغْنِيَائِ فَضَحِکَ فَقَالَ لَيْسَ هُوَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْأَغْنِيَائِ قَالَ سُفْيَانُ وَکَانَ أَبِي غَنِيًّا فَأَفْزَعَنِي هَذَا الْحَدِيثُ حِينَ سَمِعْتُ بِهِ فَسَأَلْتُ عَنْهُ الزُّهْرِيَّ فَقَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ
ابن ابی عمر سفیان، ابوبکر، حضرت سفیان ؓ سے روایت ہے کہ میں نے زہری سے کہا اے ابوبکر یہ حدیث کیسے ہے کہ کھانوں میں سے برا کھانا امیروں کا ہے؟ تو وہ ہنس پڑے اور کہا کہ امیروں کا کھانا برا نہیں ہے سفیان نے کہا کہ میرے والد امیر تھے اور مجھے اس حدیث نے گھبراہٹ میں ڈال دیا جب سے میں نے اسے سنا میں نے زہری سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا مجھے عبدالرحمن الاعرج نے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے سنا وہ فرماتے تھے کھانوں میں سے برا کھانا ولیمہ کا کھانا ہے پھر مالک کی حدیث کی طرح ذکر کیا۔
Sufyan reported: I said to Zuhri: Abu Bakr, what does this hadith mean: "The worst kind of food is at a wedding feast of the rich"? He laughed and said: The food served in the feast given by the rich is not worst (in itself). Sufyan said: My father was rich, so I felt disturbed when I heard this hadith, so I asked Zuhri who said: I heard from Abdul Rahman al-Alraj that he heard Abu Hurairah (RA) say: The worst kind of food is that served at the wedding feast. The rest of the hadith is the same.
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ح وَعَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِکٍ
محمد بن رافع، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، سعید بن مسیب، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ برا کھانا ولیمہ کا کھانا ہے باقی مالک کی حدیث کی طرح بیان کیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نَحْوَ ذَلِکَ
ابن ابی عمر، سفیان، ابوزناد، اعرج، ابوہریرہ اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ روایت کی گئی ہے۔
A hadith like this has been narrated by Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا الْأَعْرَجَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُمْنَعُهَا مَنْ يَأْتِيهَا وَيُدْعَی إِلَيْهَا مَنْ يَأْبَاهَا وَمَنْ لَمْ يُجِبْ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَی اللَّهَ وَرَسُولَهُ
ابن ابی عمر، سفیان، زیاد بن سعد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں آنے والے کو روکا جائے اور انکار کرنے والے کو بلایا جائے اور جو دعوت قبول نہ کرے اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying. The worst kind of food is at the wedding feast from which one who comes is turned away, and he who refuses it is invited, and he who did not accept the invitation disobeyed Allah and His Messenger ﷺ .
تین طلاق سے مطلقہ عورت طلاق دینے والے کے لئے حلال نہیں الا وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرے وہ اس سے وطی کرے پھر جدائی ہو اور اسکی عدت پوری ہوجائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَائَتْ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ کُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَإِنَّ مَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَی رِفَاعَةَ لَا حَتَّی تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَکِ قَالَتْ وَأَبُو بَکْرٍ عِنْدَهُ وَخَالِدٌ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَنَادَی يَا أَبَا بَکْرٍ أَلَا تَسْمَعُ هَذِهِ مَا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو سفیان، عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رفاعہ ؓ کی بیوی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا میں رفاعہ کے پاس تھی تو اس نے مجھے طلاق دے دی ہے اور تین طلاقیں اور میں نے عبدالرحمن بن زبیر سے شادی کرلی اور اس کے ساتھ کپڑے کے کنارے کی طرح ہے (نامرد ہے) رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا کیا تیرا ارادہ ہے کہ تو رفاعہ کے پاس واپس لوٹ جائے۔ نہیں! یہاں تک کہ تو اس (عبدالرحمن بن زبیر) کا مزہ چکھے اور وہ تیرا مزا چکھے۔ فرماتی ہیں کہ ابوبکر ؓ آپ کے پاس موجود تھے اور خالد بن سعید ؓ دروازہ پر تھے اس انتظار میں کہ اسے بھی اجازت دی جائے تو خالد نے دروازہ پر سے پکار کر کہا اے ابوبکر کیا تم نہیں سن رہے کہ یہ عورت رسول اللہ ﷺ کے سامنے کیا آواز بلند کر رہی ہے۔
Aisha (Allah he pleased with her) reported: There came the wife of Rifaa to Allahs Apostle ﷺ and said: I was married to Rifaa but he divorced me, making may divorce irrevocable. Afterwards I married Abdul Rahman bin al-Zubair, but all he possesses is like the fringe of a garment (i. e. he is sexually weak). Thereupon Allahs Messenger ﷺ smiled, and said: Do you wish to return to Rifaa. (You) cannot (do it) until you have tasted his sweetness and he (Abdul Rahman) has tasted your sweetness. Abu Bakr (RA) was at that time near him (the Holy Prophet) and Khalid (b. Said) was at the door waiting for the permission to be granted to him to enter). He (Khalid) said; Abu Bakr, do you hear what she is saying loudly in the presence of Allahs Messenger ﷺ ?
تین طلاق سے مطلقہ عورت طلاق دینے والے کے لئے حلال نہیں الا وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرے وہ اس سے وطی کرے پھر جدائی ہو اور اسکی عدت پوری ہوجائے۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا وَقَالَ حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَبَتَّ طَلَاقَهَا فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ فَجَائَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا کَانَتْ تَحْتَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ الْهُدْبَةِ وَأَخَذَتْ بِهُدْبَةٍ مِنْ جِلْبَابِهَا قَالَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِکًا فَقَالَ لَعَلَّکِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَی رِفَاعَةَ لَا حَتَّی يَذُوقَ عُسَيْلَتَکِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَأَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ بِبَابِ الْحُجْرَةِ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ قَالَ فَطَفِقَ خَالِدٌ يُنَادِي أَبَا بَکْرٍ أَلَا تَزْجُرُ هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس ابن شہاب، عروہ بن زبیر، ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رفاعہ قرظی ؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور تین طلاقیں دیں اس عورت نے اس کے بعد عبدالرحمن بن زبیر ؓ سے شادی کرلی پھر اس نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں رفاعہ کے نکاح میں تھی اس نے مجھے آخری طلاق (تین طلاقیں) دے دیں تو میں نے اس کے بعد عبدالرحمن بن زبیر ؓ سے نکاح کرلیا اللہ کی قسم اس کے پاس کچھ نہیں سوائے کپڑے کے کنارے کے (نامرد ہے) اور اس نے اپنی چادر کا کنارہ پکڑ کر بتایا تو رسول اللہ ﷺ کھلکھلا کر مسکرائے پھر فرمایا شاید تو ارادہ رکھتی ہے کہ تو رفاعہ ؓ کے پاس لوٹ جائے۔ نہیں یہاں تک کہ وہ تیرا مزہ چکھ لے اور تو اس کا مزہ چکھ لے اور ابوبکر صدیق ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور خالد بن سعید بن عاص ؓ حجرہ کے دروازہ پر بیٹھے ہوئے تھے کیونکہ انہیں اجازت نہیں دی گئی تھی خالد نے ابوبکر ؓ کو پکارنا شروع کردیا اے ابوبکر تم اس عورت کو ڈانٹ کیوں نہیں دیتے کہ یہ عورت رسول اللہ ﷺ کے سامنے کیا گفتگو کر رہی ہے۔
Aisha (Allah be pleased with her), the wife of Allahs Apostle ﷺ , reported that Rifaa al-Quraid (RA) divorced his wife, making her divorce irrevocable. Afterwards she married Abdul Rahman bin al-Zubair (RA) . She came to Allahs Apostle ﷺ and said to Allahs messenger ﷺ that she had been the wife of Rifaa (RA) and he had divorced her by three pronouncements and afterwards she married Abdul Rahman bin al-Zubair. By Allah, all he possesses is like the fringe of a garment, and she took hold of the fringe of her garment. Thereupon Allahs Messenger ﷺ laughed and said: Perhaps you wish to return to Rifaa, (but you) cannot (do it) until he has tasted your sweetness and you have tasted his sweetness. Abu Bakr al-Siddiq (RA) was sitting at that time with Allahs Messenger ﷺ and Khalid bin Said bin al-As (RA) was sitting at the door of his apartment and he was not permitted to (enter the room), and Khalid called loudly saying: Abu Bakr, why dont you scold her for what she is saying loudly in the presence of Allahs Messenger ﷺ ?
تین طلاق سے مطلقہ عورت طلاق دینے والے کے لئے حلال نہیں الا وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرے وہ اس سے وطی کرے پھر جدائی ہو اور اسکی عدت پوری ہوجائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ فَجَائَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رفاعہ قرظی ؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اس عورت سے عبدالرحمن بن زبیر نے شادی کرلی وہ نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئی عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! رفاعہ نے اسے آخری طلاق دے دی (تین طلاقیں) باقی یونس کی حدیث کی طرح ہے۔
Aisha (Allah bjpleased with her) reported that Rifaa al Qurazi divorced his wife and afterwards Abdul Rahman bin al-Zubair married her. She came to Allahs Apostle ﷺ (may peace he upon him) and said: Messenger of Allah, Rifaa has divorced me by three pronouncements. (The rest of the hadith is the same.)
تین طلاق سے مطلقہ عورت طلاق دینے والے کے لئے حلال نہیں الا وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرے وہ اس سے وطی کرے پھر جدائی ہو اور اسکی عدت پوری ہوجائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْمَرْأَةِ يَتَزَوَّجُهَا الرَّجُلُ فَيُطَلِّقُهَا فَتَتَزَوَّجُ رَجُلًا فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ قَالَ لَا حَتَّی يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا
محمد بن علاء، ابواسامہ، ہشام، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس عورت کے بارے میں پوچھا گیا جس سے ایک آدمی نے شادی کی پھر اسے طلاق دے دی تو اس سے ایک دوسرے آدمی نے شادی کرلی اور اس نے اسے دخول سے قبل ہی طلاق دے دی کیا یہ عورت پہلے خاوند کے لئے حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں یہاں تک کہ دوسرا مرد اس سے جماع کی لذت چکھ لے۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported that Allahs Messenger ﷺ was asked about a woman whom a man married and then divorced her, and then she married (another) person, and she was divorced before sexual intercourse with her, whether it was lawful for her first husband (to marry her in this state). He (the Holy Prophet) said: No, until he has tasted her sweetness.
تین طلاق سے مطلقہ عورت طلاق دینے والے کے لئے حلال نہیں الا وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرے وہ اس سے وطی کرے پھر جدائی ہو اور اسکی عدت پوری ہوجائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن فضیل، ابوکریب، ابومعاویہ، ہشام، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters.
تین طلاق سے مطلقہ عورت طلاق دینے والے کے لئے حلال نہیں الا وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرے وہ اس سے وطی کرے پھر جدائی ہو اور اسکی عدت پوری ہوجائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَأَرَادَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ لَا حَتَّی يَذُوقَ الْآخِرُ مِنْ عُسَيْلَتِهَا مَا ذَاقَ الْأَوَّلُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، عبیداللہ بن عمر، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو اس سے ایک دوسرے آدمی نے شادی کرلی پھر اس نے صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دی اب اس کے پہلے خاوند نے اس سے شادی کا ارادہ کیا رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں یہاں تک کہ دوسرا مرد اسی طرح جماع کی لذت چکھ لے جس طرح پہلے نے چکھی۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: A person divorced his wife by three pronouncements; then another person married her and he also divorced her without having sexual intercourse with her. Then the first husband of her intended to remarry her. It was about such a case that Allahs Messenger ﷺ was asked, whereupon he said: No, until the second one has tasted her sweetness as the first one had tasted.
تین طلاق سے مطلقہ عورت طلاق دینے والے کے لئے حلال نہیں الا وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرے وہ اس سے وطی کرے پھر جدائی ہو اور اسکی عدت پوری ہوجائے۔
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَفِي حَدِيثِ يَحْيَی عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ عَنْ عَائِشَةَ
محمد بن عبداللہ، ابن نمیر، محمد بن مثنی، یحیی، ابن سعید، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the same chain of transmitters by Aisha (Allah be pleased with her).
جماع کے وقت کیا دعا پڑھنا مستحب ہے ؟
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِکَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا
یحییٰ بن یحیی، اسحاق بن ابراہیم، یحیی، جریر، منصور، سالم، کریب، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی ایک جب اپنی بیوی سے جماع کا ارادہ کرے تو " بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا " اللہ کے نام سے اے اللہ ہمیں شیطان سے بچا اور تو جو ہمیں عطا کرے اسے بھی شیطان سے بچا پڑھ لے اگر میاں بیوی کے لئے اس جماع میں بچہ مقدر ہے تو اسے شیطان کبھی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔
Ibn Abbas (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: If anyone amongst you intends to go to his wife he should say: "In the name of Allah, O Allah protect us against Satan and keep away the Satan from the one that you have bestowed upon us," and if He has ordained a male child for them, Satan will never be able to do any harm to him.
جماع کے وقت کیا دعا پڑھنا مستحب ہے ؟
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا عَنْ الثَّوْرِيِّ کِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ بِمَعْنَی حَدِيثِ جَرِيرٍ غَيْرَ أَنَّ شُعْبَةَ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِکْرُ بِاسْمِ اللَّهِ وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ الثَّوْرِيِّ بِاسْمِ اللَّهِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ قَالَ مَنْصُورٌ أُرَاهُ قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابن نمیر، عبد بن حمید، عبدالرزاق، ثوری، منصور، جریر شعبہ اس حدیث کی مختلف اسناد ذکر کی ہیں فرق صرف یہ ہے کہ بعض میں بِسْمِ اللَّهِ کا ذکر ہے اور بعض میں نہیں۔
This hadith is narrated through another chain of transmitters and there is no mention of (the words) "Bismillah" (In the name of Allah) in it.
اپنی بیوی سے قبل میں خواہ آگے سے یا پیچھے سے جماع کرے لیکن دبر میں نہ کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُا کَانَتْ الْيَهُودُ تَقُولُ إِذَا أَتَی الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ مِنْ دُبُرِهَا فِي قُبُلِهَا کَانَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ فَنَزَلَتْ نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، ابوبکر، سفیان ابن منکدر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ یہود نے کہا جب آدمی اپنی عورت کے پیچھے سے اس کے اگلے مقام میں وطی کرے تو بچہ بھینگا پیدا ہوگا تو آیت مبارکہ (نِسَا ؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ ) 2۔ البقرۃ: 223) تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں پس تم اپنی کھیتی کو جیسے چاہو آؤ۔
Jabir (RA) declared that the Jews used to say: When a man has intercourse with his wife through the vagina but being on her back. the child will have squint, so the verse came down: "Your wives are your tilth; go then unto your tilth as you may desire" (ii. 223)
اپنی بیوی سے قبل میں خواہ آگے سے یا پیچھے سے جماع کرے لیکن دبر میں نہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ يَهُودَ کَانَتْ تَقُولُ إِذَا أُتِيَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ دُبُرِهَا فِي قُبُلِهَا ثُمَّ حَمَلَتْ کَانَ وَلَدُهَا أَحْوَلَ قَالَ فَأُنْزِلَتْ نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ
محمد بن رمح، لیث، ابن ہاد، ابن حازم، محمد بن منکدر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ یہود نے کہا جب عورت سے اس کے پیچھے کی جانب سے اس کے اگلے حصہ میں وطی کی جائے تو اس کا بچہ بھینگا پیدا ہوگا تو آیت (نِسَا ؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ ) 2۔ البقرۃ: 223) نازل کی گئی۔
Jabir (b.Abdullah) (RA) reported that the Jews used to say that when one comes to ones wife through the vagina, but being on her back, and she becomes pregnant, the child has a squint. So the verse came down: "Your wives are your tilth; go then unto your tilth, as you may desire."