نکاح کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 18 · 171 hadiths · Page 6 of 9

3498Sahih Muslim

مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ وَشُعَيْبِ بْنِ حَبْحَابٍ عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ وَعُمَرُ بْنُ سَعْدٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسٍ کُلُّهُمْ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا وَفِي حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ تَزَوَّجَ صَفِيَّةَ وَأَصْدَقَهَا عِتْقَهَا

ابوربیع، حماد ابن زید، ثابت عبدالعزیز، صہیب انس قتبہ بن سعید، حامد ثابت، شعی بن حبحاب، ابوعوانہ، محمد بن عبید ابوعثمان انس زہیر بن حرب معاذ بن ہشام، محمد بن رافع، عمر بن سعد، عبدالرزاق، سفیان یونس بن عبید، شعیب مختلف اسناد سے روایت ذکر کی ہے کہ حضرت انس نبی ﷺ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے صفیہ کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر مقرر کیا اور معاذ نے اپنے باپ سے حدیث روایت کی ہے کہ آپ ﷺ نے صفیہ سے شادی کی اور ان کا مہر ان کی آزادی کو مقرر کیا۔

This hadith has been narrated through another chain of transmitters on the authority of Anas that Allahs Apostle ﷺ emancipated Safiyya, and her emancipation was treated as her wedding gift, and in the hadith transmitted by Muadh on the authority of his father (the words are): "He (the Holy Prophet) married Safiyya and bestowed her emancipation as her wedding gift."

3499Sahih Muslim

مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يُعْتِقُ جَارِيَتَهُ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا لَهُ أَجْرَانِ

یحییٰ بن یحییٰ خالد بن عبداللہ، مطرف، عامر، ابی بردہ، حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کے بارے میں جو اپنی لونڈی کو آزاد کرے پھر اس سے شادی کرے فرمایا اس کے لئے دوہرا اجر ہے۔

Abu Musa reported that Allahs Messenger ﷺ said about one who emancipated a slave woman, and then married her, that for him there are two rewards.

3500Sahih Muslim

مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کُنْتُ رِدْفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدَمِي تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُمْ حِينَ بَزَغَتْ الشَّمْسُ وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِيَهُمْ وَخَرَجُوا بِفُؤُوسِهِمْ وَمَکَاتِلِهِمْ وَمُرُورِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ قَالَ وَهَزَمَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَوَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَی أُمِّ سُلَيْمٍ تُصَنِّعُهَا لَهُ وَتُهَيِّئُهَا قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَتَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا وَهِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ قَالَ وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَتَهَا التَّمْرَ وَالْأَقِطَ وَالسَّمْنَ فُحِصَتْ الْأَرْضُ أَفَاحِيصَ وَجِيئَ بِالْأَنْطَاعِ فَوُضِعَتْ فِيهَا وَجِيئَ بِالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ فَشَبِعَ النَّاسُ قَالَ وَقَالَ النَّاسُ لَا نَدْرِي أَتَزَوَّجَهَا أَمْ اتَّخَذَهَا أُمَّ وَلَدٍ قَالُوا إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ أُمُّ وَلَدٍ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْکَبَ حَجَبَهَا فَقَعَدَتْ عَلَی عَجُزِ الْبَعِيرِ فَعَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا فَلَمَّا دَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَفَعْنَا قَالَ فَعَثَرَتْ النَّاقَةُ الْعَضْبَائُ وَنَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَدَرَتْ فَقَامَ فَسَتَرَهَا وَقَدْ أَشْرَفَتْ النِّسَائُ فَقُلْنَ أَبْعَدَ اللَّهُ الْيَهُودِيَّةَ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَوَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِي وَاللَّهِ لَقَدْ وَقَعَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ میں خیبر کے دن ابوطلحہ کے پیچھے سوار تھا اور میرا قدم رسول اللہ ﷺ کے قدم مبارک کو چھو جاتا تھا سورج کے طلوع ہوتے ہی ہم خیبر جا پہنچے اور لوگوں نے اپنے جانوروں کو باہر نکال لیا تھا اور وہ اپنے کدال اور پھاوڑے اور ٹوکریاں لے کر نکلے انہوں نے کہا محمد ﷺ بھی ہیں اور لشکر بھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خبیر برباد ہوگیا جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر تے ہیں تو ان کی صبح بری ہوجاتی ہے جن کو ڈرایا جاتا ہے بالآخر اللہ نے انہیں شکست دی اور حضرت دحیہ کے حصہ میں ایک خوبصورت باندی آئی پھر رسول اللہ ﷺ نے ان سے اس کو سات باندیوں کے بدلے میں خرید لیا پھر اسے ام سلیم کی طرف بھیجا کہ وہ اسے بنا سنوار کر تیار کردیں اور راوی کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے آپ ﷺ نے یہ اس لئے فرمایا تاکہ انہی کے گھر میں وہ اپنی عدت پوری کرلیں اور یہ باندی صفیہ بنت حیی ؓ تھیں اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے ولیمہ میں کھجور، پنیر اور مکھن کا کھانا تیار کروایا زمین کو کھودا گیا گڑھوں میں چمڑے کے دستر خوان لا کر رکھے گئے اور پنیر اور مکھن لایا گیا اور لوگوں نے خوب سیر (پیٹ بھر کر) ہو کر کھایا اور لوگوں نے کہا ہم نہیں جانتے کہ آپ ﷺ نے ان سے شادی کی یا ام ولد بنایا ہے؟ صحابہ ؓ نے کہا اگر آپ ﷺ انہیں پردہ کروائیں تو آپ ﷺ کی بیوی ہوں گی اور اگر انہیں پردہ نہ کروایا تو ام ولد ہوگی پس جب آپ ﷺ نے سوار ہونے کا ارادہ کیا تو انہیں پردہ کروایا اور وہ اونٹ کے پچھلے حصہ پر بیٹھ گئیں تو صحابہ کو معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے ان سے شادی کی ہے۔ جب مدینہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی اونٹنی کو دوڑانا شروع کیا تو ہم نے بھی اپنی سواریاں تیز کردیں آپ ﷺ کی عصباء اونٹنی نے ٹھوکر کھائی اور رسول اللہ ﷺ اور صفیہ ؓ گرپڑے آپ ﷺ اٹھے اور ان پر پردہ کیا اور معزز عورتوں نے کہنا شروع کردیا اللہ اس یہودیہ کو دور کرے، راوی کہتے ہیں میں نے کہا: اے ابوحمزہ کیا رسول اللہ ﷺ گرپڑے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں اللہ کی قسم! آپ گرپڑے تھے۔

Anas (RA) reported: I was sitting behind Abu Talha on the Day of Khaibar and my feet touched the foot of Allahs Messenger ﷺ , and we came (to the people of Khaibar) when the sun had risen and they had driven out their cattle, and had themselves come out with their axes, large baskets and hatchets, and they said: (Here come) Muhammad and the army. Allahs Messenger ﷺ said: Khaibar is ruined. Verily when we get down in the valley of a people, evil is the morning of the warned ones (al-Quran, xxxvii. 177). Allah, the Majestic and the Glorious, defeated them (the inhabitants of Khaibar), and there fell to the lot of Dihya a beautiful girl, and Allahs Messenger ﷺ got her in exchange of seven heads, and then entrusted her to Umm Sulaim so that she might embellish her and prepare her (for marriage) with him. He (the narrator) said: He had been under the impression that he had said that so that she might spend her period of Iddah in her (Umm Sulaims) house. (The woman) was Safiyya daughter of Huyayy. Allahs Messenger ﷺ arranged the wedding feast consisting of dates, cheese, and refined butter, and pits were dug and tiers were set in them dining cloths, and there was brought cheese and refined butter, and these were placed there. And the people ate to their fill, and they said: We do not know whether he (the Holy Prophet) had married her (as a free woman), or as a slave woman. They said: If he (the Holy Prophet) would make her wear the veil, then she would be a (free married) woman, and if he would not make her wear the veil, then she should be a slave woman. When he intended to ride, he made her wear the veil and she sat on the hind part of the camel; so they came to know that he had married her. As they approached Madinah, Allahs Messenger ﷺ drove (his ride) quickly and so we did. Adba (the name of Allahs Apostles camel) stumbled and Allahs Messenger ﷺ fell down and she (Hadrat Safiyya) also fell down. He (the Holy Prophet) stood up and covered her. woman looked towards her and said: May Allah keep away the Jewess! He (the narrator) said: I said: Aba Hamza, did Allahs Messenger ﷺ really fall down? He said: Yes, by Allah, he in fact fell down. Anas said: I also saw the wedding feast of Zainab, and he (the Holy Prophet) served bread and meat to the people, and made them eat to their hearts content, and he (the Holy Prophet) sent me to call people, and as he was free (from the ceremony) he stood up and I followed him. Two persons were left and they were busy in talking and did not get out (of the apartment). He (the Holy Prophet) then proceeded towards (the apartments of) his wives. He greeted with as-Salamu alaikum to every one of them and said: Members of the household, how are you? They said: Messenger of Allah, we are in good state How do you find your family? He would say: In good state. When he was free from (this work of exchanging greetings) he came back, and I also came back along with him. And as he reached the door, (he found) that the two men were still busy in talking. And when they saw him having returned, they stood up and went out; and by Allah! I do not know whether I had informed him, or there was a revelation to him (to the affect) that they had gone. He (the Holy Prophet) then came back and I also returned along with him, and as he put his step on the threshold of his door he hung a curtain between me and him, and (it was on this occasion) that Allah revealed this verse: ("O you who believe), do not enter the houses of the Prophet ﷺ unless permission is given to you" (xxxiii. 53).

3501Sahih Muslim

مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں

قَالَ أَنَسٌ وَشَهِدْتُ وَلِيمَةَ زَيْنَبَ فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا وَکَانَ يَبْعَثُنِي فَأَدْعُو النَّاسَ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَتَبِعْتُهُ فَتَخَلَّفَ رَجُلَانِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ لَمْ يَخْرُجَا فَجَعَلَ يَمُرُّ عَلَی نِسَائِهِ فَيُسَلِّمُ عَلَی کُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ سَلَامٌ عَلَيْکُمْ کَيْفَ أَنْتُمْ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ فَيَقُولُونَ بِخَيْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَکَ فَيَقُولُ بِخَيْرٍ فَلَمَّا فَرَغَ رَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ إِذَا هُوَ بِالرَّجُلَيْنِ قَدْ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ فَلَمَّا رَأَيَاهُ قَدْ رَجَعَ قَامَا فَخَرَجَا فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَمْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ بِأَنَّهُمَا قَدْ خَرَجَا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي أُسْکُفَّةِ الْبَابِ أَرْخَی الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی هَذِهِ الْآيَةَ لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَکُمْ الْآيَةَ

انس کہتے ہیں کہ میں زینب کے ولیمہ میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے صحابہ ؓ کو روٹی اور گوشت سے پیٹ بھر کر کھلایا اور لوگوں کو بلانے کے لئے آپ ﷺ نے مجھے بھیجا تھا جب آپ ﷺ فارغ ہو کر اٹھے تو میں آپ ﷺ کے پیچھے چلا اور دو آدمیوں نے کھانے کے بعد بیٹھ کر گفتگو شروع کردی وہ نہ نکلے آپ ﷺ اپنی ازواج کے پاس تشریف لے گئے ان میں سے ایک کو سلام کیا اور فرماتے سَلَامٌ عَلَيْکُمْ اے گھر والو تم کیسے ہو؟ انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ خیریت کے ساتھ آپ ﷺ نے اپنی بیوی کو کیسا پایا؟ آپ ﷺ فرماتے بہت بہتر ہے جب واپس دروازہ پر پہنچے تو وہ دونوں آدمی محو گفتگو تھے آپ ﷺ انہیں دیکھ کر لوٹ آئے وہ کھڑے ہوئے اور چلے گئے اللہ کی قسم! مجھے یاد نہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو خبر دی یا آپ ﷺ پر وحی نازل کی گئی کہ وہ جا چکے ہیں تو آپ ﷺ لوٹے اور میں واپس آیا جب آپ ﷺ نے اپنا پاؤں دروازہ کی چوکھٹ پر رکھا تو میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور اللہ عز وجل نے یہ آیت نازل کی (لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتَ النَّبِيِّ اِلَّا اَنْ يُّؤْذَنَ لَكُمْ ) 33۔ الاحزاب: 53) نبی ﷺ کے گھروں میں مت داخل ہو سوائے اس کے کہ تمہیں اجازت دی جائے۔

Anas said: I also saw the wedding feast of Zainab, and he (the Holy Prophet) served bread and meat to the people, and made them eat to their hearts content, and he (the Holy Prophet) sent me to call people, and as he was free (from the ceremony) he stood up and I followed him. Two persons were left and they were busy in talking and did not get out (of the apartment). He (the Holy Prophet) then proceeded towards (the apartments of) his wives. He greeted with as-Salamu alaikum to every one of them and said: Members of the household, how are you? They said: Messenger of Allah, we are in good state How do you find your family? He would say: In good state. When he was free from (this work of exchanging greetings) he came back, and I also came back along with him. And as he reached the door, (he found) that the two men were still busy in talking. And when they saw him having returned, they stood up and went out; and by Allah! I do not know whether I had informed him, or there was a revelation to him (to the affect) that they had gone. He (the Holy Prophet) then came back and I also returned along with him, and as he put his step on the threshold of his door he hung a curtain between me and him, and (it was on this occasion) that Allah revealed this verse: (" O you who believe), do not enter the houses of the Prophet unless permission is given to you" (xxxiii. 53).

3501Sahih Muslim

مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنِي بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا أَنَسٌ قَالَ صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ فِي مَقْسَمِهِ وَجَعَلُوا يَمْدَحُونَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَيَقُولُونَ مَا رَأَيْنَا فِي السَّبْيِ مِثْلَهَا قَالَ فَبَعَثَ إِلَی دِحْيَةَ فَأَعْطَاهُ بِهَا مَا أَرَادَ ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَی أُمِّي فَقَالَ أَصْلِحِيهَا قَالَ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ حَتَّی إِذَا جَعَلَهَا فِي ظَهْرِهِ نَزَلَ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَأْتِنَا بِهِ قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيئُ بِفَضْلِ التَّمْرِ وَفَضْلِ السَّوِيقِ حَتَّی جَعَلُوا مِنْ ذَلِکَ سَوَادًا حَيْسًا فَجَعَلُوا يَأْکُلُونَ مِنْ ذَلِکَ الْحَيْسِ وَيَشْرَبُونَ مِنْ حِيَاضٍ إِلَی جَنْبِهِمْ مِنْ مَائِ السَّمَائِ قَالَ فَقَالَ أَنَسٌ فَکَانَتْ تِلْکَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا قَالَ فَانْطَلَقْنَا حَتَّی إِذَا رَأَيْنَا جُدُرَ الْمَدِينَةِ هَشِشْنَا إِلَيْهَا فَرَفَعْنَا مَطِيَّنَا وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطِيَّتَهُ قَالَ وَصَفِيَّةُ خَلْفَهُ قَدْ أَرْدَفَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَعَثَرَتْ مَطِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ قَالَ فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَلَا إِلَيْهَا حَتَّی قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَتَرَهَا قَالَ فَأَتَيْنَاهُ فَقَالَ لَمْ نُضَرَّ قَالَ فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ فَخَرَجَ جَوَارِي نِسَائِهِ يَتَرَائَيْنَهَا وَيَشْمَتْنَ بِصَرْعَتِهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، شبابہ، سلیمان، ثابت انس، عبداللہ بن ہاشم، بن حیان، بہز، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ تقسیم میں صفیہ ؓ دحیہ کے حصہ میں آئیں اور صحابہ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس ان کی تعریف کرنا شروع کردی اور انہوں نے کہا کہ قیدیوں میں ایسی عورت ہم نے نہیں دیکھی آپ ﷺ نے دحیہ کی طرف پیغام بھیجا تو اس نے آپ ﷺ کے ارادہ کے مطابق اسے آپ ﷺ کو عطا کردیا پھر اسے میری والدہ کی طرف بھیجا اور کہا کہ اس کی اصلاح کردو نہلا دھلا دو پھر رسول اللہ ﷺ خیبر سے نکلے یہاں تک کہ اسے اپنے پیچھے بٹھائے ہوئے اترے پھر ان کے لئے ایک قبہ بنایا گیا پس جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے پاس زاد راہ زائد ہو وہ ہمارے پاس لے آئے کہتے ہیں کہ آدمیوں نے زائد کھجوریں اور ستو لانا شروع کردیا یہاں تک کہ انہوں نے اس سے مالیدہ بنایا اور ڈھیر لگ گیا اور اس مالیدہ سے کھانا شروع کیا اور اپنے پہلو کی جانب آسمانی پانی کے حوض سے پانی پیتے تھے انس نے کہا صفیہ سے نکاح پر رسول اللہ ﷺ کا یہ ولیمہ تھا پس ہم چلے یہاں تک کہ جب ہم نے مدینہ کی دیواریں دیکھیں اور ہم مدینہ کے مشتاق ہوئے تو ہم نے اپنی سواریاں دوڑائیں اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی سواری کو دوڑایا اور حضرت صفیہ ؓ آپ ﷺ کے پیچھے ردیف تھیں پس رسول اللہ ﷺ کی سواری نے ٹھوکر کھائی آپ ﷺ اور سیدہ صفیہ ؓ گرپڑے اور کوئی بھی صحابی آپ ﷺ کی طرف یا سیدہ صفیہ کی طرف نہ دیکھتا تھا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ نے سیدہ صفیہ پر پردہ کیا پھر ہم آپ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا کہتے ہیں کہ ہم مدینہ میں داخل ہوئے اور ازواج ؓ میں سے جو کم سن تھیں وہ سیدہ صفیہ کو دیکھنے کے لئے نکلیں اور گرنے پر انہیں ملامت کرنے لگیں۔

Anas, (RA) reported: Safiyya (Allah be pleased with her) fell to the lot of Dihya in the spoils of war, and they praised her in the presence of Allahs Messenger ﷺ and said: We have not seen the like of her among the captives of war. He sent (a messenger) to Dihya and he gave him whatever he demanded. He then sent her to my mother and asked her to embellish her. Allahs Messenger ﷺ then got out of Khaibar until when he was on the other side of it, he halted, and a tent was pitched for him. When it was morning Allahs Messenger ﷺ said: He who has surplus of provision with him should bring that to us. Some persons would bring the surplus of dates, and the other surplus of mush of barley until there became a heap of bals. They began to eat the hais and began to drink out of the pond which had the water of rainfall in it and which was situated by their side. Anas said that that constituted the wedding feast of Allahs Messenger ﷺ . He (further) said: We proceeded until we saw the walls of Madinah, and we were delighted. We made our mounts run quickly and Allahs Messenger ﷺ also made his mount run quickly. And Safiyya (Allah be pleased with her) was at his back, and Allahs Messenger ﷺ had seated her behind him. The camel of Allahs Messenger ﷺ stumbled and he (the Holy Prophet) fell down and she also fell down. And none among the people was seeing him and her, until Allahs Messenger ﷺ stood up and he covered her, and we came to him and he said: We have received no injury. We entered Madinah and there came out the young ladies of the household. They saw her (hadrat Safiyya) and blamed her for falling down.

3502Sahih Muslim

سیدہ زینب بنت حجش (رض) سے شادی اور آیات پردہ کے نز ول اور ولیمہ کے اثبات کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ وَهَذَا حَدِيثُ بَهْزٍ قَالَ لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّةُ زَيْنَبَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدٍ فَاذْکُرْهَا عَلَيَّ قَالَ فَانْطَلَقَ زَيْدٌ حَتَّی أَتَاهَا وَهِيَ تُخَمِّرُ عَجِينَهَا قَالَ فَلَمَّا رَأَيْتُهَا عَظُمَتْ فِي صَدْرِي حَتَّی مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْظُرَ إِلَيْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَکَرَهَا فَوَلَّيْتُهَا ظَهْرِي وَنَکَصْتُ عَلَی عَقِبِي فَقُلْتُ يَا زَيْنَبُ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْکُرُکِ قَالَتْ مَا أَنَا بِصَانِعَةٍ شَيْئًا حَتَّی أُوَامِرَ رَبِّي فَقَامَتْ إِلَی مَسْجِدِهَا وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا بِغَيْرِ إِذْنٍ قَالَ فَقَالَ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْعَمَنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ حِينَ امْتَدَّ النَّهَارُ فَخَرَجَ النَّاسُ وَبَقِيَ رِجَالٌ يَتَحَدَّثُونَ فِي الْبَيْتِ بَعْدَ الطَّعَامِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعْتُهُ فَجَعَلَ يَتَتَبَّعُ حُجَرَ نِسَائِهِ يُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ وَيَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَکَ قَالَ فَمَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ قَدْ خَرَجُوا أَوْ أَخْبَرَنِي قَالَ فَانْطَلَقَ حَتَّی دَخَلَ الْبَيْتَ فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ مَعَهُ فَأَلْقَی السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَنَزَلَ الْحِجَابُ قَالَ وَوُعِظَ الْقَوْمُ بِمَا وُعِظُوا بِهِ زَادَ ابْنُ رَافِعٍ فِي حَدِيثِهِ لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَکُمْ إِلَی طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ إِلَی قَوْلِهِ وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ

محمد بن حاتم بن میمون و بہز و محمد بن رافع و ابونضر و ہاشم بن قاسم، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت زینب ؓ کی عدت پوری ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے زید سے فرمایا کہ زینب ؓ سے میرا ذکر کرو زید ؓ گئے یہاں تک کہ ان کے پاس پہنچے اور وہ آٹے کا خمیر کر رہی تھیں زید کہتے ہیں جب میں نے انہیں دیکھا تو میرے دل میں ان کی عظمت آئی یہاں تک کہ مجھ میں ان کی طرف دیکھنے کی طاقت نہ تھی کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کا ذکر کیا تھا چناچہ میں نے ان سے پیٹھ پھیری اور اپنی ایڑیوں پر لوٹا پھر میں نے کہا اے زینب! رسول اللہ ﷺ نے آپ کی طرف پیغام بھیجا ہے اور آپ ﷺ تجھے یاد کرتے ہیں اس نے کہا میں کچھ بھی نہیں کرسکتی اس وقت تک جب تک کہ میرے رب کا حکم نہ آئے استخارہ کرلوں اور وہ اپنی نماز کی جگہ کھڑی ہوگئی اور قرآن نازل ہوا اور رسول اللہ ﷺ ان کے پاس بغیر اجازت آئے پھر آپ ﷺ نے کہا جو کہا اور ہم نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا اور جب دن چڑھ گیا تو لوگ کھا کر چلے گئے اور باقی لوگوں نے گھر میں ہی کھانے کے بعد گفتگو کرنا شروع کردی پس رسول اللہ ﷺ تشریف لے چلے اور میں آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے چلا پس آپ ﷺ اپنی ازواج کے حجرات کی طرف گئے انہیں سلام کیا اور انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ نے اپنے گھر والوں کو کیسا پایا راوی کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں میں نے آپ ﷺ کو خبر دی کہ لوگ جا چکے ہیں یا آپ ﷺ نے مجھے خبر دی آپ ﷺ چلے یہاں تک کہ گھر میں داخل ہوئے اور میں نے آپ ﷺ کے ساتھ داخل ہونا چاہا تو آپ ﷺ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور آیت حجاب نازل ہوئی کہتے ہیں قوم کو نصیحت کی گئی جو کرنا تھی اس آیت کے ذریعے۔ ابن رافع نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے (لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتَ النَّبِيِّ اِلَّا اَنْ يُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَيْرَ نٰظِرِيْنَ اِنٰىهُ وَلٰكِنْ اِذَا دُعِيْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَلَا مُسْ تَاْنِسِيْنَ لِحَدِيْثٍ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْي مِنْكُمْ وَاللّٰهُ لَا يَسْتَحْي مِنَ الْحَقِّ ) 33۔ الأحزاب: 53) آیت نازل ہوئی یعنی نبی ﷺ کے گھروں میں مت داخل ہو سوائے اس کے کہ تمہیں کھانے کے لئے بلایا جائے برتنوں کو دیکھنے والے نہ ہو۔ اللہ حق بات کہنے سے حیاء نہیں فرماتا۔

Anas (RA) reported: When the Iddah of Zainab was over, Allahs Messenger ﷺ said to Zaid to make a mention to her about him. Zaid went on until he came to her and she was fermenting her flour. He (Zaid) said: As I saw her I felt in my heart an idea of her greatness so much so that I could not see towards her (simply for the fact) that Allahs Messenger ﷺ had made a mention of her. So I turned my back towards her, and I turned upon my heels, and said: Zainab, Allahs Messenger ﷺ has sent (me) with a message to you. She said: I do not do anything until I solicit the will of my Lord. So she stood at her place of worship and the (verse of) the Quran (pertaining to her marriage) were revealed, and Allahs Messenger ﷺ came to her without permission. He (the narrator) said: I saw that Allahs Messenger ﷺ served us bread and meat until it was broad daylight and the people went away, but some persons who were busy in conversation stayed on in the house after the meal. Allahs Messenger ﷺ also went out and I also followed him, and he began to visit the apartments of his wives greeting them (with the words): As-Salamu alaikum, and they would say: Allahs Messenger, how did you find your family (hadrat Zainab)? He (the narrator) stated: I do not know whether I had informed him that the people had gone out or he (the Holy Prophet) informed me (about that). He moved on until he entered the apartment, and I also went and wanted to enter (the apartment) along with him, but he threw a curtain between me and him, as (the verses pertaining to seclusion) had been revealed, and people were instructed in what they had been instructed. Ibn Rafii had made this addition in his narration: "O you who believe, enter not the houses of the Prophet ﷺ unless permission is given to you for a meal, not waiting for its cooking being finished..." to the words"... Allah forbears not from the truth."

3503Sahih Muslim

سیدہ زینب بنت حجش (رض) سے شادی اور آیات پردہ کے نز ول اور ولیمہ کے اثبات کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي کَامِلٍ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَی امْرَأَةٍ وَقَالَ أَبُو کَامِلٍ عَلَی شَيْئٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَی زَيْنَبَ فَإِنَّهُ ذَبَحَ شَاةً

ابوربیع، ابوکامل، فضیل بن حسین، قتیبہ بن سعید، حماد ابن زید، ثابت، حضرت انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ نے جیسا حضرت زینب ؓ کے نکاح پر ولیمہ کیا کسی دوسری زوجہ کے نکاح پر کیا ہو۔ حضور ﷺ نے ایک بکری ذبح کی تھی۔

Anas (RA) reported: I did not see Allahs Messenger ﷺ giving a wedding feast (on the marriage) of any one (of his wives) as he did in the case of (his marriage with) Zainab, for then he sacrificed a goat (on this occasion).

3504Sahih Muslim

سیدہ زینب بنت حجش (رض) سے شادی اور آیات پردہ کے نز ول اور ولیمہ کے اثبات کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا مَا أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ أَکْثَرَ أَوْ أَفْضَلَ مِمَّا أَوْلَمَ عَلَی زَيْنَبَ فَقَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ بِمَا أَوْلَمَ قَالَ أَطْعَمَهُمْ خُبْزًا وَلَحْمًا حَتَّی تَرَکُوهُ

محمد بن عمرو بن عباد، جبلہ بن ابی رواد محمد بن بشار، ابن جعفر، شعبہ، عبدالعزیز بن صہیب، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات سے نکاح پر زینب ؓ کے نکاح سے زیادہ اور افضل ولیمہ نہیں کیا ثابت البنانی نے کہا آپ ﷺ نے کس چیز کے ساتھ ولیمہ کیا؟ کہا آپ ﷺ نے انہیں گوشت اور روٹی کھلائی یہاں تک کہ انہوں نے چھوڑ دیا (سیر ہو کر کھایا)۔

Anas bin Malik (RA) reported: Allahs Messenger ﷺ gave no better wedding feast than the one he did (on the occasion of his marriage with) Zainab. Thabit al-Bunani (one of the narrators) said: What did he serve in the wedding feast? He (Anas) said: He fed them bread and meat (so lavishly) that they (the guests) abandoned it (of their own accord after having taken them to their hearts content).

3505Sahih Muslim

سیدہ زینب بنت حجش (رض) سے شادی اور آیات پردہ کے نز ول اور ولیمہ کے اثبات کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی کُلُّهُمْ عَنْ مُعْتَمِرٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ دَعَا الْقَوْمَ فَطَعِمُوا ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ قَالَ فَأَخَذَ کَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ فَلَمْ يَقُومُوا فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ قَامَ فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ مِنْ الْقَوْمِ زَادَ عَاصِمٌ وَابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی فِي حَدِيثِهِمَا قَالَ فَقَعَدَ ثَلَاثَةٌ وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائَ لِيَدْخُلَ فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا قَالَ فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدْ انْطَلَقُوا قَالَ فَجَائَ حَتَّی دَخَلَ فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ فَأَلْقَی الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ قَالَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَکُمْ إِلَی طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ إِلَی قَوْلِهِ إِنَّ ذَلِکُمْ کَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا

یحییٰ بن حبیب، عاصم بن نضر، محمد بن عبدالاعلی، معتمر، ابن حبیب، معتمر بن سلیمان، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے زینب بنت جحش ؓ سے شادی کی تو صحابہ کو بلایا انہوں نے کھایا پھر باتیں کرنے بیٹھ گئے آپ ﷺ اٹھنے کے لئے تیار ہوئے گویا کہ آپ ﷺ انہیں اٹھنے کا اشارہ فرما رہے تھے لیکن وہ نہ اٹھے جب آپ ﷺ نے یہ دیکھا تو آپ ﷺ کھڑے ہوگئے جب آپ ﷺ اٹھے جو قوم میں سے اٹھے جو اٹھے۔ عاصم اور ابن عبدالاعلی نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے تین آدمی بیٹھے رہے نبی کریم ﷺ تشریف لائے تاکہ داخل ہوں دیکھا تو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں پھر وہ کھڑے ہوئے اور چلے گئے میں حاضر ہوا اور نبی کریم ﷺ کو خبر دی کہ وہ جا چکے ہیں آپ ﷺ تشریف لائے اور حجرہ میں داخل ہوئے میں نے بھی داخل ہونا چاہا تو آپ ﷺ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور اللہ نے آیت حجاب نازل کی (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَکُمْ إِلَی طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ إِلَی قَوْلِهِ إِنَّ ذَلِکُمْ کَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا) تک یعنی اے ایمان والو نبی کے گھروں میں داخل نہ ہو سوائے اس کے کہ تم کو اجازت دی جائے کھانے کی طرف برتن کی طرف دیکھے بغیر۔

Anas bin Malik (RA) reported: When Allahs Apostle ﷺ married Zainab bint jahsh, he invited people (to the wedding feast) and they ate food. They then sat there and entered into conversation. He (the Holy Prophet) made a stir as if he was preparing to stand up, but (the persons busy in talking) did not stand up. When he (the Holy Prophet) saw it, he stood up and when he did so, some other persons stood up. Asim and Abdul Ala in their narrations made this addition: Three (persons) sat there, and Allahs Apostle ﷺ came there to enter (the apartment) but he found the people sitting there. Then they stood up and went away. He said: Then I came and informed Allahs Apostle ﷺ that they had gone away. He (the Holy Prophet) then came there until he entered (the apartment). I also went and was about to enter, when he hung a curtain between me and him (and it was on this occasion that) Allah, the Exalted and Majestic, revealed this verse: "O you who believe, enter not the houses of the Prophet ﷺ unless permission is given to you for a meal, not waiting for its cooking being finished" to the (words) "Surely this is serious in the sight of Allah" (xxxiii. 53).

3506Sahih Muslim

سیدہ زینب بنت حجش (رض) سے شادی اور آیات پردہ کے نز ول اور ولیمہ کے اثبات کے بیان میں

و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْحِجَابِ لَقَدْ کَانَ أُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ قَالَ أَنَسٌ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَ وَکَانَ تَزَوَّجَهَا بِالْمَدِينَةِ فَدَعَا النَّاسَ لِلطَّعَامِ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ وَجَلَسَ مَعَهُ رِجَالٌ بَعْدَ مَا قَامَ الْقَوْمُ حَتَّی قَامَ رَسُولُ اللَّهِ فَمَشَی فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّی بَلَغَ بَابَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ مَکَانَهُمْ فَرَجَعَ فَرَجَعْتُ الثَّانِيَةَ حَتَّی بَلَغَ حُجْرَةَ عَائِشَةَ فَرَجَعَ فَرَجَعَتْ فَإِذَا هُمْ قَدْ قَامُوا فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ بِالسِّتْرِ وَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ

عمرو ناقد، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، صالح، ابن شہاب، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حجاب کے بارے میں میں لوگوں سے زیادہ علم رکھتا ہوں اور ابی بن کعب ؓ مجھ سے پردے کے بارے میں پوچھتے تھے انس ؓ نے کہا رسول اللہ ﷺ نے زینب بنت جحش ؓ سے شادی کئے ہوئے صبح کی اور کہا کہ آپ ﷺ نے ان سے شادی مدینہ میں کی آپ ﷺ نے لوگوں کو دن کے بلند ہونے کے بعد کھانے کے لئے بلایا پس رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہوئے اور صحابہ ؓ بھی آپ ﷺ کے پاس بیٹھ گئے لوگوں کے کھڑے ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ اٹھے پس آپ ﷺ چلے اور میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ چلا یہاں تک کہ آپ ﷺ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کے حجرہ کے دروازے پر پہنچے پھر گمان کیا کہ صحابہ جا چکے ہیں آپ ﷺ لوٹ آئے اور میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ واپس آگیا پس لوگ اپنی جگہوں پر ہی بیٹھے ہوئے تھے پس آپ ﷺ لوٹے اور میں بھی دوسری بار آپ ﷺ کے ساتھ واپس آیا یہاں کہ آپ ﷺ عائشہ ؓ کے حجرہ کے پاس پہنچے پھر آپ ﷺ لوٹے اور میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ واپس آگیا تو صحابہ جا چکے تھے تو آپ ﷺ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور پردہ کی آیت نازل کی گئی۔

Anas bin Malik (RA) reported: I was the best informed among the people pertaining to Hijab (veil and seclusion). Ubayy bin Kab used to ask me about it. Anas (RA) thus narrated: The Messenger of Allah ﷺ got up in the morning as a bridegroom of Zainab bint jahsh (Allah be pleased witt her) as he had married her at Madinah. He invited people to the wedding feast after the day had well risen. There sat Allahs Messenger ﷺ and there kept sitting along with him some persons after the people had stood up (for departure); then Allahs Messenger ﷺ stood up and walked on and I also walked along with him until he reached the door of the apartment of Aisha (Allah be pleased with her). He then thought that they (those who had been sitting there after meal) had gone away. So he returned and I also returned with him, but they were still sitting at their places. So he returned for the second time and I also returned until he reached the apartment of Aisha. He again returned and I also returned and they had (by that time) stood up, and he hung a curtain between me and him (at the door of the apartment of Hadrat Zainab, where he had to stay), and Allah revealed the verse pertaining to veil.

3507Sahih Muslim

سیدہ زینب بنت حجش (رض) سے شادی اور آیات پردہ کے نز ول اور ولیمہ کے اثبات کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بِأَهْلِهِ قَالَ فَصَنَعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فَجَعَلَتْهُ فِي تَوْرٍ فَقَالَتْ يَا أَنَسُ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْ بَعَثَتْ بِهَذَا إِلَيْکَ أُمِّي وَهِيَ تُقْرِئُکَ السَّلَامَ وَتَقُولُ إِنَّ هَذَا لَکَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَذَهَبْتُ بِهَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ أُمِّي تُقْرِئُکَ السَّلَامَ وَتَقُولُ إِنَّ هَذَا لَکَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ضَعْهُ ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَادْعُ لِي فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا وَمَنْ لَقِيتَ وَسَمَّی رِجَالًا قَالَ فَدَعَوْتُ مَنْ سَمَّی وَمَنْ لَقِيتُ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ عَدَدَ کَمْ کَانُوا قَالَ زُهَائَ ثَلَاثِ مِائَةٍ وَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَنَسُ هَاتِ التَّوْرَ قَالَ فَدَخَلُوا حَتَّی امْتَلَأَتْ الصُّفَّةُ وَالْحُجْرَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَتَحَلَّقْ عَشَرَةٌ عَشَرَةٌ وَلْيَأْکُلْ کُلُّ إِنْسَانٍ مِمَّا يَلِيهِ قَالَ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا قَالَ فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ حَتَّی أَکَلُوا کُلُّهُمْ فَقَالَ لِي يَا أَنَسُ ارْفَعْ قَالَ فَرَفَعْتُ فَمَا أَدْرِي حِينَ وَضَعْتُ کَانَ أَکْثَرَ أَمْ حِينَ رَفَعْتُ قَالَ وَجَلَسَ طَوَائِفُ مِنْهُمْ يَتَحَدَّثُونَ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَزَوْجَتُهُ مُوَلِّيَةٌ وَجْهَهَا إِلَی الْحَائِطِ فَثَقُلُوا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَی نِسَائِهِ ثُمَّ رَجَعَ فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَعَ ظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ ثَقُلُوا عَلَيْهِ قَالَ فَابْتَدَرُوا الْبَابَ فَخَرَجُوا کُلُّهُمْ وَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَرْخَی السِّتْرَ وَدَخَلَ وَأَنَا جَالِسٌ فِي الْحُجْرَةِ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّی خَرَجَ عَلَيَّ وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأَهُنَّ عَلَی النَّاسِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَکُمْ إِلَی طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَکِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِکُمْ کَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ قَالَ الْجَعْدُ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَا أَحْدَثُ النَّاسِ عَهْدًا بِهَذِهِ الْآيَاتِ وَحُجِبْنَ نِسَائُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

قتیبہ بن سعید، جعفر، ابن سلیمان، ابی عثمان، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شادی کی اور اپنے اہل کے پاس تشریف لے گئے اور میری والدہ ام سلیم نے مالیدہ بنایا اور اسے ایک تھالی میں رکھا پھر کہا اے انس! یہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے جا اور کہہ یہ میری والدہ نے آپ ﷺ کی طرف بھیجا ہے اور وہ آپ ﷺ کو سلام کہہ رہی تھیں اور کہہ رہی ہیں کہ یہ قلیل ہدیہ ہے ہماری طرف سے آپ ﷺ کے لئے اے اللہ کے رسول کہتے ہیں میں اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے گیا اور میں نے عرض کیا میری والدہ آپ ﷺ کو سلام عرض کرتی ہیں اور کہتی ہیں یہ حقیر سا ہدیہ آپ ﷺ کے لئے ہماری طرف سے ہے آپ ﷺ نے فرمایا اسے رکھ دو پھر فرمایا جاؤ اور فلاں فلاں اور جو تجھے ملے اور بعض آدمیوں کے نام لئے بلا لاؤ کہتے ہیں میں نے بلایا جو مجھے ملا اور جس کا نام لیا تھا راوی کہتا ہے میں نے انس ؓ سے کہا تقریبا کتنی تعداد تھی؟ انہوں نے کہا تقریبا تین سو اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا اے انس! وہ طباق لے آؤ پس صحابہ ؓ آئے یہاں تک کہ صفہ اور حجرہ مبارک بھر گئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چاہئے کہ دس دس کا حلقہ بنا لو اور چاہئے کہ وہ آدمی اپنے سامنے سے کھائے انہوں نے سیر ہو کر کھایا ایک گروہ وہ نکلا تو دوسرا گروہ داخل ہوا یہاں تک کہ سب نے کھالیا تو آپ ﷺ نے مجھے فرمایا اے انس کھانا اٹھا لے میں نے اٹھا لیا تو میں نہ جان سکا کہ جب میں نے رکھا تھا اس وقت کھانا زیادہ تھا یا جب میں نے اٹھایا اور ان میں سے کچھ جماعتیں رسول اللہ ﷺ کے گھر میں باتیں کرنے بیٹھ گئیں اور رسول اللہ ﷺ بھی تشریف فرما تھے اور آپ ﷺ کی زوجہ مطہرہ اپنا منہ پھیرے بیٹھی تھیں اور ان کا چہرہ دیوار کی طرف تھا وہ رسول اللہ ﷺ پر بوجھ بن گئے رسول اللہ ﷺ اپنی ازواج ؓ کی طرف تشریف لے گئے اور انہیں سلام کیا پھر واپس آئے جب صحابہ نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ لوٹ آئے ہیں تو انہوں نے گمان کیا کہ وہ آپ ﷺ پر بوجھ ہیں اور دروزاے کی طرف جلدی کی اور سب کے سب چلے گئے اور رسول اللہ ﷺ تشریف لائے پردہ ہٹایا اور داخل ہوگئے اور میں حجرہ میں بیٹھا ہوا تھا آپ ﷺ تھوڑی دیر ہی ٹھہرے یہاں تک کہ میرے پاس تشریف لائے اور یہ آیت نازل کی گئی رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور ان آیات کو لوگوں کے سامنے تلاوت کیا ( لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتَ النَّبِيِّ اِلَّا اَنْ يُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَيْرَ نٰظِرِيْنَ اِنٰىهُ وَلٰكِنْ اِذَا دُعِيْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَلَا مُسْ تَاْنِسِيْنَ لِحَدِيْثٍ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْي مِنْكُمْ وَاللّٰهُ لَا يَسْتَحْي مِنَ الْحَقِّ ) 33۔ الأحزاب: 53) آخر آیت تک جعد نے کہا انس ؓ نے کہا کہ لوگوں میں سب سے پہلے یہ آیات میں نے سنیں اور ازواج النبی ﷺ پردہ میں رہنے لگیں۔

Anas bin Malik (RA) reported: Allahs Messenger ﷺ contracted marriage and he went to his wife. My mother Umm Sulaim prepared hais and placed it in an earthen vessel and said: Anas, take it to Allahs Messenger ﷺ and say: My mother has sent that to you and she offers greetings to you, and says that it is a humble gift for you on our behalf, Messenger of Allah. So I went along with it to Allahs Messenger ﷺ and said: My mother offers you salutations, and says that it is a humble gift for you on our behalf. He said: Place it here, and then said: Go and invite on my behalf so and so and anyone whom you meet, and he even named some persons. He (Anas) said: I invited whom he had named and whom I met. I (one of the narrators) said: I said to Anas (RA) : How many (persons) were there? He (Anas) said: They were about three hundred persons. Then Allahs Messenger ﷺ (said to me): Anas, bring that earthen vessel. They (the guests) then began to enter until the courtyard and the apartment were fully packed. Allahs Messenger ﷺ said: Make a circle of ten (guests), and every person should eat from that nearest to him. They began to eat, until they ate to their fill. A group went out (after eating the food), and another group came in until all of them had eaten. He (the Holy Prophet) said to me: Anas, lift it (the earthen vessel), so I lifted it, but I could not assess whether it had more (food) when I placed it (before Allahs Messenger) or when I lifted it (after the people had been served out of it). A group among them (the guests) began to talk in the house of Allahs Messenger ﷺ and the Messenger of Allah ﷺ was sitting and his wife had been sitting with her face turned towards the wall. It was troublesome for Allahs Messenger ﷺ , so Allahs Messenger ﷺ went out and greeted his wives. He then returned. When they (the guests) saw that Allahs Messenger ﷺ had returned they thought that it (their overstay) was something troublesome for him. He (the narrator) said: They hastened towards the door and all of them went out. And there came Allahs Messenger ﷺ and he hung a curtain and went in, and I was sitting in his apartment and he did not stay but for a short while. He then came to me and these verses were revealed. Allahs Messenger ﷺ came out and recited them to the people: "O you who believe, enter not the houses of the Prophet ﷺ unless permission is given to you for a meal, not waiting for its cooking being finished-but when you are invited, enter, and when you have taken food, disperse not seeking to listen to talk. Surely this gives the Prophet ﷺ trouble", to the end of verse (xxxiii. 53). (Al-Jad said that Anas [b. Malik] stated: I am the first amongst the people to hear these verses), and henceforth the wives of the Apostle ﷺ began to observe seclusion (al-hijab).

3508Sahih Muslim

سیدہ زینب بنت حجش (رض) سے شادی اور آیات پردہ کے نز ول اور ولیمہ کے اثبات کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ أَهْدَتْ لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ فَقَالَ أَنَسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَادْعُ لِي مَنْ لَقِيتَ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَدَعَوْتُ لَهُ مَنْ لَقِيتُ فَجَعَلُوا يَدْخُلُونَ عَلَيْهِ فَيَأْکُلُونَ وَيَخْرُجُونَ وَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَی الطَّعَامِ فَدَعَا فِيهِ وَقَالَ فِيهِ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَلَمْ أَدَعْ أَحَدًا لَقِيتُهُ إِلَّا دَعَوْتُهُ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا وَخَرَجُوا وَبَقِيَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَطَالُوا عَلَيْهِ الْحَدِيثَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحْيِي مِنْهُمْ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ شَيْئًا فَخَرَجَ وَتَرَکَهُمْ فِي الْبَيْتِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَکُمْ إِلَی طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ قَالَ قَتَادَةُ غَيْرَ مُتَحَيِّنِينَ طَعَامًا وَلَکِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا حَتَّی بَلَغَ ذَلِکُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِکُمْ وَقُلُوبِهِنَّ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ابی عثمان، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے زینب ؓ سے شادی کی ام سلیم نے آپ ﷺ کے لئے مالیدہ کا ہدیہ ایک پتھر کی تھالی میں بھیجا انس کہتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا جاؤ اور مسلمانوں میں سے جو بھی تجھے ملے اسے میری طرف سے دعوت دو پس میں نے ہر اس کو دعوت دی جو مجھے ملا پس صحابہ ؓ آپ ﷺ کے پاس آنا شروع ہوگئے وہ کھاتے جاتے اور نکلتے جاتے تھے اور نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک اس کھانے میں رکھا اور برکت کی دعا کی اور جو اللہ کو منظور تھا پڑھا اور میں نے کسی کو بھی نہ چھوڑا جو مجھے ملا مگر اسے آپ ﷺ کی دعوت دی پس صحابہ نے کھایا اور سیر ہوگئے اور چلے گئے اور ان میں سے ایک جماعت باقی رہ گئی اور انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ گفتگو کو لمبا کردیا نبی کریم ﷺ ان سے حیاء کرتے تھے کہ انہیں کچھ کہیں آپ ﷺ تشریف لے گئے اور انہیں گھر میں چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتَ النَّبِيِّ اِلَّا اَنْ يُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَيْرَ نٰظِرِيْنَ اِنٰىهُ وَلٰكِنْ اِذَا دُعِيْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَلَا مُسْ تَاْنِسِيْنَ لِحَدِيْثٍ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْي مِنْكُمْ وَاللّٰهُ لَا يَسْتَحْي مِنَ الْحَقِّ ) 33۔ الأحزاب: 53) قتادہ نے کہا کھانے کا انتظار نہ کرنے والے ہوں جب تمہیں بلایا جائے تب آؤ۔

Anas (RA) reported: When Allahs Apostle ﷺ contracted marriage with Zainab (Allah be pleased with her), Umm Sulaim sent him hais in a vessel of stone as a gift. Anas stated that Allahs Messenger ﷺ said to him: Go and invite on my behalf all the Muslims whom you meet. So I invited on his behalf everyone whom I met. They entered (his house) and they ate and went out. And Allahs Messenger ﷺ had kept his hand on the food, and he invoked blessing on that, and said whatever Allah wished him to say, and none whom I met was left uninvited. They ate to their fill and went out, but a group among them remained there and was engaged in lengthy discussion. Allahs Apostle ﷺ felt shy of saying anything to them. So he went out and left them in his house and Allah the Great and Majestic revealed this verse: "O you who believe, enter not the houses of the Prophet ﷺ unless permission is given to you for a meal, not waiting for its cooking being finished." Qatada (instead of using the word Ghaira Nazirina) used the word Ghaira Mutahayyinina (i. e. not waiting for the time of the food). But when you are invited, enter..." up to this verse "This is purer for your hearts and their hearts."

3509Sahih Muslim

دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُکُمْ إِلَی الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا

یحییٰ بن یحیی، مالک نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جس کسی کو ولیمہ کے لئے بلایا جائے تو اسے اس کے لئے آنا چاہئے۔

Ibn Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: When any one of you is invited to a feast, he should attend it.

3510Sahih Muslim

دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُکُمْ إِلَی الْوَلِيمَةِ فَلْيُجِبْ قَالَ خَالِدٌ فَإِذَا عُبَيْدُ اللَّهِ يُنَزِّلُهُ عَلَی الْعُرْسِ

محمد بن مثنی، خالد بن حار ث، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو ولیمہ کی دعوت دی جائے تو چاہئے کہ قبول کرلے خالد نے کہا عبیداللہ اس سے شادی کی دعوت مراد لیتے ہیں۔

Ibn Umar (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: When any one of you is invited to a feast, he should accept. Ubaidallah took this feast to be a wedding feast.

3511Sahih Muslim

دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُکُمْ إِلَی وَلِيمَةِ عُرْسٍ فَلْيُجِبْ

ابن نمیر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو شادی کے ولیمہ کی دعوت دی جائے تو چاہئے کہ قبول کرے۔

Ibn Umar (RA) reported Allahs Apostle ﷺ having said this: When any one of you is invited to a wedding feast, he should accept that.

3512Sahih Muslim

دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْتُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ

ابوربیع، ابوکامل، حماد، ایوب، قتیبہ، حماد، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم کو دعوت کے لئے بلایا جائے تو دعوت کے لئے آؤ۔

Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger (may be upon him) having said this: Accept the feast, when you are invited.

3513Sahih Muslim

دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا أَحَدُکُمْ أَخَاهُ فَلْيُجِبْ عُرْسًا کَانَ أَوْ نَحْوَهُ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو اس کا بھائی شادی ولیمے کی دعوت دے تو چاہئے کہ قبول کرلے۔

Ibn Umar (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: When any one of you invites his brother, he (the latter) should accept his wedding feast, or any other like it.

3514Sahih Muslim

دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں

و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنِي عِيسَی بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ دُعِيَ إِلَی عُرْسٍ أَوْ نَحْوِهِ فَلْيُجِبْ

اسحاق بن منصور، عیسیٰ بن منذر، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کو شادی یا اسی طرح کی کسی دعوت کے لئے بلایا جائے تو چاہئے کہ قبول کرے۔

Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ having said: He who is invited to a wedding feast or like it, he should accept it.

3515Sahih Muslim

دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْتُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ

حمید، بن مسعد، بشر بن فضل، اسماعیل بن امیہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تمہیں دعوت کے لئے بلایا جائے تو دعوت کے لئے آؤ۔

"Abdullah bin Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Come to the feast, when you are invited.

3516Sahih Muslim

دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں

و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجِيبُوا هَذِهِ الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ لَهَا قَالَ وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَأْتِي الدَّعْوَةَ فِي الْعُرْسِ وَغَيْرِ الْعُرْسِ وَيَأْتِيهَا وَهُوَ صَائِمٌ

ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، موسیٰ بن عقبہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس دعوت کو قبول کرو جس کی تمہیں دعوت دی جائے راوی کہتا ہے کہ حضرت عبداللہ شادی اور غیر شادی کی دعوت میں تشریف لاتے تھے اور روزہ کی حالت میں بھی تشریف لاتے۔

Nafi reported: I heardAbdullah bin Umar (RA) narrating that Allahs Messenger ﷺ said: Accept the feast when you are invited to it. AndAbdullah (b. Umar) used to come to the feast, whether it was a wedding feast or other than that, and he would come there even in the state of fasting.