بیوہ کا نکاح میں زبان سے اجازت دینے اور غیر شادی شدہ کی اجازت خاموشی کے ساتھ ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِکْرُ يَسْتَأْذِنُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا وَرُبَّمَا قَالَ وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا
ابن ابی عمر، سفیان ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے اور کہا شادی شدہ عورت اپنے نفس کی اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور باکرہ نوجوان عورت سے اس کے نفس کے بارے میں اس کا باپ اجازت طلب کرے گا اور اس کا خاموش رہنا اس کی طرف سے اجازت ہے اور کبھی فرمایا اس کی خاموشی اس کا اقرار ہے۔
Sufyan reported on the basis of the same chain of transmitters (and the words are): A woman who has been previously married (Thayyib) has more right to her person than her guardian; and a virgins father must ask her consent from her, her consent being her silence, At times he said: Her silence is her affirmation.
چھوٹی کنواری لڑکی کے باپ کو اس کا نکاح کرنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ وَجَدْتُ فِي کِتَابِي عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسِتِّ سِنِينَ وَبَنَی بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ قَالَتْ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَوُعِکْتُ شَهْرًا فَوَفَی شَعْرِي جُمَيْمَةً فَأَتَتْنِي أُمُّ رُومَانَ وَأَنَا عَلَی أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبِي فَصَرَخَتْ بِي فَأَتَيْتُهَا وَمَا أَدْرِي مَا تُرِيدُ بِي فَأَخَذَتْ بِيَدِي فَأَوْقَفَتْنِي عَلَی الْبَابِ فَقُلْتُ هَهْ هَهْ حَتَّی ذَهَبَ نَفَسِي فَأَدْخَلَتْنِي بَيْتًا فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقُلْنَ عَلَی الْخَيْرِ وَالْبَرَکَةِ وَعَلَی خَيْرِ طَائِرٍ فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ فَغَسَلْنَ رَأْسِي وَأَصْلَحْنَنِي فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًی فَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ
ابوکریب، محمد بن علاء، ابواسامہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ہشام، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے نکاح کیا تو میری عمر چھ سال تھی اور مجھ سے زفاف کیا تو میں نو سال کی تھی فرماتی ہیں کہ ہم مدینہ آئے تو مجھے ایک ماہ تک بخار رہا اور میرے بال کانوں تک ہوگئے (جھڑگئے) پس میرے پاس ام رومان آئیں تو میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ جھولے پر تھی انہوں نے مجھے پکارا میں ان کے پاس آئی اس حال میں کہ میں اس کا اپنے بارے میں ارادہ نہیں جانتی تھی انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے دروازہ پر لا کھڑا کیا اور میں سانس پھولنے کی وجہ سے ہاہ ہاہ کر رہی تھی یہاں تاکہ کہ میرا سانس پھولنا بند ہوگیا تو مجھے گھر میں داخل کیا وہاں چند انصاری عورتیں موجود تھیں تو انہوں نے کہا اللہ خیر و برکت عطا کرے اور خیر و بھلائی سے حصہ عطا ہو غرض میری والدہ نے مجھے ان کے سپرد کردیا انہوں نے میرا سر دھویا اور میرا سنگھار کیا اور مجھے کوئی خوف نہیں پہنچا کہ چاشت کے وقت رسول اللہ ﷺ آئے اور مجھے آپ ﷺ کے سپرد کردیا۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: Allahs Messenger ﷺ married me when I was six years old, and I was admitted to his house at the age of nine. She further said: We went to Madinah and I had an attack of fever for a month, and my hair had come down to the earlobes. Umm Ruman (my mother) came to me and I was at that time on a swing along with my playmates. She called me loudly and I went to her and I did not know what she had wanted of me. She took hold of my hand and took me to the door, and I was saying: Ha, ha (as if I was gasping), until the agitation of my heart was over. She took me to a house, where had gathered the women of the Ansar. They all blessed me and wished me good luck and said: May you have share in good. She (my mother) entrusted me to them. They washed my head and embellished me and nothing frightened me. Allahs Messenger ( may peace be upon him) came there in the morning, and I was entrusted to him.
چھوٹی کنواری لڑکی کے باپ کو اس کا نکاح کرنے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ وَبَنَی بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ
یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، ہشام بن عروہ، ابن نمیر، عبدہ، ہشام، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ مجھ سے نبی کریم ﷺ نے نکاح کیا تو میں چھ سال کی لڑکی تھی اور آپ ﷺ مجھ سے ہم بستر ہوئے تو میں نو سال کی تھی۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: Allahs Apostle ﷺ married me when I was six years old, and I was admitted to his house when I was nine years old.
چھوٹی کنواری لڑکی کے باپ کو اس کا نکاح کرنے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سَبْعِ سِنِينَ وَزُفَّتْ إِلَيْهِ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ وَلُعَبُهَا مَعَهَا وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانَ عَشْرَةَ
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے نکاح کیا تو وہ سات سال کی لڑکی تھیں اور ان سے زفاف کیا گیا تو وہ نو سال کی لڑکی تھیں اور ان کے کھلونے ان کے ساتھ تھے اور جب آپ ﷺ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر اٹھارہ سال تھی۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported that Allahs Apostle ﷺ married her when she was seven years old, and she was taken to his house as a bride when she was nine, and her dolls were with her; and when she (the Holy Prophet) died she was eighteen years old.
چھوٹی کنواری لڑکی کے باپ کو اس کا نکاح کرنے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَی وَإِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ بِنْتُ سِتٍّ وَبَنَی بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانَ عَشْرَةَ
یحییٰ بن یحیی، اسحاق بن ابراہیم، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، یحیی، اسحاق، ابومعاویہ، اعمش، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ ان سے رسول اللہ ﷺ نے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال تھی اور ان سے صحبت کی تو ان کی عمر نو سال تھی اور جب آپ ﷺ نے انتقال کیا تو ان ( عائشہ صدیقہ ؓ کی عمر اٹھارہ سال تھی۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported that Allahs Apostle ﷺ married her when she was six years old, and she was taken to his house as a bride when she was nine, and when he (the Holy Prophet) died she was eighteen years old
ماہ شوال میں نکاھ اور صحبت کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ وَبَنَی بِي فِي شَوَّالٍ فَأَيُّ نِسَائِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ أَحْظَی عِنْدَهُ مِنِّي قَالَ وَکَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَائَهَا فِي شَوَّالٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، سفیان بن اسماعیل بن امیہ، عبداللہ بن عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شوال میں نکاح فرمایا اور مجھ سے صحبت بھی شوال میں کی پس کونسی رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہے جو آپ ﷺ کے نزدیک مجھ سے زیادہ آپ ﷺ کو پیاری تھی اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ مستحب تصور کرتی تھیں اس بات کو کہ شوال میں عورتوں سے صحبت کی جائے۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: Allahs Messenger ﷺ contracted marriage with me in Shawwal and took me to his house as a bride during Shawwal. And who among the wives of Allahs Messenger ﷺ was dearer to him than I, and Aisha liked that the women (of her family) should enter the houses as brides during the month of Shawwal.
ماہ شوال میں نکاھ اور صحبت کرنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِعْلَ عَائِشَةَ
ابن نمیر، سفیان اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے لیکن اس میں حضرت عائشہ ؓ کا فعل مذکور نہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Sufyan with the same chain of transmitters, but he made no mention of the act of Aisha (being admitted as a wife in the house of the Holy Prophet).
جو آدمی کسی عورت سے نکاح کا ارادہ کرے تو اس کے لئے اس عورت کے چہرے اور ہتھیلیوں کو ایک نظر پیغام نکاح سے پہلے دیکھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا قَالَ لَا قَالَ فَاذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا
ابن ابی عمر، سفیان، یزید بن کیسان، ابی حازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نبی ﷺ کے پاس حاضر تھا آپ ﷺ کے پاس ایک آدمی نے آکر آپ ﷺ کو خبر دی کہ اس نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تو نے اسے دیکھا ہے؟ اس نے کہا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا جا اور اسے دیکھ کیونکہ انصاری عورتوں کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported: I was in the company of Allahs Messenger ﷺ when there came a man and informed him that he had contracted to marry a woman of the Ansar. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Did you cast a glance at her? He said: No. He said: Go and cast a glance at her, for there is something in the eyes of the Ansar.
جو آدمی کسی عورت سے نکاح کا ارادہ کرے تو اس کے لئے اس عورت کے چہرے اور ہتھیلیوں کو ایک نظر پیغام نکاح سے پہلے دیکھنے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ مَعِينٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي عُيُونِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا قَالَ قَدْ نَظَرْتُ إِلَيْهَا قَالَ عَلَی کَمْ تَزَوَّجْتَهَا قَالَ عَلَی أَرْبَعِ أَوَاقٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی أَرْبَعِ أَوَاقٍ کَأَنَّمَا تَنْحِتُونَ الْفِضَّةَ مِنْ عُرْضِ هَذَا الْجَبَلِ مَا عِنْدَنَا مَا نُعْطِيکَ وَلَکِنْ عَسَی أَنْ نَبْعَثَکَ فِي بَعْثٍ تُصِيبُ مِنْهُ قَالَ فَبَعَثَ بَعْثًا إِلَی بَنِي عَبْسٍ بَعَثَ ذَلِکَ الرَّجُلَ فِيهِمْ
یحییٰ بن معین، مروان بن معاویہ، یزید بن کیسان، ابی حازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کیا کہ میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے تو نبی کریم ﷺ نے اسے فرمایا کیا تو نے اسے دیکھا ہے کیونکہ انصاری عورتوں کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے اس نے کہا میں نے اسے دیکھا ہے آپ ﷺ نے فرمایا تو نے اس سے کتنے مہر پر شادی کی؟ اس نے کہا چار اوقیہ پر تو اسے نبی کریم ﷺ نے فرمایا چار اوقیہ پر گویا کہ تم اس پہاڑ سے چاندی کھود لاتے ہو جو ہمارے پاس نہیں ہے البتہ عنقریب ہم تمہیں ایک قافلہ میں بھیجیں گے تاکہ تجھے اس سے کچھ مل جائے چناچہ آپ ﷺ نے قبیلہ بنی عبس کی طرف ایک لشکر بھیجا اور اس آدمی کو بھی اس لشکر میں روانہ کیا۔
Abu Hurairah (RA) reported: A man came to Allahs Messenger ﷺ and said: I have contracted marriage with a woman of the Ansar, whereupon Allahs Apostle ﷺ said: Did you cast a glance at her, for there is something in the eyes of the Ansar? He said: I did cast a glance at her, whereupon he said: For what (dower) did you marry her? He said: For four uqiyas. Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: For four uqiyas; it seems as if you dig out silver from the side of this mountain (and that is why you are prepared to pay such a large amount of dower). We have nothing which we should give you. There is a possibility that we may send you to an (expedition) where you may get (booty). So he sent that man (in the expedition) which was despatched to Banu Abs.
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ أَهَبُ لَکَ نَفْسِي فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَعَّدَ النَّظَرَ فِيهَا وَصَوَّبَهُ ثُمَّ طَأْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فَلَمَّا رَأَتْ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ يَکُنْ لَکَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا فَقَالَ فَهَلْ عِنْدَکَ مِنْ شَيْئٍ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ اذْهَبْ إِلَی أَهْلِکَ فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرْ وَلَوْ خَاتِمًا مِنْ حَدِيدٍ فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا خَاتِمًا مِنْ حَدِيدٍ وَلَکِنْ هَذَا إِزَارِي قَالَ سَهْلٌ مَا لَهُ رِدَائٌ فَلَهَا نِصْفُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِکَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَکُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْئٌ وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَکُنْ عَلَيْکَ مِنْهُ شَيْئٌ فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّی إِذَا طَالَ مَجْلِسُهُ قَامَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ فَلَمَّا جَائَ قَالَ مَاذَا مَعَکَ مِنْ الْقُرْآنِ قَالَ مَعِي سُورَةُ کَذَا وَسُورَةُ کَذَا عَدَّدَهَا فَقَالَ تَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ اذْهَبْ فَقَدْ مُلِّکْتَهَا بِمَا مَعَکَ مِنْ الْقُرْآنِ هَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ وَحَدِيثُ يَعْقُوبَ يُقَارِبُهُ فِي اللَّفْظِ
قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن، ابی حازم، سہل بن سعد، قتبہ، عبدالعزیز بن ابی حازم، حضرت سہل بن سعد الساعدی ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور عرض کی اے اللہ کے رسول میں آپ ﷺ کے پاس اپنے نفس کو آپ ﷺ کے لئے ہبہ کرنے آئی ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف اوپر سے نیچے تک دیکھا پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا سر مبارک جھکا لیا جب اس عورت نے خیال کیا کہ آپ ﷺ نے اس کے بارے میں کچھ فیصلہ نہیں کیا تو وہ بیٹھ گئی اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ میں سے ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر آپ ﷺ کو اس کی حاجت نہیں ہے تو اس کا نکاح مجھ سے کردیں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تیرے پاس کوئی چیز موجود ہے؟ اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا اپنے اہل کے پاس جاؤ اور دیکھو کیا تم کوئی چیز پاتے ہو؟ وہ گیا واپس آیا تو عرض کیا اللہ کی قسم نہیں میں نے کوئی چیز نہیں پائی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دیکھو اگر لوہے ہی کی کوئی انگوٹھی ہو وہ گیا پھر واپس آیا تو عرض کی نہیں اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول ﷺ لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ہے صرف یہی میری تہبند ہے سہل نے کہا اس کے پاس چادر بھی نہ تھی اور کہا میں اسے آدھا چادر سے دے سکتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ تیرے ازار کا کیا کرے گی؟ اگر تو اسے پہن لے گا تو اس کے پاس کچھ نہ ہوگا اور اس نے اگر پہنا تو تجھ پر کچھ نہ ہوگا وہ آدمی کافی دیر تک بیٹھا رہا پھر جب کھڑا ہوا اور رسول اللہ ﷺ نے اسے واپس جاتے ہوئے دیکھا تو حکم دیا اور اسے بلایا گیا جب وہ آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا تجھے قرآن کریم آتا ہے؟ اس نے کہا مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں اور کئی سورتوں کو شمار کیا آپ ﷺ نے فرمایا تو انہیں زبانی پڑھ سکتا ہے؟ اس نے کہا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا جا میں نے اس عورت کو اس قرآن کی تعلیم کے عوض جو تجھے یاد ہے تیری ملکیت میں دے دیا یہ حدیث ابن ابی حازم کی ہے اور یعقوب کی حدیث الفاظ میں اس کے قریب قریب ہے۔
Sahl bin Sad al-Saidi (RA) reported: A woman came to Allahs Messenger ﷺ and said: Messenger of Allah, I have come to you to entrust myself to you (you may contract my marriage with anyone at your discretion). Allahs Messenger ﷺ saw her and cast a glance at her from head to foot. Allahs Messenger ﷺ then lowered his head. When the woman saw that he had made no decision in regard to her, she sat down. There stood up a person from amongst his companions and said: Messenger of Allah, marry her to me if you have no need of her. He (the Holy Prophet) said: is there anything with you (which you can give as a dower)? He said: No, Messenger of Allah, by Allah I have nothing. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Go to your people (family) and see if you can find something. He returned and said: I have found nothing. The Apostle of Allah ﷺ said: See even if it is an Iron ring. He went and returned and said: No, by God, not even an iron ring, but only this lower garment of mine (Sahl said that he had no upper garment), half of which (I am prepared to part with) for her. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: How can your lower garment serve your purpose, for if you wear it, she would not be able to make any use of it and if she wears it there would not be anything on you? The man sat down and as the sitting prolonged he stood up (in disappointment) and as he was going back Allahs Messenger ﷺ commanded (him) to be called back, and as he came, he said to him: Do you know any part of the Quran? He said: I know such and such surahs (and he counted them), whereupon he said: Can you recite them from heart (from your memory)? He said: Yes, whereupon he (Allahs Messenger) said: Go, I have given her to you in marriage for the part of the Quran which you know.
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الدَّرَاوَرْدِيِّ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ کُلُّهُمْ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَی بَعْضٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ زَائِدَةَ قَالَ انْطَلِقْ فَقَدْ زَوَّجْتُکَهَا فَعَلِّمْهَا مِنْ الْقُرْآنِ
خلف بن ہشام، حماد بن زید، زہیر بن حرب سفیان، بن عیینہ اسحاق بن ابراہیم، ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین بن علی ابی حازم، حضرت سہل بن سعد ؓ کی حدیث مذکور کی مزید اسناد ذکر کی ہیں زائدہ کی حدیث میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ میں نے تیرا نکاح اس سے کردیا تو اسے قرآن سکھا دے۔
This hadith has been narrated on the authority of Sahl bin Sad with a minor alteration of words, but the hadith transmitted through Zaidah (the words are that the Holy Prophet) said: Go, I have married her to you, and you teach her something of the Quran.
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ يَزِيدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمْ کَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ کَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا قَالَتْ أَتَدْرِي مَا النَّشُّ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَتْ نِصْفُ أُوقِيَّةٍ فَتِلْکَ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ
اسحاق بن ابراہیم، عبدالعزیز بن محمد، یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد، محمد بن ابی عمر مکی، عبدالعزیز، یزید، محمد بن ابراہیم، حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا مہر کتنا تھا؟ تو انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ کا اپنی ازواج کے لئے مہر بارہ اوقیہ اور نش تھا سیدہ ؓ نے عرض کیا کیا تو جانتا ہے کہ نش کیا ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں فرمایا نصف اوقیہ اور یہ پانچ سو درہم تھے پس رسول اللہ ﷺ کا اپنی ازواج کے لئے یہ مہر ہوتا تھا۔
Abu Salama bin Abdul Rahman reported: I asked Aisha, the wife of Allahs Messenger ﷺ : What is the amount of dower of Allahs Messenger ﷺ ? She said: It was twelve uqiyas and one nash. She said: Do you know what is al-nash? I said: No. She said: It is half of uqiya, and it amounts to five hundred dirhams, and that was the dower given by Allahs Messenger ﷺ to his wives.
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَأَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَکِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی عَلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ فَقَالَ مَا هَذَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَی وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَبَارَکَ اللَّهُ لَکَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ
یحییٰ بن یحیی، ابوربیع، سلیمان بن داؤد، قتبیہ بن سعید، یحیی، حماد بن زید، ثابت، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عبدالرحمن بن عوف پر زردی کے نشان دیکھے تو فرمایا یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ میں نے ایک عورت سے گٹھلی کھجور کے ہم وزن سونے پر شادی کی ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تیرے لئے مبارک کرے، ولیمہ کر چاہے ایک بکری سے ہی ہو۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ saw the trace of yellowness on Abdul Rahman bin Auf and said: What is this? Thereupon he said: Allahs Messenger, I have married a woman for a date-stones weight of gold. He said: God bless you! Hold a wedding feast, even if only with a sheep.
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ
محمد بن عبید، ابوعوانہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عوف نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں کھجور کی گٹھلی کے ہم وزن سونے پر شادی کی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا ولیمہ کر، چاہے بکری ہی سے ہو۔
Anas bin Malik (RA) reported that Abdul Rahman bin Auf (RA) married during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ for a nawat weight of gold and the Messenger of Allah ﷺ said to him: Give a feast even with a sheep.
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ وَحُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَی وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ
اسحاق بن ابراہیم، وکیع، شعبہ، قتادہ، حمید، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ نے ایک عورت سے کھجور کی گٹھلی کے ہم وزن سونے کے مہر پر شادی کی اور نبی کریم ﷺ نے انہیں فرمایا کہ ولیمہ کر چاہے ایک بکری ہی سے ہو۔
Anas bin Malik (RA) reported that Abdul Rahman bin Auf (RA) married a woman for a date-stones weight of gold and Allahs Apostle ﷺ said to him: Hold a wedding feast, even if only with a sheep.
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حُمَيْدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَهْبٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً
محمد بن مثنی، ابوداؤد، محمد بن رافع، ہارون بن عبداللہ، وہب بن جریر، احمد بن خراش، شبابہ، حمیداسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Humaid with the same chain of transmitters except (with this minor alteration of words) that Abdul Rahman said: "I married a woman."
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ قَالَا أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ بَشَاشَةُ الْعُرْسِ فَقُلْتُ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ کَمْ أَصْدَقْتَهَا فَقُلْتُ نَوَاةً وَفِي حَدِيثِ إِسْحَقَ مِنْ ذَهَبٍ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن قدامہ، نضر بن شمیل، شعبہ، عبدالعزیز بن صہیب، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ نے کہا مجھے رسول اللہ ﷺ نے دیکھا اور مجھ پر شادی کی خوشی کے آثار تھے تو میں نے عرض کیا میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا تو نے اس کا مہر کتنا ادا کیا؟ میں نے عرض کیا ایک گٹھلی کے برابر اور اسحاق کی حدیث میں ہے سونے سے۔
Abdul Rahman bin Auf (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ saw the signs of the happiness of wedding in me, and I said: I have married a woman of the Ansar. He said: How much Mahr have you paid? I said: For a date-stone weight of gold. And in the hadith transmitted by Ishaq (it is): (nawat weight) of gold.
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ شُعْبَةُ وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَی وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ
ابن مثنی، ابوداؤد، شعبہ، ابی حمزہ، شعبہ، عبدالرحمن، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ نے ایک عورت سے کھجور کی گٹھلی کے ہم وزن سونے پر نکاح کیا۔
Anas bin Malik (RA) reported that Abdul Rahman married a woman for a datestone weight of gold.
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَهْبٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ مِنْ ذَهَبٍ
محمد بن رافع، وہب، شعبہ ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے سوائے اس کے کہ عبدالرحمن بن عوف کے بیٹوں میں سے ایک آدمی نے ( مِنْ ذَهَبٍ ) کے الفاظ کہے ہیں۔
Shubah has narrated this hadith with the same chain of transmitters except for (this alteration) that he said that a person from among the sons of Abd al Rahman said: "from gold".
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ قَالَ فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ فَرَکِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَکِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ فَأَجْرَی نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُکْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْحَسَرَ الْإِزَارُ عَنْ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي لَأَرَی بَيَاضَ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ اللَّهُ أَکْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ وَقَدْ خَرَجَ الْقَوْمُ إِلَی أَعْمَالِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ قَالَ وَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً وَجُمِعَ السَّبْيُ فَجَائَهُ دِحْيَةُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنْ السَّبْيِ فَقَالَ اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فَجَائَ رَجُلٌ إِلَی نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ سَيِّدِ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ مَا تَصْلُحُ إِلَّا لَکَ قَالَ ادْعُوهُ بِهَا قَالَ فَجَائَ بِهَا فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خُذْ جَارِيَةً مِنْ السَّبْيِ غَيْرَهَا قَالَ وَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ يَا أَبَا حَمْزَةَ مَا أَصْدَقَهَا قَالَ نَفْسَهَا أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا حَتَّی إِذَا کَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنْ اللَّيْلِ فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا فَقَالَ مَنْ کَانَ عِنْدَهُ شَيْئٌ فَلْيَجِئْ بِهِ قَالَ وَبَسَطَ نِطَعًا قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيئُ بِالْأَقِطِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيئُ بِالتَّمْرِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيئُ بِالسَّمْنِ فَحَاسُوا حَيْسًا فَکَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
زہیر بن حرب، اسماعیل، ابن علیہ، عبدالعزیز، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کا غزوہ لڑا ہم نے اس خبیر کے پاس ہی صبح کی نماز اندھیرے میں ادا کی تو اللہ کے نبی ﷺ سوار ہوئے اور ابوطلحہ بھی سوار ہوئے اور میں ابوطلحہ کے پیچھے بیٹھا نبی کریم ﷺ نے خیبر کے کوچوں میں دوڑ لگانا شروع کی اور میرا گھٹنا اللہ کے نبی ﷺ کی ران سے لگ جاتا تھا اور نبی کریم ﷺ کا ازار بھی آپ ﷺ کی ران سے کھسک گیا تھا اور میں اللہ کے نبی ﷺ کی ران کی سفیدی دیکھتا تھا جب آپ ﷺ بستی میں پہنچے تو فرمایا اَللَّهُ أَکْبَرُ خیبر ویران ہوگیا بیشک ہم جب کسی میدان میں اترتے ہیں تو اس قوم کی صبح بری ہوجاتی ہے جن کو ڈرایا جاتا ہے ان الفاظ کو آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا اور لوگ اپنے اپنے کاموں کی طرف نکل چکے تھے انہوں نے کہا محمد ﷺ آچکے ہیں عبدالعزیز نے کہا کہ ہمارے بعض ساتھیوں نے یہ بھی کہا کہ لشکر بھی آچکا راوی کہتے ہیں ہم نے خیبر کو جبراً فتح کرلیا اور قیدی جمع کئے گئے اور آپ ﷺ کے پاس دحیہ حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے نبی مجھے قیدیوں میں سے باندی عطا کردیں آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اور ایک باندی لے لو انہوں نے صفیہ ؓ بنت حیی کو لے لیا تو اللہ کے نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی نے آکر کہا اے اللہ کے نبی آپ ﷺ نے دحیہ کو صفیہ بن حیی بنوقریظہ و بنونضیر کی سردار عطا کردی وہ آپ کے علاوہ کسی کے شایان شان نہیں آپ ﷺ نے فرمایا دحیہ کو باندی کے ہمراہ بلاؤ چناچہ وہ اسے لے کر حاضر ہوئے جب نبی کریم ﷺ نے اسے دیکھا فرمایا کہ تو اس کے علاوہ قیدیوں میں سے کوئی باندی لے لے اور آپ ﷺ نے انہیں آزاد کیا اور ان سے شادی کی ثابت راوی نے کہا اے ابوحمزہ اس کا مہر کیا تھا؟ فرمایا ان کو آزاد کرنا اور شادی کرنا ہی مہر تھا جب آپ ﷺ راستہ میں پہنچے تو اسے ام سلیم نے تیار کر کے رات کے وقت آپ ﷺ کی خدمت میں بھیج دیا اور نبی کریم ﷺ نے بحالت عروسی صبح کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا جس کے پاس جو کچھ ہو وہ لے آئے اور ایک چمڑے کا دستر خوان بچھوا دیا چناچہ بعض آدمی پنیر اور بعض کھجوریں اور بعض گھی لے کر حاضر ہوئے پھر انہوں نے اس سب کو ملا کر مالیدہ حلوا تیار کرلیا اور یہی رسول اللہ ﷺ کا ولیمہ تھا۔
Anas (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ set out on an expedition to Khaibar and we observed our morning prayer in early hours of the dawn. The Apostle of Allah ﷺ then mounted and so did Abu Talha ride, and I was seating myself behind Abu Talha. Allahs Apostle ﷺ moved in the narrow street of Khaibar (and we rode so close to each other in the street) that my knee touched the leg of Allahs Apostle ﷺ . (A part of the) lower garment of Allahs Apostle ﷺ slipped from his leg and I could see the whiteness of the leg of Allahs Apostle ﷺ . As he entered the habitation he called: Allah-o-Akbar (Allah is the Greatest). Khaibar is ruined. And when we get down in the valley of a people, evil is the morning of the warned ones. He repeated it thrice. In the meanwhile the people went out for their work, and said: By Allah, Muhammad has come. Abdul Aziz or some of our companions said: Muhammad and the army (have come). He said: We took it (the territory of Khaibar) by force, and there were gathered the prisoners of war. There came Dihya and he said: Messenger of Allah, bestow upon me a girl, one of the prisoners. He said: Go and get any girl. He made a choice for Safiyya daughter of Huyayy (b. Akhtab). There came a person to Allahs Apostle ﷺ and said: Apostle of Allah ﷺ , you have bestowed Safiyya bint Huyayy, the chief of Quraiza and al-Nadir, upon Dihya and she is worthy of you only. He said: Call him along with her. So he came along with her. When Allahs Apostle ﷺ saw her he said: Take any other woman from among the prisoners. He (the narrator) said: He (the Holy Prophet) then granted her emancipation and married her. Thabit said to him: Abu Hamza, how much dower did he (the Holy Prophet) give to her? He said: He granted her freedom and then married her. On the way Umm Sulaim embellished her and then sent her to him (the Holy Prophet) at night. Allahs Apostle ﷺ appeared as a bridegroom in the morning. He (the Holy Prophet) said: He who has anything (to eat) should bring that. Then the cloth was spread. A person came with cheese, another came with dates, and still another came with refined butter, and they prepared hais and that was the wedding feast of Allahs Messenger ﷺ