حالت احرام میں نکاح کی حرمت اور پیغام نکاح کی کراہت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ أَوْ يَتَنَاجَشُوا أَوْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَی خِطْبَةِ أَخِيهِ أَوْ يَبِيعَ عَلَی بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا تَسْأَلْ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَکْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا أَوْ مَا فِي صَحْفَتِهَا زَادَ عَمْرٌو فِي رِوَايَتِهِ وَلَا يَسُمْ الرَّجُلُ عَلَی سَوْمِ أَخِيهِ
عمرو ناقد، زہیر بن حرب، ابن ابی عمر، زہیر، سفیان بن عیینہ، سعید، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ شہری آدمی دیہاتی کا مال بیچے یا بغیر ارادہ خریداری مال کی قیمت بڑھائے یا کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نکاح دے یا اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرے اور نہ کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا سوال کرے اس لئے تاکہ انڈیلے اپنے کئے جو اس کے برتن یا رکابی میں ہے عمرو نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ نہ کوئی آدمی اپنے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ کرے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as having forbidden a dweller of the town selling the merchandise of a villager or outbidding in a sale (in order that another might fall into a snare), or a person making the proposal of marriage when his brother has already made such a proposal, or entering into a transaction when his brother has already entered; and a woman asking the divorce of her sister in order to deprive her of what belongs to her. Amr made this addition: "The person should not purchase in opposition to his brother."
حالت احرام میں نکاح کی حرمت اور پیغام نکاح کی کراہت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَنَاجَشُوا وَلَا يَبِعْ الْمَرْئُ عَلَی بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلَا يَخْطُبْ الْمَرْئُ عَلَی خِطْبَةِ أَخِيهِ وَلَا تَسْأَلْ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ الْأُخْرَی لِتَکْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا خریدنے کے ارادہ کے بغیر چیز کی قیمت نہ بڑھانا اور نہ بیچے شہری دیہاتی کا مال اور نہ کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نکاح دے اور نہ کوئی عورت دوسری عورت کی طلاق کا سوال کرے تاکہ وہ انڈیل لے اپنے لئے وہ جو اس کے برتن میں ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as having said this: Do not outbid in a sale in order to ensnare. No man should enter into a transaction in which his brother has already entered, and no dweller of the town should sell on behalf of the villager. And no man should make a proposal of marriage which his brother has already made and no woman should ask for the divorce of another (co-wife) in order to deprive her of what belongs to her.
حالت احرام میں نکاح کی حرمت اور پیغام نکاح کی کراہت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ وَلَا يَزِدْ الرَّجُلُ عَلَی بَيْعِ أَخِيهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالاعلی، محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، زہری اس اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ معمر کی حدیث میں ہے کہ کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر زیادتی نہ کرے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters but with a slight alteration.
حالت احرام میں نکاح کی حرمت اور پیغام نکاح کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَسُمْ الْمُسْلِمُ عَلَی سَوْمِ أَخِيهِ وَلَا يَخْطُبْ عَلَی خِطْبَتِهِ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، ابن حجر، اسماعیل بن جعفر، ابن ایوب، اسماعیل، علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں کے بھاؤ پر بھاؤ نہ کرے (بولی پر بولی نہ لگائے) اور نہ اس کے پیغام نکاح پر پیغام نکاح دے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The Muslim should not purchase in opposition to his brother, and he should not make the proposal of marriage on the proposal already made by his brother.
حالت احرام میں نکاح کی حرمت اور پیغام نکاح کی کراہت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْعَلَائِ وَسُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِمَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
احمد بن ابراہیم، عبدالصمد، شعبہ، علاء، سہیل، حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث مبارکہ اسی طرح روایت کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.
حالت احرام میں نکاح کی حرمت اور پیغام نکاح کی کراہت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنَّهُمْ قَالُوا عَلَی سَوْمِ أَخِيهِ وَخِطْبَةِ أَخِيهِ
محمد بن مثنی، عبدالصمد، شعبہ، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے حدیث مبارکہ روایت کرتے ہیں اس میں یہ ہے اپنے بھائی کے بھاؤ اور اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.
حالت احرام میں نکاح کی حرمت اور پیغام نکاح کی کراہت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ اللَّيْثِ وَغَيْرِهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ عَلَی الْمِنْبَرِ يَقُولُا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ فَلَا يَحِلُّ لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَبْتَاعَ عَلَی بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا يَخْطُبَ عَلَی خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّی يَذَرَ
ابوطاہر، عبداللہ بن وہب لیث، یزید بن ابی حبیب، عبدالرحمن، بن شماسہ، عقبہ، بن عامر، حضرت عبدالرحمن بن شماسہ سے روایت ہے اس نے عقبہ بن عامر سے منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مومن مومن کا بھائی ہے کسی مومن کے لئے یہ حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کی بیع پر خریداری کرے اور نہ اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نکاح دے یہاں تک کہ وہ چھوڑ دے۔
Uqba bin Amir said on the pulpit that Allahs Messenger ﷺ said: A believer is the brother of a believer, so it is not lawful for a believer to outbid his brother, and he should not propose an engagement when his brother has thus proposed until he gives it up.
نکاح شغار (وٹہ سٹہ) کی حرمت اور اس کے باطل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الشِّغَارِ وَالشِّغَارُ أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَی أَنْ يُزَوِّجَهُ ابْنَتَهُ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ
یحییٰ بن یحیی، مالک نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نکاح شغار سے منع فرمایا ہے اور شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح اس شرط پر کرے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح اسے کر کے دے گا اور ان کے درمیان مہر مقرر نہ کیا جائے (دونوں عورتوں کو ایک دوسری کا مہر تصور کیا جائے)۔
Ibn Umar (RA) said that Allahs Messenger ﷺ prohibited Shighar which means that a man gives his daughter in marriage on the condition that the other gives his daughter to him in marriage without any dower being paid by either.
نکاح شغار وٹہ سٹہ کی حرمت اور اس کے باطل ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ قُلْتُ لِنَافِعٍ مَا الشِّغَارُ
زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، عبیداللہ بن سعید، یحیی، عبیداللہ، نافع، ابن عمر، حضرت ابن عمر ؓ نبی کریم ﷺ سے اس طرح روایت کرتے ہیں عبیداللہ کی حدیث میں یہ ہے کہ میں نے نافع سے کہا شغار کیا ہے؟
A hadith like this has been narrated on the authority ofAbdullah bin Umar (RA) but with a slight variation of words.
نکاح شغار وٹہ سٹہ کی حرمت اور اس کے باطل ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّرَّاجِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الشِّغَارِ
یحییٰ بن یحیی، حماد بن زید، عبدالرحمن، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نکاح شغار سے منع کیا ہے۔
Ibn Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ prohibited Shighar.
نکاح شغار وٹہ سٹہ کی حرمت اور اس کے باطل ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسلام میں نکاح شغار نہیں ہے (بغیر مہر مقرر کے وٹہ سٹہ کرنا)
Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as having said: There is no Shighar in islam.
نکاح شغار وٹہ سٹہ کی حرمت اور اس کے باطل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشِّغَارِ زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ وَالشِّغَارُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ زَوِّجْنِي ابْنَتَکَ وَأُزَوِّجُکَ ابْنَتِي أَوْ زَوِّجْنِي أُخْتَکَ وَأُزَوِّجُکَ أُخْتِي
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابواسامہ، عبیداللہ ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نکاح شغار سے منع فرمایا اور ابن نمیر نے یہ اضافہ بیان کیا ہے شغار یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے کہے تو اپنی بیٹی کا نکاح مجھے دے میں تجھے اپنی بیٹی کا نکاح دوں گا یا تو اپنی بہن کا نکاح مجھے کر دے میں اپنی بہن کا نکاح تجھے کر دوں گا۔
Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ prohibited Shighar. Ibn Numair added: Shighar means that a person should say to the other person: Give me the hand of your daughter in marriage and I will (in return) marry my daughter to you; or marry me your sister, and I will marry my sister to you.
نکاح شغار وٹہ سٹہ کی حرمت اور اس کے باطل ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ زِيَادَةَ ابْنِ نُمَيْرٍ
ابوکریب، عبدہ، عبیداللہ اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے لیکن ابن نمیر کا اضافہ ذکر نہیں کیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar (RA) with the same chain of transmitters, but there is no mention of Ibn Numair.
نکاح شغار وٹہ سٹہ کی حرمت اور اس کے باطل ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشِّغَارِ
ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، اسحاق بن ابراہیم، ابن جریج، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نکاح شغار سے منع فرمایا ہے۔
Jabir binAbdullah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ prohibited Shighar.
شرائط نکاح کا پورا کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَقَّ الشَّرْطِ أَنْ يُوفَی بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي بَکْرٍ وَابْنِ الْمُثَنَّی غَيْرَ أَنَّ ابْنَ الْمُثَنَّی قَالَ الشُّرُوطِ
یحییٰ بن ایوب، ہشیم، ابن نمیر، وکیع، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد، احمر، محمد بن مثنی، یحییٰ بن قطان، عبدالحمید، بن جعفر، یزید بن ابی حبیب، مرثد، عبداللہ، حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پورا کرنے کے اعتبار سے سب سے حقدار وہ شرط ہے جس کے ذریعے تم نے عورتوں کی شرمگاہوں کو اپنے لئے حلال کیا ہے اور ابن مثنی کی روایت میں شروط کا لفظ ہے۔
Uqba bin Amir (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The most worthy condition which must be fulfilled is that which makes sexual intercourse lawful. In the narration transmitted by Ibn Muthanna (instead of the word "condition") it is "conditions".
بیوہ کا نکاح میں زبان سے اجازت دینے اور غیر شادی شدہ کی اجازت خاموشی کے ساتھ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُنْکَحُ الْأَيِّمُ حَتَّی تُسْتَأْمَرَ وَلَا تُنْکَحُ الْبِکْرُ حَتَّی تُسْتَأْذَنَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَکَيْفَ إِذْنُهَا قَالَ أَنْ تَسْکُتَ
عبیداللہ بن عمر، میسرہ، خالد بن حارث، ہشام، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بےنکاحی عورت کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے اور نہ باکرہ کا نکاح کیا جائے یہاں تک کہ اس سے اجازت لے لی جائے صحابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اس کی اجازت کیسے ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ خاموش ہوجائے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as having said: A woman without a husband (or divorced or a widow) must not be married until she is consulted, and a virgin must not be married until her permission is sought. They asked the Prophet ﷺ of Allah ﷺ : How her (virgins) consent can be solicited? He (the Holy Prophet) said: That she keeps silence.
بیوہ کا نکاح میں زبان سے اجازت دینے اور غیر شادی شدہ کی اجازت خاموشی کے ساتھ ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ح و حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عِيسَی يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ح و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ کُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ بِمِثْلِ مَعْنَی حَدِيثِ هِشَامٍ وَإِسْنَادِهِ وَاتَّفَقَ لَفْظُ حَدِيثِ هِشَامٍ وَشَيْبَانَ وَمُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، حجاج، بن ابی عثمان، ابراہیم بن موسی، عیسیٰ، یونس، حسین بن محمد شیبان، رافع، عبدالرزاق، معمر، عبداللہ بن عبدالرحمن، یحییٰ، معاویہ، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ روایت کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated through another chain of transmitters.
بیوہ کا نکاح میں زبان سے اجازت دینے اور غیر شادی شدہ کی اجازت خاموشی کے ساتھ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْکَةَ يَقُولُ قَالَ ذَکْوَانُ مَوْلَی عَائِشَةَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَارِيَةِ يُنْکِحُهَا أَهْلُهَا أَتُسْتَأْمَرُ أَمْ لَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ تُسْتَأْمَرُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لَهُ فَإِنَّهَا تَسْتَحْيِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَلِکَ إِذْنُهَا إِذَا هِيَ سَکَتَتْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، ابن جریج، اسحاق بن ابرہیم، محمد بن رافع عبدالرزاق، ابن رافع، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس لڑکی کے بارے میں سوال کیا جس کے گھر والے اس کا نکاح کرتے ہیں کیا اس سے اجازت لی جائے گی یا نہیں تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لی جائے گی عائشہ ؓ نے کہا میں نے عرض کیا وہ حیاء کرے گی تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب وہ خاموش رہے ایسے موقع پر تو یہی اس کی اجازت ہے۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: I asked Allahs Messenger ﷺ about a virgin whose marriage is solemnised by her guardian, whether it was necessary or not to consult her. Allahs Messenger ﷺ said: Yes, she must be consulted. Aisha reported: I told him that she feels shy, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: Her silence implies her consent.
بیوہ کا نکاح میں زبان سے اجازت دینے اور غیر شادی شدہ کی اجازت خاموشی کے ساتھ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا مَالِکٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ قُلْتُ لِمَالِکٍ حَدَّثَکَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِکْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا قَالَ نَعَمْ
سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، مالک، یحییٰ بن یحیی، عبداللہ بن فضل، نافع بطن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بیوہ عورت اپنے ولی سے زیادہ نفس کی حقدار ہے اور نوجوان کنواری سے اس کے نفس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔
Ibn Abbas (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: A woman without a husband has more right to her person than her guardian, and a virgins consent must be asked from her, and her silence implies her consent.
بیوہ کا نکاح میں زبان سے اجازت دینے اور غیر شادی شدہ کی اجازت خاموشی کے ساتھ ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ يُخْبِرُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِکْرُ تُسْتَأْمَرُ وَإِذْنُهَا سُکُوتُهَا
قتیبہ بن سعید، سفیان، زیاد بن سعد، عبداللہ بن فضل، نافع بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا شادی شدہ عورت اپنے آپ کی اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور باکرہ عورت سے اجازت لی جائے گی اور اس کا سکوت اس کی اجازت ہے۔
Ibn Abbas (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A woman who has been previously married (Thayyib) has more right to her person than her guardian. And a virgin should also be consulted, and her silence implies her consent.