نکاح کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 18 · 171 hadiths · Page 8 of 9

3537Sahih Muslim

اپنی بیوی سے قبل میں خواہ آگے سے یا پیچھے سے جماع کرے لیکن دبر میں نہ کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ عَنْ الزُّهْرِيِّ ح و حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ الْمُخْتَارِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ النُّعْمَانِ عَنْ الزُّهْرِيِّ إِنْ شَائَ مُجَبِّيَةً وَإِنْ شَائَ غَيْرَ مُجَبِّيَةٍ غَيْرَ أَنَّ ذَلِکَ فِي صِمَامٍ وَاحِدٍ

قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، عبدالوارث بن عبدالصمد، ایوب، محمد بن مثنی، وہب بن جریر، شعبہ، محمد بن مثنی، عبدالرحمن، سفیان، عبیداللہ بن سعید، ہارون بن عبداللہ ابومعن، وہب ابن جریر، نعمان بن راشد، سلیمان بن معبد، معلی بن اسد، عبدالعزیز، ابن مختار، سہیل بن ابی صالح مختلف اسناد سے وہی حدیث مروی ہے زہری کی حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ شوہر اگر چاہے تو اپنی بیوی کو اوندھا لٹا کر جماع کرے اور اگر چاہے تو سیدھا لٹا کر صحبت کرے مگر جماع ایک سوارخ میں کرے یعنی آگے والے حصہ میں

This hadith has been reported on the authority of Jabir through another chain of transmitters, but in the hadith transmitted on the authority of Zuhri there is an addition (of these words): "If he likes he may (have intercourse) being on the back or in front of her, but it should be through one opening (vagina)."

3538Sahih Muslim

عورت کا اپنے خاوند کے بستر سے اپنے آپ کو روکنے کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا بَاتَتْ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِکَةُ حَتَّی تُصْبِحَ

محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب عورت اپنے خاوند کے بستر سے جدا ہو کر باوجود بلانے کے رات گزارے تو صبح تک فرشتے اس خاتون پر لعنت کرتے ہیں۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ said: When a woman spends the night away from the bed of her husband, the angels curse her until morning.

3539Sahih Muslim

عورت کا اپنے خاوند کے بستر سے اپنے آپ کو روکنے کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ حَتَّی تَرْجِعَ

یحییٰ بن حبیب، خالد، ابن حارث، شعبہ نیاسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے اس میں یہ اضافہ ہے یہاں تک کہ لوٹ آئے۔

This hadith has been narrated through the same chain of transmitters (with a slight variation): "He said: Until she comes back."

3540Sahih Muslim

عورت کا اپنے خاوند کے بستر سے اپنے آپ کو روکنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ رَجُلٍ يَدْعُو امْرَأَتَهُ إِلَی فِرَاشِهَا فَتَأْبَی عَلَيْهِ إِلَّا کَانَ الَّذِي فِي السَّمَائِ سَاخِطًا عَلَيْهَا حَتَّی يَرْضَی عَنْهَا

ابن ابی عمر، مروان، یزید، ابن کیسان، ابی حازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کوئی آدمی جب اپنی بیوی کو اپنے بستر کی طرف بلائے اور وہ اس کے بلانے پر انکار کر دے تو آسمان والا یعنی اللہ اس عورت پر ناراض رہتا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: By Him in Whose Hand is my life, when a man calls his wife to his bed, and she does not respond, the One Who is in the heaven is displeased with her until he (her husband) is pleased with her.

3541Sahih Muslim

عورت کا اپنے خاوند کے بستر سے اپنے آپ کو روکنے کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَی فِرَاشِهِ فَلَمْ تَأْتِهِ فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِکَةُ حَتَّی تُصْبِحَ

ابوبکر بن ابی شبیہ، ابوکریب، ابومعاویہ، ابوسعید، وکیع، زہیر بن حرب، جریر، اعمش، ابی حازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب آدمی نے اپنی بیوی کو اپنے بستر کی طرف بلایا اور وہ نہ آئی اس نے اس پر ناراضگی کی حالت میں رات گزاری تو اس عورت پر فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When a man invites his wife to his bed and she does not come, and he (the husband) spends the night being angry with her, the angels curse her until morning.

3542Sahih Muslim

عورت کا اپنے خاوند کے بستر سے اپنے آپ کو روکنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ الْعُمَرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَی امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، مردان بن معاویہ، عمر بن حمزہ، عبدالرحمن بن سعد، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں میں سب سے برا اللہ کے نزدیک مرتبہ کے اعتبار سے قیامت کے دن وہ آدمی ہوگا جو اپنی عورت کے پاس جائے اور اس سے جماع کرے پھر اس عورت کے راز کو پھیلاتا ہے۔

Abu Said al-Khudri (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: The most wicked among the people in the eye of Allah on the Day of Judgment is the man who goes to his wife and she comes to him, and then he divulges her secret.

3543Sahih Muslim

عورت کا اپنے خاوند کے بستر سے اپنے آپ کو روکنے کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْأَمَانَةِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَی امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ إِنَّ أَعْظَمَ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوکریب، ابواسامہ، عمر بن حمزہ، عبدالرحمن بن سعد، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بڑی امانت جو ہوگی وہ یہ ہے کہ مرد اپنی عورت کے پاس جائے اور اس سے جماع کرے اور پھر اس کے راز کو ظاہر کر دے ابن نمیر نے "إِنَّ أَعْظَمَ " کہا ہے۔

Abu Said al-Khudri (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The most important of the trusts in the sight of Allah on the Day of Judgment is that a man goes to his wife and she goes to him (and the breach of this trust is) that he should divulge her secret. Ibn Numair narrates this hadith with a slight change of wording.

3544Sahih Muslim

عزل کے حکم کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو صِرْمَةَ عَلَی أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَسَأَلَهُ أَبُو صِرْمَةَ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْکُرُ الْعَزْلَ فَقَالَ نَعَمْ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ بَلْمُصْطَلِقِ فَسَبَيْنَا کَرَائِمَ الْعَرَبِ فَطَالَتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَرَغِبْنَا فِي الْفِدَائِ فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ فَقُلْنَا نَفْعَلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا لَا نَسْأَلُهُ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا عَلَيْکُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا مَا کَتَبَ اللَّهُ خَلْقَ نَسَمَةٍ هِيَ کَائِنَةٌ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا سَتَکُونُ

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل بن جعفر، ربیعہ، محمد بن یحییٰ بن حبان، حضرت ابن محیریز ؓ سے روایت ہے کہ میں اور ابوصرمہ حضرت ابوسعید خدری ؓ کے پاس حاضر ہوئے تو ابوصرمہ نے ان سے پوچھا اے ابوسعید! کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو عزل کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ بنی مصطلق میں شرکت کی پس ہم نے عرب کی معزز عورتوں کو قیدی بنایا اور ہم پر عورتوں سے علیحدہ رہنے کی مدت لمبی ہوگئی تھی اور ہم نے اس میں رغبت کی کہ فدیہ حاصل کریں عورتوں کے بدلے کفار سے اور یہ بھی ہم نے ارادہ کیا کہ ہم ان سے نفع حاصل کریں اور عزل کرلیں ہم نے کہا ہم رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں آپ ﷺ سے پوچھے بغیر ایسا کریں گے؟ تو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں تم پر لازم ہے کہ تم ایسا نہ کرو عزل نہ کرو کیونکہ جس روح کے پیدا ہونے کا اللہ نے قیامت کے دن تک لکھ دیا وہ پیدا ہو کر رہے گی۔

Abu Sirma said to Abu Said al Khadri (RA) : O Abu Said, did you hear Allahs Messenger ﷺ mentioning al-azl? He said: Yes, and added: We went out with Allahs Messenger ﷺ on the expedition to the Bil-Mustaliq and took captive some excellent Arab women; and we desired them, for we were suffering from the absence of our wives, (but at the same time) we also desired ransom for them. So we decided to have sexual intercourse with them but by observing azl (Withdrawing the male sexual organ before emission of semen to avoid-conception). But we said: We are doing an act whereas Allahs Messenger is amongst us; why not ask him? So we asked Allahs Messenger ﷺ , and he said: It does not matter if you do not do it, for every soul that is to be born up to the Day of Resurrection will be born.

3545Sahih Muslim

عزل کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي مَعْنَی حَدِيثِ رَبِيعَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ کَتَبَ مَنْ هُوَ خَالِقٌ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ

محمد بن فرج، محمد بن زبیر، موسیٰ بن عقبہ، محمد بن یحییٰ بن حبان اسناد سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ نے لکھ دیا ہے قیامت کے دن تک پیدا کرنے والا کون ہے؟

A hadith like this has been narrated on the authority of Habban with the same chain of transmitters (but with this alteration) that he said: "Allah has ordained whom he has to create until the Day of Judgment."

3546Sahih Muslim

عزل کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ قَالَ أَصَبْنَا سَبَايَا فَکُنَّا نَعْزِلُ ثُمَّ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ لَنَا وَإِنَّکُمْ لَتَفْعَلُونَ وَإِنَّکُمْ لَتَفْعَلُونَ وَإِنَّکُمْ لَتَفْعَلُونَ مَا مِنْ نَسَمَةٍ کَائِنَةٍ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا هِيَ کَائِنَةٌ

عبداللہ بن محمد بن اسماء، جویریہ، مالک، ابن محیریز، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ہمیں قیدی عورتیں ملیں اور ہم عزل کرتے تھے پھر ہم نے آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا تم ضرور ایسا کرتے ہو تم ضرور ایسا کرتے ہو تم ضرور ایسا کرتے ہو تاکیداً دہرایا مگر کوئی بھی ذی روح جس کو قیامت تک پیدا ہونا ہے وہ پیدا ہو کر رہے گی۔

Abu Said al-Khudri (RA) reported: We took women captives, and we wanted to do azl with them. We then asked Allahs Messenger ﷺ about it, and he said to us: Verily you do it, verily you do it, verily you do it, but the soul which has to be born until the Day of Judgment must be born.

3547Sahih Muslim

عزل کے حکم کے بیان میں

و حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قُلْتُ لَهُ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ نَعَمْ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَلَيْکُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ

نصر، بن علی، بشر بن مفضل، شعبہ، انس بن سیرین، معبد بن سیرین، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا نہیں تم پر لازم ہے کہ تم عزل نہ کرو کیونکہ یہ طے شدہ معاملہ ہے۔

Abu Said al-Khudri (RA) (was asked if he had heard it himself), to which he said: Yes. (I heard) Allahs Apostle ﷺ as saying: There is no harm if you do not practise it, for it (the birth of the child) is something ordained (by Allah).

3548Sahih Muslim

عزل کے حکم کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَبَهْزٌ قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْعَزْلِ لَا عَلَيْکُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَاکُمْ فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ وَفِي رِوَايَةِ بَهْزٍ قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ لَهُ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ نَعَمْ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، یحییٰ بن حبیب، خالد، ابن حارث، محمد بن حاتم، عبدالرحمن بن مہدی و بہز اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں ان احادیث میں نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے عزل کے بارے میں ارشاد فرمایا نہیں تم پر لازم ہے کہ تم ایسا عمل نہ کرو کیونکہ یہ تقدیر کا معاملہ ہے اور بہز کی روایت ہے کہ شعبہ نے کہا کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے ابن ابی سعید سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا ہاں۔

This hadith is reported on the authority of Abu Said with the same chain of transmitters but with a slight variation (of words).

3549Sahih Muslim

عزل کے حکم کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ مَسْعُودٍ رَدَّهُ إِلَی أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ لَا عَلَيْکُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَاکُمْ فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ قَالَ مُحَمَّدٌ وَقَوْلُهُ لَا عَلَيْکُمْ أَقْرَبُ إِلَی النَّهْيِ

ابوربیع، ابوکامل، حماد، ابن زید، ایوب، محمد، عبدالرحمن بن بشر بن مسعود، حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے عزل کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا نہیں تم پر لازم ہے کہ تم ایسا نہ کرو کیونکہ یہ تقدیر کا معاملہ ہے محمد نے کہا کہ آپ ﷺ کا قول لَا عَلَيْکُمْ نہی کے قریب ہے۔

Abu Said al-Khudri (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ was asked about azl, whereupon he said: There is no harm if you do not do that, for it (the birth of the child) is something ordained. Muhammad (one of the narrators) said: (The words) La alaykum (there is no harm) implies its Prohibition.

3550Sahih Muslim

عزل کے حکم کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ فَرَدَّ الْحَدِيثَ حَتَّی رَدَّهُ إِلَی أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ ذُکِرَ الْعَزْلُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَمَا ذَاکُمْ قَالُوا الرَّجُلُ تَکُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ تُرْضِعُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَکْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ وَالرَّجُلُ تَکُونُ لَهُ الْأَمَةُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَکْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ قَالَ فَلَا عَلَيْکُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَاکُمْ فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَحَدَّثْتُ بِهِ الْحَسَنَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَکَأَنَّ هَذَا زَجْرٌ

محمد بن مثنی، معاذ بن معاذ، ابن عون، محمد بن عبدالرحمن بن بشر، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس عزل کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا تمہیں کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ایک آدمی ہے اس کی بیوی دودھ پلاتی ہے وہ اس سے صحبت کرتا ہے اور اس سے حمل کو ناپسند کرتا ہے اور ایک آدمی کی لونڈی وباندی ہے وہ اس سے صحبت کرتا ہے اور ناپسند کرتا ہے کہ اسے اس سے حمل ہوجائے آپ ﷺ نے فرمایا نہیں تم پر لازم ہے کہ تم یہ عمل نہ کرو ابن عون نے کہا یہ حدیث میں نے حسن سے بیان کی تو انہوں نے کہا گویا کہ ڈانٹ ہے۔

Abu Said al-Khudri (RA) reported that mention was made of azl in the presence of Allahs Apostle ﷺ whereupon he said: Why do you practise it? They said: There is a man whose wife has to suckle the child, and if that person has a sexual intercourse with her (she may conceive) which he does not like, and there is another person who has a slave-girl and he has a sexual intercourse with her, but he does not like her to have conception so that she may not become Umm Walad, whereupon he (the Holy Prophet) said: There is no harm if you do not do that, for that (the birth of the child) is something pre-ordained. Ibn Aun said: I made a mention of this hadith to Hasan, and he said: By Allah, (it seems) as if there is upbraiding in it (for azl).

3551Sahih Muslim

عزل کے حکم کے بیان میں

و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ حَدَّثْتُ مُحَمَّدًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ بِحَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ يَعْنِي حَدِيثَ الْعَزْلِ فَقَالَ إِيَّايَ حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ

حجاج بن شاعر، سلیمان بن حرب، حماد بن زید، ابن عون، محمد، ابراہیم، عبدالرحمن بن بشر، حضرت ابن عون ؓ سے روایت ہے کہ میں محمد کو ابراہیم کے واسطہ سے عبدالرحمن بن بشر کی حدیث عزل بیان کی تو انہوں نے کہا یقیناً یہی بیان کی عبدالرحمن بن بشر نے۔

Ibn Aun reported: I reported to Muhammad on the authority of Ibrahim the hadith reported by Abdul Rahmann bin Bishr (the hadith concerning azl), where-upon he said: That (hadith) Abdul Rahman bin Bishr had narrated to me (also).

3552Sahih Muslim

عزل کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ قُلْنَا لِأَبِي سَعِيدٍ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْکُرُ فِي الْعَزْلِ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ إِلَی قَوْلِهِ الْقَدَرُ

محمد بن مثنی، عبدالاعلی، ہشام، محمد بن معبد بن سیرین، ابوسعید، حضرت ابن عون سے روایت ہے کہ ہم نے ابوسعید ؓ سے پوچھا کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو عزل کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں باقی حدیث گزر چکی ہے۔

Mabad bin Sirin said to Abu Said (RA) : Did you hear Allahs Messenger ﷺ making a mention of something in regard to al-azl? Thereupon he said: Yes. The rest (of the hadith is the same)

3553Sahih Muslim

عزل کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ قَزْعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ ذُکِرَ الْعَزْلُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَلِمَ يَفْعَلُ ذَلِکَ أَحَدُکُمْ وَلَمْ يَقُلْ فَلَا يَفْعَلْ ذَلِکَ أَحَدُکُمْ فَإِنَّهُ لَيْسَتْ نَفْسٌ مَخْلُوقَةٌ إِلَّا اللَّهُ خَالِقُهَا

عبیداللہ بن عمر، احمد بن عبدہ، سفیان، عبیداللہ، سفیان بن عیینہ، ابن نجیح، مجاہد، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایک ایسا کیوں کرتا ہے؟ اور یہ نہیں فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایک ایسا نہ کرے کیونکہ کوئی جان ایسی نہیں جو پیدا کی گئی ہو مگر اس کا خالق اللہ ہے۔

Abu Said al-Khudri (RA) reported: Mention was made about al-azl in the presence of Allahs Messenger ﷺ , whereupon he said: Why any one of you practises it? (He did not say: One of you should not do it), for there is no created soul, whose creator is not Allah.

3554Sahih Muslim

عزل کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِي الْوَدَّاکِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ سَمِعَهُ يَقُولُ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ مَا مِنْ کُلِّ الْمَائِ يَکُونُ الْوَلَدُ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ خَلْقَ شَيْئٍ لَمْ يَمْنَعْهُ شَيْئٌ

ہارون بن سعید، عبداللہ بن وہب، معاویہ، ابن صالح، علی بن ابی طلحہ، ابو وداک، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے عزل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا منی (مادہ حیات) کے ہر قطرے سے بچہ نہیں ہوتا اور جب اللہ کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اسے کوئی چیز نہیں روکتی۔

Abu Said al-Khudri (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ was asked about azl, whereupon he said: The child does not come from all the liquid (semen) and when Allah intends to create anything nothing can prevent it (from coming into existence).

3555Sahih Muslim

عزل کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْهَاشِمِيُّ عَنْ أَبِي الْوَدَّاکِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

احمد بن منذر، زید بن حباب، معاویہ، علی بن ابی طلحہ، ابو وداک، حضرت ابوسعید خدری ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے۔

A hadith like this has been transmitted by Abu Said from Allahs Apostle ﷺ .

3556Sahih Muslim

عزل کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لِي جَارِيَةً هِيَ خَادِمُنَا وَسَانِيَتُنَا وَأَنَا أَطُوفُ عَلَيْهَا وَأَنَا أَکْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ فَقَالَ اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا فَلَبِثَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَبِلَتْ فَقَالَ قَدْ أَخْبَرْتُکَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا

احمد بن عبداللہ بن یونس، زہیر، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کیا میری ایک باندی ہے یہ ہماری خادمہ ہے اور ہمارا پانی لاتی ہے اور میں اس سے صحبت کرتا ہوں لیکن میں یہ ناپسند کرتا ہوں کہ وہ حاملہ ہوجائے آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو چاہے تو اس سے عزل کر اس لئے جو اس کی تقدیر میں لکھا ہے وہ آجائے گا وہ آدمی تھوڑے عرصہ کے بعد پھر آیا اور عرض کیا لونڈی کو حمل ہوگیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا میں نے تجھے خبر دیدی تھی کہ جو اس کے مقدر میں لکھا ہے وہ آہی جائے گا۔

Jabir (RA) reported that a man came to Allahs Messenger ﷺ and said: I have a slave-girl who is our servant and she carries water for us and I have intercourse with her, but I do not want her to conceive. He said: Practise azl, if you so like, but what is decreed for her will come to her. The person stayed back (for some time) and then came and said: The girl has become pregnant, whereupon he said: I told you what was decreed for her would come to her.