حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عِيَاضٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي جَارِيَةً لِي وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ ذَلِکَ لَنْ يَمْنَعَ شَيْئًا أَرَادَهُ اللَّهُ قَالَ فَجَائَ الرَّجُلُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْجَارِيَةَ الَّتِي کُنْتُ ذَکَرْتُهَا لَکَ حَمَلَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ
سعید بن عمرو، سفیان، بن عیینہ، سعید بن حسان، عروہ بن عیاض، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا میرے پاس ایک باندی ہے اور میں اس سے عزل کرتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے بارے میں اللہ نے کچھ ارادہ فرمایا اسے کوئی روک نہیں سکتا وہ آدمی پھر آیا اور عرض کیا کہ وہی باندی جس کا میں نے آپ ﷺ سے ذکر کیا تھا حاملہ ہوگئی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ﷺ ہوں۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported that a person asked Allahs Apostle ﷺ saying: I have a slave-girl and I practise azl with her, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: This cannot prevent that which Allah has decreed. The person then came (after some time) and said: Messenger of Allah, the slave-girl about whom I talked to you has conceived, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: I am the servant of Allah and His Messenger.
و حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حَسَّانَ قَاصُّ أَهْلِ مَکَّةَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ عِيَاضِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ النَّوْفَلِيُّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ سُفْيَانَ
حجاج بن شاعر، ابواحمد، سعید بن حسان، عروہ بن عیاض بن عدی، ابن خیار، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا باقی حدیث مبارکہ سفیان کی حدیث کی طرح ہے۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported: A person came to Allahs Apostle ﷺ (the rest of the hadith is the same).
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ کُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ زَادَ إِسْحَقُ قَالَ سُفْيَانُ لَوْ کَانَ شَيْئًا يُنْهَی عَنْهُ لَنَهَانَا عَنْهُ الْقُرْآنُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق، ابوبکر، سفیان، عمرو، عطاء، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ہم زمانہ نزول قرآن میں عزل کرتے تھے اسحاق نے یہ اضافہ کیا ہے سفیان نے کہا اگر یہ کوئی ایسی چیز ہوتی جس سے منع کیا جانا ہوتا تو قرآن ہمیں اس سے روک دیتا۔
Jabir (RA) reported: We used to practise azl while the Quran was revealed (during the days when the Holy Prophet ﷺ was alive).
و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ عَطَائٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُا لَقَدْ کُنَّا نَعْزِلُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل، عطاء، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ہم زمانہ رسول اللہ ﷺ میں عزل کرتے تھے۔
Jabir (RA) reported: We used to practise azl during the life of Allahs Messenger ﷺ .
و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ کُنَّا نَعْزِلُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَلَغَ ذَلِکَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَنْهَنَاعنه
ابوغسان معاذ، ابن ہشام، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں عزل کرتے تھے اور اللہ کے نبی ﷺ کو یہ بات پہنچی اور آپ ﷺ نے ہمیں اس سے منع نہیں فرمایا۔
Jabir (RA) reported: We used to practise azl during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ . This (the news of this practise) reached Allahs Apostle ﷺ , and he did not forbid us.
قیدی حاملہ عورت سے وطی کرنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَتَی بِامْرَأَةٍ مُجِحٍّ عَلَی بَابِ فُسْطَاطٍ فَقَالَ لَعَلَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُلِمَّ بِهَا فَقَالُوا نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنًا يَدْخُلُ مَعَهُ قَبْرَهُ کَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ کَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، یزید بن خمیر، عبدالرحمن بن جبیر، حضرت ابودرداء ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک عورت خیمہ کے دروازے پر لائی گئی جبکہ اس کا زمانہ ولادت بالکل قریب تھا آپ ﷺ نے فرمایا شاید وہ آدمی اس سے صحبت کرنا چاہتا ہے صحابہ نے عرض کیا جی ہاں! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں جو قبر میں بھی اس کے ساتھ ہی داخل ہو وہ کیسے اس بچہ کا وارث بن سکتا ہے حالانکہ اس کے لئے یہ حلال ہی نہیں ہے اور وہ کیسے اس بچہ کو اپنا خادم بنا سکتا ہے حالانکہ اس کے لئے حلال نہیں۔
Abu Darda (RA) related from the Prophet ﷺ of Allah ﷺ that he came upon a woman who was in the advanced stage of pregnancy at the door of a tent. He (the Holy Prophet) said: Perhaps he (the man accompanying her) intends to cohabit with her. They said: Yes. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: I was about to curse him with such a curse as may go along with him to his grave. How can he own him (the child to be born) and that is not lawful for him, and how can he take him as a servant for that is not lawful for him?
قیدی حاملہ عورت سے وطی کرنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، محمد بن بشار، ابوداؤد، شعبہنی اس حدیث مبارکہ کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
A hadith like this has been transmitted on the authority of Shubah.
غیلہ یعنی دودھ پلانے والی عورت سے وطی کے جواز اور عزل کی کراہت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَی عَنْ الْغِيلَةِ حَتَّی ذَکَرْتُ أَنَّ الرُّومَ وَفَارِسَ يَصْنَعُونَ ذَلِکَ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ قَالَ مُسْلِم وَأَمَّا خَلَفٌ فَقَالَ عَنْ جُذَامَةَ الْأَسَدِيَّةِ وَالصَّحِيحُ مَا قَالَهُ يَحْيَی بِالدَّالِ غيرمنقوطة
خلف بن ہشام، مالک بن انس، یحییٰ بن یحیی، مالک، محمد بن یحیی، محمد بن عبدالرحمن بن نوفل، عروہ، حضرت جدامہ بنت وہب اسدیہ ؓ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ میں نے غیلہ سے منع کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا تھا یہاں تک کہ مجھے یاد آیا کہ اہل روم وفارس ایسا کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں ہوتا اور خلف نے جذامہ اسدیہ سے روایت کی یعنی نام کا اختلاف ہے لیکن امام مسلم فرماتے ہیں صحیح وہ ہے جو یحییٰ نے کہا ہے ذال کے ساتھ نہ کہ دال غیر منقوطہ کے ساتھ۔
Judaima daughter of Wahb al-Asadiyya (Allah be pleased with her) reported that she heard Allahs Messenger ﷺ assaying: I intended to prohibit cohabitation with a suckling woman until I considered that the Romans and the Persians do it without any injury being caused to their children thereby. (Imam Muslim said: Khalaf reported it from Judamat al-Asadiyya, but the correct wording is what has been stated by Yahya.)
غیلہ یعنی دودھ پلانے والی عورت سے وطی کے جواز اور عزل کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ أُخْتِ عُکَّاشَةَ قَالَتْ حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ وَهُوَ يَقُولُ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَی عَنْ الْغِيلَةِ فَنَظَرْتُ فِي الرُّومِ وَفَارِسَ فَإِذَا هُمْ يُغِيلُونَ أَوْلَادَهُمْ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ ذَلِکَ شَيْئًا ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِکَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ عَنْ الْمُقْرِئِ وَهِيَ وَإِذَا الْمَوْئُودَةُ سُئِلَتْ
عبیداللہ بن سعید، محمد بن ابی عمر، سعید بن ابی ایوب، ابواسود، عروہ، حضرت جدامہ بنت وہب اخت عکاشہ ؓ کی بہن سے روایت ہے کہ لوگوں کی موجودگی میں میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ ﷺ فرما رہے تھے میں نے غیلہ سے منع کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا تھا پس میں نے اہل روم وفارس میں دیکھا کہ ان کی اولادیں غیلہ کرتی ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ پوشیدہ طور پر زندہ درگور کرنا ہے عبیداللہ نے اپنی حدیث میں مقری سے (وَإِذَا الْمَوْؤُدَةُ سُئِلَتْ ) اضافہ ذکر کیا ہے۔
Judama daughter of Wahb, sister of Ukkasha (Allah be pleased with her) reported: I went to Allahs Messenger ﷺ along with some persons and he was saying: I intended to prohibit cohabitation with the suckling women, but I considered the Greeks and Persians, and saw that they suckle their children and this thing (cohabitation) does not do any harm to them (to the suckling women). Then they asked him about azl, whereupon he said. That is the secret (way of) burying alive, and Ubaidullah has made this addition in the hadith transmitted by al-Muqri and that is: "When the one buried alive is asked."
غیلہ یعنی دودھ پلانے والی عورت سے وطی کے جواز اور عزل کی کراہت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْقُرَشِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ فِي الْعَزْلِ وَالْغِيلَةِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ الْغِيَالِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن اسحاق، یحییٰ بن ایوب، محمد بن عبدالرحمن بن نوفل، عروہ، حضرت جدامہ بنت وہب اسدیہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا باقی حدیث سعید بن ابوایوب کی عزل اور غیلہ کے بارے میں حدیث کی طرح ذکر کی اس میں غیلہ کی بجائے غیال کا لفظ ہے۔
Judama bint Wahb al-Asadiyya (Allah be pleased with her) reported: I heard Allahs Messenger ﷺ saying this. The rest of the hadith is the same concerning azl and ghila (cohabitating with a suckling woman), but with a slight variation of words.
غیلہ یعنی دودھ پلانے والی عورت سے وطی کے جواز اور عزل کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمَقْبُرِيُّ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَ وَالِدَهُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ رَجُلًا جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أَعْزِلُ عَنْ امْرَأَتِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَ تَفْعَلُ ذَلِکَ فَقَالَ الرَّجُلُ أُشْفِقُ عَلَی وَلَدِهَا أَوْ عَلَی أَوْلَادِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ کَانَ ذَلِکَ ضَارًّا ضَرَّ فَارِسَ وَالرُّومَ و قَالَ زُهَيْرٌ فِي رِوَايَتِهِ إِنْ کَانَ لِذَلِکَ فَلَا مَا ضَارَ ذَلِکَ فَارِسَ وَلَا الرُّومَ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، زہیر بن حرب، ابن نمیر، عبداللہ بن یزید حیوہ، عیاش بن عباس، حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کیا کہ میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ اس آدمی نے عرض کیا اس عورت کے بچے یا اولاد پر شفقت و مہربانی کرتے ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر یہ نقصان وہ ہوتا تو فارس و روم والوں کو نقصان ہوتا زہیر نے اپنی روایت میں کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو اہل روم وفارس کو تکلیف دہ اور ضرر رساں ثابت ہوتا۔
Sad bin Abu Waqqas (RA) reported that a person came to Allahs Messenger ﷺ and said: I do azl with my wife. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Why do you do that? The person said: I fear harm to her child or her children. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: If that were harmful it would harm the Persians and the Greeks.