سجدوں کے اعضا کے بیان اور بالوں اور کپڑوں کے موڑنے اور نماز میں جوڑا باندھنے سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَی سَبْعٍ وَلَا أَکْفِتَ الشَّعْرَ وَلَا الثِّيَابَ الْجَبْهَةِ وَالْأَنْفِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّکْبَتَيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ
ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، ابن جریج، عبداللہ بن طاؤس، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے سات اعضا پر سجدہ کا حکم دیا گیا ہے اور یہ کہ بالوں اور کپڑوں کو نہ سنواروں (سات اعضاء جن کا ذکر کیا وہ یہ ہیں) پیشانی، ناک، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں۔
Ibn Abbas (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: I was commanded to prostrate myself on the seven (bones) and forbidden to fold back hair and clothing. (The seven bones are): forehead, nose, hands, knees and feet.
سجدوں کے اعضا کے بیان اور بالوں اور کپڑوں کے موڑنے اور نماز میں جوڑا باندھنے سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بَکْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ أَطْرَافٍ وَجْهُهُ وَکَفَّاهُ وَرُکْبَتَاهُ وَقَدَمَاهُ
قتیبہ بن سعید، بکر ابن مضر، ابن ہاد، محمد بن ابراہیم، عامر بن سعد، حضرت عباس بن عبد المطلب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جب کوئی بندہ سجدہ کرے تو وہ اپنے سات اعضاء کے ساتھ سجدہ کرے اور اپنی پیشانی اور دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے اور اپنے دونوں قدموں کے ساتھ سجدہ کرے۔
Ibn Abbas (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: I was commanded to prostrate myself on the seven (bones) and forbidden to fold back hair and clothing. (The seven bones are): forehead, nose, hands, knees and feet.00000
سجدوں کے اعضا کے بیان اور بالوں اور کپڑوں کے موڑنے اور نماز میں جوڑا باندھنے سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُکَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ کُرَيْبًا مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ رَأَی عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَامَ فَجَعَلَ يَحُلُّهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ مَا لَکَ وَرَأْسِي فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَکْتُوفٌ
عمرو بن سواد عامری عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکیر، حضرت کریب ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے عبداللہ بن حارث کو سر کے پیچھے جوڑا باندھے نماز پڑھتے دیکھا تو وہ ان کو کھولنے کھڑے ہوگئے جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ابن عباس ؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا تم نے میرا سر کیوں چھیڑا تو ابن عباس ؓ نے فرمایا اس لئے کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اس طرح جوڑا باندھ کر نماز پڑھنے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مشکیں باندھے نماز ادا کر رہا ہو۔
Abdullah bin Abbas (RA) reported that he saw Abdullah bin al-Harith observing the prayer and (his hair) was plaited behind his head. He (Abdullah bin Abbas) stood up and unfolded them. While going back (from the prayer) he met Ibn Abbas and said to him: Why is it that you touched my head? He (Ibn Abbas) replied: (The man who observes prayer with plaited hair) is like one who prays with his hands tied behind.
سجود میں میانہ روی اور سجدہ میں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھنے اور کہنیوں کو پہلوؤں سے اوپر رکھنے اور پیٹ کو رانوں سے اوپر رکھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُکُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْکَلْبِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، شعبہ، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سجود میں میانہ روی اختیار کرو اور تم میں سے کوئی اپنی کلائیوں کو کتے کی طرح نہ بچھائے۔
Anas reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Observe moderation in prostration, and let none of you stretch out his forearms (on the ground) like a dog.
سجود میں میانہ روی اور سجدہ میں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھنے اور کہنیوں کو پہلوؤں سے اوپر رکھنے اور پیٹ کو رانوں سے اوپر رکھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ح و حَدَّثَنِيهِ يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ وَلَا يَتَبَسَّطْ أَحَدُکُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْکَلْبِ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، یحییٰ بن حبیب، ابن حارث، شعبہ، ابن جعفر سے روایت ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی کلائیوں کو کتے کی طرح نہ بچھائے۔
This hadith has been narrated by Shubah with the same chain of transmitters. And in the hadith transmitted by Ibn Jafar (the words are):" None of you should stretch out his forearms like the stretching out of a dog."
سجود میں میانہ روی اور سجدہ میں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھنے اور کہنیوں کو پہلوؤں سے اوپر رکھنے اور پیٹ کو رانوں سے اوپر رکھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ عَنْ إِيَادٍ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدْتَ فَضَعْ کَفَّيْکَ وَارْفَعْ مِرْفَقَيْکَ
یحییٰ بن یحیی، عبیداللہ بن ایاد بن لقیط، حضرت براء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تو سجدہ کرے تو اپنی ہتھیلیاں زمین پر رکھ اور کہنیوں کو اٹھالے۔
Al-Bira (b. Azib) reported: The Messenger of Allah ﷺ said. When you prostrate yourself, place the palms of your hands on the ground and raise your elbows.
سجود میں میانہ روی اور سجدہ میں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھنے اور کہنیوں کو پہلوؤں سے اوپر رکھنے اور پیٹ کو رانوں سے اوپر رکھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بَکْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِکٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا صَلَّی فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّی يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ
قتیبہ بن سعید، بکر ابن مضر، جعفر بن ربیعہ، اعرج، حضرت عبداللہ بن مالک بن بحینہ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے تو اپنے ہاتھوں کو اس قدر کشادہ رکھتے کہ آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہوجاتی۔
Abdullah bin Malik ibn Bujainah reported: When the Prophet ﷺ prostrated, he spread out his arms so that the whiteness of his armpits was visible.
سجود میں میانہ روی اور سجدہ میں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھنے اور کہنیوں کو پہلوؤں سے اوپر رکھنے اور پیٹ کو رانوں سے اوپر رکھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ کِلَاهُمَا عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ يُجَنِّحُ فِي سُجُودِهِ حَتَّی يُرَی وَضَحُ إِبْطَيْهِ وَفِي رِوَايَةِ اللَّيْثِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا سَجَدَ فَرَّجَ يَدَيْهِ عَنْ إِبْطَيْهِ حَتَّی إِنِّي لَأَرَی بَيَاضَ إِبْطَيْهِ
عمرو بن سواد، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، لیث بن سعد، جعفربن ربیعہ، حضرت عمرو بن حارث ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سجدہ کرتے تھے تو دونوں ہاتھوں کو اس طرح رکھتے کہ آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی جاتی اور لیث کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کو بغلوں سے جدا کرلیتے یہاں تک کہ میں آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی کو دیکھ لیتا۔
This hadith has been narrated by Jafar bin Rabi with the same chain of transmitters. And in the narration transmitted by Amr bin al-Harith (the words are): "When the Messenger of Allah ﷺ prostrated, he spread out his arms so that the whiteness of his armpits was visible." And in the narration transmitted by al-Laith (the words are: "When the Messenger of Allah ﷺ prostrated, he spread his hands from the armpits so that I saw their whiteness."
سجود میں میانہ روی اور سجدہ میں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھنے اور کہنیوں کو پہلوؤں سے اوپر رکھنے اور پیٹ کو رانوں سے اوپر رکھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ لَوْ شَائَتْ بَهْمَةٌ أَنْ تَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ لَمَرَّتْ
یحییٰ بن یحیی، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، عبیداللہ بن عبداللہ بن اصم، یزید بن اصم، حضرت ام المومنین میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب سجدہ کرتے تو اگر بکری کا بچہ آپ ﷺ کے ہاتھوں کے درمیان سے گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔
Maimuna reported: When the Apostle of Allah ﷺ prostrated himself, if a lamb wanted to pass between his arms, it could pass.
سجود میں میانہ روی اور سجدہ میں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھنے اور کہنیوں کو پہلوؤں سے اوپر رکھنے اور پیٹ کو رانوں سے اوپر رکھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ خَوَّی بِيَدَيْهِ يَعْنِي جَنَّحَ حَتَّی يُرَی وَضَحُ إِبْطَيْهِ مِنْ وَرَائِهِ وَإِذَا قَعَدَ اطْمَأَنَّ عَلَی فَخِذِهِ الْيُسْرَی
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، مروان بن معاویہ، عبیداللہ بن عبداللہ بن اصم، یزید بن اصم، حضرت ام المومنین میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ سجدہ فرماتے تو اپنے ہاتھوں کو اتنا جدا رکھتے کہ آپ ﷺ کے پیچھے سے آپ ﷺ کے بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی اور جب آپ ﷺ بیٹھتے تو بائیں ران پر مطمئن ہوتے۔
Maimuna, the wife of the Apostle of Allah ﷺ , reported: When the Messenger of Allah ﷺ prostrated himself, he spread his arms, i. e. he separated them so much that the whiteness of his armpits became visible from behind and when he sat (for Jalsa) he rested on his left thigh.
سجود میں میانہ روی اور سجدہ میں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھنے اور کہنیوں کو پہلوؤں سے اوپر رکھنے اور پیٹ کو رانوں سے اوپر رکھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ جَافَی حَتَّی يَرَی مَنْ خَلْفَهُ وَضَحَ إِبْطَيْهِ قَالَ وَکِيعٌ يَعْنِي بَيَاضَهُمَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، عمرو، اسحاق، وکیع، جعفر بن برقان، یزید بن اصم، میمونہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ سجدہ کرتے تو ہاتھوں کو جدا رکھتے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پیچھے سے آپ ﷺ کے بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی۔
Maimuna daughter of Harith reported: When the Messenger of Allah ﷺ prostrated, he kept his hands so much apart from each other that when it was seen from behind the armpits became visible. Waki said: That is their whiteness.
طریقہ نماز کی جامعیت اس کا افتتاح واختتام رکوع وسجود کو اعتدال کے ساتھ ادا کرنے کا طریقہ چار رکعات والی نماز میں سے ہر دو رکعتوں کے بعد تشہد اور دونوں سجدوں اور پہلے قعدے میں بیٹھنے کے طریقہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ قَالَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ أَبِي الْجَوْزَائِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّکْبِيرِ وَالْقِرَائَةَ بِ الْحَمْد لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَکَانَ إِذَا رَکَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ وَلَکِنْ بَيْنَ ذَلِکَ وَکَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّی يَسْتَوِيَ قَائِمًا وَکَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السَّجْدَةِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّی يَسْتَوِيَ جَالِسًا وَکَانَ يَقُولُ فِي کُلِّ رَکْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ وَکَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَی وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَی وَکَانَ يَنْهَی عَنْ عُقْبَةِ الشَّيْطَانِ وَيَنْهَی أَنْ يَفْتَرِشَ الرَّجُلُ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ وَکَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ عَنْ أَبِي خَالِدٍ وَکَانَ يَنْهَی عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوخالد احمر، حسین، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، حسین، بدیل بن میسرہ، ابوجوزاء، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کی ابتداء تکبیر تحریمہ اور اَلْحَمْد لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کی قرأت سے کرتے تھے اور جب رکوع کرتے تو سر کو اونچا رکھتے نہ نیچا بلکہ برابر سیدھا رکھتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے جب تک سیدھے کھڑے نہ ہوجاتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے جب تک سیدھے نہ بیٹھ جاتے اور ہر دو رکعتوں میں التحیات پڑھتے اور بائیں پاؤں کو بچھاتے اور اپنے دائیں پاؤں کو کھڑا کرتے اور شیطان کی طرح بیٹھنے سے منع فرماتے اور درندوں کی طرح آدمی اپنے دونوں ہاتھ زمین پر بچھا دے اس سے بھی منع فرماتے اور آپ ﷺ سلام کے ساتھ نماز ختم کرتے اور آپ ﷺ عقبہ شیطان سے یعنی دونوں پاؤں کھڑے کر کے ایڑیوں پر بیٹھنے سے منع فرماتے تھے۔
Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ used to begin prayer with takbir (saying Allih-o-Akbar) and the recitation: "Praise be to Allah, the Lord of the Universe." When he bowed he neither kept his head up nor bent it down, but kept it between these extremes; when he raised his head after bowing he did not prostrate himself till he had stood erect; when he raised his head after prostration he did not prostrate himself again till he sat up. At the end of every two rakahs he recited the tahiyya; and he used to place his left foot flat (on the ground) and raise up the right; he prohibited the devils way of sitting on the heels, and he forbade people to spread out their arms like a wild beast. And he used to finish the prayer with the taslim.
نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَضَعَ أَحَدُکُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلَ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ فَلْيُصَلِّ وَلَا يُبَالِ مَنْ مَرَّ وَرَائَ ذَلِکَ
یحییٰ بن یحیی، قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواحوص، سماک، موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی جیسی کوئی چیز رکھ کر نماز ادا کرے تو پھر اس کے آگے سے گزرنے والے کی کوئی پرواہ نہ کرے۔
Musa bin Talha reported it on the authority of his father: The Messenger of Allah ﷺ said: When one of you places in front of him something such as the back of a saddle, he should pray without caring who passes on the other side of it.
نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا فَذَکَرْنَا ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ تَکُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِکُمْ ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ و قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فَلَا يَضُرُّهُ مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق، ابن نمیر، عمر بن عبید، سماک بن حرب، موسیٰ بن طلحہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم نماز ادا کرتے اور جانور ہمارے آگے سے گزرتے ہم نے اس بات کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کجاوے کی پچھلی لکڑی کی مانند کوئی چیز اگر تمہارے آگے ہو تو جو بھی تمہارے سامنے سے گزرے تمہیں کوئی نقصان نہیں دے گا۔
Musa bin Talha reported on the authority of his father: We used to say prayer and the animals moved in front of us. We mentioned it to the Messenger of Allah ﷺ and he said: If anything equal to the back of a saddle is in front of you, then what walks in front, no harm would come to him. Ibn Numair said: No harm would come whosoever walks in front.
نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي فَقَالَ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ
زہیر بن حرب، عبداللہ بن یزید، سعید بن ابی ایوب، ابواسود، عروہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے نمازی کے سترہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کجاوے کی پچھلی لکڑی کی طرح ہو۔
Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ was asked about sutra of a worshipper; he said: Equal to the back of the saddle.
نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ فِي غَزْوَةِ تَبُوکَ عَنْ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي فَقَالَ کَمُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبداللہ بن یزید، حیوہ، ابی اسود، محمد بن عبدالرحمن، عروہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ سے نمازی کے سترہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کجاوے کی پچھلی لکڑی کے برابر ہو۔
Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ was asked in the expedition of Tabuk about the sutra the worshipper; he said: Like the back of the saddle.
نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ أَمَرَ بِالْحَرْبَةِ فَتُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ وَرَائَهُ وَکَانَ يَفْعَلُ ذَلِکَ فِي السَّفَرِ فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الْأُمَرَائُ
محمد بن مثنی، عبداللہ بن نمیر، ابن نمیر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ جب عید کے دن نماز کے لئے جاتے تو نیزہ کا حکم دیتے جو آپ ﷺ کے سامنے گاڑ دیا جاتا پھر اس کی آڑ میں نماز پڑھاتے اور لوگ آپ ﷺ کے پیچھے ہوتے اور آپ ﷺ سفر میں بھی ایسے ہی فرماتے پھر اسی کو امراء و حکام نے بھی مقرر کرلیا۔
Ibn Umar (RA) reported: When the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) went out on the Id day, he ordered to carry a spear-and it was fixed in front of him, and he said prayer towards its (direction), and the people were behind him. And he did it in the journey, and that is the reason why the Amirs carried it.
نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَرْکُزُ وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ يَغْرِزُ الْعَنَزَةَ وَيُصَلِّي إِلَيْهَا زَادَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ وَهِيَ الْحَرْبَةُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، محمد بن بشر، عبیداللہ بن نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ برچھی گاڑتے اور اس کی آڑ میں نماز ادا کرتے۔
Ibn Umar (RA) reported: The Apostle of Allah ﷺ set up (sutra), and Abu Bakr (RA) said: He implanted iron-tipped spear and said prayer towards its direction. Ibn Abu Shaiba made this addition to it: "Ubaidullah said that it was a spear."
نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَعْرِضُ رَاحِلَتَهُ وَهُوَ يُصَلِّي إِلَيْهَا
احمد بن حنبل، معتمر بن سلیمان، عبیداللہ بن نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی اونٹنی کی آڑ میں نماز ادا کرتے۔
Ibn Umar said: The Apostle of Allah ﷺ used to place his camel (towards the Ka’bah) and said prayer in its direction.
نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي إِلَی رَاحِلَتِهِ و قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی إِلَی بَعِيرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابوخالد احمر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی اونٹنی کی آڑ میں نماز ادا کرتے ابن نمیر کی روایت میں اونٹ کا ذکر ہے۔
Ibn Umar reported: The Apostle of Allah ﷺ used to say prayer towards his camel. Ibn Numair said: The Apostle of Allah ﷺ said prayer towards the camel.