نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَکَّةَ وَهُوَ بِالْأَبْطَحِ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَائَ مِنْ أَدَمٍ قَالَ فَخَرَجَ بِلَالٌ بِوَضُوئِهِ فَمِنْ نَائِلٍ وَنَاضِحٍ قَالَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَائُ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی بَيَاضِ سَاقَيْهِ قَالَ فَتَوَضَّأَ وَأَذَّنَ بِلَالٌ قَالَ فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُ فَاهُ هَا هُنَا وَهَا هُنَا يَقُولُ يَمِينًا وَشِمَالًا يَقُولُ حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ قَالَ ثُمَّ رُکِزَتْ لَهُ عَنَزَةٌ فَتَقَدَّمَ فَصَلَّی الظُّهْرَ رَکْعَتَيْنِ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْحِمَارُ وَالْکَلْبُ لَا يُمْنَعُ ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ حَتَّی رَجَعَ إِلَی الْمَدِينَةِ
ابوبکر بن شیبہ، زہیربن حرب، وکیع، زہیر، سفیان، عون بن جحیفہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں مکہ میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ مقام ابطح میں سرخ چمڑے کے ایک قبہ میں تشریف فرما تھے حضرت بلال ؓ آپ ﷺ کے لئے وضو کا پانی لے کر نکلے پس بعض لوگوں کو تو آپ ﷺ کا بچا ہو پانی پہنچا اور بعض نے اس کو چھڑک لیا فرماتے ہیں پھر نبی کریم ﷺ سرخ جبہ پہنے ہوئے نکلے گویا کہ میں اس وقت آپ ﷺ کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور بلال نے اذان دی اور میں نے ان کے منہ کی طرف دیکھنا شروع کیا وہ اپنے چہرہ کو دائیں بائیں پھیر رہے تھے اور حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ ) کہہ رہے تھے پھر آپ ﷺ کے لئے ایک برچھا گاڑا گیا آپ ﷺ آگے تشریف لے گئے اور ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں آپ ﷺ کے آگے سے کتے اور گدھے گزرتے رہے لیکن ان کو نہ روکا گیا پھر آپ نے عصر کی دو رکعتیں پڑھائی پھر آپ ﷺ دو رکعتیں ہی ادا کرتے رہے یہاں تک کہ مدینہ واپس آگئے۔
Abu Juhaifa reported it on the authority of his father: I came to the Apostle of Allah ﷺ in Makkah and he was (at that time) at al- Abtah in a red leather tent. And Bilal (RA) stepped out with ablution water for him. (And what was left out of that water) some of them got it (whereas others could not get it) and (those who got it) rubbed themselves with it. Then the Apostle of Allah ﷺ stepped out with a red mantle on him and I was catching a glimpse of the whiteness of his shanks. The narrator said: He (the Holy Prophet) performed the ablution. and Bilal (RA) pronounced Adhan and I followed his mouth (as he turned) this side and that as he said on the right and the left: "Come to prayer, come to success." A spear was then fixed for him (on the ground). He stepped forward and said two rakahs of Zuhr, while there passed in front of him a donkey and a dog, and these were not checked. He then said two rakahs of the Asr prayer, and he then continued saying two rakahs till he came back to Madinah.
نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ أَنَّ أَبَاهُ رَأَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَائَ مِنْ أَدَمٍ وَرَأَيْتُ بِلَالًا أَخْرَجَ وَضُوئًا فَرَأَيْتُ النَّاسَ يَبْتَدِرُونَ ذَلِکَ الْوَضُوئَ فَمَنْ أَصَابَ مِنْهُ شَيْئًا تَمَسَّحَ بِهِ وَمَنْ لَمْ يُصِبْ مِنْهُ أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهِ ثُمَّ رَأَيْتُ بِلَالًا أَخْرَجَ عَنَزَةً فَرَکَزَهَا وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَائَ مُشَمِّرًا فَصَلَّی إِلَی الْعَنَزَةِ بِالنَّاسِ رَکْعَتَيْنِ وَرَأَيْتُ النَّاسَ وَالدَّوَابَّ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْ الْعَنَزَةِ
محمد بن حاتم، بہز، عمر بن ابی زائدہ، حضرت عون بن ابوجحفیہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے رسول اللہ ﷺ کو چمڑے کے سرخ قبہ میں دیکھا کہتے ہیں میں نے بلال کو دیکھا وہ آپ ﷺ کا بچا ہوا پانی لے کر نکلے میں نے لوگوں کو دیکھا کہ اس پانی کی طرف جلدی کرنے لگے جس کو اس میں کچھ نہ ملا اس نے اپنے ساتھی کے ہاتھ کی تری لے لی پھر میں نے بلال ؓ کو دیکھا کہ اس نے ایک نیزہ نکالا اور اس کو گاڑ دیا اور رسول اللہ ﷺ اپنے سرخ جبہ کو سمیٹتے ہوئے نکلے تو آپ ﷺ نے لوگوں کو اس نیزہ کی آڑ میں نماز پڑھائی اور میں نے لوگ اور جانور دیکھے جو اس نیزہ کے آگے سے گزر رہے تھے۔
Abu Juhaifa reported on the authority of his father: I saw the Messenger of Allah ﷺ (in Makkah at al-Abtah) in a red leather tent. and I saw Bilal (RA) take the ablution water (left by Allahs Messenger), and I saw the people racing, with one another to get that ablution water. If anyone got some of it, he rubbed himself with it, and anyone who did not get any got some of the moisture from his companions hand. I then saw Bilal (RA) take a staff and fix it in the ground, after which the Messenger of Allah ﷺ came out quickly in a red mantle and led the people in two rakahs facing the staff, and I saw people and animals passing in front of the staff.
نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں
حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ قَالَ ح و حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ سُفْيَانَ وَعُمَرَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَی بَعْضٍ وَفِي حَدِيثِ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ فَلَمَّا کَانَ بِالْهَاجِرَةِ خَرَجَ بِلَالٌ فَنَادَی بِالصَّلَاةِ
اسحاق بن منصور، عبد بن حمید، جعفر بن عون، ابوعمیس، قاسم بن زکریا، حسین بن علی، زائدہ، مالک بن مغول، حضرت ابوجحیفہ ؓ سے یہی حدیث اس سند کے ساتھ ذکر کی ہے لیکن اس میں یہ اضافہ ہے کہ جب دوپہر کا وقت ہوا تو حضرت بلال ؓ نکلے اور نماز کے لئے اذان دی باقی حدیث اوپر والی حدیث کی طرح ہے۔
Aun bin Abu Juhaifa narrated from the Apostle of Allah ﷺ on the authority of his father a hadith like that of Sufyan, and Umar bin Abu Zaida made this addition: Some of them tried to excel the others (in obtaining water), and in the hadith transmitted by Malik bin Mighwal (the words are): When it was noon, Bilal (RA) came out and summoned (people) to (noon) prayer.
نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ إِلَی الْبَطْحَائِ فَتَوَضَّأَ فَصَلَّی الظُّهْرَ رَکْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَکْعَتَيْنِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ قَالَ شُعْبَةُ وَزَادَ فِيهِ عَوْنٌ عَنْ أَبِيهِ أَبِي جُحَيْفَةَ وَکَانَ يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، حکم، حضرت ابوجحیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دوپہر کے وقت بطحاء کی طرف نکلے آپ ﷺ نے وضو کیا اور ظہر کی نماز دو رکعتیں ادا کیں اور عصر کی دو رکعتیں ادا کیں اور آپ ﷺ کے سامنے نیزہ تھا جس کے پار سے عورتیں اور گدھے گزر رہے تھے۔
Abu Juhaifa reported: The Messenger of Allah ﷺ went at noon towards al-Batha, he performed ablution, and said two rakahs of the Zuhr prayer and two of the Asr prayer, and there was a spear in front of him. Shubah said and Aun made this addition to it on the authority of his father Abu Juhaifa: And the woman and the donkey passed behind it.
نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا مِثْلَهُ وَزَادَ فِي حَدِيثِ الْحَکَمِ فَجَعَلَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ
زہیر بن حرب، محمد بن حاتم، ابن مہدی، شعبہ، اس سند سے بھی یہی حدیث روایت کی گئی ہے اس میں یہ ہے کہ لوگ آپ ﷺ کے بچے ہوئے پانی سے لینا شروع ہوگئے۔
Shubah narrated the same on the basis of two authorities and in the hadith transmitted by Hakam (the words are): The people began to get water that was left out of his (the Prophets) ablution.
نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقْبَلْتُ رَاکِبًا عَلَی أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًی فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْکِرْ ذَلِکَ عَلَيَّ أَحَدٌ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں گدھی پر سوار ہو کر حاضر ہوا اور ان دنوں میں بلوغت کے قریب تھا اور رسول اللہ ﷺ منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے میں صف کے آگے سے گزر کر اترا اور گدھی کو چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور میں خود صف میں شریک ہوگیا اور اس بات پر مجھے کسی نے اعتراض نہیں کیا۔
Ibn Abbas reported: I came riding on a she-ass, and I was on the threshold of maturity, and the Messenger of Allah ﷺ was leading people in prayer at Mina. I passed in front of the row and got down, and sent the she-ass for grazing and joined the row, and nobody made any objection to it.
نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَقْبَلَ يَسِيرُ عَلَی حِمَارٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي بِمِنًی فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَ فَسَارَ الْحِمَارُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ ثُمَّ نَزَلَ عَنْهُ فَصَفَّ مَعَ النَّاسِ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں گدھے پر سوار ہو کر حاضر ہوا اور رسول اللہ ﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے گدھا بعض صفوں سے گزر گیا تو وہ اس سے اترے اور لوگوں کے ساتھ صف میں شامل ہوگئے۔
Abdullah bin Abbas (RA) reported that he came riding on a donkey, and the Messenger of Allah ﷺ was leading the people in prayer at Mina on the occasion of the Farewell Pilgrimage and (the narrator) reported: The donkey passed in front of the row and then he got down from it and joined the row along with the people.
نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِعَرَفَةَ
یحییٰ بن یحیی، عمرو ناقد، اسحاق بن ابراہیم، ابن عیینہ، زہری یہی حدیث اس سند کے ساتھ بھی روایت کی گئی ہے لیکن اس میں ہے کہ نبی کریم ﷺ میدان عرفات میں نماز پڑھا رہے تھے۔
This hadith has been narrated by Ibn Uyaina on the authority of al-Zuhri with the same chain of transmitters and he reported: The Apostle of Allah ﷺ was leading prayer at Arafa.
نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِيهِ مِنًی وَلَا عَرَفَةَ وَقَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَوْ يَوْمَ الْفَتْحِ
اسحاق بن ابراہیم، ابن عیینہ، زہری اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں نہ منیٰ کا ذکر ہے نہ عرفہ کا بلکہ فتح مکہ یا حجہ الوداع کا ذکر ہے۔
This hadith has been reported by Mamar on the authority of al-Zuhri with the came chain of transmitters, but here no mention has been made of Mina or Arafa, and he said: It was in the Farewell Pilgrimage or on the Day of Victory.
نمازی کے آگے سے گزرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنْ أَبَی فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ
یحییٰ بن یحیی، مالک، زید بن اسلم، عبدالرحمن بن ابی سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے سے کسی کو نہ گزرنے دے اور اس کو ہٹائے جہاں تک طاقت ہو اور اگر وہ انکار کرے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے۔ (لیکن یہ حکم منسوخ ہے)
Abu Said al-Khudri reported that the Messenger of Allah ﷺ said: When any one of you prays he should not let anyone pass in front of him (if there is no sutra), and should try to turn him away as far as possible, but if he refuses to go, he should turn him away forcibly for he is a devil.
نمازی کے آگے سے گزرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ابْنُ هِلَالٍ يَعْنِي حُمَيْدًا قَالَ بَيْنَمَا أَنَا وَصَاحِبٌ لِي نَتَذَاکَرُ حَدِيثًا إِذْ قَالَ أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ أَنَا أُحَدِّثُکَ مَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ وَرَأَيْتُ مِنْهُ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَبِي سَعِيدٍ يُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَی شَيْئٍ يَسْتُرُهُ مِنْ النَّاسِ إِذْ جَائَ رَجُلٌ شَابٌّ مِنْ بَنِي أَبِي مُعَيْطٍ أَرَادَ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَدَفَعَ فِي نَحْرِهِ فَنَظَرَ فَلَمْ يَجِدْ مَسَاغًا إِلَّا بَيْنَ يَدَيْ أَبِي سَعِيدٍ فَعَادَ فَدَفَعَ فِي نَحْرِهِ أَشَدَّ مِنْ الدَّفْعَةِ الْأُولَی فَمَثَلَ قَائِمًا فَنَالَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ ثُمَّ زَاحَمَ النَّاسَ فَخَرَجَ فَدَخَلَ عَلَی مَرْوَانَ فَشَکَا إِلَيْهِ مَا لَقِيَ قَالَ وَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ عَلَی مَرْوَانَ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ مَا لَکَ وَلِابْنِ أَخِيکَ جَائَ يَشْکُوکَ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ إِلَی شَيْئٍ يَسْتُرُهُ مِنْ النَّاسِ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْ فِي نَحْرِهِ فَإِنْ أَبَی فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ
شیبان بن فروخ، سلیمان بن مغیرہ، ابن ہلال، حمید، حضرت ابوصالح ؓ سے روایت ہے کہ میں نے ابوسعید ؓ سے سنا اور ان کو دیکھا کہ جب میں حضرت ابوسعید کے ساتھ نماز جمعہ ایک سترہ کی آڑ میں ادا کر رہا تھا تو ایک نوجوان ابومعیط میں سے آیا اور اس نے ان کے سامنے سے گزرنے کا ارادہ کیا تو ابوسعید ؓ نے اس کے سینہ پر مارا اس نے ادھر ادھر دیکھا لیکن نکلنے کا کوئی راستہ سوائے ان کے آگے سے گزرنے کے نہ پایا تو وہ پھر گزرنے لگا تو انہوں نے پہلے سے زیادہ سختی کے ساتھ اس کے سینہ پر مارا بالآخر وہ رک کر کھڑا ہوگیا مگر ابوسعید کی طرف سے اس کو رنج پہنچا پھر لوگوں نے مزاحمت کی تو وہ نکل کر چلا گیا اور جا کر مروان کو شکایت کی جو اس کو پریشانی لاحق ہوئی حضرت ابوسعید ؓ مروان کے پاس پہنچے تو ان سے مروان نے کہا تمہارے بھیجتے کو تم سے کیا شکایت ہے کہ آکر آپ کی شکایت کرتا ہے تو ابوسعید ؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا جب تم میں سے کوئی نماز ادا کرے تو لوگوں سے سترہ قائم کرلے پھر اگر کوئی اس کے سامنے سے گزرنے کا ارادہ کرے تو اس کے سینے میں مار کر اس کو دفع کرے پس اگر وہ انکار کرے تو اس سے جھگڑا کرے کیونکہ وہ شیطان ہے۔
Abu Salih al-Samman reported: I narrate to you what I heard and saw from Abu Said al-Khudri (RA) : One day I was with Abu Said and he was saying prayer on Friday turning to a thing which concealed him from the people when a young man from Banu Muait came there and he tried to pass in front of him; he turned him back by striking his chest. He looked about but finding no other way to pass except in front of Abu Said, made a second attempt. He (Abu Said) turned him away by striking his chest more vigorously than the first stroke. He stood up and had a scuffle with Abu Said. Then the people gathered there. He came out and went to Marwan and complained to him what had happened to him. Abu Said too came to Marwan. Marwin said to him: What has happened to you and the son of your brother that he came to complain against you? Abu Said said: I heard from the Messenger of Allah ﷺ saying: When any one of you prays facing something which conceals him from people and anyone tries to pass in front of him, he should be turned away, but if he refuses, he should be forcibly restrained from it, for he is a devil.
نمازی کے آگے سے گزرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ ابْنِ أَبِي فُدَيْکٍ عَنْ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِنْ أَبَی فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ
ہ اورن بن عبداللہ بن محمد بن رافع، محمد بن اسماعیل بن ابی فدیک، ضحاک ابن عثمان، صدقہ بن یسار، حضرت عبداللہ ؓ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے سے کسی کو نہ گزرنے دے اگر وہ انکار کرے تو اس سے لڑے کیونکہ اس کے ساتھ شیطان ہے۔
Abdullah bin Umar reported that the Messenger of Allah ﷺ said: When any one of you prays, he should not allow anyone to pass before him, and if he refuses, he should be then forcibly resisted, for there is a devil with him.
نمازی کے آگے سے گزرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمِثْلِهِ
اسحاق بن ابراہیم، ابوبکر حنفی، ضحاک بن عثمان، صدقہ بن یسار، حضرت ابن عمر ؓ سے یہی روایت دوسری سند کے ساتھ ذکر بھی منقول ہے۔
This hadith has been narrated by Ibn Umar (RA) by another chain of transmitters.
نمازی کے آگے سے گزرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَرْسَلَهُ إِلَی أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي قَالَ أَبُو جُهَيْمٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَکَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ أَبُو النَّضْرِ لَا أَدْرِي قَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابی نضر، حضرت بسر بن سعید ؓ سے روایت ہے کہ زید بن خالد الجہنی نے ان کو ابی جہیم کی طرف اس لئے بھیجا کہ اس سے پوچھیں جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کے لئے سنا ہے ابوجہیم نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر گزرنے والا معلوم کرے کہ نماز کے سامنے سے گزرنے میں اس پر کیا گناہ ہے تو اس کے لئے چالیس تک کھڑا رہنا بہتر ہے اس کے آگے سے گزرنے کی نسبت ابوالنضر کہتے ہیں میں نہیں جانتا کہ بسر نے چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال کہا۔
Busr b Said reported that Zaid b Khalid al-Juhani sent him to Abu Juhaim in order to ask him what he had heard from the Messenger of Allah ﷺ with regard to the passer in front of the worshipper. Abu Juhaim reported that the Messenger of Allah ﷺ said: If anyone who passes in front of a man who is praying knew the responsibility he incurs, he would stand still forty (years) rather than to pass in front of him Abu Nadr said: I do not know whether he said forty days or months or years.
نمازی کے آگے سے گزرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَرْسَلَ إِلَی أَبِي جُهَيْمٍ الْأَنْصَارِيِّ مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَذَکَرَ بِمَعْنَی حَدِيثِ مَالِکٍ
عبداللہ بن ہاشم بن حیان عبدی، وکیع، سفیان، سالم، ابونضر، بسر بن سعید، زید بن خالد جہنی، ابوجہیم انصاری، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
This hadith has been narrated from Abu Juhaim Ansari by another chain of transmitters.
نماز سترہ کے قریب کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ کَانَ بَيْنَ مُصَلَّی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْجِدَارِ مَمَرُّ الشَّاةِ
یعقوب بن ابراہیم، ابن ابی حازم، حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مصلی اور دیوار کے درمیان ایک بکری کے گزرنے کی جگہ رہتی تھی۔
Sahl bin Sad al-Siidi reported: Between the place of worship where the Messenger of Allah ﷺ prayed and the wall, there was a gap through which a goat could pass.
نماز سترہ کے قریب کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ وَهُوَ ابْنُ الْأَکْوَعِ أَنَّهُ کَانَ يَتَحَرَّی مَوْضِعَ مَکَانِ الْمُصْحَفِ يُسَبِّحُ فِيهِ وَذَکَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَتَحَرَّی ذَلِکَ الْمَکَانَ وَکَانَ بَيْنَ الْمِنْبَرِ وَالْقِبْلَةِ قَدْرُ مَمَرِّ الشَّاةِ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن مثنی، اسحاق، حماد بن مسعدہ، حضرت یزید بن ابی عبید ؓ سے روایت ہے کہ سلمہ بن اکوع ؓ مصحف کی جگہ نماز پڑھنے کی سوچ میں تھے اور ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ بھی اس مکان کی فکر فرماتے تھے اور منبر اور قبلہ کے درمیان بکری کے گزرنے کی مقدار جگہ ہوتی تھی۔
Salama bin Akwa reported: He sought the place (in the mosque) where the copies of the Quran were kept and glorified Allah there, and the narrator made a mention that the Messenger of Allah ﷺ sought that place and that was between the pulpit and the qibla-a place where a goat could pass.
نماز سترہ کے قریب کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مَکِّيٌّ قَالَ يَزِيدُ أَخْبَرَنَا قَالَ کَانَ سَلَمَةُ يَتَحَرَّی الصَّلَاةَ عِنْدَ الْأُسْطُوَانَةِ الَّتِي عِنْدَ الْمُصْحَفِ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا مُسْلِمٍ أَرَاکَ تَتَحَرَّی الصَّلَاةَ عِنْدَ هَذِهِ الْأُسْطُوَانَةِ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّی الصَّلَاةَ عِنْدَهَا
محمد بن مثنی، مکی، حضرت یزید ؓ سے روایت ہے کہ حضرت سلمہ اس ستون کے پاس نماز کا ارادہ کر رہے تھے جو مصحف کے قریب تھا میں نے کہا یا ابا مسلم کیا تم اس ستون کے پاس نماز کا ارادہ کر رہے ہو تو فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس ستون کے پاس نماز کا ارادہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
Yazid reported: Salama sought to say prayer near the pillar which was by that place where copies of the Quran were kept. I said to him: Abu Muslim. I see you striving to offer your prayer by this pillar. He said: I saw the Messenger of Allah ﷺ seeking to pray by its side.
نمازی کے سترہ کی مقدار کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ يُونُسَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ يُصَلِّي فَإِنَّهُ يَسْتُرُهُ إِذَا کَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ فَإِذَا لَمْ يَکُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ وَالْکَلْبُ الْأَسْوَدُ قُلْتُ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا بَالُ الْکَلْبِ الْأَسْوَدِ مِنْ الْکَلْبِ الْأَحْمَرِ مِنْ الْکَلْبِ الْأَصْفَرِ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا سَأَلْتَنِي فَقَالَ الْکَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن علیہ، زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، یونس، حمید بن ہلال، عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا اور اس کے سامنے بطور سترہ اونٹ کے کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو تو وہ کافی ہے اور اس کی مثل نہ ہو تو اس کی نماز کو گدھا عورت اور سیاہ کتا منقطع کردیتا ہے راوی کہتا ہے میں نے کہا اے ابوذر سیاہ کتے کی سرخ و زرد کتے سے تخصیص کی کیا وجہ ہے تو انہوں نے کہا اے بھیجتے میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایسا ہی سوال کیا جیسا تو نے مجھ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔
Abu Dharr (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: When any one of you stands for prayer and there is a thing before him equal to the back of the saddle that covers him and in case there is not before him (a thing) equal to the back of the saddle, his prayer would be cut off by (passing of an) ass, woman, and black dog. I said: O Abu Dharr, what feature is there in a black dog which distinguish it from the red dog and the yellow dog? He said: O, son of my brother, I asked the Messenger of Allah ﷺ as you are asking me, and he said: The black dog is a devil.
نمازی کے سترہ کی مقدار کے بیان میں
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ قَالَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ أَيْضًا أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ سَلْمَ بْنَ أَبِي الذَّيَّالِ قَالَ ح و حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ حَدَّثَنَا زِيَادٌ الْبَکَّائِيُّ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ بِإِسْنَادِ يُونُسَ کَنَحْوِ حَدِيثِهِ
شیبان بن فروخ، سلیمان بن مغیرہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، اسحاق بن ابراہیم، وہب بن جریر، ان اسناد سے بھی یہی حدیث منقول ہے۔
This hadith has been transmitted by Humaid bin Hilal on the authority of Yunus.