رکوع اور سجدہ میں قرأت قرآن سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ قَالَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ نَهَانِي حِبِّي صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ رَاکِعًا أَوْ سَاجِدًا
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابوعامر عقدی، داؤد بن قیس، ابراہیم بن عبداللہ بن حنین، ابن عباس ؓ حضرت علی ؓ بن ابی طالب سے روایت ہے کہ مجھے میرے محبوب نے منع فرمایا ہے کہ میں رکوع یا سجدہ کرتے ہوئے قرأت کروں۔
Ali reported: My loved one (the Holy Prophet) forbade me that I should recite (the Quran) in a state of bowing and prostration.
رکوع اور سجدہ میں قرأت قرآن سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ ح و حَدَّثَنِي عِيسَی بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ قَالَ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ ح و حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو قَالَ ح و حَدَّثَنِي هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ ح إِلَّا الضَّحَّاکَ وَابْنَ عَجْلَانَ فَإِنَّهُمَا زَادَا عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّهُمْ قَالُوا نَهَانِي عَنْ قِرَائَةِ الْقُرْآنِ وَأَنَا رَاکِعٌ وَلَمْ يَذْکُرُوا فِي رِوَايَتِهِمْ النَّهْيَ عَنْهَا فِي السُّجُودِ کَمَا ذَکَرَ الزُّهْرِيُّ وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ وَالْوَلِيدُ بْنُ کَثِيرٍ وَدَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ
یحییٰ بن یحیی، مالک بن نافع، عیسیٰ بن حماد مصری، لیث، یزید بن ابی حبیب، ہارون بن عبداللہ، ابن ابی فدیک، ضحاک ابن عثمان، مقدامی یحیی، یحییٰ قطان، ابن عجلان، ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، اسامہ بن زید، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، اسماعیل بن جعفر، محمد، ابن عمر ؓ، ہناد بن سری، عبدہ، محمد بن اسحاق، ابراہیم بن عبداللہ بن حنین، ضحاک، ابن عجلان، ابن عباس ؓ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے رکوع کرتے ہوئے قرآن کی قرأت سے منع فرمایا ہے ان حضرات کی روایت میں سجدہ سے نہی کا ذکر نہیں ہے۔
This hadith has been narrated by some other narrators, Ibn Abbas and others, and they all reported that Ali said: The Apostle of Allah ﷺ forbade me to recite the Quran while I am in a state of bowing and prostration, and in their narration (there is a mention of) forbiddance from that (recital) in the state of prostration as it has been transmitted by Zuhri, Zaid bin Aslam, al-Wahid bin Kathir, and Dawud bin Qais.
رکوع اور سجدہ میں قرأت قرآن سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَعِيلَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ عَلِيٍّ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي السُّجُودِ
قتیبہ بن سعید، حاتم بن اسماعیل، جعفر بن محمد، محمد بن منکدر، عبداللہ بن حنین، حضرت علی ؓ سے ہی ایک اور سند سے یہی حدیث مذکور ہے لیکن اس میں سجدہ کا ذکر نہیں۔
This hadith is transmitted on the authority of Ali, but he made no mention of "while in prostration".
رکوع اور سجدہ میں قرأت قرآن سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاکِعٌ لَا يَذْکُرُ فِي الْإِسْنَادِ عَلِيًّا
عمرو بن علی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابی بکر بن حفص، عبداللہ بن حنین، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھے قرأت قرآن سے منع کیا گیا ہے اس حال میں کہ میں رکوع کرنے والا ہوں۔
Ibn Abbas reported: I was forbidden to recite (the Quran) while I was bowing, and there is no mention of Ali in the chain of transmitters.
رکوع اور سجود میں کیا کہے ؟
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَی أَبِي بَکْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ ذَکْوَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَقْرَبُ مَا يَکُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَکْثِرُوا الدُّعَائَ
ہارون بن معروف، عمرو بن سواد، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، عمارہ بن غزیہ مولیٰ ابوبکر، ابوصالح، ذکوان، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سجدہ کرتے ہوئے بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے پس سجود میں کثرت کے ساتھ دعا کیا کرو۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: The nearest a servant comes to his Lord is when he is prostrating himself, so make supplication (in this state).
رکوع اور سجود میں کیا کہے ؟
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَی أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي کُلَّهُ دِقَّهُ وَجِلَّهُ وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ
ابوطاہر، یونس بن عبدالاعلی، ابن وہب، یحییٰ بن ایوب، عمارہ بن غزیہ مولیٰ ابوبکر، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے سجدوں میں (اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي ذَنْبِي کُلَّهُ دِقَّهُ وَجِلَّهُ ) پڑھتے تھے اے اللہ میرے تمام گناہ معاف فرما دے چھوٹے بڑے اول وآخر ظاہری و پوشیدہ۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ used to say while prostrating himself: O Lord, forgive me all my sins, small and great, first and last, open and secret.
رکوع اور سجود میں کیا کہے ؟
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُکْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُکُوعِهِ وَسُجُودِهِ سُبْحَانَکَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، زہیر، جریج، منصور، ابی ضحی، مسروق، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع و سجدہ میں کثرت کے ساتھ (سُبْحَانَکَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي) فرماتے تھے اور قرآن پر عمل کرتے اے اللہ اے ہمارے رب تو ہی پاک ہے اور تعریف تیری ہی ہے اے اللہ میری مغفرت فرما۔
Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ (may peace be upon him) often said while bowing and prostrating himself: "Glory be to Thee, O Allah, our Lord, and praise be to Thee, O Allah, forgive me," thus complying with the (command in) the Quran.
رکوع اور سجود میں کیا کہے ؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُکْثِرُ أَنْ يَقُولَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَيْکَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الْکَلِمَاتُ الَّتِي أَرَاکَ أَحْدَثْتَهَا تَقُولُهَا قَالَ جُعِلَتْ لِي عَلَامَةٌ فِي أُمَّتِي إِذَا رَأَيْتُهَا قُلْتُهَا إِذَا جَائَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ إِلَی آخِرِ السُّورَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، مسلم، مسروق، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ وفات سے پہلے یہ کلمات کثرت سے فرمایا کرتے تھے (سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَيْکَ، ) سیدہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ کلمات کیا ہیں جن کو میں دیکھتی ہوں کہ آپ نے ان کو کہنا شروع کردیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا میرے لئے میری امت میں ایک علامت مقرر کی گئی ہے۔ جب میں اس علامت کو دیکھتا ہوں تو یہ کلمات پڑھتا ہوں۔إِذَا جَائَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ إِلَی آخِرِ السُّورَةِ (یعنی اس سورت پر عمل کرتا ہوں)
Aisha reported that the Messenger of Allah ﷺ before his death recited often: Hallowed be Thou, and with Thy praise, I seek forgiveness from Thee and return to Thee. She reported: I said: Messenger of Allah, what are these words that I find you reciting? He said: There has been made a sign for me in my Ummah; when I saw that, I uttered them (these words of glorification for Allah), and the sign is: "When Allahs help and victory..... to the end of the surah.
رکوع اور سجود میں کیا کہے ؟
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ نَزَلَ عَلَيْهِ إِذَا جَائَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ يُصَلِّي صَلَاةً إِلَّا دَعَا أَوْ قَالَ فِيهَا سُبْحَانَکَ رَبِّي وَبِحَمْدِکَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي
محمد بن رافع، یحییٰ بن آدم، مفضل، اعمش، مسلم بن صبیح، مسروق، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب سے آپ ﷺ پر إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ نازل ہوئی میں نے آپ ﷺ کو کسی نماز میں نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ نے یہ دعا نہ پڑھی ہو (سُبْحَانَکَ رَبِّي وَبِحَمْدِکَ اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي)۔
Aisha reported: Never did I, see the Apostle of Allah ﷺ after the revelation (of these verses): "When Allahs help and victory came." observing his prayer without making (this supplication) or he said in it (supplication): Hallowed be Thee, my Lord, and with Thy praise, O Allah, forgive me.
رکوع اور سجود میں کیا کہے ؟
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُکْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَاکَ تُکْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فَقَالَ خَبَّرَنِي رَبِّي أَنِّي سَأَرَی عَلَامَةً فِي أُمَّتِي فَإِذَا رَأَيْتُهَا أَکْثَرْتُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فَقَدْ رَأَيْتُهَا إِذَا جَائَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ فَتْحُ مَکَّةَ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ کَانَ تَوَّابًا
محمد بن مثنی، عبدالاعلی، داؤد، عامر، مسروق، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کثرت کے ساتھ ( سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ) فرماتے تھے فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں آپ ﷺ کو دیکھتی ہوں کہ آپ ﷺ کثرت کے ساتھ ( سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ) پڑھتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ عنقریب میں اپنی امت میں ایک علامت دیکھوں گا جب میں اس نشانی کو دیکھوں تو میں ( سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ) کی کثرت کروں تو تحقیق میں نے اس علامت کو دیکھ لیا ہے (إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ (فَتْحُ مَکَّةَ ) وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ کَانَ تَوَّابًا) جب اللہ کی مدد آگئی اور مکہ فتح ہوگیا اور لوگوں کو تو دیکھے گا اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوں گے تو اللہ کی تسبیح بیان کر اس کی تعریف کے ساتھ اور اس سے بخشش مانگ بیشک وہ رجوع فرمانے والا ہے۔
Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ recited often these words: Hallowed be Allah and with His praise, I seek the forgiveness of Allah and return to Him. She said: I asked: Messenger of Allah, I see that you often repeat the saying " subhan allahi bihamdihi astagfirullahi watubuilaih" whereupon he said: My Lord informed me that I would soon see a sign in my Ummah, so when I see it I often recite (these) words: Hallowed be Allah and with His Praise, I seek forgiveness of Allah and return to Him. Indeed I saw it (when this verse) was revealed:" When Allahs help and victory came, it marked the victory of Makkah, and you see people entering into Allahs religion in troops, celebrate the praise of Thy Lord and ask His forgiveness. Surely He is ever returning to Mercy."
رکوع اور سجود میں کیا کہے ؟
حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ کَيْفَ تَقُولُ أَنْتَ فِي الرُّکُوعِ قَالَ أَمَّا سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ فَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ افْتَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَی بَعْضِ نِسَائِهِ فَتَحَسَّسْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَإِذَا هُوَ رَاکِعٌ أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنِّي لَفِي شَأْنٍ وَإِنَّکَ لَفِي آخَرَ
حسن بن علی حلوانی، محمد بن رافع، عبدالرزاق، حضرت ابن جریج سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عطا سے کہا کہ آپ ﷺ رکوع میں کیا کہتے ہیں انہوں نے کہا ( سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ) مجھے ابن ابی ملیکہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت بیان کی ہے وہ فرماتی ہیں میں نے ایک رات نبی کریم ﷺ کو اپنے پاس نہ پایا تو میں نے گمان کیا کہ آپ ﷺ اپنی دوسری عورتوں کے پاس چلے گئے ہیں میں نے ڈھونڈنا شروع کیا واپس آئی تو آپ ﷺ کو رکوع کرتے ہوئے یا سجدہ کرتے ہوئے پایا اور آپ ﷺ فرما رہے تھے ( سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ) میں نے کہا میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں میں کس گمان و خیال میں تھی اور آپ ﷺ کس کام میں مصروف ہیں۔
Ibn Juraij reported: I asked Ata: What do you recite when you are in a state of bowing (in prayer)? He said: "Hallowed be Thou, and with Thy praise, there is no god but Thou." Son of Abd Mulaikah narrated to me on the authority of Aisha (who reported): I missed one night the Apostle of Allah ﷺ (from his bed). I thought that he might have gone to one of his other wives. I searched for him and then came back and (found him) in a state of bowing, or prostration, saying: Hallowed be Thou and with Thy praise; there is no god but Thou. I said: With my father mayest thou be ransomed and with my mother. I was thinking of (another) affair, whereas you are (occupied) in another one.
رکوع اور سجود میں کیا کہے ؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنْ الْفِرَاشِ فَالْتَمَسْتُهُ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَی بَطْنِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَبِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْکَ لَا أُحْصِي ثَنَائً عَلَيْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَيْتَ عَلَی نَفْسِکَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، عبداللہ بن عمر، محمد بن یحییٰ بن حبان، اعرج، ابی ہریرہ، ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک شب میں نے رسول اللہ ﷺ کو بستر پر نہ پایا تو تلاش کیا۔ میرا ہاتھ (اندھیرے میں) آپ کے تلووں کو لگا۔ آپ مسجد میں تھے اور (سجدہ میں) آپ کے پاؤں کھڑے تھے۔ آپ یہ دعا مانگ رہے تھے اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَبِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْکَ لَا أُحْصِي ثَنَائً عَلَيْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَيْتَ عَلَی نَفْسِکَ اے اللہ! میں آپ کی رضامندی کی پناہ چاہتا ہوں۔ آپ کی ناراضگی سے اور آپ کے درگزر کی پناہ چاہتا ہوں آپ کی سزا سے اور میں آپ ہی کی پناہ چاہتا ہوں آپ سے۔ میں آپ کی تعریف پوری نہیں کرسکتا۔ آپ ایسے ہی ہیں جیسے آپ نے خود اپنی تعریف فرمائی۔
Ibn Juraij reported: I asked Ata: What do you recite when you are in a state of bowing (in prayer)? He said: "Hallowed be Thou, and with Thy praise, there is no god but Thou." Son of Abd Mulaikah narrated to me on the authority of Aisha (who reported): I missed one night the Apostle of Allah ﷺ (from his bed). I thought that he might have gone to one of his other wives. I searched for him and then came back and (found him) in a state of bowing, or prostration, saying: Hallowed be Thou and with Thy praise; there is no god but Thou. I said: With my father mayest thou be ransomed and with my mother. I was thinking of (another) affair, whereas you are (occupied) in another one.
رکوع اور سجود میں کیا کہے ؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ أَنَّ عَائِشَةَ نَبَّأَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقُولُ فِي رُکُوعِهِ وَسُجُودِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوحِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر عبدی، سعید بن ابی عروبہ، قتادہ، مطرف بن عبداللہ بن شخیر، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع و سجود میں ( سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوحِ ) فرمایا کرتے تھے۔
Aisha reported: One night I missed Allahs Messenger ﷺ from the bed, and when I sought him my hand touched the soles of his feet while he was in the state of prostration; they (feet) were raised and he was saying:" O Allah, I seek refuge in Thy pleasure from Thy anger, and in Thy forgiveness from Thy punishment, and I seek refuge in Thee from Thee (Thy anger). I cannot reckon Thy praise. Thou art as Thou hast lauded Thyself."
رکوع اور سجود میں کیا کہے ؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنِي هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ
محمد بن مثنی، ابوداؤد، شعبہ، قتادہ، مطرف بن عبداللہ بن شخیر، ہشام، قتادہ، مطرف، حضرت عائشہ ؓ نے یہی حدیث نبی کریم ﷺ سے نقل فرمائی ہے اسناد دوسری ہیں۔
Aisha reported that the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) used to pronounce while bowing and prostrating himself: All Glorious, All Holy, Lord of the Angels and the Spirit.This hadith has been narrated on the authority of Aisha by another chain of transmitters.
سجود کی فضیلت اور اس کی ترغیب کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ قَالَ لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ يُدْخِلُنِي اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ أَوْ قَالَ قُلْتُ بِأَحَبِّ الْأَعْمَالِ إِلَی اللَّهِ فَسَکَتَ ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَسَکَتَ ثُمَّ سَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ سَأَلْتُ عَنْ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَلَيْکَ بِکَثْرَةِ السُّجُودِ لِلَّهِ فَإِنَّکَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَکَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْکَ بِهَا خَطِيئَةً قَالَ مَعْدَانُ ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَائِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَا قَالَ لِي ثَوْبَانُ
زہیر بن حرب، ولید بن مسلم، اوزاعی، ولید بن ہشام، حضرت معدان بن ابی طلحہ یعمری ؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت ثوبان مولیٰ رسول اللہ ﷺ سے ملا اور عرض کیا کہ آپ مجھے ایسے عمل کی خبر دیں جس کے کرنے سے مجھے اللہ جنت میں داخل کر دے یا میں نے کہا کہ مجھے اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کے بارے میں خبر دیں وہ خاموش رہے میں نے پھر پوچھا تو وہ خاموش رہے پھر میں نے تیسری مرتبہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا تجھ پر اللہ کی رضا کے لئے سجدوں کی کثرت لازم ہے تو جب بھی کوئی سجدہ کرتا ہے تو اللہ اس سجدہ کے سبب سے تیرا ایک درجہ بڑھا دیتے ہیں اور اس کے ذریعہ تیری ایک خطا مٹا دیتے ہیں معدان کہتے ہیں پھر میں حضرت ابودرداء ؓ سے ملا تو ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی مجھے حضرت ثوبان کی طرح بتایا۔
Madan bin Talha reported: I met Thauban, the freed slave. of Allahs Messenger ﷺ , and asked him to tell me about an act for which, if I do it, Allah will admit me to Paradise, or I asked about the act which was loved most by Allah. He gave no reply. I again asked and he gave no reply. I asked him for the third time, and he said: I asked Allahs Messenger ﷺ about that and he said: Make frequent prostrations before Allah, for you will not make one prostration without raising you a degree because of it, and removing a sin from you, because of it. Madan said that then he met Abu al-Darda and when he asked him, he received a reply similar to that given by Thauban.
سجود کی فضیلت اور اس کی ترغیب کے بیان میں
حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ کَعْبٍ الْأَسْلَمِيُّ قَالَ کُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ فَقَالَ لِي سَلْ فَقُلْتُ أَسْأَلُکَ مُرَافَقَتَکَ فِي الْجَنَّةِ قَالَ أَوْ غَيْرَ ذَلِکَ قُلْتُ هُوَ ذَاکَ قَالَ فَأَعِنِّي عَلَی نَفْسِکَ بِکَثْرَةِ السُّجُودِ
حکم بن موسی، ابوصالح، ہقل بن زیاد، اوزاعی، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، حضرت ربیعہ ؓ بن کعب اسلمی ؓ سے روایت ہے کہ میں رات کو رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرتا تھا اور آپ ﷺ کے استنجا اور وضو کے لئے پانی لایا کرتا تھا آپ ﷺ نے ایک دن فرمایا مانگ۔ تو میں نے عرض کیا میں جنت میں آپ ﷺ کی رفاقت کا سوال کرتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا اس کے علاوہ اور کچھ میں نے عرض کیا بس یہی تو آپ ﷺ نے فرمایا تو اپنے معاملہ میں سجود کی کثرت کے ساتھ میری مدد کر۔
Rabia bin Kab said: I was with Allahs Messenger ﷺ one night and I brought him water and what he required. He said to me: Ask (anything you like). I said: I ask your company in Paradise. He (the Holy Prophet) said: Or anything else besides it. I said: That is all (what I require). He said: Then help me to achieve this for you by devoting yourself often to prostration.
سجدوں کے اعضا کے بیان اور بالوں اور کپڑوں کے موڑنے اور نماز میں جوڑا باندھنے سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَی سَبْعَةٍ وَنُهِيَ أَنْ يَکُفَّ شَعْرَهُ وَثِيَابَهُ هَذَا حَدِيثُ يَحْيَی و قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ عَلَی سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَنُهِيَ أَنْ يَکُفَّ شَعْرَهُ وَثِيَابَهُ الْکَفَّيْنِ وَالرُّکْبَتَيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ وَالْجَبْهَةِ
یحییٰ بن یحیی، ابوربیع زہرانی، یحیی، ابوربیع، حماد بن زید، عمرو بن دینار، طاؤس، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کریں اور منع کیا گیا اپنے بالوں اور کپڑوں کو سنوارنے سے اور ابوالربیع کہتے ہیں کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا کپڑوں اور بالوں کو سمیٹنے سے منع کیا گیا اور وہ سات ہڈیاں درج ذیل ہیں دو ہتھیلیاں دو گھٹنے اور دو پاؤں اور پیشانی۔
Ibn Abbas reported: The Apostle of Allah ﷺ had been commanded that he should prostrate on the seven (bones) and he was forbidden to fold back the hair and clothing. And in the narration transmitted by Abu Rabi (the words are): "on the seven bones and I was forbidden to fold back the hair and clothing". According to Abul-Rabi (the seven bones are): The hands, the knees, and the (extremities) of the feet and the forehead.
سجدوں کے اعضا کے بیان اور بالوں اور کپڑوں کے موڑنے اور نماز میں جوڑا باندھنے سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَی سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَلَا أَکُفَّ ثَوْبًا وَلَا شَعْرًا
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن دینار، طاؤس، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ اور یہ کہ کپڑوں اور بالوں کو نہ سمیٹوں۔
Ibn Abbas reported from the Apostle of Allah ﷺ : I was commanded to prostrate myself on seven bones and not to fold back clothing or hair.
سجدوں کے اعضا کے بیان اور بالوں اور کپڑوں کے موڑنے اور نماز میں جوڑا باندھنے سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَی سَبْعٍ وَنُهِيَ أَنْ يَکْفِتَ الشَّعْرَ وَالثِّيَابَ
عمرو ناقد، سفیان بن عیینہ، ابن طاؤس، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کپڑوں اور بالوں کے سمیٹنے سے روکا گیا۔
Ibn Abbas reported: The Messenger of Allah ﷺ had been commanded to prostrate on seven (bones) and forbidden to fold back hair and clothing.
سجدوں کے اعضا کے بیان اور بالوں اور کپڑوں کے موڑنے اور نماز میں جوڑا باندھنے سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَی سَبْعَةِ أَعْظُمٍ الْجَبْهَةِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَی أَنْفِهِ وَالْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ وَلَا نَکْفِتَ الثِّيَابَ وَلَا الشَّعْرَ
محمد بن حاتم، بہز، وہیب، عبداللہ بن حاتم، طاؤس، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے سات (اعضاء) پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے پیشانی اور اپنے ہاتھ سے اپنے ناک پر اشارہ کیا دونوں ہاتھ دونوں پاؤں اور دونوں قدموں کی انگلیوں پر اور کپڑوں اور بالوں کو نہ سمیٹنے کا حکم ہوا ہے۔
Ibn Abbas (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: I have been commanded to prostrate myself on seven bones: " forehead," and then pointed with his hand towards his nose, hands, feet, and the extremities of the feet; and we were forbidden to fold back clothing and hair.