ارکان میں میانہ روی اور پورا کرنے میں تخفیف کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ أَنَّ مَطَرَ بْنَ نَاجِيَةَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَی الْکُوفَةِ أَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت حکم ؓ سے روایت ہے کہ جب مطر بن ناجیہ کوفہ پر غالب ہوا تو اس نے حضرت ابوعبیدہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے باقی حدیث مبارکہ پہلے گزر چکی ہے۔
Hakam reported: When Matar bin Najiya dominated Kufa he ordered Abu Ubaida to lead people in prayer, and the rest of the hadith is the same.
ارکان میں میانہ روی اور پورا کرنے میں تخفیف کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ إِنِّي لَا آلُو أَنْ أُصَلِّيَ بِکُمْ کَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا قَالَ فَکَانَ أَنَسٌ يَصْنَعُ شَيْئًا لَا أَرَاکُمْ تَصْنَعُونَهُ کَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ انْتَصَبَ قَائِمًا حَتَّی يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السَّجْدَةِ مَکَثَ حَتَّی يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ
خلف بن ہشام، حماد بن زید، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا میں تم کو ایسی نماز پڑھانے میں کوتاہی نہیں کرتا جیسا کہ نبی ﷺ ہمیں نماز پڑھاتے تھے۔ حضرت انس ؓ جو عمل کرتے تھے وہ میں تم کو کرتے ہوئے نہیں دیکھتا جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہوتے یہاں تک کہ کہنے والا کہتا کہ وہ بھول گئے ہیں، جب وہ سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو ٹھہرتے، یہاں تک کہ کہنے والا کہتا ہے کہ وہ بھول چکے ہیں۔
Thabit reported it on the authority of Anas (RA) : While leading you in prayer I do not shorten anything in the prayer. I pray as I saw the Messenger of Allah ﷺ leading us. He (Thabit) said: Anas used to do that which I do not see you doing; when he lifted his head from bowing he stood up (so long) that one would say: He has forgotten (to bow down in prostration). And when he lifted his head from prostration, he stayed in that position, till someone would say: He has forgotten (to bow down in prostration for the second sajda).
ارکان میں میانہ روی اور پورا کرنے میں تخفیف کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ أَحَدٍ أَوْجَزَ صَلَاةً مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَامٍ کَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً وَکَانَتْ صَلَاةُ أَبِي بَکْرٍ مُتَقَارِبَةً فَلَمَّا کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَدَّ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَامَ حَتَّی نَقُولَ قَدْ أَوْهَمَ ثُمَّ يَسْجُدُ وَيَقْعُدُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَتَّی نَقُولَ قَدْ أَوْهَمَ
ابوبکر بن نافع عبدی، بہز، حماد، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ جیسی پوری نماز کسی کے پیچھے نہیں پڑھی رسول اللہ ﷺ کی نماز قریب قریب ہوتی تھی اور ابوبکر ؓ کی نماز بھی برابر برابر ہوتی تھی حضرت عمر ؓ بن خطاب فجر کی نماز بھی لمبی کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ جب سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے تو کھڑے ہوجاتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ ﷺ بھول گئے ہیں پھر سجدہ کرتے اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ ﷺ بھول گئے ہیں۔
Thabit reported it on the authority of Anas (RA) : I have never said such a light and perfect prayer as I said behind the Messenger of Allah ﷺ . The prayer of the Messenger. of Allah ﷺ was well balanced. And so too was the prayer of Abu Bakr (RA) well balanced. When it was the time of Umar bin al-Khattab he prolonged the morning prayer. When the Messenger of Allah ﷺ said: Allah listened to him who praised Him, he stood erect till we said: He has forgotten. He then prostrated and sat between two prostration till we said: He has forgotten.
امام کی پیروی اور ہر رکن اس کے بعد کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ قَالَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنِي الْبَرَائُ وَهُوَ غَيْرُ کَذُوبٍ أَنَّهُمْ کَانُوا يُصَلُّونَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ لَمْ أَرَ أَحَدًا يَحْنِي ظَهْرَهُ حَتَّی يَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَبْهَتَهُ عَلَی الْأَرْضِ ثُمَّ يَخِرُّ مَنْ وَرَائَهُ سُجَّدًا
احمد بن یونس، زہیر، ابواسحاق یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ، ابی اسحاق، عبداللہ بن یزید، حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے اور وہ جھوٹے نہیں ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے جب آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے تو میں کسی کو بھی اپنی پیٹھ جھکاتے نہ دیکھتا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اپنا ماتھا زمین پر رکھتے پھر آپ ﷺ کے پیچھے سب لوگ سجدہ میں جاتے۔
Al-Bara (b. Azib), and he was no liar (but a truthful Companion of the Holy Prophet), reported: They used to say prayer behind the Messenger of Allah ﷺ . I never saw anyone bending his back at the time when he (the Holy Prophet) raised his head, till the Messenger of Allah ﷺ placed his forehead on the ground. They then fell in prostration after him.
امام کی پیروی اور ہر رکن اس کے بعد کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِي الْبَرَائُ وَهُوَ غَيْرُ کَذُوبٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّی يَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا ثُمَّ نَقَعُ سُجُودًا بَعْدَهُ
ابوبکر بن خلاد باہلی، یحییٰ بن سعید، سفیان، ابواسحاق، عبداللہ بن یزید، حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ اور وہ جھوٹے نہیں ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فرماتے تو ہم سے کوئی اپنی کمر کو نہ جھکاتا تھا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سجدہ میں پہنچ جاتے پھر ہم آپ ﷺ کے بعد سجدہ میں جاتے۔
Al-Bara reported, and he was no liar: When the Messenger of Allah ﷺ said: Allah listened to him who praised Him, none of us bent his back till he (the Holy Prophet) prostrated; we then, afterwards, went down in prostration.
امام کی پیروی اور ہر رکن اس کے بعد کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الْأَنْطَاکِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُا عَلَی الْمِنْبَرِ حَدَّثَنَا الْبَرَائُ أَنَّهُمْ کَانُوا يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَکَعَ رَکَعُوا وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ فَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ لَمْ نَزَلْ قِيَامًا حَتَّی نَرَاهُ قَدْ وَضَعَ وَجْهَهُ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ نَتَّبِعُهُ
محمد بن عبدالرحمن بن سہم، ابراہیم بن محمد، ابواسحاق، ابواسحاق شیبانی، محارب بن دثار، عبداللہ بن یزید، حضرت براء ؓ روایت ہے کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز ادا کرتے جب آپ ﷺ رکوع کرتے وہ بھی رکوع کرتے جب آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے اور سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے تو ہم کھڑے رہتے یہاں تک کہ آپ ﷺ کو پیشانی زمین پر رکھتے ہوئے دیکھتے۔ پھر ہم آپ ﷺ کی پیروی کرتے۔
Al-Bara reported: They (the Companions) said prayer with the Messenger of Allah ﷺ , and they bowed when he (the Holy Prophet) bowed. And when he raised his head after bowing, he pronounced: "Allah listened to him who praised Him," and we kept standing till we saw him placing his face on the ground and then we followed him.
امام کی پیروی اور ہر رکن اس کے بعد کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا أَبَانُ وَغَيْرُهُ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ الْبَرَائِ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْنُو أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّی نَرَاهُ قَدْ سَجَدَ فَقَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا الْکُوفِيُّونَ أَبَانُ وَغَيْرُهُ قَالَ حَتَّی نَرَاهُ يَسْجُدُ
زہیر بن حرب، ابن نمیر، سفیان بن عیینہ، ابان، حکم، عبدالرحمن بن ابی لیلی، حضرت براء بن عازب ؓ روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو ہم میں سے کوئی اپنی کمر کو نہیں جھکاتا تھا یہاں تک کہ ہم آپ ﷺ کو سجدہ کرتے دیکھ لیتے تھے۔
Al-Bara reported:
When we were (in prayer) with the Messenger of Allah Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) none of us benfft his back till we saw he prostrated. Zuhair and others reported:" till we saw him prostrating".
امام کی پیروی اور ہر رکن اس کے بعد کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ الْأَشْجَعِيُّ أَبُو أَحْمَدَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ سَرِيعٍ مَوْلَی آلِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِ الْکُنَّسِ وَکَانَ لَا يَحْنِي رَجُلٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّی يَسْتَتِمَّ سَاجِدًا
محرز بن عون بن ابی عون، خلف بن خلیفہ، اشجعی، ابواحمد، ولید بن سریع، عمرو بن حریث، حضرت عمرو بن حریث ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز فجر ادا کی تو میں نے آپ ﷺ سے سنا ( فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِ الْکُنَّسِ ) اور ہم میں کوئی آدمی اپنی کمر نہ جھکاتا تھا یہاں تک کہ آپ ﷺ پوری طرح سجدہ میں نہ چلے جاتے۔
Amr bin Huraith reported: I said the dawn prayer behind the Apostle ﷺ of ﷺ and heard him reciting: Nay. I call to witness the stars, running their courses and setting" (al-Quran, lxxxi. 15-16) and none of us bent his back till he completed prostration.
جب نمازی رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے ؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَی قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ ظَهْرَهُ مِنْ الرُّکُوعِ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْئُ الْأَرْضِ وَمِلْئُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، وکیع، اعمش، عبید بن حسن، حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنی کمر رکوع سے اٹھاتے تو (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْئُ الْأَرْضِ وَمِلْئُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ ) ارشاد فرماتے تھے۔
(Abdullah b) Ibn Abi Aufa reported: When the Messenger of Allah ﷺ raised his back from the ruku he pronounced: Allah listened to him who praised Him. O Allah! our Lord! unto Thee be praise that would fill the heavens and the earth and fill that which will please Thee besides them.
جب نمازی رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے ؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَی قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَائِ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْئُ الْأَرْضِ وَمِلْئُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن بشار، شعبہ، عبید بن حسن، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس دعا کے ساتھ دعا مانگتے تھے ( اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْئُ الْأَرْضِ وَمِلْئُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ ) اے اللہ تو ہی اس تعریف کے لائق ہے جس سے آسمان و زمین بھر جائیں اور اس کے بعد جس طرف کو تو چاہے وہ بھر جائے۔
Abdullah bin Aufa reported: The Messenger of Allah ﷺ used to recite this supplication: O Allah! our Lord, unto Thee be praise that would fill the heavens and the earth and fill that which will please Thee besides them.
جب نمازی رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے ؟
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَی يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ مِلْئُ السَّمَائِ وَمِلْئُ الْأَرْضِ وَمِلْئُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَائِ الْبَارِدِ اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنْ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا کَمَا يُنَقَّی الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنْ الْوَسَخِ
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، مجزاۃ ابن زاہر، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے تھے ( اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْئُ الْأَرْضِ وَمِلْئُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ ) تو ہی اس تعریف کا مستحق ہے جس سے تمام آسمان و زمین بھر جائیں اور جس ظرف کو تو چاہے وہ بھر جائے اے اللہ مجھے برف، اولوں اور ٹھنڈے پانی سے پاک کر دے اے اللہ مجھے گناہوں اور خطاؤں سے ایسا پاک کر دے جیسا کہ سفید کپڑا میل کچیل سے صاف ہوجاتا ہے۔
Abdullah bin Abu Aufa reported that the Apostle of Allah ﷺ used to recite (this supplication): O Allah! our Lord, unto Thee be praise that would fill the heavens and the earth and fill that which will please Thee besides (them). O Allah! purify me with snow, (water of) hail and with cold water; O Allah. cleanse me from the sins and errors just as a white garment is cleansed from dirt.
جب نمازی رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے ؟
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي رِوَايَةِ مُعَاذٍ کَمَا يُنَقَّی الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنْ الدَّرَنِ وَفِي رِوَايَةِ يَزِيدَ مِنْ الدَّنَسِ
عبیداللہ بن معاذ، زہیر بن حرب، یزید بن ہارون، شعبہ، معاذ، اس سند کے ساتھ بھی یہی حدیث الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ نقل کی ہے معنی و مفہوم وہی ہے۔
This hadith with the same chain of transmitters has been narrated by Shubah, and in the narration of Muadh the words are: "just as the white garment is cleansed from filth," and in the narration of Yazid: "from dirt".
جب نمازی رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے ؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ قَزْعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ قَالَ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْئُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَائِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَکُلُّنَا لَکَ عَبْدٌ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ
عبداللہ بن عبدالرحمن، دارمی، مروان بن محمد دمشقی، سعید بن عبدالعزیز، عطیہ بن قیس، قزعہ بن یحیی، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو ( اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْئُ الْأَرْضِ وَمِلْئُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ ) فرماتے اے اللہ تو ایسی تعریف کا مستحق ہے جس سے آسمان و زمین بھر جائیں اور جس ظرف کو تو چاہے وہ بھر جائے تو ہی ثنا اور بزرگی کے لائق ہے اور بندہ جو کہے تو سب سے زیادہ حقدار ہے ہم سب تیرے بندے ہیں اے اللہ تو جو چیز عطا کرے اسے کوئی رو کنے والا نہیں اور جس سے تو کوئی چیز روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں اور تیرے مقابلہ میں کوشش کرنے والے کی کوشش فائدہ مند نہیں۔
Abu Said al-Khudri reported: When the Messenger of Allah ﷺ raised his head after bowing, he said: O Allah! our Lord, to Thee be the praise that would fill all the heavens and the earth, and all that it pleases Thee besides (them). O, thou art worthy of praise and glory, most worthy of what a servant says, and we all are Thy servants, no one can withhold what Thou givest or give what Thou withholdest, and riches cannot avail a wealthy person against Thee.
جب نمازی رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے ؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْئُ الْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَمِلْئُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَائِ وَالْمَجْدِ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ہشیم بن بشیر، ہشام بن حسان، قیس بن سعد، عطاء، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ) فرماتے اس روایت میں (اَحَقُّ مَا قَالَ العَبدُ وَکُلَّنَا لَکَ عَبد) کے الفاظ نہیں ہیں۔
Ibn Abbas (RA) reported: When the Apostle of Allah ﷺ raised his head after bowing, he said: Allah! our Lord, to Thee be the praise that would fill the heavens and the earth and that which is between them, and that which will please Thee besides (them). Worthy art Thou of all praise and glory. No one can withhold what Thou givest, or give what Thou withholdest. And the greatness O! the great availeth not against Thee.
جب نمازی رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے ؟
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی قَوْلِهِ وَمِلْئُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ
ابن نمیر، حفص، ہشام بن حسان، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ وَمِلْئُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ سے وَمِلْاُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْد تک فرماتے اس کے بعد کا ذکر نہیں کیا۔
Ibn Abbas (RA) reported from the Apostle of Allah ﷺ the words: "And that would fill that which will please Thee besides (them)!" and he did not mention the subsequent (portion of supplication).
رکوع اور سجدہ میں قرأت قرآن سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَکْرٍ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَی لَهُ أَلَا وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاکِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّکُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَائِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَکُمْ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ
سعید بن منصور، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، سلیمان بن سحیم، ابراہیم، عبداللہ بن معبد، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (مرض وفات) میں پردہ اٹھایا اور صحابہ کرام ؓ ابوبکر ؓ کے پیچھے صفیں باندھنے والے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو سچے خوابوں کے علاوہ مبشرات نبوہ میں سے کوئی امر باقی نہیں ہے جن کو مسلمان دیکھتا ہے یا اس کے لئے دکھایا جاتا ہے آگاہ رہو مجھے رکوع یا سجدہ کرتے ہوئے قرأت قرآن سے منع کیا گیا ہے رکوع میں تو اپنے رب کی عظمت بیان کرو اور سجود میں دعا کرنے کی کوشش کرو کہ تمہارے لئے قبول کی جائے۔
Ibn Abbas reported: The Messenger of Allah ﷺ drew aside the curtain (of his apartment) and (he saw) people in rows (saying prayer) behind Abu Bakr. And he said: Nothing remains of the glad tidings of apostlehood, except good visions which a Muslim sees or someone is made to see for him. And see that I have been forbidden to recite the Quran in the state of bowing and prostration. So far as Ruku is concerned, extol in it the Great and Glorious Lord, and while prostrating yourselves be earnest in supplication, for it is fitting that your supplications should be answered.
رکوع اور سجدہ میں قرأت قرآن سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتْرَ وَرَأْسُهُ مَعْصُوبٌ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا يَرَاهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ أَوْ تُرَی لَهُ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُفْيَانَ
یحییٰ بن ایوب، اسماعیل بن جعفر، سلیمان بن سحیم، ابراہیم بن عبداللہ بن معبد حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مرض وفات) میں پردہ ہٹایا اور آپ ﷺ کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی آپ ﷺ نے تین بار فرمایا اے اللہ میں نے تبلیغ کردی نبوت کی خوشخبریوں میں سے سچے خوابوں کے علاوہ کوئی باقی نہیں جن کو نیک بندہ دیکھتا ہے یا اس کے لئے دکھایا جاتا ہے پھر اس سے پہلے والی حدیث ہی کی مثل ذکر کی ہے۔
Abdullah bin Abbas reported: The Messenger of Allah ﷺ drew aside the curtain and his head was bandaged on account of illness in which he died. He said: O Allah, have I not delivered (Thy Message)? (He repeated it) three times. Nothing has been left out of the glad tidings of apostlebood, but good vision. which a pious servant (of Allah) sees or someone else is made to see for him. He then narrated like the hadith transmitted by Sufyan.
رکوع اور سجدہ میں قرأت قرآن سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ رَاکِعًا أَوْ سَاجِدًا
ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابراہیم بن عبداللہ بن حنین، ان کے والد، حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے قرأت کرنے سے منع فرمایا۔
Ali Ibn Abi Talib (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ forbade me to recite (the Quran) in a state of bowing and prostration.
رکوع اور سجدہ میں قرأت قرآن سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ کَثِيرٍ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُا نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِرَائَةِ الْقُرْآنِ وَأَنَا رَاکِعٌ أَوْ سَاجِدٌ
ابوکریب، محمد بن علاء، ابواسامہ، ولید ابن کثیر، ابراہیم بن عبداللہ بن حنین، حضرت علی ؓ بن ابی طالب سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے رکوع یا سجدہ میں قرأت سے منع فرمایا۔
Ali Ibn Abi Talib (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ forbade to recite the Quran, while I am in the state of bowing and prostration.
رکوع اور سجدہ میں قرأت قرآن سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقِرَائَةِ فِي الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ وَلَا أَقُولُ نَهَاکُمْ
ابوبکر بن اسحاق، ابن ابی مریم، محمد بن جعفر، زید بن اسلم، ابراہیم بن عبداللہ بن حنین، حضرت علی ؓ بن ابی طالب سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے رکوع اور سجود میں قرأت سے منع فرمایا ہے اور میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں روکا ہے۔
Ali Ibn Abi Talib (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ forbade me from the recitation (of the Quran) in bowing and prostration and I do not say that he forbade you.