نماز عشاء میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي الْعِشَائِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَوْتًا مِنْهُ
محمد بن عبیداللہ بن نمیر، مسعر، عدی بن ثابت، براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے عشاء کی نماز میں (وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ) 95۔ التین: 1) سنی اور میں نے آپ ﷺ سے (زیادہ) بہترین آواز (میں قرآن کی تلاوت) کسی سے نہیں سنی۔
Al-Bara bin Azib (RA) reported: I heard the Apostle of Allah ﷺ reciting in the night prayer: "By the Fig and the Olive," and I have never heard anyone with a sweeter voice than he.
نماز عشاء میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ قَالَ کَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَأْتِي فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ فَصَلَّی لَيْلَةً مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَائَ ثُمَّ أَتَی قَوْمَهُ فَأَمَّهُمْ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَانْحَرَفَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّی وَحْدَهُ وَانْصَرَفَ فَقَالُوا لَهُ أَنَافَقْتَ يَا فُلَانُ قَالَ لَا وَاللَّهِ وَلَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأُخْبِرَنَّهُ فَأَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَصْحَابُ نَوَاضِحَ نَعْمَلُ بِالنَّهَارِ وَإِنَّ مُعَاذًا صَلَّی مَعَکَ الْعِشَائَ ثُمَّ أَتَی فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی مُعَاذٍ فَقَالَ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ اقْرَأْ بِکَذَا وَاقْرَأْ بِکَذَا قَالَ سُفْيَانُ فَقُلْتُ لِعَمْرٍو إِنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ اقْرَأْ وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَالضُّحَی وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی وَسَبِّحْ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَی فَقَالَ عَمْرٌو نَحْوَ هَذَا
محمد بن عباد، سفیان، عمرو، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت معاذ ؓ نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز ادا کرتے پھر اپنی قوم کے پاس آتے اور ان کی امامت کرتے ایک رات انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز عشاء ادا کی پھر اپنی قوم کے پاس آئے اور ان کی امامت کی اور سورت بقرہ شروع کردی ایک آدمی نے منہ موڑا، سلام پھیرا اور اکیلے نماز ادا کی اور چلا گیا لوگوں نے اس سے کہا کیا تو منافق ہوگیا ہے اے فلاں! اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم اور میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اس کی خبر دینے حاضر ہوں گا اور وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم اونٹوں والے ہیں دن پھر کام کرتے ہیں اور معاذ نے آپ ﷺ کے ساتھ نماز عشاء ادا کی پھر آئے اور سورت البقرہ شروع کردی تو رسول اللہ ﷺ نے معاذ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اے معاذ کیا تو امتحان میں ڈالنے والا ہے فلاں فلاں (سورتوں) کے ساتھ نماز پڑھا کرو۔
Jabir reported that Muadh bin Jabal used to pray with the Apostle ﷺ , then came and led his people in prayer. One night he said the night prayer with the Apostle of Allah ﷺ . He then came to his people and led them in prayer beginning with Surat al-Baqarah. A man turned aside, pronounced the taslim (salutation for concluding the prayer), then prayed alone and departed. The people said to him: Have you become a hypocrite, so and so? He said: I swear by Allah that I have not, but I will certainly go to Allahs Messenger ﷺ and will inform (him) about this. He then came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, we look after camels used for watering and work by day. Muidh said the night prayer with you. He then came and began with Surat al-Baqarah. Allahs Messenger ﷺ then turned to Muadh and said: Are you there to (put the people) to trial? Recite such and recite such (and such a surah). It is transmitted on the authority of Jabir, as told by Sufyan, that he (the Holy Prophet) had said: "By the Sun and its morning brightness" (Sarah xci.)," By brightness" (Surah xciii)" By the night when it spreads" (Surah xcii.), and" Glorify the name of thy most high Lord" (Surah lxxxii.).
نماز عشاء میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ صَلَّی مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الْأَنْصَارِيُّ لِأَصْحَابِهِ الْعِشَائَ فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ فَانْصَرَفَ رَجُلٌ مِنَّا فَصَلَّی فَأُخْبِرَ مُعَاذٌ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّهُ مُنَافِقٌ فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِکَ الرَّجُلَ دَخَلَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ مُعَاذٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُرِيدُ أَنْ تَکُونَ فَتَّانًا يَا مُعَاذُ إِذَا أَمَمْتَ النَّاسَ فَاقْرَأْ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَسَبِّحْ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَی وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی
قتیبہ بن سعید، لیث، رمح، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت معاذ بن جبل انصاری ؓ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز لمبی پڑھائی ہم میں سے ایک آدمی نے علیحدہ نماز ادا کی معاذ کو اس کی خبر دی گئی تو انہوں نے کہا کہ وہ منافق ہے جب اس آدمی کو خبر پہنچی تو اس نے رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہو کر حضرت معاذ کی (دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا (وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، سَبِّحْ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَی، اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ وغیرہ پڑھا کر) اس بات کی خبر دی تو رسول اللہ ﷺ نے معاذ ؓ سے کہا کیا تم فتنہ پرور بننا چاہتے ہو اے معاذ جب تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ تو (الشَّمْسِ وَضُحَاهَا، سَبِّحْ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَی، اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی) کے ساتھ نماز پڑھا کرو۔
Jabir reported: Muadh b jabal al-Ansari led his companions in the night prayer and prolonged it for them. A person amongst us said prayer (after having separated himself from the congregation). Muadh was informed of this, and he remarked that he was a hypocrite. When it (the remark) was conveyed to the man, he went to the Messenger of Allah ﷺ and informed him of what Muadh had said. Upon this the Apostle of Allah ﷺ said to him: Muadh, do you want to become a person putting (people) to trial? When you lead people in prayer, recite: "By the Sun and its morning brightness" (Surah xci.), "Glorify the name of thy most high Lord" (Surah lxxxvi.) and "Read in the name of Lord" (Surah xcvi.), and "By the night when it spreads" (Surah xcii.).
نماز عشاء میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ کَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَائَ الْآخِرَةَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَی قَوْمِهِ فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْکَ الصَّلَاةَ
یحییٰ بن یحیی، ہشیم، منصور، عمرو بن دینار، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل ؓ عشاء کی نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھ کر اپنی قوم کی طرف لوٹتے تھے پھر ان کو یہی نماز پڑھاتے تھے۔
Jabir bin Abdullah reported: Muadh bin Jabal said the night prayer with the Messenger of Allah ﷺ and then returned to his people and then led them in this prayer.
نماز عشاء میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَائَ ثُمَّ يَأْتِي مَسْجِدَ قَوْمِهِ فَيُصَلِّي بِهِمْ
قتیبہ بن سعید، ابوربیع، زہرانی، ابوربیع، حماد، ایوب، عمرو بن دینار، جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ معاذ ؓ نماز عشاء رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھتے پھر اپنی قوم کی مسجد میں آکر ان کو نماز پڑھاتے تھے۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported: Muadh said the night prayer with the Messenger of Allah ﷺ . He then came to the mosque of his people and led them in prayer.
ائمہ کے لئے نماز پوری اور تخفیف کے ساتھ پڑھانے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ أَجْلِ فُلَانٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضِبَ فِي مَوْعِظَةٍ قَطُّ أَشَدَّ مِمَّا غَضِبَ يَوْمَئِذٍ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْکُمْ مُنَفِّرِينَ فَأَيُّکُمْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيُوجِزْ فَإِنَّ مِنْ وَرَائِهِ الْکَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ
یحییٰ بن یحیی، ہشیم، اسماعیل بن ابی خالد، قیس، حضرت ابومسعود انصاری ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا میں فلاں فلاں آدمی کی وجہ سے جو ہمیں بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے نماز سے رہ جاتا ہوں حضرت ابومسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اس دن سے زیادہ غصہ میں کبھی نہیں دیکھا آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو تم میں سے بعض متنفر کرنے والے ہیں تم میں سے جو لوگوں کی امامت کرے تو وہ تخفیف کرے کیونکہ اس کی اقتداء میں بوڑھے کمزور اور حاجت مند لوگ ہوتے ہیں۔
Abu Masud al-Ainsari reported: A person came to the Messenger of Allah ﷺ and said: I keep away from the morning prayer on account of such and such (a man), because; he keeps us so long. I never saw Gods Messenger ﷺ more angry when giving an exhortation than he was that day. He said: O people, some of you are scaring people away. So whoever of you leads the people in prayer he must be brief, for behind him are the weak, the aged, and the people who have (urgent) business to attend.
ائمہ کے لئے نماز پوری اور تخفیف کے ساتھ پڑھانے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ وَوَکِيعٌ قَالَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَعِيلَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ حَدِيثِ هُشَيْمٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ہشیم، وکیع، ابن نمیر، ابن ابی عمر، ان اسناد کے ساتھ بھی یہی حدیث مبارکہ روایت کی گئی ہے۔
This hadith like one narrated by Hashalm has been narrated from Ismail with the same chain of transmitters.
ائمہ کے لئے نماز پوری اور تخفیف کے ساتھ پڑھانے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَمَّ أَحَدُکُمْ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمْ الصَّغِيرَ وَالْکَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَالْمَرِيضَ فَإِذَا صَلَّی وَحْدَهُ فَلْيُصَلِّ کَيْفَ شَائَ
قتیبہ بن سعید، مغیرہ، ابن عبدالرحمن حزامی، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کرے تو چاہیے کہ ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ ان میں بچے بوڑھے کمزور اور بیمار ہوتے ہیں اور جب اکیلا نماز ادا کرے تو جیسے چاہے پڑھے۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Apostle of Allah ﷺ said: When any one of you leads the people in prayer, he should be brief for among them are the young and the aged, the weak and the sick. But when one of you prays by himself, he may (prolong) as he likes.
ائمہ کے لئے نماز پوری اور تخفیف کے ساتھ پڑھانے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَا قَامَ أَحَدُکُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ الصَّلَاةَ فَإِنَّ فِيهِمْ الْکَبِيرَ وَفِيهِمْ الضَّعِيفَ وَإِذَا قَامَ وَحْدَهُ فَلْيُطِلْ صَلَاتَهُ مَا شَائَ
ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کرے تو ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور جب اکیلا کھڑا ہو تو جیسے چاہے اپنی نماز ادا کرے۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Apostle of Allah ﷺ said: When any one of you leads the people in prayer, he should be brief for among them are the young and the aged, the weak and the sick. But when one of you prays by himself, he may (prolong) as he likes.
ائمہ کے لئے نماز پوری اور تخفیف کے ساتھ پڑھانے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِي النَّاسِ الضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ وَذَا الْحَاجَةِ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے کیونکہ لوگوں میں کمزور بیمار اور حاجت مند ہوتے ہیں۔
Hammam bin Munabbih reported: This is what Abu Hurairah (RA) transmitted to us from Muhammad the Messenger of Allah ﷺ , and he narrated (some) ahadith out of (these narrations and one of them is this): The Messenger of Allah ﷺ said: When any one of you stands to lead people In prayer, he should shorten it, for amongst them are the aged, and amongst them are the weak, but when he prays by himself, he may prolong his prayer as he likes.
ائمہ کے لئے نماز پوری اور تخفیف کے ساتھ پڑھانے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ بَدَلَ السَّقِيمَ الْکَبِيرَ
عبدالملک بن شعیب بن لیث، لیث بن سعد، یونس، ابن شہاب، ابوبکر بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح فرمایا لیکن اس حدیث میں بیمار کے بجائے بوڑھے کا لفظ ہے باقی حدیث اسی طرح ہے۔
Abu Bakr (RA) bin Abdul Rahman reported that he had heard Abu Hurairah (RA) say that the Messenger of Allah ﷺ said like it, but he substituted "the aged" for "the infirm".
ائمہ کے لئے نماز پوری اور تخفیف کے ساتھ پڑھانے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ طَلْحَةَ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيُّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أُمَّ قَوْمَکَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي شَيْئًا قَالَ ادْنُهْ فَجَلَّسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ وَضَعَ کَفَّهُ فِي صَدْرِي بَيْنَ ثَدْيَيَّ ثُمَّ قَالَ تَحَوَّلْ فَوَضَعَهَا فِي ظَهْرِي بَيْنَ کَتِفَيَّ ثُمَّ قَالَ أُمَّ قَوْمَکَ فَمَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمْ الْکَبِيرَ وَإِنَّ فِيهِمْ الْمَرِيضَ وَإِنَّ فِيهِمْ الضَّعِيفَ وَإِنَّ فِيهِمْ ذَا الْحَاجَةِ وَإِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ وَحْدَهُ فَلْيُصَلِّ کَيْفَ شَائَ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، عمرو بن عثمان، موسیٰ بن طلحہ، حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اسے فرمایا اپنی قوم کی امامت کیا کرو وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں اپنے دل میں کچھ محسوس کرتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا قریب ہوجا اور مجھے اپنے سامنے بٹھایا پھر اپنی ہتھیلی میرے سینے پر میری چھاتی کے درمیان رکھی پھر فرمایا گھوم جا اور اپنی ہتھیلی میری پیٹھ پر کندھوں کے درمیان رکھی پھر فرمایا اپنی قوم کی امامت کر جو امامت کرے اسے چاہیے کہ مختصر کرے کیونکہ ان میں بوڑھے مریض کمزور اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں اور جب تم میں سے کوئی اکیلے نماز ادا کرے تو جیسے چاہے ادا کرے۔
Uthman bin Abul-As at-Thaqafi reported: The Apostle of Allah ﷺ said to him: Lead your people in prayer. I said: Messenger of Allah. I perceive something (disturbing) in my soul. He (the Holy Prophet) asked me to draw near him and making me sit down in front of him he placed his hand on my breast between my nipples. and then, telling me to turn round, he placed it on my back between my shoulders. He then said: Act as an Imam for your people. He who acts as Imam of the people, he must be brief, for among them are the aged, among them are the sick, among them are the weak, and among them are the people who have business to attend. But when any of you prays alone, he may pray as he likes.
ائمہ کے لئے نماز پوری اور تخفیف کے ساتھ پڑھانے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ حَدَّثَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ قَالَ آخِرُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَمْتَ قَوْمًا فَأَخِفَّ بِهِمْ الصَّلَاةَ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ، سعید بن مسیب، حضرت عثمان بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے جو آخری عہد لیا تھا وہ یہ تھا کہ جب تو امامت کرے تو ان کو مختصر نماز پڑھائے۔
Uthman bin Abul-As reported: The last thing which the Messenger of Allah ﷺ instructed me was: When you lead the people in prayer, be brief.
ائمہ کے لئے نماز پوری اور تخفیف کے ساتھ پڑھانے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُوجِزُ فِي الصَّلَاةِ وَيُتِمُّ
خلف بن ہشام، ابوربیع، زہرانی، حماد بن زید، عبدالعزیز بن صہیب، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ہلکی اور کامل نماز پڑھاتے تھے۔
Anas reported: The Apostle of Allah ﷺ used to be brief and perfect in prayer.
ائمہ کے لئے نماز پوری اور تخفیف کے ساتھ پڑھانے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ
یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن قتیبہ بن سعید، یحیی، قتیبہ، ابوعوانہ، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سے پوری نماز اور سب سے ہلکی پڑھانے والے تھے۔
Anas reported: The Messenger of Allah ﷺ was among those whose prayers was brief and perfect.
ائمہ کے لئے نماز پوری اور تخفیف کے ساتھ پڑھانے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ مَا صَلَّيْتُ وَرَائَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلَاةً وَلَا أَتَمَّ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن ایوب، قتبیہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل بن جعفر، شریک بن عبداللہ بن نمیر، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ ہلکی اور زیادہ کامل نماز پڑھانے والے کسی امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی۔
Anas reported: I never prayed behind an Imam who was more brief and more perfect in prayer than the Messenger of Allah ﷺ .
ائمہ کے لئے نماز پوری اور تخفیف کے ساتھ پڑھانے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَنَسٌ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ بُکَائَ الصَّبِيِّ مَعَ أُمِّهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ الْخَفِيفَةِ أَوْ بِالسُّورَةِ الْقَصِيرَةِ
یحییٰ بن یحیی، جعفر بن سلیمان، ثابت بنانی، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں کسی بچے کی اپنی ماں کے پاس (فرض نماز میں شریک خاتوں کے پاس) رونے کی آواز سنتے تو چھوٹی سورت پڑھتے تھے۔
Anas reported: The Messenger of Allah ﷺ would listen to the crying of a lad in the company of his mother, in prayer, and he would recite a short surah or a small surah.
ائمہ کے لئے نماز پوری اور تخفیف کے ساتھ پڑھانے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَدْخُلُ الصَّلَاةَ أُرِيدُ إِطَالَتَهَا فَأَسْمَعُ بُکَائَ الصَّبِيِّ فَأُخَفِّفُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ بِهِ
محمد بن منہال ضریر، یزید بن زریع، سعید بن ابوعروبہ، قتادہ، حضرت انس ؓ بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نماز شروع کرتا ہوں اور میرا ارادہ اس کی طوالت کا ہوتا ہے لیکن میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو میں نماز میں تخفیف کردیتا ہوں اس کی والدہ کی شدت تکلیف کی وجہ سے۔
Anas bin Malik (RA) reported the Messenger of Allah ﷺ having said: When I begin the prayer I intend to make it long, but I hear a boy crying; I then shorten it because of his mothers feelings.
ارکان میں میانہ روی اور پورا کرنے میں تخفیف کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ حَامِدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ رَمَقْتُ الصَّلَاةَ مَعَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ قِيَامَهُ فَرَکْعَتَهُ فَاعْتِدَالَهُ بَعْدَ رُکُوعِهِ فَسَجْدَتَهُ فَجَلْسَتَهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فَسَجْدَتَهُ فَجَلْسَتَهُ مَا بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالِانْصِرَافِ قَرِيبًا مِنْ السَّوَائِ
حامد بن عمر بکراوی، ابوکامل، فضیل بن حسین جحدری، ابوعوانہ، ہلال بن ابی حمید، عبدالرحمن بن ابی لیلی، حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز ادا کرنے میں غور کیا تو میں نے آپ ﷺ کا قیام رکوع اور رکوع کے بعد اعتدال پھر سجدے میں پھر آپ ﷺ کا دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا پھر سجدہ اور اس کے بعد بیٹھنا سلام کے درمیان اور نماز سے فارغ ہونا تقریبا برابر تھے۔
Al-Bara bin Azib (RA) reported: I noticed the prayer of Muhammad ﷺ and saw his Qiyam (standing), his bowing, and then going back to the standing posture after bowing, his prostration, his sitting between the two prostrations, and his prostration and sitting between salutation and going away, all these were nearly equal to one another.
ارکان میں میانہ روی اور پورا کرنے میں تخفیف کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ قَالَ غَلَبَ عَلَی الْکُوفَةِ رَجُلٌ قَدْ سَمَّاهُ زَمَنَ ابْنِ الْأَشْعَثِ فَأَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَکَانَ يُصَلِّي فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ قَامَ قَدْرَ مَا أَقُولُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْئُ الْأَرْضِ وَمِلْئُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَائِ وَالْمَجْدِ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ قَالَ الْحَکَمُ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی فَقَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُا کَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُکُوعُهُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ وَسُجُودُهُ وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنْ السَّوَائِ قَالَ شُعْبَةُ فَذَکَرْتُهُ لِعَمْرِو بْنِ مُرَّةَ فَقَالَ قَدْ رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَی فَلَمْ تَکُنْ صَلَاتُهُ هَکَذَا
عبیداللہ بن معاذ، عنبری، شعبہ، حضرت حکم ؓ سے روایت ہے کہ ابن الاشعث کے زمانہ میں ایک آدمی نے کوفہ پر غلبہ حاصل کیا تو ابوعیبدہ بن عبداللہ ؓ کو اس نے حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں وہ نماز پڑھاتے تھے جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْئُ الْأَرْضِ وَمِلْئُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَائِ وَالْمَجْدِ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ اے اللہ تو اس تعریف کے لائق ہے جن سے تمام آسمان اور زمین اور جتنی جگہ تو چاہے بھر جائے تو ہی تعریف اور بڑائی کے لائق ہے جس کو تو کچھ عطا کرے اس سے کوئی چھین نہیں سکتا اور جس سے تو کوئی چیز لے لے اسے کوئی دے نہیں سکتا اور نہ کوئی کوشش تیرے مقابلہ میں کامیاب ہوسکتی ہے حکم کہتے ہیں میں نے یہ عبدالرحمن بن ابی لیلی سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا میں نے براء بن عازب سے سنا وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کا رکوع اور جب رکوع سے سر اٹھاتے اور آپ ﷺ کا سجدہ اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا تقریبا برابر برابر ہوتے تھے شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر عمرو بن مرہ سے کیا تو انہوں نے کہا میں نے ابن ابی لیلی کو دیکھا کہ ان کی نماز اس کیفیت کی نہ تھی۔
Hakam reported: There dominated in Kufa a man whose name was mentioned as Zaman bin al-Ashath, who ordered Abu Ubaidah bin Abdullah to lead people in prayer and he accordingly used to lead them. Whenever he raised his head after bowing, he stood up equal to the time that I can recite (this supplication): O Allah! our Lord! unto Thee be the praise which would fill the heavens and the earth, and that which will please Thee besides them. Worthy art Thou of all praise and glory. None can prevent that which Thou bestowest, and none can bestow that which Thou preventest. And the greatness of the great will not avail him against Thee. Hakam (the narrator) said: I made a mention of that to Abdul Rahman ibn Abi Laila who reported: I heard al-Bara bin Azib (RA) say that the prayer of the Messenger of Allah ﷺ and his bowing, and when he lifted his head from bowing, and his prostration, and between the two prostrations (all these acts) were nearly proportionate. I made a mention of that to Ar bin Murrah and he said: I saw Ibn Abi Laili (saying the prayer), but his prayer was not like this.