نماز کی اقامت کے بعد نفل نماز شروع کرنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ فَرَأَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي وَالْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ فَقَالَ أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا
قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، سعد بن ابراہیم، حفص بن عاصم، ابن بحینہ سے روایت ہے کہ صبح کی نماز کی اقامت کہی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اس حال میں کہ مؤذن اقامت کہہ رہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو صبح کی چار رکعات نماز پڑھتا ہے۔
Ibn Buhaina reported: The dawn prayer had commenced when the Messenger of Allah ﷺ saw a person observing prayer, whereas the Muadhdhin had pronounced when he hears the Iqamah. Upon this he (the Holy Prophet ﷺ) remarked: Do you say four (rakahs) of Fard in the dawn prayer?
نماز کی اقامت کے بعد نقل نماز شروع کرنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ کُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمٍ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا فُلَانُ بِأَيِّ الصَّلَاتَيْنِ اعْتَدَدْتَ أَبِصَلَاتِکَ وَحْدَکَ أَمْ بِصَلَاتِکَ مَعَنَا
ابوکامل جحدری، حماد ابن زید، حامد بن عمر بکروای، عبدالواحد، ابن زیاد، ابن نمیر، ابومعاویہ، عاصم، زہیر بن حرب، مروان بن معاویہ، عبداللہ بن سرجس سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے، اس آدمی نے مسجد کے ایک کونے میں دو رکعات نماز پڑھی پھر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، جب رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے فلاں آدمی تو نے دو نمازوں میں کس کو فرض قرار دیا ہے کیا جو نماز تو نے اکیلے پڑھی یا وہ نماز جو تو نے ہمارے ساتھ پڑھی ہے؟
Abdullah bin Sarjis reported: A person entered the mosque, while the Messenger of Allah ﷺ was leading the dawn prayer. He observed two rakahs in a corner of the mosque, and then joined the Messenger of Allah ﷺ in prayer. When the Messenger of Allah ﷺ had pronounced salutations (he had concluded the prayer), he said: O, so and so, which one out of these two prayers did you count (as your Fard prayer), the one that you observed alone or the prayer that you observed with us?
یحیی بن یحیی، سلیمان بن بلال، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، عبدالملک بن سعید، ابی حمید، ابواسید
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ أَوْ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمْ الْمَسْجِدَ فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ قَالَ مُسْلِم سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ يَحْيَی يَقُولُ کَتَبْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ کِتَابِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ يَحْيَی الْحِمَّانِيَّ يَقُولُا وَأَبِي أُسَيْدٍ
یحییٰ بن یحیی، سلیمان بن بلال، ربیعہ بن ابوعبدالرحمن، عبدالملک بن سعید، ابوحمید، ابواسید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہئے کہ یہ دعا کہے (اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ ) اے اللہ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب مسجد سے نکلے تو اسے چاہئے کہ یہ کہے (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ ) اے اللہ میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔
Abu Usaid reported that the Messenger of Allah ﷺ said: When any one of you enters the mosque, he should say: "O Allah! open for me the doors of Thy Mercy" ; and when he steps out he should say: O Allah! I beg of Thee Thy Grace." (Imam Muslim said: I heard Yahya saying: I transcribed this hadith from the compilation of Sulaiman bin Bilal (RA) ).
یحیی بن یحیی، سلیمان بن بلال، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، عبدالملک بن سعید، ابی حمید، ابواسید
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ أَوْ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
حامد بن عمر بکراوی، بشر بن مفضل، عمارہ بن عوانہ، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، عبدالملک بن سعید بن سوید انصاری اس سند کے ساتھ حضرت ابوحمید یا حضرت اسید ؓ نے نبی ﷺ سے اسی مذکورہ حدیث کی طرح نقل فرمایا۔
A hadith like this has been narrated from the Apostle of Allah ﷺ by Abu Usaid.
دو رکعت تحیة المسجد پڑھنے کے استح اور نماز سے پہلے بیٹھنے کی کراہت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا مَالِکٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمْ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْکَعْ رَکْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، قتیبہ بن سعید، مالک، یحییٰ بن یحیی، مالک بن عامر بن عبداللہ بن زبیر، حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہئے کہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لے۔
Abu Qatadah (RA) (a Companion of the Prophet) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When any one of you enters the mosque, he should observe two rakahs (of Nafl prayer) before sitting.
دو رکعت تحیة المسجد پڑھنے کے استح اور نماز سے پہلے بیٹھنے کی کراہت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمِ بْنِ خَلْدَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ النَّاسِ قَالَ فَجَلَسْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَنَعَکَ أَنْ تَرْکَعَ رَکْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجْلِسَ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُکَ جَالِسًا وَالنَّاسُ جُلُوسٌ قَالَ فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمْ الْمَسْجِدَ فَلَا يَجْلِسْ حَتَّی يَرْکَعَ رَکْعَتَيْنِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین بن علی، زائدہ، عمرو بن یحییٰ انصاری، محمد بن یحییٰ بن حبان، عمرو بن سلیم بن خلدہ انصاری، ابوقتادہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا اس حال میں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے، حضرت ابوقتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں بھی بیٹھ گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تجھے بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نے آپ ﷺ کو بیٹھے ہوئے اور دوسرے لوگوں کو بھی بیٹھے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا جب بھی تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ نہ بیٹھے جب تک کہ دو رکعات نہ پڑھ لے۔
Abu Qatadah (RA)h (RA), a Companion of the Messenger of Allah ﷺ , said: I entered the mosque, when the Messenger of Allah ﷺ had been sitting among people, and I also sat down among them. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: What prevented you from offering two rakahs (of Nafl prayer) before sitting down? I said: Messenger of Allah, I saw you sitting and people sitting (around you and I, therefore, sat in your company). He (the Holy Prophet) then said: When anyone among you enters the mosque, he should not sit till he has observed two rakahs.
سفر سے واپس آنے پر سب سے پہلے مسجد میں آکر دو رکعتیں پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَانَ لِي عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ فَقَضَانِي وَزَادَنِي وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ الْمَسْجِدَ فَقَالَ لِي صَلِّ رَکْعَتَيْنِ
احمد بن جو اس، ابوعاصم، عبیداللہ، سفیان، محارب بن دثار، جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ پر میرا کچھ قرض تھا آپ ﷺ نے وہ قرض مجھے ادا فرمایا اور کچھ زیادہ بھی عطا فرمایا اور میں مسجد میں آپ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا دو رکعت نماز پڑھو۔
Jabir bin Abdullah reported: The Apostle of Allah ﷺ owed me a debt; he paid me back and made an addition (of this). I entered the mosque and he (the Holy Prophet) said to me: Observe two rakahs of prayer.
سفر سے واپس آنے پر سب سے پہلے مسجد میں آکر دو رکعتیں پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبٍ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا اشْتَرَی مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ فَأُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، محارب، جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ایک اونٹ خریدا تو جب میں مدینہ آیا تو آپ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں مسجد میں آکر دو رکعت نماز پڑھوں۔
Jabir bin Abdullah reported: The Messenger of Allah ﷺ bought a camel from me. When he came back to Madinah, he ordered me to come to the mosque and observed two rakahs of prayer.
سفر سے واپس آنے پر سب سے پہلے مسجد میں آکر دو رکعتیں پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ وَهْبِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي وَأَعْيَا ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلِي وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ فَوَجَدْتُهُ عَلَی بَابِ الْمَسْجِدِ قَالَ الْآنَ حِينَ قَدِمْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَدَعْ جَمَلَکَ وَادْخُلْ فَصَلِّ رَکْعَتَيْنِ قَالَ فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ
محمد بن مثنی، عبدالوہاب، عبیداللہ ثقفی، وہب ابن کیسان، جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلا، میرا اونٹ آہستہ آہستہ چلتا تھا اور تھک جاتا تھا اور رسول اللہ ﷺ مجھ سے پہلے چلے گئے اور میں اگلے دن پہنچا تو میں مسجد میں آیا، آپ ﷺ کو میں نے مسجد کے دروازے پر پایا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اس وقت آیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے اونٹ کو چھوڑ دو اور مسجد میں داخل ہو کردو رکعت نماز پڑھو، پھر میں مسجد میں داخل ہوا میں نے نماز پڑھی پھر واپس لوٹا۔
Jabir bin Abdullah reported: I went with the Messenger of Allah ﷺ on an expedition and my camel delayed me and I was exhausted. The Messenger of Allah ﷺ thus came earlier than I, whereas I came on the next day and went to the mosque and found him (the Holy Prophet) at the gate of the mosque. He said: It is now that you have come. I said. Yes. He said: Leave your camel and enter (the mosque) and observe two rakahs. He (the narrator) said: So I entered and observed (two rakahs) of prayer and then went back.
سفر سے واپس آنے پر سب سے پہلے مسجد میں آکر دو رکعتیں پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ ح و حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا جَمِيعًا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبٍ وَعَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبٍ عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ لَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ إِلَّا نَهَارًا فِي الضُّحَی فَإِذَا قَدِمَ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّی فِيهِ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ فِيهِ
محمد بن مثنی، ضحاک، ابوعاصم، محمود بن غیلان، عبدالرزاق، ابن جریج، ابن شہاب، حضرت کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کسی سفر سے واپس نہیں آتے مگر دن میں چاشت کے وقت سب سے پہلے مسجد میں تشریف لاتے پھر اس میں دو رکعات نماز پڑھتے پھر مسجد میں بیٹھتے۔
Kab bin Malik reported: The Messenger of Allah ﷺ did not come back from the journey but by day in the forenoon, and when he arrived, he went first to the mosque, and having prayed two rakahs in it he sat down in it.
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ هَلْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَی قَالَتْ لَا إِلَّا أَنْ يَجِيئَ مِنْ مَغِيبِهِ
یحییٰ بن یحیی، یزید بن زریع، سعید جریری، عبداللہ بن شقیق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ نہیں سوائے اس کے کہ آپ ﷺ کسی سفر وغیرہ سے تشریف لاتے۔
Abdullah bin Shaqiq reported: I asked Aisha whether the Apostle of Allah ﷺ used to observe the forenoon prayer. She said: No, except when he came back from a journey.
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا کَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَيْسِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَی قَالَتْ لَا إِلَّا أَنْ يَجِيئَ مِنْ مَغِيبِهِ
عبیداللہ بن معاذ عنبری، کہمس بن حسن، عبداللہ بن شقیق فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ نہیں سوائے اس کے کہ آپ کسی سفر وغیرہ سے تشریف لاتے۔
Abdullah bin Shaqiq reported: I asked Aisha whether the Apostle of Allah ﷺ used to observe the forenoon prayer. She said: No, but when he came back from the journey.
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي سُبْحَةَ الضُّحَی قَطُّ وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا وَإِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عروہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ نے کبھی چاشت کی نماز پڑھی ہو اور میں اس کو پڑھتی ہوں اور رسول اللہ ﷺ کسی عمل کو اس لئے چھوڑتے تھے حالانکہ اس عمل کو آپ ﷺ پسند فرماتے صرف اس ڈر سے کہ لوگ بھی وہ عمل کرنے لگ جائیں گے پھر وہ عمل ان پر فرض کردیا جائے گا۔
Urwa reported Aisha to be saying: I have never seen the Messenger of Allah ﷺ observing the supererogatory prayer of the forenoon, but I observed it. And if the Messenger of Allah ﷺ abandoned any act which he in fact loved to do, it was out of fear that if the people practiced it constantly, it might become obligatory for them.
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي الرِّشْکَ حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا کَمْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَی قَالَتْ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَيَزِيدُ مَا شَائَ
شیبان بن فروخ، عبدالوارث، یزید، معاذہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ چاشت کی نماز کی کتنی رکعات پڑھا کرتے تھے انہوں نے فرمایا چار رکعتیں اور جتنی چاہتے زیادہ پڑھتے۔
Muadha asked Aisha (Allah be pleased with her) how many rakahs Allahs Messenger ﷺ prayed at the forenoon prayer. She replied: Four rakahs, but sometimes more as he pleased.
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ يَزِيدُ مَا شَائَ اللَّهُ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، یزید اس سند کے ساتھ اس طرح حدیث روایت کی گئی ہے۔ (اور اس میں راوی نے کہا کہ اور جتنی اللہ چاہے زیادہ پڑھتے)
A hadith like this has been reported by the same chain of transmitters, but with this alteration that the transmitter said: "As Allah pleased."
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ أَنَّ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةَ حَدَّثَتْهُمْ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَی أَرْبَعًا وَيَزِيدُ مَا شَائَ اللَّهُ
یحییٰ بن حبیب، خالد بن حارث، سعید، قتادہ، معاذہ، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ چاشت کی نماز کی چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور جتنی اللہ چاہتا زیادہ پڑھ لیتے۔
Muaada Adawiyya reported Aisha as saying: The Messenger of Allah ﷺ used to observe four rakahs in the forenoon prayer and he sometimes observed more as Allah pleased.
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
اسحاق بن ابراہیم، ابن بشار، معاذ بن ہشام، قتادہ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے۔
A hadith like this has been narrated by Qatada with the same chain of transmitters.
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی قَالَ مَا أَخْبَرَنِي أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَی إِلَّا أُمُّ هَانِئٍ فَإِنَّهَا حَدَّثَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَکَّةَ فَصَلَّی ثَمَانِي رَکَعَاتٍ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّی صَلَاةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهُ کَانَ يُتِمُّ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ وَلَمْ يَذْکُرْ ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ قَوْلَهُ قَطُّ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ، عبدالرحمن بن ابی لیلی فرماتے ہیں کہ مجھے کسی نے خبر نہیں دی کہ اس نے رسول اللہ کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا سوائے ام ہانی کے، کیونکہ وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ فتح مکہ کے دن میرے گھر تشریف لائے اور آپ ﷺ نے آٹھ رکعات پڑھیں اور اتنی جلدی میں پڑھیں کہ میں نے پہلے کبھی اتنی جلدی پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے اس کے کہ آپ ﷺ رکوع و سجود پورے پورے فرماتے تھے اور ابن بشار نے اپنی حدیث میں (قَطُّ ) کا لفظ ذکر نہیں کیا۔
Abdul Rahman bin Abu Laila reported: No one has ever narrated to me that he saw the Apostle of Allah ﷺ observing the forenoon prayer, except Umm Hani. She, however, narrated that the Apostle of Allah ﷺ entered her house on the day of the Conquest of Makkah and prayed eight rakahs (adding): I never saw a shorter prayer than it except that he performed the bowing and prostration completely. But (one of the narrators) Ibn Bashshar in his narration made no mention of the word: "Never".
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ سَأَلْتُ وَحَرَصْتُ عَلَی أَنْ أَجِدَ أَحَدًا مِنْ النَّاسِ يُخْبِرُنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ سُبْحَةَ الضُّحَی فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُحَدِّثُنِي ذَلِکَ غَيْرَ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَتْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَی بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ يَوْمَ الْفَتْحِ فَأُتِيَ بِثَوْبٍ فَسُتِرَ عَلَيْهِ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ قَامَ فَرَکَعَ ثَمَانِيَ رَکَعَاتٍ لَا أَدْرِي أَقِيَامُهُ فِيهَا أَطْوَلُ أَمْ رُکُوعُهُ أَمْ سُجُودُهُ کُلُّ ذَلِکَ مِنْهُ مُتَقَارِبٌ قَالَتْ فَلَمْ أَرَهُ سَبَّحَهَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ قَالَ الْمُرَادِيُّ عَنْ يُونُسَ وَلَمْ يَقُلْ أَخْبَرَنِي
حرملہ بن یحیی، محمد بن سلمہ، عبداللہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، ابن عبداللہ بن حارث، عبداللہ بن حارث، ابن نوفل فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا اور مجھے اس بات کی آرزو بھی تھی کہ میں کسی ایسے آدمی کو ملوں جو مجھے خبر دے کہ رسول اللہ چاشت کی نماز پڑھتے تھے، تو مجھے کوئی بھی نہیں ملا جو مجھے یہ بیان کرتا ہو سوائے ام ہانی بنت ابوطالب کے، انہوں نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے روز دن چڑھے کے بعد تشریف لائے پھر ایک کپڑا لایا گیا جس سے پردہ کیا گیا اور آپ ﷺ نے غسل فرمایا: پھر آپ ﷺ نے آٹھ رکعتیں پڑھیں، مجھے نہیں معلوم کہ اس میں آپ ﷺ کا قیام لمبا تھا یا رکوع و سجود، اس کا ہر رکن تقریبا برابر تھا، حضرت ام ہانی ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ نماز نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد پڑھتے دیکھا ہے، مرادی نے یونس سے روایت کیا ہے اور اس میں (أَخْبَرَتْنِي) نہیں کہا۔
Abdullah bin Harith bin Naufal reported: I had been asking about, as I was desirous to find one among people who should inform me, whether the Messenger of Allah ﷺ observed the forenoon prayer, but I found none to narrate that to me except Umm Hani, daughter of Abu Talib (the real sister of Hadrat Ali), who told me that on the day of the Conquest the Messenger of Allah ﷺ came (to our house) after the dawn had (sufficiently) arisen. A cloth was brought and privacy was provided for him (the Holy Prophet). He took a bath and then stood up and observed eight rakahs. I do not know whether his Qiyam (standing posture) was longer, or bending or prostration or all of them were of equal duration. She (Umm Hani) further said: I never saw him saying this Nafl prayer prior to it or subsequently. (Al-Muradi narrated on the authority of Yunus that he made no mention of the words: "He informed me." )
نماز چاشت کے پڑھنے کے استح اور ان کی رکعتوں کی تعداد کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَی أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ تَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ قَالَتْ فَسَلَّمْتُ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ قُلْتُ أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ قَالَ مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّی ثَمَانِيَ رَکَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُهُ فُلَانُ ابْنُ هُبَيْرَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ وَذَلِکَ ضُحًی
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابونضر، ام ہانی بنت ابی طالب فرماتی ہیں کہ میں فتح مکہ والے سال رسول اللہ ﷺ کی طرف گئی تو میں نے آپ ﷺ کو غسل کرتے ہوئے پایا اور حضرت فاطمہ ؓ آپ ﷺ کی بیٹی نے ایک کپڑے کے ساتھ پردہ کیا ہوا تھا، حضرت ام ہانی ؓ کہتی ہیں کہ میں نے سلام کیا، آپ ﷺ نے فرمایا یہ کون ہے؟ میں نے کہا، ام ہانی ابوطالب کی بیٹی! آپ ﷺ نے فرمایا مرحبا! ام ہانی ہو؟ جب آپ ﷺ غسل سے فارغ ہوئے تو ایک ہی کپڑے میں لپٹے ہوئے کھڑے ہو کر آٹھ رکعتیں نماز پڑھیں، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میری ماں جائے حضرت علی ؓ بن ابی طالب ایک ایسے آدمی کو قتل کرنا چاہتے ہیں جسے میں پناہ دے چکی ہوں اور وہ آدمی فلاں بن ہبیرہ ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ام ہانی ہم نے پناہ دی جسے تو نے پناہ دی، حضرت ام ہانی فرماتی ہیں کہ وہ نماز چاشت کی نماز تھی۔
Abu Murra, the freed slave of Umm Hani, daughter of Abu Talib, reported Umm Hani to be saying: I went to the Messenger of Allah ﷺ on the day of the Conquest of Makkah and found him taking bath, and Fatimah, his daughter, had provided him privacy with the help of a cloth. I gave him salutation and he said: Who is she? I said: It is Umm Hani, daughter of Abu Talib. He (the Holy Prophet) said: Greeting for Umm Hani. When he had completed the bath, he stood up and observed eight rakahs wrapped up in one cloth. When he turned back (after the prayer), I said to him: Messenger of Allah, the son of my mother Ali bin Abu Talib is going to kill a person, Fulan bin Hubaira whom I have given protection. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: We too have given protection whom you have given protection, O Umm Hani. Umm Hani said: It was the forenoon (prayer).