مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 7 · 267 hadiths · Page 4 of 14

1630Sahih Muslim

کسی خوف کے بغیر دو نمازوں کو اکٹھا کرکے پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا قُرَّةُ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاةِ فِي سَفْرَةٍ سَافَرَهَا فِي غَزْوَةِ تَبُوکَ فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ قَالَ سَعِيدٌ فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا حَمَلَهُ عَلَی ذَلِکَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ

یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد ابن حارث، ابوزبیر، سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ نے ہمیں بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سفر میں نمازوں کو جمع فرمایا وہ سفر کہ جس میں آپ ﷺ غزوہ تبوک میں تشریف لے گئے تھے، آپ ﷺ نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازوں کو اکٹھا پڑھا، حضرت سعید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے چاہا کہ آپ ﷺ کی امت کو کوئی مشقت نہ ہو۔

Ibn Abbas reported that the Messenger of Allah ﷺ combined the prayers as he set on a journey in the expedition to Tabuk. He combined the noon prayer with the afternoon prayer and the sunset prayer with the Isha prayer. Said (one of the rawis) said to Ibn Abbas (RA) : What prompted him to do this? He said: He wanted that his Ummah should not be put to (unnecessary) hardship.

1631Sahih Muslim

کسی خوف کے بغیر دو نمازوں کو اکٹھا کرکے پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرٍ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوکَ فَکَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ جَمِيعًا

احمد بن عبداللہ بن یونس، زہیر، ابوزبیر، ابوطفیل، عامر، معاذ سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک نکلے تو آپ ﷺ ظہر اور عصر کی نمازوں کو اکٹھا کرکے اور مغرب اور عشاء کی نمازوں کو اکٹھا کر کے پڑھتے تھے۔

Muadh reported: We set out with the Messenger of Allah ﷺ on the Tabuk expedition, and he observed the noon and afternoon prayers together and the sunset and Isha prayers together.

1632Sahih Muslim

کسی خوف کے بغیر دو نمازوں کو اکٹھا کرکے پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ أَبُو الطُّفَيْلِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوکَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ قَالَ فَقُلْتُ مَا حَمَلَهُ عَلَی ذَلِکَ قَالَ فَقَالَ أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ

یحییٰ بن حبیب، خالد ابن حارث، قرہ بن خالد، ابوزبیر، عامر بن واثلہ ابوطفیل، معاذ بن جبل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک میں ظہر اور عصر کی نمازوں اور مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع فرمایا: راوی عامر بن واثلہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاذ سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے ایسے کیوں کیا؟ حضرت معاذ نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے چاہا کہ آپ ﷺ کی امت کو کوئی مشقت نہ ہو۔

Muadh bin Jabal reported: The Messenger of Allah ﷺ combined in the expedition to Tabuk the noon prayer with the afternoon prayer and the sunset prayer with the Isha prayer. He (one of the narrators) said: What prompted him to do that? He (Muadh) replied that he (the Holy Prophet) wanted that his Ummah should not be put to (unnecessary) hardship.

1633Sahih Muslim

کسی خوف کے بغیر دو نمازوں کو اکٹھا کرکے پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ فِي حَدِيثِ وَکِيعٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ لِمَ فَعَلَ ذَلِکَ قَالَ کَيْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا أَرَادَ إِلَی ذَلِکَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، ابوکریب، ابوسعید اشج، وکیع، اعمش، حبیب بن ثابت، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں بغیر کسی خوف اور بغیر بارش وغیرہ کے ظہر و عصر، مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع فرمایا اور وکیع کی حدیث ہے انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے اس طرح کیوں کیا؟ انہوں نے کہا تاکہ آپ کی امت کو کوئی مشقت نہ ہو اور حضرت ابومعاویہ کی حدیث میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا گیا کہ آپ ﷺ نے کس ارادے سے ایسے فرمایا انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے چاہا کہ آپ ﷺ کی امت کو کوئی مشقت نہ ہو۔

Ibn Abbas reported that the Messenger of Allah ﷺ combined the noon prayer with the afternoon prayer and the sunset prayer with the Isha prayer in Madinah without being in a state of danger or rainfall. And in the hadith transmitted by Waki (the words are):" I said to Ibn Abbas (RA) : What prompted him to do that? He said: So that his (Prophets) Ummah should not be put to (unnecessary) hardship." And in the hadith transmitted by Muawiyah (the words are):" It was said to Ibn Abbas (RA) : What did he intend thereby? He said he wanted that his Ummah should not be put to unnecessary hardship."

1634Sahih Muslim

کسی خوف کے بغیر دو نمازوں کو اکٹھا کرکے پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا قُلْتُ يَا أَبَا الشَّعْثَائِ أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ وَعَجَّلَ الْعَصْرَ وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ وَعَجَّلَ الْعِشَائَ قَالَ وَأَنَا أَظُنُّ ذَاکَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، عمرو جابر بن زید، ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ آٹھ رکعتیں (ظہر اور عصر) اکٹھی کر کے اور سات رکعتیں (مغرب اور عشاء) اکٹھی کر کے پڑھیں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے ابوشعثاء! میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے ظہر کی نماز میں دیر کر کے اور عصر کی نماز جلدی پڑھی اور مغرب کی نماز میں دیر کرکے عشاء کی نماز جلدی پڑھی، انہوں نے کہا کہ میرا بھی اسی طرح خیال ہے۔

Ibn Abbas reported: I observed with the Apostle of Allah ﷺ eight (rakahs) in combination, and seven rakahs in combination. I (one of the narrators) said: O Abd Shatha, I think that he (the Holy Prophet) had delayed the noon prayer and hastened the afternoon prayer, and he delayed the sunset prayer and hastened the Isha prayer. He said: I also think so.

1635Sahih Muslim

کسی خوف کے بغیر دو نمازوں کو اکٹھا کرکے پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی بِالْمَدِينَةِ سَبْعًا وَثَمَانِيًا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ

ابوربیع زہرانی، حماد بن زید، عمرو بن دینار، جابر بن زید، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں ساتھ اور آٹھ رکعتیں یعنی ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء اکٹھی اکٹھی پڑھی ہیں۔

Ibn Abbas reported that the Messenger of Allah ﷺ observed in Madinah seven (rakahs) and eight (rakahs), i. e. (be combined) the noon and afternoon prayers (eight rakahs) and the sunset and Isha prayers (seven rakahs).

1636Sahih Muslim

کسی خوف کے بغیر دو نمازوں کو اکٹھا کرکے پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمًا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَبَدَتْ النُّجُومُ وَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ قَالَ فَجَائَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ لَا يَفْتُرُ وَلَا يَنْثَنِي الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَتُعَلِّمُنِي بِالسُّنَّةِ لَا أُمَّ لَکَ ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ فَحَاکَ فِي صَدْرِي مِنْ ذَلِکَ شَيْئٌ فَأَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَسَأَلْتُهُ فَصَدَّقَ مَقَالَتَهُ

ابوربیع، حماد، زبیر بن خریت، عبداللہ بن شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ نے ایک دن عصر کی نماز کے بعد جس وقت کہ سورج غروب ہوگیا اور ستارے ظاہر ہوگئے، ہمیں خطبہ دیا اور لوگ کہنے لگے نماز نماز! راوی نے کہا کہ پھر بنی تمیم کا ایک آدمی آیا وہ خاموش نہیں رہا تھا اور نہ ہی نماز نماز کہنے سے باز آرہا تھا، تو حضرت ابن عباس نے فرمایا تیری ماں مرجائے! کیا تو مجھے سنت سکھا رہا ہے؟ پھر حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کی نمازوں کو اکٹھا کر کے پڑھا ہے، عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ اس سے میرے دل میں کچھ خلجان سا محسوس ہوا تو میں حضرت ابوہریرہ ؓ کے پاس آیا میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے تصدیق فرمائی۔

Abdullah bin Shaqiq reported: Ibn Abbas one day addressed us in the afternoon (after the afternoon prayer) till the sun disappeared and the stars appeared, and the people began to say: Prayer, prayer. A person from Banu Tamim came there. He neither slackened nor turned away, but (continued crying): Prayer, prayer. Ibn Abbas said: May you be deprived of your mother, do you teach me Sunnah? And then he said: I saw the Messenger of Allah ﷺ combining the noon and afternoon prayers and the sunset and Isha prayers. Abdullah bin Shaqiq said: Some doubt was created in my mind about it. So I came to Abu Hurairah (RA) and asked him (about it) and he testified his assertion.

1637Sahih Muslim

کسی خوف کے بغیر دو نمازوں کو اکٹھا کرکے پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ الصَّلَاةَ فَسَکَتَ ثُمَّ قَالَ الصَّلَاةَ فَسَکَتَ ثُمَّ قَالَ الصَّلَاةَ فَسَکَتَ ثُمَّ قَالَ لَا أُمَّ لَکَ أَتُعَلِّمُنَا بِالصَّلَاةِ وَکُنَّا نَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابن ابی عمر، وکیع، عمران بن حدیر، عبداللہ بن شقیق فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہا نماز! آپ خاموش رہے، پھر اس آدمی نے کہا نماز! آپ خاموش رہے، پھر اس آدمی نے کہا نماز! آپ خاموش رہے۔ تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا تیری ماں مرجائے! کیا تو ہمیں نماز سکھاتا ہے؟ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں دو نمازوں کو اکٹھا پڑھا کرتے تھے۔

Abdullah bin Shaqiq al-Uqaili reported: A person said to Ibn Abbas (as he delayed the prayer): Prayer. He kept silence. He again said: Prayer. He again kept silence, and he again cried: Prayer. He again kept silence and said: May you be deprived of your mother, do you teach us about prayer? We used to combine two prayers during the life of the Messenger of Allah ﷺ .

1638Sahih Muslim

نماز پڑھنے کے بعد دائیں اور بائیں طرف سے پھر نے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَا يَجْعَلَنَّ أَحَدُکُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْئًا لَا يَرَی إِلَّا أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ أَکْثَرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، وکیع، اعمش، عمارہ، اسود، عبداللہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی آدمی اپنی ذات کو شیطان کا ہرگز حصہ نہ بنائے یہ نہ دیکھے کہ نماز کے بعد صرف دائیں جانب ہی پھرنا اس پر ضروری ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو بہت زیادہ مرتبہ دیکھا ہے کہ آپ ﷺ بائیں طرف بھی پھرتے تھے۔

Abdullah reported: None of you should give a share to Satan out of your self. He should not deem that it is necessary for him to turn but to the right only (after prayer). I saw the Messenger of Allah ﷺ turning to the left.

1639Sahih Muslim

نماز پڑھنے کے بعد دائیں اور بائیں طرف سے پھر نے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ وَعِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

اسحاق بن ابراہیم، جریر، عیسیٰ بن یونس، علی بن خشرم، عیسیٰ اس سند کے ساتھ حضرت اعمش ؓ سے اسی طرح یہ حدیث نقل کی گئی ہے۔

A hadith like this has been narrated by Amash, with the same chain of transmitters.

1640Sahih Muslim

نماز پڑھنے کے بعد دائیں اور بائیں طرف سے پھر نے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ السُّدِّيِّ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا کَيْفَ أَنْصَرِفُ إِذَا صَلَّيْتُ عَنْ يَمِينِي أَوْ عَنْ يَسَارِي قَالَ أَمَّا أَنَا فَأَکْثَرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ

قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، سدی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ سے پوچھا کہ جب میں نماز پڑھ لوں (تو اس کے بعد) کس طرف پھروں، دائیں طرف یا بائیں طرف؟ حضرت انس ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو زیادہ تر دائیں طرف پھرتے دیکھا ہے۔

Suddi reported: I asked Anas how I should turn-to the right or to the left-when I say my prayers. He said: I have very often seen the Messenger of Allah ﷺ turning to the right.

1641Sahih Muslim

نماز پڑھنے کے بعد دائیں اور بائیں طرف سے پھر نے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ السُّدِّيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، سفیان، سدی، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ دائیں طرف پھرتے تھے۔

Anas reported: The Apostle of Allah ﷺ used to turn to the right (at the end of the prayer).

1642Sahih Muslim

امام کے دائیں طرف کھڑے ہونے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ ابْنِ الْبَرَائِ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ کُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْبَبْنَا أَنْ نَکُونَ عَنْ يَمِينِهِ يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَالَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ رَبِّ قِنِي عَذَابَکَ يَوْمَ تَبْعَثُ أَوْ تَجْمَعُ عِبَادَکَ

ابوکریب، ابن ابی زائدہ، مسعر، ثابت بن عبید، براء فرماتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم آپ ﷺ کے دائیں طرف کھڑے ہونے کو پسند کرتے تھے تاکہ آپ ﷺ ہماری طرف رخ کر کے متوجہ ہوں، حضرت براء فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ( رَبِّ قِنِي عَذَابَکَ يَوْمَ تَبْعَثُ أَوْ تَجْمَعُ عِبَادَکَ ) اے پروردگار مجھے اس دن کے عذاب سے بچانا جس دن تو اپنے بندوں کو جمع فرمائے گا۔

Bara reported: When we prayed behind the Messenger of Allah ﷺ we cherished to be on his right side so that his face would turn towards us (at the end of the prayer), and he (the narrator) said: I heard him say: O my Lord! save me from Thy torment on the Day when Thou wouldst raise or gather Thy servants.

1643Sahih Muslim

امام کے دائیں طرف کھڑے ہونے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ

ابوکریب، زہیر بن حرب، وکیع، مسعر اس سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں (يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ) کے الفاظ کا ذکر نہیں ہے۔

This hadith has been reported by Misar with the same chain of transmitters, but he made no mention of: " His face would turn towards us."

1644Sahih Muslim

نماز کی اقامت کے بعد نقل نماز شروع کرنے کی کراہت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ وَرْقَائَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَکْتُوبَةُ

احمد بن حنبل، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن دینار، عطاء بن یسار، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب نماز کی اقامت کہی جائے تو کوئی نماز نہ پڑھی جائے سوائے فرض نماز کے۔

Abu Hurairah (RA) reported the Apostle of Allah ﷺ as saying: When the prayer commences then there is no prayer (valid), but the obligatory prayer. This hadith has been narrated by Warqa with the same chain of transmitters.

1645Sahih Muslim

نماز کی اقامت کے بعد نقل نماز شروع کرنے کی کراہت کے بیان میں

حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَابْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنِي وَرْقَائُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

محمد بن حاتم، ابن رافع، شبابہ، ورقاء اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This Arabic text is part of previous Hadeeth No.8945 but not taken with that and not transmitted.

1646Sahih Muslim

نماز کی اقامت کے بعد نقل نماز شروع کرنے کی کراہت کے بیان میں

حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَائَ بْنَ يَسَارٍ يَقُولُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَکْتُوبَةُ

یحییٰ بن حبیب حارثی، روح، زکریا بن اسحاق، عمرو بن دینار، عطاء بن یسار، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب نماز کی اقامت کہی جائے تو کوئی نماز نہ پڑھی جائے سوائے فرض نماز کے۔

Abu Hurairah (RA) reported the Apostle of Allah ﷺ as saying: When the prayer commences, there is no prayer but the obligatory one.

1647Sahih Muslim

نماز کی اقامت کے بعد نقل نماز شروع کرنے کی کراہت کے بیان میں

حَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ إِسْحَقَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

عبد بن حمید، عبدالرزاق، زکریا بن اسحاق اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

A hadith like this has been reported by Ishaq with the same chain of transmitters.

1648Sahih Muslim

نماز کی اقامت کے بعد نقل نماز شروع کرنے کی کراہت کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ قَالَ حَمَّادٌ ثُمَّ لَقِيتُ عَمْرًا فَحَدَّثَنِي بِهِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ

حسن حلوانی، یزید بن ہارون، حماد بن زید، ایوب، عمرو بن دینار، عطاء بن یسار، ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث نقل فرمائی، حماد نے کہا کہ پھر میں نے حضرت عمرو سے ملاقات کی انہوں نے مجھے حدیث بیان کی لیکن مرفوع نہیں (یعنی رسول اللہ ﷺ کی طرف نسبت کر کے بیان نہیں فرمائی)۔

This hadith has been narrated by Abu Hurairah (RA) with another chain of transmitters. Hammad (one of the narrators) said: I then met Amr (the other narrator) and he narrated it to me, but it was not transmitted directly from the Messenger of Allah ﷺ .

1649Sahih Muslim

نماز کی اقامت کے بعد نقل نماز شروع کرنے کی کراہت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِکٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يُصَلِّي وَقَدْ أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ فَکَلَّمَهُ بِشَيْئٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ فَلَمَّا انْصَرَفْنَا أَحَطْنَا نَقُولُ مَاذَا قَالَ لَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ لِي يُوشِکُ أَنْ يُصَلِّيَ أَحَدُکُمْ الصُّبْحَ أَرْبَعًا قَالَ الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَالِکٍ ابْنُ بُحَيْنَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمٌ وَقَوْلُهُ عَنْ أَبِيهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ خَطَأٌ

عبداللہ بن مسلمہ، ابراہیم بن سعد، حفص بن عاصم، عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک آدمی کے پاس سے گزرے وہ نماز پڑھ رہا تھا اور صبح کی نماز کی اقامت ہوچکی تھی آپ ﷺ نے اس سے کچھ باتیں فرمائیں، ہم نہیں جانتے کہ آپ ﷺ نے اس سے کیا فرمایا: جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے اسے گھیر لیا، ہم نے کہا رسول اللہ ﷺ نے تجھے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا تھا کہ اب تم میں کوئی آدمی صبح کی چار رکعتیں پڑھنے لگا ہے، قعنبی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مالک بن بحینہ ؓ نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا ابوالحسین فرماتے ہیں کہ باپ کے واسطہ سے اس حدیث میں خطاء ہے۔

Abdullah bin Malik bin Buhaina reported: The Messenger of Allah ﷺ happened to pass by a person who was busy in praying while the (Fard of the) dawn prayer had commenced. He said something to him, which we do not know what it was. When we turned back we surrounded him and said: What is it that the Messenger of Allah ﷺ said to you? He replied: He (the Holy Prophet) had said to me that he perceived as if one of them was about to observe four (rakahs) of the dawn prayer. Qanabi reported that Abdullah bin Malik bin Buhaina narrated it on the authority of his father. (Abul-Husain Muslim said): His assertion that he has narrated this hadith on the authority of his father is not correct.