سفر میں سواری پر اس کا رخ جس طرف بھی ہو نفل پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي سُبْحَتَهُ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ نَاقَتُهُ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبیداللہ، نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ اپنی اونٹنی پر نفل پڑھا کرتے تھے اس کا رخ چاہے جس طرف بھی ہو۔
A hadith like this that Ibn Abbas ordered his Muadhdhin (to summon people to prayer and then make announcement to say prayer in their houses) on Friday which was a rainy day, has been transmitted by Abdullah bin Harith. Wuhaib, however, says that he did not hear it from him.
سفر میں سواری پر اس کا رخ جس طرف بھی ہو نفل پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي عَلَی رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد احمر، عبیداللہ، نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنی سواری پر نماز پڑھا کرتے تھے اس کا رخ چاہے جس طرف بھی ہو۔
Ibn Umar reported that the Apostle ﷺ used to pray on (the back of) his camel in whatever direction it took him.
سفر میں سواری پر اس کا رخ جس طرف بھی ہو نفل پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَکَّةَ إِلَی الْمَدِينَةِ عَلَی رَاحِلَتِهِ حَيْثُ کَانَ وَجْهُهُ قَالَ وَفِيهِ نَزَلَتْ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ
عبیداللہ بن عمر، یحییٰ بن سعید، عبدالملک بن ابی سلیمان، سعید بن جبیر، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی سواری پر نماز پڑھی اس حال میں کہ آپ ﷺ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف جا رہے تھے اور اس سواری کا رخ خواہ کسی طرف ہو، راوی کہتے ہیں کہ اس موقع پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تم جہاں کہیں بھی اپنا رخ کرو اللہ کی ذات کو ادھر ہی پاؤ گے۔
Ibn Umar reported that the Messenger of Allah ﷺ used to say prayer on his camel while coming from Makkah to Madinah, in whatever direction his face had turned; and its was (in this context) that this verse was revealed: "So whether you turn thither is Allahs face" (ii. 115).
سفر میں سواری پر اس کا رخ جس طرف بھی ہو نفل پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي کُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُبَارَکٍ وَابْنِ أَبِي زَائِدَةَ ثُمَّ تَلَا ابْنُ عُمَرَ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ وَقَالَ فِي هَذَا نَزَلَتْ
ابوکریب، ابن مبارک، ابن ابی زائدہ، ابن نمیر، عبدالملک، کے ساتھ یہ حدیث بھی کچھ لفظی تبدیلی کے ساتھ اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by another chain of transmitters and in the one narrated by Ibn Mubarak and Ibn Abu Zaida (these words are narrated). Ibn Umar then recited: "Whether you turn thither is Allahs face," and it was revealed in this context.
سفر میں سواری پر اس کا رخ جس طرف بھی ہو نفل پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی الْمَازِنِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَی حِمَارٍ وَهُوَ مُوَجِّهٌ إِلَی خَيْبَرَ
یحییٰ بن یحیی، مالک، عمرو بن یحیی، سعید بن یسار، ابن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو گدھے پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اس حال میں کہ آپ ﷺ کا رخ خیبر کی طرف تھا۔
Ibn Umar reported: I saw the Messenger of Allah ﷺ praying (Nafl prayer) on a donkeys back while his face was turned towards Khaibar.
سفر میں سواری پر اس کا رخ جس طرف بھی ہو نفل پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ أَسِيرُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَکَّةَ قَالَ سَعِيدٌ فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ نَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ ثُمَّ أَدْرَکْتُهُ فَقَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ أَيْنَ کُنْتَ فَقُلْتُ لَهُ خَشِيتُ الْفَجْرَ فَنَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَلَيْسَ لَکَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ فَقُلْتُ بَلَی وَاللَّهِ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُوتِرُ عَلَی الْبَعِيرِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابوبکر بن عمر بن عبدالرحمن بن ابن عمر بن خطاب، حضرت سعید بن یسار فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر ؓ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے راستہ سے جا رہا تھا، سعید کہتے ہیں کہ جب مجھے صبح طلوع ہونے کا ڈر ہوا تو میں نے اتر کر وتر پڑھے پھر ان سے جا کر مل گیا، حضرت ابن عمر نے مجھ سے فرمایا کہ تو کہاں رہ گیا تھا؟ تو میں نے ان سے عرض کیا کہ میں نے فجر کے طلوع ہونے کے ڈر سے وتر پڑھ لئے ہیں، تو حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ کیا تیرے لئے رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں نمونہ نہیں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں اللہ کی قسم! حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اونٹ پر نماز وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔
Said bin Yasar reported: I was travelling along with Ibn Umar on the way to Makkah. Said said: When I apprehended dawn, I dismounted (the ride) and observed Witr prayer and then again joined him. Ibn Umar said to me: Where were you? I said: I apprehended the appearance of dawn, so I dismounted and observed Witr prayer. Upon this Abdullah said: Is there not a model pattern for you in the Messenger of Allah ﷺ ? I said: Yes, by Allah, and (then) he said: The Messenger of Allah ﷺ used to observe Witr prayer on the camels back.
سفر میں سواری پر اس کا رخ جس طرف بھی ہو نفل پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَی رَاحِلَتِهِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ کَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِکَ
یحییٰ بن یحیی، مالک، عبداللہ بن دینار، ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی طرف ہو حضرت عبداللہ بن دینار فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
Abdullah b. Dinar reported on the authority of Ibn Umar that the Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) used to observe prayer on his ride (no matter) in which direction it had its face turned. Abdullah b. Dinar said that Ibn Umar used to do like that.
سفر میں سواری پر اس کا رخ جس طرف بھی ہو نفل پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنِي عِيسَی بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ عَلَی رَاحِلَتِهِ
عیسیٰ بن حماد، لیث، ابن ہاد، عبداللہ بن دینار، ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔
Abdullah bin Umar reported that the Messenger of Allah ﷺ used to observe Witr prayer on his ride.
سفر میں سواری پر اس کا رخ جس طرف بھی ہو نفل پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ عَلَی الرَّاحِلَةِ قِبَلَ أَيِّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ وَيُوتِرُ عَلَيْهَا غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْهَا الْمَکْتُوبَةَ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ، حضرت عبداللہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سواری پر سنتیں پڑھا کرتے تھے چاہے اس کا رخ کسی طرف بھی ہو اور اسی سواری پر وتر بھی پڑھا کرتے تھے سوائے اس کے کہ اس سواری پر فرض نماز نہیں پڑھتے تھے۔
Salim bin Abdullah reported on the authority of his father that the Messenger of Allah ﷺ (may peace be. upon him) used to observe Nafl (supererogatory) prayer on his ride no matter in what direction it turned its face, and he observed Witr too on it, but did not observe obligatory prayer on it.
سفر میں سواری پر اس کا رخ جس طرف بھی ہو نفل پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي السُّبْحَةَ بِاللَّيْلِ فِي السَّفَرِ عَلَی ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ
عمرو بن سواد، حرملہ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبداللہ بن عامر بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سفر میں رات کی سنتیں اپنی سواری کی پشت پر پڑھتے دیکھا ہے اس کا رخ چاہے جس طرح بھی ہو (چاہے کعبہ کی مخالف سمت ہی ہو)۔
Abdullah bin Amir bin Rabia has reported on the authority of his father that he had seen the Messenger of Allah ﷺ observing Nafl player at night on a journey on the back of his ride in whichever direction it turned its face.
سفر میں سواری پر اس کا رخ جس طرف بھی ہو نفل پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ قَالَ تَلَقَّيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ حِينَ قَدِمَ الشَّامَ فَتَلَقَّيْنَاهُ بِعَيْنِ التَّمْرِ فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي عَلَی حِمَارٍ وَوَجْهُهُ ذَلِکَ الْجَانِبَ وَأَوْمَأَ هَمَّامٌ عَنْ يَسَارِ الْقِبْلَةِ فَقُلْتُ لَهُ رَأَيْتُکَ تُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ قَالَ لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ لَمْ أَفْعَلْهُ
محمد بن حاتم، عفان بن مسلم، ہمام، انس بن سیرین فرماتے ہیں کہ ہم حضرت انس بن مالک ؓ سے ملے جس وقت وہ شام سے آئے، ہم نے ان سے عین التمر پر ملاقات کی، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ گدھے پر نماز پڑھ رہے ہیں اور اس کا رخ اس طرف ہے، ہمام کہتے ہیں کہ اس کا رخ قبلہ کی بائیں طرف تھا تو میں نے ان سے عرض کیا کہ میں نے آپ کو قبلہ کے علاوہ (کی طرف رخ کر کے) نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، انہوں نے کہا اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا نہ ہوتا تو میں بھی اس طرح نہ کرتا۔
Anas bin Sirin reported: We met Anas bin Malik (RA) as he came to Syria at a place known as Ain-al-Tamar and saw him observing prayer on the back of his donkey with his face turned in that direction. (Hammam one of the narrators) pointed towards the left of Qibla, so I said to him: I find you observing prayer towards the side other than that of Qibla. Upon this he said: Had I not seen the Messenger of Allah ﷺ doing like this, I would not have done so at all.
سفر میں دو نمازوں کے جمع کر کے پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب جانے کی جلدی ہوتی تو آپ ﷺ مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے۔
Ibn Umar reported: When the Messenger of Allah ﷺ was in a state of hurry on a journey, he combined the sunset and Isha prayers.
سفر میں دو نمازوں کے جمع کر کے پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بَعْدَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ وَيَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ
محمد بن مثنی، یحییٰ بن عبیداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت نافع نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابن عمر کو جب جلدی جانا ہوتا تو شفق کے غائب ہونے کے بعد مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے اور فرماتے کہ رسول اللہ ﷺ کو بھی جب (کسی سفر میں) جلدی جانا ہوتا تو مغرب اور عشاء کی نماز کو جمع کر کے پڑھتے تھے۔
Nafi reported that when Ibn Umar was in a state of hurry on a journey, he combined the sunset and Isha prayers after the twilight had disappeared, and he would say that when the Messenger of Allah ﷺ was in a state of hurry on a journey, he combined the sunset and Isha prayers.
سفر میں دو نمازوں کے جمع کر کے پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ کُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ
یحییٰ بن یحیی، قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، ابن عیینہ، عمرو بن سفیان، زہری، سالم اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مغرب اور عشاء کی نماز جمع کر کے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے جب آپ ﷺ کو جلدی جانا ہوتا تو۔
Salim reported from his father to be saying: I saw the Messenger of Allah ﷺ combining the sunset and Isha prayers when he was in a hurry on a journey.
سفر میں دو نمازوں کے جمع کر کے پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ فِي السَّفَرِ يُؤَخِّرُ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ حَتَّی يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَائِ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سالم بن عبداللہ ؓ نے خبر دی کہ ان کے باپ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ ﷺ کو کسی سفر میں جلدی جانا ہوتا تو مغرب کی نماز کو مؤخر فرماتے یہاں تک کہ مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کر کے پڑھتے۔
Salim bin Abdullah reported that his father had said: I saw the Messenger of Allah ﷺ delaying the sunset prayer till he would combine it with the Isha when he hastened to set out on a journey.
سفر میں دو نمازوں کے جمع کر کے پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَی وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا فَإِنْ زَاغَتْ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّی الظُّهْرَ ثُمَّ رَکِبَ
قتیبہ بن سعید، مفضل ابن فضالہ، عقیل، ابن شہاب، انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب سورج ڈھلنے سے پہلے سفر کرنا ہوتا تھا تو ظہر کی نماز کو عصر کے وقت تک مؤخر فرماتے پھر آپ ﷺ اتر کر دونوں کو جمع کر کے پڑھتے اور اگر سفر شروع کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو پھر ظہر کی نماز ہی پڑھتے اور پھر آپ ﷺ سوار ہوجاتے۔
Anas bin Malik (RA) reported: When the Messenger of Allah ﷺ set out on a journey before the sun declined (from the meridian), he delayed the noon prayer till the afternoon prayer, and then dismounted (his ride) and combined them (noon and afternoon prayers), but if the sun had declined before his setting out on a journey, he observed the noon prayer and then mounted (the ride).
سفر میں دو نمازوں کے جمع کر کے پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ الْمَدَايِنِيُّ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّی يَدْخُلَ أَوَّلُ وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا
عمرو ناقد، شبابہ بن سوار مدائنی، لیث بن سعد، عقیل بن خالد، زہری، انس فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب سفر میں دو نمازوں کو جمع کرنے کا ارادہ فرماتے تو ظہر کی نماز کو مؤخر فرماتے یہاں تک کہ عصر کی نماز کے ابتدائی وقت میں داخل ہوجاتے پھر آپ ﷺ ان دونوں نمازوں کو اکٹھی پڑھتے۔
Anas reported: When the Apostle of Allah ﷺ intended to combine two prayers on a journey, he delayed the noon prayer till came the early time of the afternoon prayer, and then combined the two.
سفر میں دو نمازوں کے جمع کر کے پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَجِلَ عَلَيْهِ السَّفَرُ يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ إِلَی أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ فَيَجْمَعُ بَيْنَهُمَا وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّی يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَائِ حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ
ابوطاہر و عمر بن سواد، ابن وہب، جابر بن اسماعیل، عقیل بن خالد، ابن شہاب، انس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کو جب سفر کی جلدی ہوتی تو آپ ﷺ ظہر کی نماز کو عصر کی نماز کے ابتدائی وقت تک مؤخر فرماتے پھر ان دونوں کو اکٹھی پڑھتے اور مغرب کی نماز کو مؤخر فرماتے یہاں تک کہ شفق کے غائب ہونے کے وقت مغرب اور عشاء کی نمازوں کو اکٹھا پڑھتے۔
Anas reported that when the Apostle of Allah ﷺ had to set out on a journey hurriedly, he delayed the noon prayer to the earlier time for the afternoon prayer, and then he would combine them, and he would delay the sunset prayer to the time when the twilight would disappear and then combine it with the Isha prayer.
کسی خوف کے بغیر دو نمازوں کو اکٹھا کرکے پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ جَمِيعًا فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابوزبیر، سعید بن جبیر، ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بغیر کسی خوف کے اور بغیر کسی سفر کے ظہر اور عصر کی نمازوں کو اکٹھا کیا اور مغرب اور عشاء کی نمازوں کو اکٹھا کر کے پڑھا ہے۔
Ibn Abbas reported: The Messenger of Allah ﷺ observed the noon and afternoon prayers together, and the sunset and Isha prayers together without being in a state of fear or in a state of journey.
کسی خوف کے بغیر دو نمازوں کو اکٹھا کرکے پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ جَمِيعًا عَنْ زُهَيْرٍ قَالَ ابْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ فَسَأَلْتُ سَعِيدًا لِمَ فَعَلَ ذَلِکَ فَقَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ کَمَا سَأَلْتَنِي فَقَالَ أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ
احمد بن یونس، عون بن سلام، زہیر، ابوزبیر، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں بغیر کسی خوف اور بغیر کسی سفر کے ظہر اور عصر کی نمازوں کو اکٹھا کر کے پڑھا ہے، حضرت ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سعید سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے اس طرح کیوں کیا؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا جیسا کہ تو نے مجھ سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے چاہا کہ آپ ﷺ کی امت میں سے کسی کو کوئی مشقت نہ ہو۔
Ibn Abbas reported: The Messenger of Allah ﷺ observed the noon and afternoon prayers together in Madinah without being in a state of fear or in a state of journey. (Abu Zubair said: I asked Said [one of the narrators] why he did that. He said: I asked Ibn Abbas as you have asked me, and he replied that he [the Holy Prophet] wanted that no one among his Ummah should be put to [unnecessary] hardship.)