مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 6 · 408 hadiths · Page 19 of 21

1521Sahih Muslim

مسجد کی طرف نماز کے لئے جانے والے کے ایک ایک قدم پر گناہ مٹ جاتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں۔

حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَطَهَّرَ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ مَشَی إِلَی بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ لِيَقْضِيَ فَرِيضَةً مِنْ فَرَائِضِ اللَّهِ کَانَتْ خَطْوَتَاهُ إِحْدَاهُمَا تَحُطُّ خَطِيئَةً وَالْأُخْرَی تَرْفَعُ دَرَجَةً

اسحاق بن منصور، زکریا بن عدی، عبیداللہ بن عمرو، زید بن ابی انیسہ، عدی بن ثابت، ابوحازم، اشعجی، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی اپنے گھر میں طہارت حاصل کرے پھر وہ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر کی طرف چلے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرائض میں سے ایک فریضہ کو پورا کرے تو اس کے قدموں میں سے ایک سے گناہ مٹیں گے اور دوسرے قدم سے اس کا ایک درجہ بلند ہوگا۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ (may peace be upon him) said: He who purified himself in his house, and then he walked to one of the houses of Allah for the sake of performing a Fard (obligatory act) out of the Faraid (obligatory acts) of Allah, both his steps (would be significant) as one of them would obliterate his sin and the second one would raise his status.

1522Sahih Muslim

مسجد کی طرف نماز کے لئے جانے والے کے ایک ایک قدم پر گناہ مٹ جاتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَقَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا بَکْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَفِي حَدِيثِ بَکْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِکُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ کُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ هَلْ يَبْقَی مِنْ دَرَنِهِ شَيْئٌ قَالُوا لَا يَبْقَی مِنْ دَرَنِهِ شَيْئٌ قَالَ فَذَلِکَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا

قتیبہ بن سعید، لیث، قتیبہ، بکر ابن مضر، ابن ہاد، محمد بن ابراہیم، ابی سلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور ابوبکر کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا خیال ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر کوئی نہر ہو اور وہ روزانہ اس میں سے پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو کیا اس کے بدن پر کوئی میل کچیل باقی رہے گی صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ اس پر سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہی مثال پانچوں نمازوں کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان نمازوں کے ذریعہ سے اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔

In the hadith narrated of the authority of Abu Hurairah (RA) the Messenger of Allah ﷺ is reported to have said. while in the hadith narrated by Bakr (the words are like this): He heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: Just see, can anything of his filthiness remain (on the body of) any one of you if there were a river at his door in which he washed himself five times daily? They, said: Nothing of his filthiness will remain (on his body). He said: That is like the five prayers by which Allah obliterates sins.

1523Sahih Muslim

مسجد کی طرف نماز کے لئے جانے والے کے ایک ایک قدم پر گناہ مٹ جاتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ کَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَلَی بَابِ أَحَدِکُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ کُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ قَالَ قَالَ الْحَسَنُ وَمَا يُبْقِي ذَلِکَ مِنْ الدَّرَنِ

ابوبکر بن ابی شیبہ و ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابوسفیان حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پانچ نمازوں کی مثال اس گہری نہر کی طرح ہے جو تم میں سے کسی کے دروزاے پر بہہ رہی ہو اور وہ روزانہ اس میں سے پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو، حسن کہنے لگا کہ پھر تو اس کے جسم پر کوئی میل کچیل باقی نہیں رہے گی۔

Jabir bin Abdullah reported that the Messenger of Allah ﷺ said: The similitude of five prayers is like an overflowing river passing by the gate of one of you in which he washes five times daily Hasan said: No filthiness can remain on him.

1524Sahih Muslim

مسجد کی طرف نماز کے لئے جانے والے کے ایک ایک قدم پر گناہ مٹ جاتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ غَدَا إِلَی الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ نُزُلًا کُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ

ابوبکر بن ابی شیبہ و زہیر بن حرب، یزید بن ہارون، محمد بن مطرف، زید بن اسلم، عطاء بن یسار، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی صبح کے وقت مسجد کی طرف آتا ہے یا شام کے وقت تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ضیافت تیار رکھتے ہیں کہ وہ صبح آئے یا شام آئے۔

Ata bin Yasar reported, on the authority of Abu Hurairah (RA) , the Apostle of Allah ﷺ as saying: He who went towards the mosque in the morning or evening, Allah would arrange a feast for him morning or evening in Paradise.

1525Sahih Muslim

صبح (فجر) کی نماز کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھے رہنے اور مسجدوں کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سِمَاکٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَکُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ کَثِيرًا کَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ أَوْ الْغَدَاةَ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ قَامَ وَکَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَيَضْحَکُونَ وَيَتَبَسَّمُ

احمد بن عبداللہ بن یونس، زہیر، سماک بن حرب، یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ، سماک بن حرب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ سے عرض کیا کہ کیا آپ ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے انہوں نے فرمایا کہ ہاں بہت زیادہ۔ آپ ﷺ اپنی جگہ سے کھڑے نہیں ہوتے تھے جس جگہ صبح کی نماز پڑھتے تھے جب تک کہ سورج نہ نکل آتا پھر جب سورج نکل آتا تو آپ ﷺ کھڑے ہوجاتے اور لوگ باتیں کرتے رہتے تھے اور زمانہ جاہلیت کا تذکرہ کرتے اور ہنستے اور آپ ﷺ بھی مسکراتے۔

Simak bin Harb reported: I said to Jabir bin ahadeeth: Did you sit in the company of the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him)? He said: Yes, very often. He (the Holy Prophet) used to sit at the place where he observed the morning or dawn prayer till the sun rose or when it had risen; he would stand, and they (his Companions) would talk about matters (pertaining to the days) of ignorance, and they would laugh (on these matters) while (the Holy Prophet) only smiled.

1526Sahih Muslim

صبح (فجر) کی نماز کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھے رہنے اور مسجدوں کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ زَکَرِيَّائَ کِلَاهُمَا عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا صَلَّی الْفَجْرَ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسَنًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، ابوبکر، محمد بن بشر، زکریا، سماک، حضرت جابر بن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب فجر کی نماز پڑھتے تھے تو اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج خوب اچھی طرح طلوع ہوجاتا۔

Simak narrated on the authority of Jabir bin ahadeeth that when the Apostle of Allah ﷺ observed the dawn prayer, he sat at the place of worship till the sun had risen enough.

1527Sahih Muslim

صبح (فجر) کی نماز کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھے رہنے اور مسجدوں کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ قَالَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کِلَاهُمَا عَنْ سِمَاکٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَقُولَا حَسَنًا

قتیبہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواحوص، ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت سماک ؓ سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated by Simak with the same chain of transmitters, but no mention has been made of "enough".

1528Sahih Muslim

صبح (فجر) کی نماز کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھے رہنے اور مسجدوں کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَإِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذُبَابٍ فِي رِوَايَةِ هَارُونَ وَفِي حَدِيثِ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ مَوْلَی أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحَبُّ الْبِلَادِ إِلَی اللَّهِ مَسَاجِدُهَا وَأَبْغَضُ الْبِلَادِ إِلَی اللَّهِ أَسْوَاقُهَا

ہارون بن معروف، اسحاق بن موسیٰ انصاری، انس بن عیاض، ابن ابی ذباب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ جگہیں بازار ہیں۔

Abu Hurairah (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: The parts of land dearest to Allah are its mosques, and the parts most hateful to Allah are markets.

1529Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ امامت کرنے کا زیادہ مستحق کون ہے ؟

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کَانُوا ثَلَاثَةً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ

قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، قتادہ، ابی نضرہ، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تین آدمی ہوں تو ان میں سے ایک امام بنے اور ان میں سے امامت کا مستحق وہ ہے جو ان میں سے زیادہ (قرآن مجید) پڑھا ہوا ہو۔

Abu Said al-Khudri reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When there are three persons, one of them should lead them. The one among them most worthy to act as Imam is one who is best versed in the Quran.

1530Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ امامت کرنے کا زیادہ مستحق کون ہے ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي کُلُّهُمْ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

محمد بن بشار، یحییٰ بن سعید، شعبہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد احمر، سعید بن ابی عروبہ، ابوغسان مسمعی، معاذ بن ہشام، ابوہشام، قتادہ، اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

A hadith like this has been narrated by Qatida with the same chain of transmitters.

1531Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ امامت کرنے کا زیادہ مستحق کون ہے ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ح و حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ جَمِيعًا عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

محمد بن مثنی، سالم بن نوح، حسن بن عیسی، ابن مبارک، جریری، حضرت ابوسعید ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح نقل فرمائی ہے۔

This hadith has been narrated by Abu Said al-Khudri by another chain of transmitters.

1532Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ امامت کرنے کا زیادہ مستحق کون ہے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي خَالِدٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ رَجَائٍ عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِکِتَابِ اللَّهِ فَإِنْ کَانُوا فِي الْقِرَائَةِ سَوَائً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ فَإِنْ کَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَائً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً فَإِنْ کَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَائً فَأَقْدَمُهُمْ سِلْمًا وَلَا يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ عَلَی تَکْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ قَالَ الْأَشَجُّ فِي رِوَايَتِهِ مَکَانَ سِلْمًا سِنًّا

ابوبکر بن ابی شیبہ و ابوسعیداشج، ابوخالد احمر، اعمش، اسماعیل بن رجاء، اوس بن ضمعج، ابومسعود انصاری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں کا امام وہ آدمی بنے جو اللہ کی کتاب کو سب سے زیادہ جاننے والا ہو اور اگر قرآن مجید کے جاننے میں سب برابر ہوں تو پھر وہ آدمی امام بنے جو رسول اللہ ﷺ کی سنت کا سب سے زیادہ جاننے والا ہو تو اگر سنت کے جاننے میں بھی سب برابر ہوں تو وہ آدمی جس نے ہجرت پہلے کی ہو تو اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو وہ آدمی امام بنے جس نے اسلام پہلے قبول کیا ہو اور کوئی آدمی کسی آدمی کی سلطنت میں جا کر امام نہ بنے اور نہ اس کے گھر میں اس کی مسند پر بیٹھے سوائے اس کی اجازت کے۔

Abu Masud al-Ansari reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The one who is most versed in Allahs Book should act as Imam for the people, but if they are equally versed in reciting it, then the one who has most knowledge regarding Sunnah; if they are equal regarding the Sunnah, then the earliest one to emigrate; it they emigrated at the same time, then the earliest one to embrace Islam. No man must lead another in prayer where (the latter) has authority, or sit in his place of honour in his house, without his permission. Ashajj in his narration used the word, "age" in place of "Islam".

1533Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ امامت کرنے کا زیادہ مستحق کون ہے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

ابوکریب، ابومعاویہ، اسحاق، جریر، ابومعاویہ، اشج، ابن فضیل، ابن ابی عمر، سفیان، حضرت اعمش ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے۔

A hadith like this has been narrated by Amash by the same chain of transmitters

1534Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ امامت کرنے کا زیادہ مستحق کون ہے ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ رَجَائٍ قَالَ سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ يَقُولُا قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِکِتَابِ اللَّهِ وَأَقْدَمُهُمْ قِرَائَةً فَإِنْ کَانَتْ قِرَائَتُهُمْ سَوَائً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً فَإِنْ کَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَائً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَکْبَرُهُمْ سِنًّا وَلَا تَؤُمَّنَّ الرَّجُلَ فِي أَهْلِهِ وَلَا فِي سُلْطَانِهِ وَلَا تَجْلِسْ عَلَی تَکْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَکَ أَوْ بِإِذْنِهِ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، اسماعیل بن رجاء، اوس بن ضمعج، حضرت ابومسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا کہ لوگوں کا امام وہ آدمی بنے جو اللہ کی کتاب کا سب سے زیادہ جاننے والا ہو اور سب سے اچھا پڑھتا ہو تو اگر ان کا پڑھنا برابر ہو تو وہ آدمی امام بنے جس نے ان میں سے پہلے ہجرت کی ہو اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو وہ آدمی امامت کرے جو ان میں سب سے بڑا ہو اور کوئی آدمی کسی آدمی کے گھر میں امام نہ بنے اور نہ ہی اس کی حکومت میں اور نہ ہی اس کے گھر میں اس کی عزت کی جگہ پر بیٹھے سوائے اس کے کہ وہ اجازت دیدے۔

Abu Masud al-Ansari reported: The Messenger of Allah ﷺ said to us: The one who is well grounded in Allahs Book and is distinguished among them in recitation should act as Imam for the people. and if they are equally versed in reciting it, then the one who has most knowledge regarding Sunnah; if they are equal regarding the Sunnah, then the earliest one to emigrate; If they emigrated at the same time, then the oldest one in age. No man must lead another in prayer in latters house or where (the latter) has authority, or sit in his place of honour in his house, except that he gives you permission or with his permission.

1535Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ امامت کرنے کا زیادہ مستحق کون ہے ؟

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَقِيقًا فَظَنَّ أَنَّا قَدْ اشْتَقْنَا أَهْلَنَا فَسَأَلَنَا عَنْ مَنْ تَرَکْنَا مِنْ أَهْلِنَا فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ ارْجِعُوا إِلَی أَهْلِيکُمْ فَأَقِيمُوا فِيهِمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ فَإِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَکُمْ أَحَدُکُمْ ثُمَّ لِيَؤُمَّکُمْ أَکْبَرُکُمْ

زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ایوب ابی قلابہ، مالک بن حویرث فرماتے ہیں کہ ہم سب جوان اور ہم عمر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور ہم آپ ﷺ کے پاس بیس راتیں ٹھہرے اور رسول اللہ ﷺ نہایت مہربان اور نرم دل تھے آپ ﷺ کو اس چیز کا خیال ہوگیا کہ ہمیں اپنے وطن جانے کا اشتیاق ہوگیا ہے آپ ﷺ نے ہم سے پوچھا کہ تم اپنے گھروں میں سے کس کو چھوڑ کر آئے ہو؟ تو ہم نے آپ ﷺ کو اس سے باخبر کردیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے گھروں کی طرف واپس جاؤ اور ان میں ٹھہرو اور ان کو دین کی باتیں سکھاؤ اور جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے کوئی اذان دے پھر تم میں سے جو سب سے بڑا ہو وہ تمہارا امام بنے۔

Malik bin Huwairith rejected: We came to the Messenger of Allah ﷺ and we were all young men of nearly equal age. We stayed with him (the Holy Prophet) for twenty nights, and as the Messenger of Allah ﷺ may peace be upon him) was extremely kind and tender of heart, he therefore, thought that we were eager (to see) our family (we felt home-sickness). So he asked us about the members of the family that we had left behind and when we informed him, he said: Go back to your family, stay with them, and teach them (beliefs and practices of Islam) and exhort them to good, and when the time for prayer comes, one amongst you should-announce Adzan and then the oldest among you should lead the prayer.

1536Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ امامت کرنے کا زیادہ مستحق کون ہے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ و حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ قَالَ لِي أَبُو قِلَابَةَ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ أَبُو سُلَيْمَانَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فِي نَاسٍ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ وَاقْتَصَّا جَمِيعًا الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ

ابوربیع زہرانی، خلف بن ہشام، حماد، ایوب سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے۔ ابن ابی عمر، عبدالوہاب ثقفی، ابوقلابہ، مالک بن حویرث نے حویرث ابی سلیمان ؓ فرماتے ہیں کہ میں کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور ہم جوان ہم عمر تھے باقی حدیث اسی طرح ہے جیسے گزری۔

This hadith has been transmitted by Ayyub with the same chain of narrator.

1538Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ امامت کرنے کا زیادہ مستحق کون ہے ؟

حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي فَلَمَّا أَرَدْنَا الْإِقْفَالَ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ لَنَا إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَأَذِّنَا ثُمَّ أَقِيمَا وَلْيَؤُمَّکُمَا أَکْبَرُکُمَا

اسحاق بن ابراہیم، عبدالوہاب، خالد حذاء، ابوقلابہ، مالک بن حویرث فرماتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے پھر جب ہم نے آپ ﷺ کے پاس سے واپس جانے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے ہمیں فرمایا کہ جب نماز کا وقت آئے تو تم اذان دینا اور اقامت کہنا اور تم میں سے جو بڑا ہو اسے اپنا امام بنا لینا۔

Malik bin Huwairith Abu Sulaiman reported: I came to the Messenger of Allah ﷺ along with other persons and we were young men of nearly equal age, and the rest of the hadith was transmitted like the hadith narrated before.

1539Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ امامت کرنے کا زیادہ مستحق کون ہے ؟

حَدَّثَنَاه أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ قَالَ الْحَذَّائُ وَکَانَا مُتَقَارِبَيْنِ فِي الْقِرَائَةِ

ابوسعیداشج، حفص بن غیاث، خالد حذاء اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated with the same chain of transmitters, but al-Hadra made this addition: "They both were equal in recitation."

1540Sahih Muslim

تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنْ الْقِرَائَةِ وَيُکَبِّرُ وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَکَ عَلَی مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ کَسِنِي يُوسُفَ اللَّهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانَ وَرِعْلًا وَذَکْوَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ثُمَّ بَلَغَنَا أَنَّهُ تَرَکَ ذَلِکَ لَمَّا أُنْزِلَ لَيْسَ لَکَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْئٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ

ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، سعید بن مسیب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جس وقت فجر کی نماز میں قرأت سے فارغ ہوتے اور تکبیر کہتے اور رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو ( سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ) کہتے پھر کھڑے کھڑے یہ دعا فرماتے اے اللہ ولید بن ولید اور سلمہ بن ہشام اور عیاش ابن ابی ربیعہ اور کمزور مومنوں کو کافروں سے نجات عطا فرما، اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی سختی نازل فرما اور ان پر بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ کی طرح قحط سالی مسلط فرما اے اللہ قبیلہ لحیان اور رعل اور ذکوان اور عصیہ پر لعنت فرما انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی ہے پھر ہمیں یہ بات پہنچی کہ آپ ﷺ نے یہ دعا چھوڑ دی جب یہ آیت نازل ہوئی ( لَيْسَ لَکَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْئٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ ) 3۔ آل عمران: 128) اے پیغمبر اسلام اس معاملہ میں آپ ﷺ کا کوئی اختیار نہیں ہے (اے اللہ) ان کو توبہ کی توفیق عطا فرمایا ان کو عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔

Abu Salama bin Abdul Rahman bin Auf (RA) heard Abu Hurairah (RA) say: (When) Allahs Messenger ﷺ (wished to invoke curse or blessing on someone, he would do so at the end) of the recitation in the dawn prayer, when he had pronounced Allah-o-Akbar (for bending) and then lifted his head (saying): "Allah listened to him who praised Him; our Lord! to Thee is all praise" ; he would then stand up and say: "Rescue al-Walid bin Walid, Salama bin Hisham, and Ayyash bin Abd Rabia, and the helpless among the Muslims. O Allah! trample severely Mudar and cause them a famine (which broke out at the time) of Joseph. O Allah! curse Lihyan, Ril, Dhakwan, Usayya, for they disobeyed Allah and His Messenger." (The narrator then adds): The news reached us that he abandoned (this) when this verse was revealed: "Thou but no concern in the matter whether He turns to them (mercifully) or chastises them; surely they are wrongdoers" (III 128)

1541Sahih Muslim

تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔

حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ إِلَی قَوْلِهِ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ کَسِنِي يُوسُفَ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ و عمرو ناقد، ابن عیینہ، زہری، سعید بن مسیب، ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح نقل کیا ہے لیکن اس روایت میں کَسِنِی یوسف تک ہے اس کے بعد اور کچھ ذکر نہیں کیا۔

This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) by another chain of transmitters up to the words: "And cause them a famine like that (which broke out at the time) of Joseph," but the subsequent portion was not mentioned.