تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ بَعْدَ الرَّکْعَةِ فِي صَلَاةٍ شَهْرًا إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ اللَّهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ اللَّهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ اللَّهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَکَ عَلَی مُضَرَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ کَسِنِي يُوسُفَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَکَ الدُّعَائَ بَعْدُ فَقُلْتُ أُرَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَرَکَ الدُّعَائَ لَهُمْ قَالَ فَقِيلَ وَمَا تُرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا
محمد بن مہران، ولید بن مسلم، اوزاعی، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک مہینہ تک نماز میں رکوع کے بعد قنوت پڑھی جب آپ ﷺ (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ) کہتے ہوئے کھڑے ہوتے تو یہ دعا فرماتے اے اللہ ولید بن ولید کو نجات عطا فرمایا اے اللہ سلمہ بن ہشام کو نجات عطا فرما اے اللہ عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات عطا فرما اے اللہ کمزور مسلمانوں کو نجات عطا فرما اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی سختی نازل فرما اے اللہ ان پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ کے قحط کی طرح کا قحط نازل فرما حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے بعد یہ دعا کرنی چھوڑ دی تو میں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ نے ان کے لئے یہ دعا چھوڑ دی تو مجھے کہا گیا کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ جن کے لئے نجات کی دعا کی جاتی تھی وہ تو آگئے ہیں۔
Abu Salama reported it on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Apostle of Allah ﷺ recited Qunut after ruku in prayer for one month at the time of reciting (these words): "Allah listened to him who praised Him," and he said in Qunut: "O Allah! rescue al-Walid bin al-Walid; O Allah! rescue Salama bin Hisham; O Allah! rescue Ayyash bin Abu Rabia; O Allah! rescue the helpless amongst the Muslims; O Allah! trample Mudar severely; O Allah! cause them a famine like that (which was caused at the time) of Joseph." Abu Hurairah (RA) (further) said: I saw that the Messenger of Allah ﷺ afterwards abandoned this supplication. I, therefore said: I see the Messenger of Allah ﷺ abandoning this blessing upon them. It was said to him ( Abu Hurairah (RA) ): Dont you see that (those for whom was blessing invoked by the Holy Prophet) have come (i. e. they have been rescued)?
تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَی عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يُصَلِّي الْعِشَائَ إِذْ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ اللَّهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ إِلَی قَوْلِهِ کَسِنِي يُوسُفَ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ
زہیر بن حرب، حسین بن محمد، شیبان، یحیی، ابوسلمہ، ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز پڑھا رہے تھے جب آپ ﷺ نے (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ) کہا پھر آپ ﷺ نے سجدہ کرنے سے پہلے یہ دعا کی اے اللہ عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات عطا فرما پھر اس طرح ذکر فرمائی ( کَسِنِي يُوسُفَ ) تک اور اس کے بعد ذکر نہیں فرمایا۔
Abu Salama narrated that Abu Hurairah (RA) told him that when the Messenger of Allah ﷺ pronounced: "Allah listened to him who praised Him." and before prostration, he would recite this in the Isha prayer: O Allah! rescue Ayyash bin Abu Rabia, and the rest of the hadith is the same as narrated by Auzai to the words: "Like the famine (at the time) if Joseph." but he made no mention of that which follows afterwards.
تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا وَاللَّهِ لَأُقَرِّبَنَّ بِکُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْنُتُ فِي الظُّهْرِ وَالْعِشَائِ الْآخِرَةِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ وَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْکُفَّارَ
محمد بن مثنی، معاذ، ہشام، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز کی طرح نماز پڑھاؤں گا پھر حضرت ابوہریرہ ؓ ظہر اور عشاء اور صبح کی نماز میں قنوت پڑھتے اور مومنوں کے لئے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے۔
Abu Salama bin Abdul Rahman is reported to have said that he had heard Abu Hurairah (RA) saying: I would say prayer along with you which is near to the prayer of the Messenger of Allah ﷺ . and Abu Hurairah (RA) recited Qunut in the noon and in the Isha and in the morning prayer, and invoked blessing (of Allah) upon Muslims-and curse upon the unbelievers.
تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الَّذِينَ قَتَلُوا أَصْحَابَ بِئْرِ مَعُونَةَ ثَلَاثِينَ صَبَاحًا يَدْعُو عَلَی رِعْلٍ وَذَکْوَانَ وَلِحْيَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ أَنَسٌ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الَّذِينَ قُتِلُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ قُرْآنًا قَرَأْنَاهُ حَتَّی نُسِخَ بَعْدُ أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَرَضِينَا عَنْهُ
یحییٰ بن یحیی، مالک، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں پر تیس دن تک صبح کے وقت بد دعا فرمائی کہ جنہوں نے بیر معونہ والوں کو شہید کردیا تھا خاص طور پر رعل اور ذکوان اور لحیان اور عصیہ والوں کے خلاف بد دعا فرمائی کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں جو بیر معونہ میں شہید کردیئے گئے قرآن نازل فرمایا ہم اس حصے کو پڑھتے بھی رہے پھر بعد میں اسے منسوخ کردیا گیا، ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم نے اپنے رب سے ملاقات کی وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہوئے۔
Anas bin Malik (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ invoked curse in the morning (prayer) for thirty days upon those who killed the Companions (of the Holy Prophet) at Bir Mauna. He cursed (the tribes) of Ril, Dhakwan, Lihyan, and Usayya, who had disobeyed Allah and His Messenger ﷺ . Anas said: Allah the Exalted and Great revealed (a verse) regarding those who were killed at Bir Mauna, and we recited it, till it was abrogated later on (and the verse was like this): convey to it our people the tidings that we have met our Lord, and He was pleased with us and we were pleased with Him".
تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ نَعَمْ بَعْدَ الرُّکُوعِ يَسِيرًا
عمرو بن ناقد و زہیر بن حرب، اسماعیل، ایوب، محمد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ سے عرض کیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز میں دعائے قنوت پڑھی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں رکوع کے بعد (حالات) کی آسانی تک۔
Muhammad reported: I asked Anas whether the Messenger of Allah ﷺ observed Qunut in the dawn prayer. He said: Yes, (he did so) after the ruku, for a short while.
تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی وَاللَّفْظُ لِابْنِ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّکُوعِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَدْعُو عَلَی رِعْلٍ وَذَکْوَانَ وَيَقُولُ عُصَيَّةُ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ
عبیداللہ بن معاذ و ابوکریب و اسحاق بن ابراہیم و محمد بن عبدالاعلی، معتمر بن سلیمان، سلیمان، ابی مجلز، انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینہ صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت پڑھی جس میں آپ ﷺ رعل اور ذکوان کے خلاف بد دعا فرماتے اور فرماتے کہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ observed Qunut for a month in the dawn prayer after ruku and invoked curse upon Ril, Dhakwan, and said that Usayya had disobeyed Allah and His Apostle ﷺ .
تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّکُوعِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَدْعُو عَلَی بَنِي عُصَيَّةَ
محمد بن حاتم، بہز بن اسد، حماد بن سلمہ، انس بن سیرین، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینہ فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت پڑھی جس میں بنی عصیہ کے خلاف بد دعا فرمائی۔
Anas bin Malik (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ observed Qunut for a month in the dawn prayer after ruku and invoked curse upon Bani Usayya.
تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَأَلْتُهُ عَنْ الْقُنُوتِ قَبْلَ الرُّکُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّکُوعِ فَقَالَ قَبْلَ الرُّکُوعِ قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ بَعْدَ الرُّکُوعِ فَقَالَ إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَی أُنَاسٍ قَتَلُوا أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ يُقَالُ لَهُمْ الْقُرَّائُ
ابوبکر بن ابی شیبہ و ابوکریب، ابومعاویہ، عاصم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ سے قنوت کے بارے میں پوچھا کہ رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد تو انہوں نے فرمایا کہ رکوع سے پہلے میں نے عرض کیا کہ کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رکوع کے بعد قنوت پڑھی ہے حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کے خلاف بد دعا فرمائی جنہوں نے صحابہ کرام میں سے ان لوگوں کو شہید کردیا تھا کہ جن کو قراء کہا جاتا تھا۔
Asim reported: I asked Anas whether Qunut was observed (by the Holy prophet) before ruku or after ruku. He replied: Before ruku. I said: People conceive that the Messenger of Allah ﷺ observed Qunut after the ruku. He said: The Messenger of Allah ﷺ observed Qunut (after the ruku as the people conceive it) for a month invoking curse upon those persons who had killed men among his Companions who were called the reciters (of the Quran).
تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُا مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى سَرِيَّةٍ مَا وَجَدَ عَلَى السَّبْعِينَ الَّذِينَ أُصِيبُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ كَانُوا يُدْعَوْنَ الْقُرَّاءَ فَمَكَثَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى قَتَلَتِهِمْ و حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَابْنُ فُضَيْلٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ كُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ بِهَذَا الْحَدِيثِ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ
ابن ابی عمر، سفیان، عاصم، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کسی لشکر کے لئے اتنا پریشان ہوتا نہیں دیکھا جتنا کہ ان ستر صحابہ کی وجہ سے پریشان ہوئے کہ جنہیں بئر معونہ میں شہید کردیا گیا جن کو قراء کے نام سے پکارا جاتا تھا آپ ﷺ نے ایک مہینہ ان شہداء کے قاتلوں کے خلاف بد دعا فرماتے رہے۔
Asim reported - I heard Anas saying: Never did I see the Messenger of Allah ﷺ so much grieved (at the loss of a) small army as I saw him grieved at those seventy men who were called "reciters" (and were killed) at Bir Mauna; and he invoked curse for a full one month upon their murderers.
تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَابْنُ فُضَيْلٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ کُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ بِهَذَا الْحَدِيثِ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَی بَعْضٍ
ابوکریب، حفص، ابن فضیل، ابن ابی عمر، مروان، عاصم، انس اس سند کے ساتھ حضرت انس ؓ نے نبی ﷺ سے اسی حدیث کی طرح روایت کیا۔
This hadith has been narrated by Anas with another chain of transmitters and with minor additions.
تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا يَلْعَنُ رِعْلًا وَذَکْوَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ
عمرو ناقد، اسود بن عامر، شعبہ، قتادہ، انس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک مہینہ قنوت پڑھتے رہے جس میں آپ ﷺ رعل ذکوان اور عصیہ پر لعنت بھیجتے رہے کہ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی۔
Anas bin Malik (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ observed Qunut for one month invoking curse upon Ril, Dhakwan, Usayya. those who disobeyed Allah and His Messenger ﷺ .
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُوسَی بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
عمرو ناقد، اسود بن عامر، شعبہ، موسیٰ بن انس، حضرت انس بن مالک ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث نقل کی ہے۔
A hadith like this has been transmitted by Anas from the Apostle of Allah ﷺ .
تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَی أَحْيَائٍ مِنْ أَحْيَائِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَرَکَهُ
محمد بن مثنی، عبدالرحمن، ہشام، انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینہ قنوت پڑھی جس میں عرب کے کئی قبیلوں کے خلاف بد دعا فرماتے رہے پھر اسے چھوڑ دیا۔
Anas reported that the Messenger of Allah ﷺ observed Qunut for one month invoking curse upon some tribes of Arabia (those who were responsible for the murders in Bir Mauna and Raji), but then abandoned it.
تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَی قَالَ حَدَّثَنَا الْبَرَائُ بْنُ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقْنُتُ فِي الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ
محمد بن مثنی و ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ، حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فجر اور مغرب کی نمازوں میں قنوت پڑھا کرتے تھے۔
Al-Bari bin Azib (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ observed Qunut in the morning and evening (prayers).
تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ الْبَرَائِ قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفَجْرِ وَالْمَغْرِبِ
ابن نمیر، سفیان، عمرو بن مرہ، عبدالرحمن بن ابی لیلی، براء بن عازب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فجر اور مغرب کی نمازوں میں قنوت پڑھا کرتے تھے۔
Al-Bari reported that the Messenger of Allah ﷺ observed Qunut in the dawn and evening (prayers).
تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ الْمِصْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ اللَّيْثِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَائٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةٍ اللَّهُمَّ الْعَنْ بَنِي لِحْيَانَ وَرِعْلًا وَذَکْوَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ
ابوطاہر، احمد بن عمرو بن سرح المصری، ابن وہب، لیث عمران بن ابی انس، حنظلۃ بن علی، حضرت خفاف بن ایما غفاری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں فرمایا اے اللہ بنی لحیان اور رعل اور ذکوان اور عصیہ پر لعنت فرما کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی ہے اور قبیلہ غفار کی مغفرت فرما اور قبیلہ اسلم کو سلامتی عطا فرما۔
Khufaf bin Ima al-Ghifari reported that the Messenger of Allah ﷺ aid in prayer: O Allah I curse the tribes of Lihyan, Ril, Dhakwan, and Usayya for they disobeyed Allah and His Messenger ﷺ . Allah pardoned (the tribe of) Ghifar and Allah granted protection to (the tribe of) Aslam.
تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ خُفَافٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ خُفَافُ بْنُ إِيمَائٍ رَکَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَعُصَيَّةُ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ اللَّهُمَّ الْعَنْ بَنِي لِحْيَانَ وَالْعَنْ رِعْلًا وَذَکْوَانَ ثُمَّ وَقَعَ سَاجِدًا قَالَ خُفَافٌ فَجُعِلَتْ لَعْنَةُ الْکَفَرَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ
یحییٰ بن ایوب و قتیبہ و ابن حجر، ابن ایوب، اسماعیل، محمد بن عمرو، خالد بن عبداللہ بن حرملہ، حارث بن خفاف فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رکوع فرمایا پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قبیلہ غفار کی مغفرت فرمائے اور قبیلہ اسلم کو سلامتی عطا فرمائے اور عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی ہے اے اللہ بنی لحیان پر لعنت فرما اور رعل اور ذکوان پر لعنت فرما پھر آپ ﷺ سجدہ میں چلے گئے حضرت خفاف نے فرمایا کہ کافروں پر اسی وجہ سے لعنت کی جاتی ہے۔
Khufaf bin Ima reported that the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him), bowed (in prayer) and then lifted his head and then said: So far as the tribe of Ghifar is concerned, Allah had pardoned it, and Allah had granted protection to the tribe of Aslam, and as for the tribe of Usayya, it had disobeyed Allah and His Messenger, (and further said): O Allah! curse the tribe of Lihyan curse Ril, and Dhakwan, and then fell in prostration. It is after this that the cursing of the unbelievers got a sanction.
تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ قَالَ وَأَخْبَرَنِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْأَسْقَعِ عَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَائٍ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ فَجُعِلَتْ لَعْنَةُ الْکَفَرَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ
یحییٰ بن ایوب، اسماعیل، عبدالرحمن بن حرملہ، حنظلہ بن علی بن اسقع، خفاف بن ایما، اس سند کے ساتھ حضرت خفاف بن ایما ؓ سے اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے لیکن اس میں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ کافروں پر لعنت اسی وجہ سے کی جاتی ہے۔
A hadith like this has been transmitted by Khufaf bin Ima except this that he did not mention (these words): "cursing of unbelievers got a sanctions.
فوت شدہ نمازوں کی قضاء اور ان کو جلد پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ سَارَ لَيْلَهُ حَتَّی إِذَا أَدْرَکَهُ الْکَرَی عَرَّسَ وَقَالَ لِبِلَالٍ اکْلَأْ لَنَا اللَّيْلَ فَصَلَّی بِلَالٌ مَا قُدِّرَ لَهُ وَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ فَلَمَّا تَقَارَبَ الْفَجْرُ اسْتَنَدَ بِلَالٌ إِلَی رَاحِلَتِهِ مُوَاجِهَ الْفَجْرِ فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَيْنَاهُ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَی رَاحِلَتِهِ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّی ضَرَبَتْهُمْ الشَّمْسُ فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَهُمْ اسْتِيقَاظًا فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْ بِلَالُ فَقَالَ بِلَالٌ أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ بِنَفْسِکَ قَالَ اقْتَادُوا فَاقْتَادُوا رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّی بِهِمْ الصُّبْحَ فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاةَ قَالَ مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَکَرَهَا فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ أَقِمْ الصَّلَاةَ لِذِکْرِي قَالَ يُونُسُ وَکَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا لِلذِّکْرَی
حرملہ بن یحییٰ تجیبی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جس وقت غزوہ خیبر سے واپس ہوئے تو ایک رات چلتے رہے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ کو نیند کا غلبہ ہوا تو رات کے آخری حصہ میں اترے اور حضرت بلال ؓ سے فرمایا کہ تم آج رات پہرہ دو تو حضرت بلال ؓ نے نماز پڑھنی شروع کردی جتنی نماز اس سے پڑھی جاسکی اور رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ سو گئے پھر جب فجر کا وقت قریب ہوا تو حضرت بلال ؓ نے صبح طلوع ہونے والی جگہ کی طرف اپنا رخ کر کے اپنی اونٹنی سے ٹیک لگائی تو حضرت بلال ؓ پر بھی نیند کا غلبہ ہوگیا پھر نہ تو رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے اور نہ ہی حضرت بلال ؓ اور نہ ہی صحابہ کرام ؓ میں سے کوئی بیدار ہوا یہاں تک کہ دھوپ ان پر آگئی تو رسول اللہ ﷺ ان میں سے سب سے پہلے بیدار ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے دھوپ دیکھی تو گھبرا گئے اور فرمایا اے بلال! تو حضرت بلال نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان میرے نفس کو بھی اسی نے روک لیا جس نے آپ کے نفس مبارک کو روک لیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا یہاں سے کوچ کرو پھر کچھ دور چلے پھر رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا اور حضرت بلال کو حکم فرمایا پھر انہوں نے نماز کی اقامت کہی تو آپ ﷺ نے ان کو صبح کی نماز پڑھائی جب نماز پوری ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی نماز پڑھنی بھول جائے تو جب اسے یاد آجائے تو اسے چاہئے کہ وہ اس نماز کو پڑھ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا أَقِمْ الصَّلَاةَ لِذِکْرِي میری یاد کے لئے نماز قائم کر پس راوی کہتے ہیں کہ ابن شہاب اس لفظ کو لِلذِّکْرَی پڑھا کرتے تھے یعنی یاد کے لئے۔
Abu Hurairah (RA) reported that when the Messenger of Allah ﷺ returned from the expedition to Khaibar, he traveled one night, and stopped for rest when he became sleepy. He told Bilal (RA) to remain on guard during the night and he ( Bilal (RA) ) prayed as much as he could, while the Messenger of Allah ﷺ and his Companions slept. When the time for dawn approached Bilal (RA) leaned against his camel facing the direction from which the dawn would appear but he was overcome by sleep while he was leaning against his camel, and neither the Messenger of Allah ﷺ nor Bilal (RA) , nor anyone else among his Companions got up, till the sun shone on them. Allahs Messenger ﷺ was the first of them to awake and, being startled, he called to Bilal (RA) who said: Messenger of Allah ﷺ I may my father and mother be offered as ransom for thee, the same thing overpowered me which overpowered you. He (the Holy Prophet, then) said: Lead the beasts on: so they led their camels to some distance. The Messenger of Allah ﷺ then performed ablution and gave orders to Bilal (RA) who pronounced when he hears the Iqamah and then led them in the morning prayer. When he finished the prayer he said: When anyone forgets the prayer, he should observe it when he remembers it, for Allah has said: "And observe the prayer for remembrance of Me" (Quran. xx. 14). Yunus said: Ibn Shilab used to recite it like this :"(And observe the prayer) for remembrance."
فوت شدہ نمازوں کی قضاء اور ان کو جلد پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَی قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ کَيْسَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ عَرَّسْنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّی طَلَعَتْ الشَّمْسُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَأْخُذْ کُلُّ رَجُلٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ قَالَ فَفَعَلْنَا ثُمَّ دَعَا بِالْمَائِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَقَالَ يَعْقُوبُ ثُمَّ صَلَّی سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَصَلَّی الْغَدَاةَ
محمد بن حاتم و یعقوب بن ابراہیم، یحیی، ابن حاتم، یحییٰ بن سعید، یزید بن کیسان، ابوحازم، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ رات کے آخری حصہ میں اترے اور ہم میں سے کوئی بھی بیدار نہیں ہوا یہاں تک کہ سورج نکل آیا پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر آدمی اپنی سواری (اونٹ) کی لگام پکڑے (اور چلے) کیونکہ اس جگہ میں شیطان آگیا ہے راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم نے ایسے ہی کیا پھر آپ ﷺ نے پانی منگوایا اور وضو فرمایا اور دو رکعت نماز سنت پڑھی اور راوی یعقوب نے کہا کہ سجدہ کی بجائے صلی ہے پھر نماز کی اقامت کہی گئی پھر آپ ﷺ نے صبح کی فرض نماز پڑھائی۔
Abu Hurairah (RA) reported: We stopped for rest along with the Apostle of Allah ﷺ and did not awake till the sun rose. The Apostle of Allah ﷺ then told us that everybody should take hold of his camels nose string (get out of this ground) for it was the place where devil had visited us. We did accordingly. He then called for water and performed ablution and then performed two prostrations. Yaqub said: Then he prayed (performed) two prostrations. then takbir was pronounced for prayer and then he offered the morning prayer (in congregation).