مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 6 · 408 hadiths · Page 18 of 21

1501Sahih Muslim

جماعت کے ساتھ نوافل اور پاک چٹائی وغیرہ پر نماز پڑھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَمَا هُوَ إِلَّا أَنَا وَأُمِّي وَأُمُّ حَرَامٍ خَالَتِي فَقَالَ قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ بِکُمْ فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ فَصَلَّی بِنَا فَقَالَ رَجُلٌ لِثَابِتٍ أَيْنَ جَعَلَ أَنَسًا مِنْهُ قَالَ جَعَلَهُ عَلَی يَمِينِهِ ثُمَّ دَعَا لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ بِکُلِّ خَيْرٍ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَقَالَتْ أُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ خُوَيْدِمُکَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ قَالَ فَدَعَا لِي بِکُلِّ خَيْرٍ وَکَانَ فِي آخِرِ مَا دَعَا لِي بِهِ أَنْ قَالَ اللَّهُمَّ أَکْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِکْ لَهُ فِيهِ

زہیر بن حرب، ہاشم بن قاسم، سلیمان بن ثابت، حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ہمارے گھر داخل ہوئے جبکہ گھر میں میں اور میری والدہ اور ام حرام میری خالہ تھیں آپ ﷺ نے فرمایا کھڑے ہوجاؤ تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں اور وہ وقت کسی نماز کا بھی نہیں تھا ایک آدمی نے ثابت سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے حضرت انس ؓ کو کہاں کھڑا کیا تھا انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے انہیں اپنی دائیں طرف کھڑا کیا پھر آپ ﷺ نے ہمارے گھر والوں کے لئے ہر طرح کی دنیا وآخرت کی بھلائی کی دعا فرمائی میری والدہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول انس آپ ﷺ کا ایک چھوٹا سا خادم ہے اس کے لئے آپ دعا فرمائیں! آپ ﷺ نے میرے لئے ہر طرح کی بھلائی کی دعا فرمائی اور دعا کے آخر میں جو میرے لئے تھی اس کے ساتھ یہ فرمایا اے اللہ ان کے مال اور ان کی اولاد میں کثرت اور ان کے لئے اس میں برکت عطا فرما۔

Thabit reported on the authority of Anas (RA) : The Apostle of Allah ﷺ came to us and there was none in our house but I, my mother and my aunt Umm Haram. He (the Holy Prophet) said: Stand up so that I may lead you in prayer (and there was no time for prescribed prayer). He led us in prayer. A person said to Thabit (RA) : Where stood Anas with him (the Holy Prophet)? He replied: He was on the right side. He then blessed us, the members of the household with every good of this world and of the Hereafter. My mother said: Messenger of Allah ﷺ (and then, pointing towards Anas, said), here is your little servant, invoke the blessing of Allah upon him too. He then blessed me with every good, and he concluded his blessings for me (with these words): Allah! increase his wealth, and his children and make (them the source of) blessing for him.

1502Sahih Muslim

جماعت کے ساتھ نوافل اور پاک چٹائی وغیرہ پر نماز پڑھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ سَمِعَ مُوسَی بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی بِهِ وَبِأُمِّهِ أَوْ خَالَتِهِ قَالَ فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ وَأَقَامَ الْمَرْأَةَ خَلْفَنَا

عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، عبداللہ بن مختار، موسی، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اور ان کی والدہ یا ان کی خالہ کو نماز پڑھائی اور ارشاد فرمایا کہ مجھے آپ ﷺ نے دائیں طرف کھڑا کیا اور خاتون کو ہمارے پیچھے کھڑا کیا۔

Abdullah bin al-Mukhtar heard Musa bin Anas narrating on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ led him, his mother or his aunt in prayer. He made me stand on his right side and made the woman stand behind us.

1503Sahih Muslim

جماعت کے ساتھ نوافل اور پاک چٹائی وغیرہ پر نماز پڑھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔

This hadith has also been narrated by Shubah with this chain of transmitters.

1504Sahih Muslim

جماعت کے ساتھ نوافل اور پاک چٹائی وغیرہ پر نماز پڑھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ کِلَاهُمَا عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا حِذَائَهُ وَرُبَّمَا أَصَابَنِي ثَوْبُهُ إِذَا سَجَدَ وَکَانَ يُصَلِّي عَلَی خُمْرَةٍ

یحییٰ بن یحیی، خالد بن عبداللہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، عباد بن عوام، شیبانی، عبداللہ بن شداد، حضرت میمونہ ؓ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے برابر کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرتے تھے اور بعض مرتبہ آپ ﷺ کے کپڑے میرے ساتھ لگتے تھے جب سجدہ کرتے اور آپ ﷺ چٹائی پر نماز پڑھا کرتے تھے۔

Maimuna, the wife of the Apostle of Allah ﷺ , reported: The Messenger of Allah ﷺ said prayer while I was by his side, and at times when he prostrated his cloth touched me, and he prayed on a small mat.

1505Sahih Muslim

جماعت کے ساتھ نوافل اور پاک چٹائی وغیرہ پر نماز پڑھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَهُ يُصَلِّي عَلَی حَصِيرٍ يَسْجُدُ عَلَيْهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ و ابوکریب، ابومعاویہ، سوید بن سعید، علی بن مسہر، اعمش، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، ابوسفیان، جابر، ابوسعید خدری ؓ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ کو ایک چٹائی پر نماز پڑھتے ہوئے پایا جس پر آپ ﷺ سجدہ فرما رہے تھے۔

Abu Said al-Khudri reported that he went to the Messenger of Allah ﷺ and found him observing prayer on a mat and prostrating on that.

1506Sahih Muslim

فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور نماز کے انتظار اور کثرت کے ساتھ مسجد کی طرف قدم اٹھانے اور اس کی طرف چلنے کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَی صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ وَصَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً وَذَلِکَ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوئَ ثُمَّ أَتَی الْمَسْجِدَ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فَلَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ حَتَّی يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ کَانَ فِي الصَّلَاةِ مَا کَانَتْ الصَّلَاةُ هِيَ تَحْبِسُهُ وَالْمَلَائِکَةُ يُصَلُّونَ عَلَی أَحَدِکُمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّی فِيهِ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ و ابوکریب، ابومعاویہ، ابوبکر، اعمش، ابی صالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اس کا اپنے گھر میں نماز پڑھنے پر کچھ اوپر بیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے اور یہ اس لئے کہ تم میں سے کوئی جب وضو کرتا اور خوب اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر مسجد میں آتا ہے اسے نماز کے علاوہ کسی نے نہیں اٹھایا اور نہ ہی نماز کے علاوہ اس کا کسی چیز کا ارادہ ہے تو کوئی قدم نہیں اٹھاتا مگر اللہ تعالیٰ اس کے (ایک قدم) کے بدلہ میں اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے اور اس کا ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہوجاتا ہے تو جب وہ مسجد میں داخل ہوتا ہے تو وہ نماز ہی کے حکم میں رہتا ہے جب تک کہ نماز اسے روکے رکھتی ہے اور فرشتے تمہارے لئے دعا کرتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ اپنی اسی جگہ میں بیٹھا رہتا ہے جس میں اس نے نماز پڑھی ہے کہتے رہتے ہیں اے اللہ اس پر رحم فرما اے اللہ اس کی مغفرت فرما اے اللہ اس کی توبہ قبول فرما جب کہ وہ بےوضو نہ ہو۔ (وہ فرشتے دعا ہی کرتے رہتے ہیں)

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A mans prayer in congregation is more valuable than twenty degrees and some above them as compared with his prayer in his house and his market, for when he performs ablution doing it well, then goes out to the mosque, and he is impelled (to do so) only by (the love of congregational) prayer, he has no other objective before him but prayer. He does not take a step without being raised a degree for it and having a sin remitted for it, till he enters the mosque, and when he is busy in prayer after having entered the mosque, the angels continue to invoke blessing on him as long as he is in his place of worship. saying: O Allah, show him mercy, and pardon him! Accept his repentance (and the angels continue this supplication for him) so long as he does not do any harm in it, or as long as his ablution is not broken.

1507Sahih Muslim

فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور نماز کے انتظار اور کثرت کے ساتھ مسجد کی طرف قدم اٹھانے اور اس کی طرف چلنے کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ زَکَرِيَّائَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ

سعید بن عمرو اشعثی، عبثر، محمد بن بکار بن ریان، اسماعیل، بن زکریا، محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، شعبہ، اعمش سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

A hadith having the same meaning (as mentioned above) has been transmitted by Amash.

1508Sahih Muslim

فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور نماز کے انتظار اور کثرت کے ساتھ مسجد کی طرف قدم اٹھانے اور اس کی طرف چلنے کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَلَائِکَةَ تُصَلِّي عَلَی أَحَدِکُمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ تَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ وَأَحَدُکُمْ فِي صَلَاةٍ مَا کَانَتْ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ

ابن ابی عمر، سفیان، ایوب، ابن سیرین، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تک تم میں سے کوئی اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے اس کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں اے اللہ اس کی مغفرت فرما اے اللہ اس پر رحم فرما جب تک وہ آدمی بےوضو نہ ہو اور تم میں سے ہر ایک نماز ہی میں ہوتا ہے جب تک کہ اسے نماز روکے رکھتی ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The angels invoke blessings on everyone among you so long as he is in a place of worship with these words: O Allah! pardon him, O Allah, have mercy upon him, (and they continue to do so) as long as the ablution (of the worshipper) is not broken, and one among you is in prayer and so long as he is detained for the prayer.

1509Sahih Muslim

فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور نماز کے انتظار اور کثرت کے ساتھ مسجد کی طرف قدم اٹھانے اور اس کی طرف چلنے کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ مَا کَانَ فِي مُصَلَّاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ وَتَقُولُ الْمَلَائِکَةُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ حَتَّی يَنْصَرِفَ أَوْ يُحْدِثَ قُلْتُ مَا يُحْدِثُ قَالَ يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ

محمد بن حاتم، بہز، حماد بن سلمہ، ثابت، رافع، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بندہ نماز ہی میں ہوتا ہے جب تک کہ وہ اپنی نماز کی جگہ نماز کے انتظار میں رہے اور فرشتے کہتے ہیں اے اللہ اس کی مغفرت فرما اے اللہ اس پر رحم فرما یہاں تک کہ وہ واپس چلا جائے یا اسے حدث لاحق ہوجائے میں نے عرض کیا کہ حدث کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ ہوا خارج کر دے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The servant is constantly in prayer so long as he is in a place of worship waiting for the prayer (to be observed in congregation), and the angels invoke (blessings upon him in these words): O Allah! pardon him. O Allah! show mercy to him, (and they continue to do so) till he returns (from the mosque having completed the prayer) or his ablution breaks. I said: How is the ablution broken? He said: By breaking of the wind noiselessly or with noise.

1510Sahih Muslim

فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور نماز کے انتظار اور کثرت کے ساتھ مسجد کی طرف قدم اٹھانے اور اس کی طرف چلنے کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزَالُ أَحَدُکُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَتْ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ لَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَی أَهْلِهِ إِلَّا الصَّلَاةُ

یحییٰ بن یحیی، مالک، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آدمی نماز ہی کے حکم میں رہتا ہے جب تک کہ نماز اسے روکے رکھتی ہے گھر جانے میں نماز کے علاوہ اور کوئی چیز اسے نہیں روکتی۔

Abu Hurairah (RA) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Everyone among you is constantly in prayer so long as the prayer detains him (for this noble objective) and nothing prevents him to return to his family but the prayer.

1511Sahih Muslim

فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور نماز کے انتظار اور کثرت کے ساتھ مسجد کی طرف قدم اٹھانے اور اس کی طرف چلنے کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ هُرْمُزَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحَدُکُمْ مَا قَعَدَ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فِي صَلَاةٍ مَا لَمْ يُحْدِثْ تَدْعُو لَهُ الْمَلَائِکَةُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس بن محمد بن سلمہ مرادی، عبداللہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جو کوئی جب تک نماز کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے تو وہ نماز ہی کے حکم میں رہتا ہے اور جب تک کہ وہ بےوضو نہ ہو تو فرشتے اس کے لئے دعا کرتے ہیں اے اللہ اس کی مغفرت فرما اے اللہ اس پر رحم فرما۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Anyone amongst you who sat in a place of worship waiting for the prayer is in prayer and his ablution is not broken, the angels invoke blessing upon him (in these words): O Allah! pardon him. O Allah! have mercy upon him.

1512Sahih Muslim

فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور نماز کے انتظار اور کثرت کے ساتھ مسجد کی طرف قدم اٹھانے اور اس کی طرف چلنے کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ هَذَا

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث نقل فرمائی۔

A hadith like this has been narrated by Hammam bin Munabbih on the authority of Abu Hurairah (RA) .

1513Sahih Muslim

مسجدوں کی طرف کثرت سے قدم اٹھا کر جانے والوں کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلَاةِ أَبْعَدُهُمْ إِلَيْهَا مَمْشًی فَأَبْعَدُهُمْ وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ حَتَّی يُصَلِّيَهَا مَعَ الْإِمَامِ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ الَّذِي يُصَلِّيهَا ثُمَّ يَنَامُ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي کُرَيْبٍ حَتَّی يُصَلِّيَهَا مَعَ الْإِمَامِ فِي جَمَاعَةٍ

عبداللہ بن براد اشعری و ابوکریب، ابواسامہ، برید، ابوبردہ، حضرت ابوموسی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں میں سے نماز کا سب سے بڑا اجر اس آدمی کو ملتا ہے جو سب سے زیادہ دور سے اس کی طرف چل کر آتا ہے پھر جو ان کے بعد میں آنے والا ہو اور وہ آدمی جو امام کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے نماز کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہو اور اس آدمی کا اجر اس آدمی سے زیادہ ہے جو نماز پڑھتا ہے پھر سو جاتا ہے اور ابوکریب کی روایت میں ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے امام کے ساتھ نماز پڑھنے کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے۔

Abu Musa reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The most eminent among human beings (as a recipient of) reward (is one) who lives farthest away, and who has to walk the farthest distance, and he who waits for the prayer to observe it along with the Imam, his reward is greater than one who prays (alone) and then goes to sleep. In the narration of Abu Kuraib (the words are): "(He waits) till he prays along with the Imam in congregation."

1514Sahih Muslim

مسجدوں کی طرف کثرت سے قدم اٹھا کر جانے والوں کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ کَانَ رَجُلٌ لَا أَعْلَمُ رَجُلًا أَبْعَدَ مِنْ الْمَسْجِدِ مِنْهُ وَکَانَ لَا تُخْطِئُهُ صَلَاةٌ قَالَ فَقِيلَ لَهُ أَوْ قُلْتُ لَهُ لَوْ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْکَبُهُ فِي الظَّلْمَائِ وَفِي الرَّمْضَائِ قَالَ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ مَنْزِلِي إِلَی جَنْبِ الْمَسْجِدِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ يُکْتَبَ لِي مَمْشَايَ إِلَی الْمَسْجِدِ وَرُجُوعِي إِذَا رَجَعْتُ إِلَی أَهْلِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَمَعَ اللَّهُ لَکَ ذَلِکَ کُلَّهُ

یحییٰ بن یحیی، عبثر، سلیمان تیمی، ابوعثمان نہدی، حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی تھا کہ جس کو میرے سے زیادہ کوئی آدمی اسے نہیں جانتا کہ وہ مسجد سے اتنی دور ہے اور اس کی کوئی نماز بھی نہیں چھوٹتی تھی تو میں نے اس سے کہا کہ اگر تو ایک گدھا خرید لے کہ جس پر تو سوار ہو کر اندھیرے میں اور گرمیوں میں آیا کرے! اس نے کہا کہ میرے لئے یہ کوئی خوشی کی بات نہیں کہ میرا گھر مسجد کے کونے میں ہو بلکہ میں چاہتا ہوں کہ میرا مسجد کی طرف چل کر جانا لکھا جائے اور واپس جانا جب میں اپنے گھر کی طرف واپس جاؤں تو یہ بھی لکھا جائے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے یہ سارا ثواب تیرے لئے جمع کردیا ہے۔

Ubayy bin Kab reported: There was a man, and I do not know of any other man, whose house was farther than his from the mosque and he never missed the prayer (in congregation). It was said to him or I said to him: If you were to buy a donkey you could ride upon it in the dark nights and in the burning sand. He said: I do not like my house to be situated by the side of the mosque, for I (eagerly) desire that my steps towards the mosque and back from it, should be recorded when I return to my family. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Allah has gathered all (rewards) for you.

1515Sahih Muslim

مسجدوں کی طرف کثرت سے قدم اٹھا کر جانے والوں کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ کِلَاهُمَا عَنْ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِنَحْوِهِ

محمد بن عبدالاعلی، معتمر بن سلیمان، اسحاق بن ابراہیم، اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been transmitted by Taimi with the same chain of narrators.

1516Sahih Muslim

مسجدوں کی طرف کثرت سے قدم اٹھا کر جانے والوں کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ کَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بَيْتُهُ أَقْصَی بَيْتٍ فِي الْمَدِينَةِ فَکَانَ لَا تُخْطِئُهُ الصَّلَاةُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَتَوَجَّعْنَا لَهُ فَقُلْتُ لَهُ يَا فُلَانُ لَوْ أَنَّکَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا يَقِيکَ مِنْ الرَّمْضَائِ وَيَقِيکَ مِنْ هَوَامِّ الْأَرْضِ قَالَ أَمَ وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي مُطَنَّبٌ بِبَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَحَمَلْتُ بِهِ حِمْلًا حَتَّی أَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَدَعَاهُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِکَ وَذَکَرَ لَهُ أَنَّهُ يَرْجُو فِي أَثَرِهِ الْأَجْرَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لَکَ مَا احْتَسَبْتَ

محمد بن ابی بکر مقدامی، عباد بن عباد، عاصم، ابی عثمان، حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی تھا اس کا گھر مدینہ منورہ سے بہت دور تھا اور اس کی کوئی نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چھوٹتی بھی نہیں تھی حضرت ابی فرماتے ہیں کہ ہمیں اس کی اس تکلیف کا احساس ہوا تو میں نے اس سے کہا کہ اے فلاں کاش کہ تو ایک گدھا خرید لیتا جو تجھے گرمی اور زمین کے کیڑے مکوڑوں سے بچاتا تو اس آدمی نے کہا اللہ کی قسم میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر محمد ﷺ کے قریب ہو حضرت ابی کہتے ہیں کہ مجھے اس آدمی کی یہ بات ناگوار لگی میں اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور میں نے آپ ﷺ کو اس آدمی کی بات سے آگاہ کیا آپ ﷺ نے اس آدمی کو بلایا تو اس نے اسی بات کی طرح آپ ﷺ کے سامنے ذکر کیا اور یہ کہ میں اپنے قدموں کے اجر کی امید رکھتا ہوں نبی ﷺ نے اس آدمی سے فرمایا کہ تجھے وہی اجر ملے گا جس کی تو نے نیت کی ہے۔

Ubayy bin Kab reported: There was a person among the Ansar whose house was situated at the farthest end of Madinah, but he never in missed any prayer along with the Messenger of Allah ﷺ . We felt pity for him and said to him: O, so and so, had you bought a donkey it would have saved you from the burning sand and would have saved you from the reptiles of the earth. He said: Listen! by Allah, I do not like my house to be situated by the side of Muhammad ﷺ . I took (these words of his) ill and came to the Apostle of Allah ﷺ and informed him about (these words). He (the Holy Prophet) called him and he said exactly like that (which he had mentioned to Ubbay bin Kab), but made a mention of this (also) that he wanted a reward for his steps. Upon this the Apostle of Allah ﷺ said: In fact for you is the reward which you expect.

1517Sahih Muslim

مسجدوں کی طرف کثرت سے قدم اٹھا کر جانے والوں کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَزْهَرَ الْوَاسِطِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا أَبِي کُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

سعید بن عمرو اشعثی و محمد بن ابی عمر، ابن عیینہ، سعید بن ازہر واسطی، وکیع، حضرت عاصم ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح یہ حدیث بھی نقل کی گئی ہے۔

A hadith like this has been narrated by Asim with the same chain of transmitters.

1518Sahih Muslim

مسجدوں کی طرف کثرت سے قدم اٹھا کر جانے والوں کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَانَتْ دِيَارُنَا نَائِيَةً عَنْ الْمَسْجِدِ فَأَرَدْنَا أَنْ نَبِيعَ بُيُوتَنَا فَنَقْتَرِبَ مِنْ الْمَسْجِدِ فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لَکُمْ بِکُلِّ خَطْوَةٍ دَرَجَةً

حجاج بن شاعر، روح بن عبادہ، زکریا بن اسحاق، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہمارے گھر مسجد سے دور تھے تو ہم نے چاہا کہ ہم اپنے گھروں کو بیچ دیں اور مسجد کے قریب گھر لے لیں تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں منع فرما دیا اور فرمایا کہ تمہارے لئے ہر قدم کے ساتھ ایک درجہ ہے۔

Jabir bin Abdullah narrated: Our houses were situated far away from the mosque; we, therefore, decided to sell our houses so that we may be able to come near the mosque. The Messenger of Allah ﷺ forbade us (to do so) and said: There is for every step (towards the mosque) a degree (of reward) for you.

1519Sahih Muslim

مسجدوں کی طرف کثرت سے قدم اٹھا کر جانے والوں کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ قَالَ حَدَّثَنِي الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَلَتْ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَنْتَقِلُوا إِلَی قُرْبِ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّکُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَرَدْنَا ذَلِکَ فَقَالَ يَا بَنِي سَلِمَةَ دِيَارَکُمْ تُکْتَبْ آثَارُکُمْ دِيَارَکُمْ تُکْتَبْ آثَارُکُمْ

محمد بن مثنی، عبدالصمد بن عبدالوارث، جریری، ابونضرہ، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ مسجد کے گرد کچھ جگہیں خالی ہوئیں تو بنی سلمہ نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب منتقل ہوجائیں تو یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ مجھے تمہاری یہ بات پہنچی ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو انہوں نے عرض کیا جی ہاں اے اللہ کے رسول ہم نے یہ ارادہ کیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے بنی سلمہ اپنے گھروں میں رہو تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں (آپ ﷺ نے دوبارہ فرمایا) اپنے گھروں میں رہو تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported: There were some plots vacant around the mosque. Banu Salama decided to shift (to this land) and come near the mosque. This (news) reached the Messenger of Allah ﷺ and he said to them (Banu Salama): I have received (information) that you intend to shift near the mosque. They said: Yes, Messenger of Allah, we have taken this decision. Upon this he (the Holy Prophet) said: O Banu Salama, live in your houses, for your steps are recorded; live in your houses, for your steps are recorded.

1520Sahih Muslim

مسجدوں کی طرف کثرت سے قدم اٹھا کر جانے والوں کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ کَهْمَسًا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَتَحَوَّلُوا إِلَی قُرْبِ الْمَسْجِدِ قَالَ وَالْبِقَاعُ خَالِيَةٌ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا بَنِي سَلِمَةَ دِيَارَکُمْ تُکْتَبْ آثَارُکُمْ فَقَالُوا مَا کَانَ يَسُرُّنَا أَنَّا کُنَّا تَحَوَّلْنَا

عاصم بن نضر تیمی، معتمر، کہمس، ابونضرہ، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ وہ مسجد کے قریب والی جگہوں میں منتقل ہوجائیں راوی نے کہا کہ وہاں کچھ مکان خالی تھے یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا اے بنی سلمہ تم اپنے گھروں میں رہو تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں انہوں نے عرض کیا کہ اب ہمیں منتقل ہونے کی اتنی خوشی نہ ہوتی۔ (جتنی کہ آپ ﷺ کے یہ فرمانے پر کہ تمہارے قدموں کے نشانات بھی لکھے جاتے ہیں)

Jabir bin Abdullah (RA) reported that Banu Salama decided to shift near the mosque (as there were) some plots vacant. This (news) reached the Apostle of Allah ﷺ , whereupon he said: O people of the Salama tribe, you better stay in your houses (where you are living), for your footsteps are recorded They said. We could not be more delighted even by shifting (near the mosque) as we were delighted (on hearing these words from the Messenger of Allah ﷺ .