نبی ﷺ سے لوگوں کا تقرب اور برکت حاصل کرنے اور آپ ﷺ کا لوگوں کے لئے تو اضع اختیار کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ جَمِيعًا عَنْ أَبِي النَّضْرِ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ يَعْنِي هَاشِمَ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی الْغَدَاةَ جَائَ خَدَمُ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَائُ فَمَا يُؤْتَی بِإِنَائٍ إِلَّا غَمَسَ يَدَهُ فِيهَا فَرُبَّمَا جَائُوهُ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ فَيَغْمِسُ يَدَهُ فِيهَا
مجاہد بن موسیٰ ابوبکر بن نضر بن ابی نضر ہارون بن عبداللہ ابی نضر ابوبکر ابونضر ہاشم بن قاسم سلیمان بن مغیرہ ثابت، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تھے تو مدینہ منورہ کے خادم اپنے برتنوں میں پانی لے کر آتے پھر جو برتن آپ ﷺ کے پاس لایا جاتا تو آپ ﷺ اس برتن میں اپنا ہاتھ مبارک ڈبو دیتے اور اکثر اوقات سخت سردی کے موسم میں بھی یہ اتفاقات پیش آجاتے تو پھر بھی آپ ﷺ اس میں اپنا ہاتھ مبارک ڈبو دیتے۔
Anas bin Malik (RA) reported that when Allahs Messenger ﷺ had completed his dawn prayer, the servants of Madinah came to him with utensils containing water, and no utensil was brought in which he did not dip his hand; and sometime they came in the cold dawn (and he did not feel reluctant in acceding to their request even in the cold weather) and dipped his hand in them.
نبی ﷺ سے لوگوں کا تقرب اور برکت حاصل کرنے اور آپ ﷺ کا لوگوں کے لئے تو اضع اختیار کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَلَّاقُ يَحْلِقُهُ وَأَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ فَمَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعْرَةٌ إِلَّا فِي يَدِ رَجُلٍ
محمد بن رافع ابونضر سلیمان ثابت حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے دیکھا کہ حجام آپ ﷺ کی حجامت بنا رہا تھا اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ آپ ﷺ کے اردگرد تھے وہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کا کوئی بال مبارک نیچے گرے بلکہ کسی نہ کسی آدمی کے ہاتھ میں آپ ﷺ کا بال گرے۔
Anas reported: I saw when the Messenger of Allah ﷺ got his hair cut by the barber, his Companions came round him and they eagerly wanted that no hair should fall but in the hand of a person.
نبی ﷺ سے لوگوں کا تقرب اور برکت حاصل کرنے اور آپ ﷺ کا لوگوں کے لئے تو اضع اختیار کرنے کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ امْرَأَةً کَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْئٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي إِلَيْکَ حَاجَةً فَقَالَ يَا أُمَّ فُلَانٍ انْظُرِي أَيَّ السِّکَکِ شِئْتِ حَتَّی أَقْضِيَ لَکِ حَاجَتَکِ فَخَلَا مَعَهَا فِي بَعْضِ الطُّرُقِ حَتَّی فَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، حماد بن سلمہ ثابت بن انس، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت جس کی عقل میں کچھ فتور تھا وہ عرض کرنے لگی اے اللہ کے رسول! مجھے آپ ﷺ سے ایک کام ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا اے ام فلاں تو جس جگہ چاہتی ہے ٹھہر لے میں تیراکام کر دوں گا تو آپ ﷺ نے ایک راستہ میں اس عورت سے علیحدگی میں بات کی یہاں تک کہ وہ اپنے کام سے فارغ ہوگئی۔
Anas reported that a woman had a partial derangement in her mind, so she said: "Allahs Messenger, I want something from you." He said: Mother of so and so, see on which side of the road you would like (to stand and talk) so that I may do the needful for you. He stood aside with her on the roadside until she got what she needed.
سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے انتقام چھوڑ دینے کے بیان مٰن
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَکُنْ إِثْمًا فَإِنْ کَانَ إِثْمًا کَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَکَ حُرْمَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، سیدہ عائشہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب دو کاموں میں سے ایک کام کرنے کا اختیار دیا جاتا تو آپ ان میں سے آسان کام کو اختیار فرماتے تھے شرط یہ ہے کہ وہ گناہ کا کام نہ ہوتا ہو اور اگر گناہ کو کام ہوتا تو آپ ﷺ سب لوگوں سے بڑھ کر اس کام سے دور رہتے اور رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی سے اپنی ذات کی وجہ سے انتقام نہیں لیا لیکن اگر کوئی آدمی اللہ کے حکم کے خلاف کام کرتا تو آپ ﷺ اسے سزا دیتے۔
Aisha, the wife of Allahs Apostle ﷺ , said that whenever he had to choose between two things he adopted the easier one, provided it was not sin, but if it was any sin he was the one who was the farthest from it of the people; and Allahs Messenger ﷺ never took revenge from anyone because of his personal grievance, unless what Allah, the Exalted and Glorious, had made inviolable had been violated.
سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے انتقام چھوڑ دینے کے بیان مٰن
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ کِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُحَمَّدٍ فِي رِوَايَةِ فُضَيْلٍ ابْنُ شِهَابٍ وَفِي رِوَايَةِ جَرِيرٍ مُحَمَّدٌ الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، جریر، احمد بن عبدہ فضیل بن عیاض منصور محمد فضیل ابن شہاب جریر، محمد زہری، عروہ حضرت عائشہ ؓ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت منقول ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shibab through another chain of transmitters.
سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے انتقام چھوڑ دینے کے بیان مٰن
و حَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِکٍ
حرملہ بن یحییٰ، ابن وہب، یونس، حضرت ابن شہاب ؓ سے اس سند کے ساتھ مذکورہ مالک کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shibab through another chain of transmitters.
سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے انتقام چھوڑ دینے کے بیان مٰن
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنْ الْآخَرِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَکُنْ إِثْمًا فَإِنْ کَانَ إِثْمًا کَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ
ابوکریب ابواسامہ ہشام حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب بھی دو کاموں میں اختیار دیا جاتا تو آپ ﷺ ان میں سے آسان کام کو اختیار فرماتے جب تک کہ وہ گناہ کا کام نہ ہوتا اور اگر گناہ کا کام ہوتا تو آپ ﷺ تمام لوگوں سے زیادہ اس کام سے دور رہتے۔
Aisha reported: Never did Allahs Messenger ﷺ make a choice between two things but adopting the easier one as compared to the difficult one, but his choice for the easier one was only in case it did not involve any sin, but if it involved sin he was the one who was the farthest from it amongst the people.
سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے انتقام چھوڑ دینے کے بیان مٰن
و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَی قَوْلِهِ أَيْسَرَهُمَا وَلَمْ يَذْکُرَا مَا بَعْدَهُ
ابوکریب ابن نمیر عبداللہ بن نمیر حضرت ہشام ؓ سے اسی سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے لیکن اس میں أَيْسَرَهُمَا یعنی ان میں سے آسان کام کو اختیار فرمانے تک کا قول مذکور ہے لیکن اس کے بعد کا حصہ مذکور نہیں ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham through another chain of transmitters but with a slight variation of wording.
سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے انتقام چھوڑ دینے کے بیان مٰن
حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهِ وَلَا امْرَأَةً وَلَا خَادِمًا إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَيْئٌ قَطُّ فَيَنْتَقِمَ مِنْ صَاحِبِهِ إِلَّا أَنْ يُنْتَهَکَ شَيْئٌ مِنْ مَحَارِمِ اللَّهِ فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ابوکریب ابواسامہ ہشام سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا اور نہ ہی کسی عورت کو اور نہ ہی کسی خادم کو مارا سوائے اس کے کہ اللہ کے راستے میں جو جہاد کیا جاتا ہے اور جس نے بھی آپ ﷺ کو کوئی تکلیف پہنچائی تو آپ ﷺ نے اس سے بدلہ نہیں لیا سوائے اس کے کہ جس نے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی تو آپ ﷺ نے اللہ ہی کے لئے اس سے انتقام لیا۔
Aisha reported that Allahs Messenger ﷺ never beat anyone with his hand, neither a woman nor a servant, but only, in the case when he had been fighting in the cause of Allah and he never took revenge for anything unless the things made inviolable by Allah were made violable; he then took revenge for Allah, the Exalted and Glorious.
سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے انتقام چھوڑ دینے کے بیان مٰن
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدَةُ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَی بَعْضٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، عبدہ وکیع، ابوکریب ابومعاویہ حضرت ہشام ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت منقول کی گئی ہے صرف کچھ کمی بیشی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham through another chain of transmitters but with a slight variation of wording.
نبی ﷺ کے جسم مبارک کی خوشبو اور آپ ﷺ کی ہتھیلی کی نرمی کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ وَهُوَ ابْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْأُولَی ثُمَّ خَرَجَ إِلَی أَهْلِهِ وَخَرَجْتُ مَعَهُ فَاسْتَقْبَلَهُ وِلْدَانٌ فَجَعَلَ يَمْسَحُ خَدَّيْ أَحَدِهِمْ وَاحِدًا وَاحِدًا قَالَ وَأَمَّا أَنَا فَمَسَحَ خَدِّي قَالَ فَوَجَدْتُ لِيَدِهِ بَرْدًا أَوْ رِيحًا کَأَنَّمَا أَخْرَجَهَا مِنْ جُؤْنَةِ عَطَّارٍ
عمرو بن حماد بن طلحہ قناد اسباط ابن نصر ہمدانی سماک حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی پھر آپ ﷺ اپنے گھر کی طرف نکلے اور میں بھی آپ کے ساتھ نکلا تو سامنے سے کچھ بچے آئے تو آپ ﷺ نے ان بچوں میں سے ہر ایک کے رخسار پر ہاتھ پھیرا حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے میرے رخسار پر بھی ہاتھ پھیرا حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کے ہاتھ مبارک میں ٹھنڈک اور خوشبو محسوس کی گویا کہ عطار کے ڈبہ سے ہاتھ باہر نکالا ہو۔
Jabir bin ahadeeth reported: I prayed along with Allahs Messenger ﷺ the first prayer. He then went to his family and I also went along with him when he met some children (on the way). He began to pat the cheeks of each one of them. He also patted my cheek and I experienced a coolness or a fragrance of his hand as if it had been brought out from the scent bag of a perfumer.
نبی ﷺ کے جسم مبارک کی خوشبو اور آپ ﷺ کی ہتھیلی کی نرمی کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ أَنَسٌ مَا شَمَمْتُ عَنْبَرًا قَطُّ وَلَا مِسْکًا وَلَا شَيْئًا أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا مَسِسْتُ شَيْئًا قَطُّ دِيبَاجًا وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مَسًّا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قتیبہ بن سیعد جعفر بن سلیمان ثابت انس، زہیر بن حرب، ہاشم ابن قاسم سلیمان ابن مغیر ثابت حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نہ عنبر کو نہ مشک اور نہ ہی کوئی ایسی خوشبو سونگھی جو خوشبو میں نے رسول اللہ ﷺ کے جسم اطہر سے محسوس کی اور نہ ہی میں نے رسول اللہ ﷺ کے جسم مبارک سے زیادہ کسی دیباج اور ریشم کو نرم پایا۔
Anas reported: I never smelt ambergris or musk as fragrant as the fragrance of the body of Allahs Messenger ﷺ and I never touched brocade or silk and found it as soft as the body of Allahs Messenger ﷺ .
نبی ﷺ کے جسم مبارک کی خوشبو اور آپ ﷺ کی ہتھیلی کی نرمی کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْهَرَ اللَّوْنِ کَأَنَّ عَرَقَهُ اللُّؤْلُؤُ إِذَا مَشَی تَکَفَّأَ وَلَا مَسِسْتُ دِيبَاجَةً وَلَا حَرِيرَةً أَلْيَنَ مِنْ کَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا شَمِمْتُ مِسْکَةً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
احمد بن سعید صخر دارمی حباب حماد ثابت حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا رنگ مبارک سفید چمکتا ہوا تھا اور آپ ﷺ کا پسنیہ مبارک موتی کی طرح چمکتا ہوا تھا اور جب آپ ﷺ چلتے تو آگے جھکتے ہوئے دباؤ ڈال کر چلتے تھے اور میں نے دیباج اور ریشم کو بھی اتنا نرم نہیں پایا جتنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی مبارک ہتھیلیوں کو نرم پایا اور مشک وغیرہ میں وہ خوشبو نہیں تھی کہ جو رسول اللہ ﷺ کے جسم مبارک میں تھی۔
Anas reported that Allahs Messenger ﷺ had a very fair complexion and (the drops) of his perspiration shone like pearls, and when he walked he walked inclining forward, and I never touched brocade and silk (and found it) as soft as the softness of the palm of Allahs Messenger ﷺ and I never smelt musk or ambergris and found its fragrance as sweet as the fragrance of Allahs Messenger ﷺ .
نبی ﷺ کا پسینہ مبارک کے خوشبو دار مبترک ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عِنْدَنَا فَعَرِقَ وَجَائَتْ أُمِّي بِقَارُورَةٍ فَجَعَلَتْ تَسْلِتُ الْعَرَقَ فِيهَا فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعِينَ قَالَتْ هَذَا عَرَقُکَ نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ
زہیر بن حرب، ہاشم ابن قاسم سلیمان ثابت، حضرت انس ؓ بن مالک سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے اور آپ ﷺ نے آرام فرمایا آپ ﷺ کو پسینہ آیا میری والدہ محترمہ ایک شیشی لائیں اور آپ ﷺ کا مبارک پسینہ پونچھ کر اس شیشی میں ڈالنے لگیں تو نبی ﷺ بیدار ہوگئے اور آپ ﷺ نے فرمایا اے ام سلیم تم یہ کیا کر رہی ہو ام سلیم ؓ کہنے لگی یہ آپ ﷺ کا پسینہ مبارک ہے جس کو ہم اپنی خوشبو میں ڈالیں گے اور تمام خوشبوؤں سے بڑھ کر خوشبو محسوس کریں گے۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ used to come to our house and there was perspiration upon his body. My mother brought a bottle and began to pour the sweat in that. When Allahs Apostle ﷺ got up he said: Umm Sulaim, what is this that you are doing? Thereupon she said: That is your sweat which we mix in our perfume and it becomes the most fragrant perfume.
نبی ﷺ کا پسینہ مبارک کے خوشبو دار مبترک ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ فَيَنَامُ عَلَی فِرَاشِهَا وَلَيْسَتْ فِيهِ قَالَ فَجَائَ ذَاتَ يَوْمٍ فَنَامَ عَلَی فِرَاشِهَا فَأُتِيَتْ فَقِيلَ لَهَا هَذَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ فِي بَيْتِکِ عَلَی فِرَاشِکِ قَالَ فَجَائَتْ وَقَدْ عَرِقَ وَاسْتَنْقَعَ عَرَقُهُ عَلَی قِطْعَةِ أَدِيمٍ عَلَی الْفِرَاشِ فَفَتَحَتْ عَتِيدَتَهَا فَجَعَلَتْ تُنَشِّفُ ذَلِکَ الْعَرَقَ فَتَعْصِرُهُ فِي قَوَارِيرِهَا فَفَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرْجُو بَرَکَتَهُ لِصِبْيَانِنَا قَالَ أَصَبْتِ
محمد بن رافع حجین بن مثنی عبدالعزیز ابن ابوسلمہ اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ام سلیم ؓ کے گھر تشریف لاتے تو ام سلیم کے بستر پر سو جاتے اور ام سلیم وہاں نہ ہوتیں۔ راوی حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن آپ ﷺ تشریف لائے تو ام سلیم ؓ کے بستر پر سو گئے ام سلیم آئیں تو ان سے لوگوں نے کہا نبی ﷺ آپ کے گھر میں آپ کے بستر پر سو رہے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ام سلیم ؓ اندر آئیں تو دیکھا کہ آپ ﷺ کو پسینہ آ رہا ہے اور آپ ﷺ کا پسینہ مبارک چمڑے کے بستر پر جمع ہو رہا ہے تو ام سلیم ؓ نے ایک ڈبہ کھولا اور آپ ﷺ کا پسینہ مبارک پونچھ پونچھ کر اس میں ڈالنے لگیں تو نبی ﷺ گھبرا گئے اور فرمانے لگے اے ام سلیم یہ کیا کر رہی ہو ام سلیم ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم اپنے بچوں کے لئے اس پسینے سے برکت کی امید رکھتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تو ٹھیک کر رہی ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ came to the house of Umm Sulaim and slept in her bed while she was away from her house. On the other day too he slept in her bed. She came and it was said to her: It is Allahs Apostle ﷺ who is having siesta in your house, lying in your bed. She came and found him sweating and his sweat falling on the leather cloth spread on her bed. She opened her scent-bag and began to fill the bottles with it. Allahs Apostle ﷺ was startled and woke up and said: Umm Sulaim, what are you doing? She said: Allahs Messenger, we seek blessings for our children through it. Thereupon he said: You have done something right.
نبی ﷺ کا پسینہ مبارک کے خوشبو دار مبترک ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَأْتِيهَا فَيَقِيلُ عِنْدَهَا فَتَبْسُطُ لَهُ نِطْعًا فَيَقِيلُ عَلَيْهِ وَکَانَ کَثِيرَ الْعَرَقِ فَکَانَتْ تَجْمَعُ عَرَقَهُ فَتَجْعَلُهُ فِي الطِّيبِ وَالْقَوَارِيرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا قَالَتْ عَرَقُکَ أَدُوفُ بِهِ طِيبِي
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان بن مسلم وہیب ایوب ابی قلابہ انس، حضرت ام سلیم ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ان کے ہاں تشریف لاتے تھے اور آرام فرماتے تھے ام سلیم آپ ﷺ کے لئے چمڑے کا ایک ٹکڑا بچھا دیتی تھیں اس پر آپ ﷺ آرام فرماتے آپ ﷺ کو پسینہ بہت زیادہ آتا تھا ام سلیم آپ ﷺ کا پسینہ مبارک اکٹھا کرتی تھیں اور اسے خوشبو اور شیشیوں میں ملا دیتی تھی تو نبی ﷺ نے فرمایا اے ام سلیم یہ کیا ہے وہ کہنے لگیں یہ آپ ﷺ کا پسنیہ مبارک ہے جس کو میں اپنی خوشبو میں ملاتی ہوں۔
Umm Sulaim reported that Allahs Apostle ﷺ visited her house and (took rest) and she spread a piece of cloth for him and he had a siesta on it. And he sweated profusely and she collected his sweat and put it in a perfume and in bottles. Allahs Apostle ﷺ said: Umm Sulaim, what is this? She said: It is your sweat, which I put in my perfume. Allahs Apostle ﷺ sweated in cold weather when revelation descended upon him.
سردی کے دنوں میں دوران وحی آپ ﷺ کو پسینہ آنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنْ کَانَ لَيُنْزَلُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ ثُمَّ تَفِيضُ جَبْهَتُهُ عَرَقًا
ابوکریب محمد بن علاء ابواسامہ ہشام سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر سردی کے دنوں میں وحی نازل ہوتی تو آپ ﷺ کی پیشانی مبارک پر پسینہ بہنے لگ جاتا تھا۔
Aisha reported: When revelation descended upon Allahs Messenger ﷺ even during the cold days, his forehead perspired.
سردی کے دنوں میں دوران وحی آپ ﷺ کو پسینہ آنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ بِشْرٍ جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَيْفَ يَأْتِيکَ الْوَحْيُ فَقَالَ أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ ثُمَّ يَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُهُ وَأَحْيَانًا مَلَکٌ فِي مِثْلِ صُورَةِ الرَّجُلِ فَأَعِي مَا يَقُولُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، ابوکریب ابواسامہ ابن بشر ہشام محمد بن بشر سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حارث بن ہشام نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ آپ ﷺ پر وحی کیسے آتی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھ پر وحی کبھی تو گھنٹی کی جھنکار کی طرح آتی ہے اور وہ کیفیت مجھ پر بہت سخت ہوتی ہے پھر وہ کیفیت موقوف ہوجاتی ہے اور میں اس وحی کو محفوظ کرچکا ہوتا ہوں اور کبھی تو ایک فرشتہ انسانی شکل میں آتا ہے اور جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد کرلیتا ہوں۔
Aisha reported that Harith bin Hisham asked Allahs Apostle ﷺ : How does the wahi (inspiration) come to you? He said: At times it comes to me like the ringing of a bell and that is most severe for me and when it is over I retain that (what I had received in the form of wahi), and at times an Angel in the form of a human being comes to me (and speaks) and I retain whatever he speaks.
سردی کے دنوں میں دوران وحی آپ ﷺ کو پسینہ آنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ كُرِبَ لِذَلِكَ وَتَرَبَّدَ وَجْهُهُ
محمد بن مثنی، عبدالاعلی ابوقتادہ، حسن حطان بن عبداللہ حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تو اس کی وجہ سے آپ ﷺ پر سختی ہوتی اور آپ ﷺ چہرہ اقدس کا رنگ بدل جاتا۔
Ubadah bin Samit reported that when wahi (inspiration) descended upon Allahs Messenger ﷺ , he felt a burden on that account and the colour of his face underwent a change.
سردی کے دنوں میں دوران وحی آپ ﷺ کو پسینہ آنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ نَکَسَ رَأْسَهُ وَنَکَسَ أَصْحَابُهُ رُئُوسَهُمْ فَلَمَّا أُتْلِيَ عَنْهُ رَفَعَ رَأْسَهُ
محمد بن بشار، معاذ بن ہشام ابی قرادہ حسن حطان بن عبداللہ رقاشی حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو آپ ﷺ اپنا سر مبارک جھکا لیتے تھے اور آپ ﷺ کے صحابہ بھی اپنے سروں کو جھکا لیتے اور جب وحی ختم ہوجاتی تو آپ ﷺ اپنا سر مبارک اٹھا لیتے تھے۔
Ubadah bin Samit reported that when wahi descended upon Allahs Apostle ﷺ , he lowered his head and so lowered his Companions their heads, and when (this state) was over, he raised his head.