فضائل کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 46 · 558 hadiths · Page 5 of 29

6022Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ کی جود وسخاء کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَکَّةَ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَاقْتَتَلُوا بِحُنَيْنٍ فَنَصَرَ اللَّهُ دِينَهُ وَالْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنْ النَّعَمِ ثُمَّ مِائَةً ثُمَّ مِائَةً قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ صَفْوَانَ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَانِي وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي حَتَّی إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ

ابوطاہر احمد بن عمر بن سرح عبداللہ بن وہب، یونس حضرت ابن شہاب ؓ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن غزوہ کے بعد رسول اللہ ﷺ اپنے ان تمام مسلمانوں کے ساتھ جو آپ ﷺ کے ساتھ تھے حنین کی طرف نکلے حنین میں مسلمانوں نے قتال کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین اور مسلمانوں کی مدد فرمائی اس دن رسول اللہ ﷺ نے صفوان بن امیہ کو سو اونٹ عطا فرمائے پھر سو اونٹ عطا فرمائے پھر سوا ونٹ عطا فرمایا حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ صفوان کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ نے مجھے عطا فرمایا جتنا عطا فرمایا اور تمام لوگوں سے زیادہ مجھے مبغوض تھے اور آپ ﷺ ہمیشہ مجھے عطا فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہوگئے۔

Ibn Shihab reported that Allahs Messenger ﷺ went on the expedition of Victory, i. e. the Victory of Makkah, and then he went out along with the Muslims and they fought at Hunain, and Allah granted victory to his religion and to the Muslims, and Allahs Messenger ﷺ gave one hundred camels to Safwan bin Umayya. He again gave him one hundred camels, and then again gave him one hundred camels. Said bin Musayyib said that Safwan told him: (By Allah) Allahs Messenger ﷺ gave me what he gave me (and my state of mind at that time was) that he was the most detested person amongst people in my eyes. But he continued giving to me until now he is the dearest of people to me.

6023Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ کی جود وسخاء کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرٍ وَعَنْ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرٍ أَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَی الْآخَرِ و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ قَالَ سُفْيَانُ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْکَدِرِ يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سُفْيَانُ وَسَمِعْتُ أَيْضًا عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَزَادَ أَحَدُهُمَا عَلَی الْآخَرِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ قَدْ جَائَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَقَدْ أَعْطَيْتُکَ هَکَذَا وَهَکَذَا وَهَکَذَا وَقَالَ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَجِيئَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ فَقَدِمَ عَلَی أَبِي بَکْرٍ بَعْدَهُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَی مَنْ کَانَتْ لَهُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ فَلْيَأْتِ فَقُمْتُ فَقُلْتُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ قَدْ جَائَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُکَ هَکَذَا وَهَکَذَا وَهَکَذَا فَحَثَی أَبُو بَکْرٍ مَرَّةً ثُمَّ قَالَ لِي عُدَّهَا فَعَدَدْتُهَا فَإِذَا هِيَ خَمْسُ مِائَةٍ فَقَالَ خُذْ مِثْلَيْهَا

عمرو ناقد سفیان بن عیینہ، ابن منکدر جابر بن عبداللہ، اسحاق سفیان، ابن منکدر جابر، عمرو محمد بن علی جابر، یزید ابن ابی عمر سفیان، محمد بن منکدر جابر، بن عبداللہ سفیان، عمرو بن دینار محمد بن علی حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر ہمارے پاس بحرین کا مال آیا تو میں تجھے اس اس قدر دوں گا اور اس قدر اور اس قدر اور آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کر کے فرمایا تو نبی ﷺ بحرین کے مال کے آنے سے پہلے ہی رحلت فرما گئے حضرت جابر ؓ آپ ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آئے تو حضرت ابوبکر ؓ نے ایک اعلان کرنے والے کو حکم فرمایا کہ وہ یہ اعلان کر دے کہ جس آدمی سے نبی ﷺ نے کوئی وعدہ کیا ہو یا جس پر آپ ﷺ کا قرض ہو تو اسے چاہئے کہ وہ آئے تو میں کھڑا ہوگیا اور میں نے عرض کیا نبی ﷺ (کا مجھ سے وعدہ تھا) کہ اگر ہمارے پاس بحرین کا مال آیا تو میں تجھے اس اس قدر دوں گا اور اس قدر اور اس قدر تو حضرت ابوبکر ؓ نے ایک لپ بھرا پھر مجھ سے فرمایا اسے گنو میں نے ان کو گنا تو وہ پانچ سو نکلے حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا اس سے دو گنا لے لو۔

Jabir bin Abdullah reported Allahs Messenger ﷺ as saying: In case we get wealth from Bahrain, I would give you so much and so much; he made an indication of it with both his hands. Allahs Apostle ﷺ died before wealth from Bahrain came, and it fell to the lot of Abu Bakr (RA) after him. He commanded the announcer to make announcement to the effect that he to whom Allahs Apostle ﷺ had held out promise or owed any debt should come (to him). I came and said: Allahs Apostle ﷺ had said to me: In case there comes to us the wealth of Bahrain I shall give you so much, and so much. Abu Bakr (RA) took a handful (of the coins) and gave that to me once and asked me to count them I counted them as five hundred dinars and he said: Here is double of this for you.

6024Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ کی جود وسخاء کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائَ أَبَا بَکْرٍ مَالٌ مِنْ قِبَلِ الْعَلَائِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ مَنْ کَانَ لَهُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ أَوْ کَانَتْ لَهُ قِبَلَهُ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنَا بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ

محمد بن حاتم، ابن میمون محمد بن بکر، ابن جریج، عمرو بن دینار محمد بن علی جابر بن عبداللہ، محمد بن منکدر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ انتقال فرما گئے تو حضرت ابوبکر ؓ کے پاس علاء بن حضرمی کی طرف سے کچھ مال آیا تو حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا جس آدمی کا نبی ﷺ پر کوئی قرض ہو یا جس سے آپ ﷺ نے کوئی وعدہ فرمایا ہو تو وہ آدمی ہمارے پاس آجائے باقی روایت ابن عیینہ کی روایت کی طرح منقول ہے۔

Jabir bin Abdullah reported: When Allahs Apostle ﷺ died, there came to Abi Bakr wealth from al-Ala bin al-Hadrami. Abu Bakr (RA) said: He to whom Allahs Apostle ﷺ owed any debt or held out any promise should come to us; the rest of the hadith is the same.

6025Sahih Muslim

جناب نبی ﷺ کا بچوں اور اہل وعیال پر شفقت اور آپ ﷺ کی تواضع اور اس کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ کِلَاهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ وَاللَّفْظُ لِشَيْبَانَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُلِدَ لِي اللَّيْلَةَ غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَی أُمِّ سَيْفٍ امْرَأَةِ قَيْنٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو سَيْفٍ فَانْطَلَقَ يَأْتِيهِ وَاتَّبَعْتُهُ فَانْتَهَيْنَا إِلَی أَبِي سَيْفٍ وَهُوَ يَنْفُخُ بِکِيرِهِ قَدْ امْتَلَأَ الْبَيْتُ دُخَانًا فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا أَبَا سَيْفٍ أَمْسِکْ جَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمْسَکَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّبِيِّ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ وَقَالَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ فَقَالَ أَنَسٌ لَقَدْ رَأَيْتُهُ وَهُوَ يَکِيدُ بِنَفْسِهِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَی رَبُّنَا وَاللَّهِ يَا إِبْرَاهِيمُ إِنَّا بِکَ لَمَحْزُونُونَ

ہداب بن خالد شیبان بن فروخ سلیمان شیبان سلیمان بن مغیرہ ثابت، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رات میرے ہاں ایک لڑکے کی پیدائش ہوئی میں نے اس لڑکے کا نام اپنے باپ حضرت ابراہیم کے نام پر رکھا پھر آپ نے وہ لڑکا ام سیف کو دے دیا جو کہ ایک لوہار کی بیوی تھی اور اس لوہار کو ابوسیف کہا جاتا تھا (ایک دن) آپ ﷺ ابوسیف کی طرف چلے اور میں بھی آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے چلا۔ جب ہم ابو سیف کے ہاں پہنچے تو وہ اپنی لوہے کی بھٹی دھونک رہے تھے اور ان کا گھر دھوئیں سے بھرا ہو تھا تو میں نے جلدی جلدی رسول اللہ ﷺ سے پہلے جا کر اس سے کہا اے ابوسیف ٹھہر جاؤ رسول اللہ ﷺ تشریف لا رہے ہیں تو وہ ٹھہر گئے نبی ﷺ نے بچے کو بلایا اور اسے آپ ﷺ نے اپنے سینے سے چمٹا لیا اور آپ ﷺ نے وہ فرمایا جو اللہ نے چاہا انس فرماتے ہیں کہ میں نے اس بچے کو دیکھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے دم توڑ رہا ہے (یہ دیکھ کر) رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور آپ ﷺ نے فرمایا آنکھیں اشک آلود ہیں اور دل غمزدہ ہے اور ہم وہ بات نہیں کہتے کہ جس سے ہمارا رب راضی نہ ہو اللہ کی قسم! اے ابراہیم! ہم تیری وجہ سے غمزدہ ہیں۔

Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: A child was born into me this night and I named him after the name of my father Ibrahim. He then sent him to Umm Saif, the wife of a blacksmith who was called Abu Saif. He (the Holy Prophet) went to him and I followed him until we reached Abu Saif and he was blowing fire with the help of blacksmiths bellows and the house was filled with smoke. I hastened my step and went ahead of Allahs Messenger ﷺ and said: Abu Saif, stop it, as there comes Allahs Messenger (may peace he upon him). He stopped and Allahs Apostle ﷺ called for the child. He embraced him and said what Allah had desired. Anas said: I saw that the boy breathed his last in the presence of Allahs Messenger ﷺ . The eyes of Allahs Messenger ﷺ shed tears and he said: Ibrahim, our eyes shed tears and our hearts are filled with grief, but we do not say anything except that by which Allah is pleased. O Ibrahim, we are grieved for you.

6026Sahih Muslim

جناب نبی ﷺ کا بچوں اور اہل وعیال پر شفقت اور آپ ﷺ کی تواضع اور اس کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا کَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَانَ إِبْرَاهِيمُ مُسْتَرْضِعًا لَهُ فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ فَکَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ وَإِنَّهُ لَيُدَّخَنُ وَکَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ ثُمَّ يَرْجِعُ قَالَ عَمْرٌو فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الثَّدْيِ وَإِنَّ لَهُ لَظِئْرَيْنِ تُکَمِّلَانِ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ

زہیر بن حرب، محمد بن عبداللہ بن نمیر، زہیر اسماعیل ابن علیہ، ایوب عمرو بن سعید حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ میں نے بال بچوں پر اتنی شفقت کرتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا جتنی رسول اللہ ﷺ بچوں پر شفقت فرمایا کرتے تھے (آپ ﷺ کے لخت جگر) حضرت ابراہیم عوالئی مدینہ میں دودھ پیتے تھے اور آپ ﷺ وہاں چلے جایا کرتے تھے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے اور آپ ﷺ ان کے گھر میں بھی چلے جاتے وہاں دھواں ہوتا کیونکہ اس کا خاوند لوہار تھا تو آپ ﷺ اپنے بچے کو لیتے اس سے پیار کرتے پھر آپ ﷺ واپس تشریف لے آتے عمر وکہتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم انتقال کر گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابراہیم ؓ میرا بیٹا ہے اور وہ رضاعت کی حالت میں ہی انتقال کر گیا ہے اب اس کے لئے دو انائیں ہیں جو اسے جنت میں رضاعت کی مدت پوری ہونے تک دودھ پلائیں گی۔

Anas bin Malik (RA) reported: I have never seen anyone more kind to ones family than Allahs Messenger ﷺ , and Ibrahim was sent to the suburb of Madinah for suckling. He used to go there and we accompanied him. He entered the house, and it was filled with smoke as his foster-father was a bricksmith. He took him (his son Ibrahim) and kissed him and then came back. Amr said that when Ibrahim died, Allahs Messenger ﷺ said: Ibrahim is my son and he dies as a suckling babe. He has now two foster-mothers who would complete his suckling period in Paradise.

6027Sahih Muslim

جناب نبی ﷺ کا بچوں اور اہل وعیال پر شفقت اور آپ ﷺ کی تواضع اور اس کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمَ نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا أَتُقَبِّلُونَ صِبْيَانَکُمْ فَقَالُوا نَعَمْ فَقَالُوا لَکِنَّا وَاللَّهِ مَا نُقَبِّلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمْلِکُ إِنْ کَانَ اللَّهُ نَزَعَ مِنْکُمْ الرَّحْمَةَ و قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ مِنْ قَلْبِکَ الرَّحْمَةَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابواسامہ ابن نمیر، ہشام حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ کچھ دیہاتی لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے کیا آپ ﷺ اپنے بچوں سے پیار کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ہاں تو وہ دیہاتی لوگ کہنے لگے اللہ کی قسم ہم تو بچوں سے پیار نہیں کرتے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں کیا کروں اگر اللہ نے تمہارے اندر سے رحم کو اٹھا لیا ہے اور ابن نمیر کہتے ہیں اللہ نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported that there came a few desert Arabs to Allahs Messenger ﷺ and said: Do you kiss your children? He said: Yes. Thereupon they said: By Allah but we do not kiss our children. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Then what can I do if Allah has deprived you of mercy? Ibn Numair said: (He has deprived) your heart of mercy.

6028Sahih Muslim

جناب نبی ﷺ کا بچوں اور اہل وعیال پر شفقت اور آپ ﷺ کی تواضع اور اس کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ الْحَسَنَ فَقَالَ إِنَّ لِي عَشْرَةً مِنْ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ وَاحِدًا مِنْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ

عمرو ناقد ابن ابی عمر سفیان، سفیان بن عیینہ، زہری، ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہا قرع بن حابس ؓ نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ حضرت حسن ؓ کو پیار کر رہے ہیں اقرع کہنے لگا کہ میرے تو دس بیٹے ہیں میں نے تو ان میں سے کسی سے پیار نہیں کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔

Abu Hurairah (RA) reported that al-Aqra bin Habis saw Allahs Apostle ﷺ kissing Hasan. He said: I have ten children, but I have never kissed any one of them, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: He who does not show mercy (towards his children), no mercy would be shown to him.

6029Sahih Muslim

جناب نبی ﷺ کا بچوں اور اہل وعیال پر شفقت اور آپ ﷺ کی تواضع اور اس کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں۔

The above hadith has likewise been narrated through another chain of transmitters.

6030Sahih Muslim

جناب نبی ﷺ کا بچوں اور اہل وعیال پر شفقت اور آپ ﷺ کی تواضع اور اس کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ وَأَبِي ظِبْيَانَ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَا يَرْحَمْ النَّاسَ لَا يَرْحَمْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، جریر، اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم عیسیٰ بن یونس، ابوکریب محمد بن علاء ابومعاویہ ابوسعید اشج حفص ابن عیاث اعمش، زید بن وہب، ابی طبیان جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ بھی اس آدمی پر رحم نہیں کرے گا۔

This hadith has been narrated on the authority of Jabir bin Abdullah through different chains of transmitters and the words are: "That the Messenger of Allah ﷺ said: He who shows no mercy to the people, Allah, the Exalted and Glorious, does not show mercy to him."

6031Sahih Muslim

جناب نبی ﷺ کا بچوں اور اہل وعیال پر شفقت اور آپ ﷺ کی تواضع اور اس کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ قَيْسٍ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، عبداللہ بن نمیر اسماعیل قیس جریر، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن ابی عمرو احمد بن عبدہ سفیان، عمرو نافع بن جبیر حضرت جریر ؓ نبی ﷺ سے اعمش کی روایت نقل کرتے ہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Jabir through another chain of transmitters.

6032Sahih Muslim

جناب نبی ﷺ کا بچوں اور اہل وعیال پر شفقت اور آپ ﷺ کی تواضع اور اس کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي عُتْبَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي عُتْبَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَائً مِنْ الْعَذْرَائِ فِي خِدْرِهَا وَکَانَ إِذَا کَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ

عبیداللہ بن معاذ، ابی شعبہ، قتادہ، عبداللہ بن ابی عتبہ، ابوسعید خدری ؓ، زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، احمد بن سنان، زہیر، عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ، قتادہ، عبداللہ بن ابی عتبہ، حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرم وحیاء والے تھے جو کہ باپردہ ہو اور جب آپ ﷺ کسی چیز کو ناپسند سمجھتے تھے تو ہم اسے آپ ﷺ کے چہرہ اقدس سے پہچان جاتے تھے۔

Abu Said Khudri reported that Allahs Messenger ﷺ was more modest than the virgin behind the curtain (or in the apartment), and when he disliked anything, we recognised that from his face.

6033Sahih Muslim

جناب نبی ﷺ کا بچوں اور اہل وعیال پر شفقت اور آپ ﷺ کی تواضع اور اس کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ دَخَلْنَا عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حِينَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ إِلَی الْکُوفَةِ فَذَکَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَمْ يَکُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ خِيَارِکُمْ أَحَاسِنَکُمْ أَخْلَاقًا قَالَ عُثْمَانُ حِينَ قَدِمَ مَعَ مُعَاوِيَةَ إِلَی الْکُوفَةِ

زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ جریر، اعمش، شقیق، عبداللہ بن عمرو معاویہ حضرت مسروق ؓ سے روایت ہے کہ جس وقت حضرت امیر معاویہ ؓ کوفہ کی طرف تشریف لائے تو ہم حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس گئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا ذکر کیا فرمانے لگے کہ آپ ﷺ نہ تو بد زبان تھے اور نہ ہی بد زبانی کرتے تھے اور انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم لوگوں میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں۔

Masruq reported: We went toAbdullah bin Amr when Mudwiya came to Kufa, and he made a mention of Allahs Messenger ﷺ and said: He was never immoderate in his talk and he never reviled others. Allahs Messenger ﷺ also said: The best amongst you are those who are best in morals. Uthman said: When he came to Kufa along with Muawiyah... (The rest of the hadith is the same).

6034Sahih Muslim

جناب نبی ﷺ کا بچوں اور اہل وعیال پر شفقت اور آپ ﷺ کی تواضع اور اس کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ وکیع، ابن نمیر، ابی ابوسعید اشج ابوخالد احمر، حضرت اعمش ؓ سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith had been narrated on the authority of al-Amash through another chain of transmitters also.

6035Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ کے تبسم اور حسن معاشرت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَکُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ کَثِيرًا کَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ وَکَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَيَضْحَکُونَ وَيَتَبَسَّمُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ سماک بن حرب ؓ حضرت سماک ؓ بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے عرض کیا کہ کیا آپ ؓ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے انہوں نے فرمایا ہاں بہت زیادہ آپ ﷺ صبح کی نماز جس جگہ پڑھا کرتے تھے تو وہاں سے سورج نکلنے تک نہ اٹھتے تھے اور جب سورج نکل آتا تو آپ ﷺ وہاں سے اٹھ کھڑے ہوتے اور صحابہ کرام ؓ باتوں میں مصروف ہوتے تھے اور زمانہ جاہلیت کے کاموں کا تذکرہ کرتے تو آپ ﷺ مسکرا پڑتے تھے۔

Simak bin Harb reported: I said to Jabir bin ahadeeth: Did you have the privilege of sitting in the company of Allahs Messenger ﷺ ? He said: Yes, very frequently, and added: He did not stand up (and go) from the place where he offered the dawn prayer until the sun rose, and after the rising of the sun he stood up, and they (his Companions) entered into conversation with one another and they talked of the things (that they did during the Days of Ignorance), and they laughed (on their unreasonable and ridiculous acts). Allahs Messenger ﷺ smiled only.

6036Sahih Muslim

نبی ﷺ کا عورتوں پر رحم کرنے کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو کَامِلٍ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَغُلَامٌ أَسْوَدُ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ يَحْدُو فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَکَ سَوْقًا بِالْقَوَارِيرِ

ابوربیع عتکی حامد بن عمرو قتیبہ بن سعید، ابوکامل حماد بن زید ابوربیع حماد بن ایوب ابی قلابہ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے اور ایک سیاہ فام غلام جسے انجشہ کہا جاتا تھا وہ شعر پڑھ رہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا اے نجشہ ذرا آہستہ آہستہ چل اور ان اونٹوں کو شیشہ لدے ہوئے اونٹوں کی طرح ہانک۔

Anas reported that Allahs Messenger ﷺ had in one of his journeys his black slave who was called Anjasha along with him. He goaded by singing the songs of camel-driver. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Anjasha, drive slowly as you are driving the mounts who are carrying glass vessels

6037Sahih Muslim

نبی ﷺ کا عورتوں پر رحم کرنے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ وَأَبُو کَامِلٍ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ بِنَحْوِهِ

ابوربیع عتکی حامد بن عمر ابوکامل حماد ثابت، حضرت انس ؓ سے مذکورہ روایت کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters.

6038Sahih Muslim

نبی ﷺ کا عورتوں پر رحم کرنے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَی عَلَی أَزْوَاجِهِ وَسَوَّاقٌ يَسُوقُ بِهِنَّ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ فَقَالَ وَيْحَکَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدًا سَوْقَکَ بِالْقَوَارِيرِ قَالَ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ تَکَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِکَلِمَةٍ لَوْ تَکَلَّمَ بِهَا بَعْضُکُمْ لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ

عمرو ناقد زہیر بن حرب، ابن علیہ، زہیر اسماعیل ایوب ابی قلابہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنی ازواج مطہرات کے پاس آئے اور ایک ہنکانے والا ان کے اونٹوں کو ہنکا رہا تھا جسے انجشہ کہا جاتا ہے آپ ﷺ نے اس سے فرمایا اے انجشہ شیشوں کو آہستہ آہستہ لے کر چل۔ حضرت ابوقلابہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی بات ارشاد فرمائی کہ اگر تم میں سے کوئی اس طرح کی بات کرتا ہے تو تم اسے کھیل (مذاق) سمجھتے۔

Anas reported that Allahs Apostle ﷺ came to his wives as the camel-driver who was called Anjasha had been driving the camels on which they were riding. Thereupon he said: Anjasha, be careful, drive slowly for you are driving the mounts who carry vessels of glass. Abu Qilaba said that Allahs Messenger ﷺ uttered words which if someone had uttered amongst you, you would have found fault with him.

6039Sahih Muslim

نبی ﷺ کا عورتوں پر رحم کرنے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ نِسَائِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ يَسُوقُ بِهِنَّ سَوَّاقٌ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ أَنْجَشَةُ رُوَيْدًا سَوْقَکَ بِالْقَوَارِيرِ

یحییٰ بن یحیی، یزید بن زریع سلیمان تیمی انس بن مالک، ابوکامل یزید بن تیمی، ام سلیم حضرت انس ؓ بن مالک سے روایت ہے کہ حضرت ام سلیم ؓ جو کہ نبی کی ازواج مطہرات کے ساتھ تھیں اور ایک ہنکانے والا ان کے اونٹوں کو ہنکا رہا تھا تو اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اے انجشہ آہستہ آہستہ شیشوں کو لے کر چل۔

Anas bin Malik (RA) reported that Umm Sulaim was with the wives of Allahs Apostle ﷺ and a camel-driver had been driving (the camels) oil which they were riding. Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: Anjasha, drive slowly, for you are carrying (on the camels) vessels of glass.

6040Sahih Muslim

نبی ﷺ کا عورتوں پر رحم کرنے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُوَيْدًا يَا أَنْجَشَةُ لَا تَکْسِرْ الْقَوَارِيرَ يَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَائِ

ابن مثنی عبدالصمد ہمام قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا حدی خوان خوش الحان (یعنی اچھی آواز والا) تھا رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا اے انجشہ آہستہ آہستہ چل کہیں شیشوں کو نہ توڑ دینا یعنی کمزور عورتوں کو کوئی تکلیف نہ ہو۔

Anas reported that Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) had a camel-driver who had a very melodious voice. Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) said to him: Anjasha, drive slowly; do not break the vessels of glass, meaning the weak women.

6041Sahih Muslim

نبی ﷺ کا عورتوں پر رحم کرنے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَاه ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْکُرْ حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ

ابن بشار ابوداؤد ہشام قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں لیکن اس میں حدی خوان کی خوش آوازی کا ذکر نہیں ہے۔

Anas reported this hadith through another chain of transmitters, but he made no mention of a camel-driver having a melodious voice.